Baaghi TV

Tag: ہندوستان

  • ہندوستان میں نبی کریم ﷺ کے دور میں بننے والی  پہلی مسجد

    ہندوستان میں نبی کریم ﷺ کے دور میں بننے والی پہلی مسجد

    چیرامن جمعہ مسجد 629ء میں ملک ابن دینار نے تعمیر کروائی تھی ہندوستان کی پہلی اور دنیا کی دوسری مسجد سمجھی جاتی ہے جہاں نماز جمعہ شروع کی گئی تھی، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مسجد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دوران تعمیر کی گئی تھی۔

    اسلام کی عالمگیر تاریخ کا ایک نہایت اہم اور ایمان افروز باب ہندوستان میں پہلی مسجد کی تعمیر ہے، جسے آج ”چیرامن جُمعہ مسجد“ کے نام سے جانا جاتا ہے یہ مسجد ریاست کیرالہ کے تاریخی شہر کوڈُنگَلور میں واقع ہے اور اسے برصغیر میں اسلام کی آمد کی اولین اور اہم ترین نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے مسجد کئی صدیوں کے دوران متعدد بحالی اور تزئین و آرائش سے گزر چکی ہے۔مسجد کا فن تعمیر اس کے مختلف ڈیزائن اور ساخت کے لیے مشہور ہے –

    یہ خیال کیا جاتا ہے کہ 11ویں اور 18ویں صدی کے دوران مسجد کی تزئین و آرائش کے بعد اصل شکل 1974 تک برقرار رہی جب مزید تزئین و آرائش کی گئی اس دوران اس کے پرانے اسٹرکچر کی جگہ ایک نئی عمارت بنائی گئی یہاں تک کہ جب اتنا وسیع کام کیا گیا تو مسجد کے اندرونی حصے بشمول اس کے حرم، لکڑی کی سیڑھیاں اور چھت کو برقرار رکھا گیا یہ علاقے اب بھی ماضی کی تعمیراتی عظمت کو برقرار رکھتے ہیں۔ مسجد کی ایک دلچسپ خصوصیت جس نے صدیوں سے عقیدت مندوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے وہ یہاں موجود قدیم تیل کا چراغ ہے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ چراغ مسجد کے آغاز سے ہی مسلسل جل رہا ہے۔

    بلوچستان میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں، 14 دہشت گرد جہنم واصل

    کیرالہ کا پہلا اسلامی ثقافتی ورثہ میوزیم بھی مسجد کمپلیکس میں مزیرس ہیریٹیج کمپلیکس کے ایک حصے کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ میوزیم ریاست میں اسلام کی تاریخ کو بصری میڈیا اور معلوماتی پینلز کے ذریعے دکھاتا ہے چیرامن پیرومل کی کہانی کو دیواروں اور پینٹنگز کے ذریعے بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے سمعی و بصری پیشکشیں زائرین کو مسلم حکمرانوں کی تاریخ اور ہندوستان کی آزادی کی لڑائی میں کوڈنگلور کے کردار سے آگاہ کرتی ہیں،کوڈنگلور ٹاؤن سے بمشکل 2 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع چیرامن جمعہ مسجد قوم کی اسلامی روایات کی ایک شاندار نمائندگی کرتی ہے۔

    یہ مسجد اپنی تعمیر کے بعد سے مسلسل موجود ہے اور مختلف ادوار میں اس کی مرمت اور توسیع ہوتی رہی جس میں 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں گنبد اور مینار بھی شامل ہوئے، تاہم 2022 کی مرمت میں انہیں ہٹا کر قدیم ساخت کو زیادہ سے زیادہ بحال کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ اس کی اصل تاریخی حیثیت برقرار رہے حالیہ برسوں میں کیرالہ حکومت کے موزِرِس ہیریٹیج پروجیکٹ کے تحت اس مسجد کی باقاعدہ بحالی اور تحفظ کا کام کیا گیا، جس کا مقصد اس عظیم اسلامی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنانا تھا۔

    تاریخی روایات کے مطابق اس مسجد کی تعمیر 629 عیسوی میں ہوئی، جو نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے مبارک دور کا زمانہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس مسجد کو عالم اسلام میں ایک منفرد اور غیر معمولی مقام حاصل ہے کیرالہ کی اسلامی روایات اور بعض تاریخی ماخذ کے مطابق اس مسجد کی تعمیر کا پس منظر اس و قت کے مقامی حکمران چِرامَن پِرومَل کے قبولِ اسلام سے جڑا ہوا ہے۔

    بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

    روایت کے مطابق انہوں نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا حیرت انگیز واقعہ (شق الاقمر) دیکھا، جس کے بارے میں عرب تاجروں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ معجزہ آخری نبی ﷺ کا ہے اس کے بعد وہ عرب کی طرف روانہ ہوئے اور اسلام قبول کیا واپسی سے قبل انہوں نے اپنے علاقے میں مسجد تعمیر کرنے کی ہدایت جاری کی۔

