Baaghi TV

Tag: کے پی کے

  • خیبرپختونخوا میں31 جنوری تک سی این جی اسٹیشنز بند کرنے کا فیصلہ

    خیبرپختونخوا میں31 جنوری تک سی این جی اسٹیشنز بند کرنے کا فیصلہ

    پشاور: خیبرپختونخوا میں 11 دن کیلئے سی این جی اسٹیشن بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا نے صوبے سی این جی اسٹیشنز کی بندش کے حوالے سے اعلامیہ جاری کردیامحکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صوبے بھر میں کل سے 31 جنوری تک سی این جی اسٹیشنز بند رہیں گے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گھریلو صارفین کو سوئی گیس کے پریشر کی کمی کا سامنا ہے، اس لئے سی این جی اسٹیشن کی بندش کا فیصلہ شدید سرد موسم کے باعث گھریلو صارفین کو مشکلات کے پیش نظر کیا گیا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب کی سڑکوں اور تمام مراکز صحت کی تعمیر و بحالی کا الٹی میٹم

    اس سے قبل بھی 16 جنوری کو پشاور میں سوئی گیس پریشر میں کمی کے باعث دفعہ 144 کے تحت سی این جی اسٹیشنز کھولنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی 19 جنوری تک سی این جی اسٹیشن بند رہیں گے۔

    ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ گھریلو صارفین کو سوئی گیس پریشر میں کمی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، گھریلو صارفین کو سوئی گیس فراہمی کے لیے شہر میں سی این جی اسٹیشنز پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

    حماس یرغمالیوں کےنام جاری نہیں کر دیتی،غزہ میں جنگ بندی نہ کریں،اسرائیلی وزیراعظم کا فوج کو حکم

  • بے نظیر نشوونما پروگرام میں 79 کروڑ سے زائد کی سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف

    بے نظیر نشوونما پروگرام میں 79 کروڑ سے زائد کی سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف

    پشاور: خیبرپختونخوا میں بے نظیر نشوونما پروگرام میں 79 کروڑ سے زائد کی سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : سرکاری دستاویز ات میں بے نظیر نشوونما پروگرام پروجیکٹ پر کام کرنے والے عملے کی تنخواہوں میں بے ضابطگی کی نشاندہی ہوئی ہے کارکنوں اور عملے کو تنخواہوں میں کٹوتیوں کی ادائیگی کی رسیدیں فراہم نہیں کی گئیں مگر اس کے باوجود محکمے نے ان ادائیگیوں کی پوری قیمت ورلڈ فوڈ پروگرام اور بے نظیر نشوونما پروگرام دونوں سے وصول کیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ بے ضابطگیاں تقریباً 79 کروڑ 99 لاکھ روپے بنتی ہیں، ورلڈ فوڈ پروگرام سے کے پی حکومت کو منتقل ہونے والے 66 کروڑ 40 لاکھ روپے بے نظیر نشوونما پروگرام فنڈز کا 30 فیصد ہے جبکہ پروگرام میں کام کرنے والے 11 گھوسٹ ملازمین کی موجودگی کا بھی انکشاف بھی ہوا ہے۔

    شادی سے چند دن قبل باپ نے بیٹی کو پولیس کے سامنے گولی مار دی

    ورلڈ فوڈ پروگرام نے صوبے میں پروگرام کو روکتے ہوئے آڈٹ کی درخواست کردی جبکہ بہتر احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پروگرام کا انتظام کے پی حکومت سے لے کر این جی اوز کے حوالے کرنے کا بھی فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نےاس حوالے سے ک کہا کہ خیبرپختونخوا میں بینظیر نشونما پروگرام میں بڑے پیمانے پر مالی غبن اور گھوسٹ ملازمین کا انکشاف ہوا ہے ورلڈ فوڈ پروگرام نے اس پروگرام پر خیبرپختونخواہ میں کام روک دیا ہے،ورلڈ فوڈ پروگرام نے مالی بے ضابطگیوں، گھوسٹ ملازمین کے معاملے پر صوبائی حکومت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

    چیمپئنز ٹرافی:اکستان میں ہونے والے میچز کے ٹکٹوں کی قیمتیں فائنل

    صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سرکاری دستاویزات میں صرف تنخواہوں میں 799 ملین کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ظالموں نے ماں اور بچے کی صحت پر خرچ ہونے والے فنڈز کو بھی نہیں بخشا کرپشن کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کرنے والے علی امین گنڈاپور کی ناک کے نیچے سے 799 ملین غائب ہوگئے اس سے قبل بھی مساجد کے آئمہ کرام کے نام پر 70 کروڑ کے فنڈز غائب کیے گئے تھے۔

