خسرے کا وبا کے بعد محکمہ صحت نے خیبرپختونخوا کے 14 اضلاع کی 135 یونین کونسلوں کو حساس قرار دیتے ہوئے 6 روزہ انسداد خسرہ مہم شروع کر دی ہے۔ اس مہم کے دوران 6 ماہ سے 5 سال تک کی عمر کے 8 لاکھ 96 ہزار سے زائد بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوائے جائیں گے۔ ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اب تک صوبہ کے مختلف اضلاع میں خسرہ کے شک میں 4 ہزار 822 بچوں کی سکریننگ کی گئی ہے جن میں سے 2 ہزار 390 بچوں میں خسرہ کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ مجموعی طور پر 22 بچوں کا انتقال ہوا ہے جن میں سے 13 بچے خسرہ کی بیماری کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔
خسرہ کے وبا نے دو سال سے پانچ سال کے عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے جس پر محکمہ صحت نے ہنگامی بنیادوں پر 14 اضلاع کے 135 یونین کونسلوں میں گذشتہ روز سے انسداد خسرہ مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مہم 24 جون تک جاری رہے گی اس دوران ڈی آئی خان کے27 یونین کونسلز، چارسدہ کے 20 یونین کونسلز، شمالی وزیرستان کے 10 یونین کونسلز، باجوڑ کے 10 یونین کونسلز اور پشاور کے 18 یونین کونسلز میں مہم چلائی جائے گی۔ ہنگو کے 9، کوہاٹ کے 8 اور مردان کے 10 یونین کونسلز میں مہم چلائی جائے گی۔ ضلع کرک کے 6 یونین کونسلز اور دیر اپر، دیر لوئر اور ہری پور میں چار، چار یونین کونسلوں، نوشہرہ میں تین اور ٹانک میں 2 یونین کونسلوں میں انسداد خسرہ مہم چلائی جائے گی۔ مہم میں مجموعی طور پر 8 لاکھ 96 ہزار 35 بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوائے جائیں گے۔
Tag: کے پی کے

خیبر پختونخوا کے 14 اضلاع میں 6 روزہ انسداد خسرہ مہم کا آغاز

کے پی کے ضلع نوشہرہ میں چیتے کی ہلاکت
نوشہرہ کے علاقے مناہی کے پہاڑوں میں پہاڑی چیتے کو نامعلوم افراد نے ہلاک کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز مناہی کے پہاڑ میں یہ چیتا نمودار ہوا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ چیتے کو کسی نے ہلاک کردیا۔ چیتے کی پراسرار ہلاکت پر محکمہ وائلڈ لائف متحرک ہو گیا۔ ٹیم تحقیقات کے لئے مناہی کے علاقے میں پہنچ گئی۔ وائلڈ لائف کے ڈویژنل آفیسر عامر خان کا کہنا ہے کہ اس چیتے کو کامن لیپرڈ، جبکہ پشتو زبان میں پڑانگ کہا جاتا ہے اور یہ نایاب چیتا درہ آدم خیل کے پہاڑی سلسلہ میں موجود ہے اور انسان کے لئے بالکل بھی خطرناک نہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق چیتے کو کسی نے زہر دے کر ہلاک کیا ہے اور بعد میں لاش بھی چھپائی گئی لیکن اصل حقائق تحقیقات مکمل ہونے پر سامنے آئیں گے۔

خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ نے صحت کارڈ کی فی کس اخراجات کی ادائیگی خود کرنے کا فیصلہ
خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ نے صحت کارڈ کیلئے فی کس اخراجات کی مد میں اپنی ادائیگی خود کرنے کا فیصلہ کرلیا ،صوبے میں صاحب استطاعت افراد سے اپنے اخراجات خود جمع کرانے درخواست کی گئی ہے تاکہ صحت کارڈ پروگرام جاری رہ سکے۔ بی آر ٹی کیلئے بھی رواں برس کی طرز پر سبسڈی منظور کرلی گئی ہے ۔
نگران وزیر اطلاعات بیرسٹر فیروز جمال کاکا خیل نے میڈیا کو بتایا کہ بی آر ٹی کو رواں برس ساڑھے تین ارب روپے سبسڈی دی تھی وہی سبسڈی رواں برس بھی ہوگی اور پہلے چار ماہ کیلئے ایک ارب روپے منظور کرلئے گئے ہیں اسی طرح صحت کارڈ کیلئے بھی وہی سبسڈی جاری رکھی گئی ہے، کابینہ صحت کارڈ میں اپنا حصہ ڈالے گی صحت کارڈ کیلئے فی کس 2ہزار 850روپے ہے جو کابینہ جمع کرے گی۔
کوئی بھی شہری صحت کارڈ میں حصہ ڈالنا چاہے تو ہم رضاکارانہ طور پر وصول کرینگے، جو طبقہ استطاعت رکھتا ہے وہ صحت کارڈ میں ادائیگی کر دے تاکہ صوبائی حکومت پر بوجھ نہ پڑے اور منصوبہ بھی جاری رہے ۔
شوگر کے ادویات میں کئی گنا زیادہ اضافہ،عوام پریشان
خیبر پختونخوا میں شوگر کے مریضوں کے علاج کیلئے انسولین اور بعض ادویات کی قیمتوں میں حالیہ مہینوں کے دوران کئی گنا تک اضافہ کردیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے صوبے میں لاکھوں افراد پر اضافی مالی بوجھ پڑا ہے۔ واضح رہے کہ ملکی اور غیر ملکی ادویہ ساز کمپنیوں کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے شوگر کے مریضوں کیلئے انسولین اور دوسری ضروری ادویات کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ میڈیسن ڈیلرز کے مطابق صوبہ میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شوگر میں مبتلا اور ان میں سے بیشتر ہر روز دو سے تین مرتبہ انسولین لے رہے ہیں۔
نمک منڈی سے صوبہ بھر کی ادویہ مارکیٹ کو ادویات بھیجی جاتی ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران قیمتیں بڑھ جانے کی وجہ سے انسولین اور شوگر کے ادویات کی رسد میں کمی اور اس کے استعمال کرنیوالے مریضوں کیلئے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ مارکیٹ سروے کے مطابق انسولین اور شوگر کے علاج سے جڑی دوسری ادویات کی قیمتوں میں سابق نرخ کے مقابلے کئی گنا کا اضافہ حالیہ دنوں کے دوران ہوا ہے۔
صوبائی ڈرگ اینڈ فارمیسی ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع نے اس حوالے سے بتایا کہ ڈریپ یعنی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے احکامات پرمختلف اقسام کی ادویات میں اضافہ ہوا ہے جس میں شوگر کی ادویات اور انسولین بھی شامل ہیں۔ اس لئے مارکیٹ میں شوگر کی ادویات کے نرخ بڑھے ہیں تاہم صوبے میں کہیں پر بھی ذخیرہ اندوزی وغیرہ کی شکایات نہیں اور تمام اضلاع کی میڈیسن مارکیٹ میں کمپنی نرخ پر ادویات بیچی اور فروخت ہورہی ہیں۔
نو مئی کے واقعات میں تحقیقات کے لئے سابق رہنماوں کا موبائیل ڈیٹا طلب
نو مئی کو جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کی تحقیقات کے لئے سابق رہنماؤں کے موبائیل ڈیٹا کے تفصیلات طلب کئے گئے ہے،جس میں سابق گورنر شاہ فرمان،تیمور جھگڑا،اور کامران بنگش شامل ہے، خیبر پختونخوا کے سابق گورنر شاہ فرمان،صوبائی وزیر کامران بنگش اور سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور جھگڑا کے موبائیل ڈیٹا کے تفصیلات تیسری دفعہ چھان بین کے لئے بھجوا دیئے گئے ہے،مجموعی طور پر تحر یک انصاف کے گیارہ رہنماوں اور سابق صوبائی وزراء کے تفصیلات طلب کئے گئے ہے،تحقیقاتی ٹیم کے مطابق نو مئی کے واقعے کے بعد چالیس ارکان کے موبائیل بند ہے جس کے گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہے، نو مئی کے واقعات میں مطلوب پی ٹی آئی کے سابق وزراء کے نام بھی واچ لسٹ میں ڈال دئے گئے ہے،

