Baaghi TV

Tag: کینیڈا

  • کینیڈا میں چاقو حملے کا دوسرا ملزم گرفتار

    کینیڈا میں چاقو حملے کا دوسرا ملزم گرفتار

    چند روز قبل کینیڈا میں چاقو سے حملہ کر کے شہریوں کو ہلاک اور زخمی کرنے والا دوسرا ملزم پکڑا گیا۔

    باغی ٹی وی:غیر ملکی میڈیا کے مطابق کینیڈین پولیس نے چاقوحملے کا دوسرا ملزم بھی گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق چاقو حملے کے دوسرے ملزم مائلز سینڈرسن کو کمیونٹی سینٹر کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔

    کینیڈا میں چاقو کے وار سے 10 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے

    چاقو حملے کا ایک ملزم ڈیمن سینڈرسن دو روز قبل مردہ حالت میں پایا گیا تھا پولیس کا کہنا ہے کہ ڈیمن سینڈرسن کو ممکنہ طور پر اس کے بھائی مائلز سینڈرسن نے ہی مارا ہے 31 سالہ ڈیمین سینڈرسن کی لاش جیمز کری نیشن میں ایک گھر قریب سبزے سے ملی تھی اس علاقے سے حملے کے کئی مقتولین کا تعلق تھا۔

    واضح رہے کہ تین روز قبل دو ملزمان نے کینیڈا کےصوبےسسکاچُون میں چاقو سے وار کر کے 10 افراد کو ہلاک،18 کوزخمی کردیا تھا۔ حملہ آوروں نےجیمز سمتھ کری نیشن اور قریبی گاؤں ویلڈن میں شہریوں پر13 مختلف مقامات پر حملہ کیا تھا ملزمان کی شناخت دو بھائیوں ڈیمیئن سینڈرسن اور مائلز سینڈرسن کے ناموں سے کی گئی تھی جو واقعے کے بعد فوراً فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے-

    کینیڈا میں ہونے والے چاقو حملے کے ایک ملزم کی لاش برآمد

    حملے کے بعد ملزمان کے مفرور ہونے سے شہر بھر میں خوف اور خاموشی کی کیفیت طاری رہی پولیس نے شہریوں کو محتاط رہنے اور گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی تھی اس واقعے کو کینیڈا کی حالیہ تاریخ کا بدترین پرتشدد واقعہ قراردیا جا رہاہے۔

    کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں ایسے یا کسی اور طرح کے تشدد کی کوئی جگہ نہیں ایسے سانحے بہت عام ہوتے جا رہے ہیں ۔ سسکچیوان اور کینیڈا کے لوگ مشکل اور غم کی اس گھڑی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

    افغانستان کے شہر جلال آباد میں زلزلہ،11 افراد جاں بحق متعدد زخمی

  • سکھوں کیلئےعلیحدہ ملک "خالصتان” کے قیام پر کینیڈا میں ریفرنڈم،مہم کی حمایت میں ہزاروں گاڑیوں کی ریلی

    سکھوں کیلئےعلیحدہ ملک "خالصتان” کے قیام پر کینیڈا میں ریفرنڈم،مہم کی حمایت میں ہزاروں گاڑیوں کی ریلی

    ٹورنٹو: کینیڈین سکھوں نے خالصتان تحریک کی حمایت میں کار ریلی نکال کر ایک نیا ریکارڈ درج کرایا ہے ریلی میں کاروں اور مشہور کینیڈین ٹرکوں سمیت 2000 سے زائد گاڑیاں شامل تھیں۔

    باغی ٹی وی : دی نیوز کے مطابق سکھوں کیلئے علیحدہ ملک خالصتان کے قیام پر برطانیہ، سوئٹزر لینڈ اوراٹلی میں ریفرنڈم کے بعد اب 18 ستمبر کو کینیڈا میں ووٹنگ ہوگی سکھ فار جسٹس کے زیرِ اہتمام 18 ستمبر کو ٹورنٹو کے نواحی علاقے برامپٹن سے ریفرنڈم شروع کیا جائے گا۔
    https://twitter.com/sikhsikhsikh61/status/1567040080992243714?s=20&t=HU9XPmhzj0mLuRlLTmLHeA
    خالصتان ریفرنڈم کی ووٹنگ 18 ستمبر کو ووٹنگ گورنمنٹ کی ملکیت میں چلائی جانے والی سہولت برامپٹن کے گور میڈوز ریکریشن سینٹر میں ہوگی لیکن بڑے پیمانے پر سرگرمیاں پہلے ہی زوروں پر شروع ہو چکی ہیں۔

    خالصتان کے قیام کے لیے پنجاب کی بھارت سے علیحدگی کی حمایت


    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں خالصتان اور برامپٹن میں ہونے والے خالصتان ریفرنڈم ووٹ کی حمایت میں مالٹن، اونٹاریو سے ہزاروں خالصتان کے جھنڈوں سے سجی گاڑیوں کی ایک بڑی قطار دیکھا جا سکتا ہے-


    کینیڈا میں مقیم سکھوں کی جانب سے مقامی افراد کی توجہ حاصل کرنے اور ریفرنڈم سے متعلق آگاہی کیلئے 5 میل لمبی کار ریلی بھی نکالی گئی، ٹورنٹو میں اتوار کی شب نکالی گئی کار ریلی میں دو ہزار سے زائد گاڑیوں نے شمولیت اختیار کی۔


