Baaghi TV

Tag: یورپی یونین

  • یورپی یونین کا  امریکی اشیا پر جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان

    یورپی یونین کا امریکی اشیا پر جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان

    یورپی یونین اگلے ماہ سے 26 بلین یورو (28 بلین ڈالر) مالیت کی امریکی اشیا پر جوابی محصولات عائد کرے گا۔

    یورپی یونین کے ایگزیکٹو نے کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہیں اور زیادہ ٹیرف لگانا کسی کے مفاد میں نہیں کھلا ہے اور کسی کے مفاد میں زیادہ ٹیرف پر غور نہیں کرتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تمام سٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر 25 فیصد کے ٹیرف میں اضافہ بدھ کے روز سے نافذ العمل ہو گیا کیونکہ پیشگی چھوٹ، ڈیوٹی فری کوٹے کی میعاد ختم ہو گئی۔

    یورپی کمیشن کی سربراہ ارسولا وان ڈیر لیین نے صحافیوں کو بتایا کہ "ہم آج جوابی اقدامات اٹھا رہے ہیں وہ سخت لیکن متناسب ہیں۔ جیسا کہ امریکا 28 بلین ڈالر کے محصولات کا اطلاق کر رہا ہے، ہم 26 بلین یورو کے جوابی اقدامات کے ساتھ جواب دے رہے ہیں۔”” یورپی یونین کو اپنے صارفین اور کاروبار کے تحفظ کے لیے کام کرنا چاہیے۔”

    وان ڈیر لیین نے کہا کہ اس دوران ہم مذاکرات کے لیے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ "ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ جغرافیائی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال سے بھری دنیا میں، اپنی معیشتوں پر اس طرح کے محصولات کا بوجھ ڈالنا ہمارے مشترکہ مفاد میں نہیں ہے۔ ہم ایک بامعنی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔”مجوزہ ہدف کی مصنوعات میں صنعتی اور زرعی مصنوعات شامل ہیں، جیسے سٹیل اور ایلومینیم، ٹیکسٹائل، گھریلو آلات، پلاسٹک، پولٹری، گائے کا گوشت، انڈے، ڈیری، چینی اور سبزیاں۔

    ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والی 90 خواتین کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ مل گیا

    عشرت العباد کی جعفر ایکسپریس پر حملے کی شدید مذمت

    زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر مہنگا

    جعفر ایکسپریس کے بازیاب مسافروں کا پاک فوج اور ایف سی کو خراج تحسین

  • جعفر ایکسپریس حملہ، امریکا، چین، روس، ایران، ترکیہ اور یورپی یونین کی شدید مذمت

    جعفر ایکسپریس حملہ، امریکا، چین، روس، ایران، ترکیہ اور یورپی یونین کی شدید مذمت

    دنیا بھر سے جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملے کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے، امریکا، چین، ایران، ترکیہ، روس کے بعد یورپی یونین نے بھی دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق امریکا نے ٹرین دہشت گردی اور مسافروں کو یرغمال بنانے کی مذمت کی ہے، ترجمان امریکی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔امریکی سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ بی ایل اے کو امریکا نے عالمی دہشت گرد گروپ قرار دیا ہوا ہے، امریکا متاثرہ افراد سے گہری ہمدردی و تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔

    چین نے بھی جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی سے نمٹنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ چین کسی بھی شکل میں دہشت گردی کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، پاکستان کے ساتھ انسداد دہشتگردی اور سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہیں۔

    روس کی جانب سے بھی دہشت گرد حملے کی مذمت کی گئی ہے، پاکستان میں روس کے سفارت خانے نے جاری بیان میں کہا کہ وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کرتےہیں۔یورپی یونین کی سفیر ریناکونیکا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر واقعے کی مذمت کی ہے۔سفیر یورپی یونین ریناکونیکا کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان کے عوام اور متاثرین کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہیں۔

