Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • امریکی صدر نے ٹیلی فون کرکے روسی صدرکو دھمکی دے دی

    امریکی صدر نے ٹیلی فون کرکے روسی صدرکو دھمکی دے دی

    واشنگٹن :امریکی صدر نے ٹیلی فون کرکے روسی صدرکو دھمکی دے دی ،اطلاعات ہیں کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے ٹیلی فون کرکے روس کی دھمکی دی ہے کہ اگر روس نے یوکرین میں دراندازی کی تو اسے فیصلہ کُن ردعمل کا سامناہوگا،

    امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یوکرین کشیدگی کے معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے پیوٹن سے کہا کہ روس نے یوکرین میں دراندازی کی تو اسے فیصلہ کُن ردعمل کا سامناہوگا، روسی جارحیت سے بڑے پیمانے پر مشکلات ہوں گی، اور اس ساری صورت حال کا ذمہ دار بھی روس ہی ہوگا اس کے ساتھ ساتھ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکا سفارت کاری اور دیگر منظرناموں کیلئے تیار ہے۔لیکن یہ تب ممکن ہے کہ روس اپنی افواج کو یوکرین کی سرحد سے واپس بلائے

    امریکی و روسی صدور کی گفتگوکے حوالے سے ایک امریکی عہدے دار نے بتایا کہ بائیڈن اور پیوٹن کی فون کال پیشہ ورانہ کال تھی، بائیڈن اور پیوٹن کی کال سے کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی، روس سفارت کاری کے راستے پرجائےگایا نہیں، ابھی واضح نہیں، روس فوجی ایکشن کی طرف بھی جا سکتا ہے۔امریکی عہدیدار نے کہا کہ روس دنیاسےالگ تھلگ اور چین پر زیادہ انحصار کرتا جا رہا ہے۔

    خیال رہے کہ حال ہی میں امریکا، برطانیہ و دیگر ممالک نے الزام عائد کیا ہے کہ روس یوکرین میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے اور جلد اس حوالے سے وہ یوکرین پر چڑھائی کا بھی ارادہ رکھتا ہے، اس مقصد کیلئے اس نے سرحد پر فوج بڑھادی ہے۔

    برطانیہ کا دعویٰ ہے کہ روس سابق یوکرینی رکن پارلیمنٹ یف ہین مرائیف کو حکومتی سربراہ بنانا چاہتا ہے تاہم اپنے حالیہ انٹرویو میں مرائیف نے اس بات کی تردید کردی ہے۔برطانیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے اپنی مرضی کی حکومت کیلئے یوکرین پر چڑھائی کی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    البتہ روس نے عسکری کارروائی کو پروپیگنڈا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ روس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔

    دوسری طرف ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات بھی درست ہے کہ اگر روس کا ارادہ محض یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے سے روکنا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ یوکرین خود نیٹو میں شامل نہ ہو اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب وہاں روس کی حمایت یافتہ حکومت ہو۔

  • روس،یوکرین جنگ کاخدشہ:امریکہ برطانیہ سمیت دیگرممالک کی اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت

    روس،یوکرین جنگ کاخدشہ:امریکہ برطانیہ سمیت دیگرممالک کی اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت

    نا صرف امریکہ نے روسی افواج کے یوکرین پر حملے کے پیش نظر اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت کی ہے بلکہ برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی اپیل کی ہے-

    باغی ٹی وی : "بی بی سی ” کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی فوجی کارروائی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے یوکرین میں باقی تمام امریکی شہریوں سے فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ

    وائٹ ہاوس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی افواج کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کر سکتی ہیں۔ امریکی شہری اگلے 48 گھنٹے میں ملک چھوڑدیں اگر ماسکو یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو وہ امریکیوں کو بچانے کے لیے فوج نہیں بھیجیں گے-

    وائٹ ہاوس کے مطابق روسی حملے کا آغاز فضائی بمباری سے ہوگا جس کے باعث یوکرین چھوڑنے والے افراد کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں اور شہریوں کی زندگی بھی خطرے میں ہوگی۔

    بائیڈن نے این بی سی نیوز کو بتایا، "امریکی شہریوں کو اب چلے جانا چاہیے ہم دنیا کی سب سے بڑی فوجوں میں سے ایک کے ساتھ نمٹ رہے ہیں۔ یہ بہت مختلف صورتحال ہے اور چیزیں تیزی سے ہاتھ سے نکل سکتی ہیں۔”

    روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کوئی ایسا منظر نامہ ہے جو انہیں فرار ہونے والے امریکیوں کو بچانے کے لیے فوج بھیجنے کا اشارہ دے سکتا ہے، بائیڈن نے جواب دیا: "ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک عالمی جنگ ہے جب امریکی اور روس ایک دوسرے پر گولی چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم اپنے سے بالکل مختلف دنیا میں ہیں-

    امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے آسٹریلیا کے دورے پر جمعہ کو کہا کہ حملہ کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے، اور واضح رہے کہ اس میں اولمپکس کے دوران بھی شامل ہے چین میں سرمائی اولمپکس 20 فروری کو ختم ہونے والے ہیں۔

    امریکی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جیک سولیون نے کہا ہے کہ روس یوکرین پر بیجنگ میں جاری سرمائی اولمپکس کے دوران حملہ کر سکتا ۔ روس کی جانب سے یوکرین کی سرحد پر مزید فوجی بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    پیوٹن جانتے ہیں یوکرین پر حملہ بہت بڑی غلطی ہوگی،جوبائیڈن

    انہوں نے کہا ہے کہ صدر پیوٹن کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کا حکم دے سکتے ہیں۔یہ نہیں کہہ سکتے کے پیوٹن نے یوکرین پر حملے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے اس کے علاوہ برطانیہ، کینیڈا، نیدرلینڈز، لیٹویا، جاپان اور جنوبی کوریا نے بھی یوکرین میں رہنے والے اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے اپنے انتباہ میں لٹویا نے "روس کی طرف سے سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ” کا حوالہ دیا۔

    روس سرحد کے قریب 100,000 سے زیادہ فوجیوں کو جمع کرنے کے باوجود یوکرین پر حملہ کرنے کے کسی بھی منصوبے کی بارہا تردید کرتا رہا ہے لیکن اس نے ابھی پڑوسی ملک بیلاروس کے ساتھ بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں شروع کی ہیں اور یوکرین نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ سمندر تک اس کی رسائی کو روک رہا ہے۔

    دوسری جانب روس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک جھوٹی معلومات فراہم کر رہے ہیں

    اسرائیلی پولیس نےنیتن یاہو کےبیٹےاورمعاونین کے موبائل پر’اسپائی ویئر‘کااستعمال…

  • پیوٹن جانتے ہیں یوکرین پر حملہ بہت بڑی غلطی ہوگی،جوبائیڈن

    پیوٹن جانتے ہیں یوکرین پر حملہ بہت بڑی غلطی ہوگی،جوبائیڈن

    امریکی صدر جوبائیڈن سے جرمن چانسلر اولاف شُولس کی وائٹ ہاوس میں ملاقات ہوئی-

    باغی ٹی وی : وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یوکرین پر حملے کی صورت میں روس کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی روسی جارحیت روکنے کیلئے جرمنی اور امریکا ایک پیج پر ہیں، جرمنی امریکا کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہے-

    اسرائیل اور امریکا کا دفاعی میزائل ’’ آئرن ڈوم سسٹم‘‘ کی تیاری پر اتفاق

    انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ پیوٹن جانتے ہیں یوکرین پر حملہ بہت بڑی غلطی ہوگی جرمنی مکمل طور پر قابل اعتماد ہے جرمنی کے ساتھ دوبارہ اعتماد جیتنے کی ضرورت نہیں نیٹو روس کے حملے کا جواب دینے کیلئے تیار ہےتمام فریقوں کیلئے سفارت کاری بہترین راستہ ہےاگر روس حملہ کرتا ہے تو اقتصادی پابندیاں عائد کریں گے-

    جرمن چانسلر اولاف شُولس نے کہا کہ یوکرین کے اقتصادی استحکام کیلئے فنڈز فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں وہ تمام اقدام کریں گے جو ہمیں کرنے ہوں گے

    جبکہ امریکی وزیر خاجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ کسی بھی روسی حملے کی صورت میں یوکرین کی حمایت کریں گےحملے کا جواب ایسے دیں گے جس سے روسی معیشت متاثر ہو،برسلز گیس فراہمی کے تحفظ کیلئے پر عزم ہیں-

