Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • روس یوکرین جنگ کا خاتمہ:امریکی سفارتی کوششوں میں ایک بار پھر تیزی ،وفد ماسکو پہنچ گیا

    روس یوکرین جنگ کا خاتمہ:امریکی سفارتی کوششوں میں ایک بار پھر تیزی ،وفد ماسکو پہنچ گیا

    روس اور یوکرین کے درمیان ساڑھے 4 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی سفارتی کوششوں میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ماسکو میں موجود ہیں،وہ ہفتے کو ماسکو پہنچے ہاں روسی صدارتی ایلچی کریل دیمترییف نے ان کا استقبال کیا، وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے اس اہم سفارتی پیش رفت اور امریکی وفد کے متوقع دورہ کیف کے پیشِ نظر روس نے یوکرینی دارالحکومت پر تین روز کے لیے فضائی حملے روکنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    روسی خبر رساں ادارے ٹاس کے مطابق روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے ہفتے کے روز صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی وفد کے درمیان کریملن میں ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کے پاس اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک نئی اور ٹھوس تجویز موجود ہے، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی تھیں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ امریکی ایلچی ماسکو کے بعد اتوار کو کیف کا دورہ کریں گے۔

    دوسری جانب روسی صدارتی ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ صدر پیوٹن نے امریکی نمائندوں کے یوکرینی دارالحکومت کے دورے کے پیش نظر فوج کو ہفتے کی نصف شب سے تین دن تک کیف پر حملے نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان امریکا کی ثالثی میں آخری مذاکرات فروری میں ہوئے تھے، جو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے سے کچھ ہی عرصہ قبل ہوئے تھے، ان مذاکرات کی ناکامی کے بعد فریقین نے ایک دوسرے کے علاقوں پر حملوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ سمندری محاذ پر بھی لڑائی میں شدت آئی ہے۔

    یوکرینی دارالحکومت گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے مسلسل روسی فضائی حملوں کے نشانے پر ہے ان حملوں میں شہر کے وسط میں واقع متعدد عمارتوں کے ساتھ ساتھ مضافاتی علاقوں میں گوداموں اور فیکٹریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں کوکا کولا بنانے والی ایک فیکٹری بھی شامل ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ سے شروع ہونے والے ان مسلسل حملوں میں کیف شہر اور اس کے وسیع تر ریجن میں اب تک کم از کم 53 افراد ہلاک اور 134 زخمی ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس جنگ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں ہونے والی خونریز جنگ قرار دیا جاتا ہے تاہم جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار پر روس اور یوکرین کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں ماسکو کا مطالبہ ہے کہ یوکرین نیٹو میں شمولیت کا منصوبہ ترک کرے اور ان 4 علاقوں کا کنٹرول مکمل طور پر چھوڑ دے جنہیں وہ اپنے علاقے قرار دیتا ہے یوکرین ان شرا ئط کو مسترد کرتا ہے اور اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے دستبردار ہونے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔

  • یوکرینی دارالحکومت کے قریب اسلحہ ڈپو پر روسی ڈرون حملہ، 37 افراد ہلاک، 42 زخمی

    یوکرینی دارالحکومت کے قریب اسلحہ ڈپو پر روسی ڈرون حملہ، 37 افراد ہلاک، 42 زخمی

    ویوکرین کے دارالحکومت کیف کے قریب روسی ڈرون حملے میں اسلحہ ذخیرہ کرنے والے ایک ڈپو میں شدید دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 37 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوگئے، جبکہ قریباً 400 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

    عالمی میڈیا کے مطابق حملہ جمعہ کی رات کیف کے مغرب میں واقع میلا کے علاقے میں کیا گیا، جہاں ڈپو میں موجود گولے، بارودی سرنگیں اور ڈرونز پھٹنے سے بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ قریبی رہائشی عمارتیں اور بزرگوں و معذور افراد کے لیے قائم نگہداشت مرکز بھی متاثر ہوا۔

    یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اسلحہ رہائشی آبادی کے قریب ذخیرہ کرنے کو سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حکام نے سرکاری غفلت کے الزام میں فوجداری کارروائی بھی شروع کردی ہے۔

    حکام کے مطابق زخمیوں میں 4 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں، روسی وزارت دفاع نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے میلا میں موجود گولہ بارود کے ڈپو کو نشانہ بنایا تھا۔

