Baaghi TV

Tag: گورنر پنجاب

  • دنیا عمران خان کے یوٹرنز پر کیسے یقین کرے گی؟ گورنر پنجاب

    دنیا عمران خان کے یوٹرنز پر کیسے یقین کرے گی؟ گورنر پنجاب

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے بیٹ رپورٹرز سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے آئے ہوئے آٹھ نو ماہ ہوچکے ہیں آج سوشل میڈیا کا دور ہے چیزیں تیزی سے سامنے آجاتی ہیں بہت سے لوگ کہتے ہیں گورنر پنجاب کے پاس مختلف پاورز ہونی چاہیے مجھ سے جب بھی کوئی بات کرتا ہے کہ تو میں کہتا ہوں جو کام میں کررہا ہوں ٹھیک ہے پچھلے گورنر مزید اختیارات بھی چاہتے تھے میں نے اختیارات نہیں مانگے ہمارے پاس پنجاب اسمبلی کے بلز آتے ہیں میں بلز کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہوں

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بل کو میں سمجھتا ہوں کہ ٹھیک نہیں تو میں نے اس پر انکار بھی کیا تحریک انصاف کی حکومت نے برسوں سے چلتا طریقہ کار کو بدل دیا تھا تحریک انصاف کی حکومت کے دوران نہ صرف ہمارے ملک کو معاشی ، معاشرتی نقصان پہنچے ہیں وہی ملک اناڑیوں کے ہاتھوں میں آگیا تھا بل پنجاب اسمبلی سے ڈائریکٹ گورنر ہاؤس آتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کچھ یونیورسٹیز کے بل اور ذاتی معاملات تھے میں نے پرویز الہی سے بھی کہا کہ طریقہ کار جو بنتا ہے وہ اختیار کریں لیکن انھوں نے نہیں سنا ہم اللہ اور عوام کو جوابدہ ہیں اگر پنجاب گورنمنٹ کی معاونت حاصل ہوتی تو اچھے طریقے سے چلتے لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے سسٹم کو چلنے نہیں دیا ایک قانون ایسا آیا کہ انگریزی کی بے تحاشا غلطیاں تھی گورنر کے قانون کو تبدیل کرتے تھے اور آگے سے اس پر بغلیں بجاتے تھے لوکل گورنمنٹ بل پر میرے بھرپور تحفظات تھے سیکرٹری اسمبلی کو بلا کر پرنسپل سیکرٹری لگایا گیا اس پر بیوروکریسی کو بہت تحفظات تھے ایک قانون میں روڈا کا بورڈ بننا تھا ہم نے کہا کہ یہ قانون وزیر اعلی کو نہیں بنانا چاہیے بلکہ کابینہ سے منظور کروایا جائے