    اس مسجد کی تعمیر اور اسلام کی دعوت کے فروغ میں مشہور تابعی اور بزرگ عالم مالک بن دینار کا نام خاص طور پر نمایاں ہے تاریخی روایات کے مطابق وہ عرب سے ہندوستان آئے اور انہوں نے کیرالہ کے ساحلی علاقوں میں اسلام کی تبلیغ کی اور کئی مساجد کے قیام میں کردار ادا کیا۔

    بعض تاریخی روایت کے مطابق، چرمن پرومل مکہ میں قیام کے دوران وفات پا گئے تھے اپنی موت سے قبل انہوں نے خطوط لکھے اور اپنے دوستوں کے ذریعے مقامی حکمرانوں کو بھیجے خطوط میں چرمن پرومل نے کہا کہ مالِک بن دینار اور ان کے ساتھیوں کا احترام کیا جائے اور انہیں مساجد بنانے کی اجا زت دی جائے بعد میں یہ خطوط مالِک بن دینار کے ہاتھ لگے اور اسی کے نتیجے میں ہندوستان کی پہلی مسجد، چرمن جمعہ مسجد، کوڈُنگَلور میں قائم ہوئی مالِک بن دینار نے بعد میں کیرالہ کے مختلف علاقوں میں بھی مساجد قائم کیں روایت میں چرمن پرومل کے انتقال کی جگہ عمان کے علاقے ظُفار کا ذکر بھی موجود ہے۔

    بنگلہ دیش: وزیراعظم طارق رحمان نے 5 اہم وزارتیں اپنے پاس رکھ لیں

    ان روایات کا ذکر متعدد تاریخی کتابوں میں ملتا ہے جن میں امام ابن حجر عسقلانی کی ”الاصابہ فی تمییز الصحابہ“، شیخ زین الدین مخدوم کی ”تحفۃ المجاہدین“ اور برطانوی مؤرخ ولیم لوگن کی ”مالابرمینوئل“ شامل ہی۔ اگرچہ جدید مؤرخین اس روایت کو تاریخی روایت اور مقامی روایت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

    کوڈُنگَلور کا علاقہ قدیم زمانے میں ’موزِرِس‘ نامی عظیم بندرگاہ کے قریب واقع تھا، جو اس دور میں عالمی تجارت کا ایک بڑا مرکز تھا۔ عرب تاجر صدیوں سے یہاں آتے تھے اور مقامی آبادی کے ساتھ تجارت کے ساتھ ساتھ اپنے اعلیٰ اخلاق اور کردار کے ذریعے اسلام کا پیغام بھی پہنچاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کیرالہ ہندوستان کا وہ خطہ بنا جہاں سب سے پہلے اسلام متعارف ہوا اور مقامی سطح پر قبول کیا گیا۔

    کیرالہ کے مسلمان، جنہیں تاریخی طور پر ’مپیلا‘ کہا جاتا ہے، صدیوں سے اس خطے کی تجارت، ثقافت اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کی تاریخ براہ راست ان ابتدائی عرب تاجروں اور مبلغین سے جڑی ہوئی ہے جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں یا اس کے فوراً بعد یہاں پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ کیرالہ کی اسلامی روایت کو برصغیر میں سب سے قدیم اسلامی روایات میں شمار کیا جاتا ہے۔

    پشاور ہائیکورٹ کے حکم پرموٹروے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی

    چیرامن جمعہ مسجد نہ صرف ایک تاریخی عبادت گاہ ہے بلکہ یہ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی بھی ایک خوبصورت مثال ہے۔ مقامی روایات کے مطابق رمضان المبارک کے دوران اس مسجد میں افطار کے انتظام میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی حصہ لیتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ اسلام نے اس خطے میں امن، احترام اور باہمی بھائی چارے کو فروغ دیا۔​

    یہ مسجد آج بھی اس حقیقت کی زندہ علامت ہے کہ اسلام اپنی ابتدا ہی سے ایک عالمگیر مذہب تھا اور نبی کریم ﷺ کی زندگی مبارک میں ہی اس کا پیغام عرب سے نکل کر دنیا کے دور دراز علاقوں تک پہنچ چکا تھا۔

    چیرامن جمعہ مسجد نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک تاریخی اور روحانی ورثہ ہے، آج بھی یہاں باقاعدہ نمازیں ادا ہوتی ہیں اور مختلف مذاہب کے لوگ یہاں تاریخ، ثقافت اور مذہبی ہم آہنگی کے پیغام کو سمجھنے کے لیے آتے ہیں۔

    وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کو کا رمضان میں کیا ریلیف پیکج دے رہی ہیں؟

