Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • یوم آزادی : بلوچ سب پر چھا گئے ، بلوچستان کے چپے چپے میں کشمیریوں کے حق میں ریلیاں ، تحفظ پاکستان کے عزم

    یوم آزادی : بلوچ سب پر چھا گئے ، بلوچستان کے چپے چپے میں کشمیریوں کے حق میں ریلیاں ، تحفظ پاکستان کے عزم

    چاغی :تو بھی پاکستان ہے میں بھی پاکستان ہوں ، بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں بھی یوم پاکستان منانے والوں نے کمال ہی کردیا ، اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع چاغی کے دوردراز علاقے چربان جو کہ افغانستان کی سرحد کے قریب ہے بڑی تعداد میں بلوچ غیرت مندوں نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا کر دنیا بھر کی سازشوں کو نہ صرف ناکام بنایا ہے بلکہ یہ پیغام دیا ہے کہ بلوچستان پاکستان ہے اور پاکستان بلوچستان


    معتبر ذرائع کے حوالے سے ملنی والی اطلاعات کے مطابق چربان کے علاقے میں چھوٹے بڑے ، جوان بوڑھے سب نے ریلی کا اہتمام کیا . اس ریلی میں چاغی ضلع کی اہم شخصیات نے خطاب کیا اور بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں پر ظلم کرنا بند کردے ورنہ یہ غیور بلوچ اپنے کشمیری بھائیوں پر مظالم کا بدلہ لیں تو پھر شکوہ نہ کرنا


    چاغی کے اس دوردراز علاقے میں تو یوم پاکستان یوم آزادی منانے والو‌ں نے تو سب کو پیچھے چھوڑ دیا . بلوچ جوان قومی پرچم سے بنے ہوئے لباس پہن کر ٹولیوں کی شکل میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کررہے تھے.چاغی کے اس علاقے میں بچے بھی کسی سےپیچھے نہیں رہے بچوں نے بھی سبز ہلالی پرچم سے بنے ہوئے لباس پہن رکھے تھے ، چھوٹی چھوٹی بلوچ بیٹیوں نے کشمیری بہنوں کے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے آپ اس وقت آزمائش میں ہیں لیکن بہت جلد آپ بھی ہماری طرح یوم پاکستان بھی منائیں گی اور یوم آزادی کشمیر بھی منائیں گی

  • 14 اگست تحریک آزادی سے تحریک کشمیر تک —  محمد عبداللہ اکبر

    14 اگست تحریک آزادی سے تحریک کشمیر تک — محمد عبداللہ اکبر

    چودہ اگست نام سنتے ہی دل دماغ تھم جاتے ہیں اور ذہن چند دہائیاں قبل کے زمانے میں غوطے کھانے لگتا ہے۔
    نسلِ نو سے تعلق ہونے کی بنا پر کچھ جدت کی لہروں سے تھپیڑے کھا کے اس وقت بڑے ٹھنڈے جذبے سینے میں سموئے بیٹھا ہوں اس لیے شائد وہ والا خلوص، وہ جذبے، وہ ہمت کی داستانیں اور وہ جرات کے علمبرداروں کی ترجمانی میرا قلم اس شدت کے ساتھ نہ کر سکے۔
    ہاں بزرگوں سے وہ جذبے ان کی زبانی ضرور سن چکا ہوں۔ مجھے یاد ہے اپنا کچھ سال پرانا چودہ اگست جب چند الڑ سے جوان جو میرے ہی ہم عمر تھے بابا جی کے سامنے سے اپنے چہروں کو ہلال اور ستاروں سے مزین کئے ہوئے سائلنسر اتارے سیٹیاں بجاتے ہوئے گزرے۔
    میری نظریں گزرنے والے ان جوانوں کا تعاقب کرنے میں محو تھیں کہ اپنے پہلو سے انا للہ وانا الیہ راجعون کی آواز سنی۔ ایک لمحے کے لیے مڑ کے بابا جی کی طرف دیکھا تو یہ الفاظ انہی بابا جی کے تھے جنہوں نے تحریک آزادئ پاکستان میں اپنے جگر گوشوں کو آنکھوں کے سامنے ہندوں کے نیزوں پہ لٹکتے اور اپنی بیٹیوں کی دراؤں کو ان کی برچھوں کے ساتھ لہراتے  دیکھا۔
    میں بزرگوں کے اس جملے کا پس منظر بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا پر پھر بھی سوال کر لیا کہ بابا جی آپ شائد کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ کہنے لگے بیٹا میں کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن بابا جی کی داڑھی کو تر کرنے والے آنسو مجھے بابا جی کے جذبات اور نکلنے والے الفاظ بہت اچھے انداز سے سمجھا چکے تھے کے بابا جی کیا کہنا چاہتے ہیں۔
    خیر بابا جی نے کہا بیٹا جب قوموں کی نوجوان نسل کو انکی مقصدیت اور نظریے سے دور کر دیا جائے تو ایسے واقعات کا اپنی آنکھوں کے سامنے ہونا کچھ بعید نہیں۔ کہتے پاکستان بنانے میں ہمارا کوئی کمال نہیں، یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اگر اللہ نے اس نعمت کو ہماری جھولی میں کچھ لے کے اور آپکی جھولی میں بنا کچھ لئے ڈال دیا ہے تو اس کے تقاضے آج کی نسل کے لیے اتنے ہی بڑے ہیں۔
    ان تقاضوں کو پورا کرنا ہے تو بس مقصدیت پاکستان اور نظریہ پاکستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
    تب ہی میں نے ان کے پاس کشمیر میں بننے والی حالیہ چند دنوں کی صورت حال کا تذکرہ کیا تو کہنے لگے کہ بیٹا کشمیری بڑے خالص جذبوں کے ساتھ کھڑے ہیں باقی جو اللہ کو جو منظور ہو گا وہی ہونا ہے۔

