Baaghi TV

Tag: ہیٹ ویو

  • کھلے آسمان تلے ایوارڈ شو کی تقریب،11 شہریوں کی شدید گرمی سے ہوئی موت

    کھلے آسمان تلے ایوارڈ شو کی تقریب،11 شہریوں کی شدید گرمی سے ہوئی موت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ایوارڈ شو کی تقریب ہوئی جس میں ہیٹ اسٹروک سے 11 افراد کی موت ہو گئی ہے جبکہ درجنوں افراد بیہوش ہو کر ہسپتال پہنچ گئے

    ایوارڈ شو کا اہتمام مہاراشٹرا میں کیا گیا تھا، سخت گرمی میں کھلے آسمان تلے بڑی تعداد میں شہری ایوارڈ شو میں شریک ہوئے، ایک میدان میں ایوارڈ شو کی تقریب رکھی گئی تھی جس میں بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی تھی، ایوارڈ شو میں شدید گرمی کی وجہ سے 11 افراد کی موت ہوئی ہے جبکہ درجنوں افراد کی طبیعت بگڑ گئی جس پر انہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، ڈاکٹروں کے مطابق ہسپتال لائے جانے والے شہریوں میں ڈی ہائیڈریشن اور گرمی سے جڑی دیگر شکایات ملی ہیں،متاثرہ افراد کا علاج جاری ہے، مہاراشٹرا سرکار نے ایوارڈ شو میں مرنیوالوں کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ فی کس دینے کا اعلان کیا ہے،.

    مہاراشٹر کی حکومت نے ڈاکٹر اپا صاحب کو بھی مہاراشٹر بھوشن ایوارڈ 2022 دیا ، ایوارڈ امت شاہ کی جانب سے دیا گیا، ایوارڈ شو کا آغاز صبح گیارہ بجے ہوا تھا،

    ممبئی سے قریب جہاں ایوارڈز شو کا اہتمام کیا گیا تھا وہاں پر درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا اور طبی ماہرین نے شدید گرمی کے باعث عوام کو دن کے اوقات میں غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے منع کر رکھا ہے کیونکہ بھارت میں اپریل کو گرم ترین مہینوں میں شمار کیا جاتا ہے

    بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی سرکار کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایورڈ شو میں شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت کی تھی کیوں غفلت برتی گئی؟ حکومت کے خلاف شہریوں کے قتل کا مقدمہ درج ہونا چاہیے

    خواجہ سراؤں کو چھیڑنے پر گرفتار یوٹیوبر کی تصاویر سامنے آ گئیں

    فون پر دوستی، لڑکی کو ملنے گھر جانیوالے نوجوان کو پہنائے گئے جوتوں کے ہار اور کیا گیا تشدد

    دورانِ مجلس عورتوں کے کانوں سے سونے کی بالیاں اُتارنے والی ملزمہ گرفتار

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

    ڈیجیٹل مردم شماری کے باوجود ملک کے اندر خواجہ سراؤں کی حقیقی تعداد کا تعین مشکل

  • گرمی کی شدت میں اضافہ، ہیٹ ویو کا الرٹ جاری

    گرمی کی شدت میں اضافہ، ہیٹ ویو کا الرٹ جاری

    لاہور میں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں گرمی کی سدت میں اضافہ،موسمیاتی ماہرین نے ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات نے ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کرتے ہوئے17 اپریل تک گرمی کی لہر برقرار رہنے کی پیشگوئی کی ہے آئندہ چند روز بھی ہیٹ ویو برقرار رہے گی تاہم اگلے ہفتے کے وسط میں بارشوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ٹریفک حادثے میں 6 پولیس اہلکار جاں بحق ، ایک زخمی

