Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • روس کے کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر  حملے،9 افراد ہلاک 60 زخمی

    روس کے کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر حملے،9 افراد ہلاک 60 زخمی

    روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر شدید فضائی، میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    یوکرینی حکام کے مطابق منگل کی صبح دارالحکومت کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر میزائلوں اور ڈرونز حملوں میں جنوب مشرقی شہر دنیپرو اور شمال مشرقی شہر خارکیف سمیت کئی علاقے نشانہ بنے حملوں سے رہائشی عمارتوں، گاڑیوں اور توانائی تنصیبات سمیت شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا جب کہ ہزاروں افراد جان بچانے کے لیے پناہ گاہوں اور زیرِ زمین میٹرو اسٹیشنوں میں منتقل ہو گئے۔

    دنیپرو کے گورنر اولیکساندر ہانژا نے بتایا کہ میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک جبکہ 25 زخمی ہوئے تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

    رائٹرز کے مطابق دارالحکومت کیف میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 51 زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں کیف کے میئر وٹالی کلچکو کے مطابق ایک 24 منزلہ رہائشی عمارت پر مبینہ میزائل حملے کے بعد عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا، جس کے ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

    یوکرین کے شمال مشرقی علاقے خارکیف کے میئر کے مطابق، وہاں بھی ڈرون اور میزائل حملوں میں ایک بچے سمیت 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک روز قبل ہی اپنے رات گئے ویڈیو خطاب میں انٹیلی جنس الرٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کسی بھی وقت ایک بڑے روسی حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا نٹیلی جنس اداروں کی جانب سے روسی حملوں کے حوالے سے موصول ہونے والی وارننگز برقرار ہیں اور ایک بڑے حملے کا امکان موجود ہے۔

    دوسری جانب روس نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ کیف میں یوکرین کے فوجی اہداف پر منظم حملے کرے گا روس نے غیر ملکی شہریوں کو بھی کیف چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا روس نے ان تازہ حملوں کو گزشتہ ماہ روس کے زیرِ قبضہ علاقے لوہانسک میں ہونے والے اس مبینہ یوکرینی ڈرون حملے کا جواب قرار دیا ہے جس میں 21 افراد مارے گئے تھے، تاہم یوکرین نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

    اُدھر روسی حکام کے مطابق جنوبی علاقے کراسن ودار میں واقع ایلسکی آئل ریفائنری بھی ڈرون حملے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئی روس کے زیرِ قبضہ کریمیا میں واقع بحری اڈے سیواستوپول پر بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں مقامی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام حملوں کو روکنے کے لیے متحرک رہا-

  • روس کی کیف میں بڑے حملے کی تیاری

    روس کی کیف میں بڑے حملے کی تیاری

    روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بڑے حملے کی تیاری کرلی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے امریکی سفارتکاروں، شہریوں اور دیگر غیرملکی افراد کو فوری طور پر کیف چھوڑنے کی وارننگ جاری کر دی ہے،روسی وزیر خارجہ نے یوکرینی شہریوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ فوجی تنصیبات سے دور رہیں۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل روس نے کیف اور اس کے نواحی علاقوں پر ڈرونز اور میزائلوں سے شدید حملے کیے تھے، جن میں اوریشنک ہائپر سونک میزائل بھی استعمال کیا گیا۔ ان حملوں کو گزشتہ 4 برس سے جاری جنگ کے دوران کیف پر ہونے والے شدید ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہےادھر روس اور امریکا کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں یوکرین جنگ اور ایران کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • روس یوکرین پر جدید ہتھیاروں سےبڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے،زیلنسکی

    روس یوکرین پر جدید ہتھیاروں سےبڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے،زیلنسکی

    یوکرین کے صدر ولادیمیرزیلسنکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یوکرین، خصوصاً دارالحکومت کیف پر بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں ہائپرسونک ’’اوریشنک ‘‘ بیلسٹک میزائل سمیت مختلف جدید ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معلومات یوکرین، امریکا اور یورپی ممالک کی انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں روس مشترکہ نوعیت کے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جن میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