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو بھی چاہیے تھا عوام کے سامنے صورتحال لے کر آتی لیکن ایسا بھی نہ ہوسکا پورا دنیا میں وزیر اعظم یا وزیر اعلی آفس کے درمیان فائر فائیٹنگ چلتی رہتی ہے گورنر پنجاب اس کے درمیان چیک اینڈ بیلنس کا کردار ادا کرتا رہتا ہے پچھلے دنوں الیکشن کی تاریخ اور نگران وزیر اعلی کے حوالے سے نازک مرحلہ آیا میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے آئین اور قانون کے مطابق چلو.پرویز الہی نے جب حلف لینا تھا ہم نے کہہ دیا کہ صدر پاکستان یہاں آکر ان سے حلف لے لیں صدر پاکستان نے گورنر ہاؤس لاہور آنا پسند نہیں کیا .پرویز الہی کو اسلام آباد جاکر حلف لینا پڑا .اسمبلی توڑنے کی بات آئی تو میں نے دیکھا آئین کے تحت مجھ پر لازم نہیں ہے کہ اسمبلی توڑوں یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ عمران خان جس عہدے پر رہے ہیں انھوں نے قانون کا مذاق بنایا ہے پہلے انھیں عدالت میں بلایا گیا وہ پیش نہیں ہوئے ،سلام پیش کرتا ہوں نواز شریف کو جنھوں نے قانون کے سامنے سر جھکایا پولیس جو قانونی فریضہ سرانجام دے رہی ہے ،اگر عدالت وارنٹ گرفتاری نکالے تو پولیس کا فرض ہے گرفتار کرکے پیش کرے عمران خان ایسا دکھا رہے ہیں جیسے وہ قانون سے بالاتر ہیں عمران خان دنیا کو کہتے ہیں پاکستان میں جنگل کا قانون ہے یہ انتہائی افسوسناک ہے پورا دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کروانا مذاق بنانا بالکل غلط ہے آج دہشت گردی اور معاشی مشکلات ہیں ہم سب بیٹھتے ہیں لیکن عمران خان اور پی ٹی آئی بیٹھنے کو تیار نہیں ہے آج چارٹر آف معیشت کی ضرورت ہے عمران خان نے کلچر دیا کہ میں اپوزیشن سے ہاتھ نہیں ملاؤ گا یہ چور ہیں جبکہ ملک میں کرہشن میں عمران خان کے دور حکومت میں اضافہ ہوا ہمارے معاشرے میں جو تقسیم پیدا ہوئی ہے یہ افسوسناک ہے عمران خان دنیا کو بتاتے رہے کہ پاکستان میں سب چور سب غلط ہیں دنیا کو جو نقشہ پیش کیا جارہا ہے وہ بہت تکلیف دہ ہے آج اگر سب کہہ دیں یہ ہمارا راستہ ہے تو تحریک انصاف پر کون یقین کرے گا جو یوٹرن کے بادشاہ ہیں عمران خان کہتے تھے میں قرضہ نہیں لوں گا خودکشی کرلوں گا اور قرضہ لے لیا اگر ہم اکھٹے ہو بھی گئے تو دنیا عمران خان کے یوٹرنز پر کیسے یقین کرے گی نواز شریف جتنی پیشیوں میں پیش ہوئے ہیں عمران خان تو اس طرح پیش ہی نہیں ہوئے عمران خان اور نواز شریف کا مقابلہ ہی نہیں بنتا نواز شریف کو جب عدالت نے بلایا تو وہ فورا پیش ہوئے ن لیگی ورکرز نے پولیس پر حملے نہیں کیئے تمام چیزیں قانونی طریقے سے ہونی چاہیے الیکشن کے لئے تمام پارٹیاں حصہ لے رہی ہیں

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا معاملہ:گورنر پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا معاملہ:گورنر پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    لاہور: گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے متعلق سنگل بینچ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

    باغی ٹی وی : گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کی جانب سے ایڈوکیٹ شہزاد شوکت نے سنگل بینچ کے فیصلے کی تشریح کے لیے درخواست دائر کی۔

    درخواست گزار کے مطابق سنگل بینچ نے الیکشن کمیشن کو تاریخ سے متعلق گورنر سے مشاورت کا حکم دیا ہے لیکن گورنر کے پاس ایسا کوئی آئینی اختیار نہیں جبکہ گورنر نے اسمبلی تحلیل پر دستخط ہی نہیں کیے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل گورنر پنجاب نے صوبے میں الیکشن کے حکم کی وضاحت کے لیے لاہور ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے الیکشن کمیشن وفد نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمن سے گورنر ہاؤس پنجاب میں ملاقات بھی کی تھی اس موقع پر چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب بھی موجود تھے، جنہوں نے صوبے میں انتظامی اور امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی تھی۔

    اجلاس میں فیصلے کی تشریح اور وضاحت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ گورنر پنجاب لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے اور سنگل بنچ کے فیصلے کے قانونی دائرہ کار کو چیلنج کریں گے۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ گورنر لاہور ہائی کورٹ سے فیصلے کی تشریح کی درخواست کرتے ہوئے پوچھیں گے کہ الیکشن تاریخ سے متعلق فیصلہ کیسے گورنر پنجاب پر لاگو ہوتاہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے اور گورنر سے مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

  • گورنر پنجاب نےانتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے آج اجلاس طلب کرلیا

    گورنر پنجاب نےانتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے آج اجلاس طلب کرلیا