    یہ بات تو اٹل ہے کہ ظلم جب حد سے بڑھتا یے تو مٹ جاتا ہے۔ کشمیر میں چلنے والی حالیہ ظلم کی لہر اگرچہ بہت بڑی ہے پر آگے سے کشمیریوں کے جذبے بھی اتنے ہی بڑے ہیں یہی وجہ ہے کہ جنرل راوت نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کیا کہ سنگ باز لوگوں سے نمٹنا بندوق سے زیادہ مشکل ہے۔ اور اس نے یہ بات بھی کہی کہ ’’کاش سنگ بازوں کے ہاتھ میں بندوق ہوتی، کاش وہ ہم پر پتھر نہیں گولیاں چلاتے، پھر مجھے مزہ آتا پھر میں وہی کرتا جو میں چاہتا ہوں۔‘‘ اس جملے کو سلیس کرنا ہو تو مطلب یہ ہے کہ ’’کاش سب سنگ باز جنگ باز ہوتے، تو کھیل کا مزہ آجاتا۔‘‘

    یہ گویا کشمیر انتضاضہ کی اخلاقی فتح  ہے جس کافخریہ اعلان خود ایک جنرل کررہا ہے جو ایک ارب پچیس کروڑ آبادی والے ملک کا سپہ سالار  ہے۔
    یہ بات روزِ روشن کی طرح پوری دنیا پر عیاں ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کثیر تعداد موجود ہے۔ جب 313 کے عزائم بلند اود جواں ہوں تو شکست ایک ہزار کی تعداد والے لشکر کے نصیب میں ہی ہوتی ہے۔

    لیکن ظاہر سی بات ہے کہ نہایت غیر متناسب جنگ میں طاقت ور فریق ہی غالب رہتا ہے۔
    لیکن وہ ظلم کر کے نہ ظاہری طور پہ تحریک آزادی کو دبا سکے ہیں اور نہ ہی باطنی طور پر۔ 
    کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کے باوجود بھارت سرکار ان کی تحریک آزادی کو دبانے کے قابل نہیں ہو سکے۔
    انڈیا کا کشمیر میں پچس ہزار نئی فوجی کمک داخل کرنا بھی انڈیا کی کشمیر میں ہار کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔
    اس وقت پاکستان کی عوام سیاسی و عسکری قوت کشمیر کے لیے اپنے عزائم واضح کر چکے ہیں کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے۔ اور اس شہ رگ کو پاکستان کسی بھی قیمت پر ضائع کرنے کے موڈ میں نہیں یے اور اسی طرح پاکستان کی کشمیر والے معاملے پہ سفارتی سطح پر کی جانے والی کوششیں بھی قابل ستائش ہیں۔
    کشمیری بھی حالیہ کرفیو اور آرٹیکلز کو ختم کرنے کے باجود کسی قسم کی ڈھیل اور ڈیل کے موڈ میں نہیں۔
    چند گھنٹوں کے لیے ختم کئے جانے والے کرفیو میں کشمیری واضح پیغام دے چکے ہیں کہ

    ایک ہی نعرہ ہے، آزادی کا نعرہ ہے
    ایک ہی مقصد ہے، آزادی مقصد ہے
    آؤ ستم گرو ہُنر آزماتے ہیں
    تم تیر آزماؤ ‛ہم جگر آزماتے ہیں

