Baaghi TV

Tag: یورپ

  • یورپ میں توانائی کا بحران انتہا کو پہنچ گیا،ایندھن خریدنے کے لیے لمبی لمبی قطاریں لگی ہیں‌

    یورپ میں توانائی کا بحران انتہا کو پہنچ گیا،ایندھن خریدنے کے لیے لمبی لمبی قطاریں لگی ہیں‌

    یورپ میں انرجی کے بحران میں روز بروز شدت آتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے قیمتیں آسمان تک جا پہنچیں، سردیوں کےلئے ایندھن خریدنے کے لئے لوگ تین دن سے جنگل میں لائنوں میں کھڑے ہیں۔

    یورپ میں گیس اور انرجی کا بحران شروع ہو گیا ہے، مشرقی یورپ کے ملک مالڈووا میں سستا ایندھن خریدنے کی امید میں لوگ تین دن سے لائن بنا کر جنگل میں کھڑے ہیں۔

    شہریوں نے کچھ اس طرح اپنی صورتحال بتائی کہ:

    ’’ تین دن ہوئے گئے ہیں اور تین سو لوگ یہاں لائنوں میں کھڑے ہیں۔ صبح کو اہلکار آتے ہیں اورہمیں دیکھ کر مذاق اڑاتے ہیں، حتی ہمارے پاس حمل و نقل کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے، ہمارے پاس سوار ہونے کی بھی کوئی چیز نہیں ہے۔

    یہاں ہم بغیر پانی اور غذا کے بھوکے کھڑے ہیں۔ ہم سب کو امید تھی کہ سستا ایندھن خریدیں گے لیکن یہاں صرف تین مکعب میٹر ایندھن فروخت کر رہے ہیں اور وہ خریدنا بھی ناممکن ہے کیونکہ اس کی قیمت بالکل سستی نہیں ہے۔‘

    دوسری طرف یورپ میں توانائی بحران، سوٹزر لینڈ نے عوام کو موم بتیاں تیار رکھنے کا مشورہ دے دیا،شدید گرمی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بے حال یورپ، توانائی کے استعمال میں بچت اور روسی قدرتی گیس پر انحصار میں کمی کی کوششوں میں ہے۔

    اسپین میں ائیر کنڈیشنر کے محدود استعمال کے اصول نافذالعمل کر دئیے گئے ہیں۔ عوامی آمد و رفت کے دفاتر اور کاروباری مراکز میں ائیر کنڈیشنر کا درجہ 27 سے کم نہیں کیا جائے گا اور مذکورہ مقامات پر دروازوں کو بند رکھنا ضروری ہو گا۔

     

     

    موسم سرما میں ہیٹروں کو 19 درجے سے زیادہ پر نہیں چلایا جا سکے گا۔ہسپتالوں، اسکولوں اور بیوٹی پارلروں کو ان پابندیوں سے معاف رکھا جائے گا۔ ریستورانوں میں ائیر کنڈیشنر 25 درجے پر چلائے جا سکیں گے۔

    یونان اور اٹلی میں گذشتہ ماہ سرکاری عمارتوں میں ائیر کنڈیشنر کے استعمال میں پابندیاں نافذ کر دی گئی تھیں اور ائیر کنڈیشنروں کا 27 سے کم درجے پر استعمال ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔

    فرانس میں ائیر کنڈیشنر والے کاروباری مراکز کے لئے دروازے بند رکھنے کی پابندی کا اطلاق کر دیا گیا اور پابندی پر عمل نہ کرنے والے کاروباری مراکز کے لئے 750 یورو جرمانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

    جرمنی نے بھی ہینوور میں ہسپتالوں اور اسکولوں کے علاوہ سرکاری عمارتوں میں ائیر کنڈیشنروں کا استعمال ممنوع قرار دے دیا تھا۔

    سوٹزر لینڈ میں موسم سرما میں لوڈ شیڈنگ کی وارننگ جاری کی گئی اور وفاقی الیکٹرک کمیشن نے عوام کو سردیوں کے لئے موم بتیاں اور جلانے کی لکڑی ذخیرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

  • یورپ میں شدید گرمی: جرمنی ،فرانس اور برطانیہ میں الرٹس جاری

    یورپ میں شدید گرمی: جرمنی ،فرانس اور برطانیہ میں الرٹس جاری

    یورپ میں شدید گرمی اور خشک موسم کے بعد جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے اس ہفتے موسم شدید گرم رہنے کی وارننگ جاری کی ہے۔