    لاہور: گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے آج اجلاس طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: گورنر پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے تناظر میں اجلاس طلب کیا ہے جس سلسلے میں گورنر ہاؤس کی جانب سے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو بھی مراسلہ جاری کرکے شرکت یقینی بنانےکی ہدایت کی گئی ہے۔

    پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی کو کم کرنے کا مشن،امریکی وفد رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا

    مراسلے کے مطابق اجلاس میں لاہورہائیکورٹ کے فیصلےکی روشنی میں الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے مشاورت کی جائےگی۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان کا وفد پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ دینے کے معاملے پر آج 12 بجے گورنر ہاؤس میں حکام سے ملاقات کرے گا۔

    ذرائع کے مطابق سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی سربراہی میں وفد گورنر ہاؤس میں ملاقات کرے گا۔

    سندھ حکومت کا سکھرمیں پیپلز بس سروس شروع کرنے کا اعلان

    پنجاب میں الیکشن کی تاریخ نہ دینے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے،درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ صدر مملکت کو پنجاب الیکشن کی تاریخ دینے کا حکم دے، درخواست میں وفاقی حکومت، صدر ، گورنر پنجاب، نگران وزیر اعلیٰ کو فریق بنایا گیا-

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے 10 فروری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کا حکم دیا،دوسری جانب عدالتی احکامات کے باوجود الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا-

    وزیراعظم شہباز شریف آج ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچیں گے

  • پنجاب میں الیکشن کی تاریخ  کا اعلان نہ کرنے پر چیف الیکشن کمشنر اور گورنر پنجاب کیخلاف  توہین عدالت  کی درخواست سائر

    پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر چیف الیکشن کمشنر اور گورنر پنجاب کیخلاف توہین عدالت کی درخواست سائر

    لاہور: عدالتی احکامات کے باوجود پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر شہری نے لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : مذکورہ درخواست شہری منیر احمد کی جانب سے اپنے وکیل اظہر صدیق کے توسط سے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی،درخواست میں گورنر پنجاب ، الیکشن کمیشن سمیت دیگرکو فریق بنایا ہے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدالت کی جانب سے الیکشن کرانے کے حکم کے باوجود انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا جارہا لاہور ہائی کورٹ نے صوبے میں فوری طور پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔

    درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کو گورنر پنجاب سے مشاورت کے بعد فوری انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا حکم دیا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا۔ اتوار کے بعد اب صرف 60روز باقی رہ گئے ہیں، اس لیے انتخابات کی تاریخ کے اعلان میں مزید تاخیر نہیں کی جا سکتی ۔

    درخواست گزار کے مطابق اسمبلی کی تحلیل کے 90 روز اندار الیکشن ہونے ہیں جب کہ اسمبلی تحلیل کو 30 روز گزر چکے ہیں اور اب 60 روز باقی ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے نشاندہی کی ہے کہ الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے 7 روز کے اندر الیکشن شیڈول جاری کرنا ہوتا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، درخواست گزار نے استدعا کی عدالت کے 10 فروری کو دیے گئے حکم کی خلاف ورزی پر فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے

    خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔

    جسٹس جواد حسن نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 روز میں انتخابات کرانے کا پابند ہے اور اسی لیے الیکشن کا شیڈول فوری طور پر جاری کیا جائے۔

    اسامہ ستی قتل کی: مجرم پولیس اہل کاروں نے سزا کا فیصلہ چیلنج کردیا

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ’الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ صوبے کے آئینی سربراہ گورنر پنجاب سے مشاورت کے بعد پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نوٹیفکیشن کے ساتھ فوری کرے اور یقینی بنائے کہ انتخابات آئین کی روح کے مطابق 90 روز میں ہوں‘۔

  • پنجاب الیکشن کی تاریخ سےمتعلق درخواست، گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب عدالت میں جمع

    پنجاب الیکشن کی تاریخ سےمتعلق درخواست، گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب عدالت میں جمع

    لاہور ہائیکو رٹ میں پنجاب الیکشن کی تاریخ سے متعلق درخواست پر گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب جمع کرا دیا گیا-