    دوسری جانب محکمہ موسمیات ارلی وارننگ سینٹر کی پیشگوئی کے مطابق شہرقائد میں اگلے 3 روز کے دوران موسم گرم ومرطوب رہنے کا امکان ہے، دوپہر کے وقت ہوا میں نمی کا تناسب 55 سے 60 فی صد تک بڑھنے کے نتیجے میں گرمی کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں دوپہر کے وقت سمندر کی جنوب مغربی سمت کی ہوائیں بدستور غیر فعال ہورہی ہیں۔ متبادل سمت کی مغربی ہواوں کے سبب نمی کے تناسب میں اضافہ ریکارڈ ہو رہا ہے۔ہفتے کو شہر کا درجہ حرارت 33.8 جبکہ نمی کا تناسب 55 فیصد رہا، اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 سے 36 ڈگری کے درمیان ریکارڈ ہوسکتا ہے۔

    ٹریفک حادثے میں جاں بحق وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور کی نماز جنازہ ادا

    محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری ہوائیں اگلے کئی روز تک دوپہر کے وقت بدستور غیر فعال رہ سکتی ہیں،صوبے کے بیشترعلاقوں میں موسم گرم وخشک رہنےکا امکان ہےدادو، خیرپور،شہید بے نظیرآباد، نوشہر و فیروز، قمبرشہدادکوٹ، لاڑکانہ، جیکب آباد، شکارپور، کشمور ، گھوٹکی اور سکھرمیں اتوار اور پیر کو بارش کا امکان ہے۔

  • موسمیاتی تبدیلیاں،پنجاب میں گرمی کی شدت اورجنگلات میں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے

    موسمیاتی تبدیلیاں،پنجاب میں گرمی کی شدت اورجنگلات میں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے

    لاہور: پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( پی ڈی ایم اے) پنجاب نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہیٹ ویو اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے-

    باغی ٹی وی: ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کی ہدایت پر ڈائریکٹر کوارڈینیشن کی زیر صدارت ہیٹ ویو اور فاریسٹ فائر بارے کمیٹی روم میں اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سول ڈیفنس، جنگلات، زراعت، تعلیم، لوکل گورنمنٹ انڈسٹریز حکام شریک ہوئے-

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …

    اجلاس میں ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے طارق محمود بخاری نےکہا کہ تمام متعلقہ ادارے ہیٹ ویو کے مضر اثرات سے بچاؤ اور انتظامات بارے پلان پی ڈی ایم اے کو جمع کروائیں۔ محکمہ تعلیم بچوں کے امتحانی شیڈول بارے فی الفور پی ڈی ایم اے کو آگاہ کرے۔

    انہوں نےکہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سےہیٹ ویو اورگرمی کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہےجبکہ گرمی کی شدت بڑھنے سے جنگلات میں آتشزدگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے محکمہ جنگلات فاریسٹ فائر سےبچاؤ کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر رپورٹ جمع کروائے۔

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    طارق محمود بخاری نے یہ بھی بتایا کہ ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے محکمہ صحت سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو خصوصی ہدایات بھی جاری کی جا چکی ہیں، ہیٹ ویو سے بزرگ شہری اور بچے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ بچاؤ کے لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا ہوگا ہیٹ ویو کے مضر اثرات سے بچاؤ اور حفاظتی تدابیر بارے عوام الناس کو موثر آگاہی فراہم کی جائے پی ڈی ایم اے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

  • دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    امریکی ادارے National Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کی جانب سے ابتدائی ڈیٹا میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جس کے باعث بحری ہیٹ ویوز عام ہوگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: این او اے کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق رواں ماہ اپریل 2023 کے آغاز میں سمندری سطح کا اوسط درجہ حرارت 21.1 سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جس نے 2016 میں قائم ہونے والے 21 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑ دیا، یہ نیا ریکارڈ موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    سائنسدانوں نے بتایا کہ 3 سال تک لانینا نے بحر الکاہل کے درجہ حرارت کو دبانے میں مدد فراہم کی اور زہریلی گیسوں کے اخراج کے اثرات سے بچایا، تاہم اب سمندری سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے جو اس سال ممکنہ ایل نینو لہر کی جانب اشارہ ہے۔

