Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • شہزادہ ولیم کا یوکرین اورپولینڈ کی سرحد کے قریب  اچانک دورہ

    شہزادہ ولیم کا یوکرین اورپولینڈ کی سرحد کے قریب اچانک دورہ

    پرنس آف ویلز اچانک یوکرینی سرحد کے قریب پولینڈ میں قائم برطانوی فوجی بیس کے خفیہ دورے پر پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی: ” بی بی سی” کے مطابق شہزادہ ولیم کے جنوب مشرقی پولینڈ میں ریززو کے دورے کو سیکیورٹی خدشات کے باعث اس وقت تک خفیہ رکھا گیا جب تک وہ وہاں سے روانہ نہیں ہوئے اور دارالحکومت وارسا پہنچ گئے۔

    یوکرینی سرحد کے قریب پولینڈ کے علاقے ژیشوف میں برطانوی فوجی بیس کے خفیہ دورے کے موقع پرشہزادہ ولیم نے برطانوی فوجیوں سے بھی ملاقات کی، دورے کے موقعے پر علاقے میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے انہوں نے برطانوی فوجیوں سے کہا کہ آپ یہاں واقعی ایک اہم کام کر رہے ہیں اور ہماری آزادیوں کا دفاع کرنا واقعی اہم ہے، اور گھر واپس آنے والا ہر شخص آپ کی بھرپور حمایت کرتا ہےآپ سب کا شکریہ جو آپ یہاں کر رہے ہیں۔

    ژیشوف یوکرائن کی سرحد سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے جہاں برطانیہ کی جانب سے یوکرین کی مدد کیلئے فوجی بیس قائم کیا گیا ہے شہزادہ ولیم کی جانب سے برطانوی حکومت کی گزارش پر دورہ کیا گیا تھا تاہم وہ یوکرین پر روسی حملے کے معاملے پر یوکرین کی حمایت کیلئے واضح موقف رکھتے ہیں روس کے حملےکے چند دن بعد ہی یوکرین کے لیے اپنی حمایت کا ٹویٹ کر رہے ہیں ان کا پولینڈ کا دورہ اس حمایت کی تجدید کا اظہار ہے۔

    شہزادہ ولیم نے ژیشوف کے فوجی بیس سے واپسی پر وارسوا میں یوکرینی مہاجرین کے مرکز کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے 300 پناہ گزین عورتوں اور بچوں سے ملاقات کی اس موقعے پر ان کا کہنا تھا کہ "پولینڈ میں واپس آنا بہت اچھا ہے ہمارے یوکرین کے ساتھ بہت مضبوط تعلقات ہیں، اور ہم یوکرین کے لوگوں کی آزادی کیلئے اپنی حمایت اور تعاون برقرار رکھیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ میرے دورے کا مقصد پولینڈ اور برطانوی افواج کا ان نازک حالات کے دوران جاری پارٹنرشپ پر شکریہ ادا کر سکوں اور یوکرین کے مہاجرین کیلئے اپنے دلوں اور گھروں کے دروازے کھولنے پر پولینڈ کے عوام کی انسان دوستی کو خراج تحسین پیش کرسکوں۔

    شہزادہ میزبان خاندانوں سے بھی بات کی جنہوں نے یوکرائنی پناہ گزینوں کو رہائش فراہم کرنے میں مدد کی ہے اور ان کے اور ان کے اہل خانہ سے ان کے گھر کھولنے اور ان کی ہمدردی پر اظہار تشکر کیا ہے-

    اپنے دو روزہ دورے کے موقع پر شہزادہ ولیم صدارتی محل میں پولینڈ کے صدر آندریج ڈوڈ سے بھی ملاقات کریں گے،وہ نامعلوم فوجیوں کے مقبرے پر بھی پھولوں کی چادر چڑھائیں گے، یہ یادگار پولش فوجیوں کے لیے وقف ہے جنہوں نے تنازعات میں اپنی جانیں گنوائیں۔

