Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • ایٹمی بجلی گھر پر یوکرین کی گولہ باری کا نتیجہ خوفناک ثابت ہوسکتا ہے: روس

    ایٹمی بجلی گھر پر یوکرین کی گولہ باری کا نتیجہ خوفناک ثابت ہوسکتا ہے: روس

    ماسکو:روس نے کہا ہے کہ یوکرین زاپو روژیا ایٹمی بجلی گھر پر گولہ باری کرکے یورپ کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخا رووا نے کہا ہے کہ کیف نہ صرف روسی عوام کو نشانہ بنا رہا ہے بلکہ خود یوکرین بھی اس کا ٹارگیٹ بن گیا ہے۔

    ملک بھر میں 9 محرم کے جلوس: موبائل سروس بند، سکیورٹی کے سخت انتظامات

    زاخارووا نے کہا کہ دراصل یوکرین کی قیادت نے پورے یورپ کو یرغمال بنایا ہے اور اپنے نسل پرستانہ نازی اہداف تک پہنچنے کے لئے اس ایٹمی بجلی گھر کو آگ لگانے پر تلا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین ان ری ایکٹروں اور ایٹمی ایندھن کے ذخیروں پر گولہ باری کر رہا ہے جہاں پر سرگرمیاں جاری ہیں۔

     

    یوکرین کا روس پر ایک بار پھر جوہری پلانٹ پر گولہ باری کا الزام

    کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے بھی زور دیکر کہا ہے کہ ماسکو کا ان ممالک سے جو یوکرین کی قیادت پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں، مطالبہ ہے کہ کیف پر دباؤ ڈال کر ایسے واقعات کو روکنے کی کوشش کریں ۔ انہوں نے زاپوروژیا ایٹمی بجلی گھر پر گولہ باری کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے انتباہ دیا کہ کسی حادثے کی صورت میں یورپ کے وسیع حصے میں تباہی آسکتی ہے۔

    ویانا مذاکرات کامقصد ایران کےساتھ معاہدے کوبحال کرنا اور پابندیاں ہٹانا ہے:روس

    دریں اثنا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوترس نے یوکرین کے ایٹمی بجلی گھر پر گولہ باری کو خودکشی کے مترادف قرار دیا ہے۔ انہوں نے یوکرین کی جنگ کی طوالت کی جانب سے بھی پریشانی ظاہر کی ہے۔

  • یوکرین کی برہمی پرایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار افسوس

    یوکرین کی برہمی پرایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار افسوس

    لندن : ایمنسٹی انٹر نیشنل نے یوکرینی فوج کی جانب سے غیر فوجیوں کو انسانی ڈھال بنانے پر مبنی اپنی رپورٹ پر یوکرین کے رد عمل پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اعلان کیا ہے کہ اسے یوکرینی فوج کی جانب سے غیر فوجیوں کو انسانی ڈھال بنانے پر مبنی اپنی رپورٹ پر یوکرین کے رد عمل پر گہرا افسوس ہے۔

    یاد رہے کہ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یوکرینی فوج کی جانب سے اختیار کی جانے والی جنگی حکمت عملی انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور عام شہریوں کے لئے نہایت خطرناک ہے۔ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ میں آیا ہے کہ یوکرینی فوجی، رہائشی علاق

    یوکرین کا روس پر ایک بار پھر جوہری پلانٹ پر گولہ باری کا الزام

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنس کالامارڈ نے کہا ہے کہ یوکرینی فوج کی جانب سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہونے اور عام شہریوں کے لئے نہایت خطرناک ہونے کی دستاویزات بھی موجود ہیں ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ یوکرینی صدر زیلنسکی نے ایمنسٹی انٹر نیشنل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حکومت روس کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    دوسری جانب فنلینڈ کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کی جنگ سے یورپ کو اقتصادی جمود کا سامنا کرنا پڑے گا۔تاس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فنلینڈ کے صدر ساؤلی نینیستو نے اتوار کی رات کہا کہ فنلینڈ کے عوام اور یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کو اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ اس صورت حال میں معاشی ترقی نہیں ہو گی اور اس سے یورپ کے اتحاد پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