    این او اے اے کے محقق ڈاکٹر مائیک میکفیڈن نے بتایا کہ لانینا لہر اختتام کے قریب ہے جس نے دنیا بھر میں سمندری سطح کے درجہ حرارت کو بڑھنے نہیں دیا تھا،لانینا کے دوران وسطی اور مشرقی بحر الکاہل کا درجہ حرارت کم رہتا ہے جبکہ تیز ہوائیں چلتی ہیں جس سے عالمی درجہ حرارت میں کمی آتی ہے،اس کے برعکس ایل نینو کے دوران سمندری سطح معمول سے زیادہ گرم ہو جاتی ہے جس سے دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    این او اے اے کے ڈیٹا کے مطابق اس سے قبل سمندری سطح میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 2014 سے 2016 کی ایل نینو لہر میں دیکھنے میں آیا تھا۔

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    قبل ازیں مارچ 2023 میں سائنسدانوں نے پہلی بار سمندر کی گہرائی میں بھی ہیٹ ویوز کو دریافت کیا تھا اور اسے موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثرقرار دیا تھا اس تحقیق میں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کا جائزہ لیا گیا اور دریافت ہوا کہ زیرآب بحری ہیٹ ویو کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے پانی کا درجہ حرارت 0.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے۔

    این او اے اے کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ ہم 10 سال سے زائد عرصے سے سمندر کی سطح پر ہیٹ ویو کا مشاہدہ کر رہے تھے پہلی بار ہم نے یہ جائزہ لیا کہ سطح پر ہیٹ ویو سے سمندر کی گہرائی میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ان کا ماننا ہے کہ سمندروں کی گہرائی میں ہیٹ ویوز سے دنیا بھر کے بحری نظام پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی سمندری حیات کو نقصان پہنچا ہے سمندروں کی گہرائی میں پانی کے درجہ حرارت میں ایک صدی کے دوران ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری ہیٹ ویوز کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران 50 فیصد اضافہ ہوا سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ نہ ہونے پر بھی سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویو کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    واضح رہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بڑھنے والی حرارت کا 90 فیصد حصہ سمندر جذب کرتے ہیں۔

    گزشتہ برس دسمبر 2022 میں ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ 2023 رواں سال کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہونے والا ہے،یہ انتباہ برطانوی سائنسدانوں کی جانب سے سامنے آیا تھا کہ درحقیقت 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.2 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کے پروفیسر ایڈم سکافی کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے 2023 درجہ حرارت کے حوالے سے ریکارڈ توڑنے والا سال ثابت نہ ہو مگر عالمی سطح پر زہریلی گیسوں کے اخراج میں اضافے کے نتیجے میں وہ بہت گرم ضرور ثابت ہوسکتا ہے۔

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    عالمی درجہ حرارت کی پیشگوئی کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر Nick Dunstone نے کہا تھا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران لانینا کے اثرات سے عالمی درجہ حرارت پر اثرات مرتب ہوئے تھے لانینا نے عارضی طور پر اوسط عالمی درجہ حرارت کو کم کیا، مگر 2023 کے لیے ہمارے موسمیاتی ماڈل سے لانینا کے اثر کے خاتمے کا عندیہ ملتا ہے، جس کے باعث اگلا سال 2022 کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.08 سے 1.32 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    اگر رواں سال 2023 کے بارے میں برطانوی سائنسدانوں کی پیشگوئی درست ثابت ہوتی ہے تو یہ مسلسل 10 واں سال ہوگا جب درجہ حرارت صنعتی عہد سے پہلے کے مقابلے میں کم از کم ایک سینٹی گریڈ زیادہ رہے گا۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

  • دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    اب تک خیال کیا جاتا تھا کہ ہیٹ ویو کا سامنا سطح پر رہنے والے جانداروں کو ہی ہوتا ہے مگر اب سائنسدانوں نے سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویوز کو دریافت کیا ہے جس سے دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ایک اور خطرناک اثر کا عندیہ ملتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر کمیونیکیشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہیٹ ویو کا سامنا ہماری زمین کی سطح پر رہنے والوں کو ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے بحری حیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہےاس تحقیق میں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کا جائزہ لیا گیا اور دریافت ہوا کہ زیرآب بحری ہیٹ ویو کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے پانی کا درجہ حرارت 0.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے ٹیم نے یہ بھی پایا کہ نیچے کی سمندری گرمی کی لہریں سطح پر گرمی کے بہت کم یا کوئی ثبوت کے ساتھ بھی ہوسکتی ہیں۔

    امریکا کےNational Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ ہم 10 سال سے زائد عرصے سے سمندر کی سطح پر ہیٹ ویو کا مشاہدہ کر رہے تھے پہلی بار ہم نے یہ جائزہ لیا کہ سطح پر ہیٹ ویو سے سمندر کی گہرائی میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    تحقیق میں ان ہیٹ ویوز کی خصوصیات اور سمندری دنیا پر اس کے اثرات کو مزید سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ NOAA کے سائنسدانوں نے تین دہائیوں پر محیط ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے شمالی امریکہ کے مغربی اور مشرقی ساحلوں پر توجہ مرکوز کی۔

    محققین نے کہا کہ سمندروں کی گہرائی میں ہیٹ ویو سے دنیا بھر کے لیے بحری نظام پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی سمندری حیات کو نقصان پہنچا ہے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بڑھنے والی حرارت کا 90 فیصد حصہ سمندر جذب کرتے ہیں اور پانی کے اندرونی درجہ حرارت میں ایک صدی کے دوران ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے۔

    تحقیق کے مطابق گزشتہ 100 سالوں میں سمندر تقریباً 1.5 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم ہوا ہے اور اس نے گلوبل وارمنگ سے 90 فیصد اضافی گرمی لی ہے درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری ہیٹ ویوز کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران 50 فیصد اضافہ ہوا سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ نہ ہونے پر بھی سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویو کا سامنا ہو سکتا ہےیہ واضح ہے کہ ہمیں سمندروں کی گہرائی پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ وہاں رہنے والے جانداروں کو سطح کے مقابلے میں بالکل مختلف قسم کی ہیٹ ویوز کا سامنا ہوتا ہے۔

    ان ہیٹ ویوز نے پوری دنیا میں سمندری ماحولیاتی نظام کی صحت کو ڈرامائی طور پر متاثر کیا ہے، جس سے پلانکٹن سے وہیل تک جانداروں کی نشوونما میں خلل پڑتا ہے۔ 2013 میں بننے والی سمندری ہیٹ ویو کو ’دی بلاب‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ ہیٹ ویوز سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے نقصان کی ایک بہترین مثال ہے۔

    الاسکا کے ساحل کے قریب ترقی پذیر، اس وسیع، طویل گرمی کی لہر نے ماہی گیری کو تباہ کر دیا، زہریلے الگل پھولوں کا آغاز کیا اور تمام سمندری حیاتیات پر بڑے پیمانے پر اثر ڈالا۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ان کے نتائج طویل مدتی سمندری نگرانی کے نظام کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں، خاص طور پر جب سائنس دان صرف نیچے کی سمندری گرمی کی لہروں کے اثرات کو سمجھنا شروع کر رہے ہیں۔ نئی مشاہداتی صلاحیتوں کو فروغ دینے سے سائنسی دنیا کو سمندری گرمی کی لہروں کے ماضی، حال اور مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

  • پاکستان اور بھارت کو موسمیاتی تبدیلی کے خوفناک نتائج کا سامنا

    پاکستان اور بھارت کو موسمیاتی تبدیلی کے خوفناک نتائج کا سامنا

    پاکستان اور بھارت میں رہنےوالے موسمیاتی تبدیلی کےخوفناک نتائج کا نشانہ بن رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی جریدےکی رپورٹ میں کہا گیاہے ہر سال ہیٹ ویو سے پاکستان اور بھارت کے غریب عوام متاثر ہو رہے ہیں 2000 سے 2019 کے درمیان جنوبی ایشیا میں بڑھتےہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے ایک لاکھ 10 ہزار سےزائد اموات ہوئیں-

    رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے محکمہ موسمیات نے رواں سال معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی پیشگوئی کی ہے،جبکہ اس سلسلے میں ہنگامی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    برطانوی جریدےکی رپورٹ کےمطابق ہیٹ ویوکےسبب سیلابوں میں اضافہ، زراعت،لائیواسٹاک میں کمی جبکہ انفراسٹرکچرتباہ اور مزدور کی صلاحیت میں کمی واقع ہو رہی ہےشدید گرم موسم پاکستان اوربھارت میں زراعت کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے اور بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

    برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کےسبب گزشتہ سال دونوں ممالک کی گندم کی فصل میں 15 فیصد کمی ہوئی، موسمیاتی تبدیلی کے سبب پاکستان 6.5 سے 9 فیصد تک جی ڈی پی سے محروم ہوسکتا ہے۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے قائم بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) نے ایک نئی رپورٹ میں انتباہ جاری کیا تھا کہ دنیا کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے بدترین اثرات سے بچنا اب بھی ممکن ہے مگر اس کے لیے ہمارے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    آئی پی سی سی کے سائنسدانوں نے رپورٹ میں بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنا ممکن ہے مگر اس کے لیے دنیا کو اکٹھے مل کر 2035 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 60 فیصد تک کمی لانا ہوگی تاکہ درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کیا جا سکے۔

    رپورٹ میں بتایا کہ دنیا بھر میں شدید موسمیاتی واقعات جیسے ہیٹ ویوز، قحط سالی، بارشوں اور سیلاب وغیرہ کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جب کہ سمندروں کی سطح بھی بڑھ رہی ہے یہ سب اثرات ایک صدی سے زیادہ عرصے سے خام ایندھن کو جلانے کا نتیجہ ہیں جس کے باعث عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے پہلے کے مقابلے میں 1.1 سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔

    ماؤنٹ ایورسٹ پر صدیوں سے کوہ پیماؤں کی کھانسی اور چھینک کے جراثیم محفوظ، تحقیق

    محققین نے بتایا کہ موسمیاتی اثرات کی شدت بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ اس سے بچنے کے لیے اقدامات جیسے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں کچھ اچھی خبریں بھی ہیں، اگر تمام ممالک زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی لائیں تو اس صدی کے وسط میں حالات بہتر ہو سکتے ہیں اگر ایسا ممکن ہوتا ہے تو اس کے ایک دہائی یا اس کے بعد زمین کا درجہ حرارت مستحکم ہونے لگے گا۔

  • آسٹریلیا :دریا میں اچانک لاکھوں مردہ مچھلیاں پانی کی سطح پر تیرنے لگیں

    آسٹریلیا :دریا میں اچانک لاکھوں مردہ مچھلیاں پانی کی سطح پر تیرنے لگیں

    آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے دریا میں اچانک لاکھوں مردہ مچھلیاں پانی کی سطح پر تیرنے لگی۔

    باغی ٹی وی: "الجزیرہ” کے مطابق نیو ساؤتھ ویلز کے علاقے میننڈی میں دریائے ڈارلنگ باکا میں لاکھوں مردہ مچھلیاں دریا کی سطح پر تیرتی ہوئی پائی گئیں، جس نے لوگوں کو حیرت اور پریشانی میں مبتلا کر دیا۔