    ریفرنڈم کے حوالے سے ٹرک ریلی کا بھی اہتمام کیا گیا جبکہ میگا بِل بورڈز پر خالصتان ریفرنڈم کی تشہیر بھی جاری ہے۔


    ان ویڈیوز میں خالصتان کے حامیوں کی ایک سے زیادہ کلومیٹر لمبی قطار دکھائی گئی ہے جو منفرد انداز میں سامنے آئے ہیں، جو کینیڈین ٹرک ڈرائیوروں کے حالیہ احتجاجی مظاہروں کی یاد دلاتا ہے جسے "آزادی قافلہ” کہا جاتا ہے جس میں ہزاروں ٹرک ڈرائیور اپنی گاڑیوں میں اپنے مطالبات کے لیے نکلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

    اٹلی میں خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد ، ووٹنگ کیلئے ہزاروں افراد کی شرکت

    18 ستمبر کو ہونے والی ووٹنگ سکھس فار جسٹس (SFJ) کی طرف سے منعقد کی گئی ہے،جو کہ ایک بین الاقوامی انسانی حقوق کی وکالت کرنے والی تنظیم ہے جو سکھوں کے حق خود ارادیت کے لیے مہم کی سربراہی کر رہی ہے۔

    ایس ایف جے کے جنرل کونسلر اور اس کے سرکاری ترجمان گروپتونت سنگھ پنن نے کہا کہ کینیڈا کےسکھوں نےدکھایا ہے کہ وہ خالصتان کے قیام کے اپنے مطالبے میں کہاں کھڑے ہیں۔


    گروپتونت سنگھ پنون نے کہا کہ کینیڈا کے سکھوں نے 5 کلومیٹر سےزیادہ کی کار ریلی کےلیےہزاروں کی تعداد میں نکل کرایک نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ یہ ایک نیا واقعہ ہے اور مغرب میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی تیسری نسل کے سکھوں میں ایک نئی بیداری کی صبح ہے-

    انہوں نے کہا کہ یہ سکھ نوجوان ہیں جو اب خالصتان کے لیے مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ 18 ستمبر کو ہونے والی ووٹنگ میں کئی دن باقی ہیں لیکن جوش و خروش بے مثال ہے۔ یہ ہندوتوا انتہا پسند مودی انتظامیہ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔

    برطانیہ کی نئی وزیراعظم لز ٹرس نے اپنی کابینہ کا اعلان کر دیا

    انہوں نے مزید کہا کہ سکھ خود ارادیت کا حق مانگ رہے ہیں جو اقوام متحدہ کے چارٹر میں ضمانت دیے گئے تمام لوگوں کے بنیادی حقوق میں سے ایک ہے بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری اور سیاسی حقوق (ICCPR)۔

    18 ستمبر سے پہلے، ٹورنٹو میں خالصتان ریفرنڈم ووٹنگ سے پہلے، خالصتان کے حامی کارکن خالصتان بینرز کے ساتھ ٹرک ریلیاں نکال رہے ہیں، میگا بل بورڈز، نشانات پلستر کر رہے ہیں اور برامپٹن کے گردواروں میں تشہیری مواد تقسیم کر رہے ہیں۔

    خالصتان پرریفرنڈم کا آغاز گزشتہ برس 31 اکتوبر کو لندن سے ہوا تھاجسکےبعد سوئٹزرلینڈ اور اٹلی میں بھی ووٹنگ کرائی گئی ریفرنڈم میں اب تک بیرون ممالک میں مقیم ساڑھے چار لاکھ سے زائد سکھ حصہ لے چکے ہیں۔

    پنجاب ریفرنڈم کمیشن (PRC)، ریفرنڈم اور براہ راست جمہوریت پر غیر منسلک ماہرین کا ایک پینل، ووٹنگ کے طریقہ کار کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ بیلٹنگ کے بین الاقوامی معیارات کی شفافیت اور تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔


    ٹورنٹو، کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے 18 ستمبر کو ہونے والے ووٹنگ سینٹر کا نام شہید ہرجندر سنگھ پرہا کے نام پر رکھا گیا ہے تاکہ خالصتان کے حامی نوجوان سکھوں کے اعزاز میں رکھا جائے جو ہندوستان کے تناظر میں خالصتان کے لیے اس وقت کی جاری مسلح جدوجہد میں حصہ لینے کے لیے کینیڈا سے واپس انڈیا گئے تھے۔ فوج کا جون 1984 میں گولڈن ٹیمپل پر حملہ۔ ایک اسٹیجڈ پولیس مقابلے میں، بھارتی فورسز نے 1988 میں پرہا کو ماورائے عدالت قتل کر دیا تھا-

    امریکی ورلڈ آرڈرنہیں اب چلےگا’رشین ورلڈ:ولادیمیر پیوٹن نے نئی خارجہ پالیسی کی منظوری دیدی

    قبل ازیں رواں سال جون میں تاریخی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سکھ رہنماؤں نے بتایا تھا کہ ریفرنڈم میں حصہ لینے والوں سے صرف ایک سادہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ آپ کی رائے میں کیا بھارت کے زیرِانتظام پنجاب کو علیحدہ ملک ہونا چاہئے یا نہیں-

    انہوں نے بتایا تھا کہ برطانوی حکومت نے لندن میں ہمارے اظہار رائے کے اس جمہوری حق کا اس حد تک احترام کیا کہ ریفرنڈم کے انعقاد کے لئے سرکاری سنٹر بھی پیش کر دیا‘ اٹلی میں ریفرنڈم کے موقع پر بھارتی حکومت نے ہمارے لئے کافی مشکلات کھڑی کیں لیکن اٹلی میں بسنے والے سکھوں نے بڑی تعداد میں ریفرنڈم میں حصہ لیا۔