    زیلنسکی نے کہا کہ روس کی جانب سے ایسے ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف جنگ کو طول دے رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں ممکنہ جارح ممالک کے لیے خطرنا ک مثال بھی قائم کر رہا ہے انہوں نے امریکا اور یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بعد از وقوع ردعمل کے بجائے پیشگی اقدامات کریں تاکہ روس کو مزید کشیدگی بڑھانے سے روکا جا سکے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل روسی صدر ولادیمیرپیوٹن نے مشرقی یوکرین کے روس کے زیر قبضہ علاقے لوہانسک میں طلبہ کے ہاسٹل پر ڈرون حملے کے بعد جوابی کارروائی کے آپشنز تیار کرنے کا حکم دیا تھا تاہم یوکرینی فوج نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    روس اس سے قبل بھی دو مرتبہ “اوریشنک” ہائپرسونک میزائل استعمال کر چکا ہے روسی صدر پیوٹن اس میزائل کو ناقابلِ روک قرار دے چکے ہیں، کیونکہ اس کی رفتار آواز کی رفتار سے تقریباً دس گنا زیادہ بتائی جاتی ہے روس نے پہلی بار نومبر 2024 میں یوکرین کی ایک فوجی فیکٹری کو نشانہ بنانے کے لیے ’’اوریشنک‘‘ میزائل داغا تھا اس وقت یوکرینی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ میزائل میں اصلی دھماکا خیز مواد کے بجائے ڈمی وار ہیڈز نصب تھے، جس کے باعث نقصان محدود رہا،جبکہ دوسرا حملہ جنوری 2026 میں مغربی یوکرین کے علاقے لیف میں کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے رہنماؤں نے مغربی یوکرین میں ’’اوریشنک‘‘ میزائل کے استعمال کو ’’اشتعال انگیز اور ناقابل قبول‘‘ قرار دیا تھا۔

  • ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان،قیدیوں کا تبادلہ

    ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان،قیدیوں کا تبادلہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ روس میں یوم فتح کی تقریبات منائی جا رہی ہیں جبکہ یوکرین نے بھی دوسری جنگ عظیم میں اہم کردار ادا کیا تھا اسی مناسبت سے یہ جنگ بندی عمل میں لائی جا رہی ہے اس جنگ بندی کے دوران ہر قسم کی عسکری کارروائیاں معطل رہیں گی جبکہ دونوں ممالک ایک، ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ بھی کریں گے،9، 10 اور 11 مئی کو دونوں ممالک کے درمیان عارضی سیز فائر نافذ رہے گا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ یہ درخواست انہوں نے براہ راست کی تھی جس پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتفاق کیا،امید ہے کہیہ پیشرفت ایک طویل، خونریز اور سخت جنگ کے خاتمے کی شروعات ثابت ہوگی اس بڑے تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور فریقین ہر گزرتے دن کے ساتھ کسی حل کے قریب پہنچ رہے ہیں،وس یوکرین جنگ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا سب سے بڑا تنازع بن چکی ہے تاہم اب امن کی جانب پیشرفت ممکن دکھائی دے رہی ہے۔

  • روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے دن یوکرین کے ساتھ جنگ بند کرنے کی پیشکش کی ہے۔

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے موقع پر یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے 9 مئی کو روس نازی جرمنی پر سوویت یونین کی فتح کا دن مناتا ہے-

    فرانسیسی خبر ایجنسی نے روسی صدر کے سفارتی مشیر کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیوٹن نے یومِ فتح کی تقریبات کے دوران لڑائی روکنے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ اس دن کو پرسکون ماحول میں منایا جا سکے،صدر ٹرمپ سے بات چیت کے دوران پیوٹن نے کہا کہ وہ اس بات پر تیار ہیں کہ روسی یوم فتح کی تقریبات کے دوران جنگ بندی رکھی جائے،امریکی صدر نے پیوٹن کی اس تجویز کی حمایت کی اور کہا کہ نازی جرمنی پر فتح کا دن ہماری مشترکہ فتح کا دن ہے۔

