Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • امریکا کا یوکرین کے لئے 250 ملین ڈالر کا عسکری امدادی پیکیج

    امریکا کا یوکرین کے لئے 250 ملین ڈالر کا عسکری امدادی پیکیج

    امریکا نے یوکرین کے لیے نئے فوجی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے یوکرین کے لیے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو 250 ملین ڈالر کا امدادی پیکیج دیں گے،اس امدادی پیکیج میں جدید اسلحہ، گولہ بارود ،بارودی سرنگیں صاف کرنے والے آلات بھی شامل ہوں گے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ یوکرین کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانا چاہتا ہے امریکا یوکرین کو اب تک 43 ارب ڈالر سے زائد کی عسکری امداد دے چکا ہے

    قبل ازیں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ اتحادی ممالک ستمبر میں فوجی امداد کے نئے پیکجز کا اعلان کریں گے ہماری بین الاقوامی سرگرمیاں کم نہیں ہوں گی ، اتحادی ممالک یوکرین کے لیے توپ خانے ، بکتر بند گاڑیاں، فضائی دفاع اور میزائلوں کے ساتھ ساتھ بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے آلات پر مشتمل نئے دفاعی پیکجز کی ہماری ضروریات سے واقف ہیں ہم فیصلوں کی توقع کر رہے ہیں

    یوکرین ،امن کا عمل کامیاب ہو گا؟

    جو طالبعلم یوکرین میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، انہیں واپس بلایا جائے گا،یوکرینی وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس

    امریکا نے واضح کردیا ہے کہ روس سے تنازعہ ختم ہونے تک یوکرین کو نیٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کے حملے کے بعد سے اب تک یوکرین میں 9511 افراد کی موت ہوئی ہے، جبکہ 17,206 افراد زخمی ہوئے ہیں، روسی افواج کے زیر قبضہ یوکرین کے کچھ حصوں میں 2,115 شہری مارے گئے جب کہ اصل اعداد و شمار کافی زیادہ ہیں کیونکہ بعض مقامات پر جہاں شدید لڑائی چل رہی ہے وہاں سے معلومات تک رسائی میں تاخیر ہوئی ہے

  • یوکرین میں دوران پرواز 2 فوجی تربیتی طیارے آپس میں ٹکرا گئے،3 پائلٹ ہلاک

    کیف: یوکرین میں دوران پرواز 2 فوجی تربیتی طیارے آپس میں ٹکرا گئے جس کے نتیجے میں 3 پائلٹ ہلاک ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یوکرین کے وسطی علاقے زیتو میر میں فضائیہ کے 2 ایل 39 تربیتی طیارے دوران پرواز آپس میں ٹکرانے سے مکمل طور پر تباہ جبکہ طیاروں میں موجود 3 پائلٹ ہلاک ہو گئے حکام کے مطابق طیاروں کے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ہلاک ہونے والے پائلٹوں کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں یہ ان کے لیے ایک تکلیف دہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔

    واضح رہے کہ 3 مغربی ممالک نے روس کے خلاف جنگ کے لیے یوکرین کو 61 ایف 16 لڑاکا طیارے دینے کا وعدہ کیا ہے۔ جسے اڑانے کی پائلٹوں کو تربیت بھی دی جائے گی۔

    ایران : بس کھائی میں جاگری ،10 افراد ہلاک اور 8 زخمی

    دوسری جانب روس نے 24 گھنٹے میں یوکرین کے 73 ڈرون مار گرانے اور فوجی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کر دیا روسی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے یوکرین کے حملوں کو ناکام بنا دیا اور گزشتہ 24 گھنٹے میں یوکرین کے 73 ڈرون اور فوجی ٹھکانوں کو تباہ کیااس سے قبل روسی فورسز نے یوکرین کا ایس 200 میزائل بھی مار گرایا تھا جنگ شروع ہونے سے اب تک یوکرین کے 462 طیارے، 246 ہیلی کاپٹر، 6 ہزار 12 ڈرونز، 433 فضائی دفاعی نظام، 11 ہزار 476 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں، 6 ہزار 24 توپیں اور 12 ہزار 408 دیگر فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

