Baaghi TV

Tag: یورپ

  • یورپی کمیشن نے یورپ کو روسی ایندھن سے آزاد بنانے کے منصوبے کا خاکہ تجویزکردیا

    یورپی کمیشن نے یورپ کو روسی ایندھن سے آزاد بنانے کے منصوبے کا خاکہ تجویزکردیا

    یوکرین حملے کے بعد دنیا بھر کے ممالک روس پر ہر ممکنہ پابندیاں عائد کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز امریکا نے روس سے تیل خریدنے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد روس نے دھمکی دی کہ اگر اس کے تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو وہ جرمنی جانے والی گیس کی مین پائپ لائن کو بند کر سکتا ہے جس کے بعد برطانیہ کا ردعمل سامنے آیا ہے-

    تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو یورپ کو گیس سپلائی بند کردیں گے، روس کی دھمکی

    برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یورپ 2030 تک روسی توانائی سے چھٹکارا حاصل کر لے گا، یورپی کمیشن نے یورپ کو روسی ایندھن سے آزاد بنانے کے منصوبے کا خاکہ تجویزکردیا ہے-

    یورپ میں کئی مہینوں سے توانائی کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سپلائی کی غیر یقینی صورتحال ہے، منصوبے کا مقصد یورپی ممالک کی روسی گیس کی طلب کو سال کے اختتام سے پہلے دو تہائی کم کرنا ہے۔

    روس کے خلاف بغاوت :یوکرین کیلیے خزانے کے منہ کھول دیے گئے

    دوسری جانب امریکی صدرجوبائیڈن کا کہنا ہے کہ پیوٹن کو یوکرین میں کبھی فتح نہیں ملے گی، روسی تیل کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ اتحادیوں کے ساتھ قریبی مشاورت سےلیا گیا تھا، توقع ہے کہ اس اقدام کے بعد گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا، تیل کی کمپنیاں قیمتوں میں ضرورت سے زیادہ اضافہ نہ کریں،امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ میں قیمتوں میں اضافہ ہو گا،آزادی کے دفاع کے لیے یہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

    یوکرین شرائط پوری کرے ،فوجی ایکشن ایک لمحے میں رک جائے گا،روس

    خیال رہے کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے خبردار کیا تھا کہ اگر روس کے تیل اور گیس پر پابندی عائد کی گئی تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 300 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی۔

    واضح رہے کہ یورپین ممالک اپنی گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روسی گیس پر انحصار کرتے ہیں۔

    11 سالہ یوکرینی بچہ تنہا ایک ہزارکلومیٹر سفر کر کے سلواکیہ پہنچ گیا

  • تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو یورپ کو گیس سپلائی بند کردیں گے، روس کی دھمکی

    تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو یورپ کو گیس سپلائی بند کردیں گے، روس کی دھمکی

    ماسکو: روس نے دھمکی دی ہے کہ اگر تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو یورپ کو گیس سپلائی بند کر دیں گے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو وہ جرمنی جانے والی گیس کی مین پائپ لائن کو بند کر سکتا ہے۔

    روس سب سے زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

    روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے اب تک مذاکرات پر بہت کم پیش رفت ہوئی ہے اور روس کا یوکرین پر حملہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کے لیے سب سے بڑا حملہ ہے، اس کی وجہ سے 17 لاکھ سے زائد یوکرینیوں کو ہجرت کرنا پڑی۔

    خیال رہے امریکہ اور اتحادی روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے روسی تیل درآمد کرنے پر پابندی لگانے کا سوچ رہے ہیں اور اس وقت عالمی مارکیٹ میں 2008 کے بعد سے تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔

    دوسری جانب روسی نائب صدر الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ اگر روس کے تیل کو مسترد کیا گیا تو اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے اور تیل کی قیمت 300 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی۔

    یاد رہے کہ یوکرین پرحملے کے صرف 10 کے اندرروس عالمی پابندیوں کے حوالے سے دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے عالمی پابندیوں کا ریکارڈ رکھنے والی تنظیم کا کہنا ہے کہ یوکرین پر حملے کے بعد روس پر2ہزار778 پابندیاں عائد کیں جبکہ روس پرعائد مجموعی پابندیوں کی تعداد 5 ہزار530 ہوگئی ہے۔