    یوکرین میں 80 غیرملکی جنگجو اور 470 یوکرینی فوجی ہلاک

    انھوں نے کہا کہ ترقی کا اچانک رک جانا بہت سے مسائل و مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ابھی سے یوکرین کے جنگ کے منفی نتائج پر توجہ دی جائے اس لئے کہ روس اور یورپ کے تعلقات اور خاص طور سے روس اور فنلینڈ کے تعلقات کا دارومدار یوکرین جنگ کے نتائج پر ہے۔

    روس کےخلاف لڑائی کےلیےامریکہ کی یوکرین کو550 ملین ڈالرزکی تازہ امداد

    یورپی یونین نے جنگ یوکرین کی بنا پر روس پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی غرض سے‎ امریکہ کے ساتھ مل کر شدید ترین پابندیاں عائد کی ہیں جس کے جواب میں روس نے بھی کچھ اقدامات کئے ہیں جن میں یورپ کے لئے گیس کی سپلائی روک دینا بھی شامل ہے۔ روس کی اس پابندی سے یورپ میں توانائی کا بحران پیدا ہو گیا ہے اور گیس کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی ہے جبکہ تیل کی قیمت بھی دوگنا ہو گئی ہے جس سے یورپی عوام کے لئے اخراجات پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ یورپی ملکوں میں معاشی بحران مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ چنانچہ مغرب کو اس وقت ایک المناک اقتصادی صورت حال کا سامنا ہے جس سے نمٹنا پورے یورپ کے لئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

  • ایٹمی جنگ کےبادل منڈلا رہے ہیں،کسی بھی وقت کُچھ ہوسکتا ہے: سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

    ایٹمی جنگ کےبادل منڈلا رہے ہیں،کسی بھی وقت کُچھ ہوسکتا ہے: سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

    کیف:ایٹمی جنگ کےبادل منڈلا رہے ہیں،کسی بھی وقت کُچھ ہوسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ کئی عشروں کے بعد ایٹی جنگ کا خطرہ پھر منڈلا رہا ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ملکوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ جنگ میں پہل نہ کرنے کے اپنے وعدے پر عمل کرتے رہیں۔

    رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوترش نے ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ملکوں کے درمیان جنگ کا خطرہ بڑھنے پر سخت خبردار کیا ہے۔

    انھوں نے یوکرین میں زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر پر حملے کے بارے میں جو یورپ کا سب سے بڑا ایٹمی بجلی گھر شمار ہوتا ہے، ایک نامہ نگار کے سوال کے جواب میں کہا کہ ایٹمی بجلی گھر پر حملہ خودکشی کے مترادف ہے۔

    دریں اثنا روس نے یوکرین میں اس ملک کی فوج کی جانب سے زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر پر حملے پر ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے دفاعی اور کمزور ردعمل پر کڑی تنقید کی ہے۔

    امریکہ میں روس کے سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور آئی اے ای اے سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ کیف کے مجرمانہ اقدامات کی مذمت کرے اور ایٹمی بجلی گھر پر یوکرینی فوج کے حملے کے اثرات روکنے کے لئے فوری طور پر موثر اقدامات عمل میں لائیں۔

    روس کے سفارت خانے کے بیان میں امریکی نامہ نگاروں اور صحافیوں س

    یوکرین کا روس پر ایک بار پھر جوہری پلانٹ پر گولہ باری کا الزام

    ے بھی مطالبہ ہوا ہے کہ وہ جعلی خبروں سے روس سے ہراساں کرانے کی کوششوں سے باز آجائیں۔

    ژاپروژیا علاقے کے سربراہ یوگنی بالیتسکی نے بھی کہا ہے کہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی یوکرین میں اس ملک کی فوج کی جانب سے زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر پر حملے سے مکمل طور پر باخبر ہے مگر اس نے اس قسم کے حملے اور اس کے نتائج کو روکنے کے لئے اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔

    امریکہ میں روس کے سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ اس ایٹمی بجلی گھر پر حملے کے تعلق سے روس کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔

    خطے میں روسی غلبہ ختم کرنے کیلئےامریکی وزیر خارجہ کا تین مُلکی دورہ

    یہ ایسی حالت میں ہے کہ روسی وزارت دفاع نے زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر کے اطراف میں یوکرینی فوج کی گولہ باری کو عالمی قوانین اور ضابطوں کے تحت ایک دہشت گردانہ اقدام قرار دیا ہے۔

    ہنگری کےجنرل رومولس روسزین کی جنرل ندیم رضا سے اہم ملاقات

    روس کے نیشنل ڈیفنس کنٹرول سینٹر کے سربراہ میخائل میزنتسوف نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر میں رونما ہونے والا کوئی بھی حادثہ ،چرنوبل اور فوکو شیما کے واقعات سے زیادہ خطرناک نتائج پر منتج ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ ایسے کسی بھی حادثے کے نتائج پورے یوکرین، دونیسک اورلوہانسک کے علاوہ روس، بیلاروس، مولداویہ، بلغاریہ اور رومانیہ کو بھی تابکاری اثرات کی لپیٹ میں لے لیں گے۔

  • یوکرین میں 80 غیرملکی جنگجو اور 470 یوکرینی فوجی ہلاک

    یوکرین میں 80 غیرملکی جنگجو اور 470 یوکرینی فوجی ہلاک

    ماسکو:روس نے یوکرین میں فضائی حملوں کے دوران درجنوں غیرملکی جنگجوؤں اور یوکرینی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
    روسی وزارت دفاع کے مطابق، جنوب مشرقی یوکرین میں فضائی حملوں میں 80 سے زائد غیرملکی جنگجو اور 470 یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے۔ روسی وزیر دفاع نے انکشاف کیا کہ بہت سے غیرملکی جنگجو نامناسب تربیت اور جنگی تجربہ نہ رکھنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

    روس کےخلاف لڑائی کےلیےامریکہ کی یوکرین کو550 ملین ڈالرزکی تازہ امداد

    اپریل میں روسی فوج نے اندازہ لگایا تھا کہ یوکرین میں 7000غیرملکی فوجی موجود ہیں تاہم اب ان کی تعداد 3000 سے بھی کم رہ گئی ہے۔

    ادھر روس اور یوکرین کی جنگ کے تناظر میں ترک صدر طیب اردوغان اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری بار اہم ملاقات ہوئی، یہ ملاقات بحیرۂ اسود کے ساحل پر واقع روس کے سیاحتی شہر سوچی میں ہوئی۔

    روس یوکرین تنازعہ:توانائی بحران:یورپ کی سلامتی کوخطرات لاحق ہوگئے

    موصولہ رپورٹ کے مطابق، روس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے موجودہ علاقائی اورعالمی چیلنجز کے باوجود باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت میں اضافے سمیت اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا اور شام میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ کے عزم کا اعادہ کیا۔

    برطانیہ نے روس کے خلاف لڑنے کےلیے یوکرینی فوجیوں کواسکاٹ لینڈ میں ٹریننگ دینا شروع

    خیال رہے کہ ترکی کی ثالثی میں گزشتہ ماہ استنبول میں یوکرین، روس اور اقوام متحدہ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت بحیرۂ اسود کی بندرگاہوں کے ذریعے یوکرین سے اناج کی برآمدات بحال ہوئی تھی۔

  • روس نےیاری کاحق ادا کردیا:ہندوستان پرنوازشات ہی نوازشات

    روس نےیاری کاحق ادا کردیا:ہندوستان پرنوازشات ہی نوازشات

    ماسکو:روس نےیاری کاحق ادا کردیا:ہندوستان پرنوازشات ہی نوازشات ،اطلاعات کے مطابق روس نے تیل کی قیمت اپنے اوپیک اتحادی سعودی عرب کے مقابلے میں کم کر دی ہے۔ ہندوستانی حکومت کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اپریل سے جون کے دوران روسی بیرل سعودی کروڈ کے مقابلے سستے تھے۔ روس نے جون میں سعودی عرب کو پیچھے چھوڑ کر ہندوستان کو دوسرا سب سے بڑا سپلائی کیا۔

