Baaghi TV

Tag: ہائی کورٹ

  • عمرسرفرازچیمہ کی بطور گورنرعہدے سے برطرفی کیخلاف درخواست پر سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی

    عمرسرفرازچیمہ کی بطور گورنرعہدے سے برطرفی کیخلاف درخواست پر سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی

    اسلام آباد: ہائی کورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کی بطور گورنر عہدے سے برطرفی کے خلاف درخواست پر سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی : عمر سرفراز چیمہ کی بطور گورنر عہدے سے برطرفی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سماعت کی-

    اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ اور پی ٹی آئی کے نقطہ نظر کا موازنہ کر رہے ہیں،چیف الیکشن کمشنر

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ صدر مملکت نے وزیراعظم کی سفارش پر نئے گورنر کی تعیناتی کر دی ہے،آپ کی درخواست تو غیر موثر ہو چکی ہے-

    پی ٹی آئی وکیل بابر اعوان نے کہا کہ میں اس حوالےہدایات لے لیتا ہوں عدالت نے بابر اعوان کی ہدایات لینے تک کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا منظو ر کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی-

    واضح رہے کہ سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے اپنی برطرفی کا فیصلہ اسلام آبادہائیکورٹ میں چیلنچ کیا تھا

    عمر سرفراز چیمہ نے بابر اعوان ایڈوکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں برطرفی نوٹیفکیشن کالعدم قراردینے کی استدعا کی گئی تھی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹانا غیر قانونی ہے لہذا عدالت فیصلے کو کالعدم قرار دیکر دوبارہ عہدے پر بحال کرے آئین کے مطابق گورنر صوبے میں وفاق کا نمائندہ ہے، گورنر پنجاب ایگزیکٹو کا حصہ نہیں ہوتا اور صدرکی خوشنودی پر گورنر عہدے پر قائم رہ سکتا ہے۔

    پاکستان ترک سرمایہ کاروں کا دوسرا گھر ہے،وزیر اعظم شہباز شریف

    درخواست میں کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کو بلا اختیار ہے اور ماورائے آئین قرار دیتے ہوئےکہا گیا تھا کہ صدرکے اختیارات کو رولزکے تحت ختم نہیں کیا جا سکتا، وزیراعظم نے اپنے بیٹے کے فائدے کے لیے غیرقانونی طور پر ہٹایا، پنجاب میں آئینی بحران پیدا کر دیا گیا ہے، کابینہ ڈویژن سے نوٹیفکیشن جاری کرانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

    بعد ازاں عمر سرفراز چیمہ کی بطور گورنر عہدے سے برطرفی کے خلاف درخواست پر اعتراض عائد کر دیا گیا تھا سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے اپنی برطرفی کے فیصلےکو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے وزیراعظم کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی تھی۔

    تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار نے سابق گورنر کی درخواست پر اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاملہ پنجاب کا ہے، یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔

    خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹانے کی سمری بھیجی گئی تھی تاہم صدر مملکت نےوزیراعظم کی سمری مسترد کر دی تھی تاہم بعد ازاں آئینی مدت پوری ہونے کےبعد عمر سرفراز چیمہ کو گورنر پنجاب کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

    سندھ ہائی کورٹ نے درختوں کی کٹائی کے خلاف درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر…

