Baaghi TV

Tag: یمن

  • عالمی ادارہ صحت کے سربراہ اسرائیلی حملے میں بال بال بچ گئے

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ اسرائیلی حملے میں بال بال بچ گئے

    اسرائیل نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے ہوائی اڈے، مغربی ساحلی پٹی پر تین بندرگاہوں کے ساتھ حوثی گروپ سے جڑے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، حملے کے دوران عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس بال بال بچ گئے۔

    قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کا کہنا تھا کہ صنعا کے ہوائی اڈے اور ساحلی پٹی پر تین بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ حوثیوں سے جڑے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی فوج کے مطابق حملوں میں فوجی تنصیبات، ہزیز اور راس کناتب میں بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔یمن کے صنعا ایئرپورٹ میں اسرائیلی دھماکوں کے وقت عالمی ادارہ صحت کے سربراہ بھی موجود تھے۔یمن کے صحافی حسین ال بخیتی نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ دارالحکومت صنعا میں ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں اسرائیل نے کنٹرول ٹاورز کو نشانہ بنایا۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا خیال ہے کہ یمن اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایک بڑی کارروائی کرے گا۔دریں اثنا، عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے کہا کہ وہ اور ان کے اقوام متحدہ کے ساتھی صنعا ایئرپورٹ پر موجود تھے، جب اسے اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے مائیکرو بلاگنگ ’ایکس‘ پر جاری پیغام میں کہا کہ ’ حملے سے ہمارے جہاز کے عملے کا ایک رکن زخمی ہوا ہے جبکہ ایئرپورٹ پر موجود 2 افراد کی موت کی اطلاع ہے۔’

    سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس

    خیبرپختونخوا کے 3 اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ، 13 خوارج ہلاک، میجر شہید

  • اسرائیل کے یمن پر حملے، حوثیوں کے زیرِ استعمال 3 بندرگاہیں مفلوج، حزیز پاور اسٹیشن تباہ

    اسرائیل کے یمن پر حملے، حوثیوں کے زیرِ استعمال 3 بندرگاہیں مفلوج، حزیز پاور اسٹیشن تباہ

    اسرائیل نے یمن میں حوثی باغیوں کے زیرِ قبضہ دارالحکومت صنعا میں بحیرہ احمر کے تیل کے ٹرمینل اور بجلی گھروں پر فضائی حملے کیے۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان اسرائیلی فوج نے بتایا کہ درجنوں لڑاکا اور جاسوس طیاروں نے 2 ہزار کلومیٹر فاصلہ طے کرکے یمن کی حدیدہ بندرگاہ پر اہداف کو نشانہ بنایا۔

    حوثیوں کے سیٹلائٹ چینل المسیرہ نے تصدیق کی کہ صنعا اور ساحلی صوبہ الحدید میں پاور اسٹیشنوں کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر میں راس عیسیٰ کے تیل کے ٹرمینل کو بھی نشانہ بنایا گیااسرائیل کے حملوں میں حوثیوں کے زیرِ استعمال 3 بندرگاہیں مفلوج ہو گئیں، جنوبی صنعا میں حزیز پاور اسٹیشن بھی اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ ہوگیا جب کہ 9 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حوثیوں کی جانب سے وسطی اسرائیل پر میزائل داغے جانے کا جواب ہے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایرو ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے حوثی میزائل کو اسرائیلی فضائی حدود سے باہر ہی مار گرایا تھا۔

    غیر ملکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے جس حوثی میزائل کو فضا میں تباہ کیا اس کا ملبہ رامات گان شہر میں گرا جس میں بورڈنگ اسکول تباہ ہوگیا طلبا کو قریبی اسکول منتقل کردیا گیا جہاں وہ اپنے اسکول کی تعمیرِ نو ہونے تک قیام کریں جس میں دو سے چار ہفتے لگ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ ڈرون حملے کے ساتھ رواں ہفتے یمن سے اسرائیل پر داغا جانے والا یہ دوسرا میزائل تھا۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے یمن میں حوثی ملیشیا کے لیے انتباہی پیغام جاری کیا ہے یہ موقف یمن بالخصوص صنعاء اور الحدیدہ میں کئی ٹھکانوں پر اسرائیلی شدید فضائی حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے سامنے آیا۔

