Baaghi TV

Tag: کویت

  • کویت کے وزیر خارجہ آج 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

    کویت کے وزیر خارجہ آج 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پرکویتی وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح آج 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق دورے کے دوران دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے، جن میں پاکستان اور کویت کے دوطرفہ تعلقات، اقتصادی و تجارتی تعاون، سرمایہ کاری، باہمی شراکت داری اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کا جائزہ لیا جائے گاملاقاتوں میں مشرق وسطیٰ سمیت خطے کی مجموعی صورتحال، عالمی پیش رفت اور باہمی دلچسپی کے دیگر علاقائی و بین الاقوامی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    دفتر خارجہ نے بتایا کہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح اپنے قیام کے دوران پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پر گفتگو ہوگی، یہ دورہ پاکستان اور کویت کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، اقتصادی روابط کو وسعت دینے اور مشترکہ مفادات پر مبنی شراکت داری کو آگے بڑھانے کے دونوں ممالک کے عزم کا مظہر ہے۔

  • بحرین اور کویت نے  ایران کے اندر براہِ راست فضائی کارروائیاں کیں، امریکی اخبار

    بحرین اور کویت نے ایران کے اندر براہِ راست فضائی کارروائیاں کیں، امریکی اخبار

    بحرین اور کویت نے رواں ماہ پہلی بار ایران کے اندر براہِ راست فضائی کارروائیاں کیں، جن میں ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ دونوں خلیجی ممالک نے خاموشی سے اپنے جنگی طیارے ایران میں حملوں کے لیے بھیجے، بحرین اور کویت کے لڑاکا طیاروں نے ایران میں ڈرونز اور میزائل ذخیرہ کرنے والی تنصیبات کے علاوہ دیگر فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، یہ دونوں ممالک کی جانب سے تہران کے خلاف پہلی معلوم براہِ راست فوجی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق متحدہ عرب امارات نے بھی ان کارروائیوں میں کردار ادا کیا اور ممکنہ اہداف سے متعلق معلومات فراہم کیں امارات نے فضائی دفاعی معاونت بھی فراہم کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے عرب ممالک ایران کے خلاف دفاعی تعاون بڑھا رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اگرچہ بحرین اور کویت کی فضائی طاقت محدود ہے اور ان کے پاس زیادہ تر امریکی اور یورپی ساختہ جنگی طیارے موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایران کے مسلسل حملوں کا جواب دیے بغیر رہنے پر تیار نہیں تھےخطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 جولائی کو اعلان کیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والی جنگ بندی اب مؤثر نہیں رہی۔

    اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ واشنگٹن نے ایران کے اندر مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس نے خطے کے کئی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور ساز و سامان کو نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کی بڑھتی ہوئی شمولیت نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ کشیدگی مزید پھیل سکتی ہے۔

  • کویت میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف احتجاج

    کویت میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف احتجاج

    عرب ممالک میں لوگوں نے امریکی اڈوں کے خلاف سڑکوں پہ احتجاج شروع کر دیا ہے،کویت میں امریکی اڈوں کے خلاف لوگوں نےاحتجاج کیا-

    کویت اور خلیجی خطے میں حالیہ عوامی احتجاج اور کشیدگی کا تعلق بنیادی طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی جھڑپوں اور تہران کی جانب سے کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر کیے جانے والے ڈرون و میزائل حملوں کے دعوؤں سے ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور رپورٹس کے مطابق،عوام میں خطے کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے، اب ان شاہی خاندانوں کو معلوم ہو چکا ہے کہ سوشل میڈیا کا دور ھے اور ان کی اپنی بادشاہتوں کے در ودیوار ہلنا شروع ہو گئے ہیں –

    ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب نے کویت میں کیمپ عریفجان، کیمپ دوحہ اور علی السالم ایئر بیس جیسے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔ سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر لوگ خطے کی جنگی صورتحال میں اپنے ممالک کے کردار اور غیر ملکی فوجی موجودگی پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں، کویت اور دیگر خلیجی ریاستوں نے ملکی دفاع اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہائی الرٹ جاری کر رکھا ہے۔

  • پاسداران انقلاب کا کویت ، اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    پاسداران انقلاب کا کویت ، اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    امریکی فوج نے آج رات پھر ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، ایرانی میڈیا کے مطابق سیریک، اہواز، چابہار، بندر عباس اور قیشم جزیرے میں دھماکے سنے گئے، جس کے جواب میں ایران نے اردن اور کویت میں امریکی تنصیبات پر حملے کئے۔