    دریں اثنا، پاکستان میں فرانسیسی سفارتخانے نے بھی ٹرین پر دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانسیسی سفارتخانہ دہشت گردی کے حملے کی مذمت کرتا ہے۔فرانسیسی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ متاثرین اور اہلخانہ کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، مزید کہا کہ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز (11 مارچ) دہشت گردوں نے بولان پاک کے علاقے میں ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑایا، اور جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے 400 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنایا۔اگرچہ دور دراز علاقے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا تھا، سیکیورٹی فورسز نے بتایا تھا کہ انہوں نے ڈھاڈر کے علاقے میں بولان پاس میں یرغمالیوں کو بچانے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا کیا تھا، جس میں گزشتہ رات تک کم از کم 16 حملہ آور ہلاک کیے جاچکے تھے۔

    آج پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس کے یرغمالی مسافر بازیاب ہوگئے اور تمام 33 دہشتگرد ہلاک کردیے گیا، تاہم آپریشن شروع ہونے سے پہلے دہشت گردوں نے 21شہریوں کو شہید کیا۔

    جعفر ایکسپریس حملہ آپریشن مکمل، 33 دہشتگرد جہنم واصل، 21 مسافر، 4 ایف سی جوان شہید

  • یورپی یونین کو پاکستانی برآمدات میں گزشتہ مالی سال 2 فیصد اضافہ

    یورپی یونین کو پاکستانی برآمدات میں گزشتہ مالی سال 2 فیصد اضافہ

    گذشتہ مالی سال یورپی یونین کو پاکستانی برآمدات میں 2 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات میں گزشتہ مالی سال 2023-24 کے دوران 2 فیصد کا اضافہ دیکھنے کو آیا ہے جو 8 ارب 37 کروڑ ڈالر سے زیادہ تک پہنچ گئی۔یہ اضافہ پاکستان کی برآمدات کے حوالے سے ایک اہم کامیابی ہے کیونکہ 2022-23 میں یہ برآمدات 8 ارب 23 کروڑ ڈالر سے زائد تھیں۔پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات میں گزشتہ 10 سالوں میں 79 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 2013-14 میں یہ برآمدات 4 ارب 66 کروڑ ڈالر سے زیادہ تھیں جو اب 8 ارب 37 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات کل ملکی برآمدات کا 28 فیصد ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی یونین پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔

    اس ترقی کے پیچھے حکومت کی جانب سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور مختلف شعبوں میں کیے گئے اصلاحات شامل ہیں۔حکومت نے جی ایس پی پلس کے تحت اپنے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی ہے جس کے تحت مختلف شعبوں میں اہم اصلاحات کی گئی ہیں۔ان اصلاحات میں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی کاروائی اور حکومتی اصلاحات میں بہتری شامل ہے۔ سندھ اور پنجاب نے لیبر کوڈز تیار کیے ہیں جو آئی ایل او کے کنونشنز سے ہم آہنگ ہیں۔پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں بھی یورپی یونین کو اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس اضافے کے باعث پاکستان کی معیشت میں استحکام آیا ہے اور ملکی صنعتوں کو عالمی مارکیٹ میں مزید مضبوطی ملی ہے۔

    حکومت کا 15 مارچ کو یوم تحفظ ناموس رسالت ﷺ منانے کا فیصلہ

    ملک کے چاروں صوبوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    کراچی،جرائم کا سلسلہ نہ تھم سکا، پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

    میو اسپتال میں انجیکشن کا ری ایکشن ،18 مریض متاثر، ایک کی موت

    ہر محب وطن قومی اداروں کے ساتھ دلی احترام سے کھڑا ہے،عبدالعلیم خان

  • امریکی پالیسیوں سے تنگ کینیڈین وزیراعظم نے یورپی یونین کی رکنیت کے لئے درخواست دیدی

    امریکی پالیسیوں سے تنگ کینیڈین وزیراعظم نے یورپی یونین کی رکنیت کے لئے درخواست دیدی