    روس نے یوکرین کی رہائشی عمارت پر بم گرا دیا،2 بچوں سمیت 18 شہری ہلاک

    سخت عالمی پابندیوں کاسامنے کرنےوالےممالک میں ایران دوسرے اورشمالی کوریا تیسرے نمبرپرہےیوکرین پرحملے کے نتیجے میں روس پرامریکا سمیت دیگرممالک نے سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیں ہیں-

    واضح رہے کہ روس نے یوکرین کے کچھ شہروں سے لوگوں کو بیلاروس اور روس کی طرف محفوظ راہداری دینے کے لیے جنگ بندی کی پیشکش کی تھی تاہم کیف نے اس کو رد کر دیا تھا، جس کے بعد دارالحکومت میں پھر سے لڑائی تیز ہو گئی جس کی وجہ سے دو شہروں میں محصور شہری ابھی تک وہیں ہیں۔

    فضائی حملوں اور دھماکوں کی گونج میں شادی کرنے والا یوکرینی فوجی جوڑا

  • مالدووا نےبھی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی :روس کوتنہا کرنے کی کوششیں

    مالدووا نےبھی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی :روس کوتنہا کرنے کی کوششیں

    پیرس :جنگ کے پیشِ نظر مالدووا نےبھی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی :روس کوتنہا کرنے کی کوششیں،اطلاعات کے مطابق یورپی ملک مالدووا نے بھی یوکرین میں جاری روسی جنگ کے باعث یورپی یونین میں شمولیت کیلئے درخواست دے دی۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مالدوواکی صدر مایا ساندو نے جمعرات کے روز یورپی یونین میں شمولیت کے لیے ایک باضابطہ درخواست پر دستخط کردیے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق مالدوواکی جانب سے یہ فیصلہ کچھ دن قبل یوکرینی صدر ولودومیر زیلینسکی کی یورپی یونین کی فوری رکنیت کے لیے درخواست پر دستخط کیے جانے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق مایا ساندو، وزیر اعظم اور پارلیمانی اسپیکر نے دارالحکومت چیسیناؤ میں ایک بریفنگ کے دوران یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست پر دستخط کیے۔واضح رہے کہ 1991 میں مالدووا کی سوویت یونین سے آزادی کے بعد سے چیسیناؤ میں روس اور یورپی یونین کے حامی کنٹرول حاصل کرنے کیلئے لڑچکے ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر مایا ساندو نے دستاویزات پر دستخط کرنے سے پہلے کہا کہ’ مالدوواکو یہاں تک پہنچنے کیلئے 30 سال لگے لیکن آج ملک اپنے مستقبل کی ذمہ داری خود لینے کے لیے تیار ہے’۔

    انہوں نے کہا کہ ہم امن، خوشحالی،آزاد دنیا کا حصہ بننا چاہتے ہیں جبکہ کچھ فیصلوں میں وقت لگتا ہے تاہم دوسروں کو فوری اور فیصلہ کن طریقے سے اور بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ آنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز بھیج دی جائے گی۔دوسری جانب سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں شامل ہونے کیلئے یوکرین اور مالدووا کے حوالے سے مذاکرات ابھی تک شروع نہیں ہوئے ۔

    تاہم یورپی یونین کے رہنما یوکرین کی درخواست پر اگلے ماہ ایک غیر رسمی سربراہی اجلاس میں تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔

  • یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا

    یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا

    کیف :یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا ،اطلاعات کےمطابق یوکرینی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت کی یوکرینی درخواست منظور کرلی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ روز یوکرین نے یورپی یونین میں شمولیت کی باضابطہ درخواست پر دستخط کیے تھے۔

    یوکرینی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے شمولیت کی یوکرینی درخواست منظور کرلی ہے اورشمولیت کیلئے خصوصی طریقہ کار کی اجازت دے دی ہے۔

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے یورپی پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ورچوئل خطاب کیا۔اس دوران یورپی پارلیمنٹ کے تمام ارکان نے روس کے خلاف ڈٹ جانے پر کھڑے ہو کر زیلینسکی کیلئے تالیاں بجائیں۔

    ادھر یہ بھی یاد رہے کہ

    یہ جنگ نیٹو کے رکن ممالک کی مشرقی سرحدوں پر لڑی جا رہی ہے۔۔۔ نیٹو کے کئی اتحادی ممالک کو خدشہ ہے کہ اس کے بعد روس کا اگلا ہدف وہی بنیں گے۔