    تاریخی حوالہ جات میں خاص طور پر ”تحفة المجاہدین، ”الاصابہ فی تمییز الصحابہ“، ”مالابر مینوئل“، ”ہسٹری آف کیرالہ“ اور آثار قدیمہ کے سرکاری ریکارڈ شامل ہیں، جن میں اس مسجد اور کیرالہ میں اسلام کی ابتدائی تاریخ کا ذکر موجود ہے۔ یہ تمام شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برصغیر میں اسلام کی جڑیں انتہائی قدیم اور نبی کریم ﷺ کے مبارک دور سے قریب تر زمانے تک پہنچتی ہیں، اگرچہ بعض جدید محققین اس کی تعمیر کے زمانے پر تحقیقی تنقید بھی کرتے ہیں۔

  • رمیش چندر دت ایک ہندوستانی سول سرونٹ اور  معاشی مورخ

    رمیش چندر دت ایک ہندوستانی سول سرونٹ اور معاشی مورخ

    رمیش چندر دت (13 اگست 1848ء –- 30 نومبر 1909ء) ایک ہندوستانی سول سرونٹ، معاشی مورخ، مصنف اور رامائن و مہابھارت کے مترجم تھے۔

    رمیش چندر دت کی پیدائش ایک ممتاز کائستھ بنگالی خاندان میں ہوئی۔ اس خاندان کے افراد اپنے ادبی و علمی اکتسابات کی بنا پر خاصے معروف تھے۔ ان کی والدہ کا نام تھکامنی اور والد کا ایسام چندر دت تھا۔ ان کے والد بنگال میں ڈپٹی کلکٹر تھے اور رمیش اکثر دفتری فرائض میں ان کے ساتھ ہوتے۔ ابتدا میں انھوں نے متعدد بنگالی اسکولوں میں پڑھا، پھر کلکتہ کے ہیئر اسکول میں داخل ہوئے۔ سنہ 1861ء میں ان کے والد مشرقی بنگال میں ایک حادثے میں وفات پا گئے۔ والد کی بے وقت موت کے بعد ان کے چچا اور معروف مصنف شوشی چندر دت ان کی کفالت کرنے لگے۔ رمیش انیسویں صدی عیسوی کے بنگال کی انتہائی مشہور شاعرہ تورو دت کے عزیزوں میں تھے۔

    رمیش سنہ 1864ء میں کلکتہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ سنہ 1866ء میں آرٹس کے پہلے امتحان میں دوسرے نمبر سے کامیاب ہوئے اور وظیفہ پایا۔ ابھی وہ بی اے کے طالب علم ہی تھے کہ سنہ 1868ء میں اپنے خاندان کی اجازت کے بغیر اپنے دو دوستوں بہاری لال گپتا اور سریندرناتھ بنرجی کے ساتھ لندن چلے گئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    اُس وقت تک محض ایک اور ہندوستانی ستیندر ناتھ ٹیگور ہی انڈین سول سروس کے اہل سمجھے گئے تھے۔ دت نے ان کی ہمسری کا ارادہ کیا۔ یونیورسٹی کالج لندن میں رمیش دت نے برطانوی مصنفین کا مطالعہ جاری رکھا۔ سنہ 1869ء میں وہ انڈین سول سروس کے امتحان میں کامیاب ہوئےاور تیسرا مقام حاصل کیا۔ 06 جون 1871ء کو آنریبل سوسائٹی آف دی مڈل ٹیمپل نے انھیں بار کاؤنسل میں مدعو کیا۔
    ابھی رمیش چندر دت بر سر منصب ہی تھے کہ بڑودا میں 30 نومبر 1909ء کو 61 برس کی عمر میں وفات پائی۔

