Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • امریکی صدر جوبائیڈن کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی

    امریکی صدر جوبائیڈن کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی

    واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی دے دی۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یوکرائن پر حملہ کیا تو بھاری قیمت اٹھانا پڑے گی انہوں نے کہا کہ یوکرائن پر حملے کی صورت میں روس کو تباہ کن معاشی نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

    اس سے قبل بھی امریکی صدر جوبائیڈن روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو قاتل قرار دے چکے ہیں ایک انٹرویو میں امریکی صدر جوبائیڈن سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ روسی صدر پیوٹن کو قاتل سمجھتے ہیں، جس پر انہوں نے جواب میں ہاں کہا اس موقع پرجوبائیڈن نے مزید کہا تھا کہ آپ دیکھیں گے ولادیمیر پیوٹن کو عنقریب قیمت چکانی پڑے گی۔

    امریکی مسافرطیاروں میں لڑائی معمول بن گئی:تازہ واقعہ میں مسافرکا ایئرمارشل اورفلائٹ اٹینڈنٹ پرحملہ

    قبل ازیں امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرائن کے ساتھ سرحد پر روس کی فوجی تشکیل پر کشیدگی کو کم کرنے کی جاری کوششوں کے درمیان اپنے یوکرائنی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی سے بات کی جمعرات کو بائیڈن اور زیلنسکی کی کال امریکی صدر کی ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ دو گھنٹے کی بات چیت کے چند دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں روسی رہنما پر زور دیا گیا ہے کہ وہ صورتحال کو کم کرنے یا سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔

    امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث 4 ممالک پر پابندیاں عائد کر دیں

    زیلنسکی نے جمعرات کی سہ پہر ٹویٹر پر لکھا کہ”ریاستہائے متحدہ کے صدر نے مجھے پیوٹن کے ساتھ اپنی بات چیت سے آگاہ کیا یوکرائن کے صدر نے مشرقی یوکرین کے علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ "ہم نے ڈونباس میں تنازعہ کو حل کرنے کے لیے ممکنہ فارمیٹس پر بھی تبادلہ خیال کیا اور یوکرائن میں داخلی اصلاحات کے حوالے سے بات کی۔”

    یوکرائن نے کہا ہے کہ اس سال اب تک 94,000 روسی فوجی سرحد پر تعینیات ہو ئے ہیں جس سے بائیڈن انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے متعدد بار انتباہی پیغام جاری کئے گئے جو ماسکو کو کیو کے خلاف "اہم جارحانہ اقدام” کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔

    سعودی عرب میں کنسرٹ، سلمان خان کے رقص پر حاضرین خوش:عربی جھومنے لگے

    امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ پیوٹن جنوری کے اوائل میں 175,000 فوجیوں پر مشتمل ایک بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہو سکتے ہیں۔

    روس نے یوکرائن پر حملہ کرنے کے منصوبے کی تردید کی ہے، لیکن پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں امریکی فوجی ہارڈ ویئر کی کسی بھی توسیع کے ساتھ ساتھ نیٹو میں ملک کا داخلہ "سرخ لکیریں” ہیں جنہیں عبور نہیں کرنا چاہیے۔

  • دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملہ:امریکہ واتحادی جوابی حملےکے لیےتیار

    دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملہ:امریکہ واتحادی جوابی حملےکے لیےتیار

    واشنگٹن :دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملے کے لیے امریکہ واتحادی جواب کے لیےتیار،اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ مشرقی یورپ میں اپنی فوج کی موجودگی بڑھا دے گا اور روس کو اس کی جانب سے ’شدید اقتصادی نقصان‘ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یوکرین کے معاملے پر پچھلے 24 گھنٹوں سے صورت حال بڑی ہے اہمیت اختیار کرگئی ہے ، آج بھی وائٹ ہاوس اور پینٹا گان میں بڑی بڑے اہم اجلاس جاری ہیں‌ اس سلسلے میں‌ کل صحافیوں سے ایک پریس کال میں انتظامیہ کے سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو نیٹو کے مشرقی اتحادی اضافی فوجیوں اور صلاحیتوں کی درخواست کریں گے اور امریکہ فراہم کرے گا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ یوکرین پر روسی متوقع حملے کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس بھی ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ اگر روس یوکرین سے پیچھے نہیں ہٹتا، اس کی خودمختاری اور آزادی کے لیے خطرہ بنتا ہے تو ہم اور ہمارے اتحادی کارروائی کے لیے تیار ہوں گے۔‘ وائٹ ہاؤس کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آج یعنی منگل کو امریکی صدر جو بائیڈن روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان ویڈیو کال متوقع ہے۔

    ذرئع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ صدر بائیڈن صدر پوتن کو اس کال کے دوران خبردار کریں گے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو اسے سنگین اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہے ہیں جب یوکرین کی سرحد پر دسیوں ہزار فوجی جمع ہونے کے بعد امریکہ روس کو یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ادھر اس حوالے سے روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ اپنی ورچوئل ملاقات سے قبل بائیڈن نے پیر کو فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے رہنماؤں سے بھی بات کی، جس کے بعد مغربی طاقتوں نے اس ’عزم‘ کا اظہار کیا کہ یوکرین کی خودمختاری کا احترام کیا جائے گا۔