    نیٹو اتحاد جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں، مشرقی یورپ میں مزید فوجیں بھیج رہا ہے۔

    تاہم امریکہ اور برطانیہ کا کہنا ہے کہ ان کا یوکرین میں فوجیں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    نیٹو کیا ہے؟

    نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کی تشکیل سنہ 1949 میں سرد جنگ کے ابتدائی مراحل میں اپنے رکن ممالک کے مشترکہ دفاع کے لیے بطور سیاسی اور فوجی اتحاد کے طور پر کی گئی تھی۔

    امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ 10 یورپی ممالک کی جانب سے دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں بنائے گئے اس اتحاد کا بنیادی مقصد اس وقت کے سوویت یونین سے نمٹنا تھا۔

    جنگ کے ایک فاتح کے طور پر ابھرنے کے بعد، سوویت فوج کی ایک بڑی تعداد مشرقی یورپ میں موجود رہی تھی اور ماسکو نے مشرقی جرمنی سمیت کئی ممالک پر کافی اثر و رسوخ قائم کر لیا تھا۔

    جرمنی کے دارالحکومت برلن پر دوسری جنگ عظیم کی فاتح افواج نے قبضہ کر لیا تھا اور سنہ 1948 کے وسط میں سوویت رہنما جوزف سٹالن نے مغربی برلن کی ناکہ بندی شروع کر دی تھی، جو اس وقت مشترکہ طور پر امریکی، برطانوی اور فرانسیسی کنٹرول میں تھا۔

    شہر میں محاذ آرائی سے کامیابی سے گریز کیا گیا لیکن اس بحران نے سوویت طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی تشکیل میں تیزی پیدا کر دی تھی۔

    President Harry S. Truman signing the North Atlantic Treaty, marking the beginning of NATO, in 1949

     نیٹو اتحاد کی بنیاد سنہ 1949 میں سرد جنگ کے اوائل میں رکھی گئی تھی

    سنہ 1949 میں امریکہ اور 11 دیگر ممالک (برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا، ناروے، بیلجیئم، ڈنمارک، نیدرلینڈز، پرتگال، آئس لینڈ اور لکسمبرگ) نے ایک سیاسی اور فوجی اتحاد تشکیل دیا۔

    سنہ 1952 میں اس تنظیم میں یونان اور ترکی کو شامل کیا گیا جبکہ سنہ 1955 میں مغربی جرمنی بھی اس اتحاد میں شامل ہوا۔

    دوسری جانب 1955 میں سوویت روس نے نیٹو کا مقابلہ کرنے کے لیے مشرقی یورپ کے کمیونسٹ ممالک کا الگ سے فوجی اتحاد بنا لیا، جسے وارسا پیکٹ (وارسا معاہدہ) کہا جاتا ہے۔

    سنہ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد وارسا معاہدے میں شامل متعدد ​​ممالک نے وفاداریاں بدل لیں اور نیٹو کے رکن بن گئے۔

    اس وقت نیٹو اتحاد میں 30 ممالک شامل ہیں۔

    نیٹو اور یوکرین کے ساتھ روس کا مسئلہ کیا ہے؟

    یوکرین سابقہ سوویت یونین کا ایک حصہ ہے جس کی سرحد روس اور یورپی یونین دونوں سے ملتی ہے۔

    یہاں روسی باشندوں کی ایک بڑی آبادی ہے اور روس سے قریبی سماجی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ کریملن یوکرین کو اپنے قریبی علاقے کے طور پر دیکھتا ہے اور حال ہی میں روسی صدر پوتن نے یوکرین کو روس کا حصہ کہا تھا۔

    تاہم حالیہ برسوں میں یوکرین مغرب سے امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ یورپی یونین اور نیٹو میں شمولیت اس کے آئین کا حصہ ہے۔

    یوکرین نیٹو کا رکن نہیں لیکن اس کا ‘شراکت دار ملک’ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین کو مستقبل میں کسی بھی وقت اس اتحاد میں شامل ہونے کی اجازت ہے۔

    روس مغربی طاقتوں سے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا تاہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایک خودمختار ملک کے طور پر یوکرین کو اپنے سیکیورٹی اتحاد کے بارے میں فیصلہ کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور یہ کہ وہ یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے سے روک نہیں سکتے۔