    سکھ رہنما گْرپتونت پَنوں نے کہا تھا کہ ہمیں کینیڈین اتھارٹیز کی جانب سےکسی قسم کی رکاوٹ کھڑے کئےجانے کا کوئی اندیشہ نہیں۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے آئندہ وزیراعظم بننا ہے تو انہیں ہمارے ریفرنڈم والے معاملے پر بات کرنا ہوگی۔

    ایک سوال کے جواب میں علیحدگی پسند سکھ رہنماؤں نے کہا تھا کہ خالصتان کے معاملے پر بھارتی حکومت پاکستان اور پاکستانی اداروں پر بے بنیاد الزام لگاتی رہی ہےتو وہ امریکی سی آئی اے پر الزام کیوں نہیں لگاتے جہاں میں گرپتونت سنگھ اور ڈاکٹر بخشیش سنگھ بیٹھے ہیں۔ ہم امریکہ سے اپنی خالصتان کی ریفرنڈم تحریک کو آپریٹ کر رہے ہیں-

    ٹرمپ کا فاکس نیوز پرڈیموکریٹس کےایجنڈے کو آگے بڑھانے کا الزام، سی این این کو قدامت…

  • کینیڈا میں ہونے والے چاقو حملے کے ایک ملزم کی لاش برآمد

    کینیڈا میں ہونے والے چاقو حملے کے ایک ملزم کی لاش برآمد

    کینیڈا میں ہونے والے چاقو حملے کے ایک ملزم کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : اتوار کے روز کینیڈا کےصوبےسسکاچُون میں چاقو کے وارسے 10 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے تھے پولیس کے مطابق ملزمان کی شناخت دو بھائیوں ڈیمیئن سینڈرسن اورمائلز سینڈرسن کے ناموں سےکی گئی تھی جو واقعے کے بعد فوراً فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھےپولیس مشتبہ دو بھائیوں کو تلاش کررہی تھی کے آج ملزم ڈیمیئن سینڈرسن کی لاش ایک مکان کےقریب سے ملی۔

    کینیڈا میں چاقو کے وار سے 10 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے

    پولیس اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا ہے کہ ڈیمیئن سینڈرسن کے جسم پر زخموں کے نشانات موجود ہیں تاہم اس بارے میں مزید تحقیقات کی جارہی ہے جبک مشتبہ دوسرا بھائی مائلز سینڈرسن اب بھی مفرور ہے۔

    واضح رہے کہ کینیڈا کے صوبے سسکاچُون میں چاقو کے وار سے 10 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے تھے پولیس کا کہنا تھا کہ ان افراد کو 13 مختلف مقامات پر نشانہ بنا یا گیا، حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی ہے ملزمان کی شناخت ڈیمئن سنڈرسن اورمایلس سنڈرسن کے ناموں سے کی گئی ہے تاہم دونوں ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے-

    دوران پرواز پائلٹ بے ہوش:اسپین سے جرمنی جانے والا نجی طیارہ ایندھن ختم ہونے پر گر کر تباہ

    رائل کینڈین ماؤنٹڈ پولیس کیجانب سے شہریوں کو خطرناک ملزمان سے خبردار کیا گیا تھا کہ وہ محتاط رہیں اور بلا ضرورت اپنے گھروں یا محفوظ مقامات سے باہرنہ نکلیں، اور لمبا سفر کرنے سے گریز کریں امکان ہے کہ ملزمان کالی نیشان رؤگ میں سوار ہیں، جنہیں بھی ایسی کوئی گاڑی یا ملزمان نظر آئیں تو ان سے دور رہیں اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔

    ایک پریس کانفرنس میں رائل کینڈین ماؤنٹڈ پولیس کی سربراہ کا کہنا تھا کہ فرار ملزمان خطرناک ہیں اور امکان ہے کہ وہ مزید لوگوں پر بھی حملہ آور ہو سکتے ہیں چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، پولیس مسافروں کی شناخت کی جانچ کر رہی ہے-

  • انسولین انجیکشن ماضی کا قصہ؟:بہت جلد انقلاب کا اعلان متوقع

    انسولین انجیکشن ماضی کا قصہ؟:بہت جلد انقلاب کا اعلان متوقع

    کینڈا:کینیڈین سائنسدان بہت جلد ایک بہت بڑی کامیابی کا اعلان کرنے والے ہیں اور یہ امکان ظاہر کیا جارہاہے کہ بہت جلد انسولین انجیکشن کی جگہ ایک ایسی گولی لے لی گی جوانسولین سےبھی کئی گنا بہترثابت ہوگئی ، ذیابطس کے مریض جانتے ہیں کہ دہائیوں سے ذیابیطس کے بیشتر مریضوں کو دن بھر میں اپنے بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے انسولین کے انجیکشن استعمال کرنا پڑتے ہیں۔مگر امکان ہے کہ مستقبل قریب میں ایک گولی انجیکشن کی ضرورت کو ختم کردے گی۔

    خیال رہے کہ ذیابیطس کے مرض میں لبلبہ انسولین بنانے سے قاصر ہوجاتا ہے یا اس کی ناکافی مقدار بناتا ہے، یہ وہ ہارمون ہے جو خون میں گلوکوز کی سطح کم کرتا ہے۔