    تاہم اس ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے یوکرین کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو روس میں یوم فتح بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے جو دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی کامیابی کی یاد دلاتا ہے۔

  • ایٹمی توانائی کا استعمال انتہائی ذمہ داری اور دانشمندی کے ساتھ ہونا چاہیے ،پوپ لیو

    ایٹمی توانائی کا استعمال انتہائی ذمہ داری اور دانشمندی کے ساتھ ہونا چاہیے ،پوپ لیو

    پوپ لیو نے کہا ہے کہ جنگیں اور وسائل کی لوٹ مار انسانیت کے مستقبل کی چوری ہیں-

    پوپ لیو نے ویٹی کن میں اتوار کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگیں چھیڑنے اور زمین کے وسائل پر قبضہ کرنے والے دراصل انسانیت کے پُرامن مستقبل کو چھین رہے ہیں چرنوبل ایٹمی حادثے کی 40ویں برسی کے موقع پر اپنے ہفتہ وار خطاب میں پوپ لیو نے خبردار کیا کہ ایٹمی توانائی کا استعمال انتہائی ذمہ داری اور دانشمندی کے ساتھ ہونا چاہیے ، چرنوبل کا سانحہ آج بھی انسانیت کے اجتماعی شعور پر ایک گہرا اثر رکھتا ہے اور یہ جدید طاقتور ٹیکنالوجی کے خطرات کی یاد دہانی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا میں مختلف شکلوں میں چور موجود ہیں، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو جنگوں کو ہوا دیتے ہیں، وسائل کو لوٹتے ہیں یا برائی کو فروغ دیتے ہیں، اور اس طرح سب سے ایک پُرامن مستقبل چھین لیتے ہیں،پوپ نے امید ظاہر کی کہ عالمی سطح پر فیصلے کرتے وقت عقل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے گا تاکہ ایٹمی طاقت کو صرف امن اور انسانی بھلائی کے لیے استعمال کیا جا سکےچرنوبل کا سانحہ دنیا کا بدترین ایٹمی حادثہ تھا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔

  • چرنوبل ایٹمی پاور پلانٹ کو شدید نقصان،حکام نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

    چرنوبل ایٹمی پاور پلانٹ کو شدید نقصان،حکام نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

    چرنوبل کی تباہی کی 40 ویں برسی پر حکام نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے اور جنگ کے اثرات سے اس مقام کو محفوظ نہ بنایا گیا، تو دنیا کو ایک بار پھر 1986 جیسی ہولناک تابکاری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے

    دنیا کے بدترین ایٹمی حادثے کو 4 دہائیاں گزرنے کے باوجود چرنوبل نیوکلئیر پاور پلانٹ ایک بار پھر عالمی خطرے کا مرکز بن گیا ہے یوکرین پر روسی حملے اور حالیہ ڈرون حملوں نے اس حساس مقام کی حفاظت پر مامور ‘نیو سیف کنفائنمنٹ’ نامی دیوہیکل حفاظتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے تابکاری کے دوبارہ پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    فروری 2025 میں ایک روسی ڈرون نے اس ڈھانچے کی چھت کو نشانہ بنایا، جس سے 15 مربع میٹر کا سوراخ ہو گیا، یہ ڈھانچہ، جو ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا، سنہ 1986 کے دھماکے سے تباہ ہونے والے ری ایکٹر نمبر 4 کے گرد بنائے گئے عارضی کنکریٹ کے تابوت (سارکوفیگس) کو ڈھانپنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

