Baaghi TV

Tag: ہائی کورٹ

  • سانحہ ماڈل ٹاؤن؛5پولیس افسران کو ان کے پرانےعہدوں پر پربحال کرنےکا حکم

    سانحہ ماڈل ٹاؤن؛5پولیس افسران کو ان کے پرانےعہدوں پر پربحال کرنےکا حکم

    لاہورہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے پانچ پولیس افسروں کو ان کے پرانے عہدوں پر پر بحال کرنے کی ہدایت کردی۔لاہور ہائی کورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے پولیس اہکاروں کی تنزلی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت جسٹس فیصل زمان نے کی۔

    درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ محکمے نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد پولیس افسروں کے عہدوں میں تنزلی کردی، انسپکٹر کو سب انسپکٹر اور سب انسپکٹر کو اے ایس آئی کر دیا گیا۔وکیل نے کہا کہ درخواستگزاروں کی دی گئی ترقی بھی محکمہ نے واپس لے لی۔

    عدالت نے درخواست گزاروں کی درخواست منظور کر لی، اور پولیس اہلکاروں کی تنزلی ختم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو پرانےعہدوں پر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

    یاد رہے کہ لاہورکے سانحہ ماڈل ٹاون کو 8 برس بیت گئے۔ سترہ جون دو ہزارچودہ کو ماڈل ٹاؤن میں انتظاميہ نے منہاج القرآن مرکز کے گرد تجاوزات کو جواز بنا کربھاري مشينري کے ساتھ آپريشن شروع کرديا ۔

    پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کی جانب سے مزاحمت پر لاٹھي چارج شروع ہوااور آنسو گيس کے شيل پھينکے گئے۔ پھر نوبت فائرنگ تک جاپہنچي۔ افسوس ناک واقعہ ميں چودہ افراد زندگي کي بازي ہار گئے جبکہ آپریشن میں حصہ لینے والے پوليس اہلکاروں سميت متعدد لوگ زخمي ہوئے۔

    واقعہ کے بعد رانا ثناء اللہ سے قانون کی وزارت واپس لے لي گئي تھی ، ليکن مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے کلین چٹ ملنے پررانا ثناء کو دوبارہ وزیر قانون پنجاب بنا دیا گیا۔ صوبائی حکومت کا اصرار ہے کہ واقعہ ميں ان کي بدنيتي شامل نہيں تھي ۔

    سانحہ ماڈل ٹاون کے بعد تئيس جون دوہزار چودہ کو سربراہ پاکستان عوامی تحریک طاہرالقادري وطن واپس پہنچےاور حکومت کے خلاف اسلام آباد ميں طويل دھرنے کي قيادت کی۔

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • تعلیمی اداروں میں سیاسی جلسوں پر پشاور ہائیکورٹ برہم

    تعلیمی اداروں میں سیاسی جلسوں پر پشاور ہائیکورٹ برہم

    پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں سیاسی جلسوں پر برہمی کا اظہار کر دیا۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ قیصر رشید نے تعلیمی اداروں میں جلسے پر ریمارکس دیئے کہ تعلیمی اداروں کو سیاست سے پاک رکھنا چاہیے اور تعلیمی اداروں میں سیاسی جلسے کرنا افسوس ناک ہے-

    مریم اورعمران کو بلاول والا لہجہ اپنانا چاہیے،اعتزاز احسن کا مشورہ

    انہوں نے کہا کہ بچوں کے مستقبل کے لیے سیاسی جلسے درست نہیں ہیں اور ایک فریق جلسہ کرے گا تو دوسرا بھی وہاں جائے گا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اسمبلی چوک اور ہائیکورٹ کے سامنے کوئی احتجاج نہ کریں، اسمبلی چوک میں احتجاج سے پورے شہر کا ٹریفک نظام متاثر ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ قیصر رشید خان نے استفسار کیا کہ حکومت کیا کررہی ہے،عدالت کو تعلیمی اداروں پر تشویش ہے اور ایڈو و کیٹ جنرل صاحب صوبائی حکومت کو بھی تعلیمی اداروں میں سیاسی جلسوں پر عدالتی تشویش سے آگاہ کیا جائے۔

    ایڈووکیٹ جنرل شمائل بٹ نے کہا کہ آئی جی پولیس اور انتظامیہ کو بھی اس حوالے سے آگاہ کریں گے۔ اس حوالے سےآج چیف سیکرٹری سے میٹنگ بھی ہے۔

    ویڈیو: حریم شاہ عدالت پہنچ گئیں،ساتھ عمران خان بارے بھی بڑا دعویٰ کر دیا

    چیف جسٹس قیصر رشید نے کہا کہ یہ انتظامیہ کی بھی ناکامی ہے۔ احتجاج کرنے والے پیراشوٹ سے نہیں آتے، یہ جہاں سے آتے وہی پر ان کو روک دیں۔ اسمبلی چوک اور ہائیکورٹ کے سامنے کوئی احتجاج نہ کریں۔

    قبل ازیں مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جی سی یونیورسٹی میں عمران خان کا جلسہ کرانا ادارے کی توہین ہے۔

    ٹویٹر پیغام میں مریم نواز نے جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ تعلیمی ادارے کی بے حرمتی پر وائس چانسلر کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے تعلیمی ادارے کو نفرتوں کے سوداگرکے حوالے کرنیوالوں کو سزا ملنی چاہیے۔

    چیف جسٹس نے تاحیات نااہلی کے آرٹیکل 62 ون ایف کو ڈریکونین قانون قرار دے دیا

    دوسری جانب گورنر پنجاب نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں سیاسی تقریب کا نوٹس لیا تھا گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں،انہیں سیاست میں دھکیلنے کی گنجائش نہیں، جامعات میں اس طرح کے سیاسی جلسوں کی گنجائش نہیں، نامور تعلیمی ادارے کو سیاسی اکھاڑہ بنانا افسوسناک ہے۔

  • لاہورہائی کورٹ نے13 سالہ مسیحی لڑکی کی شادی کرسچین میرج ایکٹ کے تحت درست قرار دی

    لاہورہائی کورٹ نے13 سالہ مسیحی لڑکی کی شادی کرسچین میرج ایکٹ کے تحت درست قرار دی

    لاہور: ہائیکورٹ نے 13 سالہ مسیحی لڑکی کی شادی کرسچین میرج ایکٹ کے تحت درست قرار دے دی۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے نسرین بی بی کی درخواست پر قانونی نکتہ طے کردیا۔یاد رہے کہ والد کی اجازت کے بغیر شادی کرنے والی 13 سالہ علیزہ کی والدہ نسرین نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

    عدالت نے ریمارکس دئیے کہ سال 1929 کا بچوں کی شادی پر روک تھام کا قانون کرسچین میرج ایکٹ کو ختم نہیں کرتا، 1929 کا چائلڈ میرج ایکٹ الگ قانون ہے جو کم عمری میں شادی کے زمہ داروں کو سزا دیتا ہے، لیکن یہ شادی کو ختم نہیں کرتا۔

    عدالت نے فیصلہ دیا کہ بین الاقوامی ٹریٹیز بچوں کی شادی کو نامنظور کرتے ہیں لیکن شادی کو باطل بھی قرار نہیں دیتیں۔

    جسٹس طارق شیخ کی جانب سے ریمارکس دئیے گئے کہ علیزہ نابالغ ہے لیکن اس کی شادی باطل نہیں، کرسچین میرج ایکٹ کی دفعہ 60 کے تحت شادی کرنے والی لڑکی کی عمر13 سال سے زائد ہونی چاہیے۔

    یہ بھی کہا گیا کہ عدالتی معاون کے مطابق والد کی مرضی کے بغیر شادی بے قاعدہ ہوسکتی ہے لیکن باطل نہیں،والد کی اجازت نہ لینے کے نکتے پر شادی فاسد نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے نسرین بی بی کی درخواست خارج کردی۔