  • بھارت کا ورلڈ کپ کے دوران پاکستان کے ساتھ کوئی خاص سلوک کرنے سے انکار

    بھارت کا ورلڈ کپ کے دوران پاکستان کے ساتھ کوئی خاص سلوک کرنے سے انکار

    ہندوستان کے سرکاری ترجمان ارندم باغچی کی وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ کوئی خاص سلوک نہیں کیا جائے گا۔ہمارے لیے پاکستانی ٹیم کسی بھی دوسری ٹیم کی طرح اہم ہے۔ کوئی خاص رعایت نہیں کی جائے گا جب اور جہاں بھی ضرورت ہوگی مناسب کور فراہم کیا جائے گا،گزشتہ ہفتے پاکستان کی حکومت نے قومی ٹیم کو اس سال اکتوبر نومبر میں بھارت میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے گرین سگنل دیا تھا۔وزارت خارجہ نے ایک پریس ریلیز میں کہا، پاکستان نے مسلسل اس بات کو برقرار رکھا ہے کہ کھیلوں کو سیاست کے ساتھ نہیں ملایا جانا چاہیے۔ اس لیے اس نے آئندہ آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2023 میں شرکت کے لیے اپنی کرکٹ ٹیم کو بھارت بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ .تاہم وزارت خارجہ نے بھارت میں قومی ٹیم کی سکیورٹی پر تحفظات کا اظہار کیا۔پاکستان اپنی ورلڈ کپ مہم کا آغاز 6 اکتوبر کو راجیو گاندھی انٹرنیشنل اسٹیڈیم، حیدرآباد میں ہالینڈ کے خلاف کرے گا۔آئی سی سی ورلڈ کپ 2023 کے لیے پاکستان کا شیڈول یہ ہے جسکے مطابق 6 اکتوبر کو حیدرآباد میں ہالینڈ کے خلاف 12 اکتوبر ، حیدرآباد میں سری لنکا کے خلاف15 اکتوبر احمد آباد میں بھارت بمقابلہ20 اکتوبر ، بنگلورو میں بمقابلہ آسٹریلیا 23 اکتوبر کو چنئی میں افغانستان بمقابلہ پاکستان،27 اکتوبر بمقابلہ جنوبی افریقہ چنئی میں جبکہ 31 اکتوبر کو بمقابلہ بنگلہ دیش کولکتہ میںکھیلا جائے گا اس طرح 4 نومبر کو بمقابلہ نیوزی لینڈ بنگلورو اور 12 نومبر بمقابلہ انگلینڈ کولکتہ میں کھیلا جائے گا،دن کے میچ پاکستانی وقت کے مطابق صبح 10:00 بجے شروع ہوں گے جبکہ دیگر تمام میچز ڈے اینڈ نائٹ ہوں گے اور دوپہر 01:30 بجے پر شروع ہوں گے۔اگر پاکستان سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرتا ہے تو وہ کولکتہ میں کھیلے گا۔اگر ہندوستان سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرتا ہے تو وہ ممبئی میں کھیلے گا جب تک کہ پاکستان کے خلاف نہیں کھیلے گا، اس صورت میں وہ کولکتہ میں کھیلے گا۔کرکٹ ورلڈ کپ راؤنڈ رابن فارمیٹ میں کھیلا جائے گا جس میں تمام ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف کل 45 لیگ میچز کھیلیں گی۔ٹاپ چار ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی جو کہ 15 نومبر کو ممبئی اور 16 نومبر کو کولکتہ میں ہوں گے۔ سیمی فائنل اور فائنل میں ریزرو ڈی ہوں گے۔

  • بھارت نے پاکستان اور چین کی سرحدوں پر”خاص”میزائل نصب کردیئے

    بھارت نے پاکستان اور چین کی سرحدوں پر”خاص”میزائل نصب کردیئے

    نئی دہلی :چین اور بھارت کے درمیان ہونے والی حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد کشیدہ ہوتے حالات میں بھارت نے چینی اور پاکستانی سرحدوں پر ’’پرالے بلیسٹک میزائل‘‘ نصب کرنے کی منظوری دے دی ہے، پرالے کا معنی قیامت یا بہت شدید تباہی بتایا جارہا ہے۔

    ہند چین حالیہ سرحدی تنازعے کے بعد بھارت نے پرالے بلیسٹک میزائل چینی پاکستانی سرحدوں پر نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی طور پر تیار کردہ زمین سے زمین تک مار کرنے والا یہ میزائل 100سے 120 کی تعداد میں بھارتی فوج کے حوالے کیا جائے گا۔

    بیرونی اشاروں پر آنیوالی حکومت کے نتائج سے پہلے خبردار کیا تھا،عمران خان

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اعلی سطحی وزارت دفاع کے اجلاس میں پرالے میزائل فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا، پہلے مرحلے میں یہ میزائل بھارتی فضائیہ کے حوالے کئے جائیں گے۔ گزشتہ سال اس میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا۔

    بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے بلیسٹک میزائل کو ٹیکٹکل امور میں استعمال کرنے کی دی جانے والی منظوری کا پہلا واقعہ ہے۔ یہ میزائل 150سے 500 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ بھارت، پاکستان اور چین تینوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک ہیں اور تینوں ممالک کے پاس ایک دوسرے پر حملہ، جوابی کاروائی کے لئے فضائی، بحری اور میزائل صلاحیت موجود ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے ان ممالک کے تعلقات میں کشیدگی چلی آرہی ہے اور کسی ایک فریق کی جانب سے چھوٹی سی غلط فہمی خطے کے اربوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

    پاکستانی لالہ چمن لعل کا منفرد اعزازبین الاقوامی فیلوشپ کی ڈگری لینے والے پہلے…

    کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے پاس 165، بھارت کے پاس 160 اور چین کے پاس 350 ایٹم بم موجود ہیں جو نہ صرف ان ممالک بلکہ آس پاس کے ممالک کو بھی ناقابل برداشت تباہی سے دوچار کر سکتے ہیں۔