    امریکا میں پاکستانی ڈاکٹرکو دہشتگردی کےالزام میں سزا سنادی گئی

  • یوکرین کے ماسکو پرڈرون حملے،زیر تعمیر عمارت نشانہ

    یوکرین کے ماسکو پرڈرون حملے،زیر تعمیر عمارت نشانہ

    ماسکو: روس کا کہنا ہے کہ یوکرین نے ماسکو پرایک بار ڈرون حملے کرتے ہوئے ایک زیر تعمیر عمارت کو نشانہ بنایا ہے۔

    باغی ٹی ی: برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ماسکو میں ڈرون حملے میں زیر تعمیر بلڈنگ کو نشانہ بنایا گیا جس سے آس پاس موجود دو 5 منزلہ عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا جس کے بعد علاقے میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی،ما سکو کے دو مختلف ضلع موزہسک اور خمکی میں بھی ڈرون حملے کیے گئے جن کو ائیرڈیفنس نے تباہ کردیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈرون حملوں کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جب کہ روسی حکام کی جانب سے اسے کیف حکومت کی طرف سے دہشت گردانہ حملہ کرنے کی ایک اور کوشش کہا گیا ہے دوسری جانب روسی حدود میں ڈرون حملوں کے حوالے سے یوکرین کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    تاریخ کا بڑا ٹرانسپلانٹ،بانجھ خواتین کے لیے بچے پیدا کرنے کے امکانات کھل گئے

    دوسری جانب بدھ کی صبح بھی ماسکو کے تمام ائیر پورٹس پر فضائی آپریشن بند رہا تاہم اب فلائٹس آپریشن کو بتدریج بحال کیا جارہا ہے-

    واضح رہے کہ پیر کے روز ماسکو پر یوکرین کی جانب سے ڈرون حملہ کیا گیا جسے روس کے ائیرڈیفنس نے ناکام بنادیا تاہم ڈرون کا ملبہ گھر پر گرنے سے 2 افراد زخمی ہوگئے یوکرین کی جانب سے ڈرون حملے کے بعد ماسکو کے تین بڑے ائیرپورٹس پر ہر قسم کی پروازوں کی آمدورفت معطل کردی گئی ہے۔

    امریکا کے چڑیا گھر میں نایاب زرافے کی پیدائش

    حکام کے مطابق جن ائیرپورٹس کا فضائی آپریشن بند کیا گیا ہے ان میں Vnukovo Sheremetyevo اور Domodedovo کے ائیرپورٹس شامل ہیںشہر کے کسی بھی ائیرپورٹ پر کسی پرواز کو اترنے یا اڑان بھرنے کی اجازت نہیں ہے روس کی جانب سے پروازوں کا سلسلہ روکے جانے کی وجہ سے پیر کو ماسکو سے جانے والی 90 فلائٹس متاثر ہوئیں۔

  • یوکرین میں روس کے میزائل حملے،11 بچوں سمیت 37 افراد زخمی ،5 ہلاک

    یوکرین میں روس کے میزائل حملے،11 بچوں سمیت 37 افراد زخمی ،5 ہلاک

    یوکرین میں روس کے میزائل حملے میں 5افراد ہلاک اور11 بچوں سمیت 37 زخمی ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق روس کی جانب سے یہ حملہ یوکرین کے شمالی شہر چرنیہیف کے مرکزی چوک پرکیا گیا،یوکرین کی وزارت داخلہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ لوگ مذہبی تعطیل منانے کے لیے گرجا گھر جا رہے تھے جب میزائل حملہ کیا گیا-

    سویڈن کے سرکاری دورے کے موقع پرصدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ کہ ایک روسی میزائل ہمارے چرنیہیف شہر کے عین وسط میں گراہے ایک چوک، پولی ٹیکنک یونیورسٹی اور ایک تھیٹر پر گراہے ہفتے کو عام تعطیل کا دن روس نے دردآمیز اور نقصان زدہ بنا دیا ہے۔