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکو رٹ میں پنجاب الیکشن کی تاریخ سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،شہری منیر احمد کی درخواست پر گورنرپنجاب نےجواب جمع کرایا،گورنر پنجاب نے درخواست جرمانے کے ساتھ خارج کرنے کی استدعا کر دی۔

    سماعت کے دوران عدالت نے پی ٹی آئی کو کچھ دستاویزات متفرق درخواست کے ذریعے ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دے دی-

    لاہور، اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں بارشوں کی پیشگوئی

    عدالت میں گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب جمع کرایا گیا،جواب میں درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا گیا،تحریری جواب میں کہا گیا کہ گورنر پنجاب اپنی آئینی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جائے-

    گورنر کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہےکہ وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل نہیں کی تو الیکشن کی تاریخ دینا گورنرکی ذمہ داری نہیں، جب گورنر اسمبلی تحلیل کرے تو الیکشن کی تاریخ دینا اس کی آئینی ذمہ داری ہے،گورنرکی جانب سے الیکشن کمیشن کے اختیار میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے،گورنر آئین اور قانون کے مطابق فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ گورنر نےجواب دیا ہےکہ اسمبلی کی تحلیل انہوں نے نہیں کی اور اگر اسمبلی کی تحلیل انہوں نے نہیں کی تو تاریخ دینا ان کاکام نہیں۔

    جسٹس جواد حسن کا کہنا تھا کہ ہم نے قابل عمل حکم دینا ہے تاکہ عمل درآمد ہو، اب وقت ہی سب کچھ ہے، ہم کو منطق سے چلنا ہوگا، دیکھنا ہوگا کہ لارجر بینچ کی ضرورت ہے یا نہیں۔

    کیس میں الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب کے لیے وقت مانگ لیا، وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ میرا بطور وکیل کل ہی تقرر ہوا ہے، میں نےعدالت کے حکم بھی نہیں دیکھے اور جواب بھی تیار نہیں۔

    جسٹس جواد حسن نے کہا کہ الیکشن 90 دن میں کرانے سے متعلق عدالتی نظائر بھی ہیں۔

    وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن ہم نےکرانے ہیں لیکن تاریخ گورنر نے دینی ہے، ضمنی الیکشن کی تاریخ الیکشن کمیشن نے دینی ہوتی ہے، لیکن جنرل الیکشن کی تاریخ دینے کے اختیار میں قانون مختلف ہے۔

    جسٹس جواد حسن نے کہا کہ اسد عمر نے جو الیکشن کمیشن کے خط پر اعتماد کا اظہار کیا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا الیکشن کمیشن نے گورنر کو خط لکھا،جسٹس جواد نے کہا کہ میرے سارے فیصلوں پر عملدرآمد ہوجاتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ عملدرآمد کا کہہ رہے ہیں لیکن بہت سے مسائل ہیں-

    جسٹس جواد نے کہا کہ بتائیں کیا مسائل ہیں، میں نے گورنر کو الیکشن کا نہیں کہنا،اسی لیے تو الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے،الیکشن کمیشن کی انتخابات کروانا آئینی ذمہ داری ہے،یہ تو خوش آئند بات ہے کہ الیکشن کمیشن نے مجوزہ تاریخ دی-

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اگر گورنر اور الیکشن کمیشن تاریخ نہ دیں تو صدر الیکشن کی تاریخ دے سکتاہے۔

    جسٹس جواد حسن نے کہا کہ آپ نے یہاں صدر کو تو فریق نہیں بنایا، ہم نے یہاں دیکھنا ہے کہ تاریخ کون دے سکتا ہے، ابھی الیکشن کمیشن نے الیکشن کروانے سے انکار نہیں کیا،

    وفاقی حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگرتاریخ کا اعلان ہوجائے اور الیکشن کمیشن اس پر عمل درآمدنہ کرسکے تو کیا ہوگا؟

