Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • کینیڈا کا یوکرین کے لیے 2 ارب ڈالر کی امداد کااعلان

    کینیڈا کا یوکرین کے لیے 2 ارب ڈالر کی امداد کااعلان

    کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کیف میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران 2 ارب ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا، جس میں ایک ارب ڈالر اسلحے، ڈرونز اور بکتر بند گاڑیوں کی خریداری کے لیے مختص ہیں۔

    کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات میں کہا کہ وہ یوکرین کے لئے مضبوط سکیورٹی گارنٹی کے مطالبے کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور کینیڈا ایسی کسی امن ڈیل کے تحت فوجی دستے بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کرتاروس کی مکمل یلغار کو ساڑھے تین سال گزرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ یوکرین اور یورپی اتحادی مستقبل کے سکیورٹی فریم ورک پر کام کر رہے ہیں۔

    مارک کارنی نے اپنے پہلے دورۂ یوکرین میں زیلنسکی کے ساتھ یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کی، جس میں ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کیتھ کیلگ بھی شریک ہوئےاس موقع پر زیلنسکی نے کہا کہ اس جنگ کے خاتمے کا مطلب ایسا امن ہونا چاہیے جو آئندہ نسلوں کو جنگ کے خطرے سے محفوظ رکھے۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کے سکیورٹی گارنٹی نیٹو کے آرٹیکل 5 کے قریب تر ہوں۔

    ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں ٹرینی نرس کے ساتھ مبینہ ہراسانی پر ہیڈ نرس معطل

    مارک کارنی نے کہا کہ صرف یوکرین کی فوجی طاقت پر انحصار کافی نہیں، اس کے لئے عالمی شراکت داری ضروری ہےدونوں رہنماؤں نے ڈرون کی مشترکہ تیاری کا معاہدہ بھی کیا، جبکہ کینیڈا نے اگلے ماہ ایک ارب کینیڈین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

    حماد اظہر کا این اے 129 سے ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان

  • ٹرمپ نے یوکرین کو 85 کروڑ ڈالر کے میزائل دینے کی منظوری دے دی

    ٹرمپ نے یوکرین کو 85 کروڑ ڈالر کے میزائل دینے کی منظوری دے دی

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے ساتھ 850 ملین ڈالر (85 کروڑ ڈالر) مالیت کے اسلحہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، امریکہ 3,350 جدید میزائل فراہم کرے گا۔

    امریکی اخبارکے مطابق ان میزائلوں کی رینج 180 سے 250 کلومیٹر تک ہے جو یوکرین کو روس کے خلاف دفاعی اورجارحانہ حکمت عملی میں طاقت فراہم کریں گےمعاہدے کے تحت یہ تمام میزائل چھ ہفتوں کے اندریوکرین کوفراہم کیے جائیں گے تاہم ان کے استعمال کی مکمل نگرانی پینٹاگون کریگا یوکرینی افواج ان میزائلوں کوامریکی دفاعی ادارے کی پیشگی اجازت کے بغیراستعمال نہیں کر سکیں گی۔

    امریکی ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے اخراجات براہِ راست یورپی اتحادی ممالک اٹھائیں گے جس سے امریکہ پر مالی دباؤ کم رہے گا،تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ اور نیٹو کی یوکرین سے وابستگی کو مزید واضح کرتا ہے اورخطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

    دوسری،جانب،پینٹاگون نے یوکرین کو روس کے اندر اہداف پر حملوں کے لیے لمبے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرنے سے روک دیا، جس کا دعویٰ امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون خاموشی سے یوکرین کو امریکی ساختہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز استعمال کرکے روس کے اندر حملے کرنے سے روک رہا ہے، جس کے باعث کیف کو ماسکو کے حملوں کے خلاف دفاع میں ان ہتھیاروں کے استعمال میں مشکلات پیش آرہی ہیں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ان ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے حتمی فیصلہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے پاس ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس اور یوکرین کی تین سال سے جاری جنگ کو روکنے اور دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ کرانے میں تاحال کامیاب نہ ہوسکےروسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ الاسکا میں ان کی ملاقات اور اس کے بعد یورپی رہنماؤں اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی کے ساتھ ملاقاتیں کسی واضح پیش رفت کے بغیر ختم ہوئیں اس کے بعد ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ وہ ایک بار پھر روس پر اقتصادی پابندیاں لگانے یا متبادل طور پر اس پیش رفت سے سے الگ ہونے پر غور کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں فیصلہ کرنے والا ہوں کہ ہم کیا کریں گے اور یہ ایک بہت اہم فیصلہ ہوگا جس میں بڑی پابندیاں اور محصولات عائد ہوسکتی ہیں، یا شاید ہم کچھ بھی نہ کریں اور کہہ دیں کہ یہ آپ لوگوں کی جنگ ہے،روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعہ کو این بی سی کو بتایا کہ زیلینسکی کے ساتھ کسی ملاقات کے لیے کوئی ایجنڈا طے نہیں ہے-