    انگلینڈ اور ویلز میں شادی کے لیے کم سے کم عمر 18 سال کر دی …

    جمعہ کے روز، نیو ساؤتھ ویلز کی حکومت نے کہا کہ "لاکھوں” مچھلیاں میننڈی کے چھوٹے سے قصبے کے قریب دریائے ڈارلنگ میں مر گئی ہیں، یہ واقعہ 2018 اور 2019 میں اسی علاقے میں مچھلیوں کی موت کے بعد ہے جہاں پانی کے خراب بہاؤ، پانی کے خراب معیار اور درجہ حرارت میں اچانک تبدیلیوں سے دس لاکھ تک مچھلیاں مر گئیں۔

    مینیندی کے رہائشی گریم میک کریب نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ واقعی خوفناک ہے، جہاں تک آپ دیکھ سکتے ہیں وہاں مردہ مچھلیاں ہیں "یہ سمجھنا غیر حقیقی ہے، اس سال مچھلیوں کی ہلاکتیں پچھلی مچھلیوں سے بدتر دکھائی دیتی ہیں ماحولیاتی اثرات ناقابل فہم ہیں۔

    مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ جیسے ہی صبح نیند سے اٹھے تو ان کے سامنے پورا دریا مردہ مچھلیوں سے بھرا ہوا تھا اور دریا کی سطح پر 30 کلومیٹر تک صرف مردہ مچھلیاں ہی نظر آرہی تھیں۔

    ریاستی حکام کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر مچھلیوں کی موت کا سبب دریائے باکا پر بڑھتی ہوئی ہیٹ ویو کے اثرات کا نتیجہ ہے، ہیٹ ویو سے سسٹم پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور اس سے بڑے سیلابوں جیسے صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

    آسام کے انتہا پسند وزیراعلیٰ نے ریاست کے تمام مدارس بند کرنے کا اعلان کردیا

    حکام کے مطابق ہیٹ ویو نہ صرف بڑھ رہی ہے بلکہ اب ایک معمول بنتی جا رہی ہے، اور انسانوں کے پیدا کردہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے بعد اس کا دورانیہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

    حکام کا کہنا تھا کہ صنعتی دور کے آغاز سے اب تک دنیا بھر میں درجہ حرارت 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہو چکا ہے اور اگر دنیا بھر کی حکومت نے گیسوں کے اخراج پر روک نہ لگائی تو درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔

    ریاستی حکومت کے مطابق، حالیہ سیلاب کے بعد دریا میں بونی ہیرنگ اور کارپ جیسی مچھلیوں کی آبادی میں اضافہ ہوا تھا، لیکن اب سیلاب کا پانی کم ہونے کے بعد بڑی تعداد میں مر رہی ہیں-

    برطانیہ میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی گئی

    ریاستی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ یہ مچھلیوں کی موت کا تعلق پانی میں آکسیجن کی کم سطح (ہائپوکسیا) سے ہے کیونکہ سیلاب کا پانی کم ہو رہا ہے خطے میں موجودہ گرم موسم بھی ہائپوکسیا کو بڑھا رہا ہے، کیونکہ گرم پانی میں ٹھنڈے پانی سے کم آکسیجن ہوتی ہے، اور مچھلیوں کو گرم درجہ حرارت میں زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔

    سڈنی کے مغرب میں تقریباً 12 گھنٹے کی مسافت پر مینینڈ ی میں پچھلی مچھلیوں کی ہلاکت کا الزام طویل خشک سالی کی وجہ سے دریا میں پانی کی کمی اور 40 کلومیٹر (24 میل) سے زیادہ پھیلا ہوا زہریلا ایلگل بلوم قرار دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ دریائے ڈارلنگ باکا میں گزشتہ تین سالوں کے دوران بڑی تعداد میں مچھلیوں کے مرنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ مردہ مچھلیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

    نیو ساؤتھ ویلز کے مقامی حکام کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ اس معاملے پر مزید کام کیا جائے گا تاکہ مچھلیوں کے مرنے کے اصل اسباب معلوم کیے جا سکیں۔

    بھارت کی سب سے بڑی ائیر لائن نے 50 طیارے انڈر گراؤنڈ کر دیئے

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی آسٹریلوی حکومت کی جانب سے 2012 میں دریا کو خشکی سے بچانے اور اس کی فطری بہاؤ کو برقرار رکھنے کیلئے 13 ارب آسٹریلین ڈالرز کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا-