    باغی ٹی وی : فرانس کے محکمہ موسمیات کی جانب سے جنوبی حصوں کے لیے وارننگ جاری کی گئی ہے جبکہ برطانیہ کے میٹ آفس نے لندن اور جنوب مشرقی انگلینڈ میں 11 سے 14 اگست تک شدید گرمی کی وارننگ دی ہے، جب کہ ملک کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے تمام علاقوں کے لیے منگل کو شروع ہونے والے ہیٹ ہیلتھ الرٹ میں 14 اگست تک توسیع کر دی ہے۔

    ایٹمی بجلی گھر پر یوکرین کی گولہ باری کا نتیجہ خوفناک ثابت ہوسکتا ہے: روس

    یہ الرٹ اس وقت جاری ہوا جب یورپ میں درجہ حرارت میں اس ہفتے نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے برطانیہ میں اس بار درجہ حرارت جولائی کی طرح ریکارڈ سطح پر پہنچنے کا امکان تو نہیں مگر یہ 30 سے 40 سینٹی گریڈ کے درمیان ہوسکتا ہے۔

    یورپ کے مختلف ممالک کو حالیہ ہفتوں کے دوران شدید ترین گرمی کا سامنا ہوا تھا فرانس میں جولائی تاریخ کا خشک ترین مہینہ رہا تھا جبکہ برطانیہ میں جولائی کا مہینہ 90 سال میں سب سے خشک قرار پایاجرمنی میں بھی اس ہفتے درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے دریائے رائن پر پانی کی سطح، اجناس اور صنعتی سامان کی نقل و حمل کے لیے ایک اہم شاہراہ، اتنی کم ہے کہ آبی گزرگاہ کے کچھ حصوں پر تجارت رک جانے کا خطرہ ہے۔


    پیشن گوئی کرنے والے میٹیو فرانس نے کہا کہ اس ہفتے کی گرمی کی لہر اتنی شدید نہیں ہوگی لیکن موسم گرما میں ایک سے زیادہ طویل ہوگی، جو فرانس کے جنوب میں ہفتے کے آخر تک رہے گی۔ Maxar Technologies LLC کے مطابق، پیرس میں درجہ حرارت جمعہ کو 34.5 ڈگری سیلسیس (94.1 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچنے کی توقع ہے۔

    ایٹمی جنگ کےبادل منڈلا رہے ہیں،کسی بھی وقت کُچھ ہوسکتا ہے: سیکریٹری جنرل اقوام…

    یوکے ہیلتھ ایجنسی نے کہا کہ جمعہ کو جنوب مشرقی انگلینڈ، لندن، جنوب مغرب اور مشرقی اور مغربی مڈلینڈز میں درجہ حرارت 30 ڈگری سیلسیس کے وسط تک پہنچنے کی توقع ہے-

    یو کے ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی میں انتہائی واقعات اور صحت کے تحفظ کے سربراہ، اگوسٹینہو سوسا نے کہا کہ یہ یاد رکھیں کہ گرمی سے صحت پر بہت تیزی سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، تو تنہا رہنے والے معمر افراد یا پہلے سے مختلف امراض کے شکار افراد کو اس حوالے سے احتیاط کی ضرورت ہے۔

    فرانس اور جرمنی میں بجلی کی قیمتیں پیر کو ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں کیونکہ کوئلے اور نیوکلیئر پلانٹس پر کم ہوا اور گرمی سے متعلق پابندیوں سے گیس کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایک زیادہ مشکل موسم سرما کا مرحلہ طے کر رہا ہے کیونکہ ممالک ایندھن کو ابھی سے ذخیرہ کر رہے ہیں-

    ادھر جرمنی کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر قحط سالی کا سلسلہ برقرار رہا تو ملک کے کچھ حصوں میں جنگلات میں آگ لگنے کا خطرہ بہت زیادہ ہےفرانس اور جرمنی میں توانائی ذرائع کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں کیونکہ گرمی کے باعث اے سی کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔

    اٹلی : خشک ہونے والے دریا سے دوسری جنگ عظیم کا بم برآمد

  • ایسےلگ رہا ہےکہ بہت جلد یورپ میں گیس کی شدید لوڈ شیڈنگ ہوگی :جوزپ بوریل

    ایسےلگ رہا ہےکہ بہت جلد یورپ میں گیس کی شدید لوڈ شیڈنگ ہوگی :جوزپ بوریل

    برسلز:ایسےلگ رہا ہےکہ بہت جلد یورپ گیس سے محروم ہوجائے گا:اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے خبردار کیا کہ سپلائی کی قلت کے درمیان آنے والے موسم سرما کے دوران یورپی یونین میں گیس ختم ہو سکتی ہے۔