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، جیسے ہی وائٹ ہاؤس پیوٹن کو امن مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، پینٹاگون کی جانب سے قائم کردہ منظوری کا ایک عمل یوکرین کو روسی علاقے کے اندر گہرائی میں حملے کرنے سے روکے ہوئے ہے۔

  • روس اور یوکرین کے صدور کی ملاقات اگست کے آخر تک ہونے کا امکان

    روس اور یوکرین کے صدور کی ملاقات اگست کے آخر تک ہونے کا امکان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹمپ نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے صدور کی ملاقات اگست کے آخر تک ہونے کا امکان ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر پیوٹن سے ٹیلیفون پر طویل گفتگو کی جس میں پیوٹن نے ٹرمپ کو بتایا وہ یوکرینی ہم منصب سے ملنے پر تیار ہیں،ٹرمپ نے پیوٹن کو زلینسکی اور یورپی رہنماؤں سے بات چیت سے آگاہ کیادونوں صدور کے درمیان بات چیت 40 منٹ تک جاری رہی۔ یوکرین کے علاوہ دیگر امور پر بھی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

    واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں اٹلی، فرانس اور برطانیہ کے وزراء بھی موجود تھےاس موقع پر صدر ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کو عالمی امن کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔

    غزہ کے معصوم شہید انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں، مریم نواز

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چند روز قبل انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی تھی جو کافی مثبت رہی انہوں نے کہا کہ آج کی ملاقات بھی اسی تسلسل میں بہت اہم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور تعاون کے لیے یہ ایک مثبت قدم ہے۔

    شمالی کوریا کا امریکہ اورجنوبی کوریا کی فوجی مشقوں پرسخت ردعمل

  • پاکستان یوکرین تنازع کے پرامن اورمذاکرات پر مبنی حل کا حامی ہے،دفتر خارجہ

    پاکستان یوکرین تنازع کے پرامن اورمذاکرات پر مبنی حل کا حامی ہے،دفتر خارجہ

    دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات خطے کو کشیدگی کی طرف لے جائیں گے، منصفانہ دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں،پاکستان یوکرین تنازع کے پرامن اورمذاکرات پر مبنی حل کا حامی ہے-

    ترجمان دفترخارجہ نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ نے کہا کہ ایران کے صدر نے پاکستان کا اہم دورہ کیا، صدرمملکت آصف علی زرداری نے ایرانی صدر سے ملاقات کے دوران ایران پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی، ایرانی صدر نے اسرائیلی جارحیت کیخلاف پاکستان کی حمایت کو سراہا، ایران کے صدر نے وزیراعظم شہبازشریف سے بھی ملاقات کی، فریقین نے دوطرفہ تجارتی حجم بڑھانے پر اتفاق کیا، ایران کے صدر نے وزیراعظم کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا، صدرمسعودپزشکیان نے اسرائیلی جارحیت کیخلاف پاکستان کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔

    شفقت علی خان نے کہا کہ ایرانی صدر اوروزیر خارجہ کی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بھی ملاقات ہوئی، نائب وزیراعظم نے فلسطینی مسئلے کے منصفانہ اوردوریاستی حل پر زور دیا، پاکستان نے آج غزہ کے لیے امدادی سامان پر مشتمل نئی کھیپ روانہ کی ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر غزہ کے عوام کیلئے 18ویں کھیپ بھجوائی گئی ہے امدادی سامان میں راشن بیگز،کھانے پینے کی اشیا اورادویات شامل ہیں، مسلسل حمایت غزہ کے عوام کے ساتھ پاکستان کی پرعزم یکجہتی کی عکاسی کرتی ہے، پاکستان اسرائیلی حکام کی طرف سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی مذمت کرتا ہے۔