  • ہندوانتہاپسند رہنما شراب کی بوتل لےکرخاتون کےگھرگُھس گیا

    ہندوانتہاپسند رہنما شراب کی بوتل لےکرخاتون کےگھرگُھس گیا

    پنجگٹہ: پولیس نے رات دیر گئے جی ایچ ایم سی کے ایک کنٹراکٹ ملازم کی مبینہ جنسی ہراسانی کے الزام میں ٹی آر ایس لیڈر وجے سمہا ریڈی کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ شادی شدہ خاتون نے اپنی شکایت میں کہا کہ ملزم اس کے گھر آیا اور اس پر حملہ کیا جب اس نے ویڈیو کال پر عریاں ہونے کا مطالبہ مسترد کر دیا۔

    31 سالہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ سمہا ریڈی نے ٹی آر ایس ایم ایل اے کی قریبی ساتھی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس سے دوستی کی تھی اور اسے یقین دلایا تھا کہ وہ اسے تاحیات آباد کرنے میں مدد کرے گا۔ اس نے بتایا کہ ان کی دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اس نے اسے جنسی طور پر ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ پنجگٹہ کے انسپکٹر ہریش چندر ریڈی نے کہا کہ کیس کی تفتیش جاری ہے۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون بیگم پیٹ میں ایک پب گئی تھی۔ جب وہ گھر واپس آئی تو متاثرہ نے الزام لگایا کہ اسے سنہا ریڈی کی طرف سے ایک ویڈیو کال موصول ہوئی جس میں وہ عریاں تھا اور اس سے کپڑے اتارنے کا مطالبہ کیا۔ متاثرہ نے بتایا کہ اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کال منقطع کر دی۔

    متاثرہ نے الزام لگایا کہ چند منٹ بعد ملزم شراب کی بوتل لے کر اس کے گھر میں گھس آیا اور اس کی پٹائی کی۔ اس نے ٹوٹی ہوئی بیئر کی بوتل کے کچھ ٹکڑے اکٹھے کیے اور اس کے گلے اور بائیں ہاتھ پر زخمی کر دیا۔

    خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ایم ایل اے کا نام لیتے ہوئے، اس نے اسے سنگین نتائج کی دھمکی دی اور دعویٰ کیا کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ اس نے الزام لگایا کہ جب اس نے الارم بجایا تو وہ اس جگہ سے بھاگ گیا۔ اس نے اپنے شوہر کو فون کیا، جس نے پولیس کو اطلاع دی اور اسے ہسپتال پہنچایا۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • شریکا 2030!!! — عارف انیس

    شریکا 2030!!! — عارف انیس

    پچھلے دنوں پڑوسیوں نے چپکے چپکے ایک کام کیا. میچ تو وہ ہار گئے. لیکن دوسری طرف بڑی چھلانگ مار دی.

    حال ہی میں، انڈیا نے برطانیہ کو دنیا کی پانچویں بڑی مالی طاقت کے رتبے سے ہٹا کر، یہ پوزیشن خود سنبھال لی ہے. اب تو لگتا ہے شاید ملکہ جی نے اسی بات کو دل سے نہ لگا لیا ہو. ہندوستان کی جی ڈی پی 3.535 ٹرلین ڈالرز تک پہنچ چکی ہے. اس کوارٹر میں اقتصادی گروتھ کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ 13.5 فیصد ہے.

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 2030 تک ہندوستان، جرمنی اور یورپ کو بھی پچھاڑ چکا ہوگا، اور امریکہ اور چین کے بعد تیسری مالی عالمی طاقت کی پوزیشن پر براجمان ہوگا.

    یاد رہے کہ اس فروری میں گوتم اڈانی 143 ارب ڈالر کی دولت کے ساتھ ایشیا کا تیسرا امیر ترین شخص بن چکا ہے اور امیزان کے جیف بیزوس کو دوسرے نمبر سے پھسلوانے ہی لگا ہے.

    یارو، جب میزائل اور بم وغیرہ مقابلے کے بنا لیے تو مالی مسل بنانے میں کیا حرج ہے؟ میں انتظار کرتا رہا کہ شاید اس بڑی خبر پر کوئی لکھے گا، مگر لگتا ہے اپن کا انٹیلی جنشیا، ایشیا کپ دیکھنے میں مصروف تھا.

    ہندوستان میں ابھی بھی جہالت، بھوک اور غربت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، جن سے چالیس کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہیں. مگر نظر آ رہا ہے کہ اگلے بیس برس میں وہ خط غربت سے اوپر آ چکے ہوں گے. اور یہ سب "معجزہ” پچھلے تیس برس کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے.