    امریکی پالیسیوں سے تنگ آ کر کینیڈا نے یورپی یونین کی رکنیت کے لئے درخواست دے دی-

    باغی ٹی وی: امریکی صدر ٹرمپ نے کینیڈا کو ایک بار پھر امریکا کی 51 ویں ریاست بنانے کی خواہش ظاہر کی،ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ محصولات میں اضافے سے کچھ تکلیف ہوگی لیکن اس کے نتائج شاندار ہوں گے، یہ امریکا کا سنہری دور ہو گا،ہم امریکا کو پھر سے عظیم بنائیں گے۔

    ٹرمپ نے کہا تھا کہ کیوں ہم کینیڈا کو سبسڈی دینے کے لیے سیکڑوں ارب ڈالر ادا کرتے ہیں؟ کینیڈا کو ہماری 51ویں ریاست بننا چاہیے، اس صورت میں کینیڈا کے پاس بہتر فوجی تحفظ ہو گا اور اس پر کوئی ٹیرف بھی نہیں ہو گا۔

    امریکا کی جانب سے ٹیرف نافذ کیے جانے کے بعد چین کا جوابی اقدام

    اس سے قبل بھی امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ کینیڈا کے خلاف اقتصادی قوت استعمال کریں گے اور کینیڈا کو امریکا کی 51 ویں ریاست بننا چاہیےجس پر کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ کینیڈا قیامت تک امریکا میں ضم نہیں ہوگا۔

    تاہم ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کینیڈا کی یورپی یونین کی رکنیت کیلئے درخواست کی ہے-

    گھوٹکی :پولیس کی کارروائی، سنگین مقدمے میں مفرور تین ملزمان گرفتار

    عالمی میڈیا کے مطابق جب آج صبح یوروپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے اپنا ان باکس چیک کیا تو انہیں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی طرف سے ‘ارجنٹ’ کے نشان والی ای میل موصول ہوئی اس پیغام میں کینیڈا کی یورپی یونین کی رکنیت کی درخواست شامل تھی، جو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کی درآمدات پر محصولات کے اعلان کے بعد، ہفتے کے آخر میں حکومتی عہدیداروں نے دی تھی-

    ٹروڈو نے اپنی ای میل میں اصرار کیا کہ "ہمارے پاس کافی ہے سرحد کے اس پار وہ (ڈونلڈ ٹرمپ) کہتا رہتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ ہم 51ویں ریاست بنیں ایسا تو نہیں ہو سکتا لیکن ہم 28 ویں رکن ریاست بن جائیں گے،‘‘مجھے یقین ہے کہ ہم سب ایک ہی صفحے پر ہیں یہاں تک کہ ہم گرین لینڈ کے راستے ایک سرحد کا اشتراک کرتے ہیں، جسے یقیناً ڈنمارک کو برقرار رکھنا چاہیے-

    گھوٹکی :پولیس کی کارروائی، سنگین مقدمے میں مفرور تین ملزمان گرفتار

    ٹروڈو نے مزید کہا کہ اگر آپ چاہیں تو ہم اپنے تمام سرکاری EU خط و کتابت بھی فرانسیسی میں کریں گے۔”

    صحت کی دیکھ بھال اور سماجی خدمات جیسے شعبوں میں اس کی اعلیٰ سطح کی ترقی کے پیش نظر، کینیڈا کی درخواست کو پاس کرنے کا امکان ہےٹرمپ کے لیے عوام کی نفرت کو دیکھتے ہوئے کینیڈا کے ووٹرز بھی اس منصوبے کے حق میں ووٹ دینے کا امکان رکھتے ہیں۔

    اس دوران، کینیڈا نے سرحدی گشت میں اضافہ کر دیا ہے، جو واشنگٹن میں نئی ​​ حکومت سے فرار ہونے والے امریکی شہریوں کی تلاش میں ہیں ٹروڈو نے کینیڈا کے ماونٹڈ پولیس اہلکاروں کو تمام ٹیسلاس کو پکڑنے اور تباہ کرنے کا بھی اختیار دیا ہے۔