    جس کے باعث مریضوں کو انسولین کے انجیکشن لگانے پڑتے ہیں ورنہ بلڈ شوگر لیول زیادہ رہنے سے سنگین طبی پیچیدگیوں جیسے گردوں کو نقصان پہنچنا، بینائی متاثر ہونا، امراض قلب اور فالج وغیرہ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    مگر روزانہ کئی انجیکشن لگانا آسان نہیں ہوتا، اسی وجہ سے کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین نے منہ کے ذریعے دی جانے والی انسولین گولی کی تیاری پر کام کیا ہے۔

    ماہرین نے اسے ‘گیم چینجنگ’ دریافت قرار دیا ہے کیونکہ یہ دوا جسم میں انجیکشن کی طرح ہی کام کرتی ہے۔اب تک اس دوا کے تجربات چوہوں پر کیے گئے ہیں اور نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں اور اب محققین انسانوں پر اس کی آزمائش کرنا چاہتے ہیں۔

    جرنل نیچر سائنٹیفک رپورٹس میں شائع تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم انسولین گولی کی تیاری کے حوالے سے درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس دوا کے باعث ہر بار کھانے سے پہلے انجیکشن لگانے کی ضرورت نہیں جبکہ مریض کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    انسولین کو دوا کی شکل دینا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ ایک پروٹین ہے اور گولی کی شکل میں یہ جگر تک پہنچنے سے پہلے ہی معدے اور آنتوں میں جذب ہو سکتا ہے۔محققین نے بتایا کہ انجیکشن میں عموماً 100 آئی یو مقدار انسولین دی جاتی ہے، جبکہ گولی کی شکل میں 500 آئی یو مقدار استعمال کرنا ہوگی جس میں سے بھی زیادہ تر ضائع ہوجائے گی۔

    یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عام گولی تیار کرنے کی بجائے ایک مختلف طریقہ کار اختیار کیا اور ایسی گولی تیار کی جو مسوڑوں اور گالوں کے درمیان ہی گھل جائے۔چوہوں پر اس کے تجربات اب تک کامیاب رہے ہیں اور منہ میں گھل جانے کے باعث یہ دوا براہ راست دوران خون میں چلی جاتی ہے، جہاں سے یہ جگر تک پہنچ جاتی ہے۔

    محققین کے مطابق چوہوں کو دوا استعمال کرانے کے 2 گھنٹے بعد بھی ہم نے معدے میں انسولین کو دریافت نہیں کیا بلکہ وہ جگر پہنچ گئی، جو ہمارا ہدف تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    ابھی اس حوالے سے کافی کام ہونا باقی ہے کیونکہ ابھی انسانوں میں اس کی کامیابی کے لیے ٹرائل ضروری ہے جس میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ دوا سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

  • کینیڈا: کیتھولک رہنما پراپنی انٹرن سے جنسی زیادتی کا الزام عائد،مقدمہ درج

    کینیڈا: کیتھولک رہنما پراپنی انٹرن سے جنسی زیادتی کا الزام عائد،مقدمہ درج

    کینیڈا کے معروف کیتھولک رہنما کارڈینل مارک اولیٹ پر جنسی زیادتی کا الزام عائد ہونے پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : مذکورہ الزام کینیڈین صوبے کیوبیک کی مقامی عدالت میں پیش کردہ قانونی دستاویزات میں لگایا گیا ہے جس میں خاتون نے دعویٰ کیا کہ انہیں ماضی میں اس وقت جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جب وہ کم عمر تھیں مقدمے میں، ایک خاتون کی شناخت صرف "ایف” کے طور پر ہوئی ہے-

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دستاویزات میں بتایا گیا کہ متاثرہ خاتون ایک چیریٹی کی تقریب میں 2008 میں کارڈینل مارک سے ملیں ، اس وقت ان کی عمر 23 برس تھی اور وہ چرچ میں انٹرن تھیں۔

    خاتون نے دعویٰ کیا کہ رات کے کھانے کے بعد کارڈینل مارک نے نامناسب طریقے سے ان کے کندھوں پر ہاتھ لگایا اور پھر کمر سہلانے لگے جس پر خاتون کو سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا ردعمل دیں۔

    دستاویزات میں الزام عائد کیا گیا کہ بعد ازاں 2010 میں ایک تقریب پر موقع پر کارڈینل نے مذکورہ خاتون کو بوسہ دینے کی خواہش کا اظہار کیا ، ساتھ ہی کچھ غیر مناسب جملے بھی کہے اور آخر کار اسے پچھلے سال پوپ فرانسس سے شکایت کرنے پر اکسایا۔

    جی سی سی ممالک میں بانجھ پن کی شرح میں اضافہ

    واضح رہے کہ ماضی میں کیتھولک رہنما کارڈینل مارک اولیٹ پوپ کے مضبوط امیدوار سمجھے جاتے تھے کارڈینل مارک اولیٹ کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جو جنسی استحصال کو روکنے کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہے ہیں۔

    اولیٹ ویٹیکن بیوروکریسی کے اندر سب سے اہم شخصیات میں سے ایک ہیں، جو اس محکمے کی رہنمائی کرتی ہیں جو بشپس کی جانچ اور انتظام کرتا ہے اسے 2003 میں پوپ جان پال دوم نے کارڈینل نامزد کیا تھا، پوپ بینیڈکٹ XVI کے لیفٹیننٹ کے طور پر خدمات انجام دیں اور اب پوپ فرانسس کے ساتھ تقریباً ہفتہ وار ملاقاتیں کرتے ہیں، جنہوں نے اولیٹ کو عام پانچ سالہ مدت سے کہیں زیادہ اپنے کردار میں رہنے کی اجازت دی ہے۔

