Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے دن یوکرین کے ساتھ جنگ بند کرنے کی پیشکش کی ہے۔

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے موقع پر یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے 9 مئی کو روس نازی جرمنی پر سوویت یونین کی فتح کا دن مناتا ہے-

    فرانسیسی خبر ایجنسی نے روسی صدر کے سفارتی مشیر کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیوٹن نے یومِ فتح کی تقریبات کے دوران لڑائی روکنے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ اس دن کو پرسکون ماحول میں منایا جا سکے،صدر ٹرمپ سے بات چیت کے دوران پیوٹن نے کہا کہ وہ اس بات پر تیار ہیں کہ روسی یوم فتح کی تقریبات کے دوران جنگ بندی رکھی جائے،امریکی صدر نے پیوٹن کی اس تجویز کی حمایت کی اور کہا کہ نازی جرمنی پر فتح کا دن ہماری مشترکہ فتح کا دن ہے۔

    تاہم اس ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے یوکرین کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو روس میں یوم فتح بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے جو دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی کامیابی کی یاد دلاتا ہے۔

  • ایٹمی توانائی کا استعمال انتہائی ذمہ داری اور دانشمندی کے ساتھ ہونا چاہیے ،پوپ لیو

    ایٹمی توانائی کا استعمال انتہائی ذمہ داری اور دانشمندی کے ساتھ ہونا چاہیے ،پوپ لیو

    پوپ لیو نے کہا ہے کہ جنگیں اور وسائل کی لوٹ مار انسانیت کے مستقبل کی چوری ہیں-

    پوپ لیو نے ویٹی کن میں اتوار کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگیں چھیڑنے اور زمین کے وسائل پر قبضہ کرنے والے دراصل انسانیت کے پُرامن مستقبل کو چھین رہے ہیں چرنوبل ایٹمی حادثے کی 40ویں برسی کے موقع پر اپنے ہفتہ وار خطاب میں پوپ لیو نے خبردار کیا کہ ایٹمی توانائی کا استعمال انتہائی ذمہ داری اور دانشمندی کے ساتھ ہونا چاہیے ، چرنوبل کا سانحہ آج بھی انسانیت کے اجتماعی شعور پر ایک گہرا اثر رکھتا ہے اور یہ جدید طاقتور ٹیکنالوجی کے خطرات کی یاد دہانی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا میں مختلف شکلوں میں چور موجود ہیں، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو جنگوں کو ہوا دیتے ہیں، وسائل کو لوٹتے ہیں یا برائی کو فروغ دیتے ہیں، اور اس طرح سب سے ایک پُرامن مستقبل چھین لیتے ہیں،پوپ نے امید ظاہر کی کہ عالمی سطح پر فیصلے کرتے وقت عقل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے گا تاکہ ایٹمی طاقت کو صرف امن اور انسانی بھلائی کے لیے استعمال کیا جا سکےچرنوبل کا سانحہ دنیا کا بدترین ایٹمی حادثہ تھا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔

  • چرنوبل ایٹمی پاور پلانٹ کو شدید نقصان،حکام نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

    چرنوبل ایٹمی پاور پلانٹ کو شدید نقصان،حکام نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

    چرنوبل کی تباہی کی 40 ویں برسی پر حکام نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے اور جنگ کے اثرات سے اس مقام کو محفوظ نہ بنایا گیا، تو دنیا کو ایک بار پھر 1986 جیسی ہولناک تابکاری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے

    دنیا کے بدترین ایٹمی حادثے کو 4 دہائیاں گزرنے کے باوجود چرنوبل نیوکلئیر پاور پلانٹ ایک بار پھر عالمی خطرے کا مرکز بن گیا ہے یوکرین پر روسی حملے اور حالیہ ڈرون حملوں نے اس حساس مقام کی حفاظت پر مامور ‘نیو سیف کنفائنمنٹ’ نامی دیوہیکل حفاظتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے تابکاری کے دوبارہ پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    فروری 2025 میں ایک روسی ڈرون نے اس ڈھانچے کی چھت کو نشانہ بنایا، جس سے 15 مربع میٹر کا سوراخ ہو گیا، یہ ڈھانچہ، جو ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا، سنہ 1986 کے دھماکے سے تباہ ہونے والے ری ایکٹر نمبر 4 کے گرد بنائے گئے عارضی کنکریٹ کے تابوت (سارکوفیگس) کو ڈھانپنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