خیبرپختونخوا میں 22 بچے خسرے سے جاں بحق
خیبرپختونخوا میں خسرہ کیسز میں اضافہ،رواں سال 22 بچے خسرے سے جاں بحق ہو گئے-
باغی ٹی وی: محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں رواں سال ڈیرہ اسماعیل خان میں خسرہ سے سب سے زیادہ 462 کیسز رپورٹ ہوئے اور 13 بچے جاں بحق ہوئے۔چارسدہ میں 317، پشاور میں 226، باجوڑ میں 166 اور مردان میں خسرہ کے 161 کیسز سامنے آئے جبکہ صوابی 136، نوشہرہ، لکی مروت، اور کرک میں 171 بچے متاثر ہوئے ذرائع محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں باقاعدہ ویکسینیشن نہ ہونے سے خسرہ وبائی شکل اختیار کرگیا ہے۔
قبل ازیں گزشتہ روز پنجاب کے محکمہ صحت نے بھی خسرہ کے کیسز کی تفصیلات بتائی تھیں، صوبائی محکمہ صحت نے کہا تھا کہ اپریل سے مئی کے دوران 2 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ لاہور میں 580 سے زائد بچے خسرہ میں مبتلا ہوئے جبکہ راولپنڈی سے 521، حافظ آباد 114، جھنگ 99، شیخوپورہ 72 کیسز رپورٹ ہوئےقصور56، سیالکوٹ 49، ٹوبہ ٹیک سنگھ 43، فیصل آباد سے 42 بچے خسرے سے متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خسرے سے متاثرہ صوبے کی 265 یونین کونسلز میں کیس رسپانس کیا جارہا ہے 265 متاثرہ یونین کونسلز میں چھ ماہ سے پانچ سال بچوں کی ویکسینیشن ہورہی ہے، خسرے سے بچاؤ کی اضافی ویکسین متاثرہ اضلاع میں بجھوائی جارہی ہیں-
امریکی وزیرخارجہ بلنکن کی چینی صدر سے ملاقات
خسرہ ایک ایسی انفیکشن ھے جو وائرس سے پیدا ہوتی ہے۔ِ سردیوں کے آخر میں یا بہار کے موسم میں ہوتی ہے۔ خسرہ کی بیماری کے ساتھ جب کوئی مریض کھانستا یا چھینک مارتا ہےتو نہایت چھوٹےآلودہ قطرے پھیل کر ارد گرد کی اشیاء پر گر جاتے ہیں۔ آپکا بچہ یا تو ڈائیرکٹ سانس کے ساتھ اندر لے لیتا ہے یا پھر آلودہ اشیاء کو ہاتھ لگا کراپنا ہاتھ ناک، منہ، اور کانون لگاتا ہے۔
چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں غیرمعمولی اضافہ
خسرہ کی علامات بخار کے ساتھ شروع ہوتی ھیں اور جو کہ دو دن تک رہتی ہیں۔ اس سے کھانسی ، ناک اور آنکھوں سے پانی بہتا ہے اور پھر بخار آ لیتا ہے۔ اس سے آنکھ مین انفیکشن ہوتی ہے جسے ‘ پنک آئی’ کہتے ہیں۔ سرخ دانے چہرے اور گردن کےاوپر نمودار ہوتے ہیں اور پھر جسم کے دوسرے حصوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ دانے بازوں، ہاتھوں، ٹانگوں،اور پیروں تک پھیل جاتے ہیں۔پانچ دن کے بعد جس طرح سرح دانے بڑھے تھے اسی طرح کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں-
خیبر پختونخوا کے مخصوص اضلاع میں پانچ روزہ خصوصی انسداد پولیو مہم آج سے شروع

خیبر پختونخوا کے مخصوص اضلاع میں پانچ روزہ خصوصی انسداد پولیو مہم آج سے شروع
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد 5 روزہ خصوصی پولیو مہم شروع کر دی گئی ہے،
خصوصی مہم صوبے کے سات اضلاع نوشہرہ، پشاور، مہمند، ہنگو، خیبر، کوہاٹ اور چارسدہ میں مکمل طور پر چلائی جائے گی جہاں پر پولیس ورکرز گھر گھر جا کے 22 لاکھ 12ہزارسے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلا ئے گے،پولیو حکام کے مطابق بونیر، چترال، دیر، ہری پور، مانسہرہ، مالاکنڈ، مردان اورصوابی کے افغان مہاجرین کیمپوں اور پاک افغان سرحد پر واقع مخصوص یونین کونسلوں میں 1 لاکھ 7 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاوٗ کے قطرے پلائے جائیں گے،حکام نے یہ بھی بتایا 5 روزہ مہم کیلئے 8441 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں موبائل،فکسڈ اور ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں، پولیو ورکرز کی سیکورٹی پر 14,926 پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں،جو پولیو ٹیمز کے ساتھ باقاعدہ طور پر گشت کر کے کسی بھی نا خوش گوار واقعے سے نمٹنے کے لئے تیار ہونگے،
کے پی کے انصاف وکلاء فورم کا اجلاس،9 مئی کے واقعات میں وکلاء کی نامزگی غیر قانونی قرار
باغی ٹی وی کے مطابق خیبر پختو نخوا انصاف وکلاء فورم کا اجلاس ہوا ہے اجلاس کی قیادت سینئر قانون دان قاضی محمد انور نے کی ،،انصاف لائرز فورم نے موقف اپنایا کہ پولیس نو مئی واقعات میں بے جا وکلاء کو نامزد کرہے ہیں، وکلا کو ان واقعات میں نامزد کرنا غیر قانونی ہے، باغی ٹی وی کے رپورٹ کے مطابق انصاف لائرز فورم نے بتایا کہ خیبر پختونخوا بار کونسل اور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سے مشاورت پر کمیٹی تشکیل دے دی, کمیٹی مشترکہ طور پر صوبے میں وکلاء کا اجلاس منعقد کرنے کے لیے ملاقاتیں کرے گی ۔ آئی ایل ایف کے پی نے مزید بتایا کہ اجلاسوں میں آئندہ لائحہ عمل طے کریں گے ۔ واضح رہے کہ 9 اور 10 مئی کے پر تشدد واقعات میں ملوث تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وکلاء کی گرفتاریاں جاری ہے جس پہ گزشتہ دنوں پشاور بار کونسل کی جانب سے ہڑتال بھی کیا گیا تھا،ہرتال کے بعد گرفتار وکیل کو عدالت میں پیش کے ضمانت پر رہا کیا گیا،تاہم وکلاء فورم کی جانب سے اس طرح کی کاروایئوں کا بند کرنے کے لئے اجلاس کیا گیا جس میں وکلاء کی گرفتایوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا،