    یورپی یونین کے خارجہ امور اور سلامتی کی پالیسی کے اعلیٰ نمائندے نے پیر کو یورپی یونین کی ڈپلومیٹک سروس کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بلاگ میں لکھا ہے کہ "یورپ ایک بہترین طوفان کا سامنا کر رہا ہے: توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اقتصادی ترقی میں کمی آ رہی ہے اور موسم سرما آ رہا ہے،”

    اس بارے میں "حقیقی غیر یقینی صورتحال” ہے کہ آیا یورپی یونین کے پاس کافی گیس ہوگی اور آیا وہ اسے برداشت کرنے کے قابل ہو گی، بوریل نے "یورپ کا انرجی بیلنسنگ ایکٹ” کے عنوان سے آنے والے موسم سرما کو "غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے اپنی پریشانی کا اظہارکیا

    بوریل نے متنبہ کیا کہ براعظم کے ممالک کو ماسکو کے ممکنہ کل کٹ آف کے لیے تیار ہونا چاہیے، اور تجویز کیا کہ یورپ نے روسی سپلائی کا متبادل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    امریکا نے روسی صدر کی "گرل فرینڈ” سمیت دیگراہم روسی شخصیات پر نئی…

    انہوں نے لکھاہے کہ "سخت سچ یہ ہے کہ اس موسم سرما میں، ہم اس حد تک پہنچ رہے ہیں کہ ہم غیر روسی ذرائع سے کون سی اضافی گیس خرید سکتے ہیں۔ لہذا، زیادہ تر توانائی کی بچت سے آنا پڑے گا

    گزشتہ ماہ یورپی یونین نے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی جس کے تحت رکن ممالک رضاکارانہ طور پر اپنی گیس کی کھپت میں 15 فیصد کمی کریں گے، تاکہ بلاک کو موسم سرما سے قبل ایندھن جمع کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ ہنگامی صورت حال میں، رضاکارانہ کمی لازمی ہو سکتی ہے۔

    روس کےخلاف لڑائی کےلیےامریکہ کی یوکرین کو550 ملین ڈالرزکی تازہ امداد

    بوریل کے مطابق، بلاک نے مزید ایل این جی خرید کر اور ناروے، الجزائر اور آذربائیجان سے پائپ لائنوں کے ذریعے گیس حاصل کر کے، سال کے آغاز میں اپنی درآمدات میں روسی گیس کا حصہ 40 فیصد سے کم کر کے آج تقریباً 20 فیصد کر دیا ہے۔

    دوسری طرف روس نے بارہا کہا ہے کہ وہ ایک قابل بھروسہ سپلائر ہے اور اپنی معاہدہ کی ذمہ داریوں کا احترام کرتا ہے، لیکن یہ کہ بین الاقوامی پابندیاں پائپ لائن آپریٹر Gazprom کو مکمل گنجائش کے ساتھ یورپی یونین کو گیس فراہم کرنے سے روک رہی ہے

    روسی صدر نے امریکا کو بڑا دشمن قرار دے دیا

  • یورپ میں گرمی کی شدید لہر،برطانیہ میں ریلوے پھاٹک پر نصب ٹرین کے سگنلز پگھل گئے

    یورپ میں گرمی کی شدید لہر،برطانیہ میں ریلوے پھاٹک پر نصب ٹرین کے سگنلز پگھل گئے

    برطانیہ سمیت یورپ میں گرمی کی شدید لہر نے گرمی کے تمام ریکارڈز توڑ دیئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں 19 جولائی کو تاریخ میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 40.2 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کے مطابق یہ پہلی بار ہے جب برطانیہ میں 40 سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا اس سے قبل برطانیہ میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 2019 میں ریکارڈ کیا گیا تھا جو 38.7 سینٹی گریڈ تھا۔


    دوسری جانب گزشتہ روز برطانیہ کی نیشنل ریلوے کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے خطرناک ہیٹ ویو کی وجہ سے روڈ پر نصب ٹرین کے سگنلز کے پگھلنے کی تصاویر شیئر کی گئیں تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ برطانیہ کے قصبے سینڈی میں ایک ریلوے پھاٹک کے قریب سیاہ رنگ کے ٹرین کے سگنلز بظاہر موم کی طرح پگھل گئے۔