    یورپی یونین کی پارلیمنٹ آنے والے ہفتوں میں کینیڈا کی درخواست پر بحث کرنے والی ہے۔

    گھوٹکی پولیس کی کامیاب کارروائی، دو روز قبل اغوا ہونے والا مغوی بازیاب

    دوسری جانب کینیڈین وزیراعظم کی یورپی یونین کو رکنیت کے حوالے سے کی جانے والی ای میل کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے تجارتی ٹیرف کو ایک ماہ کے لئے معطل کر دیا-

    واضح رہے امریکا نےکینیڈا اور میکسیکو سے درآمد اشیاء پر 25 فیصد جبکہ چین سے امریکہ بھیجی جانے والی اشیاء پر 10 فیصد ٹیرف (ٹیکس) عائد کیا تھا۔

  • رواں مالی سال یورپی یونین کو برآمدات میں 18.62 فیصد اضافہ

    رواں مالی سال یورپی یونین کو برآمدات میں 18.62 فیصد اضافہ

    رواں مالی سال کے دوران یورپی یونین کو برآمدات میں8.62 فیصد اضافہ ہوا۔

    اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں یورپی یونین کے ملکوں کو برآمدات کا حجم 3.866 ارب ڈالر رہا جوکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کی 3.559 ارب ڈالر کی برآمدات سے 8.62 فیصد زائد ہے۔گزشتہ سال دسمبر میں مزید 10319 اکائونٹس کے اضافے سے روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کی تعداد 778713 ہو گئی، ان اکائونٹس میں جمع رقوم 9.342 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال دسمبر میں روشن ڈیجیٹل اکائونٹس میں 203 ملین ڈالر، نومبر میں 186ملین ڈالر جمع ہوئے، ستمبر 2020 سے دسمبر 2024 کے دوران روشن ڈیجٹیل اکائونٹ میں سمندر پار پاکستانیوں نے مجموعی طور پر9.342 ارب ڈالر جمع کرائے۔

    سندھ کابینہ میں توسیع‘ مزید 8 ترجمان اور 12 معاون خصوصی مقرر

    زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں اردو کا دسواں نمبر

    پی ایس ایل 10: سرفراز احمد کا کسی ٹیم نے انتخاب نہیں کیا

    وزیر اعظم ہاوس کے بجلی چوروں کے خلاف احکامات کرپٹ افسران نے ہوا میں اڑا دیے

    امریکا، سعودیہ سمیت 7 ملکوں سے مزید 52 پاکستانی بے دخل

  • یورپی یونین کے بعد  برطانیہ کی پروازیں بھی کھلنے کی امید

    یورپی یونین کے بعد برطانیہ کی پروازیں بھی کھلنے کی امید

    اسلام آباد: یورپی یونین کے بعد برطانیہ کی پروازیں کھلنے کی بھی راہ ہموار ہوگئی،برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ کا وفد اگلے ماہ پاکستان آئے گا-

    باغی ٹی وی : ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی نادر شفیع ڈار کے مطابق رواں ماہ دسمبر کے تیسرے ہفتے میں بھی ایک آن لائن میٹنگ شیڈول ہے جبکہ برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ کا وفد اگلے ماہ پاکستان آئے گا، یورپی یونین نے جو ہماری ویلیویشن کی ہیں اسی لائن پر برطانوی بھی ہماری اسیسمنٹ کریں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جنوری میں برطانوی دورہ شیڈول ہے اور دورے سے واپسی میں چند ہفتوں میں برطانیہ کی پروازیں بھی کھلنے کی امید ہے امید ہے برطانیہ کے لیے پروازیں مارچ سے شروع ہوجائیں گی، یورپی یونین میں ہمارے بہت اچھے نتائج ہیں اور امید ہے جلد برطانیہ کی پروازیں بھی شروع ہوجائیں گی۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق پاکستان سے برطانیہ کے لیے ہفتہ وار 21 پروازیں چلائی جاتی تھیں جن میں سے لندن کے لیے 10 پروازیں جبکہ مانچسٹر کے لیے 9 اور برمنگھم کے لیے 2 پروازیں چلائی جاتی تھیں، یورپ اور برطانیہ کی پروازیں کھلنے سے قومی ایئر لائن کے ریونیو میں زبردست اضافے کا امکان ہے۔