    آج جمعرات کے روز بیان میں کاتز نے کہا کہ "ہم اسرائیل کی جانب اٹھنے والا ہر ہاتھ کاٹ دیں گے م حوثیوں کے یہ جان لینا چاہیے کہ ہمارا طویل ہاتھ ان تک پہنچ جائے گا،جو کوئی بھی اسرائیل کو نقصان پہنچائے گا اسے سات گنا زیادہ جواب دیا جائے گا-

    ادھر اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیل ہیگاری نے آج صبح ایک ویڈیو پیغام میں حوثیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عالمی خطرے کا ذریعہ بن گئے ہیں،ہیگاری کے مطابق ان کا ملک مشرق سطیٰ میں اپنے لیے خطرہ بننے والے ہر فریق کے خلاف اقدام جاری رکھے گا،حوثیوں کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں دیگر ممالک کے علاوہ دنیا بھر میں امریکا اور دوسرے ممالک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    ہیگاری کے مطابق بحیرہ احمر اور دیگر جگہوں میں بین الاقوامی کارگو جہازوں پر حوثیوں کے حملے عالمی خطرہ بن چکے ہیں،ایرانی حکومت حوثیوں کی سرگرمیوں کے لیے مالی رقوم، ہتھیار اور ہدایات فراہم کر رہی ہے۔

    اسرائیل پہلے ہی کئی بار یہ کہہ چکا ہے کہ اس نے خطے میں ایران کے تمام دھڑوں کا خاتمہ کر دیا ہے اور اب حوثیوں کے سوا کوئی باقی نہیں رہا-

  • یمن میں وزارت دفاع کے ملازم کی فائرنگ  سے 2 سعودی فوجی جاں بحق اور 1 زخمی

    یمن میں وزارت دفاع کے ملازم کی فائرنگ سے 2 سعودی فوجی جاں بحق اور 1 زخمی

    یمن کے علاقے حضر موت میں سعودی فوجی اڈے میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک افسر اور ایک نان کمشنڈ افسر جاں بحق اور ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یمن میں حکومت مخالف مسلح قوتوں سے برسرپیکار اتحادی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ یمن میں سعودی فوجی اڈے میں فائرنگ کے واقعے میں یمن کی وزارت دفاع کا ایک ملازم ملوث ہےیمن میں فوج کی تربیت اور مدد کے لیے لگائے گئے کسی سعودی فوجی کیمپ میں فائرنگ کا یہ پہلا واقعہ ہے، یمن کی صدارتی کمانڈ کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی نے واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے مجرم کی گرفتاری اور کڑی سے کڑی سزا دلوانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    قبل ازیں اتحادی افواج کے سرکاری ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ حملے کرنے والا یمنی وزارت دفاع کا ملازم یمن کے باوقار عوام کی ترجمانی نہیں کرتا، یہ واقعہ جمعہ کی شام کو سیؤن شہر میں اتحادی افواج کے کیمپ کے اندر پیش آیا سعودی افواج پر غدارانہ حملہ یمنی ڈیفنس فورسز کے ایک رکن نے کیا تھا اور یہ پہلا افواج کی تربیت اور مدد کے لیے ایک کیمپ میں کیا گیا تھا۔

    اتحادی فوج نے اس بات پر زور دیا کہ یہ حملہ یمنی دفاعی فورسز کے ایک رکن نے کیا جو یمن کے باوقار عوام کی نمائندگی نہیں کرتا، انہوں نے کہا کہ یمنی وزارت دفاع کے ساتھ مل کر اس کی وجوہات اور محرکات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی، مجرم کی گرفتاری اور انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مل کر کام کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ یمن میں حکومتی تنازع کے باعث 2014 سے سعودی قیادت میں اتحادی افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان جنگ جاری ہے جس میں 3 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے تاحال 40 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

  • لبنان و فلسطین کا انتقام لینے کیلئے یمنی افواج کا  امریکی بحریہ کے جہازوں پر بڑا حملہ

    لبنان و فلسطین کا انتقام لینے کیلئے یمنی افواج کا امریکی بحریہ کے جہازوں پر بڑا حملہ