    لاہور: دوران چیکنگ کار سوار خاتون نے لیڈی پولیس،اہلکار کا بوتل سے سر پھاڑ دیا

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات علاقے کو کشیدگی کی طرف لے جائیں گے، اسرائیل کے ایسے اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہیں، پاکستان یوکرین تنازع کے پرامن اورمذاکرات پر مبنی حل کا حامی ہے، پاکستان یوکرین کی طرف سے یوکرین جنگ میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کرتا ہے، ابھی تک یوکرینی حکام نے پاکستان سے رابطہ کرکے الزام کے متعلق کوئی بات نہیں کی۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتا ہے، پاکستان حق خودارادیت کیلئے کشمیریوں کی سیاسی،سفارتی واخلاقی حمایت جاری رکھے گا، نائب وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے اقوام متحدہ کو خطوط ارسال کیے،پاکستان نے معرکہ حق کے دوران اپنی خودمختاری کا بھرپوردفاع کیا۔

    منڈی بہاؤالدین: ملازم نے زمیندار اور اسکی بیوی کو قتل کردیا

  • پاکستان نے اپنے شہریوں کے یوکرین تنازع میں ملوث ہونے کے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا

    پاکستان نے اپنے شہریوں کے یوکرین تنازع میں ملوث ہونے کے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا

    پاکستان نے یوکرین کے تنازع میں پاکستانی شہریوں کے ملوث ہونے کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کردیا۔

    یوکرینی صدر زیلنسکی نے ایکس پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے محاذ پر موجود کمانڈرز سے ووفچانسک کے دفاع اور جنگ کی صورتحال پر گفتگو کی، ہمارے سپاہیوں نے اطلاع دی ہے کہ اس محاذ پر چین، پاکستان، تاجکستان، ازبکستان اور کچھ افریقی ممالک کے کرائے کے جنگجو شامل ہیں۔ جس کا ہم جواب دیں گے۔

    https://x.com/ZelenskyyUa/status/1952367492388585542

    یوکرینی صدر کے اس بے بنیاد الزامات کے بعد دفتر خارجہ کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق یوکرین کے تنازع میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے بے بنیاد الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں، آج تک یوکرائنی حکام کی جانب سے پاکستان سے باضابطہ طور پر رابطہ نہیں کیا گیا ہے، ایسے دعوؤں کی تصدیق کے لیے کوئی قابل تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے۔

    سربراہ پاک بحریہ کو ترکیہ کے اعلیٰ عسکری اعزاز سے نوازا گیا

    ترجمان نے کہا کہ حکومت پاکستان یہ معاملہ یوکرائنی حکام کے ساتھ اٹھائے گی جس میں یوکرین سے اس حوالے سے وضاحت طلب،کی جائے گی، پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے یوکرین تنازعہ کے پرامن حل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ٕ

    میڈیا رپورٹس، جن میں 2023 کی بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ بھی شامل ہے، میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے دو نجی امریکی کمپنیوں کے ساتھ 36 کروڑ 64 لاکھ ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت کا معاہدہ کیا، جس کے تحت یہ اسلحہ مبینہ طور پر یوکرین بھیجا گیاتاہم ان الزامات کو مختلف مواقع پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ، سابق نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اور پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے مسترد کر دیا تھا۔

    کاروباری ہفتے کے دوسرے روز بھی تیزی کا رجحان

    صدر زیلنسکی اس سے قبل بھی روس پر چین کے جنگجو بھرتی کرنے کا الزام عائد کر چکے ہیں، جسے بیجنگ نے رد کر دیا تھا، اسی طرح شمالی کوریا پر بھی یہ الزام لگ چکا ہے کہ اس نے ہزاروں فوجی روس کے کورسک خطے میں تعینات کیے ہیں۔

  • روس کا یوکرین کی جیل پر فضائی حملہ، 16 افراد ہلاک، 35 زخمی

    روس کا یوکرین کی جیل پر فضائی حملہ، 16 افراد ہلاک، 35 زخمی

    کیف: روس نے رات گئے یوکرین پر حملے کیے جس کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک ہو گئے-