    لڑکی نے محبت ثابت کرنے کیلئےعجیب و غریب اور انتہائی قدم اٹھا لیا

  • کینیڈا میں فائرنگ سے 2 افراد ہلاک 2 زخمی

    کینیڈا میں فائرنگ سے 2 افراد ہلاک 2 زخمی

    کینیڈا میں ایک شخص نے فائرنگ کر کے دو افراد کو ہلاک جبکہ دو کو زخمی کر دیا جن میں ایک خاتون کی حالت نازک ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق پیر کے روزیہ واقعہ وینکوور کے علاقے میں صبح کے وقت پیش آیا واضح رہےحملہ اور نے بے گھر لوگوں کو نشانہ بنایا ہے تاہم اس بات کی فوری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

    کینیا میں مسافر بس بے قابو ہوکر دریا میں جا گری،34 افراد ہلاک اور 14 زخمی

    پولیس کے مقامی چیف کے مطابق یہ تصدیق کی جا سکتی ہے کہ گولی لگنے سے چار افراد زخمی ہوئے تھے اس بارے میں یہی معلوم ہوا کہ حملہ آور ایک ہی شخص تھا اس کا نشانہ بننے والے دو افراد کی موت واقع ہو چکی ہے تاہم ابھی فائرنگ سے متاثر ہونے والے افراد اور حملہ آور کی شناخت کی جارہی ہے۔

    پولیس چیف نے کہا فوری طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ مرنےاور زخمی ہونے والوں کا باہم کوئی تعلق ہے یا نہیں اور کیا یہ واقعی بے گھر لوگ تھے جنہیں نشانہ بنایا گیا تاہم اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حملہ آور نے ایک سے زائد جگہوں پر فائرنگ کی اور لوگوں کو نشانہ بنایا بتایا گیا ہے کہ حملہ آور سے اب شاید کسی کو خطرہ نہیں ہے تاہم شہریوں کو احتیاط ضرور کرنا ہوگی۔

    برطانیہ میں گھر سے 61 سالہ خاتون کی ڈھائی سال پرانی لاش برآمد

    کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اس طرح کے واقعات میں اضافے کی وجہ سے تجویز دے چکے ہیں کہ ملک میں اس طرح کے لوگوں کی اسلحے تک رسائی کو روکنے کی سبیل کی جانی چاہی اس سلسلے میں بندوقوں کی کھلی فروخت کو بھی روکنا چاہیے۔

    دوسری جانب لاس اینجلس کے پارک میں ایک کار شو کے دوران فائرنگ سے کم از کم سات افراد زخمی ہو گئے ہیں یہ واقعہ اتوار کے روز لاس اینجلس کے جنوب میں 32 کلو میٹر کے فاصلے پر پیش آیا ہے۔

    امریکا: پارک میں فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق

    لاس اینجلس پولیس نے اس بارے میں کہا ہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ سان پیڈرو کے پیک پارک میں سہ پہر تین بج کر پچاس منٹ پر پیش آیا پولیس ڈیپارٹمنٹ کا اپنے ٹویٹ میں کہنا ہے کہ یہ فائرنگ کا ایک ایسا واقعہ نہیں ہے جسے براہ راست فائرنگ کا متحرک نام دیا جا سکے۔

    پولیس کے مطابق سات افراد کے زخمی ہونے کے علاوہ مزید کوئی اطلاع سامنے نہیں آیا ہے۔ دریں اثنا فائر بریگیڈ ڈیپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ ایک کار شو کے دوران ہوا۔ جس میں زخمی ہونے والوں میں سے کم از کم تین افراد کی حالت نازک ہے۔

    یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں

  • پوپ فرانسس مشنریوں کے مقامی بچوں سے نارواسلوک پرمعذرت کے لیے کینیڈا پہنچ گئے

    پوپ فرانسس مشنریوں کے مقامی بچوں سے نارواسلوک پرمعذرت کے لیے کینیڈا پہنچ گئے

    رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس اتوار کے روزکینیڈا کے پانچ روزہ دورے پر مغربی صوبہ البرٹا کے شہر ایڈمنٹن میں پہنچ گئے ہیں۔

    باغیٹ ی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق پوپ فرانسس اتوار کو کینیڈا پہنچے، جہاں وہ کیتھولک چرچ کے زیر انتظام رہائشی اسکولوں میں کئی دہائیوں کے دوران ہونے والی زیادتیوں سے بچ جانے والے مقامی لوگوں سے ذاتی طور پر معافی مانگیں گے۔

    رپورٹس کے مطابق کینیڈا میں چرچ سے متصل نام نہاد رہائشی اسکولوں میں گذشتہ برسوں کے دوران میں تعلیم حاصل کرنےوالے مقامی بچّوں کے ساتھ پادریوں کی بدسلوکی کے واقعات کی پریشان اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں اور مقامی لوگ ان غلط کاریوں پررومن کتھولک چرچ سے معافی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