    پلانٹ کے ڈائریکٹر جنرل سرہی تاراکانوف کے مطابق، اس حملے سے ڈھانچے کے اندر نمی کنٹرول کرنے والا نظام تباہ ہوگیا ہے، جو اسٹیل کے اس ڈھا نچے کو زنگ سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے اگر یہ ڈھانچہ کمزور ہو کر گرتا ہے، تو اس کے اندر موجود 180 ٹن سے زائد ایٹمی ایندھن اور تابکار گرد فضا میں شا مل ہوسکتی ہے، جو ایک بار پھر عالمی تباہی کا سبب بنے گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے4 سالوں میں اس کی مکمل مرمت ضروری ہے، بصورتِ دیگر اس ڈھانچے کی 100 سالہ زندگی کی ضمانت نہیں دی جاسکے گی اس مرمت کے لیے تقریباً 50 کروڑ یورو درکار ہیں، جو جنگ زدہ یوکرین کے لیے ایک بھاری بوجھ ہےمرمت کا کام انتہائی خطرناک ہے کیونکہ متاثرہ مقام پر تابکاری کی سطح اتنی بلند ہے کہ ایک مزدور سال بھر میں وہاں صرف چند گھنٹے ہی کام کرسکتا ہے اس پیچیدہ کام کے لیے 100 سے زیادہ ماہر تعمیراتی عملے کی ضرورت ہے جو مختصر دورانیے کے لیے باری باری کام کرسکیں،روسی افواج نے 2022 کے حملے کے آغاز میں ہی اس مقام پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں خندقیں کھودیں، جس سے تابکار مٹی فضا میں بکھرنے کا خطرہ پیدا ہوا۔

    اگرچہ بعد ازاں روسی فوج وہاں سے نکل گئی، لیکن اب بھی روسی میزائل اور ڈرون اس علاقے کے قریب سے گزرتے ہیں، جو کسی بھی وقت حادثاتی یا دانستہ طور پر پلانٹ کو نشانہ بنا سکتے ہیں،اکتوبر 2024 سے اب تک بجلی کے گرڈ پر حملوں کی وجہ سے پلانٹ 4 بار مکمل بلیک آؤٹ کا شکار ہوچکا ہے، جس کے دوران ایٹمی فضلے کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہنگامی ڈیزل جنریٹرز کا سہارا لینا پڑا۔

    چرنوبل کی تباہی کی 40 ویں برسی پر حکام نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے اور جنگ کے اثرات سے اس مقام کو محفوظ نہ بنایا گیا، تو دنیا کو ایک بار پھر 1986 جیسی ہولناک تابکاری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ان کا کہنا ہے کہ خطرہ ٹلا نہیں ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔

  • روس نے یوکرین پر قریباً ایک ہزار ڈرونز  داغ دیئے

    روس نے یوکرین پر قریباً ایک ہزار ڈرونز داغ دیئے

    روس نے یوکرین پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قریباً ایک ہزار ڈرونز سے بڑا حملہ کیا ہے، جسے حالیہ مہینوں کی سب سے بڑی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 40 افراد زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد ہلاک ہوئے، حملوں میں ایوانو فرانکیوسک اور لیفیو سمیت مختلف شہروں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں رہائشی عمارتیں، شہری مراکز اور ایک زچگی اسپتال بھی متاثر ہوئے ایک تاریخی عباد ت گاہ کو بھی جزوی طور پر نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    یوکرینی فضائیہ کے مطابق بڑی تعداد میں بغیر پائلٹ طیاروں کو مار گرایا گیا یا ناکارہ بنایا گیا، تاہم کئی مقامات پر حملوں کے باعث جانی اور مالی نقصان ہوا، دو سری جانب روسی علاقے کورسک میں بھی جوابی کارروائیوں میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، یوکرینی قیادت کا کہناہےکہ اس بڑے حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس جنگ کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں۔