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ تمام پیسے سوشل میڈیا پر پاکستان اور اداروں کے خلاف مہم چلانے والے برگیڈ سیل کو دیئے جاتے ہیں، خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ ہر ہفتے وفاق کو فنڈز کی فراہمی کے لئے خط لکھتے ہیں،وفاق کے دیئے گئے فنڈز پشتونوں کی بجائے فوج مخالف پروپیگنڈے کرنے والوں کو بانٹے جارہے ہیں۔

    لاس اینجلس جنگلات میں آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری

  • سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 19 خارجی دہشت گرد جہنم واصل،تین جوان شہید

    سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 19 خارجی دہشت گرد جہنم واصل،تین جوان شہید

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسسز نے کے پی کے میں 3 محتلف علاقوں میں کارروائیوں میں 19 خارجی دہشت گرد جہنم واصل کر دیئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق 6 اور 7 جنوری کو فورسز نے خیبرپختونخوا میں خارجی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔سیکیورٹی فورسز نے پشاور کے علاقے متانی میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا، متنی میں ہونے والی کارروائی میں 8 خارجی دہشت گرد جہنم واصل ہوئے۔سیکیورٹی فورسز نے دوسرا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن مومند کے علاقے بائے زئی میں کیا، بازئی میں ہونے والی کارروائی میں بھی 8 خارجی دہشت گرد مارے گئے جبکہ تیسری کارروائی کرک کے علاقے میں کی گئی، کرک میں ہونے والی کارروائی میں 3 خارجی دہشت گرد ہلاک ہوئے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپوں میں دھرتی کے 3 بہادر سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا، شہداء میں لانس حوالدار عباس علی، نائیک محمد نذیر اور نائیک محمد عثمان شامل ہیں۔

    تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال،سندھ حکومت کا طلبہ کی میڈیکل اسکریننگ کا فیصلہ

    بہاولپور چڑیا گھر میں بنگال ٹائیگر بیمار پڑ گیا

    اسلام آباد میں مقیم 800 افغانی زیرحراست ہیں،افغان سفارتخانے کا دعویٰ

  • خیبرپختونخوا حکومت کا  ڈی سی پر حملے کے ذمے داروں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

    خیبرپختونخوا حکومت کا ڈی سی پر حملے کے ذمے داروں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

    پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے ڈپٹی کمشنر کُرم پر حملے کے ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت کرم کی صورتحال پر رات گئے ہنگامی اجلاس ہوا جس میں چیف سیکرٹری، آئی جی خیبر پختونخوا اور دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس میں بگن واقعے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور بگن میں ڈپٹی کمشنر کُرم اور سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کا نوٹس لیا گیا۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ امن معاہدے کے بعد علاقہ مکین معاہدے کی خلاف ورزی کے ذمہ دار ہیں، فائرنگ کے واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف ایف آئی آردرج کرکے فوری گرفتار کیا جائے گااجلاس میں دہشتگردوں کا پوری قوت سے قلع قمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیاکہ کسی دہشت گرد سے نہ رعایت کی جائے گی نہ اُن کی معاونت کرنے والوں کو چھوڑا جائے گا۔

    قبل ازیں وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کرم کے علاقے بگن میں سرکاری گاڑی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور علاقے میں مکمل امن کی بحالی کے عزم کا اظہار کیا ، علی امین گنڈا پور نے کرم امن معاہدے کے بعد اس طرح کے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ کرم میں امن کے لئے حکومتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ اور مذموم لیکن ناکام کوشش ہے اور یہ ان عناصر کی کارستانی ہے جو کرم میں امن کی بحالی نہیں چاہتے لیکن صوبائی حکومت کرم میں امن کی بحالی اور عوام کو درپیش مشکلات کو حل کرنے کے لئے پر عزم ہے۔

    علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کرم کے لوگ پرامن ہیں اور وہ علاقے میں امن چاہتے ہیں، کچھ شرپسند عناصر کرم میں امن کی بحالی نہیں چاہتے اور ان عناصر کی کوشیں کامیاب نہیں ہوں گی، صوبائی حکومت اور علاقے کے لوگ مل کر ایسے شرپسند عناصر کی مذموم کوششوں کو ناکام بنائیں گے، علاقے کے لوگوں ان عناصر کی نشاندہی اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں، اس افسوسناک واقعے سے کرم میں امن کی بحالی کے لئے حکومت اور علاقہ عمائدین کی کوششیں متاثر نہیں ہوں گی اور صوبائی حکومت علاقہ عمائدین کے تعاون سے علاقے میں مکمل امن کی بحالی تک کوششیں جاری رکھے گی۔

    واضح رہے کہ آج صبح لوئر کرم کے علاقے بگن میں نامعلوم شرپسندوں کی فائرنگ سے ڈی سی کرم سمیت سات افراد زخمی ہوگئے، کرم کیلئے تین ماہ بعد کھانے پینے کا سامان لے جانے والا قافلہ روک دیا گیا،حکومت کو موصول ابتدائی رپورٹ کے مطابق مذاکراتی عمل کے دوران شرپسندوں نے ڈی سی اور سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کی، بیرسٹر سیف نے کہا کرم امن معاہدہ برقرار ہے، مقامی لوگوں کے ملوث ہونے پر حتمی طور پر ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا-

  • اس وقت پی ٹی آئی کی ساری قیادت خیبر پختونخوا میں بیٹھی ہوئی ہے، فیصل کریم کنڈی

    اس وقت پی ٹی آئی کی ساری قیادت خیبر پختونخوا میں بیٹھی ہوئی ہے، فیصل کریم کنڈی

    پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں قتل و غارت ہو رہی ہے یہ ہر ہفتہ دس دن بعد سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے مرکز پرچڑھائی کردیتے ہیں،لیکن صوبائی حکومت کے پاس ضلع کرم کی عوام کے لیے وقت نہیں۔

    باغی ٹی وی : فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے ہم نے کوہاٹ میں جرگہ ارکان سے ملاقات کی، صوبائی کابینہ میں کبھی امن وامان کی صورت حال پربات نہیں ہوئی، وہ سیاسی جماعتیں جو وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کے لیے تیارنہیں وہ بھی ہمارے ساتھ رہیں کل گورنر ہاؤ س کی تاریخ میں پہلی آل پارٹیز کانفرنس ہونے جا رہی ہے کرم کے مسئلے پر سیاسی قائدین کا شکر گزار ہوں جو میرے ساتھ گئے۔

    ورنر پختونخوا نے مزید کہا پی ٹی آئی نے اپنے بڑے نظریاتی رہنماؤں کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں پناہ دے رکھی ہے ہم نے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک، انجنیئر شوکت اللہ سابق گورنرکوبھی دعوت دی ہے 16 جماعتوں نے اے پی سی میں شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے، پارلیمانی لیڈربھی شریک ہونگے، کوشش ہے کہ صوبہ کے تمام معاملات زیربحث لائیں اورمرکزوصوبہ کی توجہ دلائیں سیاسی اختیارات کوئی نہیں لے سکتا صوبائی حکومت لیتی رہے، وزیر اعلی کو اے پی سی میں آناچاہیے, ہم مرکزسے اختیارات لیں گے،ہم مرکز سے متعلقہ مسائل مرکزسے حل کرائیں گے،ہم اے پی سی میں جرگہ بنائیں گے جو وزیراعظم , صدراورکورکمانڈرسمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے ملیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو سیاست سکھا رہا ہوں اور امید ہے ہماری اے پی سی کے بعد وزیر اعلیٰ بھی اے پی سی بلائیں گے خیبر پختونخوا میں قتل و غارت ہو رہی ہے صوبہ جل رہا ہے اور صوبائی حکومت اسلام آباد پر چڑھائی کرتی ہے لیکن صوبائی حکومت کے پاس ضلع کرم کی عوام کے لیے وقت نہیں۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ صوبائی وسائل سے سیاسی کارکنوں کو شہدا اور زخمی پیکج دینے جا رہے ہیں جبکہ ان کے نظریاتی اراکین وزیر اعلیٰ ہاؤس میں چھپے بیٹھے ہیں صوبائی حکومت جامعات کی زمینیں بیچنا چاہتی ہے لیکن میں جب تک گورنر ہوں ایک یونیورسٹی کی زمین فروخت نہیں ہونے دوں گا۔