  • برطانیہ کا یوکرین کو یورینیم پر مشتمل گولہ بارود دینے کا منصوبہ ،روس کا شدید ردعمل

    برطانیہ کا یوکرین کو یورینیم پر مشتمل گولہ بارود دینے کا منصوبہ ،روس کا شدید ردعمل

    برطانیہ کی جانب یوکرین کو یورینیم پر مشتمل گولہ بارود دینے کے منصوبے پر روس کا شدید رد عمل سمنے آیا ہے-

    باغی ٹی وی: "الجزیرہ” کے مطابق برطانیہ کے یوکرین کوگولہ بارود دینےکے منصوبے پر روس کا ردعمل سامنے آیا ہے جس میں روس نے خبردار کیا ہے کہ برطانوی اقدام مزید کشیدگی کا سبب بنےگا، اس سے پہلے صدرپیوٹن بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم برطانوی اقدام کاجواب دینے پر مجبورہوں گے۔

    امریکی مرکزی بینک نے شرح سود میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا

    پیوٹن نے منگل کے روز برطانیہ کی وزیر مملکت برائے دفاع، اینابیل گولڈی کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ختم شدہ یورینیم پر مشتمل گولہ بارود چیلنجر 2 جنگی ٹینکوں کے ساتھ یوکرین کو بھیجے جانے والے فوجی امدادی پیکج کا حصہ تھا۔

    پیوٹن نے کریملن میں چین کے رہنما شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ برطانیہ نے نہ صرف یوکرین کو ٹینکوں کی فراہمی بلکہ یورینیم کا گولہ بارود دینے کا بھی اعلان کیا اگر ایسا ہوتا ہے تو، روس ردعمل دینے پر مجبور ہو جائے گا، اگر یہ سب کچھ ہوتا ہے تو، روس کو اس کے مطابق جواب دینا پڑے گا، یہ دیکھتے ہوئے کہ مغرب اجتماعی طور پر پہلے ہی جوہری پرزے کے ساتھ ہتھیاروں کا استعمال شروع کر رہا ہے-

    بی بی سی کے مطابق برطانیہ نے تصدیق کی کہ وہ کیف کو چیلنجر 2 ٹینک کے ساتھ ساتھ بکتر چھیدنے والے راؤنڈ فراہم کرے گا یہ بھی واضح کیا کہ ان میں تابکاری کا خطرہ کم ہے ختم شدہ یورینیم "ایک معیاری جزو ہے اور اس کا جوہری ہتھیاروں سے کوئی تعلق نہیں ہے برطانوی فوج نے کئی دہائیوں سے اپنے ہتھیاروں کو چھیدنے والے گولوں میں ختم شدہ یورینیم کا استعمال کیا ہے۔

    سری لنکا کو آئی ایم ایف پیکج کی پہلی قسط موصول

    وزارت دفاع نے کہا کہ روس یہ جانتا ہے، لیکن جان بوجھ کر غلط معلومات دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ رائل سوسائٹی جیسے گروپوں کے سائنسدانوں کی آزادانہ تحقیق نے اندازہ لگایا ہے کہ یورینیم کے ختم ہونے والے گولہ بارود کے استعمال سے ذاتی صحت اور ماحول پر کوئی اثر پڑنے کا امکان کم ہے۔

    دوسری جانب امریکا نے روسی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا ہےکہ برطانوی اسلحہ تابکار نہیں، اس کا ایٹمی ہتھیاروں سے دور دورکا تعلق نہیں امریکا کا کہنا تھا کہ یہ روایتی ٹینک شکن اسلحہ ہے، روس کواتنی ہی فکر ہے تو اپنی سرحدوں میں واپس چلاجائے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ گرفتاری اور فرد جرم عائد ہونے کا امکان، پولیس ہائی …