    دنیا کے 1.3 بلین کیتھولک کے سربراہ ایڈمنٹن پاپائے روم کے کینیڈا کے دورے کا پہلاپڑاؤ ہے۔اس کے بعد وہ دو اور مقامات پر جائیں گے۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے دوسرے حکام کے ساتھ پوپ کا خیرمقدم کیا ہے ان کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب دیسی ڈھول پیٹے گئے ہیں اورنعرے بازی کی گئی ہےایک کے بعد ایک مقامی رہنماؤں اورزعماء نے پوپ کا استقبال کیا اورتحائف کا تبادلہ کیا۔

    پوپ نے روم سے 10 گھنٹے کی پرواز کے دوران اپنے ہمراہ طیارے میں سوارصحافیوں کو بتایا کہ یہ ایک "تپسیاتی سف” یعنی توبہ کا سفر ہےانھوں نے خاص طور پربوڑھے لوگوں اور دادا دادی کے لیے دعاؤں پر زور دیا۔

    85 سالہ پوپ کا کینیڈا کا دورہ بنیادی طور پر اس اسکینڈل میں چرچ کے کردار کے لیے بچ جانے والوں سے معافی مانگنا ہے جسے قومی سچائی اور مصالحتی کمیشن نے "ثقافتی نسل کشی” قرار دیا ہے۔

    1800 کی دہائی کے آخر سے 1990 کی دہائی تک، کینیڈا کی حکومت نے تقریباً 150,000 فرسٹ نیشنز، میٹیس اور انوئٹ بچوں کو چرچ کے زیر انتظام 139 رہائشی اسکولوں میں بھیجا، جہاں وہ اپنے خاندان، زبان اور ثقافت سے کٹ کر رہ گئے۔

    ہیڈ ماسٹرز اور اساتذہ کی طرف سے بہت سے لوگوں کو جسمانی اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا خیال کیا جاتا ہے کہ ہزاروں بچے بیماری، غذائیت کی کمی یا غفلت کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں مئی 2021 سے، سابقہ ​​اسکولوں کے مقامات پر 1,300 سے زیادہ غیر نشان زدہ قبریں دریافت ہوئی ہیں۔

    مقامی لوگوں کے ایک وفد نے اپریل میں ویٹیکن کا سفر کیا اور پوپ سے ملاقات کی جو فرانسس کے چھ روزہ سفر کا پیش خیمہ تھا جس کے بعد انہوں نے باضابطہ طور پر معافی مانگی لیکن کینیڈا کی سرزمین پر دوبارہ ایسا کرنا زندہ بچ جانے والوں اور ان کے خاندانوں کے لیے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہو گا، جن کے لیے ان کے آباؤ اجداد کی سرزمین خاص اہمیت کی حامل ہے۔

    پوپ کے لیے یہ پرواز 2019 کے بعد سے طویل ترین پرواز تھی، جو گھٹنوں کے درد میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے وہ حالیہ باہر جانے میں چھڑی یا وہیل چیئر استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

    پوپ اتوار کو وہیل چیئر پر تھے اور روم میں ہوائی جہاز میں سوار ہونے کے لیے لفٹنگ پلیٹ فارم کا استعمال کرتے تھے، اور ایڈمنٹن میں ٹرمک پر وہیل چیئر پر بھی تھے، ان کے ساتھ موجود اے ایف پی کے نامہ نگار نے بتایا۔

    اتوار کو آرام کرنے کے بعد، پوپ پیر کو ایڈمنٹن سے تقریباً 100 کلومیٹر (62 میل) جنوب میں ماسکواس کی کمیونٹی کا سفر کریں گے، اور ایک اندازے کے مطابق 1500 افراد پر مشتمل ہجوم سے خطاب کریں گے جن کی توقع ملک بھر سے سابق طلباء شامل ہوں گے۔

    جون میں اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے 44 سالہ شارلٹ روان نے کہا، "میں بہت سارے لوگوں کو آنا چاہوں گی۔” ایرمینسکن کری نیشن کی رکن نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ لوگ "یہ سننے کے لیے آئیں کہ یہ نہیں بنایا گیا”۔

    دوسرے لوگ پوپ کے دورے کو بہت دیر سے دیکھتے ہیں، بشمول لنڈا میک گیلوری سینٹ پال کے قریب سیڈل لیک کری نیشن کے ساتھ، ایڈمنٹن سے تقریباً 200 کلومیٹر مشرق میں م 68 سالہ شخص نے کہا کی میں اسے دیکھنے کے لیے اپنے راستے سے باہر نہیں جاؤں گا میرے لیے یہ ایک طرح سے بہت دیر ہو چکی ہے، کیونکہ بہت سے لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑا، اور پادری اور راہبائیں اب گزر چکی ہیں۔”

    میک گیلوری نے اپنے بچپن کے آٹھ سال اسکولوں میں سے ایک میں گزارے، چھ سے 13 سال کی عمر تک انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "رہائشی اسکول میں ہونے کی وجہ سے میں نے اپنی ثقافت، اپنے آباؤ اجداد کو کھو دیا۔

    واضح رہے کہ کینیڈا کے مقامی گروہ معافی نامے کے صرف الفاظ سے زیادہ کی تلاش میں ہیں۔وہ ان بچّوں کی قسمت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں اور چرچ آرکائیوز تک رسائی کا مطالبہ کررہے ہیں جواقامتی اسکولوں سے کبھی گھروں کو نہیں لوٹے۔ وہ استحصال کرنے والوں کے کو انصاف کے کٹہرے میں لانے، متاثرین کو مالی معاوضہ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں اور ویٹی کن میوزیم میں موجود دیسی نوادرات کی واپسی بھی چاہتے ہیں۔