  • مغربی ممالک میں آزادی اظہار رائے لیکن کن شرائط  پر، جانیے

    مغربی ممالک میں آزادی اظہار رائے لیکن کن شرائط پر، جانیے

    مغربی ممالک عام طور پر آزادیٔ اظہار اور تقریر کی حمایت کرتے ہیں، لیکن وہ بھی کچھ حدود عائد کرتے ہیں، جیسا کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت کیا گیا ہے۔ یہاں کچھ مغربی ممالک کی مثالیں دی گئی ہیں جہاں آزادیٔ اظہار کو تحفظ دیا گیا ہے لیکن مخصوص پابندیاں بھی موجود ہیں:

    1. ریاستہائے متحدہ امریکہ :
    * پہلا ترمیمی حق آزادیٔ اظہار کی ضمانت دیتا ہے، لیکن بدنامی، فحاشی، تشدد پر اکسانا، اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے بیانات (مثلاً جنگ کے دوران) پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    2. برطانیہ:
    * اگرچہ کوئی واحد تحریری آئین موجود نہیں ہے، لیکن انسانی حقوق کا ایکٹ 1998 یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق (ECHR) کو قانون میں شامل کرتا ہے۔ ECHR کا آرٹیکل 10 آزادیٔ اظہار کی حفاظت کرتا ہے، لیکن قومی سلامتی، عوامی تحفظ، یا جرائم کی روک تھام کے لیے پابندیوں کی اجازت دیتا ہے۔

    3. جرمنی:
    * جرمن بنیادی قانون کا آرٹیکل 5 آزادیٔ اظہار کی ضمانت دیتا ہے، لیکن نفرت انگیز تقاریر، ہولوکاسٹ کے انکار، نفرت پر اکسانے، اور انسانی وقار کی خلاف ورزی پر پابندیاں عائد کرتا ہے۔

    4. فرانس:
    * فرانسیسی آئین اور یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق آزادیٔ اظہار کی حفاظت کرتے ہیں۔ تاہم، نفرت انگیز تقاریر، بدنامی، اور عوامی نظام یا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے مواد پر پابندیاں ہیں۔

    5. کینیڈا:
    * چارٹر آف رائٹس اینڈ فریڈمز آزادیٔ اظہار کی حفاظت کرتا ہے، لیکن سیکشن 1 کے تحت معقول حدود کی اجازت دیتا ہے، اگر وہ آزاد اور جمہوری معاشرے میں جائز ہوں (مثلاً نفرت انگیز تقریر، بدنامی، اور فحاشی کے قوانین)۔

    6. آسٹریلیا:
    * آسٹریلیا میں آزادیٔ اظہار کے لیے کوئی واضح آئینی تحفظ نہیں ہے، لیکن عدالتوں نے سیاسی اظہار کی ضمنی آزادی کو تسلیم کیا ہے۔ تاہم، بدنامی، نفرت انگیز تقاریر، اور تشدد پر اکسانے پر پابندیاں ہیں۔

    7. یورپی یونین کے ممالک:
    * زیادہ تر یورپی یونین کے ممالک یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق (ECHR) کی پیروی کرتے ہیں، جو آرٹیکل 10 کے تحت آزادیٔ اظہار کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم، قومی سلامتی، عوامی تحفظ، اور دیگر افراد کے حقوق و عزت کے تحفظ کے لیے پابندیاں بھی لاگو کی جا سکتی ہیں۔ان تمام مثالوں میں، آزادیٔ اظہار مطلق نہیں ہے بلکہ اکثر قومی سلامتی، عوامی نظم، اخلاقیات، یا دیگر افراد کے حقوق کے تحفظ جیسے عوامل کے ساتھ متوازن ہوتی ہے۔ یہ فریم ورک کسی حد تک پاکستان کے آرٹیکل 19 سے مشابہ ہے، حالانکہ پابندیوں کا دائرہ کار اور ان کا نفاذ کافی مختلف ہو سکتا ہے۔