  • یوکرین تنازع کے حل کیلئے چین کی تجاویزپرامریکا کا ردعمل

    یوکرین تنازع کے حل کیلئے چین کی تجاویزپرامریکا کا ردعمل

    واشنگٹن: امریکا نے چین کی پیش کردہ روس یوکرین امن تجاویز پر شکوک و شبہات کا اظہار کردیا-

    باغی ٹی وی :غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز چین کے صدر شی جن پنگ روس کے اہم دورے پر ماسکو پہنچے،انہوں نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے 4 گھنٹے طویل غیر رسمی ملاقات کی۔

    ملاقات میں چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ روس اور چین کے تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات رہنے چاہییں۔

    چینی صدر روس کے دورے پر ماسکو پہنچ گئے


    دوسری جانب روسی صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ یوکرین تنازع کے حل کے لیے چین کی تجاویز قابل احترام ہیں، روس امن بات چیت کے لیے ہمیشہ سے تیار ہے وہ چینی صدر کے ماسکو کے دورے کے دوران یوکرین کے شدید بحران کو حل کرنے کے لیے شی جن پنگ کے 12 نکاتی منصوبے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    علاوہ ازیں یوکرین نے چینی صدر شی جن پنگ کے ماسکو پہنچنے پر چین سے روس پر دباؤ ڈال کر یوکرین میں جنگ رکوانے کا مطالبہ کیا۔ ترجمان یوکرینی وزارت خارجہ اولیگ نیکولینکو کا کہنا ہے کہ یوکرین چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ روس کا بغور مشاہدہ کر رہا ہے، توقع ہے کہ چین یوکرین جنگ ختم کرانے کیلئے روس پر دباؤ ڈالے گا یوکرین امن کے قیام کیلئے چین کے ساتھ اقوام متحدہ کے چارٹر اور جنرل اسمبلی کی تازہ ترین قرارداد کے مطابق بات چیت کو تیار ہے امن کیلئے یوکرین کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہوئے روسی افواج کا مکمل انخلا ضروری ہے۔

    چینی صدراگلے ہفتے سرکاری دورے پر روس روانہ ہوں گے

    دوسری جانب امریکا نے چین کی پیش کردہ روس یوکرین امن تجاویز پر شکوک و شبہات کا اظہار کردیا امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ کوئی بھی منصوبہ جو غیر منصفانہ نتائج دے،تعمیری سفارت کاری نہیں ،یہ بات شکوک پیدا کرتی ہے کہ چین یوکرین کی خود مختاری،علاقائی سالمیت کا تحفظ کر رہا ہے یوکرین سے روسی افواج کے انخلا کے بغیر جنگ بندی روسی فتح کی توثیق کی حمایت ہوگی۔

    بلنکن نے کہا کہ دُنیا کو روس کی طرف سے چین یا کسی دوسرے ملک کی حمایت سے، جنگ کو اپنی شرائط پر منجمد کرنے کے لیے کسی بھی حکمت عملی کے فیصلے سے بے وقوف نہیں بنایا جانا چاہیے،یہ دورہ ظاہر کرتا ہے کہ چین روس کو یوکرین میں کیے جانے والے جنگی جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے بجائے اسے سفارتی تحفظ فراہم کررہا ہے اگر چین واقعی جنگ روکنے کے لیے پرعزم ہے تو اسے یوکرین سے دستبرداری کے لیے روس پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔

    انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے روسی صدر پیوٹن کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے

    انہوں نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ چین صدر شی کے دورے کے دوران اپنے اقدام کے حصے کے طور پر جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کرے گا، امریکہ امن کی حمایت کرنےوالی کسی بھی تجویز کا خیرمقدم کرتا ہےچینی اقدام میں وہ نکات شامل ہیں جن کی ہم نے حمایت کی جیسے کہ جوہری سلامتی اور انسانی بحران کا حل، لیکن کسی بھی تجویز کا بنیادی نکتہ یوکرین کا اتحاد اور خودمختاری کی ضمانت ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ چین نے گزشتہ ماہ روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ایک منصوبہ جاری کیا تھا ، چین کی امن تجاویز میں روس یوکرین امن بات چیت،علاقائی سالمیت کا احترام اور جنگ بندی شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ چینی صدر شی جن پنگ تین روزہ دورے پر ماسکو میں ہیں۔