    لبنان اور فلسطین پر جاری اسرائیلی بمباری کا انتقام لیتے ہوئے یمنی افواج نے بحیرہ احمر میں امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں پر بڑا حملہ کردیا۔

    باغی ٹی وی :یمنی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحیٰ ساری نے کہا ہے کہ تازہ حملے میں 3 امریکی ڈسٹرائیر کو نشانہ بنایا گیا ہے جو اسرائیل کی مدد کیلئے مقبوضہ علاقوں کی جانب بڑھ رہے تھے حملے میں بحریہ، فضائیہ اور بری فوج نے حصہ لیا، 23 بیلسٹک اور ونگڈ میزائل داغے گئے اور ڈرونز سے بھی مدد لی گئی یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تل ابیب، غزہ پر حملے بند نہیں کرتا اور فلسطینیوں کو امداد نہیں پہنچائی جاتی۔

    دوسری جانب مزاحمتی فورسز کی جانب سے عراق سے بھی مقبوضہ علاقوں میں ایک اہم ہدف کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ادھر اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر دو ہزار پاؤنڈز وزنی بم برسا دیے جس سے چھ عمارتیں تباہ ہوگئیں جبکہ حملے میں اہم کمانڈروں سمیت 8 افراد شہید اور 100 کے قریب زخمی ہوگئے، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حزب اللہ ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ ہاشم صفی الدین محفوظ ہیں۔ لوگ دشمن کے پھیلائے ہوئے جھوٹ کے جال میں نہ پھنسیں۔ واضح رہے کہ ہاشم صفی الدین حزب اللہ چیف کے رشتہ دار ہیں۔

    لبنانی وزارتِ صحت نے ہلاکتوں کی حتمی تعداد تو نہیں بتائی تاہم اتنا ضرور بتایا کہ چند لاشیں نکالی گئی ہیں۔ حزب اللہ کے المنار ٹی وی نے بتایا کہ چار عمارتیں تباہ ہوئی ہیں اور کئی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ اے پی نیوز کے مطابق یہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور شمالی بیروت میں 30 کلومیٹر کے فاصلے پر مکانات کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے دعوی کیا کہ اپریشن حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹرز کے خلاف کیا گیا جو کئی ریائشی عمارتوں کے نیچے بنایا گیا تھا۔ حزب اللہ کے المنار ٹیلی ویژن نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم چار ریائشی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔

    اس حملے سے پہلے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اسرائیل کسی بھی وقت جنوبی لبنان پر زمینی حملہ کرسکتا ہے۔ اسرائیلی فوج نے درجنوں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر ساز و سامان لبنانی سرحد پر پہنچادیا ہے۔ فوج کو واضح احکامات بھی دیے جاچکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی حصے میں حزب اللہ ملیشیا کے سینٹرل ہیڈ کوارٹرز پر بڑا حملہ کیا ہے۔ بیروت پر حملے کے تناظر میں اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اپنا امریکا کا دورہ مختصر کرکے وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملے میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کو نشانہ بنایا گیا ان کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، ادھر امریکا نے مشرق وسطی میں بگڑھی زمینی صورتحال کے بعد اسرائیلی حملے سے لاعلم ہونے کا دعویٰ کردیا جبکہ امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کو ’ضرورت کے مطابق‘ خود کو تیار رکھنے کی ہدایت جاری کردیں۔

    دوسری جانب ترجمان پینٹاگون سبرینا سنگھ نے کہا حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر حملے میں امریکا ملوث نہیں، اسرائیل نے حملے کی پیشگی اطلاع نہیں دی امریکی ڈیفنس سیکرٹری لائیڈ آسٹن نے اسرائیلی وزیردفاع سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے تاہم اسرائیل نے آپریشن سے متعلق مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔

    قبل ازیں صدر بائیڈن نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ امریکہ کو (اسرائیلی) کارروائی کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس میں شریک تھا۔ انہوں نے صحافیوں کے سوالات پر مزید کہا کہ ’ہم معلومات اکٹھی کر رہے ہیں، علاوہ ازیں امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرق وسطٰی میں موجود امریکی افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ ’ضرورت کے مطابق‘ خود کو تیار رکھیں۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر نے پینٹاگون کو ہدایت کی ہے کہ وہ خطے میں ضروری امریکی فورس کی پوزیشن کا جائزہ لے اور اسے ضرورت کے مطابق ہم آہنگ کرے تاکہ ڈیٹرنس کو بڑھایا جائے، فورس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور امریکی مقاصد کا مکمل احاطہ کیا جائے۔

  • امریکہ کا سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت پرپابندی ہٹانے کا فیصلہ

    امریکہ کا سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت پرپابندی ہٹانے کا فیصلہ

    امریکا سعودی عرب کے مزید قریب آنے لگا، امریکا نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے

    اس ضمن میں‌امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی ختم ہونے کے بعد سعودی عرب کو فضا سے زمین پر مار کرنے والے ہتھیار دیئے جا سکیں گے،میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی ختم کر رہا ہے، امریکہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سعودی عرب کو کنونشل آرمز ٹرانفسر پالیسی کے تحت کیس بائے کیس بنیاد پر ہتھیاروں کی فروخت شروع کی جائے گی

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پابندی ختم ہونے کے بعد سعودی عرب کو اگلے دو ہفتوں میں ہتھیاروں کی خریداری کا امکان ہے،سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی ہٹانے کا فیصلہ یمنی حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے بعد کشیدگی میں کمی کو نظر میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، مارچ 2022 میں معاہدہ ہونے کے بعد سے اب تک سعودی عرب کی جانب سے یمن پر کوئی فضائی حملہ کیا گیا اور نہ ہی یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کوئی سرحد پار حملہ کیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اس ضمن میں کانگریس کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے کہ سعودی عرب کو اگلے ہفتوں سے ہتھیاروں کی فروخت شروع کی جا سکتی ہے

  • اسرائیل کا یمن اور لبنان پر فضائی حملہ

    اسرائیل کا یمن اور لبنان پر فضائی حملہ

    اسرائیل نے یمن پر فضائی حملہ کیا ہے اور حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے

    اسرائیلی فضائیہ ے سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے یمن پر حملہ کیا،اسرائیل نے لبنان پر بھی فضائی حملہ کیا ہے،مغربی یمنی بندرگاہی شہر حدیدہ میں اسرائیلی فوج نے حوثی اہداف کو نشانہ بنایا،تین سکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ جنوبی لبنان میں ڈپووں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے گولہ بارود کو ذخیرہ کر رہے تھے۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ حوثیوں کے مضبوط گڑھ حدیدہ میں متعدد "فوجی اہداف” کو نشانہ بنایا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ اس کا حملہ "حالیہ مہینوں میں اسرائیل کی ریاست کے خلاف کیے گئے سینکڑوں حملوں کے جواب میں” تھا۔

    ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تک اسرائیل نہ پہنچ سکے۔اسرائیلی وزیراعظم
    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ بندرگاہ کو حوثی ملیشیا کے لیے ایرانی ہتھیاروں کے داخلے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اسرائیل کی سرحدوں سے تقریباً 1,800 کلومیٹر کے فاصلے پر ہونے والے حملے دشمنوں کے لیے ایک یاد دہانی ہیں کہ ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تک اسرائیل نہ پہنچ سکے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد حوثیوں کو پیغام دینا تھا۔ گیلنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ”اس وقت حدیدہ میں جو آگ جل رہی ہے وہ پورے مشرق وسطیٰ میں نظر آرہی ہے اور اس کی اہمیت واضح ہے۔” "حوثیوں نے ہم پر 200 سے زیادہ بار حملہ کیا۔ پہلی بار جب انہوں نے کسی اسرائیلی شہری کو نقصان پہنچایا، ہم نے انہیں مارا۔ اور ہم یہ کسی بھی جگہ کریں گے جہاں اس کی ضرورت ہو گی۔