    یوکرینی میڈیا کے مطابق روس نے اپوریژیا یوکرین میں جیل پر 8 فضائی حملے کیے جس دوران جیل کی عمارت پر FAB بم گرائے گئے، روسی حملے میں 16 افراد ہلاک اور 35 زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں ایک تین سالہ بچہ بھی شامل ہے، گزشتہ رات ہی یوکرین کے ڈنیپروپیٹروفسک ریجن میں روسی حملوں میں 4 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔

    حکام کے مطابق حملہ پیر کی آدھی رات کے بعد ہوا، زخمیوں میں سے چار کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہےکیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور ٹکچینکو نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ تمام زخمی دارنیسکی ضلع کی ایک کثیر المنزلہ عمارت کے رہائشی ہیں کیف کے میئر ویتالی کلیچکو کے مطابق دھماکے کی لہر نے عمارت کی چھٹی سے گیارہویں منزل تک کی کھڑکیاں توڑ دیں،رات بھر کیف سمیت یوکرین کے بیشتر علاقے فضائی حملے کے الرٹ پر رہے کیونکہ یوکرینی فضائیہ نے روسی میزائل اور ڈرون حملوں کا انتباہ دیا تھا-

    جیل انتظامیہ حکم نہیں مان رہی ،علیمہ خان

    بنوں:تخریب کاروں کی جانی خیل پل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش

    موٹر سائیکل والوں کیلئےحکومتِ پنجاب کا بڑا اعلان

  • امریکا نے یوکرین کے صدر کو جبری ہٹانے کا فیصلہ کرلیا،  امریکی صحافی کا بڑا دعویٰ

    امریکا نے یوکرین کے صدر کو جبری ہٹانے کا فیصلہ کرلیا، امریکی صحافی کا بڑا دعویٰ

    ایوارڈ یافتہ صحافی سیمئور ہرش نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کو ممکنہ طور پر جبری ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    امریکی صحافی سیمور ہرش نے یہ بات اپنے بلاگ پر جو سب اسٹیک (Substack) پلیٹ فارم پر موجود ہے، امریکی ذرائع کے حوالے سے لکھی ان کا کہنا تھا کہ زیلنسکی جلا وطنی کے لیے شارٹ لسٹ میں شامل ہیں اگر زیلنسکی اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے سے انکار کرتے ہیں، جو کہ غالب امکان ہے، تو انہیں زبردستی نکالا جائے گا، توقع بھی یہی کی جارہی ہے کہ زیلنسکی خود مستعفی نہیں ہوں گے۔

    صحافی کے مطابق یوکرینی فوج کے سابق کمانڈر انچیف اور اس وقت برطانیہ میں یوکرین کے سفیر ویلیئری زالزنی زیلنسکی کے ممکنہ متبادل ہوں گے اور یہ تبدیلی چند ماہ میں عمل میں لائی جائے گی،برطانیہ میں یوکرین کے سابق سفیر وادیم پریستائیکو نے صدر زیلنسکی پر تنقید کی تھی جس پر وادیم کو جولائی سن 2023 میں برطرف کردیا گیا تھا اور ان کی جگہ زالزنی کو ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

    پاکستانی آرمی چیف کے دورے کے بعد پاک امریکا تجارتی مذاکرات میں بہتری آئی، بلوم برگ

    ویلیئری زالزنی یوکرین میں فولادی جنرل کے نام سے مشہور تھے انہوں نے روس سے جنگ کے آغاز پر یوکرینی فوج کی قیادت کی تھی تاہم صدر زیلنسکی سے اختلافات کے سبب ان کی شخصیت داغدار ہوگئی تھی اورصدر زیلنسکی نے فروری میں زالزنی کی جگہ اولکساندر سیرسکی کو سونپ دی تھی۔

    صحافی کا کہنا ہے کہ امریکا اور یوکرین میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ ختم ہونی چاہیے اور روس کے صدر پیوٹن سے سمجھوتہ ممکن ہے۔