    گرفتاری کا خدشہ،ڈونلڈ ٹرمپ نے کارکنوں کو احتجاج کی کال دے دی

  • روس کی یوکرین کے 11 صوبوں پر گولہ باری،ایک شہری ہلاک تین زخمی

    روس کی یوکرین کے 11 صوبوں پر گولہ باری،ایک شہری ہلاک تین زخمی

    روس کے یوکرین پر حملے جاری ، حملوں میں ایک یوکرینی شہری ہلاک اورتین زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: الجزیرہ کے مطابق یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہےکہ جمعے اورہفتے کی درمیانی شب 16 روسی ڈرون طیاروں نے دارالحکومت کیف اورمغربی شہر لوائیو کو نشانہ بنایا۔ ایئرفورس کمانڈ نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ 16 میں سے 11 ڈرون تباہ کردیئے گئے۔

    یوکرینی فضائیہ کے مطابق یہ حملے بحیرۂ آزوف اوریوکرینی سرحد کے ساتھ لگنے والے روسی صوبے بریانسک سے کیے گئے-

    ہفتے کی صبح یوکرینی فوج کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران روسی افواج نے 34 فضائی حملے کیے اورایک میزائل داغااس کے علاوہ طیارہ شکن ہتھیار بھی چلائے جنوبی صوبہ خیرسون میں روسی حملوں کے نتیجے میں سات گھراورایک اسکول تباہ ہوگیا۔

    صوبہ ڈونیسک کے گورنر نے کہا کہ جمعے کو روسی افواج نے گیارہ قصبوں پر گولہ باری کی جس کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

  • چینی صدراگلے ہفتے سرکاری دورے پر روس روانہ ہوں گے

    چینی صدراگلے ہفتے سرکاری دورے پر روس روانہ ہوں گے

    بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ اگلے ہفتے سرکاری دورے پر روس روانہ ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: عالمی میڈیا کے مطابق چینی صدر کا یہ فیصلہ پیوٹن کی جانب سے دی گئی دعوت اور چین کی امن ثالثی کی پیشکش کے بعد سامنے آیا ہے یہ دورہ امریکہ کے ساتھ تناؤ بڑھنے اور یوکرین میں جنگ کے دوسرے سال میں گرنے کے ساتھ ساتھ ممالک کی بڑھتی ہوئی قربت کو ظاہر کرے گا۔

    گرفتاری کا خدشہ،ڈونلڈ ٹرمپ نے کارکنوں کو احتجاج کی کال دے دی

    رپورٹ کے مطابق روسی ایوان صدر کریملن کے مطابق مذاکرات میں روس اور چین کے درمیان جامع شراکت داری اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید فروغ دینے کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جبکہ کئی اہم دو طرفہ دستاویزات پر بھی دستخط کیے جائیں گے۔

    چینی وزارت خارجہ نے جمعہ کو کہا کہ شی پیوٹن کی دعوت پر پیر سے بدھ تک ماسکو کا سرکاری دورہ کریں گے۔ حملے کے بعد یہ روس کا ان کا پہلا دورہ ہے، اور یہ اس وقت آیا ہے جب بیجنگ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے شکوک و شبہات کے باوجود تنازعہ میں خود کو ثالث کے طور پر کھڑا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    کریملن نے بھی اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت میں ممالک کی "جامع شراکت داری اور تزویراتی تعاون پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔” ایک بیان میں کہا گیا کہ متعدد "اہم دو طرفہ دستاویزات” پر بھی دستخط کیے جائیں گے۔