    چین میں چینی مٹی سے بنے ​​پانی کے پائپوں کا ایک قدیم ترین نیٹ ورک …

    ساتھ ہی زیلنسکی نے ویڈیو بھی پوسٹ کی جس میں ملبہ علاقائی ڈراما تھیٹر کے سامنے ایک چوک پر بکھرا پڑا ہے، جہاں کھڑی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ویڈیو میں ایک لاش کو کار کے اندر لٹکتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    قبل ازیں یوکرین کے پُررونق علاقےپوکروسک میں روسی فوج نے 2 میزائل داغے جس کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوگئے تھے جبکہ رہائشی عمارتوں، ہوٹل، پکوان سینٹرز، دکانوں اورانتظامی عمارتوں کوشدید نقصان پہنچا تھایوکرین کے مشرقی شہر پوکروسک میں روس نے 40 منٹ کے فرق سے دو میزائل داغے اس علاقے میں قبضے کے لیے دونوں ممالک کی افواج متحارب ہیں۔

    میکسیکومیں گھر کے فریزر سے 13 لاشیں برآمد

    کئی عمارتیں اور کاروباری مراکز مٹی کے ڈھیر بن گئے تھے 5 منزلہ عمارت کے ملبے سے 7 لاشیں نکالی گئیں جب کہ 67 افراد کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا یوکرین کے وزیر داخلہ ایگور کلیمینکو نے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں ڈونیٹسک علاقے کا ایک اعلیٰ سطح کا اہلکار بھی شامل ہے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے لیکن ریسکیو اہلکاروں کو بار بار ہونے والی شیلنگ کی وجہ سے اپنا کام معطل کرنا پڑا ہےروس یوکرین جنگ کے حالیہ محاذ پوکروسک شہر کی آبادی 60 ہزار کے لگ بھگ ہے تاہم جنگ کے بعد سے اکثریت شہر چھوڑ کر دوسرے مقام پر منتقل ہوگئی-

    افغان طالبان حکومت کے 2 سال پورے ہونے پر امریکی وزیر خارجہ کا بیان

    واضح رہے کہ روس نے فروری 2022 میں شروع کیے گئے اپنے مکمل حملے کے حصے کے طور پر جنگی محاذوں سے دور واقع یوکرین کے شہروں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں پوکروسک کو ستمبر میں یوکرین نے دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا تھا لیکن روس نے اس شہر کے بڑے علاقے پر پھر سے قبضہ کرلیا۔

  • روس کی نمائندگی کےبغیرسعودی عرب کی میزبانی میں یوکرین بحران پر دوروزہ مذاکرات شروع

    روس کی نمائندگی کےبغیرسعودی عرب کی میزبانی میں یوکرین بحران پر دوروزہ مذاکرات شروع

    ریاض: سعودی عرب کی میزبانی میں ساحلی شہر جدہ میں یوکرین بحران پر دوروزہ مذاکرات ہفتے کے روز شروع ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی :الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے روس کی نمائندگی کے بغیر جدہ میں 40 ممالک کے سینئر حکام کا سربراہی اجلاس شروع کردیا جس کا مقصد یوکرین پر روس کے حملے کو ختم کرنے کے بارے میں اہم اصولوں کا مسودہ تیار کرنا ہے یوکرین کے صدر نے سربراہی اجلاس کا خیر مقدم کیا جن میں ترقی پذیر ممالک بھی شامل ہیں جو جنگ کی وجہ سے خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے سخت متاثر ہوئے ہیں۔

    یوکرینی صدر نے کہا کہ یہ بہت اہم ہے کیونکہ غذائی تحفظ جیسے مسائل پر افریقہ، ایشیا اور دنیا کے دیگر حصوں میں لاکھوں لوگوں کی قسمت کا براہ راست انحصار اس بات پر ہے کہ دنیا امن فارمولے پر عمل درآمد کے لیے کتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے انہیں امید ہے کہ ریاض میں سربراہی اجلاس موسم خزاں میں منقعد ہونے والی “امن سربراہی کانفرنس” کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ دوسری جانب روس نے یوکرین کے امن فارمولے کو مسترد کر دیا ہے۔