  • ملک میں ہیٹ ویو رواں ماہ میں ہی آنےکا امکان

    ملک میں ہیٹ ویو رواں ماہ میں ہی آنےکا امکان

    محکمہ موسمیات نے مارچ، اپریل اور مئی کا موسمیاتی جائزہ جاری کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں ہیٹ ویو رواں ماہ میں ہی آنےکا امکان ہے ماہرین کے مطابق مارچ، اپریل اور مئی میں ہیٹ ویو کے امکانات ہیں، ملک کے بیشتر علاقوں میں دن اور رات کا درجہ حرارت معمول کے اوسط درجے سے زائد رہنےکا امکان ہے۔

    وزیر اعظم شہبازشریف آج قطر کا 2 روزہ دورے پر قطر روانہ ہوں گے

    محکمہ موسمیات نے پیشین گوئی کی ہےکہ ملک کے بیشتر حصوں میں بارشیں معمول کے مطابق ہونےکا امکان ہےجبکہ خیبرپختونخوا کے شمالی علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کا امکان ہے،گلگت بلتستان کے بیشتر علاقوں میں بھی معمول سےکم بارشیں ہوں گی۔

    رواں برس میں پہلی اور آخری بار چاند آج رات خانہ کعبہ کے عین اوپرآگیا

    کراچی میں آج موسم گرم اور خشک رہے گا،کراچی میں سمندری ہوائیں بند ہونے کے باعث دن میں گرمی اور حبس کا امکان ہے،کراچی کاموجودہ درجہ حرارت 23 ڈگری سینٹی گریڈ ہے،،8 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ہواچل رہی ہے،دن میں درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہے گا.کراچی میں فی الحال بارش کا کوئی امکان نہیں ہے-

    دوسری جانب لاہور اور گردونواح میں آج موسم خشک رہے گا،آج کم سے کم درجہ حرارت 14 ڈگری سینٹی گریڈ رہےگا، آج ہوا میں نمی کا تناسب 38 فیصد ہے-

    موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

  • ہیٹ ویو: چین کے جنگلات کوآگ کا سامنا،مختلف حصوں میں ریڈ الرٹ برقرار

    ہیٹ ویو: چین کے جنگلات کوآگ کا سامنا،مختلف حصوں میں ریڈ الرٹ برقرار

    ہیٹ ویو کے باعث چین کے ریجن چونگ کنگ اور سیچوان کے جنگلات کو تاحال آگ کا سامنا ہے-

    باغی ٹی وی : ماہرین موسمیات کے مطابق متاثرہ ریجن میں ہیٹ ویو کی لہر اگلے ہفتے متوقع بارشوں کے بعد ختم ہونے کا امکان ہے چین کے جنوب مشرق کی جانب بڑھنے والے طوفان کے پیش نظر درجہ حرارت میں کمی آنے کا امکان ہے جبکہ چین کے مختلف حصوں میں گرم موسم کے باعث ریڈ الرٹ برقرار ہیں۔

    چین: خشک سالی کے شکار دریا سے 6 سو سال پرانے مجمسے برآمد

    ماہرین موسمیات کے مطابق وسطی چین میں کل، چونگ کنگ اورسیچوان میں 29 اگست سے درجہ حرارت میں کمی آنے کا امکان ہے۔

    خیال رہے کہ چونگ کنگ اور سیچوان میں 14 اگست سے 19 مقامات پرجنگلات میں آگ لگی ہوئی ہیں چین کے ریجن سیچوان سے شنگھائی تک کے علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور ملک میں پہلا خشک سالی یلو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے-