  • غیرقانونی تعمیرات؛سندھ ہائیکورٹ کاعمارت کےمالک کا پتا لگانےکاحکم

    غیرقانونی تعمیرات؛سندھ ہائیکورٹ کاعمارت کےمالک کا پتا لگانےکاحکم

    کراچی : ناظم آباد نمبر5 میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف درخواست پرعدالت نے پولیس اورایس بی سی اے کوعمارت کے مالک کا پتا لگانے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران عدالت کے حکم پربلڈرشاہد کوعدالت میں پیش کیا گیا۔ بلڈر نے عمارت کی ملکیت سے متعلق اظہارلاتعلقی کرتے ہوئے بیان دیا کہ میرا اس بلڈنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    وکیل ایس بی سی اے نے عدالت کو بتایا کہ ایس بی سی اے کے وکیل کا بھی اس بلڈنگ کی تعمیرات اور مالک کے بارے میں معلومات نہیں مل سکی ہیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ کیا جنات نے ایک دم پانچ منزلہ عمارت کھڑی کردی ؟ نہ کسی کو عمارت کا پتہ ہے اور نہ مالک کا پتہ ہے۔ کیا اندھیرنگری مچا رکھی ہے۔عدالت نے وکیل ایس بی سی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات ایس بی سی اے کے کرپٹ افسران کی نگرانی میں ہورہی ہیں۔ تم لوگ ہی غیر قانونی تعمیرات کراتے ہو شرم آنی چاہیے۔ غیر قانونی تعمیرات بھی کراتے ہو اس کی مارکیٹنگ بھی کراتے ہو۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ہم نے ایس بی سی اے کو کہا تھا غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران کے نام سامنے لائے جائیں۔وکیل ایس بی سی اے نے بتایا کہ ایس بی سی اے نے تحقیقات کے لیے کمیٹی بنادی ہے۔عدالت نے کہا کہ کمیٹی کیا خاک کام کرے گی جن کو شوکاز نوٹس بنانا تک نہیں آتا تماشا بنا رکھا ہے۔ ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر چورہیں کیا یہ عمارت ایک دو دن میں بن گئی۔ ایس بی سی اے نے نااہل ترین وکلاء کو بھرتی کررکھا ہے۔ جن میں کوئی صلاحیت نہیں ہے وہ تحقیقات خاک کریں گے۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ غیرقانونی طور پر پورشںنز بنا کر ایک ایک کروڑ روپے میں بیچے جا رہے ہیں۔ توڑنے کا حکم دیں گے تو وہ غریب بیچارہ جس نے خریدا ہے زمین پر آ جائے گا۔عدالت نے پولیس اورایس بی سی اے کوعمارت کے مالک کا پتہ لگانے کا حکم دیتے ہوئے بلڈرشاہد سے عمارت کی ملکیت سے متعلق حلف نامہ طلب کرلیا۔درخواست کی مزید سماعت اگست کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔

  • عدالت کا لانگ مارچ کے شرکاء کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    عدالت کا لانگ مارچ کے شرکاء کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری، راستوں کی بندش سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی عدالت نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ آپ بیان حلفی نہیں دے سکتے تو پھر عدالت کیسے عمومی آرڈر جاری کردے؟-

    دوران سماعت پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نےکہا کہ گزشتہ رات ملک بھر میں پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کوگرفتاراور ہراساں کیا جارہا ہے –

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ دھرنوں اور جلسوں سے متعلق سپریم کورٹ کا احکامات واضح ہیں – بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کارکنوں کو اکٹھے ہونے سے نہیں روکا جاسکتا -چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ دھرنا کیس میں قواعد و ضوابط واضح کر چکی ہے چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قواعدِ و ضوابط پر عمل کیا جائے-چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کیا کہ آپ پہلے ضلعی انتظامیہ سے اجازت لیں-

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مسئلہ اجازت کا نہیں کارکنوں کو گرفتار کیا جارہا ہے-چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پرامن احتجاج آپ کا حق ہے آپ عدالت سے عمومی حکم مانگ رہے ہیں عدالت عمومی حکم نامہ جاری نہیں کرسکتی کل کو خدانخواستہ کوئی واقعہ ہو جائے یہ عدالت عمومی آرڈر جاری نہیں کرسکتی سپریم کورٹ کے دھرنا کیس کے فیصلے کے مطابق ہدایات دے دیتے ہیں- بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ وکلا، سابق ججز کے گھروں تک پر چھاپے مارے جارہے ہیں -چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا بیان حلفی دے سکتے ہیں کہ کوئی واقعہ نہیں ہوگا اگر ہوا تو آپ ذمہ دار ہونگے؟ آپ بیان حلفی نہیں دے سکتے تو پھر عدالت کیسے عمومی آرڈر جاری کردے؟-