    اے آئی ٹیکنالوجی،بل گیٹس نے لاکھوں اموات کی وجہ بننے والے نظام کی پیشگوئی کر …

    جدہ میں مذاکرات میں قریباً 40 ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں اور دیگر سینیر حکام حصہ لے رہے ہیں۔یوکرین اور اس کے اتحادیوں کو امید ہے کہ ان مذاکرات کے شرکاء روس کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے کلیدی اصولوں پر اتفاق کریں گے۔

    اس فورم میں روس کو شامل نہیں کیا گیا ہے روس نے واضح کیا کہ وہ سعودی عرب میں سربراہی اجلاس پر “نظر رکھے گا”۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ روس کو “یہ سمجھنے کی ضرورت ہوگی کہ کیا اہداف طے کیے گئے ہیں اور کن باتوں پر بات کی جائے گی جبکہ روس کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھنے والے چین نے جمعہ کو کہا تھا کہ وہ مذاکرات میں شرکت کے لیے یورپ اور ایشیائی امور کے خصوصی ایلچی لی ہوئی کو بھیجے گا۔

    کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اورانکی اہلیہ کے مابین شادی کے 18 برس بعد علیحدگی

  • یوکرین ،امن کا عمل کامیاب ہو گا؟

    یوکرین ،امن کا عمل کامیاب ہو گا؟

    یوکرین ،امن کا عمل کامیاب ہو گا؟
    اقوام متحدہ کی ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ کے مطابق، بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے نتیجے میں 136 بچے ہلاک ہوئے۔ یوکرین اپنے اختیار میں ہر چیز کے ساتھ لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس انسانی تباہی کا واحد نتیجہ مزاکرات سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، میدان جنگ میں نہیں۔

    روس کے ساتھ جاری تنازعہ کے دوران شہریوں کی جانوں، اور بنیادی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے ساتھ یوکرین کی صورت حال بلا شبہ افسوسناک ہے۔ جدہ میں ہونے والےمزاکرات امن کے قیام اور جنگ کا حل تلاش کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ بھارت اس میں حصہ لینے والا ہے. جیسا کہ امریکہ میں بھارت کی سابق سفیر نروپما راؤ نے CNBC کو واضح طور پر کہا کہ، اس بات کا امکان نہیں ہے کہ نئی دہلی روس کی دفاعی صنعت کے ساتھ اپنے تعلقات ترک کرے، کیونکہ کریملن یوکرین میں اپنا مسلح تنازعہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

    جدہ میں ہونے والی آئندہ سمٹ میں جہاں مختلف ممالک کی شمولیت، مذاکرات میں شامل ہونے پر آمادگی کا اشارہ دیتی ہے، وہیں مذاکرات کے اس دور میں روس کی عدم شرکت کی بھی وجوہات ہوسکتی ہیں۔

    روس کے ان مخصوص مذاکرات کا حصہ نہ بننے کی دو ممکنہ وجوہات معلوم ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے، اتحاد کا یہ ماننا ہو سکتا ہے کہ روس کو شروع سے شامل کرنا پرامن حل کے لیے حکمت عملی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ دوسرا، وہ روس کو اس وقت شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں گے جب کچھ اتفاق رائے ہو جائے اور ایک امن منصوبہ پیش کیا جا سکے۔

    جنگیں ختم کرنے کے لیے مذاکرات درحقیقت ایک بنیادی ذریعہ ہیں. لیکن ان کی تاثیر کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں فریق ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہیں، اور زیر بحث مسائل پر ایک ہی صفحے پر ہیں۔ روس کے خدشات کو نظر انداز کرنا کسی بھی امن عمل کی کامیابی کو ممکنہ طور پر خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ مذاکرات کی پچھلی کوششیں، جیسے کہ 2014 میں منسک معاہدے، ناکام ہو گئے کیونکہ انہوں نے کریملن کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کو مناسب طریقے سے حل نہیں کیا۔