  • بھارت کی جعل لڑائی دکھانے کی سازش بے نقاب ہوگئی ، کیا تھی وہ لڑائی ضرور جانیئے

    بھارت کی جعل لڑائی دکھانے کی سازش بے نقاب ہوگئی ، کیا تھی وہ لڑائی ضرور جانیئے

    اسلام آباد: بھارت پاکستان کے خلاف سازشوں سے باز نہیں آرہا ، بھارت پاکستان کے خلاف ہر روز نئی نئی سازشیں تیار کرکے پاکستان کو مصروف رکھنے کے چکروں میں مصروف ہے. اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر پر ظلم و بربریت سے توجہ ہٹانے کی ایک اوربھارتی سازش بے نقاب ہوگئی ہے ۔ بھارتی فوج نے ایل او سی پر جعلی لڑائی دکھانے کی تیاری کرلی۔

    ذرائع کے مطابق بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیرمیں ظلم وبربریت سے توجہ ہٹانے کی بھارتی سازش بے نقاب ہوگئی ہے جس کے مطابق بھارتی فورسزنے اپنے زیرتسلط علاقے میں خودساختہ جھڑپ کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔بھارتی فوج نے ایل اوسی اورایل اےسی پر جعلی لڑائی دکھانےکی تیاری کی ہے جس کے مطابق بھارتی زیرتسلط علاقے میں چیک پوسٹ بناکرپاکستانی جھنڈالہرادیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق بھارت نے پاکستان پرسیزفائرمعاہدے کی خلاف ورزی کاالزام لگانے کیلئے سازش تیارکی ہے ۔ اس جعلسازی کے ذریعے بتایاجائےگاکہ بھارت نے جوابی کارروائی کی اور مودی سرکاربھارتی میڈیاکے ذریعے ڈرامہ سچاثابت کرنےکی کوشش کرےگی ،

  • مقبوضہ کشمیر:ہندو فوج کی جارحیت 9 ویں روز میں داخل ، کرفیوسے زندگیاں خطرے میں

    مقبوضہ کشمیر:ہندو فوج کی جارحیت 9 ویں روز میں داخل ، کرفیوسے زندگیاں خطرے میں

    سری نگر:بھارتی فوجیوں کی جارحیت اور کرفیوکا آج 9 واں دن ، اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کو روکنے کیلئے مسلسل نویں روز بھی کرفیو برقرار ہے۔مواصلاتی نظام کی معطلی اور مسلسل کرفیو کے باعث لوگوں کو بچوں کیلئے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے

    مقبوضہ وادی سے اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ رہا جس کے باعث کشمیری مسلمانوں کی اکثریت عید کی نماز اور سنت ابراھیمیؑ ادا کرنے سے محروم رہی۔یاد رہے کہ بھارتی حکومت کے اقدام کے خلاف کئی روز سے کشمیریوں کا احتجاج جاری ہے۔گزشتہ دنوں بھی کشمیریوں کی بڑی تعداد بھارتی حکومت کے فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تھی اور شدید احتجاج کیا تھا۔

    بھارت کے زیر قبضہ وادی کشمری میں احتجاج میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شریک تھی جنہوں نے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ غاصب بھارتی فوج نے مظاہرین پر گولیوں، پیلٹ گنز اور آنسوگیس کا بے دریغ استعمال کیا جس کے نتیجے میں اب تک 6 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

  • مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کثیرالجہتی کوششوں کا آغاز کردیا ہے، آرمی چیف

    مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کثیرالجہتی کوششوں کا آغاز کردیا ہے، آرمی چیف

    راوالپنڈی : عید الاضحیٰ کے مبارک موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قوم کو یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کثیرالجہتی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے باغ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا اور جوانوں کے ساتھ عید منائی۔

    اپنے بیان مین پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مختلف کوششوں کا آغاز کردیا ہے، جس طرح امن کے لیے ہماری خواہش ہے، اسی طرح مسئلہ کشمیر کے لیے ہم پُرعزم ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ بہت جلد کشمیری بھارت کی غلامی سے نکلنے والے ہیں.

    بھارت کی خباثت سے متعلق .آرمی چیف نے کہا کہ بھارت، مقبوضہ جموں و کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹا کر ایل او سی اور پاکستان کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے، تاہم ہم بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں کیے جانے والے جرائم کو چھپانے کا کوئی موقع فراہم نہیں کریں گے۔

  • بھارت سخت مشکل میں ، چین اور روس خلاف ہوگئے ، بھارتی صحافی کا انکشاف

    بھارت سخت مشکل میں ، چین اور روس خلاف ہوگئے ، بھارتی صحافی کا انکشاف

    اسلام آباد: بھارت اس وقت سخت مشکل سے دوچار ہے . دنیا کی دوبڑی طاقتوں کی طرف سے بھارت کے خلاف محاذ بن گیا . بھارتی صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ چین اور روس نے پاکستان کے ساتھ معنی خیز مذاکرات کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔

    اطلاعات کے مطابق بھارت کے سابق فوجی، مصنف اور بھارتی صحافی پراوین ساہنے نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انکشاف کیا ہے کہ روس اور چین بھارت کے ساتھ اعتماد سازی نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔

    بھارتی صحافی نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کے لیے کشمیر کے معاملے پر جلد مذاکرات کا آغاز کرنا ناگزیر ہو جائے گا اور ویسے بھی بھارتی فوج انسداد عسکریت پسندی آپریشنز کے علاوہ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

    پراوین ساہنے نے بھارتی فوج کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنی فوج کو دور جدید کی جنگ کے لیے ناکارہ بنا دیا ہے اور آج ایک دور جدید کی جنگ ہمارے چہرے کو گھور رہی ہے۔

  • کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟  محمد عبداللہ

    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ

    بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو شہ رگ پاکستان کہا تھا یہ کوئی جذباتی بات یا سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ اس زیرک انسان کی نگاہ بھانپ چکی تھی کشمیر پاکستان کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے. آپ اگر نقشہ وغیرہ پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ پاکستان میں آنے والے سبھی دریاؤں کا منبع کشمیر ہی ہے.سوائے ان دو دریا ؤں ستلج(بیاس+بیاس) اور راوی کے جو بھارتی علاقے سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں لیکن سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے ان کے پانی پر بھارت کا حق ہے اور بھارت مختلف مقامات پر ان دریاؤں پر ڈیم بنا چکا ہے. اسی لیے سوائے سیلابی کیفیت کے آپ کو وہ دونوں دریا پاکستان میں خشک دکھائی دیتے ہیں.
    جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ
    جبکہ چناب جو ہماچل سے نکل کر جموں و کشمیر سے ہوتا ہوں سیالکوٹ میں مرالہ کے مقام پر دریائے توی سے مل کر پاکستان میں پانی لاتا ہے جو پاکستان کے بیشتر حصے کی زرعی ضروریات کو پورا کرتا ہے. ہیڈ مرالہ کے مقام سے اس سے دو نہریں نکلتی ہیں اپر اور لوئر چناب جن میں سے ایک آگے جاکر بمبانوالہ میں دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ان میں سے ایک جس کو بی آربی کہا جاتا ہے وہ لاہور کو بھی پانی پہنچاتی ہے اور راوی کے نیچے سے گزرت ہوئے آگے دیپالپور نہر میں شامل ہوجاتی ہے. راوی اور ستلج دونوں کے خشک ہوجانے کی وجہ سے اس سارے مشرقی پنجاب کے علاقے کو پانی چناب سے نکلنے والی اس نہر سے ہی بہم پہنچایا جاتا ہے.
    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    اسی طرح دریائے جہلم پیر پنجال کے ویری ناگ چشمے سے نکل کر سری نگر ڈل جھیل سے ہوتا ہوا چکوٹھی کے مقام پر مظفر آباد آزاد کشمیر میں داخل ہوتا ہے جہاں مظفرآباد میں اس میں دریائے نیلم شامل ہوتا ہے، وادی کاغان میں دریائے کنہار ان میں شامل ہوتا ہے جبکہ آزاد کشمیر کے علاقے میرپور، منگلا سے کچھ پیچھے دریائے پونچھ بھی ان کے ساتھ مل جاتا ہے اور یہ منگلا میں مقام پر ڈیم میں گرتے ہیں منگلہ ڈیم پاکستان کی بجلی کی بہت بڑی ضرورت کو پورا کرتا ہے وہاں ڈیم سے دریائے جہلم پنجاب کے علاقے جہلم سے گزر کر آگے بڑھتا ہے اور تریموں کے مقام پر دریائے پنجاب سے مل جاتا ہے اور دونوں دریا آگے بڑھتے ہوئے پنجند کی طرف بڑھتے ہیں.
    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