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے استدعا کی کہ میں عدالتی فیصلوں کا جائزہ لے کر عدالت کی معاونت کر دیتا ہو-عدالت نے بیرسٹر علی ظفر کو عدالتی فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے وقت دے دیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کردیا-

    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لانگ مارچ کے حوالے سے اس کورٹ کے دائرہ کار سے گرفتاریوں کو روکا جائے، عدالت نے استفسارکیا کہ کیا آپ نے ضلعی انتظامیہ کو درخواست دے دی ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نے 25 مئی کو ریلی کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو درخواست دے دی ہے-

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بلینکٹ آرڈر تو یہ عدالت نہیں دے سکتی کیونکہ یہاں پر حساس عمارتیں ہیں، یہاں پر ایمبیسیز ہیں اس طرح کا آرڈر تو جاری نہیں کر سکتے، عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا جائے یہ عدالت محض خدشے کے پیش نظر حکم جاری نہیں کرسکتی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے کارکنان اور لانگ مارچ کے شرکاء کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نوعیت کی ہراسگی یا گرفتاری پر آئی جی پولیس سے جواب طلبی ہو گی

    معیشت اورعوام کوبچانےکےلیےریڈلائن لگانے کا وقت آگیا ہے،مریم اورنگزیب

    آپ بیان حلفی نہیں دے سکتے تو پھر عدالت کیسے عمومی آرڈر جاری کردے؟ ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی وکیل سے استفسار

    پرامن احتجاج اور مارچ ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، شاہ محمود قریشی

    ملتان میں پولیس کریک ڈاون ،پی ٹی آئی کے 70 سے زائد کارکنان گرفتار

    پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کے گھروں پرچھاپے،عمران خان کا ردعمل

    ماڈٌل ٹاؤن میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ کے گھر چھاپہ،دوران فائرنگ پولیس اہلکار شہید

    ’خونی مارچ ہوگا‘ کے اعلانانات کرنے والوں سے حساب لیں گے،وزیر داخلہ

    لال حویلی، پولیس چھاپے کے دوران رکن اسمبلی گرفتاری سے بچنے کیلئے پچھلے گیٹ سے فرار

  • سینیئرصحافی ارشد شریف کی حفاظتی ضمانت منظور

    سینیئرصحافی ارشد شریف کی حفاظتی ضمانت منظور

    اسلام آباد:صحافی ارشد شریف کی حفاظتی ضمانت منظور،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد‎ ‎ہائی کورٹ نے اے آر وائی نیوز سے منسلک سینئر ‎صحافی ارشد‎ ‎شریف کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صحافی ارشد شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے 20 روز تک پولیس کو صحافی کی گرفتاری سے روک دیا۔

    قبل ازیں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی ارشد شریف کی درخواست آج رات ساڑھے گیارہ بجے سماعت کے لیے مقرر کی تھی۔چیف جسٹس نے آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی تھی کہ وہ ارشد شریف کی حاضری میں معاونت کریں۔

    صحافی ارشد شریف کے خلاف حیدر آباد میں مقدمہ درج ہے۔ مقدمہ ریاستی اداروں کے خلاف گفتگو کرنے کے تحت درج کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ طیب حسین نامی نوجوان نے گزشتہ روزمقدمہ درج کرایا ہے۔

    دوسری جانب کراچی: اے آر وائی نیوز سے منسلک صحافی صابر شاکر کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ صابر شاکر پر میرپور خاص میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔صابر شاکر پر مہران پولیس اسٹیشن میرپور خاص میں مقدمہ درج ہوا۔ اداروں کے خلاف بیان دینے پر صابر شاکر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    مقدمہ محمود حسن نامی شہری کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں دفعہ 153، 505 اور 131 شامل کی گئی۔

