Baaghi TV

Tag: یمن

  • حوثیوں کی میزائل ٹیکنالوجی نے امریکی پیٹریاٹ نظام کوفعل کردیا

    حوثیوں کی میزائل ٹیکنالوجی نے امریکی پیٹریاٹ نظام کوفعل کردیا

    صنعا:حوثیوں کی میزائل ٹیکنالوجی نے امریکی پیٹریاٹ نظام کوفعل کردیا،اطلاعات کے مطابق یمن کے وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ یمن کی مسلح افواج کو سعودی قیادت والے فوجی اتحاد یعنی امریکہ اور دیگراتحادیوں پرہرطرح سے غلبہ حاصل ہے ،

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کا بنایا ہوا پیٹریاٹ زمین سے فضا میں مار کرنے والے جدید ترین میزائل (SAM) سسٹم جسے سعودی عرب اور اس کے اتحادی حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، یمنی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے مقابلے میں زیادہ موثر نہیں ہیں۔

    "فوجی صنعت کے شعبے میں ہماری مہارت اعلیٰ درجے پر پہنچ چکی ہے۔ عاطفی نے مزید کہا کہ یمنی مسلح افواج کافی پیشہ ور ہیں، اور فی الحال ان کے پاس انتہائی درست اور موثر ہتھیار ہیں۔یمنی وزیر دفاع نے کہا کہ "ایک عظیم فتح ان تمام بہادروں کی منتظر ہے جو مضبوطی سے جارحین کے خلاف مزاحمت کے راستے پر گامزن ہیں۔”

    سعودی عرب نے مارچ 2015 میں اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر اور امریکہ اور دیگر مغربی ریاستوں کے ہتھیاروں اور رسد کی مدد سے یمن پر تباہ کن جنگ شروع کی۔اس کا مقصد عبد ربہ منصور ہادی کی ریاض دوست حکومت کو دوبارہ قائم کرنا اور انصار اللہ مزاحمتی تحریک کو کچلنا تھا جو یمن میں فعال حکومت کی عدم موجودگی میں ریاستی امور چلا رہی ہے۔

    جب کہ سعودی زیرقیادت اتحاد اپنے کسی بھی اہداف کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے، اس جنگ نے لاکھوں یمنیوں کو ہلاک اور دنیا کے بدترین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔

  • ڈریگن بلڈ درخت کی حقیقت جانئے۔

    ڈریگن بلڈ درخت کی حقیقت جانئے۔

    دنیا میں ایسے درخت بھی ہیں جن کی لکڑی کو کاٹنے سے خون نکلتا ہے ۔

    باغی ٹی وی: یہ خبر پڑھنے والوں کو بہت حیرت ہو گی یہ جان کر کہ دنیا میں خوبصورت درختوں کے علاوہ اس طرح کے درخت بھی پاۓ جاتے ہیں ۔جن کا خیال انسانوں کو پہلے کبھی بھی نہیں آیا ہو گا ۔ان درختوں میں سے ڈریگن بلڈ ٹری ایک ہے۔

    مزید یہ کہ اس ڈریگن بلڈ ٹری میں ایک بات خاص بھی ہے ۔کہ جب ان درختوں کو باقی درختوں کی طرح کاٹا جاتا ہے تو اس کی لکڑی ایک گاڑھے قسم کا خون چھوڑنا شروع کر دیتی ہے۔اس کو ڈریگن کا خون کہا جاتا ہے ۔
    مزید تفصیلات کے مطابق ان درختوں کو سائنسی زبان میں ڈریسینا سینا باری کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔
    یہ ڈریگن بلڈ درخت بحیرہ عرب میں یمن کے ساحل سے دور ایک جزیرے پر پاۓ جاتے ہیں ۔

    اس درخت کی زندگی کی ایک خاص مدت ہوتی ہے ۔جو کہ 650 سال پر محیط ہوتی ہے۔

    مزید یہ کہ اس ڈریگن بلڈ درخت کی شاخیں باہر کی طرف کانٹے دار انداز میں نکلتی ہیں ۔جو کہ دیکھنے میں دیو ہیکل مشروم یا کسی چھتری کی طرح معلوم ہوتی ہیں ۔

  • عرب اتحاد کا یمن میں رمضان المبارک میں جنگ بندی کا اعلان

    عرب اتحاد کا یمن میں رمضان المبارک میں جنگ بندی کا اعلان

    یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لئے سرگرم عرب اتحاد نے رمضان المبارک میں جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تاکہ امن مذاکرات کے لئے سازگار ماحول قائم کیا جا سکے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق اتحاد کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل ترکی المالکی نے اپنے بیان میں بتایا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی آرزو پر عرب اتحاد کی قیادت نے 30 مارچ کو صبح 6 بجے سے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تاکہ امن مذاکرات کی کامیابی کے لئے سازگار ماحول بنایا جائے اور ماہ مقدس رمضان المبارک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یمن میں سلامتی اور استحکام لایا جاسکے۔