    بھارتی پولیس نے خالصتان کے حامی سکھ رہنما کو گرفتارکرلیا

    چینی وزارت خارجہ نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی کہ شی کے دورہ روس کے بعد یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ورچوئل ملاقات ہوگی، جن کے ساتھ چینی رہنما نے گزشتہ فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے سے بات نہیں کی تھی۔

    رپورٹس کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان وانگ وین بِن نے باقاعدہ بریفنگ میں کہا کہ "ہم تمام فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔”

    شی کا ماسکو دورہ ایسے وقت میں آیا ہے جب چین اور روس دونوں کے ساتھ امریکہ کے تعلقات مسلسل خراب ہو رہے ہیں۔

    جمعرات کو، امریکی فوج نے ایک نئی ڈی کلاسیفائیڈ ویڈیو جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ ایک روسی لڑاکا طیارہ بحیرہ اسود کے اوپر ایک امریکی ڈرون سے ہراساں اور ٹکرا رہا ہے،اس جارحیت کےبارے میں امریکی حکام نے بتایا کہ کریملن کی قیادت نے اس کی منظوری دی تھی۔

    انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے روسی صدر پیوٹن کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے

    چین اور روس نے فروری 2022 میں یوکرین حملے سے چند ہفتے قبل، بیجنگ سرمائی اولمپکس کےافتتاح کےموقع پر "کوئی حد نہیں” کے منشور پر شراکت داری کی تھی جس کے بعد سے دونوں فریقین اپنے تعلقات مزید مضبوط کرنے کی طرف گامزن ہیں۔

    یوکرین حملے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا ہے چین روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، جو ماسکو کی آمدنی کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے تاہم حالیہ ہفتوں میں چین، روس اور یوکرین کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

    24 فروری کو چین نے روس یوکرین جنگ پر 12 نکاتی پوزیشن پیپر جاری کیا ، جس میں اس نے جنگ بندی اور دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا مطالبہ کیا۔جمعرات کویوکرینی ہم منصب کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگومیں چین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ 1 سال سے جاری تنازعہ بےقابو ہونے کا خدشہ ہے۔ وزیر خارجہ نے یوکرینی ہم منصب کو ماسکو کے ساتھ سیاسی حل کیلئے بات چیت پر زور دیا۔

    متنازع پنشن اصلاحات، پیرس میدان جنگ بن گیا

  • یوکرین کے قریب امریکی ڈرونز کی جاسوس سرگرمیوں میں اضافہ تنازع کا باعث بنیں گی،روس

    یوکرین کے قریب امریکی ڈرونز کی جاسوس سرگرمیوں میں اضافہ تنازع کا باعث بنیں گی،روس

    14 مارچ کو بحیرہ اسود پر پرواز کے دوران روسی جنگی طیارہ ٹکرانے سے امریکی ڈرون مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔

    باغی ٹی وی: تاہم اب اس حوالے سے روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگوف نے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا،یہ اکتوبر 2022 کے بعد روس اور امریکا کے وزرائے دفاع کے درمیان پہلا رابطہ تھا۔

    چینی کمپنی پاکستان میں دو ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گی

    رابطے میں کہا کہ یوکرین کے قریب امریکی ڈرونز کی جاسوس سرگرمیوں میں اضافہ تنازع کا باعث بنیں گی اورروس کی جانب سےاس طرح کے انٹیلی جنس آپریشنز پر مناسب ردعمل ظاہر کیا جائے گا۔

    بیان کے مطابق روسی وزیر دفاع نے کہا کہ کریمیا کے ساحلی علاقوں کے قریب امریکی جنگی ڈرونز کی پروازیں اشتعال انگیز ہیں جس سے بحیرہ اسود کے خطے میں صورتحال بگڑ سکتی ہے-

    سرگئی شوئیگوف نے کہا کہ روس کا حالات خراب کرنے میں کوئی مفاد نہیں مگر ہر قسم کی اشتعال انگیزی کا مناسب جواب دیا جائے گا، روسی مفادات کے خلاف انٹیلی جنس سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اورماسکو کی جانب سےجن فضائی علاقوں میں پروازوں پر پابندی لگائی گئی ہے، اس کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