پی ٹی ائی یوتھ ونگ کے صدر ایک بار پھر ضمانت پر رہا
باغی ٹی وی کے مطابق پشاور کے مقامی عدالت میں 9 اور 10 مئی واقعات میں نامزد ملزمان مینا خان آفریدی اور جلال مہمند کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد قاسم خان نے کی عدالت دونوں ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا پولیس کے مطابق ملزمان پر تھانا ھشتنگری کے حدود میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کا الزام تھا، باغی ٹی وی کے مطابق پی ٹی ائی یوتھ ونگ کے صدر مینا خان اور اسکے دوست جلال مہمند کو پانچویں دفعہ عدالت سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے،9 اور 10 مئ کے پر تشدد واقعات میں مینا خان اور اسکے دوست پر مختلف تھانوں میں مقدمات درج کئے گئے تھے،

ممبر قومی اسمبلی پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر ایک بار پھر گر فتار
جنوبی وزیرستان سے ممبرقومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایم) کے رہنما علی وزیر کو ایک دفعہ پھر شمالی وزیرستان میں گرفتار کیا گیا ہے. علی وزیر میرانشاہ سے رزمک جارہے تھے کہ انھیں ڈمڈیل چیک پوسٹ پر گرفتار کیا گیا سرکاری زرائع کے مطابق علی وزیر،منظورپشتین اور عبدالصمد سمیت پی ٹی ایم کے دیگر رہنماؤں کے خلاف شمالی وزیرستان پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے جبکہ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو علی وزیرکی گرفتاری کےلئے پہلے سے ہی متحرک کیاگیا تھا تاہم ابھی تک معلوم نہ ہوسکا کہ پولیس کی جانب سے ایف آئی آر میں کونسی دفعات درج ہیں اور کس الزام کےتحت ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا ہے۔دوسری جانب پی ٹی ایم نے منظور پشتین کی سربراہی میں میرانشاہ کینٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا شروع کرلیا ہے۔
اس سے قبل 14 جون کو بروز منگل پشاور ہائی کورٹ نے رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما علی وزیر کی 45 دن کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔جسٹس اعجاز انور اور جسٹس سید ایم عتیق شاہ پر مشتمل بنچ نے یہ حکم علی وزیر کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کیا تھا جس میں حکومت کو ان کے خلاف درج مقدمات کی تعداد سے آگاہ کرنے اور حفاظتی ضمانت دینے کی ہدایت کی درخواست کی گئی تھی۔علی وزیر کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ درخواست گزار کے خلاف کل 14 مقدمات درج ہیں جن میں سے اب تک وہ پانچ میں ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ دیگر مقدمات کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے موکل کو حفاظتی ضمانت حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں ان کے خلاف درج مقدمات کا سراغ لگایا جا سکے اور اس سلسلے میں متعلقہ عدالتوں سے رجوع کیا جا سکے۔انہوں نے دلیل دی کہ درخواست گزار قانون ساز اور قانون کی پاسداری کرنے والا شہری ہے اور باقاعدگی سے عدالتوں میں پیش ہوتا رہا ہے۔ ‘
انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار کو بھی 2 سال سے زائد عرصے تک جھوٹے الزامات میں سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا لیکن اس کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہو سکا۔واضح رہے کہ اس سے قبل علی وزیر کو 16 دسمبر 2020 کو پشاور سے مقامی پولیس نے سندھ پولیس کی درخواست پر کراچی کے سہراب گوٹھ تھانے میں ان کے اور پی ٹی ایم کے دیگر رہنماؤں کے خلاف درج ایف آئی آر کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔