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

     اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جدید دور میں سائبر حملے عام ہوگئے ہیں

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

  • کراچی:واٹر کمیشن کی سفارشات پرعمل درآمد نہ کرنے پرسندھ ہائی کورٹ کا حکومت کو نوٹس

    کراچی:واٹر کمیشن کی سفارشات پرعمل درآمد نہ کرنے پرسندھ ہائی کورٹ کا حکومت کو نوٹس

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے واٹر کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد نہ کرنے سے متعلق سندھ حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کردیے۔ہائیکورٹ میں واٹر کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد نہ کرنے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر قائم واٹر کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ واٹر کمیشن کی رپورٹ پرعمل درآمد نہ کرنا توہین عدالت ہے،انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں واٹر کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ کمیشن نے کراچی میں صاف پانی کی فراہمی اور سوریج کی نکاسی کی رپورٹ تیار کی۔ حکومت سندھ نے کمیشن کی رپورٹ پر عملدرآمد نہیں کیا جس کی وجہ سے شہر اب بھی مسائل کا شکار ہے۔

    درخواستگزار نے کہا کہ میرا رہائشی علاقہ ماڈل کالونی بھی پانی اور سیوریج کے مسائل کا شکار ہے۔ ڈھائی سال میں ٹینڈر ہونے کے باوجود یو سی تھری شاہ فیصل کالونی میں عملی کام نہیں ہوا۔ سیوریج کی لائنیں مکمل نہیں کی گئیں اور گلیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ واٹر بورڈ حکام کی غفلت کے باعث 6 کروڑوں کا بجٹ استعمال نہیں ہورہا۔عدالت نے سندھ حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کردیئے۔

    عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کراچی میں احتجاج

    اچھا ہوتا وزیراعظم اپنی تقریر میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر کرتے۔ حافظ سعد رضوی

     یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

  • فوادچوہدری توہین معاملہ:ہائیکورٹ نےابتدائی دلائل سماعت کےبعدالیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا

    فوادچوہدری توہین معاملہ:ہائیکورٹ نےابتدائی دلائل سماعت کےبعدالیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا

    راولپنڈی:سابق وفاقی وزیر، فواد چوہدری کی جانب سے الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری توہین الیکشن کمیشن نوٹس لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں چیلنج کر نے کے معاملے پر ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس جواد الحسن نے ابتدائی دلائل سماعت کے بعد الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا ۔منگل کو عدالت نے سات ستمبر کو الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا ۔

    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس جواد الحسن نے ابتدائی دلائل سماعت کے بعد الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا ،سات ستمبر کو الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کو فوادچوہدری کیخلاف کاروائی سے بھی روکنے کا حکم جاری کردیا گیا ۔

    درخواست گزار کے وکیل کے مطابق آئین کے مطابق الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے،توہینِ عدالت کا اختیار صرف اعلیٰ عدالتوں کو حاصل ہے۔ ضرور پڑھیں :فواد چودھری نے موجودہ نظام حکومت کو الٹانے کا دعویٰ کردیا ،

    وکیل درخواست گزار کا موقف میں مزید کہنا ہے کہ آئین میں دیئے گئے مخصوص اختیارات عام قانون سازی کے تحت دوسرے اداروں کو تفویض نہیں کئے جا سکتے، عدالت عالیہ نے درخواست پہ الیکشن کمیشن کو سات ستمبر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حتمی حکم جاری کرے سے روک دیا۔

  • امریکی ویزوں کےمنتظر400افغان خاندانوں نےاسلام آبادہائی کورٹ میں درخواست دائرکردی