    ترکی کے زلزلہ زدہ علاقے میں شدید سیلاب کے باعث متعدد افراد ہلاک

    دوسری جانب امریکی وزیر دفاع نے پریس بریفننگ کے دوران بتایا کہ ہم ہر قسم کے ٹکراؤ کو بہت سنجیدہ لیں گے اور یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے رابطے بہت اہم ہیں اس طرح کے رابطوں سے کسی قسم کی غلط فہمی کی روک تھام میں مدد ملے گی-

    واضح رہے کہ امریکی ڈرون کی تباہی فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان پیش آنے والا پہلا فوجی واقعہ ہےامریکی ڈرون کا ملبہ کریمیا کے قریب گرا تھا اور امریکا کی جانب سے اس کے حصول کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    سعودی عرب کا ایران میں جلد بڑی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ

  • ایران روس سے 35 لڑاکا طیارے خریدے گا

    ایران روس سے 35 لڑاکا طیارے خریدے گا

    ایران نے روس سے سخوئی ایس یو 35 لڑاکا طیارے خرید کرنے کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق پابندیوں کا شکارایران کی فضائیہ کے پاس اس وقت طیاروں کا ایک پرانابیڑاہے اور وہ اپنے جنگی طیاروں کوفضا میں رکھنے کے لیے فاضل پرزہ جات کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

    دبئی مسلسل تیسرے سال دنیا کا صاف ترین شہر قرار

    اقوام متحدہ کودیئے گئے ایک بیان میں تہران نے کہا ہے کہ اس نے1980-88 کی ایران عراق جنگ کے تناظرمیں اپنے بیڑے کومکمل کرنے کے لیے لڑاکا طیارے خریدکرنے کے لیے دوسرے ممالک’ سے رابطے شروع کردیئے تھے۔

    ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی’ایرنا‘کی جانب سے جمعہ کوجاری کردہ بیان میں کہاگیا ہے کہ روس نے اکتوبر2020 میں اقوام متحدہ کی قرارداد2231 کے تحت ایران پرروایتی ہتھیاروں کی خریداری پر عائد پابندیوں کی مدت ختم ہونے کے بعدانھیں فروخت کرنے پرآمادگی کا اعلان کیا تھا سخوئی 35 لڑاکا طیارے تکنیکی طورپرایران کے لیے قابل قبول ہیں-

    سعودی پرچم ڈیزائن کرنے والے معروف خطاط انتقال کر گئے

    یوکرین نے تہران پرالزام عائد کیا ہے کہ اس نے گذشتہ سال فروری میں یوکرین پرروس کے حملے کے بعدسے شہری اہداف پر حملوں میں استعمال ہونے والے شہداء-136 "کامیکاز” ڈرون مہیّا کیے ہیں۔

    امریکانےایران اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعاون پرتشویش کااظہار کیا ہے اور پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے دسمبرمیں خبردار کیا تھا کہ روس ایران کو اپنے لڑاکا طیارے فروخت کر سکتا ہے۔

    اس وقت ایران کے پاس زیادہ ترروسی مِگ اور سخوئی لڑاکا طیارے ہیں۔یہ سوویت دور کے ہیں اور ساتھ ہی کچھ چینی ساختہ طیارے بھی ہیں۔ان میں ایف 7 بھی شامل ہے۔1979ء کےانقلاب سے پہلے کے کچھ امریکی ایف -4 اورایف -5 لڑاکا طیارے بھی اس کے بیڑے کا حصہ ہیں۔

    تُونس کے صدر کا شام کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا ارادہ

  • تنہا روس ہی یوکرین جنگ کا ذمہ دار نہیں بلکہ کئی اور سامراجی قوتوں کےمقاصد کا بھی عمل دخل ہے،پوپ فرانسس

