Baaghi TV

Tag: کے پی کے

  • خیبرپختونخوا حکومت کا  ڈی سی پر حملے کے ذمے داروں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

    خیبرپختونخوا حکومت کا ڈی سی پر حملے کے ذمے داروں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

    پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے ڈپٹی کمشنر کُرم پر حملے کے ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت کرم کی صورتحال پر رات گئے ہنگامی اجلاس ہوا جس میں چیف سیکرٹری، آئی جی خیبر پختونخوا اور دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس میں بگن واقعے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور بگن میں ڈپٹی کمشنر کُرم اور سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کا نوٹس لیا گیا۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ امن معاہدے کے بعد علاقہ مکین معاہدے کی خلاف ورزی کے ذمہ دار ہیں، فائرنگ کے واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف ایف آئی آردرج کرکے فوری گرفتار کیا جائے گااجلاس میں دہشتگردوں کا پوری قوت سے قلع قمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیاکہ کسی دہشت گرد سے نہ رعایت کی جائے گی نہ اُن کی معاونت کرنے والوں کو چھوڑا جائے گا۔

    قبل ازیں وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کرم کے علاقے بگن میں سرکاری گاڑی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور علاقے میں مکمل امن کی بحالی کے عزم کا اظہار کیا ، علی امین گنڈا پور نے کرم امن معاہدے کے بعد اس طرح کے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ کرم میں امن کے لئے حکومتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ اور مذموم لیکن ناکام کوشش ہے اور یہ ان عناصر کی کارستانی ہے جو کرم میں امن کی بحالی نہیں چاہتے لیکن صوبائی حکومت کرم میں امن کی بحالی اور عوام کو درپیش مشکلات کو حل کرنے کے لئے پر عزم ہے۔

    علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کرم کے لوگ پرامن ہیں اور وہ علاقے میں امن چاہتے ہیں، کچھ شرپسند عناصر کرم میں امن کی بحالی نہیں چاہتے اور ان عناصر کی کوشیں کامیاب نہیں ہوں گی، صوبائی حکومت اور علاقے کے لوگ مل کر ایسے شرپسند عناصر کی مذموم کوششوں کو ناکام بنائیں گے، علاقے کے لوگوں ان عناصر کی نشاندہی اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں، اس افسوسناک واقعے سے کرم میں امن کی بحالی کے لئے حکومت اور علاقہ عمائدین کی کوششیں متاثر نہیں ہوں گی اور صوبائی حکومت علاقہ عمائدین کے تعاون سے علاقے میں مکمل امن کی بحالی تک کوششیں جاری رکھے گی۔

    واضح رہے کہ آج صبح لوئر کرم کے علاقے بگن میں نامعلوم شرپسندوں کی فائرنگ سے ڈی سی کرم سمیت سات افراد زخمی ہوگئے، کرم کیلئے تین ماہ بعد کھانے پینے کا سامان لے جانے والا قافلہ روک دیا گیا،حکومت کو موصول ابتدائی رپورٹ کے مطابق مذاکراتی عمل کے دوران شرپسندوں نے ڈی سی اور سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کی، بیرسٹر سیف نے کہا کرم امن معاہدہ برقرار ہے، مقامی لوگوں کے ملوث ہونے پر حتمی طور پر ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا-

  • اس وقت پی ٹی آئی کی ساری قیادت خیبر پختونخوا میں بیٹھی ہوئی ہے، فیصل کریم کنڈی

    اس وقت پی ٹی آئی کی ساری قیادت خیبر پختونخوا میں بیٹھی ہوئی ہے، فیصل کریم کنڈی

    پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں قتل و غارت ہو رہی ہے یہ ہر ہفتہ دس دن بعد سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے مرکز پرچڑھائی کردیتے ہیں،لیکن صوبائی حکومت کے پاس ضلع کرم کی عوام کے لیے وقت نہیں۔

    باغی ٹی وی : فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے ہم نے کوہاٹ میں جرگہ ارکان سے ملاقات کی، صوبائی کابینہ میں کبھی امن وامان کی صورت حال پربات نہیں ہوئی، وہ سیاسی جماعتیں جو وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کے لیے تیارنہیں وہ بھی ہمارے ساتھ رہیں کل گورنر ہاؤ س کی تاریخ میں پہلی آل پارٹیز کانفرنس ہونے جا رہی ہے کرم کے مسئلے پر سیاسی قائدین کا شکر گزار ہوں جو میرے ساتھ گئے۔