    امریکی ویزوں کےمنتظر400افغان خاندانوں نےاسلام آبادہائی کورٹ میں درخواست دائرکردی

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانوں سے اسلام آباد کی گرین بیلٹ کا قبضہ چھڑانے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے تاکہ امریکا میں سیاسی پناہ اور ویزا حاصل کیا جا سکے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر گرین بیلٹ خالی کرنے اور مقامی لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔درخواست گزار پیر فدا حسین ہاشمی ایڈووکیٹ نے سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور سی ڈی اے کو فریق بنایا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد 400 سے زائد افغان خاندان غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوئے جنہوں نے امریکا میں سیاسی پناہ حاصل کی اور سیکٹر ایف 6 کی گرین بیلٹ پر قبضہ کرلیا۔

    فدا حسین ہاشمی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ افغانیوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں امریکی ویزوں کا وعدہ کیا گیا تھا اور اب اگر وہ افغانستان واپس آئے تو انہیں سزائے موت دی جائے گی۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا ہے کہ دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر فریقین کو افغان باشندوں سے گرین بیلٹ خالی کرنے اور مقامی لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

  • مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن بارے عدالت کا تحریری فیصلہ جاری

    مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن بارے عدالت کا تحریری فیصلہ جاری

    لاہور:مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن بارے عدالت کا تحریری فیصلہ جاری ہوچکا ہے ،جس میں لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کی درخواست خارج کرنے کا اقدام کالعدم کر دیا تھا

    تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ نے منحرف ارکان کے ڈی سیٹ ہونے پر 5 مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کے ارکان کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا تحریری حکم جاری کردیا۔

    عدالتی حکم میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن تحریک انصاف کی فہرست پر خالی نشستوں پر ممبران پنجاب اسمبلی کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔

    لاہور ہائی کورٹ نے تحریری حکم میں کہا کہ ایڈیشنل رجسٹرارجوڈیشل عدالت کے حکم سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے۔عدالت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کی درخواست خارج کرنے کا اقدام کالعدم کرکرتے ہوئے تحریک انصاف کی پنجاب اسمبلی میں خواتین اور اقلیتی ارکان کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی درخواست منظورکرلی۔

    لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ نون کی جانب سے مخصوص نشستوں پر ارکان کی نااہلی کے بعد کوٹہ دوبارہ نکالنے کی درخواست خارج کردی۔

    ادھرلاہور ہائیکورٹ کے کل کے فیصلے کیخلاف تحریک انصاف کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ میں شامل ہیں پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان روسٹرم پر آگئے ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی پیش ہوئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 5درخواستیں ہیں کس کی طرف سے کون سا وکیل پیش ہورہا ہے ؟

    بابر اعوان نے کہا کہ میں درخواست گزار سبطین خان کی طرف سے پیش ہورہا ہوں 16 اپریل کو حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا انتخاب ہوا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے روز فلور پر پرتشدد ہنگامہ ہوا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے وہ ایک نکتے پر متفق بھی ہوئے ،فیصلے میں کہا ہے کہ جنہوں نے 197 ووٹ لیے ان میں سے25 نکال دیئے ہیں،جب وہ 25 ووٹ نکال دیتے ہیں تودوبارہ گنتی کرائیں، 4 ججز نے یہ کہا ہے کہ پہلے گنتی کرائیں اگر 174 کا نمبر پورا نہیں تو پھر انتخاب کرائیں،آپ یہ کہنا چاہتے ہیں آپ کے کچھ ممبران چھٹیوں اور حج پر گئے ہیں،جتنے بھی ممبرا یوان میں موجود ہوں گے اس پر ووٹنگ ہوگی،جو کامیاب ہوگا وہ کامیاب قرار پائے گا، سماعت ابھی جاری ہے

  • سندھ بار کونسل کا ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری کی سفارش پر تحفظات کا اظہار

    سندھ بار کونسل کا ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری کی سفارش پر تحفظات کا اظہار

    کراچی: ججز کی تقرری کی سفارش پر تحفظات کا اظہار،اطلاعات کے مطابق سندھ بار کونسل نے ہائیکورٹ میں ججز کی آسامیوں پر تقرری کی سفارش پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔

    ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    رپورٹ کے مطابق ممبر جوڈیشل کمیشن حیدر امام ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کو اس حوالے سے خط بھی لکھ دیا ہے، جس میں سندھ بار کونسل نے موقف اختیار کیا ہے کہ ججز کی تقرری کی سفارشات جوڈیشل کمیشن کا اجتماعی اختیار ہے۔

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا…

    انہوں نے کہا کہ یہ اختیار کسی ایک فرد کو نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنی پسند کے مطابق سفارشات دے، لیکن چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے مشاورت سے طے 2 وکلا کو سیاسی بنیادوں پر فہرست سے نکال دیا ہے۔

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس…

    حیدر امام نے خط میں چیف جسٹس سے کہا ہے کہ ججز کی تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن کے ہر رکن کو نام تجویز کرنے کا حق دیا جائے۔خیال رہے کہ سندھ ہائیکورٹ میں تقرری کیلئے کمیشن کا اجلاس 28 جون کو طلب کیا گیا ہے۔

    سب چاہتے ہیں کہ قابل ججز آئیں، ججز نہیں ملتے ،سیٹیں خالی رہتی ہیں،چیف جسٹس

  • ایچ ای سی سے غیر تسلیم شدہ جامعات کی ڈگریاں مستند نہیں:پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ

    ایچ ای سی سے غیر تسلیم شدہ جامعات کی ڈگریاں مستند نہیں:پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ

    پشاور:یچ ای سی سے غیر تسلیم شدہ جامعات کی ڈگریاں مستند نہیں ،اطلاعات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ (پی ایچ سی) نے فیصلہ سنایا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے غیر تسلیم شدہ جامعات کی جانب سے تفویض کردہ ڈگریاں ’مستند‘ نہیں ہیں۔

    یہ فیصلہ جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے صوابی یونیورسٹی کے قائم مقام رجسٹرار نوید انجم کی جانب سے دائر پٹیشن پر سنایا۔

    بیرسٹر سید سعد علی شاہ اور منصور ایڈووکیٹ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور یونیورسٹی آف صوابی کی نمائندگی کی۔ درخواست گزار نے اورینٹ یونیورسٹی کی جانب سے دی گئی اپنی بی بی اے کی ڈگری کی توثیق/دوبارہ تصدیق کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
    درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اس نے اورینٹ یونیورسٹی سے بیچلر مکمل کیا اور بعد میں اس کی بنیاد پر انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز اور شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کراچی اور اسلام آباد کیمپس سے بالترتیب ایم بی اے اور ایم ایس کی ڈگریاں حاصل کیں۔

    اپنے تجربے اور اعلیٰ قابلیت کی وجہ سے انہیں قائم مقام رجسٹرار مقرر کیا گیا۔ تاہم انہیں اپنی اسناد کی تصدیق کرانے کی ہدایت دی گئی، اورینٹ یونیورسٹی سے حاصل کی گئی بی بی اے کی ڈگری کی ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تصدیق نہیں کی۔عدالت کے سامنے اہم سوال یہ تھا کہ کیا ایچ ای سی سے غیر تسلیم شدہ یونیورسٹی کی ڈگری کو درست قرار دیا جا سکتا ہے؟

    سوال کا جواب دیتے ہوئے عدالت نے فیصلہ دیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن آرڈیننس 2002 کے سیکشن 10 کے تحت کمیشن کو قانون اور قواعد کے مطابق کسی بھی یونیورسٹی کو تسلیم کرنے یا الحاق کرنے کا اختیار حاصل ہے تاہم اورینٹ یونیورسٹی کو تسلیم نہیں کیا گیا تھا اس لیے ڈگری جائز قرار نہیں دی جا سکتی۔

    پی ایچ سی نے فیصلے میں کہا کہ ایچ ای سی کے طے شدہ معیار پر پورا نہ اترنے والا تعلیمی ادارہ ڈگری جاری نہیں کرسکتا اور ایسی ڈگریوں کا اجرا نہ تو درست ہے اور نہ ہی قابل اعتبار ہے۔فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ عدالت ایچ ای سی کے پالیسی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی جسے تعلیمی ادارے کی حیثیت کو ریگولیٹ کرنے کا واحد اختیار حاصل ہے۔