    اس کے علاوہ ریلوےحکام کی جانب سے مسافروں سے درخواست کی گئی کہ وہ ٹرین کا سفر کرنے سے قبل روٹ ( راستے) کی جانچ کرلیں کیوں کہ ہیٹ ویو کی وجہ سے پٹریوں پر آگ لگنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

    اس سے قبل نیشنل ریل نیٹ ورک نے مسافروں پر زور دیا تھا کہ بہت ضروری ہو تو ہی سفر کریں، ورنہ گھر میں قیام کریں جبکہ 19 جولائی تک شمال مغربی انگلینڈ اور لندن کے درمیان ٹرین سروس معطل رہے گی۔

  • روس دنیاکوتیل بیچے:ایسا نہیں ہونے دیں‌گے:امریکہ

    روس دنیاکوتیل بیچے:ایسا نہیں ہونے دیں‌گے:امریکہ

    واشنگٹن:امریکہ اب روس کومعاشی طورپرابھرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا ، یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ روسی تیل کی برآمدات روکنے کی پوری کوشش کرے گا

    وائٹ ہاؤس نے روس پر تیل و گیس کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ سعودی عرب کے فیصلے سے اوپک پلس تیل کی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔

    ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین پیئر نے منگل کے روز کہا کہ امریکہ، سعودی عرب پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ تیل کی پیداوار بڑھائے اور عالمی منڈیوں میں روس کا متبادل بنے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی صدر جوبائیڈن روسی تیل کی برآمدات روکے جانے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ روس نے توانائی کے شعبے میں تیل و گیس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جس کی بنا پر ان اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس ترجمان کے بقول روس، یورپ کے لئے گیس کی برآمدات منقطع کر سکتا ہے اور امریکہ اس بات کی طرف متوجہ ہے اس لئے متبادل تلاش کرنے کی کوشش بھی جاری ہے۔

     

     

    واضح رہے کہ امریکی صدر کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پرجاری کئے جانے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ، سعودی عرب کی فوجی حمایت کرتا ہے اور اس ملک کو بھی چاہئے کہ تیل کی منڈیوں میں توازن کا تحفظ کرے ۔

  • یورپ نے روس سے انتقام لینے کا فیصلہ کرلیا

    یورپ نے روس سے انتقام لینے کا فیصلہ کرلیا

    برسلز:یورپ نے روس سے انتقام لینے کا فیصلہ کرلیا ،اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے ادارے کے سربراہ نے اپنے روس مخالف رویے کو جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ روس کی جانب سے پابندیوں کو بائی پاس کرنے کو روکنے کی کوشش جاری رہے گی۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے دعوی کیا ہے کہ ماسکو پر عائد یورپی یونین کی پابندیوں کو بے اثر بنانے والے راستوں کو بند کرنے کے لئے برسلز ایک نئے منصوبے کی پلاننگ کرچکا ہے۔

    پیر کی شام یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے کونسل کی نشست کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ نئی حکمت عملی کے تحت ان راستوں کو بند اور اس خلا کو پر کیا جائے گا جس کو استعمال کرکے روس پابندیوں کو بائی پاس کر رہا ہے۔ اس موقع پر جوزف بورل نے یوکرین کو پچاس کروڑ یورو پر مشتمل فوجی امداد کا عندیہ بھی دیا۔انہوں نے یورپ میں گیس کے بحران پر پریشانی ظاہر کرتے ہوئے اس موضوع کو یورپی حکام کے لئے سب سے زیادہ تشویش کا باعث قرار دیا۔

    قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل یورپی کونسل کے سربراہ چارلز میشل نے بھی جنگ کے بہانے یوکرین کو مزید فوجی امداد فراہم کرنے کی بات کی تھی۔

    یاد رہے کہ یوکرین کی جنگ پانچویں مہینے میں داخل ہوچکی ہے جس کے تمام سیاسی، فوجی، معاشی، سماجی حتی کہ ثقافتی اثرات کے باوجود، مغربی ممالک نے اس ملک کی جانب ہتھیاروں کے بہاؤ کو کم کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔

    واضح رہے کہ یوکرین میں روس کی فوجی کارروائی کے بعد، امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف مغربی ممالک نے ایک جانب کھل کر کیف کی حمایت کی تو دوسری جانب ماسکو پر شدید پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ تیل اور گیس سمیت روس کے مختلف اقتصادی شعبوں پر عائد پابندیوں کے بعد، مغربی ممالک کو اس بات کی بھی تشویش لاحق ہے کہ یورپ سمیت عالمی توانائی کی منڈیاں مزید عدم توازن کا شکار نہ ہوجائیں۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ برسلز کی روس مخالف پالیسیوں نے یورپی ممالک کے اندرونی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ روسی ایوان صدر کریملن نے بارہا اعلان کیا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی ترسیل نے اس بحران کو مزید پیچیدہ اور اس کے انجام کو نامعلوم بنا دیا ہے۔

  • یورپ میں شدید گرمی کی لہر جاری، برطانیہ میں آج بھی درجہ حرارت بلند رہنے کی وارننگ

    یورپ میں شدید گرمی کی لہر جاری، برطانیہ میں آج بھی درجہ حرارت بلند رہنے کی وارننگ

    یورپ میں ان دنوں گرمی کی شدید لہر جاری ہے جس سےگزشتہ کئی دہائیوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے جبکہ برطانیہ میں آج بھی درجہ حرارت بلند رہنے کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں کل سال کا گرم ترین دن رہا جبکہ فرانس کے کئی شہروں میں گزشتہ کئی دہائیوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں آئر لینڈ اورنیدرلینڈز کے کئی شہروں میں بھی شدید گرمی ہے، بیلجیئم میں بھی درجہ حرارت 40 ڈگری تک جانے کی پیش گوئی کی گئی ہے پرتگال اور اسپین میں ایک ہفتے میں شدید گرمی سے 1 ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہوئی ہیں-

    فرانس کے مغربی اٹلانٹک ساحلی شہر بریسٹ میں پیر کے روز گرمی کا 20 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، بریسٹ میں درجہ حرارت39.3 ریکارڈ کیا گیا فرانسیسی شہر بریسٹ میں اس سے قبل 2002 میں درجہ حرارت 35.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    اس کے علاوہ فرانس کے شمال مغربی علاقے سینٹ بریوک میں درجہ حرارت 39.5 ڈگری کو چھوگیا،شہر میں اس سے قبل زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38.1 تک ریکارڈ کیا گیا تھافرانس کے ایک اور مغربی شہرنانٹیس میں گرمی کا 73 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا،جہاں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا فرانس کے شہر نانٹیس میں اس سے قبل 1949 میں درجہ حرارت 40.3 ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ یورپ کے بیشتر حصوں میں ہیٹ ویوز کی وجہ سے درجہ حرارت 40 سے 50 ڈگری کے درمیان پہنچ چکا ہے ۔

    دوسری جانب فرانس، پرتگال اور اسپین کے جنگلات میں شدید گرمی کے باعث آگ بھڑک اٹھی، پرتگال میں جنگلات کا 75ہزار ایکڑ اور فرانس میں 22 ہزار ایکڑ حصہ آگ کی لپیٹ میں آگیا، متاثرہ علاقوں سے ہزاروں افراد نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

  • پاکستانی سفیرکی یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کےڈپٹی سیکریٹری جنرل سےملاقات

    پاکستانی سفیرکی یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کےڈپٹی سیکریٹری جنرل سےملاقات

    لکسمبرگ: پاکستانی سفیر کی یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل سے ملاقات کے حوالے سے خبریں گردش کررہی ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یورپین یونین، بیلجیئم اور لکسمبرگ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان نے یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل اینریک مورا سے ملاقات کی ہے۔

    یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس میں ہونے والی اس ملاقات میں سفیرِ پاکستان اور اینریک مورا نے پاکستان اور یورپین یونین کے درمیان تعلقات کی مجموعی صورتحال اور دیگر علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دو طرفہ تعاون تمام شعبوں میں بہتری کی جانب گامزن ہے۔اس ملاقات میں ڈاکٹر اسد مجید خان نے پاک۔ای یو سیاسی، اقتصادی، ماحولیاتی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا۔اس کے ساتھ ہی سفیر پاکستان نے دو طرفہ تجارت کے فروغ میں جی ایس پی پلس کے مثبت کردار کو بھی اُجاگر کیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جی ایس پی پلس باہمی تعاون کا ایک ایسا بہترین نمونہ ہے جس میں فائدہ صرف ایک فریق کا نہیں بلکہ یہ دو طرفہ نفع بخش ثابت ہوا ہے۔