    ایک سینیئر امریکی عہدیدارنے دعویٰ‌کیا ہے کہ امریکی صدر اپنے یوکرینی ہم منصب ولادو میر زیلنسکی کو بھی فوری طور پر پوتن کے ساتھ اپنی بات چیت کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے، جو منگل کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہو رہی ہے، کیونکہ دسیوں ہزار روسی فوجی یوکرین کی سرحد کے قریب تعینات ہیں۔ مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو نہیں معلوم کہ آیا پوتن نے یوکرین کے خلاف اپنی فوجی دستوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے یا نہیں، تاہم وہ براہ راست امریکی مداخلت کی دھمکی دینے سے باز رہے۔

    اس امریکی عہدیدار نے بڑے وثوق سے کہا کہ اگر روس نے حملہ کیا تو امریکہ اور یورپی اتحادی سخت ’جوابی معاشی اقدامات‘ کرسکتے ہیں جو روسی معیشت کو اہم اور شدید اقتصادی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’اس کے علاوہ صدر بائیڈن یہ واضح کریں گے کہ اگر پوتن پیش قدمی کرتے ہیں تو مشرقی خطے کے اتحادیوں کی طرف سے اضافی افواج، دفاعی صلاحیتوں اور مشقوں کے لیے موجود درخواست پر امریکہ کی طرف سے مثبت جواب ملے گا۔

    وائٹ ہاؤس نے یورپی رہنماؤں کے ساتھ بائیڈن کی بات چیت کے بعد ایک بیان میں کہا کہ مکمل بات چیت میں روس سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈونباس میں تنازع کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔ یوکرین کے مطابق روس کی سرحد کے قریب ایک لاکھ کے قریب فوجی موجود ہیں۔

    دوسری جانب روس کسی بھی جنگی ارادے کی تردید کرتا ہے اور مغرب پر اشتعال انگیزی کا الزام لگاتا ہے، خاص طور پر بحیرہ اسود میں فوجی مشقوں کے ساتھ، جسے وہ اپنے اثر و رسوخ کے ایک حصے کے طور پر دیکھتا ہے۔ پوتن مغرب سے یہ وعدہ چاہتے ہیں کہ یوکرین نیٹو کا حصہ نہیں بنے گا، جو سابق سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا ٹرانس اٹلانٹک اتحاد ہے۔

    پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ وہ روسی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کو ایک سنگین خطرے کے طور پر لے رہا ہے۔ روس کے صدر کے دفتر نے پیر کو کہا تھا کہ ماسکو بائیڈن- پوتن کال سے کچھ زیادہ توقعات نہیں رکھتا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کے مطابق ہے کہ امریکہ اب بھی سمجھتا ہے کہ روس اور مغرب کے درمیان یوکرین کی روس نواز علیحدگی پسندوں کے ساتھ جنگ ​​بندی پر عمل درآمد سے متعلق منسلک معاہدے ممکن تھے۔

    ترجمان کی طرف سے یہ بھی کہاگیا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ اس مسئلے کو سفارتی طور پر حل کرنے کے لیے ہمارے سامنے ایک موقع، ایک آپشن موجود ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر روس اس میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتا تو امریکہ ’بھاری اثرات والے اقتصادی اقدامات کو لاگو کرنے کے لیے تیار ہے، جو ہم نے ماضی میں استعمال کرنے سے گریز کیا ہے۔‘

     

     

  • ٹھوس ثبوت ہیں  کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے:امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ

    ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے:امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ

    واشنگٹن :ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، امریکی انٹیلیجنس کا دعوی ،اطلاعات کے مطابق امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس یوکرائن پر ممکنہ روسی حملے کے شواہد موجود ہیں۔

    امریکی خفیہ اداروں نے گزشتہ روز روس کی جانب سے یوکرائن کے خلاف فوجی حملے کی منصوبہ بندی کا دعویٰ کیا تھا جو آئندہ برس کے اوائل میں ہو سکتا ہے۔

    اس حوالے سے امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ اس آپریشن میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ 75 ہزار روسی فوجی شامل ہو سکتے ہیں۔

    واشنگٹن پوسٹ نے امریکی انٹیلیجنس حکام سے جو دستاویزات حاصل کی ہیں اس میں روسی افواج کو چار مقامات پر جمع ہونے اور ٹینکوں کی آمد کے واضح شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ اس دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یوکرائن کی سرحد کے قریب فی الوقت روسی فوجیوں کی تعداد 94 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی اور روسی حکام کا کہنا ہے کہ معاملے پر بات کرنے کیلیے امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ملاقات کی کوشش کی جارہی ہے۔

    خارجہ امور کے روسی مشیر یوری اوشاکوف کا کہنا ہے کہ صدر پیوٹن مذاکرات کے دوران روس کی ان “سرخ لکیروں” کا اعادہ کریں گے جس میں بطور ضمانت وہ مطالبات شامل ہیں کہ نیٹو اپنی توسیع میں یوکرائن کو شامل نہیں کرے گا۔

    2014 میں کرائمیا کے الحاق اور یوکرائن کے مشرقی صنعتی علاقے ڈونباس میں علیحدگی پسندوں کی بغاوت کی حمایت کے بعد سے ہی روس اور یوکرائن کے درمیان تنازع چل رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس تنازعے میں اب تک 14 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