    امریکی سینٹ کام نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے کمانڈ مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، میزائل، ڈرون صلاحیتوں اور ساحلی نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا، بندرِ عباس میں بھی اہداف نشانہ بنائے گئے، حملوں کا مقصد ہدف ایران کی ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے خطرے کی فوجی صلاحیت ہے۔

    گورنر ہرمزگان کا کہنا ہے کہ قیشم میں امریکی حملے میں فش پاؤڈر بنانے والی فیکٹری کو نقصان پہنچا، تاہم فیکٹری خالی ہونے کے باعث جانی نقصان نہیں ہوا،حالیہ امریکی حملوں میں 7 ایرانی فوجی اور 30 عام ایرانی شہری شہید اور 260 سے زائد ایرانی زخمی ہو چکے۔

    ادھر ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن کی الازرق ائیربیس میں امریکی فوج کے مواصلاتی نظام، ایک مستقل ریڈار سائٹ کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے،ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی فوج نے کہا کہ یہ کارروائی ایران پر حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی، اس کے علاوہ کویت میں واقع علی السالم ائیربیس پر میزائل اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق اس نے (C-RAM) ابتدائی وارننگ ریڈار اور امریکی فوجیوں کے جمع ہونے کے مقام کو نشانہ بنایا، یہ حملہ آپریشن “نصر 2” کی آٹھویں لہر کے دوران کیا گیا،اس کے علاوہ پاسداران انقلاب نے جنوب مغربی شہر اندیمشک کے اوپر امریکی ایم کیو 9 ڈرون کو تباہ کرنے کا دعو یٰ کیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ یہ ڈرون اس کی ایرو اسپیس فورس کے زیرِ استعمال نئے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا۔

  • ایرانی حملے میں 6 امریکی فوجیوں کی ہلاکت، بچ جانیوالے ساتھیوں کےاپنی فوجی قیادت پر سنگین الزامات

    ایرانی حملے میں 6 امریکی فوجیوں کی ہلاکت، بچ جانیوالے ساتھیوں کےاپنی فوجی قیادت پر سنگین الزامات

    واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یکم مارچ کو کویت میں ایرانی حملے میں بچ جانے والے متعدد امریکی فوجیوں نے اپنی فوجی قیادت پر سنگین الزا ما ت عائد کیے ہیں۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے دوران یکم مارچ کو کویت میں ہونے والے ایرانی ڈرون حملے میں 6 امریکی فوجی ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے یہ حملہ اس جنگ کے دوران امریکی فوج کو سب سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے والا واقعہ ثابت ہوا، تاہم ان دعوؤں پر نہ پینٹاگون کا باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے اور نہ ہی ایران نے کوئی بیان جاری کیا ہے تاہم حملے میں بچ جانے والے متعدد امریکی فوجیوں نے اپنی فوجی قیادت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

    امریکی فوجیوں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ فوجی حکام کو ممکنہ حملے کے خطرات سے متعلق پیشگی وارننگز دی گئی تھیں، لیکن ان پر توجہ نہیں دی گئی، جس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا امریکی کمانڈروں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ جس فوجی تنصیب کو ممکنہ طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے، وہاں حفاظتی انتظامات ناکا فی ہیں اور وہ حملے کے لیے انتہائی غیر محفوظ ہے۔ اس کے باوجود صورتحال بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

    واشنگٹن پوسٹ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے مزید دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے فوراً بعد سینئر فوجی کمانڈرز امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرنے کے بجا ئے عمارت چھوڑ کر چلے گئے زخمی اہلکاروں کو فوری طبی امداد فراہم کرنےاور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیےبھی مناسب انتظامات نہیں کیے گئے، جس سے صورتحال مزید خراب ہوگئی۔

    رپورٹ کے مطابق متاثرہ فوجیوں اور عینی شاہدین نے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ پیشگی اطلاعات کے باوجود حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے اور امدادی کارروائیوں میں مبینہ غفلت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے-

    دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جبکہ ا یران کی جانب سے بھی اس رپورٹ کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا،اس لیے رپورٹ میں کیے گئے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

  • ایران کے قطر، کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر  میزائل اور ڈرون حملے