    ورنر پختونخوا نے مزید کہا پی ٹی آئی نے اپنے بڑے نظریاتی رہنماؤں کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں پناہ دے رکھی ہے ہم نے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک، انجنیئر شوکت اللہ سابق گورنرکوبھی دعوت دی ہے 16 جماعتوں نے اے پی سی میں شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے، پارلیمانی لیڈربھی شریک ہونگے، کوشش ہے کہ صوبہ کے تمام معاملات زیربحث لائیں اورمرکزوصوبہ کی توجہ دلائیں سیاسی اختیارات کوئی نہیں لے سکتا صوبائی حکومت لیتی رہے، وزیر اعلی کو اے پی سی میں آناچاہیے, ہم مرکزسے اختیارات لیں گے،ہم مرکز سے متعلقہ مسائل مرکزسے حل کرائیں گے،ہم اے پی سی میں جرگہ بنائیں گے جو وزیراعظم , صدراورکورکمانڈرسمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے ملیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو سیاست سکھا رہا ہوں اور امید ہے ہماری اے پی سی کے بعد وزیر اعلیٰ بھی اے پی سی بلائیں گے خیبر پختونخوا میں قتل و غارت ہو رہی ہے صوبہ جل رہا ہے اور صوبائی حکومت اسلام آباد پر چڑھائی کرتی ہے لیکن صوبائی حکومت کے پاس ضلع کرم کی عوام کے لیے وقت نہیں۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ صوبائی وسائل سے سیاسی کارکنوں کو شہدا اور زخمی پیکج دینے جا رہے ہیں جبکہ ان کے نظریاتی اراکین وزیر اعلیٰ ہاؤس میں چھپے بیٹھے ہیں صوبائی حکومت جامعات کی زمینیں بیچنا چاہتی ہے لیکن میں جب تک گورنر ہوں ایک یونیورسٹی کی زمین فروخت نہیں ہونے دوں گا۔

    انہوں نے کہا کہ گورنر راج کے حوالے سے ابھی تک مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا بندوقیں خریدوں گا اور وفاق پر حملہ کروں گا اتنے بڑے دعوے کرنے والی پارٹی صرف خیبرپختونخوا سے لوگ لا سکی تو کیا پی ٹی آئی خیبرپختونخوا تک محدود ہو کر رہ گئی ہے پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے کتنے قافلے آئے؟

    گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ یہ احتجاج میں لوگوں کو پیسے دے کر لاتے ہیں جبکہ اس وقت پی ٹی آئی کی ساری قیادت خیبر پختونخوا میں بیٹھی ہوئی ہے اور یہاں پر اسکائپ پر آ کر بھاشن دیتے ہیں مگر جلوس میں شامل نہیں ہوتے مجھے علی امین گنڈاپور کی فرسٹریشن اور غصے کا احساس ہے جبکہ وزیر اعلیٰ کا غصہ اور پریشانی اس لیے ہے کہ ڈیفیکٹو وزیراعلیٰ آ گئی ہیں جو کام اس نے پنجاب میں کیے وہی کام خیبرپختونخوا میں بھی کر رہی ہیں،پی ٹی آئی میں گڈ اوربیڈ کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے, احتجاج کانقصان عوام کوہوتاہے،بات چیت کے ذریعے پی ٹی آئی کومعاملات حل کرنے چاہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کودعوت نہیں دی ان پابندی ہے وہ سیاسی جماعت بنیں توضروردعوت دیں گے، کرم کے حوالے سے ہم نے تمام جماعتوں کو دعوت دے رکھی ہے، جو اختیارات حیات شیرپاؤکے پاس تھے وہ آج میرے پاس نہیں ہیں، یہاں تو شناختی کارڈ بھی چیک کرنے کے لیے تیاربیٹھے ہیں جو ہتھیاران لوگوں کے پاس ہیں وہ پولیس کے پاس بھی نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جو کارروائیاں پنجاب میں کی گئیں وہ خیبرپختونخوا میں بھی کی جا رہی ہیں یقینی طور پر ان کی آپس میں لڑائیاں ہو رہی ہیں اور چور چوری کے وقت اکٹھے ہوتے ہیں مگر مال کی تقسیم میں لڑائی ہوتی ہے وزیر اعلیٰ کہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کو ساتھ لیے بغیر نہیں جاؤں گا لیکن شاید وزیراعلیٰ نے بشریٰ بی بی کو بانی سمجھ لیا ہے کیوں کہ وہ انہیں لائے حسب عادت لائٹیں بند کر کے بھاگ گئے اور غریب عوام وہاں رہے جبکہ ان کا کبھی احتجاج میں کوئی لیڈر گرفتار نہیں ہوتا صرف کارکنان مار کھاتے ہیں۔