    دوسری جانب روسی صدر پیوٹن کی فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات ہوئی، روسی صدر نے کہا کہ فرانسیسی صدر کے خیالات مستقبل کے اقدامات کے لحاظ سے حقیقت پسندانہ ہیں، میکرون کی کچھ تجاویز پر آگے بڑھنا ممکن ہے-

    ہندوستان میں اقلیتوں پر ظلم علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے ،وزیراعظم

    فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ موجودہ حالات سے آگاہ ہیں،امن کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، نیٹو کی اوپن ڈور پالیسی ضروری ہے،مسائل بہت زیادہ ہیں،مگر بات چیت سے حل ہو سکتے ہیں انہوں نے بتایا کہ آنے والے دن انتہائی اہم ہیں۔

    روسی صدرپیوٹن نے کہا کہ فرانس کے صدر کے ساتھ ملاقات اچھی رہی فرانیسی صدر کےخیالات مستقبل کے اقدامات کے لحاظ سے حقیقت پسندانہ ہیں میکرون کی کچھ تجاویز پر آگے بڑھنا ممکن ہے-

    ادھر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے خبردار کردیا،یورپی یونین سفارتکار کا کہنا ہے،یورپ سرد جنگ کے بعد خطرناک دور سے گزر رہا ہے،یورپ کو سنگین سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے-

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے سفارتکاری پر زور دیا کہا کہ یوکرین کے معاملے پر روس کے ساتھ سفارتی حل ممکن ہے-

    اسرائیلی پولیس نےنیتن یاہو کےبیٹےاورمعاونین کے موبائل پر’اسپائی ویئر‘کااستعمال کیا،اسرائیلی اخبار کا…

    یاد رہے دو روز قبل امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس یوکرین پر آئندہ چند ہفتوں میں حملہ کرسکتا ہے اور جس کے لیے اس نے 70 فیصد تک تیاری مکمل کر رکھی ہے یوکرین تنازع پر روس حملہ کرنے کے لیے تیار ہے اور وہ جنگی تیاریوں کے لیے فروری کے وسط تک مزید بھاری ہتھیار اور سامان یوکرین کی سرحد تک منتقل کرسکتا ہے۔

    امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ 15 فروری سے مارچ کے اختتام تک کا موسم روس کو بھاری جنگی سازو سامان سرحدوں تک منتقلی کے لیے پیک ٹائم ہو گا تاہم امریکی حکام نے اپنے الزامات کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے اور کہا کہ یہ معلومات خفیہ اطلاعات کے سبب حاصل ہوئیاملہ ح ہیں، معساس ہونے کے سبب وہ میڈیا کو اس ضمن میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کر سکتے۔

    واضح رہے کہ یوکرائن کی سرحد کے نزدیک روس نے ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کردیئے ہیں جس کے جواب میں مغربی ممالک نے نیٹو کے اہلکار یوکرائن بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ روس اور مغربی ممالک اس تناؤ کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرا رہے ہیں ادھر یوکرائن نے مغربی ممالک کے خدشات کو درست قرار دیتے ہوئے مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے تاہم روس کے جلد حملہ کرنے کے امریکی دعوے کو مسترد کردیا اس تناؤ کو کم کرنے کے لیے فرانسیسی صدر نے یوکرائن، روس اور مغربی ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    دریاؤں میں پلاسٹک پھینکنا جرم ہے،پوپ فرانسس

  • بھارت مکاری کا شہنشاہ:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی: یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    بھارت مکاری کا شہنشاہ:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی: یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    لاہور:بھارت مکاری کا شہنشاہ:مفاد پرمبنی پالیسیاں:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی:یوکرین پرامریکہ کا مخالف، بھارت نے اپنی پالیسی کو مفاد پرستی کا محور بنا لیا ہے اور ملکوں کو کرنا بھی ایسے ہی چاہیے لیکن بھارت نے جو خارجہ پالیسی اب اپنائی ہےوہ بھارت مخالف ملکوں کے لیے ایک مثال ہے ،

    جیسے جیسے یوکرین کا بحران بڑھ رہا ہے، کچھ عرصہ پہلے تک، یہ زیادہ تر عمل میں غائب تھا۔ لیکن منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں اس بارے میں ووٹنگ ہوئی کہ آیا اس بحران پر بات کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیا جائے، نئی دہلی کا جھکاؤ ماسکو کی طرف دیکھا گیا۔