    پلانٹ کے ڈائریکٹر جنرل سرہی تاراکانوف کے مطابق، اس حملے سے ڈھانچے کے اندر نمی کنٹرول کرنے والا نظام تباہ ہوگیا ہے، جو اسٹیل کے اس ڈھا نچے کو زنگ سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے اگر یہ ڈھانچہ کمزور ہو کر گرتا ہے، تو اس کے اندر موجود 180 ٹن سے زائد ایٹمی ایندھن اور تابکار گرد فضا میں شا مل ہوسکتی ہے، جو ایک بار پھر عالمی تباہی کا سبب بنے گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے4 سالوں میں اس کی مکمل مرمت ضروری ہے، بصورتِ دیگر اس ڈھانچے کی 100 سالہ زندگی کی ضمانت نہیں دی جاسکے گی اس مرمت کے لیے تقریباً 50 کروڑ یورو درکار ہیں، جو جنگ زدہ یوکرین کے لیے ایک بھاری بوجھ ہےمرمت کا کام انتہائی خطرناک ہے کیونکہ متاثرہ مقام پر تابکاری کی سطح اتنی بلند ہے کہ ایک مزدور سال بھر میں وہاں صرف چند گھنٹے ہی کام کرسکتا ہے اس پیچیدہ کام کے لیے 100 سے زیادہ ماہر تعمیراتی عملے کی ضرورت ہے جو مختصر دورانیے کے لیے باری باری کام کرسکیں،روسی افواج نے 2022 کے حملے کے آغاز میں ہی اس مقام پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں خندقیں کھودیں، جس سے تابکار مٹی فضا میں بکھرنے کا خطرہ پیدا ہوا۔

    اگرچہ بعد ازاں روسی فوج وہاں سے نکل گئی، لیکن اب بھی روسی میزائل اور ڈرون اس علاقے کے قریب سے گزرتے ہیں، جو کسی بھی وقت حادثاتی یا دانستہ طور پر پلانٹ کو نشانہ بنا سکتے ہیں،اکتوبر 2024 سے اب تک بجلی کے گرڈ پر حملوں کی وجہ سے پلانٹ 4 بار مکمل بلیک آؤٹ کا شکار ہوچکا ہے، جس کے دوران ایٹمی فضلے کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہنگامی ڈیزل جنریٹرز کا سہارا لینا پڑا۔

    چرنوبل کی تباہی کی 40 ویں برسی پر حکام نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے اور جنگ کے اثرات سے اس مقام کو محفوظ نہ بنایا گیا، تو دنیا کو ایک بار پھر 1986 جیسی ہولناک تابکاری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ان کا کہنا ہے کہ خطرہ ٹلا نہیں ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔

  • روس نے یوکرین پر قریباً ایک ہزار ڈرونز  داغ دیئے

    روس نے یوکرین پر قریباً ایک ہزار ڈرونز داغ دیئے

    روس نے یوکرین پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قریباً ایک ہزار ڈرونز سے بڑا حملہ کیا ہے، جسے حالیہ مہینوں کی سب سے بڑی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 40 افراد زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد ہلاک ہوئے، حملوں میں ایوانو فرانکیوسک اور لیفیو سمیت مختلف شہروں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں رہائشی عمارتیں، شہری مراکز اور ایک زچگی اسپتال بھی متاثر ہوئے ایک تاریخی عباد ت گاہ کو بھی جزوی طور پر نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    یوکرینی فضائیہ کے مطابق بڑی تعداد میں بغیر پائلٹ طیاروں کو مار گرایا گیا یا ناکارہ بنایا گیا، تاہم کئی مقامات پر حملوں کے باعث جانی اور مالی نقصان ہوا، دو سری جانب روسی علاقے کورسک میں بھی جوابی کارروائیوں میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، یوکرینی قیادت کا کہناہےکہ اس بڑے حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس جنگ کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں۔