    مسئلہ تو یہ ہے کہ آج ہم سمت بدلتے ہیں تو تیس برس بس پکڑنے میں لگ جائیں گے. مگر تیس برس بھی ٹھیک ہیں، چالیس برس ہوگئے تو پھر کیا ہوگا؟

    کرکٹ کے علاوہ، ہم کیوں کھیل سے باہر ہوتے جا رہے ہیں؟ منگتے ہونا یا دھمکی دینے کے علاوہ اپن کے پاس اور کیا کچھ ہے؟

    کیا وجہ ہے کہ ملتی جلتی مذہبی شدت، ایسی ہی فرسودہ بیوروکریسی، کٹا پھٹاانفراسٹرکچر اور بھرپور کرپٹ لیڈرشپ کے ساتھ، پڑوسی لوگ کدھر جا رہے ہیں اور ہم کدھر جارہے ہیں؟

    کدھر جارہے ہو، کدھر کا خیال ہے؟

    آپ کیا کہتے ہیں؟ اصل مسئلہ کیا ہے؟ ہم مالی سپر پاور بننے کی، ایشین بلی یا لگڑ بگڑ بننے کی بس کیسے پکڑ سکتے ہیں؟ ابھی، اسی وقت کیا، کرنا ضروری ہے؟

    صبح صبح مورال ڈاؤن کرنے اور مشکل سوال پوچھنے پر معافی!

  • چین کی معروف کارسازکمپنی ”گریٹ وال موٹر”نےہندوستان چھوڑنےکا اعلان کردیا

    چین کی معروف کارسازکمپنی ”گریٹ وال موٹر”نےہندوستان چھوڑنےکا اعلان کردیا

    نئی دہلی:چین کی سب سے بڑی آٹو موٹیو کمپنی گریٹ وال موٹر لمیٹڈ اب اپنا تمام کام سمیٹ کربھارت سےواپس جا رہی ہے۔حالانکہ چین نےاس پراجیکٹ پربہت پیسہ لگایا۔مستقبل میں بھی چین بھارت میں آٹوموٹیوسیکٹرمیں کروڑوں روپےکی سرمایہ کاری کرنے والا تھا لیکن ایک بھی کارنہ بنا کراس نےبھارت میں اپنا کام بند کردیا ہے۔گریٹ وال موٹر کمپنی اپنی تمام سرمایہ کاری ہندوستان سے باہر لےجا رہی ہے۔

     

     

    مشرق وسطیٰ کسی ملک کا پچھواڑا نہیں ہے،امریکہ زبان سنبھال کربولے: ترجمان

    گریٹ وال موٹر کمپنی سال 2019 میں ایک بہت بڑی سرمایہ کاری اور مارکیٹ حکمت عملی کے ساتھ ہندوستان میں داخل ہوئی تھی۔ یہ کمپنی ہندوستان کے ہر شہر میں اپنے شو روم قائم کرنا چاہتی تھی، کچھ بڑے شہروں میں اپنے مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنا چاہتی تھی اور اسے بڑے پیمانے پر ہندوستانی مارکیٹ میں فروخت کرنا چاہتی تھی اور یہاں سے بنی گاڑیاں بھی برآمد کرنا چاہتی تھی۔ انہیں ایسا کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے، کیونکہ ہر چینی کمپنی وہاں کی حکومت سے وابستہ ہے، اس لیے ان کے پاس کبھی پیسے کی کمی نہیں ہوتی۔ اگر یہ کمپنی ہندوستان میں مینوفیکچرنگ شروع کر دیتی تو ہندوستان میں کام کرنے والی تمام ملکی اور غیر ملکی کار ساز کمپنیاں سر جوڑ کر بیٹھ جاتی، کیونکہ یہ صارفین کو اپنی مارکیٹ بنانے کے لیے منافع بخش پیشکشیں دیتی۔

     

    امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    کہا جاتا ہے کہ چین کبھی بھی براہ راست تجارت نہیں کرتا۔ چین نے بھارت میں تیزی سے کام شروع کرنے کے لیے امریکی کار کمپنی شیورلیٹ کا مہاراشٹر میں بنایا ہوا پلانٹ ایک ارب ڈالر میں خرید لیا، کیونکہ اگر چین اپنی فیکٹری بناتا اور لوگوں کو ملازمت دیتا تو اس میں بہت وقت لگتا۔ چنانچہ چین نے بھارت میں فلاپ امریکی کار کمپنی شیورلیٹ کی فیکٹری خرید کر اپنا وقت بچا لیا۔

    گریٹ وال موٹر نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ان تمام لوگوں کو نوکری سے نکال دیا ہے جن کی اس نے خدمات حاصل کی ہیں اور چین نے اس فیکٹری میں اب تک جو سرمایہ کاری کی ہے وہ بھارت سے واپس لے لے گا۔ یعنی چین نے بھارت سے اپنا کام واپس لے لیا ہے۔