    روس کو  خدشات

    پوتن

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا دعویٰ ہے کہ مغربی طاقتیں اس اتحاد کو روس کو گھیرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ نیٹو مشرقی یورپ میں اپنی فوجی سرگرمیاں بند کر دے۔

    وہ ایک طویل عرصے سے اس بات پر زور ڈالتے آئے ہیں کہ امریکہ نے 1990 میں دی گئی اپنی اس ضمانت کو ختم کر دیا، جس کے مطابق نیٹو اتحاد مشرق میں نہیں پھیلے گا۔

    امریکہ کا کہنا ہے اس نے ایسی کوئی ضمانت نہیں دی تھی۔

    نیٹو روس کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کے رکن ممالک کی ایک بہت چھوٹی تعداد کی روس کے ساتھ مشترکہ سرحدیں ہیں اور یہ ایک دفاعی اتحاد ہے۔

  • امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا

    امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا

    واشنگٹن: امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا ،اطلاعات کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر حملوں میں کمی کا کوئی عندیہ نہیں دیا جبکہ دوسری جانب روس کے یوکرین پرحملے کے جواب میں امریکہ ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نے روس کے ایٹمی حملوں کے جواب میں ایٹمی حملے سے زیادہ سخت جوابی حملہ کرکے عالمی سطح پر اس کی سیاسی و اقتصادی تنہائی میں اضافہ کردیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ اور اتحادی ممالک نے روس کو معاشی طور پر سزا دینے کے لیے صدر پوتن سمیت اہم شخصیات اور کاروباری کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ خیال رہے کہ دوسری عالمی جنگ عظیم کے بعد سے یوکرین پر حملہ کسی بھی یورپی ریاست پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔

    امریکہ نے دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر اپنی فوج یوکرین بھجوانے سے انکار کیا ہے تاہم امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک نے یوکرین کو عسکری امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ روسی خام تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا جبکہ امریکی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کو روسی توانائی کے شعبے پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔

    روس کی سب سے زیادہ کمائی تیل کی برآمد سے ہوتی ہے۔ لنڈسے گراہم نے کہا کہ ’ہم توانائی کے شعبے کو ہتھیار کے طور پر نہیں استعمال کر رہے۔ ہم پوتن کو نشانہ نہیں بنا رہے جہاں سے انہیں سب سے زیادہ تکلیف پہنچ سکتی ہے۔‘

    منگل کو متعدد کمپنیوں کے روس میں اپنے دفاتر بند کرنے کا ارادہ ہے جس سے ملک کی معیت کو مزید نقصان پہنچے گا۔ بڑے بینکوں، ایئر لائنز اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے شپمنٹ معطل کرنے کے علاوہ روس کے ساتھ شراکت داری ختم کرتے ہوئے اس کے اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

    امریکہ نے روس کے مرکزی بینک اور آمدنی کے دیگر ذرائع پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں جس سے روسی روبل کی قدر میں مزید کمی آئی ہے جبکہ چند روسی بینکوں کو عالمی ترسیلات زر کا نیٹ ورک ’سویفٹ‘ کے اسستعمال سے روکا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں برطانوی تیل کی کمپنیوں بی پی اور شیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ روسی تیل کی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں سے اپنے شیئرز نکال رہے ہیں۔

    روس ثقافتی اور سپورٹس کی سطح پر بھی عالمی تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ ہالی وڈ کے دو بڑے سٹوڈیوز ڈزنی اور وارنر بروس نے بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ آنے والی فلموں کی ریلیز روس میں معطل کر رہا ہے۔

    ڈزنی نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ یوکرین پر حملے اور اس سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کے باعث روس کے تھیٹر میں ’ٹرننگ ریڈ‘ سمیت دیگر آئندہ آنے والی فلموں کی ریلیز معطل کر رہے ہیں۔

    روسی حکومت سے منسلک میڈیا اداروں کی جانب سے معلومات کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کے علاوہ مائیکروسافٹ نے بھی اقدامات اٹھائے ہیں۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کی رات گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس کی فوج کو دارالحکومت کئیف کی دفاعی لائن کو توڑنے نہیں دیا۔

    انہوں نے کہا کہ روس یوکرین کے تھرمل پاور پلانٹ کو نشانہ بنا رہا ہے جو کیئف کی30 لاکھ کی آبادی کو بجلی فراہم کرتا ہے