  • روسی جنرل پر حملے کا ملزم دبئی سے گرفتار

    روسی جنرل پر حملے کا ملزم دبئی سے گرفتار

    روس نے ماسکو میں روسی انٹیلی جینس ایجنسی کے نائب سربراہ پر حملے کے مشتبہ ملزم کو دبئی سے گرفتار کر کے ماسکو منتقل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو فون کیا اور تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے ملٹری انٹیلی جنس (جی آر یو) کے نائب سربراہ لیفٹینیٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف پر حملے کے مشتبہ ملزم کو متحدہ عرب امارات سے گرفتار کر کے روس منتقل کردیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یوکرینی نژاد روسی شہری جمعے کی صبح ماسکو میں واقع ایک گھر میں جنرل الیکسییف پر فائرنگ کے بعد دبئی فرار ہوگیا تھا۔ جہاں اسے متحدہ عرب امارات کے حکام کے تعاون سے گرفتار کر کے روس کے حوالے کیا گیاتحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ 60 سالہ جو یوکرینی شہری لیوبومیر کوربا دسمبر کے آخر میں روس پہنچا اور یوکرین کی ایما پر ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دیں۔

    روس کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کو فون کیا اور روسی جنرل پر حملے کے مشتبہ ملزم کی گرفتاری میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

    روسی تفتیش کاروں کے مطابق جی آر یو کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف کو جمعے کے روز شمالی ماسکو میں واقع ایک رہائشی عمارت میں سائلنسر لگی پستول سے تین گولیاں ماری گئیں 64 سالہ جنرل کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی سرجری کی گئی۔

    روسی حکام کے مطابق روسی جنرل پر حملے میں دو مزید روسی شہری بھی ملوث تھے۔ حملہ آور کے ایک مشتبہ ساتھی وکٹر واسن کو ماسکو میں گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دوسری خاتون ساتھی ملزمہ زینائڈا سیری بریتسکایا یوکرین فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ یوکرین کی ایما پر کیا گیا تھا تاکہ امن مذاکرات کو سبوتاژ کیا جا سکے، تاہم یوکرین نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے یوکرین کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یوکرین کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور ممکن ہے کہ یہ واقعہ روس کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہو۔

  • روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر حملہ، 400 ڈرونز اور 40 میزائل داغ دیئے

    روس کا یوکرین کے توانائی نظام پر حملہ، 400 ڈرونز اور 40 میزائل داغ دیئے

    روس نے ہفتے کی شب یوکرین کے توانائی کے اہم ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں جس میں بجلی پیدا اور ترسیل کرنے والے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ روس نے رات کے وقت یوکرین کے توانائی کے نظام پر حملہ کیا جس میں 400 سے زائد ڈرونز اور مختلف اقسام کے تقریباً 40 میزائل استعمال کیے گئے روس سفارت کاری کا راستہ اختیار کر سکتا ہے لیکن وہ حملوں کو ترجیح دے رہا ہے، روس کو سرد موسم کو یوکرین کے خلاف دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،یوکرینی صدر نے روسی حملوں سے بچاؤ کے لیے ایک بار اتحادی ممالک سے دفاعی ٹیکنالوجی کی ضرورت پر زود دیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق یوکرین کے وزیرِ توانائی نے حملوں میں مغربی علاقوں میں واقع دو تھرمل پاور اسٹیشنز کے ساتھ ساتھ بجلی کی ترسیل کے مرکزی نظام، سب اسٹیشنز اور اہم لائنوں کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہےسیکیورٹی صورتحال بہتر ہوتے ہی توانائی کے شعبے کے کارکن مرمت کا کام شروع کر دیں گے۔

    واضح رہے کہ روس کی جانب سے یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب یوکرین میں درجہ حرارت تیزی سے گر رہا ہے اور آئندہ دنوں میں منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے حکام کا کہنا ہے کہ شدید سردی اور مسلسل حملوں کے باعث توانائی کا نظام شدید متاثر ہوچکا ہے ملک بھر میں ہنگامی لوڈشیڈنگ نافذ کر دی گئی ہے وزیر توانائی کے مطابق حکومت نے بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے پولینڈ سے ہنگامی بنیادوں پر بجلی درآمد کرنے کی درخواست کی ہے۔