    جسٹس جواد نے تحریک انصاف کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ قابل عمل حکم کیا چاہ رہے ہیں، اس پر بیرسٹر علی ظفر نےکہا کہ الیکشن13 اپریل سے پہلے ہونا چاہیے، سوال تاریخ دینےکا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب میں عام انتخابات کی درخواست پر الیکشن کمیشن اور گورنر پنجاب کو نوٹس جاری کردئیے گئےلاہور ہائیکورٹ میں پنجاب میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے حوالے سے دائر متفرق درخواست پر سماعت ہوئی تھی عدالت نے الیکشن کمیشن اور گورنر پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 9 فروری کو جواب طلب کیا تھا-

    خانیوال:سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، انتہائی مطلوب دہشتگرد…

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی کےحلقوں کا ضمنی شیڈول جاری کردیا۔ عام انتخابات کا شیڈول جاری نہ ہونے سے حلقے کےووٹرز کااستحقاق مجروع ہورہا ہے۔ اسمبلیوں کی تحلیل کےنوے دن میں انتخابات کرانا آئینی تقاضا ہے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن پنجاب اسمبلی کی تحلیل کےباوجود انتخابی شیڈول جاری نہ کرکے آئین سے انحراف کررہا ہے۔ صاف و شفاف انتخابات کےلئے انتخابی شیڈول کااجراء جمہوری اساس ہے۔آئین کےآرٹیکل 105 کےبرعکس گورنر بدنیتی کی بناء پر انتخابی شیڈول جاری نہیں کررہا۔ عدالت الیکشن کمیشن کو پنجاب کے لیے انتخابی شیڈول جاری کرنے کا حکم دے۔

    کوہلو: بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں ووٹنگ آج ہو گی

  • اسپیکر پنجاب اسمبلی نےپنجاب میں انتخابات کی تاریخ سے متعلق گورنرپنجاب کے خط کا جواب دے دیا

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نےپنجاب میں انتخابات کی تاریخ سے متعلق گورنرپنجاب کے خط کا جواب دے دیا

    لاہور: اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے پنجاب میں انتخابات کی تاریخ سے متعلق گورنرپنجاب کے خط کا جواب دے دیا۔

    باغی ٹی وی: اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے خط میں گورنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے آئین کی تشریح اپنی مرضی کے مطابق کی،یہ کہنا بلاجواز ہے کہ اسمبلی از خود تحلیل ہوئی اورگورنر انتخابات کی تاریخ نہیں دے سکتا،میں نے وہ خط دیکھا جو گورنر نے الیکشن کمیشن کو لکھا۔

    نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی تعیناتی کے خلاف درخواست میں وفاقی حکومت، گورنر پنجاب،…

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے گورنر پنجاب کے نام خط میں کہا کہ حیران ہوں گورنر نے نامعلوم اسٹیک ہولڈز سے مشاورت کیلئے کہا،گورنر پنجاب نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی،التجا ہے کہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے خط میں کہا کہ اسمبلی ٹوٹنےکے بعد الیکشن کی تاریخ کا اعلان ضروری ہے جو آپ نے ابھی تک نہیں کیا، ایسا نہ کرکے آپ آئین سے انحراف کررہے ہیں، آپ جلد سے جلد الیکشن کی تاریخ کا اعلان کریں تاکہ آئینی بحران پیدا نہ ہو۔

    خط میں مزید کہا گیا ہےکہ انتخابات کی تاریخ نہ دینے کے حوالے سے آپ کے خط سے اتفاق نہیں کرتا، آئینی طورپر اسمبلی کی تحلیل کے بعد الیکشن کی تاریخ کا اعلان ضروری ہے جو آپ نےابھی تک نہیں کیا۔

    اسپیکر کے خط میں کہا گیا ہے کہ آپ ایسا نہ کرکے آئین سے انحراف کررہے ہیں، آئین کی شق 105 سے واضح ہےکہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرناگورنرکی ذمہ داری ہے ، اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 دن کے اندر انتخابات کا انعقاد لازم ہے۔

    خیبرپختونخوا اور پنجاب اسمبلیوں کے الیکشن کی تاریخ دینے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا،الیکشن…