  • پاکستان یورپی یونین ممالک سے اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے:آرمی چیف

    پاکستان یورپی یونین ممالک سے اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے:آرمی چیف

    راولپنڈی :پاکستان یورپی یونین ممالک سے اپنے تعلقات کو ہمیشہ سے بہتر سے بہتر کرنے میں کوشاں رہا ہے ، اس حوالے سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان یورپی یونین ممالک سے اپنے تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی برائے انسانی حقوق کی ملاقات ہوئی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں افغانستان میں انسانی بحران کی صورتحال پر بات چیت کی گئی جبکہ ملاقات میں خطے کی مجموعی سلامتی کی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملاقات میں یورپی یونین کے ساتھ دو طرفہ سفارتی تعلقات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی برائے انسانی حقوق سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یورپی یونین ممالک سے اپنے تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔

  • ترکی میں ایشیا اور یورپ کو ملانے والا دنیا کا طویل ترین پُل تعمیر

    ترکی میں ایشیا اور یورپ کو ملانے والا دنیا کا طویل ترین پُل تعمیر

    انقرہ ؛ترکی میں ایشیا اور یورپ کو ملانے والا دنیا کا طویل ترین پُل تعمیر ،اطلاعات کے مطابق بڑے عرصے کی کوشش کے بعد بالآخر ترکی میں دنیا کے طویل ترین مڈسپن سسپنشن برج (معلق پل) کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے۔

    ترکی میں چناق کلے 1915 نامی برج کو درہ دانیال پر کامیابی سے تعمیر کرلیا گیا ہے یورپ کو ایشیا سے ملانے والا یہ حیرت انگیز اور دنیا کا طویل ترین پُل 20 فروری کو ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا۔

    تاہم اس پُل کا باضابطہ افتتاح 18 مارچ کو ہوگا، اس طویل ترین پُل کو یورپ اور ایشیا کو جوڑنے والا ایک اہم لنک قرار دیا جارہا ہے کیونکہ یہ درہ دانیال پر اس طرح کا پہلا پُل ہے۔

    واضح رہے کہ اس وقت درہ دانیال کو عبور کرنے کے لیے کشتیوں یا فیری کا سہارا لینا پڑتا ہے اور گھنٹوں درکار ہوتے ہیں مگر اس پل کے ذریعے یہ فاصلہ 6 منٹ میں طے ہوسکے گا۔

    اس پل کی تعمیر کا آغاز مارچ 2017 سے کیا گیا تھا تاہم اب اس کی تکمیل کے بعد باضابطہ طور پر اسے 18 مارچ 2022 میں کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔س

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا اہم ترین سپین یا ایک سے دوسرے سپورٹنگ کھمبوں کے درمیان کا فاصلہ 2023 میٹر کا ہے جو اسے دنیا کا سب سے لمبا سسپنشن برج بناتا ہے

     

    یہ پل 4.6 کلومیٹر طویل ہے اس کے سرخ اور سفید ٹاور ترکی کے قومی پرچم کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کی لمبائی 334 میٹر ہے جو دنیا میں کسی بھی سسپنشن برج میں سب سے بلند ہے۔یاد رہے کہ یہ برج ترکی کے ویژن 2023 پراجیکٹ کا حصہ ہے جس کی تعمیر پر 3 ارب 10 کروڑ یورو خرچ کیے گئے ہیں۔

    ابتدائی طور پر اس برج کی تعمیر کے لئے تخمینہ لگایا تھا کہ یہ 2 ارب 80 کروڑ یورو میں مکمل ہوجائے گا مگر کورونا وائرس کی وبا کے باعث لاگت میں 30 کروڑ یورو کا اضافہ ہوگیا۔

    واضح رہے کہ اس پل کو جنوبی کوریا اور ترک کمپنیوں نے مل کر تعمیر کیا ہے جبکہ یہ ترکی کا ایشیا اور یورپ کو ملانے والا چوتھا برج ہے۔