    تنہا روس ہی یوکرین جنگ کا ذمہ دار نہیں بلکہ کئی اور سامراجی قوتوں کےمقاصد کا بھی عمل دخل ہے،پوپ فرانسس

    رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ اور کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ وہ تنہا روس کو یوکرین جنگ کی آگ بھڑکانے کا ذمہ دار نہیں سمجھتے-

    باغی ٹی وی:”روئٹرز” کے مطابق 86 سالہ پوپ فرانسس نے کہا کہ یوکرین میں سامراجی قوتوں نے اپنے مقاصد کیلئے جنگ کی آگ بھڑکائی ہے اور اس کے پیچھے تنہا ’روسی ایمپائر‘ کے سامراجی مقاصد نہیں ہیں بلکہ اس کے پیچھے کہیں اور کی سامراجی’ایمپائرز‘ کے بھی مقاصد چھپے ہوئے ہیں۔

    امریکی بندرگاہوں میں دیوہیکل چینی کرینیں جاسوسی کے ٹولز ہیں، پینٹاگون

    انہوں نے کہا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے یوکرین جنگ کے خاتمے اور قیام امن کیلئے بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ بہت تھک گئے اور رومن کیتھولک چرچ کی حکومت کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے پچھلے مہینے، انہوں نے کہا تھا کہ پوپ کے استعفے صرف غیر معمولی حالات میں ہونے چاہئیں۔

    6 ملکی خارجہ اجلاس:مغربی ممالک پرافغانستان کے منجمد فنڈزبحال کرنے کا مطالبہ

    پوپ فرانسز 2013 میں رومن کیتھولک چرچ کے سابق سربراہ پوپ بینی ڈکٹ کے استعفیٰ کے بعد رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ اور کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا منتخب ہوئے تھے پوپ بینی ڈکٹ 2013 میں مستعفی ہونے کے بعد تقریباً 600 سالوں میں مستعفی ہونے والے پہلے پوپ بن گئے۔

    ٹوئٹر کے دفتر میں محافظ ہروقت یہاں تک کہ باتھ روم میں بھی ایلون مسک …

  • سعودی عرب کا یوکرین کیلئے 40 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان

    سعودی عرب کا یوکرین کیلئے 40 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان

    ریاض: سعودی عرب کی جانب سے یوکرین کو انسانی بنیادوں پر 40 کروڑ ڈالر کی امداد دی جائے گی۔

    باغی ٹی وی: سعودی عرب نے یوکرین کے ساتھ ایک معاہدے اور مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دست خط کیے ہیں، جس کے تحت سعودی عرب جنگ زدہ ملک کو انسانی امداد کے طورپر40 کروڑڈالرنقدی یا مصنوعات کی شکل میں مہیّا کرے گا۔

    دونوں ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ اور سمجھوتا اتوارکوسعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے یوکرینی دارالحکومت کیف کے دورے کے موقع پر طے پایا ہے ان کی قیادت میں سعودی وفد نے یوکرین کے صدرولودی میرزیلنسکی سے کیف میں ان کی صدارتی رہائش گاہ پرملاقات کی۔

    سعودی میڈیا کے مطابق شہزادہ فیصل بن فرحان نے ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امورکے علاوہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مواقع پرتبادلہ خیال کیا۔

    سعودی میڈیا کا کہنا ہےکہ سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کا مقصد یوکرین کے بحران کوپُرامن طریقے سے حل کرنا اور یوکرین اور اس کے عوام کوجنگ کے سماجی اور معاشی منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے مدد مہیاکرنا ہے۔

    دست خط شدہ مفاہمت کی یادداشت کے مطابق سعودی فنڈ برائے ترقی یوکرین کی 30 کروڑ ڈالر مالیت کی تیل کی مصنوعات کی شکل میں مالی اعانت کرے گا اور اس پر فنڈ کے چیف ایگزیکٹو سلطان عبدالرحمٰن المرشد نے دست خط کیے تھے۔