    اتحاد کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل ترکی المالکی نے مزید کہا کہ عرب اتحاد کا یہ اقدام اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے یمن اور سعودی حکومت کی جانب سے یمنی بحران کے خاتمے کے سیاسی حل کی کوششوں کا ہی حصہ ہے۔

    نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے اسرائیل میں 5 افراد ہلاک

    عرب اتحاد کی جانب سے یہ اعلان خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر نائف الحجرف کی طرف سے یمن میں جنگ بندی کے مطالبے کے کچھ ہی گھنٹے بعد کیا گیا ہے۔

    منگل کو خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل نایف الحجرف نے یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب فوجی اتحاد کی قیادت اور تمام یمنی فریقین سے مشاورت کو کامیاب بنانے کے لیے فوجی کارروائیاں بند کرنے کی اپیل کی تھی-

    سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یہ کال تمام جماعتوں کے لیے ہے جبکہ انصار اللہ کو ایک بار پھر دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ’یمنی بھائیوں‘ کے ساتھ بات چیت میں شریک ہوں اور یمنی عوام کی مشکلات کو دور کرنے اور یمن کے مفاد کے لیے کے لیے آگے آئیں۔

    سعودی عرب کی دھمکی کام کرگئی:حوثی باغیوں کا تین روز کیلئےحملےبند کرنےکا اعلان

    واضح رہے کہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور ایران نواز حوثی ملیشیا کے درمیان امن کے قیام کے لئے امریکا اور اقوام متحدہ کی سربراہی میں سعودی عرب میں مذاکرات کے دور کا پہلا دن منگل کو منعقد ہوا تھا حوثی باغیوں نے ان مذاکرات میں شمولیت سے انکار کر دیا تھا اور حالیہ سالوں میں مذاکرات میں شمولیت کی بار بار دعوتوں کے باوجود کسی پر امن حل کی کوشش کا حصہ بننے سے انکار کرتے آئے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی خصوصی نمائندہ برائے یمن ٹم لینڈرکنگ خطے کے دورے پر پہنچے جو کہ ان کے دفتر کے مطابق یمن میں جاری تنازعے کے پر امن حل اور یمنی عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی امریکی سفارتی کوششوں کا تسلسل رکھیں گے امریکی وزارت خارجہ کے مطابق لینڈرکنگ بھی ان مذاکرات کا حصہ بنیں گے اور یمنی شرکاء سے بات چیت کریں گے-

    سعودی عرب :جدہ میں تیل کی ترسیل کے اہم اسٹیشن پر حوثی باغیوں کا حملہ:ہرطرف آگ ہی…

    خیال رہے کہ جمعے کو ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا نے جدہ میں تیل کے ذخیرے پر حملہ کیا تھا جس کے بعد آگ لگ گئی تھیاتحاد کی جانب سے بعدازاں اعلان کیا گیا کہ اس پر قابو پا لیا گیا ہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا حملوں کے بعد سعودی عرب کی جانب سے واضح کیا گیا تھا کہ حوثی حملوں کی وجہ سے اگر عالمی مارکیٹ کو تیل کی فراہمی متاثر ہوئی تو وہ (سعودی عرب) اس کا ذمہ دار نہیں ہو گا جنوبی جدہ میں واقع پلانٹ میں ڈیزل، گیسولین اور دوسرا ایندھن شہر کے استعمال کے لیے ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

    بھارتی بحرین میں بھی باز نہ آئے، حجاب پہنے خاتون کو ریسٹورینٹ میں داخل ہونے سے روک…

    جمعے کے روز ہونے والے حملے سے سعودی ایئر ڈیفنس نے حوثیوں کی جانب سے چھوڑے جانے والے سات ڈرونز کو راستے میں مار گرایا تھا جن کا ٹارگٹ مملکت کے جنوبی علاقے تھے۔

    عرب اتحاد نے حملوں کے بعد کہا تھا کہ حملوں جان بوجھ شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی جبکہ توانائی کے مراکز بھی ان کا ہدف تھے عرب اتحاد نے حملوں کو علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی کے لیے شدید خطرناک بھی قرار دیا تھا۔

    کرناچاہتا ہے:دوسری جنگ عظیم کی طرزکی سازش ہے: روسی وزیر…

  • سعودی عرب کی دھمکی کام کرگئی:حوثی باغیوں کا تین روز کیلئےحملےبند کرنےکا اعلان

    سعودی عرب کی دھمکی کام کرگئی:حوثی باغیوں کا تین روز کیلئےحملےبند کرنےکا اعلان

    ریاض :حوثی باغیوں نے تین دن کے لیے جنگ بندی کا اعلان اطلاعات کے مطابق یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے ہفتے کے روز سعودی عرب پرمیزائل اور ڈرون حملے تین دن کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    حوثیوں نے اپنے امن اقدام میں کہا ہے کہ اگر عرب اتحاد نے فضائی حملے بند کردیے اور بندرگاہوں پر عاید پابندیاں ختم کردیں تو یہ ایک پائیدارفیصلہ ہوسکتا ہے

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی کہا جارہا ہےکہ حوثیوں کے سیاسی دفتر کے سربراہ مہدی المشاط نے ٹیلی ویژن پرنشرہونے والی تقریر میں کہا کہ اس گروپ نے یمن میں گیس پیدا کرنے والے علاقے مآرب میں زمینی جارحانہ کارروائیوں کوبھی تین دن کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    مشاط نے کہا کہ حوثی گروپ یمنی صدرعبدربہ منصور ہادی کے بھائی سمیت تمام قیدیوں کو رہا کرنے کوتیار ہے۔

    یہ اعلان عرب اتحاد کے یمن کے ساحلی شہرالحدیدہ میں حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف تازہ فضائی حملوں اور یمن کی الصلیف بندرگاہ کے قرب وجوار میں واقع اسلحہ کے گودام کو تباہ کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حوثی اس دوران دوبارہ سے حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں ،

    یہ بھی یاد رہے کہ اس سے قبل اتحاد نے حوثیوں کو الحدیدہ اورالصلیف کی بندرگاہوں اور صنعاءکے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے تمام ہتھیارہٹانے کے لیے تین گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

    جمعہ کے روز حوثیوں نے مملکت کے خلاف 16 معاندانہ حملےکیے تھے اوران میں جدہ میں آرامکو کی تیل کی تنصیب پر بھی حملہ شامل ہے۔عرب اتحاد کے مطابق کسی بھی حملے میں ہلاکتیں نہیں ہوئی ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک آئل ڈپو پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

    یہ واقعہ ایسے موقع پر پیش آیا ہے جب جدہ میں تاریخ میں دوسری بار سعودی عریبین گراں پری فارمولہ ون ریس کا آغاز اتوار سے ہونے والا ہے۔

    اس سے قبل بھی حوثی باغی دو بار اس ڈپو پر کروز میزائل سے حملے کا دعویٰ کرچکے ہیں۔ پہلا حملہ نومبر 2020 جبکہ دوسرا گزشتہ اتوار کو کیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ یمن میں خانہ جنگی کا آغاز 2014 میں اس وقت ہوا جب حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کیا۔ یمن میں ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس تنازع کی وجہ سے لاکھوں افراد قحط سالی شکار ہو رہے ہیں۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حوثی باغیوں نے یہ اعلان اس دھمکی کے بعد کیاہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگرحوثیوں نے حملے بند نہ کئے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی

  • حوثی باغیوں کو بڑا جھٹکا،یمن کو سعودی عرب سے ملانے والے شہر کا بڑا حصہ چھن گیا

    حوثی باغیوں کو بڑا جھٹکا،یمن کو سعودی عرب سے ملانے والے شہر کا بڑا حصہ چھن گیا

    یمن میں عرب اتحاد نے حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اہم ترین شہر حرض کا بڑا حصہ آزاد کرالیا۔

    باغی ٹی وی : عرب نیوزکے مطابق یمنی فوج کی جانب سے حوثی فورسز کو علاقے سے نکالنے کے لیے کارروائی کے ایک دن بعد یمنی شہریوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ شمالی شہر حرد کی طرف جانے والی سڑکوں سے گریز کریں،یمن میں قانونی حیثیت کی بحالی کے لیے اتحاد یمنی فوج کی جانب سے اسٹریٹجک شہر کو ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا سے آزاد کرانے کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔

    ہفتہ کی صبح 3 بجے شروع ہونے والے اتحاد نے حرض کی سڑکوں پر گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی اور کہا کہ یہ علاقہ ایک آپریشن کی جگہ ہے جہاں یمنی حکومت کے فوجی شہر پر قبضہ کرنے کے لیے زور دے رہے ہیں۔

    اسرائیل اور امریکا کا دفاعی میزائل ’’ آئرن ڈوم سسٹم‘‘ کی تیاری پر اتفاق

    سعودی پریس ایجنسی نے اتحادی افواج کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ حرض کے ارد گرد کے علاقے "آپریشن کے دائرے میں ہیں اور ان کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے، اور ان سڑکوں پر کسی بھی نقل و حرکت کو نشانہ بنایا جائے گااتحاد کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب یمنی فوج کے دستوں نے، جنہیں اتحادی فضائیہ کی حمایت حاصل ہے، ملیشیا کے جنگجوؤں کو شہر کے مشرق میں تزویراتی مقامات کو چھوڑنے پر مجبور کرنے کے بعد حرد کا تقریباً محاصرہ کر لیا۔

    بریگیڈیئر یمنی فوج کے ترجمان جنرل عبد اللہ مجیلی نے ہفتے کے روز عرب نیوز کو بتایا کہ سرکاری دستوں نے حرض کے مشرق میں ایک فوجی اڈے اور زمین پر قبضہ کر لیا ہے فوجیوں نے حوثیوں سے کہا جو شہر کے مرکزی علاقے پر قابض ہیں ہتھیار ڈال دیں۔

    پاک افغان سرحد کے قریب برفانی تودے کی زد میں آکر19 افراد جاں بحق

    یمن کی افواج کے ترجمان برگیڈیئر جنرل عبدو عبداللہ مجیلی کے مطابق یمن کی سرکاری افواج نے عرب اتحاد کی مدد سے شمالی صوبے حجہ کے شہر حرض کے آس پاس بڑے حصے کا قبضہ واپس حاصل کرلیا ہے اور اب وہ شہر کے مرکز کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں جمعہ کے روز یمنی افواج نے حرض کا محاصرہ کرکے حوثی باغیوں سے اہم حصوں کا قبضہ حاصل کیا تھا، اس میں ایک فوجی چھاؤنی بھی شامل تھی۔ محاصرے کے بعد یمنی افواج نے حوثی باغیوں سے ہتھیار ڈالنے کا کہا لیکن انہوں نے شہر میں بارودی سرنگیں بچھادیں جن کو ہٹانے کا کام کیا جا رہا ہے-

    مجیلی نے کہا، "قومی فوج نے المحمصم فوجی اڈے اور حجہ کو حدیدہ سے ملانے والی بین الاقوامی سڑک کو آزاد کرایا، اور اب شہر کے مرکز کی طرف بڑھ رہی ہے۔”

    حکومتی فوجیوں کی جانب سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کا اعلان سب سے پہلے جمعے کو یمنی فوج کے 5ویں فوجی علاقے کے کمانڈر میجر جنرل یحییٰ صلاح نے حرد حملے کے آغاز کے چند گھنٹے بعد کیا تھا شمالی صوبے حجہ میں فوجی حملے "فریڈم آف ہیپی یمن” آپریشن کا حصہ ہیں جس کا اعلان بریگیڈیئر جنرل نے حوثیوں سے ملک کو آزاد کرانے کے لیے کیا ہے۔

    معروف شاپنگ مال نے ملازمہ کو حجاب پہننے پر نوکری سے نکال دیا

    مجیلی نے کہا کہ حرض کی آزادی سے حکومتی دستوں کو بندرگاہی شہر حدیدہ کی طرف جنوب کی طرف دھکیلنے کا موقع ملے گا، التوال سرحدی گزرگاہ کو محفوظ بنایا جائے گا جو یمن کے شمالی علاقوں کو سعودی عرب سے جوڑتا ہے، اور ہزاروں بے گھر لوگوں کو اپنے گھروں کو لوٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔

    مقامی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں نے حرضخ کے ارد گرد سرکاری فورسز پر تین بیلسٹک میزائل فائر کیے اور فوجیوں کو شہر میں پیش قدمی سے روکنے کے لیے بارودی سرنگیں بچھائیں سرکاری فورسز نے حوثیوں کے گڑھ شمالی صوبے صعدہ میں بھی پیش قدمی کی اور ضلع ہیدان کے کئی مقامات اور علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

    اتحاد نے ایک بیان میں کہا کہ حوثیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، جب کہ اتحادی جنگی طیاروں نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حجہ اور مارب کے صوبوں میں ملیشیا کی 13 گاڑیوں کو تباہ کر دیا

    عرب نیوز کے مطابق اگر یمن کی سرکاری افواج حرض شہر کا مکمل قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو سعودی عرب کے ساتھ سرحدی گزرگاہ الطوال بھی کھل جائے گی اس کے علاوہ حوثی باغیوں کیلئے حدیدہ ریجن میں کمک کے راستے بند ہوجائیں گے جس کے نتیجے میں حجہ صوبے کے باقی علاقے بھی باآسانی آزاد کرائے جاسکیں گے۔

    یمن میں فوڈ ڈلیوری کے لیے گھوڑوں کا استعمال

    دوسری جانب ” العربیہ ” کے مطابق یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب الجوف صوبے میں بیلسٹک میزائل داغنے کے ایک لانچنگ پیڈ کو تباہ کر دیا گیا عرب اتحاد نے واضح کیا کہ یہ کارروائی شہریوں کو دشمن کے حملوں سے بچانے کے واسطے عمل میں آئی عرب اتحاد نے ہفتے کو علی الصباح صنعاء اور دیگر صوبوں میں قانونی عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے فوجی آپریشن شروع کیا۔

    اس سے قبل "الیمن السعید” بریگیڈز نے حجہ صوبے میں حرض شہر کو حوثیوں کی بچھائی گئی ہزاروں بارودی سرنگوں سے پاک کیا۔اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ آزاد کرائے گئے علاقوں میں انسانی اور امدادی کارروائیاں تطہیر کے عمل کے بعد شروع کی جائیں گی عرب اتحاد نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران میں مارب اور حجہ میں حوثی ملیشیا کے خلاف 16 کارروائیاں کیں۔ ساتھ ہی یمنی فوج نے ملیشیا کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری اور راکٹ باری کی۔ اتحادی طیاروں نے حوثیوں کے جتھوں کو نشانہ بنایا۔

    یمن میں آئینی حکومت کی فوج نے گذشتہ ہفتوں کے دوران میں شبوہ ، مارب اور حجہ کے محاذوں پر قابل ذکر پیش قدمی کو یقینی بنایا ہے۔ اس دوران حوثیوں کو بھاری جانی و مادی نقصان اٹھانا پڑا۔

    شہزادہ چارلس بادشاہ اور ان کی اہلیہ کمیلا پارکر ملکہ برطانیہ ہوں گی،ملکہ الزبتھ نے…

  • یمن میں فوڈ ڈلیوری کے لیے گھوڑوں کا استعمال

    یمن میں فوڈ ڈلیوری کے لیے گھوڑوں کا استعمال

    یمن میں مقامی افراد نے کھانے پینے کی اشیاء کو گھروں تک پہنچانے (ہوم ڈلیوری) کے لیے گھوڑوں کا استعمال کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غییر ملکی میڈیا کے مطابق یمنی دارالحکومت صنعاء میں ایک ڈلیوری کمپنی نے اپنے صارفین کی طلب کردہ اشیاء کی حوالگی کے واسطے گھوڑوں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

    شہزادہ چارلس بادشاہ اور ان کی اہلیہ کمیلا پارکر ملکہ برطانیہ ہوں گی،ملکہ الزبتھ نے اعلان کر دیا


    سوشل میڈیا پر صنعاء کے ایک ریستوران کی تصاویر گردش میں آ رہی ہیں ریستوران انتظامیہ گھوڑوں کے ایک مجموعے کے ذریعے مطلوبہ کھانے گاہکوں کے گھروں تک پہنچا رہی ہے۔


    سوشل میڈیا پر صارفین نے اس اقدام کو دور جاہلیت اور جدید زمانے کا امتزاج قرار دیا ہے اس اقدام کی وجہ صنعاء میں پٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت اور ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت کا سلسلہ موقوف ہوجانا ہے صارفین کے لیے اشیاء گھروں تک پہنچانے والے مذکورہ گھوڑ سواروں کو "فرسان التوصیل” کا نام دیا گیا ہے۔

    لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر 92 برس کی عمر میں چل بسیں


    یمنی شہریوں کے مطابق صنعاء اور حوثیوں کے زیر قبضہ دیگر صوبوں میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایندھن کے اسٹیشنوں پر فروخت کا سلسلہ مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔

    بلیک مارکیٹ میں ایک گیلن (تقریبا 20 لیٹر) پٹرول کی قیمت تقریبا 25 ہزار یمنی ریال پہنچ چکی ہے یہ قیمت 40 امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

  • کشمیر اور یمن میں مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کا احتجاج

    کشمیر اور یمن میں مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کا احتجاج

    کراچی: کشمیر اور یمن میں مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کا احتجاج,علامہ باقر عباس زیدی نے کہا کہ  کشمیر و یمن اور فلسطین محض علاقائی مسئلے نہیں مزاحمتی تحریکوں کو امریکہ اور حواریوں کے ایما پر دبانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی،اسلامی تعاون تنظیم میں موجود عرب ممالک نے مسلم امہ کو سخت مایوس کیا ہے،کشمیر، فلسطین، یمن سمیت دنیا بھر کے مسلمان عالم استکبار کے نرغے میں ہیں، دنیا بھر میں مسلمانوں کے قتل عام پر مسلم ممالک کی خاموشی لاتعداد سوالات پیدا کر رہی ہے-

    علامہ مبشر حسن نے کہا کہ عالم اسلام کو درپیش سنگین مسائل پر امت مسلمہ کو یک زبان ہونے کی ضرورت ہے خطے میں تناو کی یہ صورتحال عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کشمیر اور یمن میں مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام جامع مسجد نورایمان ناظم آباد کے باہر نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔احتجاجی مظاہرین سے علامہ باقر عباس زیدی،علامہ صادق جعفری علامہ علی انور،،علامہ مبشر حسن،علامہ ملک غلام عباس، میر تقی ظفر،صابر کربلائی سمیت دیگر نے خطاب کیا۔

    آرمی چیف کا ہیڈ کوارٹرز لاہور کا دورہ

    مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر و یمن محض علاقائی مسئلے نہیں بلکہ یہ انسانیت، اخلاقیات، قانون اور آئین کے وہ تقاضے ہیں جنہیں سفاکی سے پامال کیا جارہا ہے۔کشمیر، یمن اور فلسطین کے مسلمانوں کی استقامت امت مسلمہ کے وقار اور نسلوں کی بقا کے لیے اصولی جدوجہد کا نام ہے۔عالم استکبار کے خلاف جاری مزاحمتی تحریکوں کو امریکہ اور اس کے حواریوں کے ایما پر دبانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

    مسلمانوں کو زوال کا شکار کرنے والے مستکبرین کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔مسلمانوں کی مزاحمتی تحریکیں مضبوط اور منظم ہیں۔انہوں نے کہ عالم اسلام کو درپیش سنگین مسائل پر امت مسلمہ کو یک زبان ہونے کی ضرورت ہے۔ کشمیر کے نہتے اور مظلوم عوام گزستہ کئی سالوں سے بھارت کی سفاک فوج کے ہاتھوں ظلم و بربریت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ نوجوانوں کی پولیس تشدد سے شہادتوں، خواتین کی عصمت دری، کرفیو اور مختلف علاقوں کا مستقل محاصرہ جیسے واقعات معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔

    کرپشن کیس: سابق صدر نیشنل بینک عثمان سعید کو سزا سنا دی گئی

    بھارت کے ریاستی اداروں نے کشمیری عوام کے خلاف انتقامی کارروائیوں کو اپنا فرض منصبی سمجھا رکھا ہے۔پوری دنیا کے سامنے بھارت کا گھناونا چہرہ بے نقاب ہونے کے باوجود اقوام عالم کی طرف سے کسی بھی ردعمل کا مظاہرہ نہ کیا جانا اسلام دشمنی اور تعصب کی بنیاد پر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو جب تک ان کا حق خودارادیت نہیں دیا جاتا تب تک کشمیر میں یہ آگ بھڑکی رہے گی۔خطے میں تناو کی یہ صورتحال عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔مسئلہ کشمیر محض دو ملکوں کے درمیان جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ اس سنگین صورتحال سے بدترین انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ کشمیر میں سلگی ہوئی آگ پر اگر قابو نہ پایا گیا تو یہ اور بہت سارے دامنوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

    ہمارے تین اسپتالوں کا بجٹ خیبر پختونخوا کے صحت کارڈ سے زیادہ ہے،بلاول بھٹو

    انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور بااثر حکمرانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرائیں۔ ان نے کہا کہ پاکستانی قوم مشکل کی ہر گھڑی میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ہم انہیں کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔  یہود ونصاری کے پے رول پر موجود مسلم حکمران اور مذہبی تنظیمیں شدت پسندانہ نظریات ابھار کر دین اسلام کے حقیقی تشخص کو داغدار کرنے میں پیش پیش ہیں۔ایسی صورتحال میں ان عرب ممالک کو اپنا کردار اد کرنا چاہئیے تھا جن کی امت مسلمہ میں ساکھ قدرے بہتر ہے۔

    اس طرح دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے اسلام کی حقیقی شناخت کو بحال رکھنے کا فریضہ بھی ادا ہو جاتا لیکن عرب ممالک نے اپنا سارا زور یہود ونصاریٰ کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگایا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کے قتل عام پر مسلم ممالک کی خاموشی لاتعداد سوالات پیدا کر رہی ہے۔او آئی سی میں موجود عرب ممالک کو اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے اپنے اہداف کا ازسر نو تعین کرنا ہو گا۔

    ڈالر کی قدر میں معمولی کمی،سونے کے نرخ بھی کم

  • ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ابو ظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی اتحاد نے یمن پر حملہ کیا ہے