  • مغربی ممالک میں نسل پرستی کا سامنا رہا،کمارسانو کی بیٹی کا انکشاف

    مغربی ممالک میں نسل پرستی کا سامنا رہا،کمارسانو کی بیٹی کا انکشاف

    معروف بھارتی گلوکارکمار سانو کی بیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں مغربی ممالک میں نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گلوکار کمار سانو کی بیٹی و گلوکارہ نے اپنے حالیہ انٹرویو کے دوران نسل پرستی کا سامنا کرنے کے بارے میں بات کی کہ کس طرح انہیں امریکا اور برطانیہ میں نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا، جہاں انہوں نے اپنی پرورش کے ابتدائی سال گزارے۔

    ملائکہ سےعلیحدگی کی خبریں،ارجن کپور نے خاموشی توڑ دی

    کمار سانو کی بیٹی نے کہا کہ وہ بہت چھوٹی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ لندن شفٹ ہوگئی تھیں اوروہیں سےانہوں نے موسیقی کی تربیت لی مجھے حقیقی زندگی میں بہت زیادہ ذہنی تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مجھے یاد ہے کہ جب میں موسیقی کے آڈیشن کے لیے گئی تو مجھے کم تر محسوس کیا گیا کیونکہ میں اردگرد کے اکثر لوگوں سے مختلف تھی۔

    گلوکار کی بیٹی نے کہا کہ میں بہت چھوٹی تھی، میں روتی ہوئی گھر واپس آتی اور ان واقعات کی وجہ سے اکثر میرا اعتماد ٹوٹ جاتا تھا، مجھے صرف ایک فنکار کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک انسان کے طور پر بھی خود کو ثابت کرنا تھا میں نے اب اس سے نمٹنا سیکھ لیا ہے، میری خواہش ہے کہ کسی دن اس کے بارے میں ایک گانا بناؤں اور دنیا کے کونے کونے میں بھارتی ثقافت کو فروغ دینے میں مدد کروں۔

    شاہ رخ خان کی رہائش گاہ "منت” کو بم سے اُڑانے کی دھمکی دینے والا شخص…

    واضح رہے کہ سال 2018ء میں ایک انٹرویو کے دوران کمار سانو نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’اُنہوں نے شینن کو گود لیا ہے اور اُنہیں اپنی بیٹی پر بہت فخر ہےوہ بہت محنتی ہے اور اپنی زندگی میں پہلے ہی بہت کچھ حاصل کر چکی ہےہالی ووڈ میں بہت سے لوگ مجھے ان کی وجہ سے جانتے ہیں اور یہ ہمارے خاندان کے لیے فخر کی بات ہے۔

    ارجن کپوراورملائکہ اروڑا نے راہیں جدا کرلیں ،بھارتی میڈٰیا

  • یورپ میں اومی کرون پنجے گاڑنے لگا

    یورپ میں اومی کرون پنجے گاڑنے لگا

    یورپ میں اومی کرون پنجے گاڑنے لگا جس کے باعث مختلف ملکوں نے پابندیاں لگانا شروع کر دیں۔

    فرانس میں کورونا کیسز میں ریکارڈ اضا فہ ہوا ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1 لاکھ 80 ہزار کے قریب نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک میں نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا جبکہ امریکا میں آج ڈیڑھ لاکھ سے زائد نئے کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    انگلینڈ میں24 گھنٹوں میں مزید1 لاکھ 29 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے اور یہاں بھی جنوری میں نئی پابندیاں لگائے جانے کا امکان ہے جبکہ اسکاٹ لینڈ، ویلز اور ناردرن آئرلینڈ نے میل جول محدود کرنے کی پابندیاں لگا دیں ۔

    اس کے علاوہ نیدر لینڈز ،سوئٹزرلینڈ، یونا ن اور پر تگال میں بھی اومی کرون کیسز میں اضافہ ہوا جبکہ جرمنی میں نجی تقاریب ویکسین شدہ 10 افراد تک محدود کر دی گئیں اور نائٹ کلبز بند کر دیے گئے ،فن لینڈ نے بھی کورونا ویکسین نہ لگوانے والے غیرملکی مسافروں کے داخلے پر پابندی لگادی ۔