    جب کہ روس اور چین نے متوقع طور پر کوئی ووٹ نہیں ڈالا، ہندوستان (کینیا اور گیبون کے ساتھ) نے پرہیز کرتے ہوئے اجلاس کے لیے امریکی قیادت کے دباؤ کی حمایت نہیں کی۔ چونکہ اجلاس کی منظوری کے لیے 15 رکنی کونسل میں نو مثبت ووٹوں کی ضرورت تھی، لہٰذا ہندوستان کی عدم شرکت کا واضح مطلب روس کے ساتھ کھڑا ہونا تھا ، بھارت نے امریکی خواہش پر پانی پھیر دیا ۔

    یہ ایک فیصلہ ہے جس نے امریکہ جہاں اوقات بتادی ہے وہاں امریکہ کو اپنی خارجہ پالیسی بدلنے کے لیے کچھ اشارے بھی دیئے ہیں

    ویسے بھی ابھی ہندوستان نے یو این ایس سی میں ایک غیر مستقل رکن کے طور پر ابھی دو سال کا سفر شروع کیا ہے ، جہاں اس سے بڑے پیمانے پر توقع کی جارہی تھی کہ وہ امریکی قیادت والے اتحاد کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور چین کا مقابلہ کرے گا۔ لیکن معاملات بالکل مختلف نکلے ہیں۔ تازہ ترین یو این ایس سی ووٹنگ ایک دوسرے کی ایڑیوں پر، موسمیاتی تحفظ پر، جس میں ہندوستان نے کھل کر روس کے ساتھ اور امریکہ کے خلاف ووٹ دیا۔ اس بحث کے دوران، نئی دہلی، ماسکو، اور بیجنگ نے حکمت عملی پر قریبی تعاون کیا، جس میں ایک متبادل قرارداد پیش کرنا بھی شامل ہے جس نے امریکی زیرقیادت ایک کے بنیادی احاطے کو چیلنج کیا۔

    واشنگٹن میں اسٹیبلشمنٹ پر مبنی تجزیہ کاروں نے امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ واشنگٹن کا سخت حریف ماسکو نئی دہلی کا پرانا ساتھی اور دوست بھی ہے، جس کا دفاع اور توانائی کی تجارت اور سرمایہ کاری میں گہرا باہمی انحصار اور مشترکہ مفادات ہیں۔تازہ ہندوستانی فیصلے نے پرانے رشتوں کو ایک بار پھر تازہ کردیا ہے

    روس اور ہندوستان کے درمیان قربت میں اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ دورہ نئی دہلی کے دوران ان کا کھلے عام استقبال کیا گیا اور امریکی دباؤ کے باوجود اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ روسی رہنما کے دورے کو ترجیح دیتے ہوئے، بھارت نے اپنے متعلقہ وزرائے خارجہ اور دفاع کے درمیان امریکہ اور بھارت کے اہم مذاکرات کو بھی روک دیا۔

    روس کی طرف سے گرم جوشی جوشی کا مثبت جواب دیتے ہوئے ہندوستان بھی آگے بڑھا اور 2017 کے CAATSA قانون کے تحت امریکی حکام کی طرف سے پابندیوں کی پردہ پوشی کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، جدید ترین S-400 فضائی دفاعی نظام کی روس سے ترسیل لی۔

    یہ بھی امریکہ کے لیے بڑی حیرانی کی بات ہےکہ بھارت یعنی ہدوستان کے لیے امریکہ ایک نرم گوشہ رکھتا ہے لیکن وہی بھارت دوسری طرف امریکی مخالف اتحاد کے ساتھ محبت کے رشتے بھی قائم کرتا ہے، جوبائیڈن انتظآمیہ بھی بہت بڑی مشکل میں جہاں بھارتی نژاد نائب صدر کملا ہارس کو بھی پریشانی کا سامنا ہے کہ بھارت امریکہ کی پیشکش سے کیوں دور ہوتا ہے

    بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صرف یوکرین کا بحران ہی امریکہ اور بھارت کے اتحاد کی نئی حدود متعین کرنا کا اشارہ ہے۔ جب واشنگٹن، کینبرا، اور لندن نے واضح طور پر فوجی معاہدے AUKUS کے قیام کا اعلان کیا، ہندوستان نے اس اقدام سے خود کو تیزی سے دور کر لیا۔ بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی بدستور بڑھ رہی ہے، جیسا کہ حال ہی میں اولمپکس پر ان کے جھگڑے سے ظاہر ہوتا ہے۔ دو طرفہ ترتیبات میں چین پر سخت تنقید کرتے ہوئے، نئی دہلی نے تاہم ساتھ ہی ساتھ کواڈ کے چین مخالف دباؤ کو بھی محدود کر دیا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ معاہدہ کسی چیز کے لیے ہے نہ کہ کسی کے خلاف ہے ، اس کا مطلب واضح ہے کہ بھارت کی نظرین چین پر نہیں بلکہ پاکستان کو خطرہ سمجھ رہا ہے

  • یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    بیجنگ :یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا،اطلاعات کے مطابق چین اور روس نے ایک دوسرے سے تعاون بڑھانے، خارجہ پالیسی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے ساتھ نیٹو کی مزید توسیع کی مخالفت کر دی۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چین اور روس کے صدور کی بیجنگ میں ملاقات ہوئی جس کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق چین اور روس خارجہ پالیسی میں ایک دوسرےکی حمایت کریں گے کیونکہ کوئی بھی ملک دوسروں کی قیمت پر اپنی سلامتی کو بہتر نہیں کر سکتا، دونوں ممالک نے بیرونی مداخلت ناکام بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

    مشترکا اعلامیے میں چین اور روس کی جانب سے نیٹو کی مزید توسیع کی مخالفت کی گئی ہے اور نیٹو سے سردجنگ کی سوچ سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    روس اور چین نے امریکا کے بائیولوجیکل وار فیئر پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے معاملے پر رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ روس اور چین خلا میں ملٹرائزیشن روکنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

    مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس تصدیق کرتا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے جبکہ چین نے روس کے مغربی ممالک سے سکیورٹی گارنٹی مطالبے کی حمایت کی ہے۔

    دوسری طرف امریکہ کو اس وقت سخت ندامت کا سامنا کرنا پڑا ہے جب چین نے امریکہ کی طرف سے یوکرین کے معاملے پر روس کوسمجھانے کی پیش کش کی مگر چین نے سمجھانے کی بجائے روس کی حمایت کا اعلان کردیا ، جس کی وجہ سے اب معاملات مزید پچیدہ نظرآتے ہیں‌

    بعض دفاعی ماہرین کا کہنا ہےکہ ان حالات میں امریکہ یوکرین کے معاملے پر پسپائی اختیار نہیں کرے گا اور ہر صورت یوکرین کو نیٹو کا حصہ بنا

  • روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی:جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی پہنچا دیئےگئے

    روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی:جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی پہنچا دیئےگئے

    واشنگٹن:روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی پہنچا دیئے گئے،اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع(پینٹاگان) نے انکشاف کیا ہے کہ صدر جو بائیڈن اس ہفتے نارتھ کیرولینا کی ریاست میں واقع فورٹ بریگ سے تقریباً دو ہزار فوجی پولینڈ اور جرمنی بھجوا رہے ہیں جب کہ جرمنی میں موجود اندازاً ایک ہزار فوجیوں کو رومانیہ روانہ کیا جائے گا. امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق پینٹاگان کے پریس سیکرٹری جان کربی نے بتایا ہے کہ امریکہ کی طرف سے مشرقی یورپ میں تعنیات کے لیے فورسرز کے بھجوائے جانے کامقصد امریکہ اور اتحادیوں کے دفاعی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے.

    پینٹاگان کے پریس سیکرٹری جان کربی نے کہا کہ یہ فوجی یوکرین میں داخل نہیں ہوں گے اس سے قبل صدر جو بائیڈن بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ وہ روس کے کسی حملے کو روکنے میں مدد کے لیے امریکی فوج کو یوکرین میں تعینات نہیں کریں گے تاہم امریکہ یوکرین کو اپنے دفاع کے لیے اسلحے کی رسد فراہم کر رہا ہے فوج بھیجنے کا یہ اقدام ایسے میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کی سرحدوں پر روس کی فوج کی تعیناتی کے معاملے پر بات چیت تعطل کا شکار ہے.