    بیلٹ اینڈ روڈکی تعمیر سےسنکیانگ ایک کلیدی علاقہ بن چکا ہے:چینی صدر

    دوسری جانب یہ خبر چین کی معیشت کے لیے کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں کیونکہ چین کی معیشت کو ان دنوں ترقی کی کمی کا سامنا کرنا پڑھ رہاہے۔اس وبا کے بعد چین میں تقریبا 20 لاکھ بڑی کمپنیاں بند ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کے پاس ریزرو میں پیسہ نہیں بچا ہے۔ اس کا سب سے برا اثر چین میں جمود کی طلب پر پڑا ہے۔

  • ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالرتک پہنچ گیا

    ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالرتک پہنچ گیا

    تہران :ایران نے پابندیوں کے باوجود بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کیں ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آج ان مثبت پالیسیوں کی وجہ سے ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالرتک پہنچ گیا

    ایرانی وزیر صنعت، معدن اور تجارت رضا فاطمی امین نے کہا ہے کہ گزشتہ سال ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالر تھا جو کہ بارٹر میکینزم، رقم کی منتقلی اور سیوڈو سوئفٹ(SWIFT) کے طریقوں سے کیا گیا تھا۔

    انہوں نے بیلاروس اور ایران کے پارلیمانی دوستی گروپ کے سفیر کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ایران 40 سال سے زیادہ عرصے سے پابندیوں کی زد پر ہے لیکن ان برسوں میں ہم نے پابندیوں کے باوجود بہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔

    ایرانی وزیر نے کہا کہ کان کنی کے آلات کے میدان میں عظیم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور ایران کے پاس اس شعبے میں بہت سے معدنی ذخائر اور اس شعبے میں سرگرم کمپنیاں موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے دریافت ہونے والے تانبے کے ذخائر دنیا کے ذخائر کا کل سات فیصد شمار ہوتے ہیں۔

    یاد رہےکہ دو دن قبل ایران کے نائب صدر محمد مخـبر نے ایک آن لائن تقریب کے دوران روس ہندوستان ٹرانزٹ کنٹینر ٹرین کے ایران کی سرحد میں داخلے کا حکم دیا تھا ۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر محمد مخبر کا کہنا تھا کہ ملک کی علاقائی پوزیشن کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹرانزٹ کی پوری گنجائشوں سے فائدہ اٹھانا ہماری حکومت کی اقتصادی پالیسیوں میں سرفہرست ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ صدر سید ابراہیم رئیسی شروع ہی سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی لین دین کے حجم میں اضافے پر زور دیتے آئے ہیں۔
    ایران کے نائب صدر نے مزید کہا کہ وزارت ٹرانسپورٹ کی کوشش ہے کہ ملک کی ٹرانزٹ گنجائش کو پہلے مرحلے میں آٹھ ملین ٹن اور اس کے بعد بیس ملین ٹن تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سہولتوں میں اضافہ کرکے ملک کی ٹرانزٹ گنجائش کو تین سو ملین ٹن تک لے جانے کا امکان پایا جاتا ہے۔

    ایران کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ ٹرانزیٹ کے مواقع اور گنجائشوں سے فائدہ اٹھانے سے جہاں بے پناہ اقتصادی فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے سیاسی اور عالمی تعلقات کے میدانوں میں بھی غیر معمولی فوائد حاصل ہوں گے ۔

  • ہندوستان میں حجاب کی بنا پر لڑکیوں کا ایک اور اسکول بند کردیا گیا

    ہندوستان میں حجاب کی بنا پر لڑکیوں کا ایک اور اسکول بند کردیا گیا

    نئی دہلی :ہندوستان میں حجاب کے خلاف بھارتی حکومت کی سازشیں ابھی ختم نہیں‌ہوئیں اور یہ معاملہ آئے روز شدت اختیارکرتا جارہا ہے ، اس حوالے سے تازہ واقعہ میں پتہ چلا ہے کہ حکومت ہندوستان نے طالبات کے باحجاب ہونے کا بہانہ بنا کر لڑکیوں کا ایک اور اسکول بند کر دیا۔

    نئی دہلی سے رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی ریاست کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے اسکول میں حجاب کے ساتھ تعلیم کی مخالفت جاری رکھتے ہوئے اس ریاست میں طالبات کے باحجاب ہونے کا بہانہ بنا کر لڑکیوں کا فاروقیہ اسکول بند کر دیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اسکول دوبارہ کھولنے کے لئے طالبات کو حجاب اتارنا ہو گا۔ آٹھویں سے دسویں کلاس کی چار سو طالبات نے فاروقیہ اسکول میں بند دروازوں کے پیچھے لڑکیوں کی تعلیم اور حجاب کی حمایت میں نعرے لگائے اور اسکول دوبارہ کھولے جانے کا مطالبہ کیا۔