    واضح رہے کہ یہ حملے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے چند دن بعد سامنے آئے ہیں تاہم اب تک سفارتی کوششوں سے اس جنگ کے خاتمے سے متعلق کوئی قابلِ عمل پیش رفت نہیں ہو سکی-

  • روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا  انکشاف

    روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا انکشاف

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ روس کے ساتھ جاری جنگ میں اب تک تقریباً 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں فوجی تاحال لاپتہ ہیں۔

    فرانسیسی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں پیشہ ور فوجی اور جبری بھرتی کیے گئے اہلکار دونوں شامل ہیں انہوں نے لاپتہ فوجیوں کی درست تعداد بتانے سے گریز کیا۔

    صدر زیلنسکی اس سے قبل فروری 2025 میں ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں یوکرینی فوجی ہلاکتوں کی تعداد 46 ہزار سے زائد بتا چکے تھے دوسری جانب واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک یوکرین کے تقریباً چار لاکھ فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

    بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے،سلمان علی آغا

    اقوام متحدہ کے مطابق صرف 2025 کے دوران روسی حملوں میں 2,500 سے زائد یوکرینی شہری ہلاک اور 12 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

    روس کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے یوکرینی فوجی قیادت کے مطابق 2025 میں ہی روس کے تقریباً چار لاکھ 20 ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ برطانوی دفاعی انٹیلی جنس کے اندازے کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک روسی فوج کے مجموعی نقصانات 11 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک یوکرین وہ فیصلے نہیں کرتا جو جنگ کے خاتمے کا باعث بن سکیں، انہوں نے یہ بیان ایسے وقت دیا جب ابو ظہبی میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا ہے۔

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت دونوں ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی سمجھوتے پر پہنچیں، تاہم زمین کے کنٹرول، ڈونباس خطے اور زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ جیسے معاملات پر فریقین کے مؤقف میں اب بھی واضح فرق موجود ہےاس وقت روس یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے، جن میں کریمیا اور مشرقی ڈونباس کے بڑے حصے شامل ہیں۔

  • روس کا یوکرینی شہر اوڈیسا پر ڈرون حملہ: کم از کم تین افراد ہلاک اور 23 زخمی

    روس کا یوکرینی شہر اوڈیسا پر ڈرون حملہ: کم از کم تین افراد ہلاک اور 23 زخمی

    کیف: روس کی جانب سے یوکرین کے جنوبی شہر اوڈیسا پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 23 زخمی ہو گئے، جن میں دو بچے اور ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہیں۔

    یوکرینی حکام کے مطابق حملے میں 50 سے زائد ڈرون استعمال کیے گئے، جن میں بعض جدید اور زیادہ طاقتور ماڈلز تھےروسی ڈرونز نے بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا، جس کے باعث شدید سردی کے دوران شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہےحملے میں پانچ رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، جب کہ ملبے تلے دب کر دو مرد اور ایک خاتون جا بحق ہو گئے ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام افراد کا سراغ نہ مل جائے۔

    یوکرین کے شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک مسافر ٹرین کو بھی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں چار افراد ہلاک اور کئی لاپتا ہو گئے،اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق حالیہ حملوں میں اوڈیسا، کیف اور لویو کے تاریخی مقامات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    پانی بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے،نئی تحقیق

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ایسے حملے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور انہوں نے امریکہ اور عالمی برادری سے جنگ کے خاتمے کے لیے تیز رفتار سفارتکاری پر زور دیا ہے زیلنسکی نے روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی بھی اپیل کی تاکہ ماسکو کو مذاکرات پر آمادہ کیا جا سکے۔

    منتخب وزیراعظم کو صرف اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ وہ ایک بیرونی ملک کو پسند نہیں تھا،سہیل آفریدی