    روس، چین کو سستے داموں سب سے زیادہ خام تیل سپلائی کرنے والا ملک بن گیا

    ہندوستان اور چین روسی خام تیل کے رضامند صارف بن گئے ہیں کیونکہ روس-یوکرین جنگ کے بعد بیشتر دوسرے خریداروں نے روس سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔

    جنوبی ایشیائی ملک اپنی تیل کی ضروریات کا 85 فیصد درآمد کرتا ہے اور سستی سپلائی کچھ معاشی ریلیف فراہم کرتی ہے، کیونکہ ملک کو افراط زر اور تجارتی فرق کا سامنا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق،عالمی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایندھن کی مانگ میں اضافے کے بعد دوسری سہ ماہی میں ملک کا خام تیل کا درآمدی بل بڑھ کر 47.5 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔یہ پچھلے سال کی اسی مدت میں 25.1 بلین ڈالر کے مقابلے میں، جب قیمتیں اور حجم کم تھے۔

    یوکرین پر حملے کے بعد بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود انڈیا کو سب سے زیادہ تیل فروخت کرنے والے ممالک کی فہرست میں روس، سعودی کو پیچھے چھوڑ کر دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ عراق اب بھی پہلے نمبر پر ہے۔

    حکومت کاپٹرول اورڈیزل کی قیمت میں30روپےفی لٹراضافہ:عمران خان کی حکومت پرشدید تنقید

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روس سے رعایتی نرخوں پر تیل لینے والی انڈین ریفائنری نے مئی کے مہینے میں ہی 25 ملین بیرل تیل درآمد کیا جو کل درآمدات کا 16 فیصد ہے۔رواں سال اپریل میں سمندر کے ذریعے انڈیا میں خام تیل کی کل درآمدات میں روس کا حصہ پانچ فیصد رہا، جو کہ پچھلے پورے سال اور سنہ 2022 کی پہلی سہ ماہی میں ایک فیصد سے بھی کم تھا۔

    پاک آئل ریفائنریز کا روسی تیل خریدنے سے انکار

    دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک انڈیا، یوکرین پر حملے کے بعد روس پر عائد پابندیوں کے درمیان روس سے سستے نرخوں پر تیل خریدنے کے اپنے فیصلے کا مسلسل دفاع کر رہا ہے۔

  • روس کےخلاف لڑائی کےلیےامریکہ کی یوکرین کو550 ملین ڈالرزکی تازہ امداد

    روس کےخلاف لڑائی کےلیےامریکہ کی یوکرین کو550 ملین ڈالرزکی تازہ امداد

    واشنگٹن :امریکہ نے روس کے خلاف لڑنے کے لیے یوکرین کومزید 550 ملین ڈالرز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے امریکی صدر جو بائیڈن نےایک یادداشت پر دستخط کیے جس میں یوکرین کو امریکی فوجی امداد کی ایک اور ترسیل کی اجازت دی گئی، جس کی مالیت 550 ملین ڈالر ہے۔

    روسی صدر نے امریکا کو بڑا دشمن قرار دے دیا

    امریکی صدر جوبائیڈن کی طرف سے ایک میمورنڈم میں لکھا گیا ہے کہ "میں اس کے ذریعے سیکرٹری آف اسٹیٹ کو یہ اختیار دیتا ہوں کہ وہ یوکرین کو امداد فراہم کرنے کے لیے دفاعی اخراجات اور محکمہ دفاع کے 550 ملین ڈالرز فوری جاری کیئے جائیں جس کے ذریعے یوکرینی افواج کی فی الفور جنگی تربیت کی جائے

    روسی صدر نے امریکا کو بڑا دشمن قرار دے دیا

    اس حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایک بیان میں کہا کہ نئے پیکج میں "ہائی موبلٹی آرٹلری راکٹ سسٹمز (HIMARS) اور 155mm آرٹلری سسٹمز کے لیے مزید گولہ بارود” شامل ہوگا۔

     

     

    یاد رہے کہ روس یوکرین جنگ کے بعد سے لیکر اب تک یوکرین کے لیے کل امریکی فوجی امداد تقریباً 8.7 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

     