    روس یوکرین کو اپنی سلطنت کا حصہ سمجھتا ہے اور وہ اپنے دعوے کو آسانی سے ترک نہیں کرے گا۔ تاہم، برسوں کی جنگ اور کیف کی حمایت کے بعد، یوکرین کے حامیوں کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ تنازعہ کا پرامن حل تلاش کریں۔ امن عمل کی کامیابی کا بہت زیادہ انحصار مشترکہ بنیاد تلاش کرنے اور یوکرین اور روس دونوں کے بنیادی خدشات کو دور کرنے پر ہوگا۔

    یوکرائن کا منظم امن عمل، نتائج دے سکتا ہے اگر وہ تمام متعلقہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کا انتظام کرے، اور تنازعہ کو ہوا دینے والے بنیادی مسائل کو حل کرے۔ یہ ایک مشکل کام ہو گا، لیکن جنگ کی وجہ سے انسانی مصائب اور تباہی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کے ذریعے امن کا حصول بہت ضروری ہے۔

  • سعودی عرب یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا

    سعودی عرب یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا

    سعودی عرب اگست کے شروع میں یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا –

    باغی ٹی وی: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کےمطابق مذاکرات میں مغربی ممالک، یوکرین، بھارت اوربرازیل سمیت ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کو مدعو کیا جائے گا 5 اور 6 اگست کو جدہ میں ہونے والے اس اجلاس میں انڈونیشیا، مصر، میکسیکو، چلی اور زیمبیا سمیت 30 ممالک کے سینیر حکام شرکت کریں گے، تاہم ان مذاکرات میں جنگ کا فریق روس شامل نہیں ہوگا۔


    یوکرین اورمغربی حکام کوامید ہےکہ یہ مذاکرات یوکرین کے حق میں امن شرائط کےلیے بین الاقوامی حمایت کا باعث بن سکتے ہیں یوکرین کے تقریباً چھٹے حصے پر قابض ہونے کا دعویٰ کرنے والے روس کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کو صرف اسی صورت میں ممکن سمجھتا ہے جب کیف ”نئی حقیقتوں“ کو قبول کرے کریملن کا اشارہ روسی فوج کے زیر قبضہ یوکرین کے علاقوں کی طرف تھا۔

    جبکہ یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ مذاکرات صرف اس وقت ممکن ہوں گے جب ماسکو ملک سے اپنی افواج واپس بلا لے گا مدعو ممالک میں سے ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کتنے شرکت کریں گے البتہ جون میں کوپن ہیگن میں اسی طرح کے مذاکرات میں حصہ لینے والے ممالک کے نمائندوں کی جدہ میں آمد متوقع ہےبرطانیہ، جنوبی افریقا، پولینڈ اور یورپی یونین نے جدہ اجلاس میں شرکت کی تصدیق کی ہے اور امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کی شرکت بھی متوقع ہے۔

  • یوکرین کے وزیرخارجہ کی وزارت خارجہ آمد، پودا بھی لگایا

    یوکرین کے وزیرخارجہ کی وزارت خارجہ آمد، پودا بھی لگایا

    یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا اپنے پہلے سفارتی دورے پر پاکستان پہنچ گئے، وزیر خارجہ پاکستان بلاول بھٹو زرداری اور دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیداران نے یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا کا استقبال کیا۔

    یوکرین کے وزیر خارجہ کی وزارت خارجہ کے دفتر آمد ہوئی تویوکرینی وزیر خارجہ کو وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے خوش آمدید کہا،یوکرینی وزیر خارجہ اپنے وفد کے ہمراہ وزارت خارجہ پہنچے ،دمیترو کولیبا نےوگیٹر دفتر خارجہ میں یادگار کے طور پر پودا بھی لگایا