    قبل ازیں جب سفیر پاکستان ایکسٹرنل ایکشن سروس پہنچے تو وہاں ڈپٹی سیکریٹری جنرل اینریک مورا نے ان کا خیرمقدم کیا۔اس موقع پر اینرک مورا کا کہنا تھا کہ یورپی یونین پاکستان کو ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ دوستانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے۔

  • روس یوکرین تنازعہ،یورپ میں سنگین بحران کا خدشہ

    روس یوکرین تنازعہ،یورپ میں سنگین بحران کا خدشہ

    روس یوکرین تنازعے نے یورپ کواپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،دن بہ دن بڑھتی مہنگائی نے دنیا کو پریشان کر دیا ہے اگر یورپ کے ممالک پہلے ہی "سپلائی کے مسائل” کی وجہ سے کچھ چیزوں کو راشن دینا شروع کر رہے ہیں، تو ریاستہائے متحدہ میں یہ ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟

    باغی ٹی وی : ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سالوں تک، مغربی دنیا میں بہت سے لوگ ہمیشہ قلت کو ایک ایسی چیز سمجھتے تھے جس کا سامنا کرہ ارض کے دوسری طرف کے صرف "غیر نفیس” غریب ممالک کو کرنا پڑتا تھا۔ لیکن پچھلے چند سالوں نے دکھایا ہے کہ مغربی دنیا کے امیر ممالک کو بھی تکلیف دہ قلت ہو سکتی ہے۔

    جس کے بارے میں پہلے تو بتایا گیا کہ وہ "صرف عارضی” ہیں، لیکن مہینے گزرتے گئے اور مزید کمی ہوتی گئی۔ درحقیقت، 2022 میں "سپلائی کے مسائل” اتنے سنگین ہو گئے ہیں کہ یورپ کی بہت سی سپر مارکیٹوں کو مختلف اوقات میں کچھ اشیاء کی فروخت کوسختی سے محدود کرنے پر زور دیا گیا۔ مثال کے طور پر، یہ بتایا جا رہا تھا کہ یوکرین میں جنگ کی وجہ سے آٹا، سورج مکھی کا تیل اور چینی، یونان میں اسٹورز کے ذریعے محدود ہو رہے ہیں-

    آٹے اور سورج مکھی کے تیل کی آن لائن فروخت کو محدود کرنے کے بعد، یونانی سپر مارکیٹیں چینی کی فروخت کو بھی محدود کرنےپر غور کر رہی ہیں، اب ان کی دکانوں میں، سپلائی کے مسائل زیادہ ہیں-

    AB Vassilopoulos تمام برانڈز کے مکئی اور سورج مکھی کے تیل اور فی گاہک کے آٹے کی خریداری کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کر رہا ہے جبکہ Mymarket نے سورج مکھی کے تیل کی خریداری پر ایک حد لگا دی ہے اور Sklavenitis نے اپنے آن لائن سٹور کے ذریعے مکئی کے تیل کی راشن شدہ فروخت میں چینی شامل کر دی ہے ریستورانوں سے مصنوعات کی زیادہ مانگ ہے، جن میں سے کچھ نے کہا کہ انہیں فرنچ فرائز اور دیگر تلی ہوئی کھانوں کی فروخت بند کرنی ہوگی۔

    پچھلے کچھ مہینوں میں اسی طرح کے اقدامات کو دیگر بڑی یورپی ممالک میں بھی نافذ کرتے دیکھا ہے۔ مثال کے طور پر، یوکرین میں جنگ نے اسپین میں کچھ بہت ہی شدید بحران کو جنم دیا-

    یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے انڈے، دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات کی قلت نے بھی اسپین کو متاثرکیا ۔ اور مرکڈونا اور میکرو سمیت بڑی سپر مارکیٹوں نے اس ماہ کے شروع میں سورج مکھی کے تیل کی سپلائی کو محدود کر دیا ہےراشننگ ان اشیا یا خدمات کو محدود کرنا ہے جن کی طلب زیادہ ہے اور سپلائی کم ہے۔

    بدھ کو شائع ہونے والے آفیشل اسٹیٹ گزٹ میں معلومات کے مطابق، اب، اسٹورز کو عارضی طور پر سامان کی تعداد کو محدود کرنے کی اجازت ہوگی جو ایک گاہک خرید سکتا ہے۔