  • روسی جنرل پر حملے کا ملزم دبئی سے گرفتار

    روسی جنرل پر حملے کا ملزم دبئی سے گرفتار

    روس نے ماسکو میں روسی انٹیلی جینس ایجنسی کے نائب سربراہ پر حملے کے مشتبہ ملزم کو دبئی سے گرفتار کر کے ماسکو منتقل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو فون کیا اور تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے ملٹری انٹیلی جنس (جی آر یو) کے نائب سربراہ لیفٹینیٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف پر حملے کے مشتبہ ملزم کو متحدہ عرب امارات سے گرفتار کر کے روس منتقل کردیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یوکرینی نژاد روسی شہری جمعے کی صبح ماسکو میں واقع ایک گھر میں جنرل الیکسییف پر فائرنگ کے بعد دبئی فرار ہوگیا تھا۔ جہاں اسے متحدہ عرب امارات کے حکام کے تعاون سے گرفتار کر کے روس کے حوالے کیا گیاتحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ 60 سالہ جو یوکرینی شہری لیوبومیر کوربا دسمبر کے آخر میں روس پہنچا اور یوکرین کی ایما پر ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دیں۔

    روس کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کو فون کیا اور روسی جنرل پر حملے کے مشتبہ ملزم کی گرفتاری میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

    روسی تفتیش کاروں کے مطابق جی آر یو کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف کو جمعے کے روز شمالی ماسکو میں واقع ایک رہائشی عمارت میں سائلنسر لگی پستول سے تین گولیاں ماری گئیں 64 سالہ جنرل کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی سرجری کی گئی۔

    روسی حکام کے مطابق روسی جنرل پر حملے میں دو مزید روسی شہری بھی ملوث تھے۔ حملہ آور کے ایک مشتبہ ساتھی وکٹر واسن کو ماسکو میں گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دوسری خاتون ساتھی ملزمہ زینائڈا سیری بریتسکایا یوکرین فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ یوکرین کی ایما پر کیا گیا تھا تاکہ امن مذاکرات کو سبوتاژ کیا جا سکے، تاہم یوکرین نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے یوکرین کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یوکرین کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور ممکن ہے کہ یہ واقعہ روس کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہو۔

  • روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر حملہ، 400 ڈرونز اور 40 میزائل داغ دیئے

    روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر حملہ، 400 ڈرونز اور 40 میزائل داغ دیئے

    روس نے ہفتے کی شب یوکرین کے توانائی کے اہم ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں جس میں بجلی پیدا اور ترسیل کرنے والے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ روس نے رات کے وقت یوکرین کے توانائی کے نظام پر حملہ کیا جس میں 400 سے زائد ڈرونز اور مختلف اقسام کے تقریباً 40 میزائل استعمال کیے گئے روس سفارت کاری کا راستہ اختیار کر سکتا ہے لیکن وہ حملوں کو ترجیح دے رہا ہے، روس کو سرد موسم کو یوکرین کے خلاف دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،یوکرینی صدر نے روسی حملوں سے بچاؤ کے لیے ایک بار اتحادی ممالک سے دفاعی ٹیکنالوجی کی ضرورت پر زود دیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق یوکرین کے وزیرِ توانائی نے حملوں میں مغربی علاقوں میں واقع دو تھرمل پاور اسٹیشنز کے ساتھ ساتھ بجلی کی ترسیل کے مرکزی نظام، سب اسٹیشنز اور اہم لائنوں کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہےسیکیورٹی صورتحال بہتر ہوتے ہی توانائی کے شعبے کے کارکن مرمت کا کام شروع کر دیں گے۔

    واضح رہے کہ روس کی جانب سے یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب یوکرین میں درجہ حرارت تیزی سے گر رہا ہے اور آئندہ دنوں میں منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے حکام کا کہنا ہے کہ شدید سردی اور مسلسل حملوں کے باعث توانائی کا نظام شدید متاثر ہوچکا ہے ملک بھر میں ہنگامی لوڈشیڈنگ نافذ کر دی گئی ہے وزیر توانائی کے مطابق حکومت نے بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے پولینڈ سے ہنگامی بنیادوں پر بجلی درآمد کرنے کی درخواست کی ہے۔

    واضح رہے کہ یہ حملے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے چند دن بعد سامنے آئے ہیں تاہم اب تک سفارتی کوششوں سے اس جنگ کے خاتمے سے متعلق کوئی قابلِ عمل پیش رفت نہیں ہو سکی-