    واضح رہے کہ صدر زیلنسکی کے عہدے کی مدت پچھلے مئی کی 20 تاریخ کو ختم ہوگئی تھی تاہم جنگ کو بنیاد بناتے ہوئے 2024 میں صدارتی انتخابات کو منسوخ کردیا گیا تھا،11 فروری کو ایسٹونیا کے اخبار Postimees نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ یوکرین میں 2025 میں انتخابات ضرور ہوں گے اخبار کے مطابق کیف نے زیلنسکی کی برطرفی کے بارے میں اس بیان کو عجیب قرار دیا تھا، کیونکہ ان کی مدت صدارت مئی 2024 میں ختم ہو چکی ہے۔

    بھارت میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ، عورتوں اور بچوں کی عزت غیر محفوظ

  • یوکرین کا ماسکو اور دیگر روسی علاقوں پر حملہ

    یوکرین کا ماسکو اور دیگر روسی علاقوں پر حملہ

    روسی حکام نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ فضائی دفاعی یونٹس نے گزشتہ رات 122 یوکرینی ڈرونز تباہ کئے جو دارالحکومت ماسکو اور دیگر متعدد روسی علاقوں کو نشانہ بنا رہے تھے، اس دوران کم از کم ایک شخص زخمی ہوا۔

    روسی وزارت دفاع نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ ان ڈرونز میں سے آدھے سے زیادہ کو بیلگورود، کورسک اور بریانسک کے سرحدی علاقوں میں مار گرایا گیا، جو یوکرین سے ملحق ہیں، تین ڈرونز کو ماسکو کے علاقے میں تباہ کیا گیا۔

    اسمولینسک ریجن (جو بیلاروس کی سرحد سے متصل ہے) کے گورنر واسیلی انوخن نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ ایک شہری ہلکا زخمی ہوا جبکہ ایک سول تنصیب کو معمولی نقصان پہنچا۔

    مسافر ٹرینوں کے کرایوں میں دوسری بار اضافہ

    اس سے ایک روز قبل بدھ کے روز یوکرینی ڈرون حملے میں بیلگورود ریجن میں تین افراد ہلاک اور کم از کم 17 زخمی ہوئے، جیسا کہ علاقائی گورنر ویاچیسلاو گلاڈکوف نے بتایایوکرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔روس اور یوکرین ایک دوسرے پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کرتے ہیں، تاہم دونوں فریق ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ جنگ اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے۔

    بہادری کا مظاہرہ کرنیوالے 71 افراد کو سول ایوارڈ دینے کی منظوری

  • صدر ٹرمپ  یوکرین کو روس پر حملوں کیلئے اکسانے لگے

    صدر ٹرمپ یوکرین کو روس پر حملوں کیلئے اکسانے لگے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو روسی علاقے میں حملے کرنے کی ترغیب دی ہے-

    روئٹرز کے مطابق فنانشل ٹائمز نے منگل کو رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نجی طور پر یوکرین کو روسی علاقے میں حملے کرنے کی ترغیب دی ہے، یہاں تک کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی پوچھا ہے کہ کیا وہ ماسکو کو نشانہ بنا سکتے ہیں اگر امریکہ نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار فراہم کیے-

    اخبار نے گفتگو سے واقف دو افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے بات کرنے کے ایک دن بعد 4 جولائی کو اپنے یوکرائنی ہم منصب سے ایک کال میں بات کی،ٹرمپ نے یوکرین کو امریکی ساختہ ATACMS میزائل بھیجنے پر بھی تبادلہ خیال کیا-

    جمشید دستی نااہل قرار، تعلیمی اسناد جعلی نکلیں

    وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر تبصرہ کے لیے رائٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ رائٹرز اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکے،ٹرمپ نے اس وقت کہا تھا کہ وہ پیوٹن کے ساتھ کال سے مایوس ہوئے ہیں کیونکہ ایسا نہیں لگتا کہ روسی رہنما یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کو روکنے کے خواہاں ہیں۔

    واضح رہےکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے کہا ہے کہ وہ یوکرین جنگ 50 دن کے اندر ختم کرے ورنہ اسے بڑے پیمانے پر نئی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، ٹرمپ نے کیف کے لیے نئے ہتھیاروں کی فراہمی کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا ہے، وائٹ ہاؤس میں نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ’ ہم روس سے بہت زیادہ ناخوش ہیں۔’