  • یوکرین پر روس کے حملے، 16 افراد ہلاک، 130 زخمی

    یوکرین پر روس کے حملے، 16 افراد ہلاک، 130 زخمی

    یوکرین کے وسطی شہر کریوی ریح میں قائم ایک شاپنگ سینٹر پر روس کے ڈرون حملے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور 130 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق علاقائی گورنر اولیکساندر ہانژا کے مطابق جمعے کے روز ہونے والے حملے میں شاپنگ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 22 بچے بھی زخمی ہوئے 29 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے، جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 9 افراد تاحال لاپتا ہیں، جن میں 2 بچے شامل ہیں۔ امدادی کارکن ملبہ ہٹانے اور ممکنہ طور پر پھنسے افراد کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

    یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے حملے کو انتہائی مذموم اور قابل مذمت قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ پہلے ڈرون حملے کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد ایک دوسرا روسی ڈرون بھی شاپنگ سینٹر سے ٹکرایا، جس کا مقصد بظاہر امدادی کارکنوں کو بھی نشانہ بنانا تھااس طرح کے حملے دہشت گرد کارروائیوں سے کم نہیں ہیں، انہو ں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ روس کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے، ’’ہم یقینی طور پر جواب دیں گے۔

    کریوی ریح صدر زیلنسکی کا آبائی شہر بھی ہے حملے کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں جبکہ صنعتی عمارت سے اٹھنے والے سیاہ دھویں کی تصاویر بھی سامنے آئیں۔

    دوسری جانب جمعے ہی کو یوکرین کے جنوبی علاقے میکولائیف میں بھی روسی ڈرون حملہ کیا گیا، جس میں کم از کم 4 افراد ہلاک ہوئے یوکرینی سرکاری میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 3 بچے شامل ہیں جبکہ ایک خاتون زخمی ہوئی۔

    یوکرین میں روسی فضائی حملوں میں اس وقت تیزی دیکھی جا رہی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میدانِ جنگ میں بھی جاری ہے اس سے ایک روز قبل روس کے بیلسٹک میزائل حملے میں یوکرین کے دارالحکومت کیف میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھےدوسری طرف یوکرین نے بھی روس کے خلاف اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے، یوکرینی فورسز روس کی تیل تنصیبات اور جنگی سامان کی ترسیل سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ رو س کی جنگی صلاحیت کو متاثر کیا جا سکے۔

  • یوکرین پرروس کا بڑا میزائل حملہ، 5 افراد ہلاک متعدد زخمی

    یوکرین پرروس کا بڑا میزائل حملہ، 5 افراد ہلاک متعدد زخمی

    یوکرین کے دارالحکومت کیف اور گرد و نواح میں روسی میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہوگئے۔

    یوکرینی حکام کے مطابق روسی میزائل حملوں کا سلسلہ رات گئے جاری رہا جس میں رہائشی عمارتوں اور گوداموں کو نشانہ بنایا گیاحملوں کے بعد متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی جبکہ گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں۔

    یوکرین کی اسٹیٹ ایمرجنسی سروس کے مطابق ایک طبی مرکز کی عمارت میں بھی آگ لگ گئی جبکہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے کم از کم ایک شخص کو زندہ نکال لیا جبکہ مزید افراد کی تلاش کی جارہی ہے۔

    دوسری جانب پولینڈ کی فوج نے روسی حملوں کے پیش نظر احتیاطی فوجی فضائی کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، حملوں سے ہونے والے نقصانات کا مکمل جائزہ لیا جارہا ہے جبکہ امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

  • یوکرین کی جانب سے معذرت کے بعد  تین مقامات پر حملےکی،کارووائی   آخری لمحے منسوخ کر دی،ایران

    یوکرین کی جانب سے معذرت کے بعد تین مقامات پر حملےکی،کارووائی آخری لمحے منسوخ کر دی،ایران

    تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر کے اعلیٰ فوجی مشیر محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے یوکرین میں تین مقامات پر حملے کی مکمل تیاری کر لی تھی ۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مجوزہ حملوں کی تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں، لیکن بعد میں آپریشن روکنے کا فیصلہ کیا گیا،یوکرین کی جانب سے معذرت کے بعد ایران نے فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم انہوں نے اس مبینہ معذرت کی نوعیت یا اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

    محسن رضائی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ ایران اپنی مقررہ بحری گزرگاہ کے علاوہ کسی متبادل راستے کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مخالف بحری جہاز ایران کی نظر میں غیر قانونی راستہ اختیار کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے حالیہ 17 روزہ ایران۔امریکا کشیدگی کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے امریکی فوجی منصوبوں کو ناکام بنایا اور امریکی افواج کو بھاری نقصان پہنچایا تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی آزاد شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے 25 جولائی کو یوکرین پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کا ایک عملہ رکن ہلاک ہو گیا تھا،دوسری جانب یوکرین نے ان الزامات کے بارے میں باضابطہ طور پر کوئی مؤقف جاری نہیں کیا، جبکہ محسن رضائی کے تازہ دعوؤں کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • روس اور یوکرین میں  حملے، 14 افراد ہلاک