    صنعا کے اللیبیہ ضلع پر سعودی جنگی طیاروں کے فضائی حملوں میں کم از کم 12 شہری ہلاک ہو گئے ہیں سعودی اتحاد نے ان حملوں کو ابوظہبی ہوائی اڈے اور المصافہ کے علاقے میں کل کی انصار اللہ کی کارروائی کا ردعمل قرار دیا۔ان حملوں کے نتیجے میں پانچ رہائشی مکانات تباہ ہو گئے۔ نیز صنعاء کے اسپتالوں کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اب تک 12 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوچکے ہیں۔

    حوثی باغیوں نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی ،اسکائی نیوز عربیہ نے منگل کی صبح رپورٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی افواج نے متحدہ عرب امارات میں حوثیوں کے حملوں کے جواب میں یمنی دارالحکومت صنعا پر بمباری شروع کردی ہے اتحادی فوج کے ایک بیان کے مطابق، ’’یہ فضائی حملے دھمکیوں اور فوجی ضروریات کے جواب میں شروع کیے گئے تھے۔اتحادی فضائیہ صنعا کے آسمان پر چوبیس گھنٹے آپریشن کر رہی ہے۔ ہم شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے فوجی کیمپوں اور حوثیوں کے اجتماعات سے دور رہیں

    میڈیا رپورٹ کے مطابق فضائی حملے میں سابق فوجی عہدیدار کے گھر کو نشانہ بنایا گیا ہے، حوثیوں نے دعوی کیا ہے کہ سعودی حملے میں تقریبا 20 افراد ہلاک اور متعددزخمی ہوئے ہیں، حملےمیں متعدد گھر بھی تباہ ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے یو اے ای کے ہم منصب سے فون پر بات کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات پر حوثیوں کے حملے کی مذمت کی ہے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے ہم منصب شیخ محمد بن زاید کو فون کیا، جس کے دوران انہوں نے حوثی ملیشیا کے یو اے ای پر حملے کی مذمت کی۔دونوں رہنماؤں نے اس بات کا عزم کیا کہ یہ دہشت گردانہ کارروائیاں جنہوں نے مملکت اور متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا، دونوں ممالک کے "عزم اور ان جارحانہ طرز عمل کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے عزم” میں اضافہ کریں گے، جو حوثی ملیشیا کی طرف سے انجام دیے گئے ہیں، جنہوں نے یمن میں تباہی مچا رکھی ہے، یمنی شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ عوام اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے "افراتفری پھیلانے کی مذموم اور ناکام کوششیں” جاری رکھیں۔

    سعودی پریس ایجنسی کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ولی عہد شہزادوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی ان صریح خلاف ورزیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ان دہشت گردانہ جرائم کو مسترد اور مذمت کریں جو علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

    سعودی ولی عہد نے جاں بحق افراد کے لیے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
    شیخ محمد بن زاہد نے مخلصانہ جذبات کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا،گفتگو کے دوران، انہوں نے علاقائی امور اور مشترکہ دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ٹویٹر پر کہا کہ آج مملکت اور متحدہ عرب امارات کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ حملے اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ ملیشیا علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرات کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔”اس کے ساتھ ہی، ہم حوثیوں کی مداخلت سے نمٹنے اور مملکت اور اپنے خطے کی سلامتی کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

    حملے کے کچھ دیر بعد، یو اے ای کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے کہا کہ وہ حوثیوں کی ایک دہشت گرد تنظیم کی حیثیت کو بحال کریں۔ امریکی صدر جو بائیڈن، جنہوں نے گزشتہ سال اس تحریک کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی امریکی فہرست سے نکال دیا، دلیل دی کہ اس تقرری سے یمن کو انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے کیونکہ یہ ملک دنیا کے بدترین انسانی بحران کا شکار ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں حوثیوں کے حملوں کے پیچھے کیا ہے؟ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ڈرون حملے کا دعویٰ یمن کے حوثیوں نے متحدہ عرب امارات پر کیا، جس کے نتیجے میں ابوظہبی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے، متحدہ عرب امارات ، جو حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی زیرقیادت اتحاد کا رکن ہے، اور مارچ 2015 سے یمن کی حکومت کی باضابطہ حمایت کر رہا ہے – نے بڑی حد تک حوثیوں پر فائرنگ سے گریز کیا ہے۔ سعودی عرب نے یمن سے بھیجے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کا خمیازہ برداشت کیا ہے اور متحدہ عرب امارات پر حوثیوں کا آخری حملہ 2018 میں ہوا تھا۔

    متحدہ عرب امارات یمن سے آگے ہے، اور یمن کے ساتھ سعودی عرب کی طویل سرحد کے برعکس، اس ملک کے ساتھ کوئی سرحد نہیں ہے۔ لیکن حوثیوں کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو نشانہ نہ بنانے کی طویل عرصے سے ایک فعال حکمت عملی بھی دکھائی دیتی ہے،پچھلے کچھ سالوں سے، متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی براہ راست فوجی مداخلت کو کم کیا ہے۔