    حوثی تحریک کے زیر انتظام المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے کہا کہ فضائی حملوں میں 80 افراد زخمی ہوئے۔ حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یمن کو ” اسرائیلی جارحیت” کا نشانہ بنایا گیا جس میں ایندھن ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور صوبے کے پاور اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کا مقصد "عوام کے مصائب میں اضافہ کرنا اور یمن پر غزہ کی حمایت بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے” لیکن یہ صرف یمن کے عوام اور اس کی مسلح افواج کو اس حمایت کو برقرار رکھنے کے لیے مزید پرعزم بنائیں گے۔

    یمن کے انصار اللہ حوثی گروپ کے ترجمان کا ہنگامی بیان
    اسرائیل نے آج یمن کے حدیدہ پر شہر پر بمباری کی ،یہ بمباری شہری اہداف پر کی گئی ہے ،جس میں الیکٹریسٹی اسٹیشن آئل ریفائنری اور دو بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ،اسرائیلی دہشت گردی میں ہمارے مسلمان شہید ہوئے ہیں ،ہم اسرائیل کی بمباری کا جواب دیں گے ،آج سے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب جنگی علاقہ ہے،اسرائیلی شہری تل ابیب چھوڑ دیں ،ہم تل ابیب پر حملہ کریں گے ،ہم ہر قیمت پر غزہ کی مدد اور نصرت جاری رکھیں گے ہم اسرائیل سے لمبی جنگ لڑنے کے لیے تیار رہیں ،تاکہ اسرائیل غزہ کا محاصرہ ختم کردے اور مظلوموں کا خون بہانا بند کردے ،ہم پوری امت مسلمہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قضیہ فلسطین کے لیے کھڑے ہوجائیں ،یمن کے غیور مسلمان اسرائیل سے لڑیں گے اور سبق سکھائیں گے

    یمن پر امریکی ساختہ F35 جہازوں سے بمباری کی گئی ،یہ جہاز 2000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے بحر احمر میں مصر سعودی عرب کی حدود سے گزر کر یمن پہنچے ،فضا میں ان جہازوں میں اٹلی کے جہازوں سے تیل بھرا گیا ،

    قبل ازیں جمعہ کو حوثی باغیوں کے ڈرون حملے میں تل ابیب کے وسط میں امریکی سفارت خانے کے قریب ایک شخص ہلاک اور کم از کم 10 دیگر زخمی ہوئے تھے،

    جنوری سے، امریکی اور برطانوی افواج یمن میں تجارتی بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں، جسے باغیوں نے غزہ کی جنگ میں اسرائیل کی کارروائیوں کا انتقام قرار دیا ہے۔ تاہم جن بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں سے کئی کا تعلق اسرائیل سے نہیں ہے۔مشترکہ افواج کے فضائی حملوں نے اب تک ایران کی حمایت یافتہ فورس کو روکنے میں بہت کم کام کیا ہے۔

    دوسری جگہوں پر، فلسطینیوں نے بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کے جمعہ کے تاریخی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز اس فیصلے پر تنقید کی۔فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی عدالت کے فیصلے کو ’تاریخی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اس پر عمل درآمد کے لیے مجبور ہونا چاہیے،اردن کے وزیر خارجہ نے بھی آئی سی جے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔اقوام متحدہ کی عدالت نے جمعہ کے روز اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ فلسطینی علاقوں پر اپنا قبضہ "جتنا جلد ممکن ہو” ختم کرے اور اپنی "بین الاقوامی طور پر غلط کارروائیوں” کے لیے مکمل معاوضہ ادا کرے۔

    اسرائیل کی وزارت خارجہ نے عدالت کی رائے کو "بنیادی طور پر غلط” اور یک طرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، اور اپنے موقف کو دہرایا کہ خطے میں سیاسی تصفیہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہودی قوم اپنی سرزمین پر قابض نہیں ہو سکتی‘‘۔امریکہ نے عدالت کے فیصلے پر تنقید کی، واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس سے تنازع کو حل کرنے کی کوششیں پیچیدہ ہو جائیں گی۔

  • یمن کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 49 افراد ہلاک

    یمن کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 49 افراد ہلاک

    صنعا: یمن کے ساحلی علاقے کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 49 افراد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق کشتی کے 140 مسافر تا حال لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ یمن کے قریب ڈوبنے والی کشتی میں 260 تارکین وطن سوار تھے،کشتی کے 71 مسافروں کو بچا لیا گیا ہے، واقعے میں ڈوبنے والے 49 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں مرنے والوں میں 31 خواتین اور6 بچے بھی شامل ہیں۔