    روس اور یوکرین میں حملے، 14 افراد ہلاک

    روس اور یوکرین کے درمیان تازہ میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں کے تبادلے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں،جن میں روس میں 9 اور یوکرین میں 5 افراد شامل ہیں۔

    اے ایف پی کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تقریباً ساڑھے چار سال سے جاری جنگ میں حالیہ دنوں کے دوران حملوں کی شدت اور دائرہ کار میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے-

    روسی حکام کے مطابق یوکرین کی جانب سے سرحدی علاقے بیلگوروڈ پر کیے گئے حملوں میں 4 افراد جان سے گئے، جن میں کھیل کے میدان کے قریب موجود 13 سالہ بچی بھی شامل تھی،بچی شدید زخمی ہوئی تھی، تاہم اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ گئی،اسی طرح روس کے ساراتوف ریجن میں یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اُدمرتیا کے علاقے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے میں مزید 3 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    دوسری جانب یوکرینی حکام نے بتایا کہ روسی حملوں میں دنیپروپیٹرووسک کے علاقے میں 2 افراد، جبکہ زاپوریزژیا اور خیرسون میں ایک، ایک شہری ہلاک ہوا،یوکرین کے شمال مشرقی شہر خارکیف میں بھی روسی حملے کے نتیجے میں ایک ڈاک ٹرمینل مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جہاں موجود ایک ڈاک ملازم بھی ہلاک ہوگیا۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا کی قیادت میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی اور امن مذاکرات گزشتہ کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں،روس اور یوکرین دونوں کا مؤقف ہے کہ وہ جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتے تاہم دونوں جانب ہونے والے حالیہ حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

  • یوکرینی دارالحکومت پر روس کےحملے،8 افراد ہلاک متعدد زخمی

    یوکرینی دارالحکومت پر روس کےحملے،8 افراد ہلاک متعدد زخمی

    روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر رات بھر ڈرونز اور میزائلوں سے شدید حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوگئے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق روسی افواج نے جمعرات کی شب یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملہ کیا، جس میں ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے بتایا کہ حملوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ شہر بھر میں تقریباً 3 درجن مقامات کو نقصان پہنچا، انہوں نے متاثرہ علاقوں کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

    دوسری جانب کیف کے میئر ویتالی کلچکو نے بتایا کہ حملوں میں 34 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایمبولینس اسٹیشن کے طبی عملے اور ڈرائیور بھی شامل ہیں ایک رہائشی عمارت کی پہلی سے چھٹی منزل تک کا حصہ براہِ راست میزائل حملے کے باعث منہدم ہوگیا، جبکہ کئی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق شہر میں متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، وسطی شیوچینکو بلیوارڈ پر واقع ایک ہوٹل کی بالائی منزل پر آگ بھڑک اٹھی، جبکہ کئی علاقوں میں عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئیں حملوں کے دوران فضائی خطرے کے سائرن بجنے پر شہری بچوں، ضروری سامان اور اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ زیرِ زمین میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ یہ حملہ جون کے وسط کے بعد یوکرین پر روس کا سب سے بڑا فضائی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حملوں کے خدشے کے پیش نظر آئرلینڈ کا اپنا دورہ مختصر کر دیا۔ وہ یورپی یونین کی گردشی صدارت کے سلسلے میں ڈبلن گئے ہوئے تھے، یوکرین کی امریکا میں سفیر اولہا اسٹیفانیشینا نے حملے کو ”کیف کے شہریوں کے لیے ایک اور ہولناک رات“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو پوری رات پناہ گاہوں میں گزارنا پڑی۔

    دریں اثنا روس کے شمال مغربی لینن گراڈ ریجن کے گورنر الیگزینڈر دروزدینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے سات یوکرینی ڈرونز مار گرائے دوسری جانب روس کے سرحدی علاقے بیلگورود میں یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ اس کی اہلیہ زخمی ہوگئیں۔

  • روس کے یوکرین پٔرمیزائلوں اور ڈرونز سے حملہ،8 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

    روس کے یوکرین پٔرمیزائلوں اور ڈرونز سے حملہ،8 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

    روس نے یوکرین پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں میں رہائشی عمارتوں، بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا،یوکرینی حکام کے مطابق حملوں کا نشانہ کئی شہر بنے جہاں فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز اور میزائل تباہ کیے تاہم کچھ اپنے اہداف تک پہنچ گئے۔ امدادی کارکنوں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو کارروائیاں کیں۔

    روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ حملوں میں فوجی اور دفاعی صنعت سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ یوکرین کا مؤقف ہے کہ زیادہ تر حملوں کا رخ شہری علاقوں کی طرف تھا جس سے عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

    واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں نے شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

  • یوکرین کا روس پر ڈرونز اور میزائل سے بڑا حملہ،  آئل ریفائنری  میں آگ لگ گئی

    یوکرین کا روس پر ڈرونز اور میزائل سے بڑا حملہ، آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی

    یوکرین نے ڈرون حملوں کے ذریعے ماسکو کی ایک اہم آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، جبکہ روس نے بھی یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

    روسی وزارت دفاع کے مطابق گزشتہ رات یوکرین نے مختلف روسی علاقوں پر سینکڑوں ڈرونز کے ذریعے حملے کیے، وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے 555 یوکرینی ڈرونز کو تباہ کیا، جن میں سے تقریباً 200 ڈرون ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔

    ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن نے تصدیق کی کہ متعدد ڈرونز ماسکو کی ایک آئل ریفائنری تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، جس کے باعث وہاں آگ بھڑک اٹھی،ایک شاپنگ سینٹر کو بھی معمولی نقصان پہنچا ہے یہ ایک ہفتے کے دوران ماسکو کی اس اہم آئل ریفائنری پر دوسرا حملہ ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ریفائنری روسی دارالحکومت کی ایندھن ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرتی ہے اور اسے اسٹریٹجک اہمیت حاصل ہے۔

    ادھر ماسکو کے نواحی علاقوں میں بھی ڈرون حملوں کے باعث ایک رہائشی عمارت، صنعتی تنصیبات اور متعدد مکانات کو نقصان پہنچا حملوں کے بعد ماسکو کے مصروف ترین شیرمیتیوو ایئرپورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں اور مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

    دوسری جانب یوکرین نے الزام لگایا ہے کہ روس نے کیف پر ایک بار پھر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق رات بھر میں 239 ڈرونز اور 7 بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن میں سے بیشتر کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا شمال مشرقی یوکرینی شہر سومی میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں حالیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امن مذاکرات کی کوششوں کے باوجود میدان جنگ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

  • روس کے کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر  حملے،9 افراد ہلاک 60 زخمی

    روس کے کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر حملے،9 افراد ہلاک 60 زخمی

    روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر شدید فضائی، میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    یوکرینی حکام کے مطابق منگل کی صبح دارالحکومت کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر میزائلوں اور ڈرونز حملوں میں جنوب مشرقی شہر دنیپرو اور شمال مشرقی شہر خارکیف سمیت کئی علاقے نشانہ بنے حملوں سے رہائشی عمارتوں، گاڑیوں اور توانائی تنصیبات سمیت شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا جب کہ ہزاروں افراد جان بچانے کے لیے پناہ گاہوں اور زیرِ زمین میٹرو اسٹیشنوں میں منتقل ہو گئے۔

    دنیپرو کے گورنر اولیکساندر ہانژا نے بتایا کہ میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک جبکہ 25 زخمی ہوئے تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

    رائٹرز کے مطابق دارالحکومت کیف میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 51 زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں کیف کے میئر وٹالی کلچکو کے مطابق ایک 24 منزلہ رہائشی عمارت پر مبینہ میزائل حملے کے بعد عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا، جس کے ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

    یوکرین کے شمال مشرقی علاقے خارکیف کے میئر کے مطابق، وہاں بھی ڈرون اور میزائل حملوں میں ایک بچے سمیت 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک روز قبل ہی اپنے رات گئے ویڈیو خطاب میں انٹیلی جنس الرٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کسی بھی وقت ایک بڑے روسی حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا نٹیلی جنس اداروں کی جانب سے روسی حملوں کے حوالے سے موصول ہونے والی وارننگز برقرار ہیں اور ایک بڑے حملے کا امکان موجود ہے۔

    دوسری جانب روس نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ کیف میں یوکرین کے فوجی اہداف پر منظم حملے کرے گا روس نے غیر ملکی شہریوں کو بھی کیف چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا روس نے ان تازہ حملوں کو گزشتہ ماہ روس کے زیرِ قبضہ علاقے لوہانسک میں ہونے والے اس مبینہ یوکرینی ڈرون حملے کا جواب قرار دیا ہے جس میں 21 افراد مارے گئے تھے، تاہم یوکرین نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

    اُدھر روسی حکام کے مطابق جنوبی علاقے کراسن ودار میں واقع ایلسکی آئل ریفائنری بھی ڈرون حملے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئی روس کے زیرِ قبضہ کریمیا میں واقع بحری اڈے سیواستوپول پر بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں مقامی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام حملوں کو روکنے کے لیے متحرک رہا-