    کنفیڈریشن آف ٹریٹی 6 کے گرینڈ چیف جارج آرسینڈ جونییر نے کہا کہ ’’(پوپ کی) یہ معذرت ہمارے تجربات کی توثیق کرتی ہے اورچرچ کے لیے دنیا بھر کے مقامی لوگوں کے ساتھ مجروح تعلقات پرمرہم رکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے‘‘ لیکن انھوں نے زور دے کر کہا:’’یہ معاملہ یہیں پہ ختم نہیں ہوتا-ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔یہ ایک آغازہے-

  • پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان کینیڈا میں غائب

    پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان کینیڈا میں غائب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان کینیڈا میں غائب ہو گیا

    پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان ٹورنٹو میں غائب ہونے سے گزشتہ ایک سال میں غائب ہونے والوں کی تعداد تین ہوگئی ہے ، پی آئی اے کا لاہور سے تعلق رکھنے والا فضائی میزبان ٹورنٹو میں غائب ہوا، پرواز کے ساتھ گیا لیکن وہاں سے پھر واپس نہیں آیا

    کینیڈا میں جا کر پی آئی اے کے فضائی میزبانوں کا غائب ہو جانا ایک معمول بن چکا ہے،ایسے لگتا ہے کہ پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کا اپنے عملے پر کسی قسم کا کوئی کنٹرول نہیں رہا،قبل ازیں کینیڈین ایوی ایشن حکام نے لاہور اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے پی آئی اے کے عملے کے ارکان پر منشیات سے متعلق الزامات عائد کیے تھے

    رواں برس ماہ فروری میں فلائٹ اسٹیورڈ وقار احمد خان جدون ٹورنٹو میں غائب ہو گئے تھے،جس کے بعد جی ایم فلائٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ فضائی عملے کے غائب ہونے کی وجہ سے کچھ اقدامات کو فوری اٹھایا جا رہا ہے، اس ضمن میں نئے ایس او پیز بنائے گئے ہیں ،فضائی میزبان کا پاسپورٹ سٹیشن منیجر کے پاس رکھا جائے گا اور اسکے پاس جمع ہو گا پاسپورٹ واپسی پر کسٹم کی قانونی کاروائی کے بعد واپس کیا جائے گا ہوٹل سیکورٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہر ایک پہنچ گیا ہے اگر کوئی بھی غائب یا لاپتہ ہوا تو ہوٹل سٹاف فوری آگاہ کرے گا ،کسی بھی فضائی میزبان کو ہوٹل چھوڑنے کی اجازت نہیں ہو گی، تاہم اب ایسے لگتا ہے کہ پی آئی اے کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے اب ایک بار پھر ایک فضائی میزبان غائب ہو گیا ہے

    رواں برس ماہ فروری میں ہی قومی ائیرلائن پی آئی اے کی خاتون ائیرہوسٹس زاہدہ بلوچ کینیڈا سے لاپتا ہوگئی تھی پی آئی اے کی ائیر ہوسٹس پرواز پی کے 797 پر کراچی سے ٹورنٹو پہنچی تھی لیکن ائیر ہوسٹس نے ٹورنٹو سے کراچی کی پرواز کے لیے ڈیوٹی پر رپورٹ نہیں کیا۔ترجمان پی آئی اے نے ائیرہوسٹس کے لاپتا ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خاتون فضائی میزبان سے متعلق کینیڈاکی امیگریشن اور ائیر پورٹ اتھارٹی کوآگاہ کردیا گیا ہے

    فضائی میزبانوں کے بیرون ممالک میں غائب ہونے پر نئے ایس او پیز جاری

    پی آئی اے کی فضائی میزبان کے کینیڈا میں "غائب”ہونے پر تحقیقات کا آغاز

    وہ قوم جو ہر سال 200 ارب جلا ڈالتی ہے، سنیے سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کی زبانی

    جہازکریش، حقائق مت چھپاؤ ، جواب دو، مبشر لقمان کا پالپا کو کھلا چیلنج

    کاش. پی آئی اے والے یہ کام کر لیتے تو PK8303 کا حادثہ نہ ہوتا، سنیے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    ماشاء اللہ، پی آئی اے کے پائلٹ ماضی میں کیا کیا گل کھلاتے رہے ؟سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    سول ایوی ایشن نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ دی،پائلٹ کوذمہ دار ٹھہرانے کا لیٹر کیوں جاری کیا گیا؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی

  • عمران خان نے پاکستان اور ملک سے باہر بھی کلچر کو تباہ کر دیا،خواجہ آصف

    عمران خان نے پاکستان اور ملک سے باہر بھی کلچر کو تباہ کر دیا،خواجہ آصف

    عمران خان نے پاکستان اور ملک سے باہر بھی کلچر کو تباہ کر دیا،خواجہ آصف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم ہر ملک کی پارلیمان کا احترام کرتے ہیں،