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ اگر 50 دنوں میں کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تو ہم بہت سخت ٹیرف لگائیں گے، تقریباً 100 فیصد ٹیرف۔’ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ’ ثانوی ٹیرف’ ہوں گے جن کا نشانہ روس کے باقی ماندہ تجارتی شراکت دار ہوں گے، اس طرح ماسکو کی پہلے سے عائد مغربی پابندیوں کے باوجود بچنے کی صلاحیت کو مفلوج کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    کانگریسی رہنما پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرنے پر بھارتی میڈیا پر برس پڑیں

    جنوری میں اپنی دوسری مدت صدارت کا آغاز کرنے کے فوراً بعد، ٹرمپ نے پیوٹن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش شروع کی تھی، کیونکہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے اس وعدے کو پورا کرنے کی کوشش کی تھی کہ یوکرین جنگ کو 24 گھنٹوں میں ختم کر دیں گے۔

    پیوٹن کی طرف ان کے اس جھکاؤ نے کیف میں خدشات پیدا کردیے تھے، ان خدشات کو فروری میں اس وقت تقویت ملی تھی، جب اوول آفس میں ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی سرزنش کی تھی۔

    لیکن ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں پیوٹن پر بڑھتے ہوئے غصے اور مایوسی کا اظہار کیا، کیونکہ روسی رہنما نے تین سالہ جاری جنگ کو ختم کرنےکے بجائے یوکرین حملے تیز کردیے ہیں ٹرمپ نے پیر کو پیوٹن کے بارے میں مزید کہا کہ’ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ وہ قاتل ہے، لیکن وہ ایک سخت آدمی ہے۔’

    پچھلے ہفتے، ٹرمپ نے پیر کو روس کے بارے میں ایک اعلان کا اشارہ دیا تھا، پھر انہوں نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ یوکرین کو اہم پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام بھیجیں گے تاکہ اسے روسی حملوں کی بڑھتی ہوئی شدت سے بچنے میں مدد مل سکے واشنگٹن نے بھی اس ماہ کے اوائل میں کیے گئے اس اعلان سے یو ٹرن لے لیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ کیف کو کچھ ہتھیاروں کی ترسیل روک دے گا۔

  • یوکرین کو روس کیساتھ جنگ میں ہلاک ہونیوالے1200 فوجیوں کی لاشیں موصول

    یوکرین کو روس کیساتھ جنگ میں ہلاک ہونیوالے1200 فوجیوں کی لاشیں موصول

    یوکرین کو روس کے ساتھ جنگ میں ہلاک ہونے والے اپنے یک ہزار 200 فوجیوں کی لاشیں موصول ہوئی ہیں۔

    ’روئٹرز‘ کے مطابق قیدیوں کے تبادلے کی رابطہ کمیٹی نے ٹیلی گرام پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ لاشوں کی واپسی یوکرین اور روس کے درمیان اس ماہ کے آغاز میں استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے دوران طے پانے والے معاہدوں کا حصہ ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل 19 مارچ کو روس اور یوکرین کے درمیان 175 جنگی قیدیوں کا تبادلہ ہوا تھا، روس اور امریکی صدر کے درمیان ٹیلی فون پر رابطے کے بعد قیدیوں کے تبادلے کا اعلان ہوا تھا، جب کہ متحدہ عرب امارات نے روس اور یوکرین کے قیدیوں کے تبادلے میں ثالثی کردار ادا کیا تھا۔

    صحت کے شعبے میں بہتری لانے کیلئے پاکستان کی آبادی کو کنٹرول کرنا ہوگا، مصطفیٰ کمال

    ’روئٹرز‘ نے بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد روس اور یوکرین نے 175 جنگی قیدیوں کا تبادلہ کیا تھااس حوالے سے روسی وزارت دفاع نے قیدیوں کے تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس نے 22 زخمی یوکرینی فوجیوں کو بھی رہا کردیا ہے روسی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ ان 22 افراد کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے اور انہیں خیر سگالی کے طور پر واپس بھیج دیا گیا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادی میر زیلینسکی نے سماجی رابطے ک ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک بیان میں اس تبادلے کو اپنی نوعیت کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا تھا۔

    صحت کے شعبے میں بہتری لانے کیلئے پاکستان کی آبادی کو کنٹرول کرنا ہوگا، مصطفیٰ کمال