    انہوں نے کہا کہ گورنر راج کے حوالے سے ابھی تک مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا بندوقیں خریدوں گا اور وفاق پر حملہ کروں گا اتنے بڑے دعوے کرنے والی پارٹی صرف خیبرپختونخوا سے لوگ لا سکی تو کیا پی ٹی آئی خیبرپختونخوا تک محدود ہو کر رہ گئی ہے پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے کتنے قافلے آئے؟

    گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ یہ احتجاج میں لوگوں کو پیسے دے کر لاتے ہیں جبکہ اس وقت پی ٹی آئی کی ساری قیادت خیبر پختونخوا میں بیٹھی ہوئی ہے اور یہاں پر اسکائپ پر آ کر بھاشن دیتے ہیں مگر جلوس میں شامل نہیں ہوتے مجھے علی امین گنڈاپور کی فرسٹریشن اور غصے کا احساس ہے جبکہ وزیر اعلیٰ کا غصہ اور پریشانی اس لیے ہے کہ ڈیفیکٹو وزیراعلیٰ آ گئی ہیں جو کام اس نے پنجاب میں کیے وہی کام خیبرپختونخوا میں بھی کر رہی ہیں،پی ٹی آئی میں گڈ اوربیڈ کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے, احتجاج کانقصان عوام کوہوتاہے،بات چیت کے ذریعے پی ٹی آئی کومعاملات حل کرنے چاہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کودعوت نہیں دی ان پابندی ہے وہ سیاسی جماعت بنیں توضروردعوت دیں گے، کرم کے حوالے سے ہم نے تمام جماعتوں کو دعوت دے رکھی ہے، جو اختیارات حیات شیرپاؤکے پاس تھے وہ آج میرے پاس نہیں ہیں، یہاں تو شناختی کارڈ بھی چیک کرنے کے لیے تیاربیٹھے ہیں جو ہتھیاران لوگوں کے پاس ہیں وہ پولیس کے پاس بھی نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جو کارروائیاں پنجاب میں کی گئیں وہ خیبرپختونخوا میں بھی کی جا رہی ہیں یقینی طور پر ان کی آپس میں لڑائیاں ہو رہی ہیں اور چور چوری کے وقت اکٹھے ہوتے ہیں مگر مال کی تقسیم میں لڑائی ہوتی ہے وزیر اعلیٰ کہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کو ساتھ لیے بغیر نہیں جاؤں گا لیکن شاید وزیراعلیٰ نے بشریٰ بی بی کو بانی سمجھ لیا ہے کیوں کہ وہ انہیں لائے حسب عادت لائٹیں بند کر کے بھاگ گئے اور غریب عوام وہاں رہے جبکہ ان کا کبھی احتجاج میں کوئی لیڈر گرفتار نہیں ہوتا صرف کارکنان مار کھاتے ہیں۔

  • علی امین گنڈا پور وکٹ کی دونوں طرف کھیلتے ہیں،فیصل کریم کنڈی

    علی امین گنڈا پور وکٹ کی دونوں طرف کھیلتے ہیں،فیصل کریم کنڈی

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج لگا تو میں پی ٹی آئی سے نمٹ لوں گا-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج سے متعلق کسی بات کا علم نہیں، ٹی وی سے پتا چلا کہ کابینہ اجلاس میں گورنر راج کی بات ہوئی، پیپلزپارٹی کو بھی گورنر راج کے بارے میں علم نہیں ہے، میں نے گورنر راج کی دھمکی نہیں دی بلکہ صرف کہا آپشن موجود ہے تاہم گورنر راج کی آئین میں گنجائش موجود ہے۔

    گورنر خیبرپختونخو ا نے کہا کہ وزیراعلیٰ وفاق پر حملہ آور ہونے کی بات کرتا ہے، احتجاج میں مظاہرین کے پاس جو اسلحہ تھا وہ عام بازار سے نہیں خریدا جاسکتا، صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر لوگ جنازے اٹھا رہے ہیں، گزشتہ روز کوہاٹ میں کرم کی صورتحال پر جرگے کے لئے گیا، کوشش ہے کہ صوبے میں امن وامان قائم ہو، ابھی گورنر راج تو نہیں لگ رہا لیکن اگر لگا تو میں ان کے ساتھ نمٹ لوں گا۔