  • ڈی جی والڈ سٹی کی تقرری کیخلاف درخواست : سماعت 14 دنوں کے لیے ملتوی کردی گئی

    ڈی جی والڈ سٹی کی تقرری کیخلاف درخواست : سماعت 14 دنوں کے لیے ملتوی کردی گئی

    لاہور:ڈی جی والڈ سٹی کی تقرری کیخلاف درخواست : سماعت 14 دنوں کے لیے ملتوی کردی گئی ،اطلاعات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے ڈی جی والڈ سٹی کی تقرری کے خلاف درخواست پرسماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

    تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں ڈی جی والڈ سٹی کی تقرری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔سرکاری وکیل نے جواب داخل کرنے کے لیے عدالت سے مہلت طلب کی جس پر لاہورہائی کورٹ نے درخواست پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئےہدایت کی کہ اس نوعیت کی تمام درخواستوں کو اکٹھا کرکے لگائی جائیں۔

    جسٹس شجاعت علی نے شہری ضیاءالدین کی درخواست پر سماعت کی جس میں دخواست گزارنے ڈی جی والڈ سٹی کامران لاچاری، سیکریٹری قانون پنجاب، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کو فریق بنایا ہے۔وکیل درخواست گزارنے عدالت کو بتایا کہ کامران لاشاری 70 سال سے زائد العمرہیں۔ وہ 2012 میں مدت ملازمت پوری ہونے پرریٹائرڈ ہوئے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کو کنٹریکٹ پر والڈ سٹی کا پہلا ڈی جی لگا دیا گیا۔ ان کے کنٹریکٹ کی مدت 2021 میں ختم ہوگئی اور غیرقانونی کنٹریکٹ میں تین سالہ توسیع دے دی گئی۔

    درخواست گزار نے مؤقف پیش کیا کہ زائد العمر ہونے کی بنا پر کامران لاشاری کے کنٹریکٹ میں توسیع نہیں دی جا سکتی تھی۔ ایسا کیا جانا والڈ سٹی ایکٹ 2012 کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔وکیل درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت کامران لاشاری کی بطور ڈی جی تقرری کالعدم قراردے۔

  • ‘گورنرپنجاب کوئی درباری اوتھ کمشنرنہیں’:کسی دباوپرغیرآئینی کام نہیں‌ کرسکتا:گورنرپنجاب

    ‘گورنرپنجاب کوئی درباری اوتھ کمشنرنہیں’:کسی دباوپرغیرآئینی کام نہیں‌ کرسکتا:گورنرپنجاب

    لاہور: ‘گورنرپنجاب کوئی درباری اوتھ کمشنرنہیں’:کسی دباوپرغیرآئینی کام نہیں‌ کرسکتا:اطلاعات کے مطابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ آئین کسی کو اختیار نہیں دیتا کہ کوئی مجھ پر غیرآ ئینی کام کیلئےدباؤ ڈالے۔

    تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ آج گورنر پنجاب کوئی درباری اوتھ کمشنر نہیں ہے، اپنے حلف کی پاسداری اور ذمہ داری سے بخوبی واقف ہوں۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ آئین کسی کو اختیار نہیں دیتا کوئی مجھ پر غیر آئینی کام کیلئےدباؤ ڈالے۔

     

    واضح رہے کہ لاہورہائی کورٹ نے صدر مملکت کو نومنتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے حلف لینے کیلئے دوسرے فرد کو مقرر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے چار صفحات پرمشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے تحت گورنر نو منتخب وزیر اعلیٰ سے فوری حلف لینے کا پابند ہے، آئین کے آرٹیکل 130 کے تحت گورنر کو نومنتخب وزیر اعلیٰ کو بلانے کے علاوہ کوئی چارا نہیں ہے۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ امید ہے صدر مملکت گورنر کے خط کا انتظار نہیں کریں گے۔