    اس معاملے پر یورپ میں یہ خوف بڑھتا جا رہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن یوکرین پر جارحیت کے لیے تلے ہوئے ہیں مشرقی یورپ میں واقع نیٹو کے ارکان کو خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت ان کی بھی باری آ سکتی ہے، حالانکہ روس نے کہا ہے کہ وہ تنازع کے آغاز کا ارادہ نہیں رکھتا اور سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر تیار ہے. امریکی انتظامیہ کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پردفاعی اقدامات پر بات کی جن کا ابھی باقاعدہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا حالیہ دنوں کے دوران بائیڈن یہ کہہ چکے ہیں کہ دفاعی اتحاد کے رکن کی حیثیت سے وہ چاہیں گے کہ مشرقی یورپ میں نیٹو کے اتحادیوں کو امریکی عزم کی یقین دہانی کا اعادہ کیا جائے کہ وہ اضافی امریکی فوج روانہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں.

    پینٹاگان نے تقریباً 8500امریکی فوج کو چوکنا کردیا ہے جنہیں ممکنہ طور پر یورپ میں تعینات کیا جاسکتا ہے اور اہل کاروں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ مزید فوجی دستوں کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے پہلے ہی یورپ میں امریکہ کے 75000سے 80000 فوجی مستقل طور پر تعینات ہیں. ایک اطلاع کے مطابق متوقع طور پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن بدھ کے روز روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ٹیلی فون پر رابطہ کر رہے ہیں جو مسئلے کو سفارتی طور پر حل کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے

  • روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    واشنگٹن:روس سے تنازع؛ امریکی صدر کا مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنے لگا ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے مسئلے پر روس سے پیدا ہونے والے تنازع پر امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیدیا۔

    وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق یوکرائن پر روس کے ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکی صدر جوبائیڈن نے 3 ہزار سے زائد فوجیوں کی مشرقی یورپ میں تعیناتی کا حکم دیدیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی پولینڈ اور جرمنی میں تعینات کیے جائیں گے جب کہ ایک ہزار کے قریب فوجیوں کو جرمنی سے رومانیہ منتقل کیا جائے گی۔
    مشرقی یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا حتمی فیصلہ امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر دفاع اور امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم میٹنگ کے بعد کیا۔

    اس حوالے سے پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے وال اسٹریٹ جنرل کو بتایا کہ تعینات کیے جانے والے فوجیوں کی اہم اور خطرناک مشن کو پورا کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے جو جدید اسلحے اور ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں۔

    خیال رہے کہ روس کے مبینہ حملے اور جارحیت کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اس حوالے سے نیٹو افواج کی پہلے ہی سرحدوں پر تعینات کیا جا چکا ہے۔

    دوسری جانب روس نے یوکرائن پر حملے کو امریکا اور برطانیہ کا خطے میں مداخلت کا بہانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ من گھڑت جواز پیدا کر کے خطے پر قبضے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: روس

    امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: روس

    ماسکو:امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: اطلاعات کے مطابق یوکرین تنازع پر امریکی پابندیوں کی دھمکیوں پر روس کا کہنا ہے کہ ہم اپنے اختیار کردہ موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق واشنگٹن میں روس کے سفارت خانے نے منگل کو کہا ہے کہ یوکرین پر امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    روسی سفارتخانے کے اعلی افسر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کو سن کر پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں انہوں نے مزید کہا کہ یہ واشنگٹن ہےجو تناؤ پیدا کرتا ہے۔

    توقع کی جارہی ہے کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن منگل کو یوکرین تنازع پر ٹیلی فونک رابطہ قائم کریں گے۔

    حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جس کی وجہ امریکہ نے روس پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ عنقریب یوکرین پر حملہ کردے گا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے بارہا پیوٹن کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ یوکرین پر حملہ کرتے ہیں تو بڑے پیمانے پر مغربی پابندیوں کے لئے تیار رہے۔

    واضح رہے روس نے یوکرین کی سرحدوں پر ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو تعینات کیا ہے۔ اس تناظر میں مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ وہ حملہ کر سکتے ہیں۔