    آگے دیکھتے ہوئے، قدرتی گیس کی قلت اگلی بڑی چیز ہے جس کے بارے میں یورپ میں بہت سے لوگ بات کر رہے ہیں۔ یورپ میں روسی قدرتی گیس کے بہاؤ کو روک دیا گیا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ یہ جلد ہی اٹلی میں بڑے پیمانے پر بحران کا سبب بن سکتا ہے-

    جمعہ کو روس کے گیز پروم کی طرف سے سپلائی آدھی کرنے کے بعد اٹلی بعض صنعتی اداروں کو قدرتی گیس کی کھپت کو کم کر سکتا ہے-

    ہفتے کے آخر میں، اخبار Corriere della Sera نے رپورٹ کیا کہ اطالوی حکومت اور توانائی کی صنعت بحران پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے منگل اور بدھ کو ملاقات کریں گے، جس کا ممکنہ نتیجہ ملک کے گیس ایمرجنسی پروٹوکول کے تحت الرٹ کی حالت کو متعارف کرایا جائے گا۔

    سی این این نے حال ہی میں اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جرمنی "بحران کے ایک قدم قریب” ہے جب کہ روس نے اس ملک کو دی جانے والی قدرتی گیس کے بہاؤ کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے یورپ کی سب سے بڑی معیشت اب باضابطہ طور پر قدرتی گیس کی قلت کا شکار ہے اور روس کی جانب سے نلکے بند کرنے پر سپلائی کو محفوظ رکھنے کے لیے بحرانی منصوبے کو بڑھا رہی ہے۔

    جرمنی نے جمعرات کے روز اپنے تین مرحلوں پر مشتمل گیس ایمرجنسی پروگرام کے دوسرے مرحلے کو چالو کیا، اسے صنعت کو راشن کی فراہمی کے ایک قدم کے قریب لے جایا گیا – ایک ایسا قدم جو اس کی معیشت کے مینوفیکچرنگ کو بہت بڑا دھچکا دے گا۔

    اس وقت جرمنی سخت متاثرین میں شامل ہوگیا ہےجہاں روسی گیس کی فراہمی میں کمی کردی گئی ہے اوراس کے ساتھ ساتھ جرمنی میں بے روزگاری بھی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے ، اس سلسلے میں‌ مارکیٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یوکرین کے تنازعے اور اس سے متعلقہ روس مخالف پابندیوں کے ملکی معیشت پر اثرات کی وجہ سے تقریباً ایک چوتھائی جرمن ورکرز اپنی ملازمتوں سے محروم ہونے سے خوفزدہ ہیں۔

    سروے کے مطابق، انٹرویو کیے گئے 1,830 کام کرنے والے جرمنوں میں سے 23.3% نے کہا کہ وہ "یوکرین میں جنگ کی وجہ سے” اپنی ملازمت کھونے کے بارے میں فکر مند ہیں، جب کہ سروے میں شامل تقریباً نصف (44.8%) زیادہ کی وجہ سے گھر سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ روس اور مغرب کے درمیان پابندیوں کی جنگ کے نتیجے میں پٹرول کی قیمتیں پہلے ہی آسمان کو چھورہی ہیں ، ان حالات میں مہنگائی کے ساتھ ساتھ بے روزگاری بھی بڑھ رہی ہے

    مزید برآں، 49.2% جواب دہندگان نے یہ بھی کہا کہ وہ جنگی علاقے سے میڈیا میں آنے والی تصاویر کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار ہیں، اور ہر دوسرے جواب دہندگان نے کہا کہ ان کے مالک کو یوکرین کے جنگی پناہ گزینوں کی حمایت کرنی چاہیے۔

    روزنامہ کے مطابق جنگ کے نتائج یونیورسٹیوں میں بھی محسوس کیئے جا رہے ہیں۔ سروے میں شامل 1,777 طلباء میں سے 35 فیصد نے کہا کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔

    روس کے خلاف یوکرین سے متعلق پابندیوں کی وجہ سے توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے درمیان، سالانہ افراط زر گزشتہ ماہ 50 سال کی بلند ترین سطح پر 7.9 فیصد تک پہنچنے کے ساتھ جرمنی زندگی کی لاگت کے بحران کا شکار ہے۔ روسی توانائی پر ممکنہ پابندی نے جرمن صنعتوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے، بہت سے توانائی کی سپلائی کے نقصان کی وجہ سے بند ہونے کا خدشہ ہے۔