    عمران خان سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے جواب دیا کہ بانی پی ٹی آئی دھرنوں سے نہیں عدالتوں کے ذریعے ہی باہر آسکتے ہیں، علی امین گنڈا پور وکٹ کی دونوں طرف کھیلتے ہیں، وہ دھرنے کی بات کرتے ہیں اور پھر دامن کوہ کے راستے فرار ہوجاتے ہیں، احتجاج میں وزیراعلیٰ کے ساتھ سادہ لباس میں پولیس کے اہلکار موجود تھے،سہولتکاروں کے ساتھ میچ سنگجانی تک فکس تھا مگر ڈی چوک پہنچ گیا۔

    فیصل کریم کنڈی نے مشورہ دیا کہ حکومتی وزراکو غیرذمہ دارانہ بیانات نہیں دینے چاہئیں، وفاق کو ملک بند نہیں کرنا چاہئے بلکہ بات کرنی چاہئے، حکومت انٹرنیٹ، موبائل فون سروس اور راستے بند کرکے مشکلات پیدا کرتی ہے، پی ٹی آئی والوں کو آنے دیتے اور احتجاج کرنے دیتے۔

  • صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے ،گورنر خیبر پختونخوا

    صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے ،گورنر خیبر پختونخوا

    پشاور:گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے۔

    باغی ٹی وی: پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کل مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سےجرگہ لے کر کوہاٹ جا رہے ہیں، اس سےقبل بھی وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو کوہاٹ جانے کی دعوت دی، وزیر اعلیٰ آج کوہاٹ گئے، اچھی با ت ہے، زیادہ اچھا ہوتا اگر وزیر اعلیٰ دیگر سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر جاتے، کے پی کو امن اور ترقی چاہیے-

    انہوں نےکہا کہ ہمارے صوبے کے پیسے اور ملازمین جلوس میں استعمال ہوتے ہیں، صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے امن پر سیاست نہیں ہو نی چاہیے، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ اسلام آباد جاکر آگ لگا دیں، ڈی آئی خان میں عصر کے بعد باہر نہیں جا سکتے، امن کے معاملے پر ایک ہونا چاہیے۔

    گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ لیڈر آگ لگانے سے نہیں، عدالت کے ذریعے آزاد ہوگا، ڈی چوک دھرنا اور جلوس کسی کو جیل سے رہا نہیں کرے گا، کل وزیر اعلیٰ کا اسمبلی خطاب سیاسی شخص کا خطاب نہیں تھا، صوبے میں امن و امان کی صورتحال کی ذمہ داری آپ پر ہے، کیا آپ نے امن و امان کیلئے اے پی سی بلائی؟پی ٹی آئی جلوس میں صرف ورکرز گرفتار ہوجاتے ہیں۔

  • خیبرپختونخوا اور آزادکشمیر  میں  زلزلے کے جھٹکے

    خیبرپختونخوا اور آزادکشمیر میں زلزلے کے جھٹکے

    پشاور: خیبرپختونخوا اور آزادکشمیر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : خیبرپختونخوا کے علاقوں پشاور،شمالی وزیرستان، چترال، سوات،شانگلہ، چارسدہ، بٹگرام، مانسہرہ، تورغراور مالاکنڈکے علاقے میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے پر لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیااور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 5.2ریکارڈ کی گئی،زلزلے کی گہرائی 212کلومیٹر تھی،زلزلے کا مرکز پاک افغانستان تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔

  • کرم تصادم، فریقین نے 7 دن کے لئے سیز فائر پر اتفاق کر لیا

    کرم تصادم، فریقین نے 7 دن کے لئے سیز فائر پر اتفاق کر لیا

    خیبر پختنونخوا کے مشیراطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف کی سربراہی میں حکومتی جرگہ کرم سے واپس پشاور پہنچ گیا، جرگے نے گزشتہ روز اہل تشیع کے عمائدین سے ملاقات کی تھی۔