    کشتی میں سوارتارکین وطن کا تعلق ایتھوپیا اور صومالیہ سے تھا اور وہ یمن پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے، حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    سرکاری ملازمین کیلئے 20 فیصد تک تنخواہوں میں اضافے کی ابتدائی تجویز تیار

    جولائی سے مارچ تک کتنی یونٹ بجلی پیدا کی گئی؟

    انڈسٹریل سیکٹر میں تقریباً 4 فیصد گروتھ آئی ہے، مصدق ملک

  • حوثی باز نہ آئے ،اسرائیل جانے والے یونانی جہازپر حملہ

    حوثی باز نہ آئے ،اسرائیل جانے والے یونانی جہازپر حملہ

    حوثی باغی بحری جہازوں پر حملے سے باز نہ آئے، بحیرہ احمر میں اسرائیل جانے والے جہاز پر ایک اور حملہ کیا ہے

    عرب میڈیا کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں نے یونان کے جہاز پر حملہ کیا ہے جو اسرائیل جا رہا ہے، حوثی گروپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ”جہاز کے عملے کی جانب سے وارننگ کال نظر انداز کرنے کے بعد جہاز پر حملہ کیا گیا،بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں جہازوں کو اسرائیل جانے سے روکتے رہیں گے”.

    ترجمان حوثی گروپ حوثی گروپ کا مزید کہنا تھا کہ غزہ کا محاصرہ ختم ہونے اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت ختم ہونے تک حملے جاری رکھیں گے،

    قبل ازیں 15 جنوری کو بحیرہ احمرمیں حوثیوں نے امریکی بحری جہاز کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا تھا، امریکی فوج کے مطابق یمن سے داغا گیا اینٹی شپ بیلسٹک میزائل حملہ امریکی ملکیت کے مارشل آئی لینڈز جھنڈا بردار جہاز پر ہوا،میزائل حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا، جہاز کو بھی زیادہ نقصان نہیں پہنچا.

    بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے پیچھے محرکات

     جوبائیڈن نے کہا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کے مستقبل سے متعلق اہم خفیہ پیغام ایران کو بھی پہنچادیا گیا

    یمن کے حوثی باغیوں نے امریکہ اور برطانیہ کے فضائی حملوں کے باوجود کارروائیاں بند کرنے سے انکار کردیا ہے، امریکا نے دو دن قبل یمن میں ایک درجن سے زائد مقامات پر ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا، اس کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھی ہے,

    سیاسی اور سفارتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کشیدگی کسی بڑی جنگ کی طرف لے جانے والے حالات بھی پیدا کرسکتی ہےبحیرہ احمر میں بھارت اور اسرائیل سمیت متعدد ممالک کے مال بردار جہازوں کو میزائلوں اور راکٹوں سے نشانہ بناکر حوثی ملیشیا نے عالمی معیشت کے لیے مشکلات بڑھادی ہیں حوثی ملیشیا کے جنگجوؤں نے یمن میں مشقیں کی ہیں، وہ سمندر کے علاوہ زمینی اور فضائی حملوں کی بھی تیاری کر رہے ہیں۔

    امریکہ نے بحیرہ احمر میں یمن کے حوثی باغیوں کے 10 اراکین کو ہلاک کر دیا

    ایرانی پاسداران انقلاب کے 11 اراکین کی موت

    ایرانی کمانڈر رضا موسوی پیر کو شام کے دارالحکومت دمشق میں اسرائیل کے میزائل حملے میں جاں بحق ہوئے تھے،

    ایک ڈرون اور ایک اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کو مار گرایا 

  • امریکی و برطانوی فوج کے یمن میں 73 مقامات پر حملے

    امریکی و برطانوی فوج کے یمن میں 73 مقامات پر حملے

    یمن کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور برطانیہ کی جانب سے یمن میں 73 مقامات پر حملے کئے گئے، ان حملوں میں پانچ افراد کی موت ہوئی جبکہ چھ افراد زخمی ہوئے