    واضح رہے کہ دو روز قبل گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے الیکشن کمیشن،اسپیکر پنجاب اسمبلی اور پی ٹی آئی کے سابق پارلیمانی لیڈر عثمان بزدار کو خط لکھا تھا،گورنر پنجاب نے خط میں لکھا کہ الیکشن کمیشن کو منصفانہ اور شفاف طریقے سے آگے بڑھنا چاہیے،ملکی اقتصادی اور سکیورٹی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں۔

    الیکشن کمیشن موجودہ صورتحال کے مطابق تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے،میرا آفس انتخابات سے متعلق ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

    قبل ازیں پنجاب اور خیبر پختو نخوا میں انتخابات کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے گورنرز کو دوبار خط لکھے۔الیکشن کمیشن نے پنجاب اور خیبر پختو نخوا میں انتخابات کی تاریخ کیلئے گورنرز کو خط لکھے۔

    خط میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی 14 جنوری کو تحلیل ہوئی مگر اب تک الیکشن کی تاریخ نہیں دی گئی،اسی طرح خیبر پختوا نخوا اسمبلی 18 جنوری کو تحلیل ہوئی لیکن اس اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ بھی نہیں دی گئی۔

    پی ایس ایل 8: کمنٹری پینل کے نام سامنے آگئے

    خط میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 105 کے تحت تحلیل کی صورت میں گورنرز کا الیکشن کی تاریخ دینا ضروری ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کی تاریخ کے لئے گورنرز کو دو بار خط لکھ چکا ہے۔

  • پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا جائے،بزدار کا گورنر کو خط

    پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا جائے،بزدار کا گورنر کو خط

    پی ڈی ایم پارلیمانی کمیٹی کے رکن ملک ندیم کامران پنجاب اسمبلی پہنچ گئے،

    اس موقع پر ملک ندیم کامران کا کہنا تھا کہ پنجاب میں عام انتخابات کے راستے میں رکاوٹ مردم شماری ہے، نگران وزیراعلی کے لئے دئیے جانے والے اپنے دونوں ناموں کے ساتھ کھڑے ہیں حکومت بھی لچک دکھائے، پارلیمنٹ کے فیصلے پارلیمنٹ کے اندر ہی ہونے چاہئیں،

    پیپلز پارٹی پنجاب کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف کے ناموں پر میں تو بغیر تحقیق کے کسی قسم کا شک نہیں کرتا دونوں اطراف سے دے گئے نام پاکستانی ہیں اور قابل غور ہیں چارسال تک اس ہاؤس کے اندر میں عوامی مسائل پربات کرتا تھا جب ہاؤس چھوٹا ہوتا تھا تو لوگ بڑے ہوتے تھے اب ہاؤس بڑا ہوگیا لوگ چھوٹے ہوگئے ہم نےآج تک عوامی مسائل کو ایڈریس ہی نہیں کیا ہم دن بدن گراوٹ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں تقسیم ہوتے جارہے ہیں اس کو روکنا ہو گا کسی کے تسلیم کرنے یا نا کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے بات تو یہ ہے کہ اتفاق رائے سے معاملات حل ھونے چاہئیں حکومتی اراکین سے خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی کیونکہ ایک مائنڈ سیٹ ہے حکومتی اراکین کا ایک مخصوص پیٹرن اور انداز ہے

    دوسری جانب پنجاب میں انتخابات کرانے کیلئے تاریخ کا معاملہ ،تحریک انصاف نے گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کو خط لکھ دیا ،خط پی ٹی آئی کے پنجاب میں پارلیمانی لیڈر عثمان بزدار کی طرف سے لکھا گیا ہے ،خط میں گورنر پنجاب سے صوبے میں انتخاب کی فوری تاریخ کے اعلان کا مطالبہ کیا گیا،خط میں کہا گیا کہ گورنر کو اسمبلی تحلیل کرتے ہی الیکشن کی تاریخ دینا ہوتی ہے، آپ نے ابھی تک الیکشن کی تاریخ نہیں دی،فوری طور پر پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔

    پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں، نگران وزیراعلیٰ کی تقرری ہونی ہے اور پھر الیکشن کا اعلان ہو گا، تمام سیاسی جماعتیں الیکشن لڑنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھی ہیں اور پارلیمانی اجلاس ہو رہے ہیں وہیں ساتھ ٹکٹ دینے کے لئے کمیٹیاں بھی بن رہی ہیں، ن لیگ نے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا تو پی ٹی آئی بھی متحرک ہو چکی ہے،

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ کون؟ قرعہ کس کے نام کا

  • گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا

    گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا

    پرویز الٰہی کو ڈی نوٹی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی

    گورنر کے وکیل منصور عثمان نے دلائل دیئے، وکیل گورنر نے کہا ہے کہ گورنر سے رابط ہو گیا ہے ،گورنر نے اعتماد کے ووٹ کی تصدیق کردی ہے ،گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر نے اپنا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے تو پھر معاملہ ہی ختم ہوگیا ہے ،آپ نے اپنی اسمبلی کے اندر یہ معاملہ حل کرلیا ہے جو اچھی چیز ہے ،سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق ہوگیا ہے،ہم تو چاہتے ہیں ایسے معاملات میں عدالت کی مداخلت کم سے کم ہونی چاہیے ،

    عدالت نے گورنر پنجاب کے وکیل کے جواب کے بعد فیصلہ لکھوانا شروع کر دیا، جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ عدالت نے گورنر پنجاب کیجانب سے وزیر اعلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کیا، پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلی نے 12 جنوری کو اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، وزیر اعلی پنجاب نے آئین کے آرٹیکل 137 کے سب سیشن 7 کے تحت اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، اعتماد کے ووٹ کا نتیجہ گورنر پنجاب نے مان لیا ہے، گورنر کے وکیل منصور اعوان نے گورنر پنجاب کیجانب سے اسٹیمنٹ عدالت میں دی،معاملہ عدالت میں آنے پر اسمبلی فلور پر حل ہوگیا سارا کچھ آئین کے مطابق حل ہو گیا گورنر نے آئین کے مطابق آرڈر جاری کیا ۔پرویز الٰہی نے گورنر کے آرڈر پر اعتماد کا ووٹ لے لیا ۔اگر سپیکر گورنر کی ایڈوائس پر اجلاس میں معاملہ حل کر لیتے رواج ایسی صورت حال نہ ہوتی۔لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے وزیر اعلی پنجاب کی درخواست نمٹا دی ،عدالت نے وزیر اعلی پنجاب اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے دیا

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

  • وزیراعلیٰ پنجاب اوراس کی کابینہ ڈی نوٹی فائی ہو چکے،گورنر پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب اوراس کی کابینہ ڈی نوٹی فائی ہو چکے،گورنر پنجاب

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے مقرر کردہ وقت اور تاریخ پر اعتماد کا ووٹ لینے سے احتراز کیا

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اوراس کی کابینہ ڈی نوٹی فائی ہو چکے ہیں،پنجاب حکومت عدالت کے عبوری حکم پر چل رہی ہے،امید ہے عدالت جلد اس کیس کاحتمی فیصلہ کر ے گی، آئین اور قانون کی بالادستی ہی میں سب کی بھلائی ہے

    دوسری جانب رکن پنجاب اسمبلی مومنہ وحید کا کہنا ہے کہ فوادچودھری کا کام صرف الزام لگانا ہے، باقی یہ کچھ نہیں کرسکتے،میں اپنے گھر پر موجود ہوں اور کسی بھی پارٹی سے میرا رابطہ نہیں ہوا،ہم سچے اور کھرے کارکن ہیں فوادچودھری کا بلیم گیم میں ہمیشہ اہم کردار رہاہے،فوادچودھری کو الزام لگانے سے پہلے سوچناچاہیے،