  • علی امین گنڈا پور وکٹ کی دونوں طرف کھیلتے ہیں،فیصل کریم کنڈی

    علی امین گنڈا پور وکٹ کی دونوں طرف کھیلتے ہیں،فیصل کریم کنڈی

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج لگا تو میں پی ٹی آئی سے نمٹ لوں گا-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج سے متعلق کسی بات کا علم نہیں، ٹی وی سے پتا چلا کہ کابینہ اجلاس میں گورنر راج کی بات ہوئی، پیپلزپارٹی کو بھی گورنر راج کے بارے میں علم نہیں ہے، میں نے گورنر راج کی دھمکی نہیں دی بلکہ صرف کہا آپشن موجود ہے تاہم گورنر راج کی آئین میں گنجائش موجود ہے۔

    گورنر خیبرپختونخو ا نے کہا کہ وزیراعلیٰ وفاق پر حملہ آور ہونے کی بات کرتا ہے، احتجاج میں مظاہرین کے پاس جو اسلحہ تھا وہ عام بازار سے نہیں خریدا جاسکتا، صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر لوگ جنازے اٹھا رہے ہیں، گزشتہ روز کوہاٹ میں کرم کی صورتحال پر جرگے کے لئے گیا، کوشش ہے کہ صوبے میں امن وامان قائم ہو، ابھی گورنر راج تو نہیں لگ رہا لیکن اگر لگا تو میں ان کے ساتھ نمٹ لوں گا۔

    عمران خان سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے جواب دیا کہ بانی پی ٹی آئی دھرنوں سے نہیں عدالتوں کے ذریعے ہی باہر آسکتے ہیں، علی امین گنڈا پور وکٹ کی دونوں طرف کھیلتے ہیں، وہ دھرنے کی بات کرتے ہیں اور پھر دامن کوہ کے راستے فرار ہوجاتے ہیں، احتجاج میں وزیراعلیٰ کے ساتھ سادہ لباس میں پولیس کے اہلکار موجود تھے،سہولتکاروں کے ساتھ میچ سنگجانی تک فکس تھا مگر ڈی چوک پہنچ گیا۔

    فیصل کریم کنڈی نے مشورہ دیا کہ حکومتی وزراکو غیرذمہ دارانہ بیانات نہیں دینے چاہئیں، وفاق کو ملک بند نہیں کرنا چاہئے بلکہ بات کرنی چاہئے، حکومت انٹرنیٹ، موبائل فون سروس اور راستے بند کرکے مشکلات پیدا کرتی ہے، پی ٹی آئی والوں کو آنے دیتے اور احتجاج کرنے دیتے۔

  • صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے ،گورنر خیبر پختونخوا

    صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے ،گورنر خیبر پختونخوا

    پشاور:گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے۔

    باغی ٹی وی: پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کل مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سےجرگہ لے کر کوہاٹ جا رہے ہیں، اس سےقبل بھی وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو کوہاٹ جانے کی دعوت دی، وزیر اعلیٰ آج کوہاٹ گئے، اچھی با ت ہے، زیادہ اچھا ہوتا اگر وزیر اعلیٰ دیگر سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر جاتے، کے پی کو امن اور ترقی چاہیے-

    انہوں نےکہا کہ ہمارے صوبے کے پیسے اور ملازمین جلوس میں استعمال ہوتے ہیں، صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے امن پر سیاست نہیں ہو نی چاہیے، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ اسلام آباد جاکر آگ لگا دیں، ڈی آئی خان میں عصر کے بعد باہر نہیں جا سکتے، امن کے معاملے پر ایک ہونا چاہیے۔

    گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ لیڈر آگ لگانے سے نہیں، عدالت کے ذریعے آزاد ہوگا، ڈی چوک دھرنا اور جلوس کسی کو جیل سے رہا نہیں کرے گا، کل وزیر اعلیٰ کا اسمبلی خطاب سیاسی شخص کا خطاب نہیں تھا، صوبے میں امن و امان کی صورتحال کی ذمہ داری آپ پر ہے، کیا آپ نے امن و امان کیلئے اے پی سی بلائی؟پی ٹی آئی جلوس میں صرف ورکرز گرفتار ہوجاتے ہیں۔

  • خیبرپختونخوا اور آزادکشمیر  میں  زلزلے کے جھٹکے

    خیبرپختونخوا اور آزادکشمیر میں زلزلے کے جھٹکے

    پشاور: خیبرپختونخوا اور آزادکشمیر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : خیبرپختونخوا کے علاقوں پشاور،شمالی وزیرستان، چترال، سوات،شانگلہ، چارسدہ، بٹگرام، مانسہرہ، تورغراور مالاکنڈکے علاقے میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے پر لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیااور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 5.2ریکارڈ کی گئی،زلزلے کی گہرائی 212کلومیٹر تھی،زلزلے کا مرکز پاک افغانستان تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔

  • کرم تصادم، فریقین نے 7 دن کے لئے سیز فائر پر اتفاق کر لیا

    کرم تصادم، فریقین نے 7 دن کے لئے سیز فائر پر اتفاق کر لیا

    خیبر پختنونخوا کے مشیراطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف کی سربراہی میں حکومتی جرگہ کرم سے واپس پشاور پہنچ گیا، جرگے نے گزشتہ روز اہل تشیع کے عمائدین سے ملاقات کی تھی۔

    میڈیا کو مشیراطلاعات بیرسٹرسیف نے بتایا کہ جرگے نے کرم میں اہل سنت کے مشران سے ملاقات کی ہے ، فریقین نے 7 دن کے لئے سیز فائر پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر حکومتی وفد ضلعی عمائدین کے ساتھ جرگہ کر رہا ہے، فریقین نے ایک دوسرے کے قیدی اور لاشیں واپس کرنے پر بھی مکمل اتفاق کیا ہے۔ڈاکٹر سیف نے کہا کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اہل تشیع رہنماؤں سے ملاقات میں مسائل کے حل کے لیے مثبت گفتگو ہوئی ہے ۔ہماری اولین ترجیح دونوں فریقین کے درمیان سیز فائر کروا کر پائیدار امن قائم کرنا ہے، وزیراعلیٰ کی واضح ہدایات ہیں کہ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کئے جائیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 45 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔دوسری طرف سرکاری ذرائع نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گاڑیوں پر حملوں کے بعد ہونے والی جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد کم از کم 28 ہو گئی۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے، مواصلاتی ذرائع منقطع ہیں اور اموات کے بارے میں تازہ معلومات موصول ہونے میں مشکلات ہیں۔سرکاری وفد کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر پر بھی فائرنگ کی گئی لیکن وہ ہفتے کو بحفاظت لینڈ کرنے میں کامیاب رہا۔جھڑپوں کے دوران مسلح گروہوں نے ان علاقوں پر حملہ کیا جہاں حریف لوگ آباد تھے، کئی گھروں کو خالی کرا لیا گیا ہے جب کہ بازار اور اسکول بند ہیں، عہدیداروں نے بتایا کہ متعدد پٹرول پمپس کو نذر آتش کردیا گیا۔واضح رہے کہ ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 43 اموات کے بعد جھڑپوں میں شدت آگئی، پولیس نے بتایا کہ کو بگن، مندوری اور اوچت کے مقام پر 200 مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی تھی جس سے 6 گاڑیاں نشانہ بنیں، فائرنگ کے واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت 45 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔پولیس نے بتایا تھا کہ ضلع کرم کی تحصیل لوئر کرم کے علاقے علیزئی اور بگن کے قبائل کے درمیان شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، اس کے علاوہ بالش خیل، خار کلی اور کنج علیزئی اور مقبل قبائل کے مابین بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    یو اے ای، مغوی اسرائیلی ربی کی لاش مل گئی

    پی ٹی آئی سیاسی سے زیادہ انتشاری جماعت بن گئی ہے، سعید غنی

  • مرکزی اور صوبائی حکومت کی لڑائی کی وجہ سے خیبرپختونخوا سینڈوچ بن گیا ہے،سراج الحق

    مرکزی اور صوبائی حکومت کی لڑائی کی وجہ سے خیبرپختونخوا سینڈوچ بن گیا ہے،سراج الحق