    مشہور کمپنی کے نام سے جعلی آئل بنانے والے2 ملزمان گرفتار

    کراچی سیف سٹی پروجیکٹ، جدید کیمروں سے لیس گاڑیاں سڑکوں پرآگئیں

    کراچٰی میں پولیس مقابلے، مفرور ڈاکو مارا گیا، 3 گرفتار

  • اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ جاری،عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے، یورپی یونین

    اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ جاری،عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے، یورپی یونین

    یورپی یونین خارجہ پالیسی چیف جوزف بوریل نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔

    باغی ٹی وی: جوزف بوریل نے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یواف گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ سیاسی نہیں ہے عدالتی فیصلے کا نفاذ یورپی یونین کے تمام ممالک پر لازم ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کے وارنٹ جاری ہونے پر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی اپنے بیان میں عالمی فوجداری عدالت کی فیصلے کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت احتساب کا دائرہ اسرائیل کے تمام مجرم رہنماؤں تک بڑھائے۔

    نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر فرانس کی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ فرانس کا ردعمل عدالت کےاصولوں کےمطابق ہوگا،جبکہ اردن کے وزیر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو اور گیلنٹ کی گرفتاری کے آئی سی سی کے فیصلے پر عمل اور اس کا احترام ہونا چاہیے، فلسطین کے لوگ انصاف کے حق دار ہیں۔

    دوسری جانب امریکا نے عالمی عدالت کی جانب سے اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیردفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔

    روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ عالمی عدالت کی جانب سے اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیردفاع یوو گیلنٹ کے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری کو امریکا نے مسترد کردیا ہے امریکا بنیادی طور پر عالمی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے، جس میں اسرائیل کے اعلیٰ حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں ہمیں گہری تشویش ہے کہ پروسیکیوٹر فوری طور پر وارنٹ گرفتاری چاہتے ہیں اور اس فیصلے کا باعث بننے والے عمل کی غلطیوں کو پیچیدہ کر رہے ہیں، امریکا اپنے شراکت داروں کے ساتھ اگلے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کر رہا ہے۔

    خیال رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے آج اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

  • یورپی یونین اور جرمنی کا  سندھ میں موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کیلئے اشتراک

    یورپی یونین اور جرمنی کا سندھ میں موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کیلئے اشتراک