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کرنے والے لڑکے کو مؤذن بنا دیا گیا تھا،شگفتہ جمانی

  • حمزہ شہباز کی حلف لینے سے متعلق درخواست پر عدالتی فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    حمزہ شہباز کی حلف لینے سے متعلق درخواست پر عدالتی فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    لاہور : ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حمزہ شہباز کی حلف لینے سے متعلق درخواست پر فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا آئین کے تحت صدر اور گورنر کو ہدایات جاری نہیں کی جاسکتیں۔

    تفصیلات کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حمزہ شہباز کی درخواست پر فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کردیا اور کہا گورنر کو نوٹس ہی نہیں کیا گیا اور نہ ان کوسنا گیا۔

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا کہنا تھا کہ صدر کیس میں فریق نہیں تھے انہیں کیسے ہدایات جاری ہوسکتی ہیں، آئین کے تحت صدر اور گورنر کو ہدایات جاری نہیں کی جاسکتیں۔

    یاد رہے لاہورہائی کورٹ میں نو منتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہبازسےحلف نہ لینے کے خلاف کیس میں صدر مملکت کو نومنتخب وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز سے حلف لینے کیلئے دوسرے فرد کو مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ صدر پاکستان کو عدالتی فیصلے کی کاپی بھجوائی جائے اور صدر مملکت 24 گھنٹے میں کسی اور کو حلف لینے کیلئے مقرر کریں۔

    لاہورہائی کورٹ نے صدر مملکت کو نومنتخب وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز سے حلف لینے کیلئے دوسرے فرد کو مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گورنرپنجاب حلف لینےسے انکار نہیں کرسکتے۔

    تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں نو منتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہبازسےحلف نہ لینے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب دلائل کے لئے پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے مکالمے میں کہا کہ آپ ایک اہم کیس میں پیش ہوئےہیں، آپ کومکمل تیاری کرکے آنی چاہیے تھی، اسمبلی میں ہونیوالی پروسیڈنگ کوہم ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں؟

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کرنے والے لڑکے کو مؤذن بنا دیا گیا تھا،شگفتہ جمانی

  • ڈپٹی اسپیکر ہی وزیراعلیٰ کا الیکشن کروائے گا:لاہور ہائیکورٹ کےفیصلےنے ن لیگ کوکُمک پہنچادی

    ڈپٹی اسپیکر ہی وزیراعلیٰ کا الیکشن کروائے گا:لاہور ہائیکورٹ کےفیصلےنے ن لیگ کوکُمک پہنچادی

    لاہور:ڈپٹی اسپیکر ہی وزیراعلیٰ کا الیکشن کروائے گا:لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے نے ن لیگ کوکُمک پہنچادی ،اطلاعات کے مطابق ہائیکورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے فیصلہ سنایا ہے کہ وزارت اعلیٰ کے لئے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ہی الیکشن کروائے گا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے ڈپٹی اسپیکر کو اختیارات دینے سے متعلق سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف پاکستان مسلم لیگ (ق) کی اپیلیں خارج کی ہیں۔
    پی پی رہنما راجا پرویز اشرف بلامقابلہ اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوگئے ہیں ان کے مقابلے کسی اور امیدوار کے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے۔

    پی پی پی رہنما راجا پرویز اشرف بلامقابلہ اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوگئے ہیں۔ آج اسپیکر کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جانے کے آخری وقت تک راجا پرویز اشرف کے مقابل کسی اور امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے جس کے بعد انہیں بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس کل دن 12 بجے طلب کرلیا گیا ہے۔شیڈول کے مطابق کل کے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس تاخیر سے بلانے کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاق، قاسم سوری اور سیکریٹری قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

  • پیکا آرڈیننس غیرآئینی نہیں:لاہورہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ

    پیکا آرڈیننس غیرآئینی نہیں:لاہورہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ

    لاہور:پیکا آرڈیننس غیرآئینی نہیں:لاہورہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ،اطلاعات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایک اہم کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیکاایکٹ کاسیکشن20آئینی ہے،

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے یہ فیصلہ معروف کیس جس میں میشا شفیع اور علی ظفر فریق تھے کی سماعت کے دوران یہ اہم ریمارکس دیئے ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئین کاآرٹیکل19جہاں آزادی اظہار کاحق دیتاہےوہیں کچھ پابندیاں بھی عائدکرتا ہےسیکشن20ایسےشحض کےخلاف کارروائی کااختیار دیتاہےجوکسی فرد کی عزت مجروح کرے پیکاایکٹ کاسیکشن20غیرآئینی نہیں

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیکا ایکٹ کا سیکشن20غیر آئینی نہیں ہتک عزت دعوی ٰ،فوجداری کارروائی ساتھ چل سکتے،میشا شفیع کے خلاف ایف آئی اے کا مقدمہ ختم کرنے کی درخواست جرمانہ کے ساتھ مسترد کی جاتی ہے

    یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے 30 صفحات پر یہ تاریخی فیصلہ معروف کیس میں دیا ہے جس میں گلوکار علی ظفر اور گلوکارہ میشا شفیع فریق تھے

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”471693″ /]

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے عدالت نے گلوکار اور اداکار علی ظفر کا ایف آئی اے میں درج کرایا گیا مقدمہ خارج کرنے کے لیے میشاء شفیع کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا، خیال رہےعدالت عالیہ نے میشاء شفیع پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے درخواست خارج کردی۔

    میشا شفیع نے علی ظفر پر انہیں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے کا الزام لگا رکھا ہے، اس حوالے سے دونوں کے درمیان عدالتی جنگ جاری ہے۔علی ظفر نے میشاء شفیع سمیت دیگر افراد کے خلاف ایف آئی اے میں مقدمہ درج کررکھا ہے۔میشا شفیع کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں یہ مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

    گلوکارہ کی جانب سے دائر درخواست میں وفاقی حکومت، ایف آئی اے اور علی ظفر کو فریق بنایا گیا تھا۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دونوں فریقین کا سول کورٹ میں ہتک عزت کا کیس چل رہا ہے، دیوانی مقدمہ زیر سماعت ہونےکے دوران فوجداری مقدمہ درج نہیں کرایا جاسکتا، اس لئے عدالت ایف آئی اے کو میشاء شفیع سمیت دیگر ملزمان کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کا حکم دے۔

    لاہور ہائیکورٹ میں میشا شفیع کی ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر کی ایف آئی اے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج کردیں۔

    علی ظفر نے عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں سوال کیا ہے ’’محترمہ (میشا شفیع) سے بڑی عزت سے صرف ایک سوال پوچھئے گا کہ وہ کیا حقیقت ہے جس کے نمایاں ہوجانے کے ڈر سے وہ عدالت سے اتنے سال کہتی رہیں کہ کووڈ میں کینیڈا سے عدالت نہیں آسکتیں مگر پھر کوک اسٹوڈیو کے لیے فوراً آپہنچیں اور پھر عدالت کو بتائے بغیر اپنی جرح بیچ میں چھوڑ کر واپس چلی گئیں؟‘‘

    علی ظفر نے ایک اور ٹوئٹ میں میشا شفیع سے سوال پوچھا ’’اور پھر نہایت احترام سے پوچھیے گا کہ کیا وہ میرے ہرجانے کے کیس میں جہاں ان کو ان کا موقف بیان کرنے کا پورا موقع دیا جار ہاہے، اپنی جرح مکمل کروانے کے لیے اس ہفتے کی 12 تاریخ کو عدالت آئیں گی؟ یا پھر سے نہیں آئیں گی؟‘‘۔