  • روسی حملہ:کیف کا نصف حصہ بجلی اور پانی  سے محروم

    روسی حملہ:کیف کا نصف حصہ بجلی اور پانی سے محروم

    روس کے رات گئے شدید حملے کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف کا تقریباً نصف حصہ بجلی، پانی اور حرارت سے محروم ہو گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید سردی میں ہزاروں رہائشی عمارتیں اور پارلیمنٹ سمیت اہم سرکاری عمارتیں متاثر ہوئیں،یوکرینی حکام کے مطابق روس نے سینکڑوں ڈرونز اور میزائلوں سے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کیف کے قریب ایک 50 سالہ شخص ہلاک ہو گیا۔ شہر کے میئر ویتالی کلیچکو نے بتایا کہ رواں ماہ روس کے شدید ترین حملوں کے باعث پانچ لاکھ سے زائد افراد دارالحکومت چھوڑ چکے ہیں۔

    حملے کے دوران شہر بھر میں سائرن بجتے رہے اور یوکرینی فضائی دفاعی نظام نے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی، شہریوں کی مدد کے لیے کیف انتظامیہ نے مختلف علاقوں میں خیمے نصب کیے ہیں جہاں لوگ خود کو گرم رکھ سکتے ہیں، موبائل فون چارج کر سکتے ہیں، گرم مشروبات اور نفسیاتی مدد حاصل کر سکتے ہیں-

    یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ روس خواتین، بچوں اور بزرگوں کے خلاف جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہےسات علاقوں میں توانائی کا انفراسٹرکچر نشانہ بنایا گیا، اور اتحادی ممالک سے فضائی دفاع مضبوط کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

    صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس موقع پر تشویش ظاہر کی کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق بیانات عالمی توجہ کو یوکرین جنگ سے ہٹا سکتے ہی یوکرین ایک مکمل جنگ کا سامنا کر رہا ہے اور عالمی توجہ میں کمی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے انہوں نے امریکا اور یورپ کے درمیان سفارتی ہم آہنگی پر زور دیا، وہ حالیہ حملے کے بعد حالات کے باعث ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت نہ بھی کریں، تاہم اگر امریکا کے ساتھ جنگ کے بعد کے معاشی اور سکیورٹی معاہدوں پر پیش رفت ہوئی تو شرکت کا امکان موجود ہے۔

  • برطانیہ اور فرانس کا یوکرین میں فوج تعینات کرنے کا اعلان

    برطانیہ اور فرانس کا یوکرین میں فوج تعینات کرنے کا اعلان

    پیرس: برطانیہ اور فرانس نے یوکرین میں فوج تعینات کرنے کا اعلان کر دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے اعلان کیا ہے کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ طے پا جاتا ہے ، تو دونوں ممالک یوکرین میں فوجی تعینات کریں گے۔

    برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے اتحادی ممالک کے اجلاس کے بعد کہا کہ برطانیہ اور فرانس نے ایک اعلان نیت پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت یوکرین کے مختلف مقامات پر فوجی مراکز (ملٹری ہبز) قائم کیے جائیں گے ان مراکز کا مقصد مستقبل میں کسی بھی ممکنہ روسی جارحیت کو روکنا اور یوکرین کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

    ایرانی صدر کا مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم ٰ

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی ممکن ہے اور یورپی ممالک یوکرین کو مضبوط اور قابل اعتماد سیکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ جنگ کے بعد خطے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔

    اتحادی ممالک نے بھی اتفاق کیا کہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا امن معاہدے کی نگرانی میں امریکا مرکزی کردار ادا کرے گا تاہم یوکرین کے وہ علاقے جو اس وقت روس کے کنٹرول میں ہیں ان کے مستقبل پر حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔

    امریکی فوج نے وینزویلا سے منسلک روسی آئل ٹینکر قبضے میں لےلیا ۔

    واضح رہے کہ روس اس وقت یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے اور روس پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ یوکرین میں کسی بھی غیر ملکی فوج کی موجودگی کو “جائز ہدف” سمجھا جائے گا تاہم پیرس میں حالیہ اعلانات پر روس کی حکومت نے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا۔