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس تین گھنٹے سے زائد تاخیر کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی صدارت میں شروع ہوا ،پرویز الہی نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا،اجلاس میں ن لیگی اراکین کی جانب سے پرویز الہی اعتماد کا ووٹ لو کے نعرے لگائے گئے،اپوزیشن کی جانب سے ڈاکو ،ڈاکو اوراعتماد کا ووٹ لو کے نعرے بھی لگائے گئے ،اپوزیشن نے وقفہ سوالات کے دوران ڈیسک بجا کر شور شرابا کیا،میاں محمود الرشید نے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ پرتنقید کی،اور کہا کہ ہماری حکومت قائم ہے اور رہے گی،،اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں جس کے بعد پنجاب اسمبلی کا اجلاس بدھ سہہ پہر 3 بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

  • عمران خان کو سوچنا ہو گا کوئی بھی انسان عقل کل نہیں ہوتا،چوہدری سرور

    عمران خان کو سوچنا ہو گا کوئی بھی انسان عقل کل نہیں ہوتا،چوہدری سرور

    سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کیساتھ مثالی تعلقات نہیں بنے،

    سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ عہدہ پر رہتے ہوئے بھی عمران خان سے کوئی آئیڈیل تعلقات نہیں تھے  پہلے بھی عہدہ چھوڑنا چاہتا ہے پارٹی ڈسپلن کی وجہ سے گورنر شب لینا پڑی ،دو تہائی اکثریت صرف خواب میں مل سکتی ہےعمران اس وقت مقبول ہیں مگر جتنی نشتیں سوچتے ہیں اتنی نہیں ملے گی ۔اگر دوتہائی اکثریت چاہیے تو پورے ملک سے عمران خان کو خود الیکشن لڑنا ہو گا ،پی ٹی آئی امیدواروں کو حلقوں میں ڈویلپمنٹ نہ ہونے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا میں تحریک انصاف کا اب حصہ نہیں ہوں، پیپلز پارٹی کے رہنما سے تعلق ہے اس لئے کھانے پر اکٹھے ہوئے،جس جماعت کو بھی جوائن کروں گا باقاعدہ اعلان کروں گا عمران خان کو سوچنا ہو گا کوئی بھی انسان عقل کل نہیں ہوتا سیاسی جماعتوں میں فیصلے مشاورت سے ہی ٹھیک رہتے ہیں

    سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ مغرب کی جمہوریت بارے بات کی بجائے 10 فیصد عمل کیا ہوتا تو عمران خان 20 سال حکومت کر سکتے تھے خان صاحب ! آپ کے کان میں کوئی بھی بات کی جائے تو اس کی پہلے تصدیق کر لیں، جو قومیں ترقی کرتی ہیں وہ مشکل وقت میں مل کر بیٹھتی ہیں ۔یورپ امریکہ میں قومی مفادات کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جاتی ہیں پاکستان میں سب سے پہلے ذاتی مفاد کو مدنظر رکھا جاتا ہے ۔شفاف الیکشن کس طرح کروانے ہیں اور معیشت کو درست کس طرح کرنا ہے؟ تمام سیاست دانوں کو اس مشکل وقت میں اکٹھے مل کر فیصلے کرنا ہونگے غریب آدمی اس وقت ملک میں پس گیا ہے انصاف نہیں ملتا آٹا نہیں خرید سکتا ہم چیزیں مہنگے داموں خرید کر سستی دیتے ہیں ہمیں ماضی کے غلط فیصلوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے ۔تحریک انصاف کو 2018 میں حکومت بناتے وقت اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی حکومت جانے کے بعد عمران خان نے خود تسلیم کیا عدم اعتماد کو روکنا چاہیے تھا ہہ چیز کلیئر ہے عدم اعتماد میں اسٹیبلشمنٹ نے خود کو نیوٹرل رکھا،

    ہم بچے نہیں ہیں جو ہم پر ہونے والے حملوں کو نہ سمجھ پائیں اسد صدیقی کا عادل راجہ کو منہ توڑ جواب
    اسلام آباد میں آج موسم شدید سرد اور خشک رہے گا
    فیصل واوڈ کی نشست پر انتخاب کامعاملہ،کاغذات نامزدگی آج سے 7 جنوری تک جمع ہوں گے
    اداکاراؤں کی کرداکشی : خواتین کی عزت نہ کرنے والے ذہنی بیمار ہیں،مریم اورنگزیب