    چین کے صوبے جیناگ شی میں پویانگ جھیل شدید گرمی سے سکڑ گئی ہے جبکہ مغربی چین کی 34 کاؤنٹیز میں 66 دریا سوکھ گئے ہیں چنگ چِنگ میں اس سال معمول سے 60 فیصد کم بارشیں ریکارڈ ہوئی ہیں اور صوبے کے متعدد اضلاع کی زمین میں نمی کم ہو گئی ہے۔

    الجیریا کے جنگلات میں آتشزدگی، 26 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی

    چینی وزارت برائے ہنگامی امور کا کہنا تھا کہ جولائی میں شدید گرمی کے باعث تقریباً 5.5 ملین افراد متاثر ہوئے جبکہ معیشت کو 400 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔

    قبل ازیں چین میں خشک سالی کے باعث دریائے یانگزی میں پانی کی سطح کم ہونے کے باعث 6 سو سال پرانے تین مجمسے برآمد ہوئے ن تین مجسموں میں مرکزمیں گوتم بدھ کا مجسمہ جبکہ دونوں اطراف میں موجود مجسمے بدھ بھکشو خیال کیے جاتے ہیں-

    یہ تینوں مجسمے فوئیلیانگ نامی جزیرے کی چٹان کے سب سے اونچے حصے پر پائے گئےماہرین کا خیال ہے کہ یانگزی سے دریافت ہونے والے یہ مجسمے 600 سال قبل منگ اور چنگ خاندانوں کے دور حکمرانی کے دوران بنائے گئے ہوں گے۔

    خیال رہے کہ رواں برس یورپ میں بھی خشک سالی، سخت گرمی اور بارشوں کی کمی کے باعث یورپ کے دریاؤں میں بھی سطح آب میں کمی آنے کے بعد کافی نایاب اور قدیم چیزیں ظاہر ہوئی ہیں-

    چین میں بھی موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے 16 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

  • امریکہ:گرمی کا قہر،دسیوں ہزارایکڑجنگل تباہ،ہلاکتیں،ہسپتال مریضوں سے بھرگئے

    امریکہ:گرمی کا قہر،دسیوں ہزارایکڑجنگل تباہ،ہلاکتیں،ہسپتال مریضوں سے بھرگئے

    واشنگٹن:امریکہ:گرمی کا قہر،دسیوں ہزارایکڑجنگل تباہ،ہلاکتیں،اطلاعات ہیں کہ امریکی ہسپتال مریضوں سے بھرگئےامریکہ کے مختلف علاقوں میں گرمی اور بڑھتے درجہ حرارت سے بحرانی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور اب وہاں متعدد افراد کے مرنے اور دسیوں ہزار ایکڑ جنگلات کے جل کر راکھ ہو جانے کی خبر ہے۔

    امریکی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ شمال مغربی ریاست آئیداہو میں گرمی کی شدت سے اب تک دسیوں ہزار ایکڑ میں پھیلے جنگلات جل کر راکھ ہو چکے ہیں جبکہ سات افراد کو بھی اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ فائر فائٹنگ آپریشن کے دوران ایک ہیلی کاپٹر بھی اس ریاست میں گر کر تباہ ہو گیا جس میں سوار دونوں پائلٹ مارے گئے۔ یہ واقعہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔

    گزشتہ ہفتے بھی نیومیکسیکو کے جنگلات میں لگی آگ بجھانے کے آپریشن میں شرکت کے بعد واپس جا رہے چار افراد ایک ہیلی کاپٹر سانحے میں ہلاک ہو گئے تھے۔اس سے قبل گزشتہ مہینے بھی الاسکا کے جنگلات کی آگ بجھانے کے عمل میں شامل ایک شخص ہیلی کاپٹر گرنے کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

    امریکہ کے جنوب مرکزی علاقوں سے شمال مشرقی و مغربی علاقوں تک گرمی کی ایک شدید لہر ہے جس نے دسیوں لاکھوں امریکی شہریوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے اور جنگلات میں آتش زدگی کے دسیوں واقعات پیش آ چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق کم از کم دس کروڑ امریکیوں کو ہیٹ ویو چیلنج کا سامنا ہے۔