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

    پاکستانی اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ، بھارت سمیت کئی ممالک ملوث

    بریکنگ، ابوظہبی ڈرون حملہ،ایک پاکستانی اور 2 بھارتی شہری مارے گئے

  • یمن کے نزدیک بحری جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں :خطے میں کچھ ہونے جارہا ہے: برطانوی بحریہ

    یمن کے نزدیک بحری جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں :خطے میں کچھ ہونے جارہا ہے: برطانوی بحریہ

    لندن:یمن کے نزدیک بحری جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں :خطے میں کچھ ہونے جارہا ہے: برطانوی بحریہ نے خطرے کی گھنٹی بجادی ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے بحری تجاری آپریشنز کی نگراں اتھارٹی UKMTO کے ایک اعلان کے مطابق اسے یمن کی راس عیسی بندرگاہ کے نزدیک ایک جہاز پر حملہ ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ مزید تفصیلات جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق اتھارٹی نے ملاحوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ علاقے میں انتہائی احتیاط اختیار کریں اور چوکنا رہیں۔ مذکورہ اتھارٹی برطانوی شاہی بحریہ کا حصہ ہے۔یمن کے صوبے الحدیدہ میں راس عیسی بندرگاہ بحیرہ احمر پر واقع ہے۔

    یمنی حکومت کے علاوہ امریاک اور دیگر ممالک ہمیشہ سے الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ حوثی ملیشیا اس علاقے میں جہاز رانی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد نے کئی مرتبہ گولہ بارود سے بھری حوثی کشتیوں کا پتہ چلایا جنہوں نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

    ادھرعراقی سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ پیر کے روز دو مسلح ڈرونز کو مار گرایا گیا جب وہ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے عراقی فوجی اڈے کے قریب پہنچے، انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔

    یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران اور عراق میں اس کے اتحادیوں نے اعلیٰ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی دوسری برسی منائی۔

  • یمن : مارب کے مغرب اور جنوب میں لڑائی کا دوبارہ آغاز، حوثیوں کا حملہ پسپا

    یمن : مارب کے مغرب اور جنوب میں لڑائی کا دوبارہ آغاز، حوثیوں کا حملہ پسپا

    صنعا :یمن : مارب کے مغرب اور جنوب میں لڑائی کا دوبارہ آغاز، حوثیوں کا حملہ پسپا،اطلاعات کے مطابق یمن میں‌ ایک بار پھر سخت لڑائی شروع ہوگئی ہے، ادھر یمن کے صوبے مارب میں شدید معرکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبے کے مغربی اور جنوبی حصے میں یمنی فوج کی حوثی ملیشیا کے ساتھ جھڑپیں پھر سے شروع ہو گئیں۔ یمنی فوج کو عوامی مزاحمت کاروں کی معاونت حاصل ہے۔

     

     

    ایران نواز حوثیوں نے اتوار کے روز اور پیر کی صبح مارب کے مغربی محاذ الکسارہ پر متعدد عسکری گاڑیاں اکٹھا کر لیں۔ تاہم یمنی فوج کی توپوں نے ان گاڑیوں کو شدید گولہ باری سے نشانہ بنایا اور دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق اس دران میں حوثی ملیشیا کے 8 ارکان ہلاک ہو گئے۔

    ادھر جنوبی محاذ پر یمنی فوج نے دو سمتوں سے کیے گئے حوثیوں کے حملے کو پسپا کر دیا۔ دریں اثنا فوجی توپوں نے مشرقی بلق میں تین عسکری اور ایک بکتر بند گاڑی تباہ کر دی۔

    یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے جوبہ اور ملعاء میں حوثیوں کی عسکری کمک کو نشانہ بنایا۔ اس دوران میں درجنوں عسکری گاڑیاں تباہ کر دی گئیں۔

     

    اس سے قبل عرب اتحاد کے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ اتحاد کی سات کارروائیوں میں البیضاء صوبے کے عسکری کیمپ السوادیہمیں راکٹوں کے لانچنگ پیڈوں ، ہتھیاروں اور عسکری گاڑیوں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

    زمینی ذرائع نے العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کو بتایا کہ عرب اتحاد نے البیضاء سے آنے والی حوثیوں کی عسکری کمک کو نعمان ضلع میں تباہ کر دیا۔

    یہ پیش رفت اُس مطالبے کے بعد سامنے آئی جس میں عرب اتحاد نے یمنی شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ البیضاء صوبے میں واقع السوادیہ عسکری کیمپ سے فوری طور پر نکل جائیں۔