    یمنی فوج کے ترجمان کے مطابق امریکہ و برطانیہ کے طیاروں نے یمنی دارالحکومت صنعا،حدیدہ، سعدہ، حجہ اور تعزپر بمباری کی،ان حملوں میں پانچ افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے، دوسری جانب حوثیوں نے یمن کے ساحل کے قریب ایک اور بحری جہاز پر حملہ کیا ہے، امریکہ و برطانیہ کے حملوں کے جواب میں یمنی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ” بحیرہ احمر میں امریکی جہاز کو میزائل حملے کا نشانہ بنا کر غرق کر دیا گیا ہے”

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل الیکس نے یمن کارروائی سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں 16 مقامات پر 60 حملے کیے گئے جن میں کمانڈ پوسٹ، اسلحہ ڈیپو، لانچ نظام، اسلحہ فیکٹریوں اور ائیرڈیفنس کونشانہ بنایا گیا،

    امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی حوثیوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں نے جارحانہ رویہ برقرار رکھا تو جوابی کارروائی کریں گے،

    دوسری جانب یمن کے صدر فیلڈ مارشل مہدی المشاط نے حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور برطانیہ کو حملوں کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی،یمنی صدر نے اسرائیل جانے والے ہر جہاز کو نشانہ بنانے کاعزم دہراتے ہوئے واضح کیا کہ آج سے فلسطینی خود کو جنگ میں تنہا نہ سمجھیں

    یمن پر بمباری کیخلاف دارالحکومت صنعا میں دس لاکھ سے زائد افراد نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے امریکا، برطانیہ اور اسرائیل سے جارحیت کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا

    اقوام متحدہ میں روسی سفیر نے کہا کہ تمام ریاستوں نے یمنی سرزمین پر بڑے پیمانے پر حملہ کیاہے،روسی سفیر کا کہنا تھا کہ یہ ملک کے اندر کسی گروہ پر حملے کی بات نہیں بلکہ پورے ملک کے لوگوں پر حملے کی بات ہے، حملوں کیلئے جنگی جہاز اور آبدوزیں بھی استعمال کی گئی ہیں

  • حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں فائر کیے گئے ڈرون کو امریکہ نے گرا دیا

    حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں فائر کیے گئے ڈرون کو امریکہ نے گرا دیا

    امریکی فوج نے کہا ہے کہ امریکی جنگی جہاز نے یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں فائر کیے گئے ایک ڈرون اور ایک اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کو مار گرایا ہے

    امریکی وسطی کمان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "یو ایس ایس میسن (ڈی ڈی جی 87) نے جنوبی بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے داغے جانے والے ایک ڈرون اور ایک اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کو مار گرایا۔علاقے میں موجود اٹھارہ بحری جہازوں میں سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ 19 اکتوبر کے بعد سے بین الاقوامی جہازوں پر حوثیوں کا یہ بائیسواں حملہ تھا۔”

    اس اہم آبی راستے سے تیل اور قدرتی گیس سے لے کر الیکٹرانکس اور کھلونوں تک کے لے جانے والے جہاز گزرتے ہے، تاہم حوثیوں نے اس اہم ترین آبی تجارتی گزرگاہ پر تجارتی جہازوں پر حملے تیز کردیے ہیں،حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ حملے غزہ میں جنگ کو ختم کرنے کی حمایت میں کر رہے ہیں

    حوثی، جو دارالحکومت سمیت یمن کے زیادہ تر حصے پر قابض ہیں، اکتوبر سے غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بحیرہ احمر میں ان تجارتی جہازوں پر حملہ کر چکے ہیں جن کے بارے میں ان کے بقول اسرائیل سے روابط ہیں یا وہ اسرائیل کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔یمنی حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے 7 اکتوبر کے بعد سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم کی وجہ سے کیے جا رہے ہیں، اسرائیل اور اسرائیل سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ غزہ کی پٹی میں جارحیت کو روکنے کے لیے زور دیا جا سکے۔

     جہازوں پر مسلسل حملوں کے بعد امریکا نے دس ملکی اتحاد کا اعلان کیا 

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