    اس امدادی پیکج کا اعلان سب سے پہلے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ سال اکتوبر میں یوکرین کے صدر سے فون پر بات چیت کے بعد کیا تھا۔ولی عہد نے کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت اور تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے پرآمادگی کا اظہار کیا تھا۔

  • امریکی صدرکا یوکرین کاغیراعلانیہ دورہ،500 بلین ڈالرفوجی امداد کا اعلان

    امریکی صدرکا یوکرین کاغیراعلانیہ دورہ،500 بلین ڈالرفوجی امداد کا اعلان

    امریکی صدر جوبائیڈن پیر کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیف کے غیر اعلانیہ دورے پر پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی :کیف میں،بائیڈن نے یوکرین کے صدارتی محل میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ساتھ خاتون اول اولینا زیلنسکا سے ملاقات کی۔ امریکی صدر روس کے یوکرین پر حملے کی پہلی برسی سے چند دن قبل کیف پہنچے-

    یوکرین پر روس کے حملےکے بعد امریکی صدرکا یہ پہلا دورہ یوکرین ہے امریکی صدر کے دورے کے موقع پر کیف میں فضائی بمباری کے سائرن بھی بجے تاہم خبر ایجنسی کا کہنا ہےکہ کیف میں روسی میزائل یا بمباری کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق بائیڈن نے یوکرینی صدارتی محل میں صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی اور اپنی حمایت کا یقین دلایا صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو پیوٹن کا خیال تھا کہ یوکرین کمزور ہے اور مغرب تقسیم کا شکار ہے اس لیے ہمیں ختم کیا جاسکتا ہے مگر وہ انتہائی غلطی پر تھے۔

    زیلنسکی کے ساتھ مشترکہ ریمارکس میں، بائیڈن نے یوکرین کے لیے500 بلین ڈالر کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پیکج میں مزید فوجی سازوسامان شامل ہوں گے، جن میں توپ خانے کے گولہ بارود، مزید جیولن اور ہووٹزر شامل ہیں۔

    جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ یوکرین کو دی جانے والی نئی فوجی امداد میں لائٹ ملٹی پل راکٹ لانچر بھی شامل ہیں۔

    تبصرے میں، بائیڈن نے یوکرائنی مزاحمت کی لچک کے بارے میں بات کی کیونکہ جنگ اپنے دوسرے سال میں داخل ہو رہی ہے بائیڈن نے کہا کہ ایک سال بعد، کیف کھڑا ہے۔ اور یوکرین کھڑا ہے جمہوریت کھڑی ہے۔

    زیلنسکی نے مزید کہا کہ اس نے اور بائیڈن نے "طویل فاصلے کے ہتھیاروں اور ان ہتھیاروں کے بارے میں بات کی جو یوکرین کو اب بھی فراہم کیے جاسکتے ہیں حالانکہ پہلے اس کی فراہمی نہیں کی گئی تھی۔”

    بائیڈن کا دورہ 12 ماہ کے تنازعے کے ایک نازک لمحے پر آیا ہے، جب روس متوقع موسم بہار کے حملے کی تیاری کر رہا ہے اور یوکرین جلد ہی علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کی امید کر رہا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک جنگ کی رفتار کو تبدیل کرنے کی امید میں یوکرین کو اسلحہ، ٹینک اور گولہ بارود پہنچا رہے ہیں۔

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں پر بات ہوئی ہے، جوبائیڈن کا دورہ یوکرین کے شہریوں کے لیے حمایت کی اہم علامت ہے۔

    زیلنسکی نے خود دسمبر میں اوول آفس میں بائیڈن سے ملنے اور کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے لیے واشنگٹن کا سفر کیا جنگ شروع ہونے کے بعد سے یوکرین سے باہر ان کا پہلا دورہ تھا-

    یوکرین کے رہنما نے ماہ قبل بائیڈن کو کیف کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ امریکی رہنما کے لیے صورتحال کو قریب سے دیکھنا ضروری ہے۔