    پشاور: جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے خیبرپختونخوا(کے پی) اور وفاقی حکومت کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے بیان میں کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت کی لڑائی کی وجہ سے خیبرپختونخوا سینڈوچ بن گیا ہے اور کرم میں فرقہ واریت کے نام پر سینکڑوں لوگ شہید ہوگئے ہیں سڑکوں پر کانوائے کی موجودگی میں قتل عام ہوا، انتظامیہ کی موجودگی میں بستیاں جلائی گئیں، بچے اور خواتین بھی فسادات کی وجہ سے شہید ہوئے ہیں، فسادات کی وجہ سے خانہ جنگی کا مزید خدشہ ہے، حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو سیاسی جھگڑے ترک کرکے کرم جانا چاہیے تھا، اب تو بچہ بچہ کہہ رہا ہے کہ سب کچھ انتظامیہ خود کررہی ہے، کسی کو معلوم ہے کہ اس خانہ جنگی کے پیچھے کس کے مقاصد پورے ہورہے ہیں کیا انسانی خون اتنا سستا ہوگیا ہے کہ بے دریغ بہایا جا رہا ہے، ڈی آئی خان سے لے کر باجوڑ تک پورا علاقہ بدامنی کی لپیٹ میں ہے، اور مزید پھیلنے کا خدشہ ہے مگر صوبائی اور مرکزی حکومت آپس میں لڑ رہی ہیں،یہ لوگ مراعات اور مزے لیتے ہیں لیکن عوام کو تحفظ نہیں دے سکتے-

    انہوں نے کہا کہ جو عوام کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتے ان کو مرکز اور صوبے میں حکومت کا حق نہیں ہے، اتنے لوگ غزہ میں شہید نہیں ہورہے ہیں جتنے یہاں ہورہے ہیں،عوام حیران ہیں کہ کس سے بات کریں لہٰذا مرکزی اور صوبائی حکومت جھگڑے چھوڑ کر اس آگ کو بجھانے میں کردار ادا کریں،مسائل کا حل ہم مذاکرات سمجھتے ہیں اور اس وقت گرینڈ جرگہ بلانے کی ضرورت ہے، خطرہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ یہ آگ پورے صوبے اور ملک میں نہ پھیل جائے۔

  • سرکاری حکام غیر سیاسی رہ کرآئین کی حکمرانی کی ذمہ داریاں نبھائیں،چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا

    سرکاری حکام غیر سیاسی رہ کرآئین کی حکمرانی کی ذمہ داریاں نبھائیں،چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا

    پشاور: چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا (کے پی) ندیم اسلم چوہدری نے صوبائی انتظامیہ اور پولیس کو خط لکھا ہے-

    باغی ٹی وی: چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے آئی جی خیبرپختونخوا، صوبائی سیکرٹریز ، کمشنرز اور پولیس افسران کو خط لکھا ہے خط میں کہا گیا ہےکہ پولیس اور انتظامی افسران سیاسی قیادت کے صرف وہ احکامات مانیں، جو آئینی دائرے میں ہوں کسی سیاسی جماعت کے غیر قانونی احکامات پرتعاون کرنے کے نتائج ہوں گے، افسران کسی دباؤ یا لالچ میں سرکاری وسائل، اثاثوں، یا اختیارات کا غلط استعمال نہ کریں۔

    خط میں کہا گیا ہےکہ تمام افسران پیشہ وارانہ ضابطہ اخلاق کی پاپندی کریں، قانون کو بغیرکسی خوف، حمایت یا تعصب کے برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان کے لیے وژن ہماری رہنمائی کی روشنی ہے قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ غیر سیاسی، غیر جانبدار رہنا، ثابت قدمی سے قانون کی حکمرانی کے لیے پرعزم رہنا، عوامی اعتماد کے رکھوالوں کے طور پر ہم اس کے پابند ہیں۔

    چیف سیکرٹری نے انتباہ کیا ہےکہ سیاسی منظر نامے سے قطع نظر غیر جانبداری سے اپنے فرائض سرانجام دیں، ہمارا حلف آئین اور ریاست کے لیے ہے ،کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کے لیے نہیں، آپ کو کسی سے متاثر نہیں ہونا چاہیے، کسی بھی سیاسی جماعت یا فرد کے دباؤ میں نہیں آناچاہیے۔