    ایران کے قطر، کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے

    ایران نے اتوار کی صبح قطر، کویت، بحرین اور اردن میں قائم امریکی فوج کے اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور بارود سے بھرے ڈرونز برسا دیئے-

    ایرانی حکام کے مطابق ایران نے قطر، کویت، بحرین اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور بارود سے بھرے ڈرونز سے حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی جبکہ قطر نے کہا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی نظام نے اپنی حدود کی جانب آنے والے ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اتوار کی صبح قطر، کویت، بحرین اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا یہ حملے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور مواصلاتی تنصیبات پر امریکا کی جانب سے مبینہ بمباری کے جواب میں کیے گئے ہیں،قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے العدید کو خطرناک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جہاں جنگی طیاروں کی مرمت کے مرکز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کو تباہ کر دیا گیا۔

    تاہم قطر کی وزارتِ دفاع نے ایران کے اس دعوے کی مکمل تصدیق نہیں کی۔ وزارتِ دفاع کے مطابق قطری مسلح افواج نے ملک کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک میزائل کو کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کر دیا، جس کے باعث کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی فوج نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر بھی ڈرون حملے کیے ایرانی دعو ے کے مطابق کویت میں امریکی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام، اسلحہ گودام اور ریڈار مرکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بحرین میں امریکی فوج کے ریڈار اور مواصلاتی نظام پر حملہ کیا گیا۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں واقع پرنس حسن ایئربیس پر کئی بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ایرانی بیان کے مطابق اس حملے میں کمانڈ سینٹر اور وہ ہینگرز نشانہ بنائے گئے جہاں امریکی ساختہ ایم کیو-9 ڈرون طیارے موجود تھے،ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے مزید فوجی کارروائی کی تو اس کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ قطر کے علاوہ دیگر متعلقہ ممالک اور امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر ان حملوں یا نقصانات سے متعلق کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

  • ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل حملے، خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

    ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل حملے، خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

    امریکا کی جانب سےساحلی فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت اور بحرین کی سمت میزائل داغنے اور خطے میں ’دشمن اڈوں‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تمام میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے گئے۔

    سی این این اور عرب نیوز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک کی سمت میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس کے بعد پورے خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے، امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایران کے 4 حملہ آور ڈرونز کو آبنائے ہرمز کی جانب بڑھتے ہوئے مار گرایا گیا، جبکہ بعد ازاں کویت اور بحرین کی سمت داغے گئے 7 میزائلوں میں سے چھ کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا اور ساتواں میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا، ان حملوں میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور ایران کی جانب سے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔

    دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ اس نے امریکی جارحیت کے جواب میں خطے میں موجود ’دشمن اڈوں‘ کو ایرو اسپیس فورس کے میزائلوں سے نشانہ بنایا ایرانی میڈیا کے مطابق خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کی سرگرمیوں کے جواب میں ایرانی بحریہ نے انتباہی فائرنگ بھی کی۔

    کشیدہ صورتحال کے باعث بحرین میں ہفتے کی صبح خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور وزارتِ داخلہ نے شہریوں اور غیر ملکی رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت جاری کی۔

    اسی طرح کویتی فوج نے بھی ’دشمن میزائل اور ڈرون خطرات‘ سے نمٹنے کے لیے فضائی دفاعی نظام متحرک کرنے کا اعلان کیا، کویت میں متعدد فضائی خطرے کے الارم بجائے گئے جبکہ بعض پروازوں کو بھی عارضی طور پر انتظار کی حالت میں رکھا گیا۔

    ادھر ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کیں تو خطہ ایک وسیع جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے، ایرانی حکام کے مطابق ممکنہ امن معاہدہ اس شرط سے مشروط ہے کہ امریکا ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کرے،اس دوران لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تہران اپنے علاقائی تنازعات میں لبنان کو ’سودے بازی کے آلے‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

  • کویت پر ایرانی حملے، ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی، ایئرپورٹ اور سفارتی عمارتوں کو نقصان،فضائی آپریشن مطل

    کویت پر ایرانی حملے، ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی، ایئرپورٹ اور سفارتی عمارتوں کو نقصان،فضائی آپریشن مطل

    کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد فضائی آپریشن معطل کر دیا گیا ہے حملوں میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ہوائی اڈے کی عمارت اور قریبی سفارتی دفاتر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    کویت کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک باضابطہ بیان جاری کیا ہے کویتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے جانے والے ان ”وحشیانہ اور مسلسل ایرانی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت شہری اور اہم تنصیبات کو ایک بار پھر نشانہ بنانے کے نتیجے میں ایک فرد کی موت واقع ہوئی ہےاور کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں سفارتی مشنز سمیت اہم املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے ان بار بار کی ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے اقدامات کرنے کا اپنا مکمل اور موروثی حق محفوظ رکھتے ہیں-

    دوسری جانب ایران نے ان حملوں کے پیچھے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کویت اور بحرین کو خطے میں ہونے والی کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کے معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے کویت اور بحرین ان امریکی حملوں کی براہِ راست اور واضح ذمہ داری اٹھائیں کیونکہ ان دونوں ممالک کی سرزمین اور فوجی سہولیات کو ایران کے خلا ف امریکی فوجی آپریشنز کی مدد کے لیے استعمال کیا گیا ہے اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور مستقبل میں کسی بھی حملے کے مرکز کو نشانہ بنانے سمیت ہر دستیاب طریقہ استعمال کریں گے۔

  • اوپیک کی تیل کی پیداوار 26 سال کی کم ترین سطح پر

    اوپیک کی تیل کی پیداوار 26 سال کی کم ترین سطح پر

    پیڑول برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی تیل کی پیداوار 26 سال کی کم ترین سطح پر آگئی۔

    برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے سروے کے مطابق تیل کی پیداوار اپریل میں 2 کروڑ بیرل یومیہ سے کم ہوکر 8 لاکھ 30 ہزار بیرل ہوگئی آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث کویت کی تیل کی پیداوار میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، کویت نے اپریل میں صفر خام تیل برآمد کیا،اس کے علاوہ سعودی عرب اور عراق کی تیل کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد سعودی عرب کی تیل کی پیداوار 70 لاکھ بیرل یومیہ تک گر گئی، متحدہ عرب امارات واحد خلیجی ملک ہے جس کی تیل کی پیداوار اپریل میں بڑھی، اس کے علاوہ وینزویلا اور لیبیا کی بھی اپریل میں تیل کی پیداوار بڑھی۔

  • آبنائے ہرمز کی بندش: کویت کی تیل برآمدات پہلی بار صفر

    آبنائے ہرمز کی بندش: کویت کی تیل برآمدات پہلی بار صفر

    گزشتہ ماہ کویت کی تیل برآمدات 35 سال میں پہلی بار مکمل طور پر رک گئیں۔

    روسی میڈیا کے مطابق کویت نے اپریل 2026 میں خام تیل کی ایک بھی بیرل برآمد نہیں کی، جو 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد پہلی بار ہوا ہے شپنگ مانیٹرنگ ڈیٹا کے مطابق اگرچہ کویت میں تیل کی پیداوار جاری رہی، تاہم برآمدات مکمل طور پر معطل رہیں،ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے، جو کویت کی تیل ترسیل کا واحد راستہ ہے۔

    حکام کے مطابق 17 اپریل کو کویت پٹرولیم کارپوریشن نے ’فورس میجر‘ کا اعلان کرتے ہوئے برآمدات روک دیں، کیونکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدور فت مؤثر طور پر بند ہو گئی تھی یہ آبی گزرگاہ دنیا کی اہم ترین توانائی راہداریوں میں شمار ہوتی ہے۔

    کویت، جو امریکا کا قریبی اتحادی اور خطے میں ایک اہم لاجسٹک مرکز ہے، روزانہ تقریباً 27 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا تھا، جس میں سے لگ بھگ 18 لاکھ 50 ہزار بیرل برآمد کیے جاتے تھے ان برآمدات کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک، خصوصاً چین، بھارت اور جنوبی کوریا کو جاتا تھا مئی 2026 کے آغاز تک کویت کی تیل پیداوار کم ہو کر تقریباً 12 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کویت کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 50 فیصد جبکہ حکومتی بجٹ کا 90 فیصد فراہم کرتا ہے۔

    ایران نے مخالف جہازوں کے لیے راستہ بند رکھا ہوا ہے جبکہ امریکی بحریہ خلیج فارس میں ایرانی بندرگاہوں کے گرد سرگرم ہے اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جو 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