    یورپی یونین نے پاکستان میں اڈاپٹیو سوشل پروٹیکشن منصوبے کے مالی تعاون میں جرمنی کا ساتھ دیتے ہوئے باضابطہ شمولیت اختیار کر لی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جی آئی زی پاکستا ن جرمن وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی کی وساطت سے اس منصو بے کو سندھ میں نافذ کر رہا ہے۔ یورپی یونین اور جرمنی کیاشتراک سے سندھ حکومت کو ادارہ جاتی، مالی اور تکنیکی اقدامات میں مدد فراہم کی جائے گی جن سے قدرتی آفات اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لئے مقامی آبادی کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکے گا اور ساتھ ہیخواتین کی خودمختاری پر مبنی سماجی تحفظ کے نظام کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔جی آئی زی پاکستا ن کے اڈاپٹیو سوشل پروٹیکشن منصوبے کی افتتاحی تقریب کراچی کے ہوٹل اواری میں منعقد ہوئی جس میں اعلی حکومتی عہدیداران، بین الاقوامی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی تاکہ منصوبے کے مستقبل کی سمت پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔تقریب کے دوران چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ سندھ حکومت، جناب نجم احمد شاہ نے سندھ حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہماری کوشش ہے کہ سماجی تحفظ کو مضبوط بنایا جائے تاکہ پاکستان کے کمزور طبقات کو بحرانی حالات میں بہتر تعاون فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ لڑکیوں اور خواتین کو مرکزی مقام دیتا ہے، جس سے معاشرتی مساوات میں بہتری اور دیرپا ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔پاکستان میں یورپی یونین کے نائب سربراہ جناب فلپ گراس نے کہا کہ یورپی یونین ہمیشہ سے ایسے سماجی تحفظ کے مضبوط نظام کی حمایت کرتا آیا ہے جو فوری مسائل کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ طویل مدتی، پائیدار ترقی کو بھی فروغ دے۔
    تقریب میں دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز، جیسے کہ کراچی میں جرمنی کے قونصل جنرل ڈاکٹر روڈیگر لوٹس، پاکستان میں یورپی یونین کے شعبہ تعاون کے سربراہ جیرون ولیمز، سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی، پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، فارن ایڈ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ اور سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے سماجی اور ماحولیاتی مشکلات کے خلاف مزاحمتی سماجی تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ منصوبہ پاکستان میں سماجی تحفظ کے نظام کو ایک نیا معیار فراہم کرتا ہے جس کا مقصد ایسے فعال نظام تیار کرنا ہے جو بروقت موسمی اور سماجی و اقتصادی مسائل کا حل پیش کر سکے اورجس سے مقامی اور قومی سطح پرسماجی ہم آہنگی اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

    کینیڈین ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

    اسسٹنٹ کمشنر ناظم آباد ہاظم بنگوار کو عہدے سے کیوں ہٹایا ،وجہ سامنے آگئی

    کراچی پولیس آفس میں آئیڈیاز2024 کی سیکیورٹی کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد

  • افغان خواتین کی سیاسی پناہ سے متعلق یورپی عدالت نے  فیصلہ سنا دیا

    افغان خواتین کی سیاسی پناہ سے متعلق یورپی عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    یورپی یونین کی اعلی عدالت نے افغان خواتین کو سیاسی پناہ دینے سے متعلق بڑا فیصلہ سنا دیا۔

    غیر ملکی میڈیارپورٹس کے مطابق یورپی عدالت انصاف نے فیصلہ دیا ہے کہ افغان خواتین کو سیاسی پناہ دینے کے لیے صرف جنس اور قومیت ہی کافی ہے۔ای سی جے نے فیصلہ سنایا کہ طالبان کی طرف سے خواتین کے خلاف اختیار کیے گئے امتیازی اقدامات ظلم کی کارروائیاں ہیں جو کہ پناہ گزینوں کی حیثیت کو تسلیم کرنے کا جواز ہیں۔سویڈن، فن لینڈ اور ڈنمارک پہلے ہی سیاسی پناہ حاصل کرنے والی تمام افغان خواتین کو پناہ گزین کا درجہ دے چکے ہیں۔یہ فیصلہ آسٹریا کی جانب سے 2015 اور 2020 میں پناہ کی درخواست دینے کے بعد دو افغان خواتین کی پناہ گزین کی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کے بعد آیا ،دونوں خواتین نے انکار کو آسٹریا کی سپریم ایڈمنسٹریٹو کورٹ کے سامنے چیلنج کیا جس نے پھر ای سی جی سے فیصلہ طلب کیا تھا۔ای سی جے کیس کی دستاویز میں کہا گیا کہ ایف این نے عدالت کو بتایا کہ اگر ایک خاتون کے طور پر انہیں افغانستان ڈی پورٹ کیا جاتا ہے تو انہیں اغوا کا خطرہ لاحق ہو جائے گا، وہ اسکول جانے سے قاصر ہوں گی اور شاید وہ اپنی کفالت کرنے سے قاصر ہوں گی۔

    کراچی میں منوڑا کے ساحل پر دو خواتین سمیت چار افراد ڈوب گئے

    پاکستانی ٹیم کا بدترین شکست کا باعث بننے والی بیٹنگ لائن کو برقرار رکھنے کا فیصلہ