    جنگی قیدیوں کی ہلاکت کا الزام ، روس کی اقوام متحدہ کو تحقیقات کی دعوت

    اس کے علاوہ، جرمن چانسلر اولاف شولز نے گلوب اینڈ میل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ جرمنی یوکرین کو جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں سے کچھ ایسے ہیں جو ابھی تک جرمن مسلح افواج کے ساتھ خدمات میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔

    جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ "ہم نے جو کچھ بھی ہمارے پاس تھا پہنچا دیا: ٹینک شکن اور طیارہ شکن نظام، بارودی سرنگیں، بندوقیں، ٹن گولہ بارود اور غیر مہلک امداد۔ تب سے ہم زیادہ پیچیدہ اور اعلیٰ قیمت والے نظاموں کی طرف چلے گئے ہیں۔ خود سے چلنے والے ہووٹزر، ایک سے زیادہ لانچ راکٹ سسٹمز، طیارہ شکن نظام، کاؤنٹر بیٹری ریڈار۔ ان میں سے کچھ سسٹم اتنے نئے ہیں کہ بہت کم ہی تیار کیے گئے ہیں اور ان میں سے کچھ کو بنڈیسوہر میں متعارف بھی نہیں کیا گیا ہے،”

    دوسری طرف روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر روسی حکام نے بارہا خبردار کیا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کے یوکرین سے دوسرے خطوں میں پھیلنے کے امکانات ہیں۔ امریکہ میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے کہا کہ یوکرین کو فوجی بنانے کی مغربی کوششیں یورپی اور عالمی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔

  • جرمنی معاشی بحرانوں میں پھنس گیا:جرمن ایئرلائن لُفتھانسا کی 1000 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ

    جرمنی معاشی بحرانوں میں پھنس گیا:جرمن ایئرلائن لُفتھانسا کی 1000 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ

    لفتھانسا ایئرلائن کے جرمنی میں موجود زمینی عملے نے ایک روزہ ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کام روک دیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ لفتھانسا ایئرلائن کی ایک ہزار سے زائد پروازیں بھی منسوخ ہو گئیں۔

    اس ہڑتال کے سبب 134,000 کے قریب مسافروں کو یا تو اپنا سفری پروگرام تبدیل کرنا پڑا یا پھر بالکل ہی منسوخ۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق 47 پروازیں تو منگل کو ہی منسوخ کر دی گئیں۔ لفتھانسا ایئرلائن کے بڑے مراکز فرینکفرٹ اور میونخ سب سے زیادہ متاثر ہیں جبکہ ڈوسلڈورف، ہیمبرگ برلن، بریمن، ہیننور، اشٹٹگارٹ اور کولون سے بھی پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔

    ایئرلائن نے متاثرہ مسافروں سے کہا ہے کہ وہ ایئرپورٹس پر نہ جائیں کیونکہ وہاں موجود زیادہ تر کاؤنٹرز پر عملہ موجود ہی نہیں ہے۔ لفتھانسا کے ترجمان مارٹن لوئٹکے نے اس ہڑتال پر تنقید کرتے ہوئے اسے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگ جو سفر کرنا چاہتے ہیں جو طویل عرصہ قبل اپنی چھٹیاں ترتیب دے کر ان کا انتظار کر رہے تھے، ان کے چھٹیوں کے یہ خواب بدقسمتی سے مؤخر ہو گئے ہیں یا شاید اس ہڑتال کی وجہ سے بالکل ہی برباد ہو گئے ہیں۔ لوئٹکے کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہڑتال قطعاً غیر ضروری ہے اور اسے مکمل طور پر بڑھایا چڑھایا گیا ہے۔

    جرمنی کے معاشی حب فرینکفرٹ کے ایئرپورٹ سے آج بدھ کے روز 1160 پروازیں شیڈول تھیں جن میں سے 725 کو منسوخ کر دیا گیا۔ ڈی پی اے کے مطابق دیگر ایسی ایئرلائنز کی پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں جو زمینی خدمات کے لیے لفتھانسا کے اسٹاف سے مدد لیتی ہیں۔ خود لفتھانسا کی طرف سے فرینکفرٹ ایئرپورٹ سے ہڑتال کے سبب پنی منسوخ ہونے والی پروازوں کی تعداد 646 بتائی گئی ہے۔

  • یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں

    یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں

    ماسکو:یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں،اطلاعات کے مطابق روس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یوکرائنی فوج کے 200 سے زیادہ ارکان "انسانیت کے امن اور سلامتی کے خلاف جرائم” میں ملوث ہیں۔

    الیگزینڈر باسٹریکن نے اخبار روزیسکایا گزیٹہ کو بتایا کہ 24 فروری کو روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے یوکرین کی جانب سے خلاف ورزیوں پر 400 سے زائد افراد پر مشتمل 1,300 سے زیادہ فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے انکشاف کیا کہ کل 92 کمانڈروں اور ماتحتوں پر پہلے ہی جرائم کا الزام عائد کیا جا چکا ہے۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کے مطابق 220 سے زائد مشتبہ افراد، جن میں یوکرین کی مسلح افواج کی اعلیٰ کمان کے نمائندے اور عام شہریوں پر گولیاں چلانے والے فوجی یونٹس کے کمانڈر بھی شامل تھے، امن و سلامتی کے خلاف جرائم میں ملوث تھے۔ بنی نوع انسان کا، جس کی کوئی پابندی نہیں ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 92 یوکرائنی کمانڈروں اور ماتحتوں کے خلاف الزامات درج کیے گئے ہیں، جن میں سے 96 مشتبہ افراد کو مطلوبہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

    "یوکرائنی قوم پرستوں کی طرف سے طاقت کے استعمال کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا،” باسٹریکن نے اصرار کرتے ہوئے کہا، "وہ عوامی جمہوریہ ڈونیٹسک اور لوگانسک پر شدید گولہ باری کر رہے ہیں۔ وہ بے دردی سے پرامن شہریوں، سویلین انفراسٹرکچر بشمول بچوں کے اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

    انہوں نے یوکرائنی افواج پر یہ بھی الزام لگایا کہ انہوں نے "اس کے لیے روسی فوج کو مورد الزام ٹھہرانے کے لیے” اپنی ہی سرزمین پر حملہ کیا۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ ماسکو نے اصرار کیا ہے کہ اس کی فوجیں کبھی بھی عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے، صرف یوکرین کی افواج اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہیں۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ یوکرائن کی جانب سے حملوں میں 7,000 سے زیادہ شہری تنصیبات کو تباہ کیا گیا ہے، جن میں گھر، اسکول اور کنڈرگارٹن شامل ہیں، 91،000 سے زائد افراد کو متاثرین کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

    برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جارجیا اور ہالینڈ کے شہریوں کے خلاف بھی کرائے کے جنگجوؤں کے طور پر تنازعہ میں ملوث ہونے پر مجرمانہ مقدمات کا آغاز کیا گیا ہے، جبکہ یوکرائنی قوم پرست یونٹوں پر روسی جنگی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے، بیرونی ممالک میں روسی سفارت خانوں پر حملے کرنے والوں کے خلاف بھی مقدمات قائم کیئے جائیں گے

  • برطانیہ نے روس کے خلاف لڑنے کےلیے یوکرینی فوجیوں کواسکاٹ لینڈ میں ٹریننگ دینا شروع کردی

    برطانیہ نے روس کے خلاف لڑنے کےلیے یوکرینی فوجیوں کواسکاٹ لینڈ میں ٹریننگ دینا شروع کردی

    لندن:روس کے خلاف یوکرینی فوجیوں کولڑنے کے لیے بہترتربیت دینے کے اعلان کے بعد برطانوی فوج نےکہا ہے کہ رائل نیوی یوکرائنی ملاحوں کو سکاٹ لینڈ میں تربیت دے رہی ہے تاکہ روس کے ساتھ لڑائی میں کیف کا ساتھ دیا جا سکے۔

    لندن سے ذرائع کے مطابق مشقوں میں یوکرین کے نائب وزیر دفاع ولادیمیر گیوریلوف اور برطانیہ کی مسلح افواج کے وزیر جیمز ہیپی نے شرکت کی۔خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ڈرل کا صحیح مقام نامعلوم ہے۔ ملاحوں کو سمندر میں اہم مہارتوں ، ہتھیاروں کی مشقیں، نقصان پر قابو پانے اور جہازوں پر مشینری چلانے کا طریقہ سیکھایا گیا