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کو روہنگیا میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر نہیں آتیں؟  کینیڈا کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں، کینیڈا سمیت مغربی ممالک کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کیوں نظر نہیں آتے، ہمارے آرمی چیف کا کینیڈا کا دورہ شیڈول تھا،کینیڈا کے ممبر پارلیمنٹ نے پاکستان اورپاکستان آرمی کو تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے کہا ہماری افواج کی وجہ سے عمران خان اقتدار سے محروم ہوا ہے، کینیڈا میں بھی مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ اپنایا جاتا ہے،کینیڈا میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں جن کا ہمیں علم ہے،پچھلی حکومت نے پاکستان میں عوام کو تقسیم کیا ہے،عمران خان نے پاکستان اور ملک سے باہر بھی کلچر کو تباہ کر دیا،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نفرتوں کا سوداگر ہے،پاکستان کےتمام اداروں کو اس نے اپنے مخالفین کیخلاف استعمال کیا، یہاں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جنہوں نے جیلیں کاٹی ہیں،اختلافات کے باوجود ہمارے اخلاقی تعلقات کبھی خراب نہیں ہوئے، ہم قومی اداروں کو کسی مخالف کیخلاف استعمال نہیں کریں گے،عمران خان نے پاکستان کا ماحول خراب کیا وقت بتائے گا اس نے معاشرے کو کس طرح تباہ کیا ہماری حکومت کو2 ماہ سے زائد ہو گئے کسی کے گریبان پر ہاتھ نہیں ڈالا، جب تک کوئی قانون کو ہاتھ میں نہیں لے گا اس کیخلاف کارروائی نہیں کریں گے ہاؤس کی وساطت سے کینیڈین حکومت سے پوچھتا ہوں کیا مسلمانوں کے جذبات نہیں ہیں؟ کینیڈا کی اندرونی صورتحال سے آگاہ ہوں مگر اسے ٹارگٹ نہیں کروں گا، عدالتوں نے ان کے تمام الزامات کو جھوٹ ثابت کیا، عمران خان بیرونی ممالک سے ملکی اداروں پر اٹیک کروا رہا ہے، مسجد نبوی واقعہ میں ملوث افراد برطانیہ سے آئے ہوئے تھے، بیرون ملک بیٹھ کر اپنے وطن کو کمزور نہ کریں، محبت کریں،

    کیا اگلی باری بھارت کی ہے یا پھرٹال مٹول:ایف اے ٹی ایف کے صدرنے بیان دے کربھارت کے حواس باختہ کردیئے

    ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، حماد اظہر

    ایف اے ٹی ایف،پاکستان جب تک یہ کام نہیں کریگا وائیٹ لسٹ میں نہیں آ سکتا،مبشر لقمان کا خوفناک انکشاف

    قریشی نے سعودی عرب کو دھمکی دے کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا،وزارت چھوڑ کرگدی نشینی کا کام کریں، ساجد میر

  • پاکستانی ادكاره ایمان ویلانی نے  مس وائرل کا کردار کیسے حاصل کیا ؟

    پاکستانی ادكاره ایمان ویلانی نے مس وائرل کا کردار کیسے حاصل کیا ؟

    پاکستانی ادكاره ایمان ویلانی نے مس وائرل کا کردار کیسے حاصل کیا ؟

    باغی ٹی وی :کینیڈا مس مارول میں اداکارہ ایمان ویلانی مسلمان سپر ہیرو کا کردار ادا کرنے والی نے بتایا ہے کہ کس طرح سے انہوں نے یہ کردار حاصل کیا۔
    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستانی نژاد کینی کینیڈین اداکارہ ایمان ویلانی کی سیریز ‘مس مارول کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا ہے سیریز 8 جون سے نشر ہونا شروع ہو جاۓ گی ۔یہ پہلی سیریز ہو گی جس میں پاکستانی نژاد سپرہیرو کوپہلی دفعہ اسکرین پر دکھایا جائے گا ۔
    مزید یہ کہ پاکستانی نژاد لڑکی ایمان ویلانی کی عمر 19 سال ہے۔اور انہوں نے مس مارول کا کردار کیسے حاصل کیا یہ جان کر سب کو بہت حیرانگی ہو گی ۔

    کچھ دن قبل اداکارہ ایمان ویلانی نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کو مس مارول میں کمالہ خان کے کردار کے لیے مارول کی تلاش کا علم اپنے رشتہ دار کی طرف سے ہوا تھا جنہوں نے ان کو ایک میسج فروری 2020 میں فارورڈ کیا تھا ۔
    ایمان ویلانی نے اپنی ایک آڈیشن کی ویڈیو بنائی جو ان کو کچھ خاص پسند نہ آئی ۔ان کا کہنا تھا کہ میں بہت جلد مایوس ہو گئی تھی۔ ابھی مجھے محنت کرنے کی ضرورت تھی ۔اور میں پہلے ہی مایوس ہو گئی تھی ۔اگر محنت کی جاۓ تو کامیابی مل ہی جاتی ہے ۔
    پھر ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمت کر کے رات کے تقریباً 3 بجے میں نے وہ آڈیشن ویڈیو بھیج دی اور پھر 2 دن بعد
    مجھے کال آئی ۔

    اس کے بعد ایمان ویلانی کی سارہ فن سے ملاقات ہوئی اور کورونا کی وبا کے باعث ان کا ٹیسٹ سکرین زوم پر ہوا۔ پھر ایمان کا ہائی اسکول ختم ہوا ہی تھا اور انہیں اسی دن مس مارول کے کردار کے لیے چن لیا گیا تھا اور اس طرح سے ان کے کیریئر کا آغاز ہوا۔
    مس مارول کو اب نہیں بلکے گزشتہ سال ریلیز ہونا تھا ۔لیکن کرونا کی وبا کے باعث ایسا نہ ہو سکا ۔لیکن یہ آغاز آج ہو گیا ہے ۔