    یاد رہے بلنکن لاوروف کی بات چیت سے قبل، ماسکو نے یوکرین کے بارے میں اپنے موقف پر واشنگٹن کو ایک خط بھیجا تھا۔

  • روس اور یورپی ممالک کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق

    روس اور یورپی ممالک کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق

    کئی عرصے سے جاری کشیدگی کے بعد، روس اور یورپی ممالک کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پیرس میں روس، یوکرین، فرانس اور جرمنی کے مشیران کے طویل مذاکرات ہوئے، روسی مشیر کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے کشیدگی کم کی جا سکتی ہے لیکن یوکرین کے مسئلے کا مستقل حل ایک اجلاس سے نہیں نکالا جاسکتا چاروں ممالک کی ایک اور میٹنگ دو ہفتوں میں برلن میں ہو گی، ساتھ ہی روس نے نیٹو سے مشرقی یورپ سے فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

    روس کی جانب سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہےکہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت بھی روکی جائے جبکہ امریکہ اور نیٹو نے روس کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے تاہم ہتھیاروں کے کنٹرول اور اعتماد سازی کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ دو روز قبل روس نے یوکرائن کی سرحد کے قریب فوجی مشقوں کی ویڈیو جاری کی تھی، روسی فوجی ٹینکوں اور میزائل لانچرز سمیت مشقوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز روس نے کہا ہے کہ صدر پوٹن پر امریکی پابندیوں سے سیاسی طور پر کوئی فرق نہیں پڑے گا تاہم یہ تباہ کُن ضرور ثابت ہوگا روس کے حکومتی ترجمان ڈمتری پیسکوو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اگر صدر ولادمیر پوٹن پر پابندی عائد کرتا ہے تو سیاسی سطح پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا تاہم اس کے نتائج مہلک ہوں گے۔

    روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

    یاد رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ روس کو یوکرین پر حملہ کرنے کی سخت قیمت ادا کرنی ہوگی جو بائیڈن نے روس کوخبردارکرتے ہوئے کہا کہ یوکرائن پر حملے کی روس کو جانی اورمعاشی نقصان کی صورت قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

    جوبائیڈن نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر روس اپنی فوج کی اتنی بڑی تعداد کو لے کر یوکرین پر چڑھائی کرتا ہے تو یہ جنگ دوسری جنگِ عظیم سے کئی گنا بڑی ہوگی اور دنیا کا نقشہ بدل دے گی۔

    یورپی یونین کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان

    واضح رہے کہ چند روز قبل امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس خود پر جعلی حملے کروا کے یوکرائن پر حملہ کرے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ روس یوکرین پر حملے کی تیاری کر رہا ہے اور اگلا ایک ہفتہ انتہائی اہم ہے۔

    دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرجی لیوروو نے کہا ہے کہ روس اپنے مطالبات کے تحریری جواب کا منتظر ہے۔ اگر مغرب اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو روس کو بھی جوابی کارروائی کرنی پڑے گی۔

    روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے…

  • یوکرین روس کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل:پاکستان سمیت غریب ممالک پرپھرمشکل وقت آگیا

    یوکرین روس کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل:پاکستان سمیت غریب ممالک پرپھرمشکل وقت آگیا

    واشنگٹن:یوکرین روس کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل:پاکستان سمیت غریب ممالک پرپھرمشکل وقت آگیا،اطلاعات کے مطابق یوکرین اور روس کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت گزشتہ 7 سالوں میں پہلی بار 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس اور یوکرین تنازعہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خام تیل کی ممکنہ سپلائی میں رکاوٹ نے ہلچل مچا دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق دوران ٹریڈنگ برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر17 سینٹس کی سطح پرپہنچ گئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 87 ڈالر 67 سینٹس میں فروخت ہوا۔اس کے علاوہ عالمی منڈی میں گیس کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد دوران ٹریڈنگ گیس کی قیمت سوا 4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کے روز کہا تھا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو وہ صدر ولادیمیر پوٹن پر ذاتی پابندیوں پر غور کریں گے۔
    دوسری جانب روس نے یوکرین کی سرحدپر تقریباً ایک لاکھ فوجیوں کو تعینات کیا ہوا ہے لیکن حملے کی منصوبہ بندی سے انکار کیا ہے۔