    ہندوستان کی ریاست کرناٹک میں اسکولوں میں مسلمان طالبات کے حجاب کو لے کر گذشتہ سال سے بحران جاری ہے اور باحجاب لڑکیوں کو اسکول میں حجاب پر پابندی کا بہانہ بنا کر تعلیم سے محروم کر دیا گیا ہے اور یہی مسئلہ مسلمانوں اور انتہا پسند ہندوؤں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کا بھی باعث بنا ہوا ہے۔

  • ہندوستان ممکنہ تباہی کے راستے پر چل رہا ھے:ہندوستان کے دانشور بھی  بول اُٹھے

    ہندوستان ممکنہ تباہی کے راستے پر چل رہا ھے:ہندوستان کے دانشور بھی بول اُٹھے

    ملک کا موجودہ ماحول خوفناک ہے،اگریہی صورتحال رہی توملک کوٹوٹنے سے کوئی نہیں بچا سکے گا، اس وقت ملک کی سلامتی کےلیے تمام طبقات سے اتحاد کو برقرار رکھنے سے ہی ممکن ہے

    نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین نے ملک کی موجودہ صورتحال پر بہت سخت تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مذہبی خطوط پر تقسیم نہیں کرنا چاہیے بلکہ سب میں اتحاد قائم رکھنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ امرتیہ سین نے کہا، ’’مجھے لگتا ہے کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا میں کسی چیز سے ڈرتا ہوں؟ تومیں ہاں کہوں گا۔” ڈرنے کی ایک وجہ ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال خوف کا باعث بنی ہوئی ہے۔ امرتیہ سین نے یہ باتیں کولکتہ میں امرتیہ ریسرچ سینٹر کے افتتاح کے موقع پر کہیں۔

    امرتیہ سین نے مزید کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ملک متحد رہے۔ میں ایسے ملک میں تقسیم نہیں چاہتا جو تاریخی طور پر سب کو ساتھ لے کر چلنا والا رہا ہے۔ ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔ ہندوستان صرف ہندوؤں یا مسلمانوں کا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ملک کی روایات کی بنیاد پر متحد رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    انہوں نے کہا، ‘ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک نہیں ہو سکتا۔ نیز مسلمان اکیلے ہندوستان کی تعمیر نہیں کر سکتے۔ سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ امرتیہ سین نے کہا کہ ہندوستان میں رواداری کی موروثی ثقافت ہے کیونکہ یہودی، عیسائی اور پارسی صدیوں سے ہمارے ساتھ رہے ہیں۔

    انڈیا کے ماہر اقتصادیات اور نوبل انعام یافتہ امرتیا سین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو ‘ممکنہ تباہی’ کا سامنا ہے۔

    امرتیا سین نے کولکتہ میں ھونے والی ایک تقریب میں کہا کہ ہندوستان آج جس بھیانک بحران کا سامنا کر رہا ہے وہ "ملک کا ممکنہ تباہی” ہے۔کولکتہ میں امرتیا ریسرچ سینٹر کے افتتاح کے موقع پر سین نے کہا، کہ”مجھے لگتا ہے کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا میں کسی چیز سے ڈرتا ہوں، تو میں کہوں گا ‘ہاں’۔ اب ڈرنے کی کوئی وجہ ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال خوف کا باعث بن گئی ہے”۔

     

     

    "’’ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک نہیں ہو سکتا۔ اور اکیلے مسلمان بھی ہندوستان کو نہیں بنا سکتے”۔اگرہندوستان کوبچانا ہے توسب سے پہلے ملک کے اندراقلیتوں کے ساتھ نفرتیں ختم کرنا ہوں گی ان کے حقوق ان کو دینے ہوں گے اورپھران کو عزت بھی دینا ہوگی تب جاکرہندوستان کی واپسی ممکن ہے

     

    یاد رہے کہ نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات اور فلسفی امرتیا سین کو جرمن بُک انڈسٹری کے معتبر ترین امن انعام سے نوازا گیا ہے۔ 86سالہ پروفیسر کے مطالعے اور تجزیے دنیا بھر میں سماجی ناانصافی کی نشاندہی کرتے ہیں۔جرمن کتابی صنعت کے بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس سال کے ’جرمن امن انعام‘ کے حقدار بھارتی معیشت دان اور فلسفی امرتیا سین قرار پائے ہیں۔ اس بورڈ کے بیان کے مطابق چھیاسی سالہ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور نوبل انعام یافتہ امرتیا سین کو کئی دہائیوں تک ’عالمی انصاف‘ کے امور پر غور و فکر کرنے کے احترام میں امن انعام سے نوازا جا رہا ہے۔بورڈ نے کہا کہ پروفیسر سین کا مطالعہ دنیا بھر میں سماجی ناانصافی کے خلاف جنگ میں ماضی کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ قابل اطلاق ہوتا ہے