    یقیناً دنیا کے دوسرے حصے بھی ایسے مسائل سے نمٹ رہے ہیں جو یورپ کو اس وقت درپیش مسائل سے کہیں زیادہ سنگین ہیں۔

    جیسا کہ مشرقی افریقہ کے کچھ حصوں میں لوگوں کی بڑی تعداد بھوک سے مرنے لگی ہے۔ عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی سخت ہوتی جارہی ہے، اور اقوام متحدہ کے سربراہ کھلے عام بتا رہے ہیں کہ دنیا ایک "بے مثال عالمی بھوک کے بحران” کی طرف بڑھ رہی ہے۔

    لہذا اگر آپ کے پاس آج رات کھانے کے لیے کافی مقدار میں کھانا ہے تو آپ کو شکر گزار ہونا چاہیے۔

    ریاستہائے متحدہ میں، اقتصادی حالات کافی تیزی سے خراب ہو رہے ہیں، اور زیادہ تر امریکی کسی بھی طرح کی بڑی معاشی بدحالی کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہیں۔ ایک اور سروے سے پتہ چلتا ہے کہ تمام امریکیوں میں سے تقریباً 60 فیصد اس وقت تنخواہ کی زندگی گزار رہے ہیں-

    معلوم ہوتا ہے کہ تمام آمدنی والے خطوط میں صارفین – بشمول وہ لوگ جو سالانہ ایک لاکھ ڈالرز سے زیادہ کماتے ہیں – پے چیک سے زندگی گزار رہے ہیں۔ PYMNTS کی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ 61 فیصد امریکی صارفین اپریل 2022 میں پے چیک کی زندگی گزار رہے تھے، جو کہ اپریل 2021 میں 52 فیصد سے 9 فیصد پوائنٹ اضافہ ہے، یعنی تقریباً پانچ میں سے تین امریکی صارفین اپنی تقریباً تمام تنخواہیں اخرا جا ت کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ مہینے کے آخر میں کچھ بھی نہیں بچتا۔

  • یورپ میں اقتصاد مندی 2023 تک جاری رہ سکتی ہے:امریکی انسٹی ٹیوٹ

    یورپ میں اقتصاد مندی 2023 تک جاری رہ سکتی ہے:امریکی انسٹی ٹیوٹ

    واشنگٹن:یورپ میں اقتصاد مندی 2023 تک جاری رہ سکتی ہے،اطلاعات کے مطابق امریکہ کے ایک فائننشیئل انسٹی ٹیوٹ نے پیشگوئی کی ہے کہ یورپ میں افراط زر اور اقتصادی مندی دوہزار تیئس تک جاری رہ سکتی ہے،رشا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق شہر نیویارک کے مورگن اسٹینلی فائننشیئل انسٹی ٹیوٹ نے اپنی رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ یورپی ممالک، رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں روس سے انرجی مصنوعات کی درآمدات میں کمی کی بنا پر کساد بازاری کا شکار ہوں گے۔

    مورگن اسٹینلی فائننشیئل انسٹی ٹیوٹ کی پیشگوئی کے مطابق ایسا نظر آتا ہے کہ افراط زر اور اقتصادی مندی دوہزار تیئس تک جاری رہے گی اور اس کی ایک وجہ بیرونی سرمایہ کاری میں کمی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ روس کی قدرتی گیس اور انرجی کی سیکورٹی کی ضمانت نہ ہونے کے باعث اکثر یورپی ممالک کا اقتصاد ناقابل پیشگوئی ہو گیا ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ اقتصادی مندی کے باوجود یورپ کا سینٹرل بینک شرح سود میں اضافہ کر کے اسے دسمبر کے مہینے تک اعشاریہ سات پانچ فیصد کر سکتا ہے۔

    روس کے خلاف مغربی ممالک کے اقدامات ایسی حالت میں ہیں کہ مغرب کو ان تمام اقدامات کے باوجود یہ وہم ہے کہ اقتصادی شعبے بالخصوص تیل اور گیس کے شعبوں میں روس پر پابندی بڑھنے سے یورپ کے اقتصادی حالات اور انرجی کی عالمی منڈی پہلے سے زیادہ درہم برہم ہو سکتی ہے۔ یورپی ممالک کی روس مخالف پالیسیاں جاری رہنے سے یورپ کی داخلی سیکورٹی کو بھی خطرات کا سامنا ہے۔