    برطانوی بحریہ کے مطابق، 80 یوکرینی فوجی جدید فوجی تربیت حاصل کررہے ہیں‌۔ ایک ہی وقت میں، برطانیہ کیف کو جلد ہی متروک ہونے والے دو سینڈاؤن کلاس مائن ہنٹر فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔”یوکرین کے نائب وزیر دفاع ولادیمیر گیوریلوف نے کہا ہے کہ ہمیں واقعی ان کی ضرورت ہے کہ وہ بحیرہ اسود میں کان کنی کے لیے یوکرائنی کوششوں کی حمایت کریں۔ یہ انسانی ہمدردی کے مشن کا ایک حصہ بھی ہے جو دنیا کے لیے بہت اہم ہے،

    یوکرین کے فوجی اور ملاح جس شدت کے ساتھ تربیت کر رہے ہیں وہ دیکھنے والی چیز ہے۔ وہ ان فوجیوں کی توجہ کے ساتھ کام کرتے ہیں جو جانتے ہیں کہ وہ صرف چند ہفتوں کے عرصے ایک کامیاب جنگ لڑیں گے

    مشق میں رائل نیوی کی شرکت برطانیہ کی زیر قیادت فوجی پروگرام کا حصہ ہے جس میں ملک کے مختلف علاقوں میں 1,000 سے زائد برطانوی سروس اہلکار شامل ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ اس مشق میں رضاکار بھرتی کرنے والوں کو، جن کے پاس محدود فوجی تجربہ ہے، فرنٹ لائن لڑائی میں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی مہارت ہے۔

    یہ مشترکہ مشقیں اس وقت ہوئی ہیں جب برطانیہ نے ٹینک شکن ہتھیاروں، ڈرونز، آرٹلری گنوں کے ساتھ ساتھ دسیوں ہزار گولہ بارود کی ایک اور کھیپ یوکرین بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے بھی لندن نے کیف کو £2.3 بلین ($2.76 بلین) کی مالی مدد فراہم کی تاکہ روس کی جارحیت سے لڑنے میں قوم کی مدد کی جا سکے۔

  • اجناس کی برآمدات بحال کی جائیں :انسانوں کی زندگی کوخطرہ ہے:روس اور یوکرین میں اتفاق

    اجناس کی برآمدات بحال کی جائیں :انسانوں کی زندگی کوخطرہ ہے:روس اور یوکرین میں اتفاق

    ماسکو:یوکرین اور روس کے درمیان تین یوکرینی بندرگاہوں سے اجناس کی برآمدات بحال کرنے کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔معاہدے کی منظوری سے پہلے فریقین کو اس بات کا احساس دلایا گیا کہ اجناس کی برآمدات بحال کی جائیں ورنہ انسانوں کی زندگی کوخطرہ ہے

    عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق معاہدے کے بعد یوکرین جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی غذائی بحران پر قابو پایا جا سکے گا۔ معاہدے کے لیے پچھلے دو ماہ سے مذاکرات جاری تھے اور نتیجے تک پہنچنے میں اقوام متحدہ اور ترکیہ سرگرم عمل رہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتریس کے مطابق معاہدے کے بعد یوکرین کی اجناس کی برآمدات بحال ہوجائیں گی جبکہ روسی اجناس اور فرٹیلائزز کی برآمدات سے بھی پابندی کا خاتمہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ تین یوکرینی بندرگاہوں، اوڈیسا، چرنومورسک اور یزنی سے اجناس برآمد کی جا سکیں گی اور معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اقوام متحدہ ایک کوآرڈی نیشن سینٹر قائم کرے گا۔

    دونوں ممالک نے اپنے وزرائے دفاع کو تقریب میں شرکت کے لیے بھیجا جہاں ترک صدر طیب اردوغان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی موجود تھے۔

    خیال رہے کہ روس نے یوکرین کی بندرگاہوں کو سیل کر دیا تھا جس کے بعد ہزاروں ٹن اجناس کی بیرون ملک ترسیل رک گئی تھی اور غذائی بحران کا اندیشہ تھا۔