    یوکرین اور روس کے مابین تنازعہ کے پرامن حل کے لیے ہر اقدام کی حمایت کریں گے،وزیر خارجہ بلاول
    دفتر خارجہ میں پاکستان اور یوکرین کے درمیان وفود کے سطح پر مذاکرات ہوئے،وزیر خارجہ بلاول زرداری نے یوکرینی ہم منصب کے ہمراہ وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے وزیر خارجہ کو پاکستان کے دورے پر خوش آمدید کہتے ہیں، اقتصادی، تجارتی، زرعی، دفاعی شعبوں میں تعاون سمیت تعلقات میں وسعت پر اتفاق کیا گیا،پاکستان اور یوکرین کے مابین دوطرفہ مذاکرات پر اتفاق پایا گیا، یوکرین کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی، صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ،یوکرین کے عوام کے لیے امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کی نیک خواہشات کا اظہار کیا ،یوکرین اور روس کے مابین تنازعہ کے پرامن حل کے لیے ہر اقدام کی حمایت کریں گے ، یوکرین تنازعہ کے باعث خوراک، ایندھن اور دیگر بحران پیدا ہوئے، پاکستان بھی متاثر ہوا ، دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور عوامی روابط مزید مستحکم بنانا چاہتے ہیں،

    جو طالبعلم یوکرین میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، انہیں واپس بلایا جائے گا،یوکرینی وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس
    یوکرین کے وزیر خارجہ دمترو کولیبا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج کو مضبوط بنانے، اناج خصوصاً گندم کی فراہمی میں ہمیشہ تعاون کیا،پاکستان دوست ملک ہے، دوست ہی مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں،پاکستان اوریوکرین مستقبل کی جانب دیکھ رہے ہیں،جنگ نے زندگی کا پہیہ نہیں روکا، تعلیم کے شعبے میں تعاون کریں گے، جو طالبعلم یوکرین میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، انہیں واپس بلایا جائے گا، ڈیجیٹل اور اقتصادی تعاون کو وسعت دیں گے،پاکستان اہم شراکت دار ہے، دونوں ممالک مل کر غذائی سلامتی پر کام کریں گے،بلیک سی گرین اقدام میں پاکستان، ترکیہ اور اقوام متحدہ ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں،

    ،دفتر خارجہ میں دمیترو کولیبا اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، دمیترو کولیبا وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے پاک یوکرین تعلقات کے قیام کے بعد سے دیمترو کولیبا پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے یوکرینی وزیر خارجہ ہیں پاکستان اور یوکرین کے درمیان 1993 مین سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے دونوں ممالک میں مظبوط دفاعی پیدوار کے حوالے سے تعاون موجود ہے

  • یوکرین روس جنگ، فائدہ کس کو؟

    یوکرین روس جنگ، فائدہ کس کو؟

    مشرقی محاذ پہ روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جاری تنازعہ نے یوکرین کے لیے خاصی تباہ کاری اور معاشی مشکلات پیدا کی ہیں۔ روسی حملوں میں خارکیف سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا ہے،جیسا کہ نائب وزیر دفاع حنا ملیار نے ٹیلی گرام [الجزیرہ] پر مطلع کیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کی جانب سے جوابی کارروائی کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