    واضح رہے کہ میشا شفیع سمیت دیگر نے اپنے خلاف درج ایف آئی اے کے مقدمے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ میشا شفیع نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ایف آئی اے نے علی ظفر کی درخواست پر حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا جبکہ ایف آئی اے نے ملزمان کا موقف لیے بغیر مقدمہ درج کیا۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمہ خارج کرنے کا حکم دے۔

  • دکانوں کے فٹ پاتھ کرائے پر دینے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے: ہائیکورٹ کا حکم

    دکانوں کے فٹ پاتھ کرائے پر دینے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے: ہائیکورٹ کا حکم

    لاہور:دکانوں کے فٹ پاتھ کرائے پر دینے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے: اطلاعات کے مطابق لاہورہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کیلئے دائر متفرق درخواست میں تجاوزات کے مرتکب افراد کو بھاری جرمانے اور دکانوں کے فٹ پاتھ کرائے پر دینے والوں کیخلاف کارروائی کا حکم دے دیا ۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق کی متفرق درخواست پر سماعت کی، جوڈیشل واٹر کمیشن کی طرف سے سید کمال حیدر ایڈووکیٹ، ایل ڈی اے کی طرف سے صاحبزادہ مظفر، ڈائریکٹر ٹیپا وقار اسلم پیش رفت رپورٹ سمیت پیش ہوئے، جوڈیشل واٹر کمیشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ عدالت نے پنجاب میں گندگی پھیلانے والوں پر جرمانے عائد کرنے کا حکم دیا تھا مگر عملدرآمد نہیں ہوا،

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے دوران سماعت کہا کہ تجاوزات ٹریفک جام کی وجہ بنتی ہے، اس لئے تجاوزات والوں کو بھاری جرمانے کیے جائیں، ہٹائی گئی تجاوزات دوبارہ قائم ہونے پر ذمہ دار فیلڈ افسر کیخلاف کارروائی کی جائے،

    جوڈیشل واٹر اینڈ انوائرمنٹل کمیشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ غریبوں کی ریڑھیاں اٹھا کر تصویریں بناکر رپورٹ تیار کر لیتے ہیں، مگر امیر لوگوں کیخلاف کارروائی نہیں کرتے، کمیشن نے سڑکوں پر تجاوزات کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے مگر ایل ڈی اے تجاوزات کے عوض رشوت لیتا ہے، دکانداروں نے فٹ پاتھوں پر قبضے کر رکھے ہیں، دکاندار فٹ پاتھوں کے کرائے وصول کر رہے ہیں۔

    جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں دوران سماعات ڈی ایس پی ٹریفک نے عدالت کو بتایا کہ ٹریفک پولیس تجاوزات کیخلاف آپریشن میں ساتھ ہوتی ہے،مسئلہ یہ ہے کہ سڑکوں پر ایک طرف تجاوزات ختم کرتے ہیں تو چند گھنٹوں بعد تجاوزات پھر قائم ہو جاتی ہیں۔

    ڈائریکٹر ٹیپا نے عدالت کو بتایا کہ لاہور میونسپل کارپوریشن زیر تعمیر عمارتوں کی انسپکشن کئے بغیر این او سیز جاری کر رہا ہے، لاہور میونسپل کارپوریشن عمارتوں کے نقشوں کی منظوری کے بعد رپورٹ ٹیپا کو بھی بھجوانے کا پابند ہے، ایم سی ایل کی طرف سے ٹیپا کیساتھ تعاون نہیں کیا جا رہا، ایم سی ایل کے زیر انتظام علاقوں میں عمارتوں کے نقشوں کے این او سیز کیلئے ٹیپا کی منظوری لازم قرار دی جائے۔

    جسٹس شاہد کریم نے قرار دیا کہ شہر میں پی ایس ایل کی وجہ سے ٹریفک کے دبائو میں بہتری آئی ہے، سی ٹی او کا شکریہ کہ انہوں نے ٹریفک جام کو کم کیا، عدالت سی ٹی او کے اقدام کو سراہتی ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 3 مارچ تک ملتوی کردی۔