    آپ نقشے پر مزید اوپر کی طرف جائیں تو آپ کو دریائے سندھ نظر آتا ہے جو تبت کے علاقے مانسرور سے نکل کر لداخ سے گزرتا ہوا گلگت بلتستان سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور کے پی کے سے ہوتا ہوا تربیلا کے مقام پر ڈیم میں داخل ہوتا ہے تربیلا ڈیم پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے اسی دریا سے نکلنے والی تھل کینال نے جنوبی پنجاب کے بنجر صحرائی علاقے کو سرسبز اور شاداب بنا دیا ہے . یہاں سے دریائے سندھ آگے پنجاب کے مختلف علاقوں کو سیراب کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور کوٹ مٹھن کے قریب پنجنند کے مقام پر دریائے چناب و جہلم اور دریائے ستلج و راوی دریائے سندھ میں گرتے ہیں اور یہاں سے آگے یہ دریا سندھ کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا زرعی اور پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرتا ہوا ٹھٹھہ کے مقام پر بحیرہ عرب میں گرتا ہے.
    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    دریاؤں کی اس ساری بحث کا ماحاصل یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی بدولت بھارت آپ کے دریاؤں بیاس، ستلج، راوی کے پانی کو پہلے ہی ہڑپ کرچکا ہے صرف کشمیر سے آنے والے دریا باقی تھے جو پاکستان میں پانی لا رہے تھے لیکن کشمیر کے مکمل طور بھارت میں چلے جانے کے بعد آپ مکمل طور پر بھارت کے مختاج اور زیر اثر ہوجائیں گے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے آپ کا زرعی ملک ہے جس کی ستر فیصد معیشت کا انحصار زراعت پر ہے تو آپ کی زمینیں بنجر ہوجائیں گی اور آپ کی بوند بوند کو ترسیں گے لیکن آپ کو پینے کے لیے بھی پانی نہیں ملے گا. (ہم نے کچھ عرصہ سندھ کیں گزارا ہے ہم جانتے ہیں ٹیل میں رہنے والے لوگ پانی کے لیے کتنا ترستے ہیں اور بعض اوقات پینے کے پانی کی بھی قلت ہوجاتی ہے.)
    بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ
    اگرچہ بھارت نے ان دریاؤں پر جن کے پانی پر پاکستان کا حق ہے ان پر بھی مقبوضہ کشمیر کیں چونسٹھ کے قریب چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرلیے ہوئے اور مزید یہ کہ ٹنلز کے ذریعے ان دریاؤں کا پانی چوری کرکے دور دراز راجستھان میں لے جاکر ا کو سیراب کر رہا ہے. کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد اس سارے پانی اور دریاؤں پر مکمل طور پر بھارت کا کنٹرول ہوگا اور وہ جب چاہے جیسے چاہے اس کو استعمال کرے گا. جب ضرورت ہوگی تو پانی روک لیا جائے گا اور جب بارشوں اور سیلاب کا سیزن ہوگا تو بھارت پاکستان میں ضرورت سے زیادہ پانی بھیج کر آپ کو تباہ و برباد کرے گا جس کا وہ ماضی میں تجربہ بھی کرچکا ہے جس کو دنیا بھر کے ماہرین واٹر بم کا نام دے رہے ہیں.
    بھارت کو کتے نے نہیں کاٹا کہ وہ آپ کو محض ٹرینیں اور بسیں روک دینے سے کشمیر دے کر کشمیر آزاد کردے اور آپ کو آزادی سے زندگی گزارنے کا موقع دے دے. جو لوگ اس خوش فہمی میں ہیں کہ فقط سیاسی اور سفارتی حربوں سے کشمیر مل جائے گا تو وہ لوگ بہت بڑی بھول میں ہیں اک کشمیر کی وجہ سے بھارت پاکستان کو مکمل طور کنٹرول کرسکتا ہے جبکہ اسی کشمیر کی ہی وجہ سے بھارت امریکہ کے ساتھ مل کر نہ صرف چین کو ڈسٹرب کرسکتے ہیں کہ بلکہ گیمر چینجر پلان سی پیک کی گیم بھی الٹائی جاسکتی ہے.یہ وہ مرحلہ ہوگا جس پر پاکستان کے لیے سارے راستے مسدود ہوجائیں گے.
    اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیر کے مسئلہ پر سنجیدہ ہوجائے. جلد یا بدیر آپ کو کشمیر کی صورت میں پاکستان کی بقاء کے لیے بھارت سے دو دو ہاتھ کرنا پڑیں گے، کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانا پڑے گا وہ آپ آج اٹھاتے ہیں یا سب کچھ گنوا کر اٹھاتے ہیں فیصلہ
    آپ کے ہاتھ میں ہے.