    2022 میں، یوکرین پر روسی حملہ کے بعد، ملک کو شدید معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑا۔ یوکرین کی جی ڈی پی میں 29.1 فیصد کمی ہوئی، اور اس کی سٹیل کی پیداوار میں 71 فیصد کمی ہوئی کیونکہ روسی افواج نے یا تو سٹیل پلانٹس کا کنٹرول سنبھال لیا، یا اسے تباہ کر دیا۔ گزشتہ مالی سال کے مقابلے برآمدات کی سطح میں 35 فیصد کمی ہوئی، جس سے افراط زراور قرضوں میں اضافہ ہوا۔ اس تنازعے نے زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کوئلے کی کان کنی، اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف صنعتوں پر بھی نقصان دہ اثر ڈالا ہے. کیونکہ یہ شعبے کام کرنے والے بنیادی نظام جیسے بجلی اور انٹرنیٹ تک رسائی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ امریکی ٹیک فرمیں روس-یوکرین تنازعہ سے نمایاں منافع کما رہی ہیں۔ نیشنل ڈیفنس میگزین کے مارچ میں شائع ہونے والے "یوکرین: اے لیونگ لیب فار اے آئی وارفیئر” کے عنوان سے مضمون نے اس تنازعے کو نیٹ ورک اور اے آئی پر مبنی میدان جنگ کی سمت میں بطور اہم پیش رفت کے بیان کیا گیا ہے۔ یوکرین نئی AI ٹیکنالوجی اور مصنوعات کا ایک تجربہ گاہ بن گیا ہے. جو مغربی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے تیزی سے منافع پیدا کرنے کا منفرد موقع ہے.
    ukarin1

    اگرچہ امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ آلات کا مقصد روس کے خلاف استعمال ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ یوکرین کا تنازعہ نادانستہ طور پر تکنیکی ترقی کے حوالہ سے تجربہ کرنے کا ایک پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین میں فعال طور پر تصفیہ اور امن کی تلاش کے بجائے، ملک کو ترقی پذیر ٹیکنالوجیز کی جانچ کے لیے ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
    بالاخر یوکرین-روس جنگ کے نتیجے میں یوکرین کے لیے شدید اقتصادی مشکلات پیدا ہوئیں. روس نے بنیادی نظام اور صنعتوں کو وسیع پیمانے پر تباہ کیا۔ دریں اثنا، کچھ امریکی ٹیک کمپنیاں تنازعات کا فائدہ اٹھا رہی ہیں. اور یوکرین کو اپنی AI ٹیکنالوجیز اور مصنوعات کے لیے تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ یہ تنازعات کے دوران کیے گئے اقدامات کے پیچھے حقیقی ارادوں، اور امن کی کوششوں پر تکنیکی ترقی کو ترجیح دینے کے بارے میں خدشات کو جنم دیتا ہے۔

    ukarin2

  • یوکرین کو نیٹو کا رکن بنایا جانا مستقبل قریب میں نہیں ہوگا،امریکا

    یوکرین کو نیٹو کا رکن بنایا جانا مستقبل قریب میں نہیں ہوگا،امریکا

    امریکا نے واضح کردیا ہے کہ روس سے تنازعہ ختم ہونے تک یوکرین کو نیٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : روسی میڈیا کے مطابق لیتھوانیا میں 2 دو روزہ نیٹو سمٹ کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئےامریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ یوکرین کو نیٹو کا رکن بنایا جانا مستقبل قریب میں نہیں ہوگا، یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ جنگ ختم نہیں ہوجاتی اوریوکرین کے صدر زیلنسکی بھی سمجھتے ہیں کہ نیٹو ممالک کی ذمہ داریاں اس بات سے کہیں زیادہ اہم ہیں کہ یوکرین کو نیٹو کا رکن بنایا جائے۔

    لیتھوانیا میں نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائیزیشن (نیٹو) اجلاس میں جی سیون ممالک نے واضح کیا کہ جب تک ضرورت پڑی یوکرین کی بھرپور مدد کی جائےگی اور روسی اثاثے اس وقت تک منجمد رہیں جب تک ماسکو ہرجانہ نہیں دیتا۔

    امید کرتا ہوں واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ اردوان

    جو بائیڈن نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے طاقت اور زمین کے حصول کی ہوس میں یوکرین پر حملہ کرکے جنگ کا آغاز کردیا، ان کا اندازہ تھا کہ ایسا کرنے سے نیٹو اتحاد ٹوٹ جائے گا لیکن وہ غلط سوچ رہے تھے، نیٹو اتحاد پہلے سے زیادہ مضبوط، متحد اور پرعزم ہے۔

    بائیڈن کا کہنا تھا کہ روسی صدر نے امریکی سربراہی میں عسکری اتحاد کے بارے میں انتہائی غلط اندازہ قائم کیا تھا۔ نیٹو اپنی تاریخ میں سب سے زیادہ مضبوط، زیادہ طاقتور، زیادہ متحد اور اپنے مشترکہ محفوظ مستقبل کیلئے زیادہ پرعزم ہے یوکرین کیلئے ہماری حمایت اور مدد جاری رہے گی اور یہ یوکرین کیلئے ہماری مضبوط عزم کا اظہار ہے۔

    نیٹو سمٹ کے موقع پر یوکرینی صدر زیلنسکی سے ہونے والی ملاقات میں امریکی صدر کی جانب سے انہیں یقین دہانی کروائی گئی کہ روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین کی ضروریات کے تحت انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی امریکی صدر نے یوکرینی صدر کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ مجھے اس دن کا انتظار ہے جس دن ہم باضابطہ یوکرین کے نیٹو میں شمولیت کا جشن منائیں گے زیلنسکی کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ تمہارے لیے بری خبر یہ ہے کہ ہم کہیں نہیں جا رہے تم ہمارے پاس پھنس چکے ہو۔

    صدیاں ہیں فقط ایک ہی لمحے کی کہانی ، لمحہ جسے کھو دے وہ دوبارہ …

    دوسری جانب برطانیہ نے یوکرین کی جانب سے بار بار اسلحے کی درخواست پر حالت جنگ کا سامنا کرنے والے اپنے اتحادی ملک سے کہا ہے کہ ’ہم کوئی ایمازون، دنیا کی معروف ترین ای کامرس کمپنی، نہیں‘ ہیں برطانوی سیکرٹری دفاع بین والس نے ایک بیان میں کہا کہ مغربی امداد کے بدلے یوکرین کو ہمارا احسان مند ہونا چاہیے اور اس چیز کو سمجھنا چاہیے کہ ان کے اتحادی ممالک کے بھی اپنے اندرونی معاملات ہیں۔

    یوکرین کی جانب سے بار بار اسلحے کی درخواست پر سیکرٹری دفاع بین والس کا کہنا تھا کیف کو سمجھنا چاہیے کہ کیپیٹل ہل میں کچھ بڑبولے بیٹھے ہیاگر وہ واشنگٹن کو اسلحے کی شاپنگ لسٹ میں شامل کرتے ہیں توامریکی حکومت ایمازون کی برانچ کی طرح ہے، یوکرین کو اس چیز کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنے اتحادیوں سے اسلحے کے اسٹاک کا ذخیرہ مانگ رہا ہے، ہم کوئی ایمازون نہیں ہیں۔

    اقوام متحدہ میں قرآن پاک کی بےحرمتی کیخلاف پاکستان کی قرارداد منظور

    برطانیہ کے سیکرٹری دفاع بین والس کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا تھا ہم برطانوی عوام کے شکر گزار ہیں کیونکہ وہاں کے عوام نے ہمیشہ یوکرین کی حمایت کی، مجھے نہیں معلوم کہ بین والس کے حالیہ بیان کا کیا مطلب ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اس حوالے سے مجھے تحریری طور پر لکھیں اور بتائیں کہ وہ کس طرح سے ہمیں اپنا احسان مند دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اس موقع پر یوکرین کے صدر نے ساتھ بیٹھے وزیر دفاع سے پوچھا کہ کیا تمھارے برطانوی سیکرٹری دفاع کے ساتھ کوئی مسائل ہیں، کیا آپ نے کبھی کہا کہ آپ ان کے شکر گزار ہیں، آپ کو بین والس کو آج ہی فون کرنا چاہیےدوسری جانب برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے خود کو اپنے سیکرٹری دفاع بین والس کے بیان سے علیحدہ رکھتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی ہمیشہ شکر گزار رہے ہیں۔

    نیٹو کایوکرین کو اتحاد میں شمولیت کا دعوت نامہ اور ٹائم فریم دینے سے انکار