    دوسری جانب بھارتی دارالحکومت دہلی میں اومی کرون بڑھنے پر اجتماعات پر پابندی لگادی گئی ہے اور نجی دفاتر کو 50 فیصد اسٹاف کے ساتھ کام کی ہدایت کی گئی ۔اس کے علاوہ بنگلادیش میں اومی کرون ویرنٹ کےخطرے کے پیش نظربوسٹر ویکسین کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے خبر دار کیاہے کہ اومی کرون سے اسپتالوں پر بوجھ پڑ سکتا ہے ، اور صحت کا نظام دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے ۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ اومی کرون کی شدت کم ہے تاہم اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اومی کرون کے پھیلاؤ کی رفتار بہت زیادہ ہے ، جس کی وجہ سے غیر ویکسین شدہ افراد متاثر ہو کر اسپتال داخل ہوں گے،اس سے صحت کے نظام اور دیگر ضروری سروسز پر دباؤ بڑھ سکتاہے۔

    اسکواڈ ممبران اور کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد امریکا اور ائیرلینڈ کی ون ڈے سیریز باہمی رضامندی سے منسوخ کردی گئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق پہلے امریکی ٹیم کے کھلاڑی اور امپائرز میں کورونا کی تشخیص ہوتی تاہم بعد میں ائیرلینڈ ٹیم کے سپورٹ اسٹاف کے 2 ممبران کا بھی کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

  • پی آئی اے کے لیے یورپ کے دروازے کھلنے کی امید پیدا ہوگئی

    پی آئی اے کے لیے یورپ کے دروازے کھلنے کی امید پیدا ہوگئی

    کراچی:پی آئی اے کے لیے یورپ کے دروازے کھلنے کی امید پیدا ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے پاکستانی جہازوں پر عائد پابندی کے خاتمے کی امید جاگ اٹھی۔

    تفصیلات کے مطابق عالمی ہوابازی کی تنظیم (اکاؤ) کی جانب سے سول ایوی ایشن اتھارٹی(سی اے اے) کے آڈٹ سے متعلق مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے بعد پاکستانی جہازوں پر عائد پابندی کے خاتمے کے امکانات ہیں۔

    ذرایع کا کہنا ہے کہ سی اے اے کے اہم شعبہ جات کے آڈٹ سے متعلق عبوری رپورٹ جاری ہوئی ہے، اکاؤ نے سول ایوی ایشن کی 72.77فیصد رینکنگ جاری کردی۔

    اس حوالے سے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اکاؤ کی آڈٹ ٹیم 15دن میں حتمی رپورٹ ایس ایس سی کو فراہم کرے گی، اکاؤ کی رپورٹ کی سفارشات کی مد میں پاکستان پر پابندی ختم ہونے کے امکانات ہیں۔

    ‘اکاؤ کی جانب سے سگنی فیکنٹ سیفٹی کنسرن ختم کردی جائے گی’۔

    خیال رہے کہ عالمی ہوابازی کی تنظیم نے سی اے اے کی جانب سے تیاریوں کو سراہا تھا۔ اکاؤ کی جانب سے رسمی رپورٹ چند ہفتوں میں منظر عام پر لائی جائے گی۔

    اطلاعات کے مطابق قطر ایئر ویز نے پاکستان سے پروازوں کی تعداد میں اضافے کا اعلان کردیا، لاہور، اسلام آباد اور کراچی سے روزانہ 2، 2 پروازیں جبکہ پشاور اور سیالکوٹ سے روزانہ 1، 1 پرواز آپریٹ کی جائے گی۔

    تفصیلات کے مطابق قطر ایئر ویز نے پاکستان سے پروازوں کی تعداد میں اضافے کا اعلان کردیا، قطر ایئر ویز پاکستان سے ہفتہ وار 56 پروازیں آپریٹ کرے گی۔

    قطر ایئر ویز کراچی اور لاہور سمیت 5 شہروں سے دوحہ کے لیے پروازیں آپریٹ کرے گی۔قطر ایئر ویز کی لاہور، اسلام آباد اور کراچی سے روزانہ 2، 2 پروازیں جبکہ پشاور اور سیالکوٹ سے روزانہ 1، 1 پرواز آپریٹ کی جائے گی۔

    لاہور سے دوحہ ہفتہ وار 14 پروازیں آپریٹ کی جائیں گی، ایئر لائن لاہور سے بذریعہ دوحہ 140 ممالک میں مسافروں کو رسائی دے گی۔قطر ایئر ویز نے پاکستان کے لیے 31 مئی 2022 تک کا شیڈول بھی جاری کردیا ہے۔

    جنرل راوت کی موت پر تبصرے اورفوج کے اندربغاوت پرسوالات کیوں؟نوجوانوں پرمقدمات درج