    Muhammad Abdullah

  • کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر میں تو چلو مان لیا کہ لوگوں سے بولنے کا حق چھینا جا چکا ہے مگر یہاں پاکستان کے عوام کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ حقیقی معنوں میں مشرقی پاکستان ٹوٹنے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا سانحہ رونما ہو چکا ہے لیکن بے خبر ہے۔ اور جب تک قوم کو خبر ہو گی قیامت سر سے گزر چکی ہو گی۔ پاکستان کے لوگ اس بات سے بھی واقف نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ اصل میں ظلم کیا ہوا ہے اور کشمیر کے معاملے پر پاکستان کو کتنی بڑی شکست ہو چکی ہے۔ عملی طور پر مقبوضہ کشمیر اس وقت پاکستان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے البتہ عوام بے خبر ہیں یا انہیں جان بوجھ کے بے خبر رکھا جا رہا۔
    مقبوضہ کشمیر کے غیر قانونی اشتراک کے معاملے میں ہماری حکومت کی جانب سے روایتی مذمت اور قراردادیں ہی پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی عوام کو بہلانے کےلیے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس غیر قانونی اشتراک کو مسترد کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے مسترد کرنے سے واقعی اب مقبوضہ کشمیر کو کوئی مدد مل سکتی ہے؟ اس کا جواب افسوس ناک طور پر "نہیں ” ہے۔
    بھارت آرٹیکل پینتیس اے اور آرٹیکل تین سو ستر ختم کر چکا ہے۔ بھارتی آئین کی یہ دو شقیں دراصل مقبوضہ کشمیر کے عوام کےلیے دو ایسی حفاظتی دیواریں تھیں جن کے گرنے کے بعد کشمیری بالکل فلسطین کے عوام کی طرح اپنی زمینوں سے بے دخل ہو جائیں گے۔ بھارتی آئین کی ان دونوں شقوں کے خاتمے کے نتیجے میں جو تبدیلیاں مقبوضہ کشمیر میں آئیں گی کچھ اس طرح ہیں۔
    1 کشمیر کا انفرادی آئین ختم ہو چکا ہے۔
    2 وہاں ہندو آبادکاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ممکن ہو جائے گی۔
    3 وہاں کی زمینیں جو غیر کشمیری لوگ نہیں خرید سکتے تھے اب خرید سکیں گے۔
    4. وہاں پہ ہندو سرمایہ کاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ہو سکتی ہے۔ یعنی ہندو کشمیری زمینیں خرید کر وہاں آباد ہوں گے اور رفتہ رفتہ ہندو تعداد میں کشمیریوں سے زیادہ ہو جائیں گے۔
    5 مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔
    6مقبوضہ کشمیر براہِ راست دلی کی ماتحتی میں چلا گیا ہے۔
    7. پہلے وہاں بھارت کا کوئی قانون آئینی طور پر نہیں چل سکتا تھا اب سارے چلیں گے۔
    8 مقبوضہ کشمیر کی انفرادی ثقافت ختم ہو جائے گی۔
    9 لداخ الگ ہو جائے گا۔
    10 مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی ختم ہو جائے گی۔
    11 مقبوضہ کشمیر کا اپنا کوئی صدر اور وزیرِ اعظم نہیں ہو گا بلکہ ایک لیفٹینٹ گورنر بھارتی پارلیمنٹ کی نگرانی میں پورا مقبوضہ کشمیر کنٹرول کرے گا
    12 کشمیر کا الگ پرچم نہیں ہو گا بلکہ وہاں پہ ترنگا لہرائے گا۔
    13 کشمیر میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ نہیں ہو سکتی تھی صدرِ ہندوستان کے حکم کے باوجود بھی۔ اب ہو گی۔
    یعنی یہ سارے اقدامات وہ ہیں جن کے بعد مقبوضہ کشمیر سے وہاں کے عوام کا کنٹرول اور عمل داری مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ جب یہودیوں نے فلسطین کے چھوٹے سے علاقے پہ قبضہ کر کے اسرائیل کی بنیاد رکھی تھی تو انہوں نے بھی یہی کیا تھا۔ آج پورے فلسطین کو یہودی آباد کاروں کےزریعے اسرائیل میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ اور فلسطینیوں کو اردن اور دیگر علاقوں میں ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ بھارت اب بہت بڑی تعداد میں وہاں پہ ہندؤں کو آباد کرے گا۔ اور پھر ایک وقت میں ہندؤں کی تعداد مقبوضہ کشمیر میں اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ وہاں پہ کشمیری مسلمان کم اور بھارتی ہندو زیادہ ہو جائیں گے۔ وہاں کی مسلمان آبادی کو برما کے مسلمانوں کی طرح شدید ظلم و تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں مقبوضہ کشمیر چھوڑنے پہ مجبور کر دیا جائے گا۔ اور اس طرح لاکھوں کشمیریوں کو آزاد کشمیر دھکیل کر مقبوضہ کشمیر سے ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت اس سارے وقت میں مذمت پہ مذمت کر رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کو ان مذمتوں سے کوئی نقصان نہیں ہو رہا اور نا ہی کشمیریوں کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے۔ عملی معنوں میں کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
    اس واقعہ سے قبل حکومت اور تمام متعلقہ حکام نے جس بے حسی اور غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اس پہ جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت جب اس سارے عمل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا دیا جاتا۔ اب بھی تو اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا رہے ہیں تو پہلے یہ کام کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے آج کشمیر جا چکا ہے ، اگر اس سستی اور غفلت کا ازالہ نہ ہوا تو یہ قوم اور کشمیر کے لاکھوں عوام زمہ داروں کو تاقیامت معاف نہیں کریں گے۔اب مذمت اور قراردادوں کا نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانے کا وقت ہے۔ قوم آپ کے عملی قدم کی منتظر ہے۔

    Hanzla Tayyab
  • کشمیریوں پر قیامت صغریٰ ، انسانی زندگی مفلوج  اور عالمی برادری خاموش تماشائی

    کشمیریوں پر قیامت صغریٰ ، انسانی زندگی مفلوج اور عالمی برادری خاموش تماشائی

    سری نگر : بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر سکو ہتھیانے کے بعد حالات مزید خراب ہونا شروع ہوگئے ہیں ، اطلاعات کے مطابق اس وقت مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام کی مکمل بندش اور مکمل سیکیورٹی لاک ڈاؤن پانچویں روز میں داخل ہوگیا جس کی وجہ سے چند نیوز ادارے اپنا سامان اٹھا کر خطے سے نکلنے پر مجبور ہوگئے۔

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس وقت بھارتی قابض افواج ہر طرف سڑکوں پر پیٹرولنگ کرتی نظر آرہی ہیں، دکانیں بند ہیں جگہ جگہ خاردار تاریں لگا کر ایک علاقے کو دوسرے علاقے سے علیحدہ کیا گیا اور وادی میں ایسی خاموشی تاری رہی کہ صرف سیکیورٹی اداروں کی گاڑیوں کے سائرن کے علاوہ کوے کی کائیں کائیں ہی سنائی دیں۔

    دوسری طرف اطلاعات کے مطابق سری نگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے زیر استعمال پیلٹ گن اور ربڑ کی گولیوں سے زخمی ہونے والے اب تک 69 سے زائد افراد لائے جاچکے ہیں۔

    اس وقت مقبوضہ وادی میں ہر طرف تاریکیاں ہی چھائی نظر آرہی ہیں. اطلاعات کے مطابق صورت حال اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ تمام فون سہولیات چھین لی گئی ہیں . حتی کہ لینڈ لائنز، موبائل فونز اور انٹرنیٹ، تمام کی بندش کا مطلب ہے کہ کشمیر خطے کے باہر کسی سے بات تک نہیں کرسکتا اور صرف مقامی کیبل ٹی وی اور ریڈیو کی معلومات پر انحصار کر رہا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر  کتنے سال بعد پاکستان کو ملے گا؟؟؟  سنگین علی زادہ