    چیف سیکرٹری نے کہا ہےکہ آپ نے بے خوف ہوکر اپنی ساکھ، اپنے وقار کو برقرار رکھنا ہے سرکاری وسائل، اثاثوں، یا اختیار کا غلط استعمال کسی دباؤ یا لالچ میں نہ کریں سرکاری حکام غیر سیاسی رہ کرآئین کی حکمرانی کی ذمہ داریاں نبھائیں کوئی بھی سرکاری املاک، سامان اور اتھارٹی کے استعمال پر دباؤ قبول نہ کرے، کسی بھی سیاسی جماعت کی ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ سپورٹ نہ کی جائے، ایسے اقدامات سے بحیثیت پبلک سرونٹ ہمارا احترام بڑھےگا، احکامات نہ ماننے پر کار روائی کی جائے گی۔

  • کے پی کے عوام نے تین بار پی ٹی آئی کیلئے اپنا ووٹ قربان کیا، شیر افضل مروت

    کے پی کے عوام نے تین بار پی ٹی آئی کیلئے اپنا ووٹ قربان کیا، شیر افضل مروت

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کارکردگی کو دیکھا جاتا تو پی ٹی آئی کو ووٹ نہ ملتا-

    باغی ٹی وی: ایبٹ آباد کے علاقے بکوٹ میں پی ٹی آئی کے پروگرام میں تقریر کے دوران شیر افضل مروت اپنی ہی جماعت پر چڑھ دوڑے اور خیبرپختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ،کے پی کے عوام نے تین بار پارٹی کیلئے اپنا ووٹ قربان کیا، اگرکارکردگی دیکھی جاتی تو پارٹی کو ووٹ نہ ملتا، پسماندگی کو ترقی اور دھوکے کو حقیقت نہیں کہہ سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ غلط فیصلوں پر ڈٹے رہنا بے وقوفوں اور جاہلوں کی نشانی ہے،پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اپنی زبان پر کنٹرول نہ ہونے کی بیماری کی وجہ سے پارٹی کے اندر بھی مار پڑتی ہے-

    شیر افصل خان مروت نے بانڈیاں نمل کرکٹ ٹورنامنٹ میں بھی بطورِ مہمان خصوصی شرکت کی جہاں ان کا بھرپور استقبال کیا گیا۔

  • خیبرپختونخوا کا حکومت کا فوکس صرف جلسے جلوسوں پر ہے،فیصل کریم کنڈی

    خیبرپختونخوا کا حکومت کا فوکس صرف جلسے جلوسوں پر ہے،فیصل کریم کنڈی

    ڈی آئی خان: خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کے پی کا گھمبیر مسئلہ لا اینڈ آڈر ہے اور صوبائی حکومت امن وامان کے حوالے سے مکمل ناکام ہے-

    باغی ٹی وی: ڈیرہ اسماعیل خان کے پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ حکومت کا فوکس صرف جلسے جلوسوں پر ہے اور ان کا خیال ہے کہ ایسے عمل سے ان کا بانی رہنما رہا ہو جائے گا، جلسے جلوسوں سے کوئی قیدی رہا نہیں ہوتے-

    انہوں نے کہا کہ کے پی کی عوام اور ان کے وسائل احتجاج و جلسوں میں استعمال ہورہے ہیں، صوبائی حکومت کے ماتحت اداروں میں تنخوا ہیں نہیں دی جا ر ہیں، کے پی میں روز فوجی جوانوں کےجنازے اٹھا رہے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ فوج صوبے سے نکل جا ئے،وزیراعلی سے غیر رسمی ملاقات ہوئی تھی، انتظامیہ لا اینڈ کا نفاذ میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، پاراچنار میں ایک ماہ سے روڈ بند ہیں اور حکومت مسئلے کے حل کیلئے کوئی اقدامات نہیں کررہی۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پولیس پر مکمل اعتماد ہے لیکن جو سہولت فوج کے پاس ہے وہ پولیس کے پاس نہیں، دلیل اور دلائل سے وفاق سے پیسے لیں، بدمعاشی سے صوبے کو کچھ نہیں ملنے والا، ڈی آئی خان میں جلد بلاول بھٹو لفٹ کینال کا افتتاح کریں گے جس سے سبز انقلاب آئے گا، کوشش ہے دہشت گردی کا مقابلہ منصوبہ بندی کے ساتھ کریں۔