    میڈیا کو مشیراطلاعات بیرسٹرسیف نے بتایا کہ جرگے نے کرم میں اہل سنت کے مشران سے ملاقات کی ہے ، فریقین نے 7 دن کے لئے سیز فائر پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر حکومتی وفد ضلعی عمائدین کے ساتھ جرگہ کر رہا ہے، فریقین نے ایک دوسرے کے قیدی اور لاشیں واپس کرنے پر بھی مکمل اتفاق کیا ہے۔ڈاکٹر سیف نے کہا کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اہل تشیع رہنماؤں سے ملاقات میں مسائل کے حل کے لیے مثبت گفتگو ہوئی ہے ۔ہماری اولین ترجیح دونوں فریقین کے درمیان سیز فائر کروا کر پائیدار امن قائم کرنا ہے، وزیراعلیٰ کی واضح ہدایات ہیں کہ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کئے جائیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 45 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔دوسری طرف سرکاری ذرائع نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گاڑیوں پر حملوں کے بعد ہونے والی جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد کم از کم 28 ہو گئی۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے، مواصلاتی ذرائع منقطع ہیں اور اموات کے بارے میں تازہ معلومات موصول ہونے میں مشکلات ہیں۔سرکاری وفد کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر پر بھی فائرنگ کی گئی لیکن وہ ہفتے کو بحفاظت لینڈ کرنے میں کامیاب رہا۔جھڑپوں کے دوران مسلح گروہوں نے ان علاقوں پر حملہ کیا جہاں حریف لوگ آباد تھے، کئی گھروں کو خالی کرا لیا گیا ہے جب کہ بازار اور اسکول بند ہیں، عہدیداروں نے بتایا کہ متعدد پٹرول پمپس کو نذر آتش کردیا گیا۔واضح رہے کہ ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 43 اموات کے بعد جھڑپوں میں شدت آگئی، پولیس نے بتایا کہ کو بگن، مندوری اور اوچت کے مقام پر 200 مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی تھی جس سے 6 گاڑیاں نشانہ بنیں، فائرنگ کے واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت 45 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔پولیس نے بتایا تھا کہ ضلع کرم کی تحصیل لوئر کرم کے علاقے علیزئی اور بگن کے قبائل کے درمیان شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، اس کے علاوہ بالش خیل، خار کلی اور کنج علیزئی اور مقبل قبائل کے مابین بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    یو اے ای، مغوی اسرائیلی ربی کی لاش مل گئی

    پی ٹی آئی سیاسی سے زیادہ انتشاری جماعت بن گئی ہے، سعید غنی

  • مرکزی اور صوبائی حکومت کی لڑائی کی وجہ سے خیبرپختونخوا سینڈوچ بن گیا ہے،سراج الحق

    مرکزی اور صوبائی حکومت کی لڑائی کی وجہ سے خیبرپختونخوا سینڈوچ بن گیا ہے،سراج الحق

    پشاور: جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے خیبرپختونخوا(کے پی) اور وفاقی حکومت کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے بیان میں کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت کی لڑائی کی وجہ سے خیبرپختونخوا سینڈوچ بن گیا ہے اور کرم میں فرقہ واریت کے نام پر سینکڑوں لوگ شہید ہوگئے ہیں سڑکوں پر کانوائے کی موجودگی میں قتل عام ہوا، انتظامیہ کی موجودگی میں بستیاں جلائی گئیں، بچے اور خواتین بھی فسادات کی وجہ سے شہید ہوئے ہیں، فسادات کی وجہ سے خانہ جنگی کا مزید خدشہ ہے، حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو سیاسی جھگڑے ترک کرکے کرم جانا چاہیے تھا، اب تو بچہ بچہ کہہ رہا ہے کہ سب کچھ انتظامیہ خود کررہی ہے، کسی کو معلوم ہے کہ اس خانہ جنگی کے پیچھے کس کے مقاصد پورے ہورہے ہیں کیا انسانی خون اتنا سستا ہوگیا ہے کہ بے دریغ بہایا جا رہا ہے، ڈی آئی خان سے لے کر باجوڑ تک پورا علاقہ بدامنی کی لپیٹ میں ہے، اور مزید پھیلنے کا خدشہ ہے مگر صوبائی اور مرکزی حکومت آپس میں لڑ رہی ہیں،یہ لوگ مراعات اور مزے لیتے ہیں لیکن عوام کو تحفظ نہیں دے سکتے-

    انہوں نے کہا کہ جو عوام کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتے ان کو مرکز اور صوبے میں حکومت کا حق نہیں ہے، اتنے لوگ غزہ میں شہید نہیں ہورہے ہیں جتنے یہاں ہورہے ہیں،عوام حیران ہیں کہ کس سے بات کریں لہٰذا مرکزی اور صوبائی حکومت جھگڑے چھوڑ کر اس آگ کو بجھانے میں کردار ادا کریں،مسائل کا حل ہم مذاکرات سمجھتے ہیں اور اس وقت گرینڈ جرگہ بلانے کی ضرورت ہے، خطرہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ یہ آگ پورے صوبے اور ملک میں نہ پھیل جائے۔