    مقبوضہ کشمیر کتنے سال بعد پاکستان کو ملے گا؟؟؟ سنگین علی زادہ

    ۔
    بھارتی ھائی کمشنر آج بھارت چلا گیا اور عام طور پر دو ممالک نے جب جنگ کرنی ہو تو اپنے اپنے سفیر واپس بلا لیتے ہیں۔ لیکن پاک بھارت کے درمیان ابھی جنگ نہیں ہو گی بلکہ بھارتی ہائی کمشنر چھ ماہ بعد پاکستان واپس آ جائے گا۔ اس لیے کہ ریاست اپنی معیشت بہتر کرنے پہ توجہ ” فوکس "کر رہی ہے اور جنگوں سے معیشت تباہ ہوتی ہے اگر آپ کمزور ملک ہوں ۔ معاشی طور پر پاکستان وہاں کھڑا ہے کہ کھانستے ہوئے بھی احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔ کرپشن حکمران کرتے رہے اور سزا کشمیریوں کو ملی ۔ بھارت نے انتہائی سوچ سمجھ کر اور پاکستانی کی معاشی کیفیت کو سامنے رکھ کر یہ حرکت کی۔ ہماری معیشت واقعی اس قابل نہیں ہے کہ کسی طویل جنگ کا بوجھ سہار سکے۔
    پاکستان سے ایمان کی حد تک محبت کرنے والے کسی ماہرِ معیشت سے پوچھ لیجئے وہ یہی کہے گا کہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کا انجر پنجر اتنا ڈھیلا ہے کہ اگر اس پہ تیس روزہ جنگ کا بوجھ ڈال دیا جائے تو پینتیسویں روز اس کی ہڈیاں چٹخ جائیں گی۔ خود چین بھی پاک بھارت جنگ نہیں چاہتا اس لیے کہ چین کو کشمیر سے زیادہ اپنی سرمایہ کاری پیاری ہے۔ چین تاجرانہ زہنیت کا حامل ملک ہے۔ جہاں ایک روپیہ لگائے وہاں سے دس روپے آمدن کی توقع رکھتا ہے اور ایک جنگ زدہ ملک چین کو ایسی آمدن نہیں دے سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک چین نیوٹرل ہے اور جو بیان جاری کیا ہے اس میں بھی پاکستان اور بھارت کو امن اور گفتگو کے زریعے اپنا مسئلہ حل کرنے پہ زور دیا۔ ایسی دوستی جو ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہو وہ اگر امن پہ اصرار کرے تو پاکستان کیا کرے گا؟ جنگ تو ہر گز نہیں۔
    زیادہ ملامت کا مستحق ہمارا میڈیا ہے جس نے چین کے بیان کو تروڑ مروڑ کے پیش کیا۔ چین نے لداخ پہ بھارت کے فیصلے کو ناقابلِ قبول کہا ہمارے میڈیا نے اسے کشمیر سے جوڑ دیا۔ یہ وقت گزاری کے حربے ہیں تا کہ عوام کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہےپرانے زخم بھر جاتے ہیں۔ لہٰذا وقت گزارا جا رہا ہے اس اچھل کود کے زریعے تا کہ عوام ٹھنڈے ہو جائیں ۔ وقت گزاری کےلیے امریکہ، اقوامِ متحدہ، او آئی سی سے بیانات جاری کروائے جا رہے ہیں، وہی بیانات جو پچھلے ستر سال سے سن کے ہم خوش ہو تے رہے۔ وقت گزاری کے حربے کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اب تک حکومت نے عوام کو کشمیر پہ اعتماد میں نہیں لیا۔ وزیرِ اعظم یا کسی بھی زمہ دارحکومتی نمائندے نے عوام سے کوئی وعدہ نہیں کیا کہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں والی حیثیت پہ دوبارہ لائیں گے۔ کیا حکومت نے عوام کو کوئی لائحہ عمل دیا ہے کہ کشمیر واپس لینے کےلیے اگر سفارتی کوشش ناکام ہوئی تو ہم جنگ کریں گے؟
    کچھ لوگ کہتے ہیں کشمیر میں مجاہدین بھیج دیں تو آزاد ہو سکتا ہے۔ ہم مجاہدین بھیج دیتے ہیں ،پھر؟؟ ہمارے بھیجے گئے مجاہدین وادی میں کتنے ہندو فوجی قتل کر لیں گے؟ پانچ ہزار؟ دس ہزار؟ بیس ہزار؟ پچاس ہزار؟ یعنی کتنے؟ میں واضح کر دوں کہ انیس سالہ طویل جنگ میں ٹی ٹی پی نے ہمارے دس ہزار جوان شہید کیے یعنی گوریلا جنگ کا یہی محاصل ہوتا ہے۔ افغان طالبان کو انیس سال لگے گوریلا جنگ میں امریکہ کو ملک سے باہر نکالنے کےلیے۔ آپ ایف اے ٹی ایف کو سامنے رکھ کےسوچیں کیا پاکستان انیس سال تک کشمیر میں مجاہد بھیج سکتا ہے؟ وہ بھی اس صورت میں جب چین پاکستان اور بھارت کے درمیان امن دیکھنا چاہتا ہو اور ایف اے ٹی ایف کی تلور سر پہ لٹک رہی ہو ؟کشمیر کی واپسی کےلیے اب بیس سے تیس سال انتظار کریں۔ خوش قسمتی سے اگر کوئی اچھی حکومت آ گئی جو پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرے، عالمی سطح پر پاکستان کی اتنی عزت بڑھا دے کہ ہماری رائے کی اہمیت ہو، اور ہم معاشی طور پر ہم اتنے مضبوط ہوں کہ عالمی پابندیوں کی ہمیں کوئی فکر باقی نہ رہے تو کشمیر بیس سے تیس برس بعد ہمیں واپس مل جائے گا۔
    بالاکوٹ پہ بھارتی حملے کے بعد آپ نے فورا جواب دیا تھا اس لیے کہ زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ اگر بھارت کو جواب نہ دیا جاتا تو بھارت ہر چھ ماہ بعد کشمیر میں حملہ کروا کے پاکستان پہ حملے کرتا۔ جہاں بقاء کا مسئلہ ہو وہاں ہم ایٹم بم بھی استعمال کر سکتے ہیں اور کریں گے بھی۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ اب کشمیر ہماری بقا یا زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر بقا کا مسئلہ ہوتا تو پاکستانی وزیرِ اعظم اسمبلی میں سوالات کے جواب میں چار دفعہ یہ نا کہتے کہ "تو اور کیا بھارت پہ حملہ کر دوں” ۔میں یاد کروانا چاہتا ہوں کہ فضل الرحمان نے ایک دفعہ یہ جملہ بولا تھا بس اور پاکستانی قوم نے اس کی مت مار دی تھی۔ یہ جملہ ہماری اسمبلی میں چار دفعہ بولا گیا ہے اب۔ اس لیے مان لیں کہ کشمیر اب پاکستان کےلیے زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر کشمیر ہماری بقاء کا مسئلہ ہوتا تو اتنے آرام سے بھارت کشمیر میں ہندو بستیاں بسانے کے منصوبے پہ عمل نا کر پاتا۔