  • سپریم کورٹ نے معاونین حجاج کرام کے انتخاب کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کاحکم معطل کردیا

    سپریم کورٹ نے معاونین حجاج کرام کے انتخاب کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کاحکم معطل کردیا

    اسلام آباد : سپریم کورٹ نے معاونین حجاج کرام کے انتخاب کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل کردیا-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ ،حج انتظامات کیلئے معاونین کے انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی سپریم کورٹ نے معاونین حجاج کرام کے انتخاب کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل کردیا-

    آکاس بیل کے پودے سے زخموں کو مندمل کرنے والا قدرتی مرہم تیار

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم سے حج انتظامات متاثر ہو رہے ہیں، معاونین کا انتخاب حجاج کرام کی خدمت کیلئے کیا جاتا ہے،حجاج کرام کیساتھ معاونین کا انتخاب سعودی حکومت کا تقاضا ہے-

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ معاونین کا انتخاب کون کرتاہے اورمعاوضہ کون ادا کرتا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ معاونین کے انتخاب کیلئے سرکاری محکموں سے نام مانگے جاتے ہیں،حکم معطل نہیں ہوا تو سعودی عرب پہنچنے والے حجاج کو مشکلات ہوں گی-

    چیف جسٹس اطہر من اللہ ایسا کرتے ہیں درخواست کو نمٹا دیتے ہیں سپریم کورٹ نے کہا کہ عمومی طور پر عبوری حکم نامہ میں مداخلت نہیں کرتے،حجاج کرام کی مشکلات کے پیش نظر ہائیکورٹ کا حکم معطل کر رہے ہیں-

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کے سینئیر جج جسٹس شاہد کریم نے 109 آفیسرز سمیت 232 لوگوں کو بطور معاون فری حج پر بھیجنے کے حوالے سے درخواست پر سماعت کی تھی معاونین کو مقرر کرنے کا اقدام روکتے ہوئے معاملہ پرنسپل سیٹ پر بھیج دیا تھا-

    بعد ازاں آفیسرز اور پالیسی سے ہٹ کر معاون مقرر کرنے کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کی تھی ہائیکورٹ ملتان بینچ میں پالیسی سے ہٹ کر آفیسرز کو معاون مقرر کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ معاون حج حکومت کی طرف سے فری حج کرتے ہیں اور سعودی حکومت سے تنخواہ لیتے ہیں جو خزانے پر بوجھ ہیں،-

    عدالت عالیہ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، اٹارنی جنرل پاکستان، وزارت مذہبی امور کو نوٹسز جاری کئے تھے کانسٹیبل ظہیر عباس سمیت 5 پولیس کانسٹیبل نے درخواست دائر کی تھی۔ ، پنجاب پولیس کے کانسٹیبل ظہیر عباس ، صابر حسین اور سعید احمد وغیرہ کا نام قرعہ اندازی کے ذریعے معاونین حج کے لیے آیا تھا-

    درخواست گزاروں موقف اپنا یا تھا کہ آئی جی پنجاب نے بذریعہ قرعہ اندازی 66 لوگوں کے نام حج معاونین کے لئے دیے تھے۔ وزارت حج نے پالیسی کے خلاف اپنے من پسند لوگوں کو حج معاونین مقرر کر دیا تھا مجموعی طور پر 232 حج معاونین میں سے 109 آفیسرز کو بھی حج معاونین مقرر کیا تھا جو غیر قانونی ہے۔ حج معاونین حاجیوں کے مددگار ہوتے ہیں جو ہر محکمے سے بذریعہ قرعہ اندازی لئے جاتے ہیں۔

    اسلام آباد میں پولیس دفاتر، تھانوں اور ٹریفک آفس میں انٹری ایگزیٹ کنٹرول سسٹم انسٹال کرنے کا فیصلہ