Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • ماریوپول میں سترہ سو یوکرینی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے:روسی دعویٰ

    ماریوپول میں سترہ سو یوکرینی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے:روسی دعویٰ

    ماسکو:روس نے دعوٰی کیا ہے کہ اس کے زیرکنٹرول شہر ماریوپول میں ایک ہفتے کے دوران سترہ سو سے زائد یوکرینی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے جبکہ دوسری جانب امریکا کیف میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھولنے جارہا ہے۔غیر ملکی خب رساں ادارے کے مطابق یوکرین نے ماریوپول میں اپنے فوجیوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا تھا۔

    روس نواز علیحدگی پسندوں کے سربراہ ڈینس پشلین نے بدھ کو مقامی نیوز ایجنسی ڈی این اے کو بتایا کہ یوکرین کے ٹاپ کمانڈر جنہوں نے اسٹیل فیکٹری کے اندر سے زبردست مزاحمت کی وہ ابھی تک اس کے اندر ہی ہیں۔

    یوکرین کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ منگل کو 250 سے زائد فوجیوں نے ہتھیار ڈالے تاہم یہ نہیں بتایا کہ ابھی مزید کتنے فوجی اندر ہیں۔روس نے بدھ کو بتایا کہ مزید 694 فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں، جس کے بعد کُل تعداد 959 ہوگئی ہے۔

    ماریوپول کے میئر بوئیچونکوف کا کہنا ہے کہ یوکرینی صدر زیلنسکی، ریڈ کراس اور اقوام متحدہ مذاکرات میں شامل تھے، تاہم انہوں نے مزید کوئی معلومات نہیں دیں۔

    یاد رہے، ماریوپول اب تک کا سب سے بڑا شہر ہے جس پر روس نے قبضہ کیا ہے اور 24 فروری سے شروع ہونیوالی جنگ کے بعد اسی شہر پر قبضے کی وجہ سے صدر پیوٹن نے جزوی فتح کا دعوٰی کیا تھا۔

    امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ روس کے ناجائز حملے کے جواب میں یوکرین کے عوام اپنی سرزمین کا دفاع کررہے ہیں اور اس کی بدولت ہی ایک بار پھر ہماری ایمبیسی فعال ہورہی ہے۔

  • روس کا یوکرین میں جدید ترین لیزر ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان

    روس کا یوکرین میں جدید ترین لیزر ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان

    ماسکو: روس نے یوکرین میں جدید ترین لیزر ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ یوری بوری سوف نے ٹی وی پر اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ روس یوکرین میں زادیرا سسٹم کا استعمال کرنے جا رہا ہے۔

    جدید ترین لیزر ہتھیاروں پر مشتمل زادیرا لیزر سسٹم 5 کلو میٹر کے فاصلے پر اپنے اہداف کو تباہ کرنے، ڈیڑھ ہزار کلومیٹر کی رینج میں نگرانی کرنے والے تمام سیٹلائٹس کو جام کرنے، مختلف قسم کے ڈرون طیاروں کو تباہ کرنے اور مہنگے ترین میزائلوں کو چلنے سے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    یوری بوری سوف نے انٹرویو میں کہا کہ زادیرا سسٹم یوکرین کی سرحدوں پر قائم روسی فوجی اڈوں کے لیے ارسال کیا جا رہا ہے اور ان ہتھیاروں کی فرسٹ جنریشن کا استعمال جلد شروع کر دیا جائے گا۔

    ادھر روس کی قومی سلامتی کونسل کے نائب صدر دمیتری میدودوف نے کہا ہے کہ روس تیسری عالمی جنگ شروع کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔انھوں نے ساروف نامی ایٹمی مرکز کے دورے کے موقع پر کہا ہمارے جدید ترین، قابل اعتماد اور مؤثر ہتھیاروں کے ذخیرے تیسری عالمی جنگ شروع کرنے کا خواب دیکھنے والوں کے عزائم خاک میں ملا دیں گے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل دمیتری میدودوف نے نیٹو کے رکن ممالک کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سلسلہ بھرپور ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

    ادھر روسی فوجیوں کی یوکرین کے شہر لوہانسک میں فائرنگ سے 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کے صوبے لوہانسک میں باغیوں کی مدد سے روسی فوج کی پیش قدمی جاری ہے اور وہ دو دیگر شہروں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    لوہانسک کے گورنر نے بتایا کہ روسی فوج کی پیش قدمی میں یوکرین کے 13 شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جس کے بعد روسی افواج لیسیچانسک اور سیورودونتسک میں داخل ہوگئیں۔

    ادھر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی فوج نے دونباس ریجن کو مکمل طور پر تباہ کردیا ہے۔ دونباس خطہ دونیسٹک اور بیسن نامی شہروں سے مل کر بنا ہے۔یوکرین میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ روسی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی جنگ کے دوران 225 سے زائد بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔

    دریں اثناء امریکی صدر نے یوکرین کو 40 ارب ڈالر کی مالی امداد دینے کی منظوری دیدی جب کہ یوکرین کو حال ہی میں ورلڈ بینک کی جانب سے 530 ملین ڈالر کی امداد موصول ہوئی ہے۔

  • فن لینڈ اور سویڈن نے نیٹو میں شمولیت کے لیے مشترکہ درخواست جمع کرا دی

    فن لینڈ اور سویڈن نے نیٹو میں شمولیت کے لیے مشترکہ درخواست جمع کرا دی

    فن لینڈ اور سویڈن نے نیٹو میں شمولیت کے لیے مشترکہ درخواست جمع کرا دی ہے-

    باغی ٹی وی :فن لینڈ اور سویڈن نے یوکرین پر روسی حملے کے تناظر میں نیٹو میں شمولیت نہ اختیار کرنے کی پالیسی کو ترک کیا ہے نیٹو کے سیکریٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے فن لینڈ اور سویڈن کے سفیروں سے درخواستیں وصول کیں اور اس پیش رفت کو تاریخی قدم قرار دیا ہے اتحادی ممالک نیٹو کی وسعت میں اضافہ کرنے پر اتفاق کرتے ہیں-

    جرمن چانسلر نے برطانیہ پرجوہری حملے کی دھمکی کوروسی پاگل پن کا مظہر قرار دے دیا

    تاہم اس عسکری اتحاد کے رکن ملک ترکی کی جانب سے فن لینڈ اور سویڈن کی نیٹو میں ممکنہ شمولیت کی مخالفت کی جا رہی ہے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے نیوز کانفرنس کے دوران اپنی گفتگو میں کہا تھا کہ فن لینڈ اور سویڈن کی نیٹو میں شمولیت ناقابل قبول ہے انقرہ کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ یوکرین پر روسی جارحیت کے اس ماحول میں فن لینڈ اور سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت کی حمایت کرے دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف لڑنے میں ناکام رہے ہیں ترکی کبھی بھی سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کی منظوری نہیں دے گا۔ اور دونوں ممالک ترکی کو منانے کیلئےوفود بھیجنے زحمت بھی نہ کریں۔

    روس کا پیمانہ صبرجواب دے گیا:فن لینڈ کی بجلی بند کرنےکا اعلان

    انہوں نے دونوں ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک نے اپنے ایوان بالا تک دہشت گردوں کو جگہ دی ہوئی ہے۔ سویڈن اور فن لینڈ ایسے لوگوں کو پناہ دیتے ہیں جو ان تنظیموں سے منسلک ہیں جنہیں ترکی دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

    قبل ازیں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے مغربی فوجی اتحاد نیوٹو کی توسیع کو ایک مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی توسیع امریکی مفاد میں ہے۔

    دی گارجین نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن نے ماسکو میں قائم سیکیورٹی اتحاد سی ایس ٹی او کے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتےہوئے کہا تھا کہ سوئیڈن اورفن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت پرہمیں کوئی خطرہ یا مسئلہ نہیں ہےلیکن ان ممالک میں فوجی تنصیبات کی توسیع پر روس اپنا ردعمل دے سکتا ہے اور دے گا۔

    اگرفن لینڈ اورسویڈن نیٹومیں شامل ہونے کی کوشش کریں گےتوویٹوکرکےان کاراستہ روک دیں…

    واضح رہے کہ فن لینڈ کے صدر ساؤلی نینستوا نے وزیر اعظم سانا مارین کے ساتھ منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک تاریخی دن ہے، آج ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے فن لینڈ کی پارلیمنٹ آنے والے دنوں میں فیصلے کی توثیق کرے گی جس کے بعد باضابطہ رکنیت کی درخواست برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹرز میں جمع کرا دی جائے گی۔

    جبکہ فن لینڈ کے کچھ گھنٹوں کے بعد ہی سوئیڈن نے بھی نیٹو کی رکنیت کے لیے اعلان کیا تھا جس کی حکمراں جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے باضابطہ حمایت کی گئی تھی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کئی دہائیوں سےنیٹو میں شمولیت کی مخالف رہی ہےاب نیٹومیں شمولیت کی حامی ہو گئی ہے اس کی بنیادی وجہ یوکرین پر روس کا حملہ ہے۔

    وعدہ کرتا ہوں کہ امریکا میں نسل پرستی جیسی برائی کو پنپنے نہیں دوں گا، جوبائیڈن

    اس سلسلے میں سوئیڈن کی وزیراعظم میگڈالینا اینڈرسن کا کہنا تھا کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد فوجی اتحاد میں شامل ہونے کے لیے اندرون ملک بڑھتی ہوئی سیاسی و عوامی حمایت کی وجہ سے گزشتہ کئی دیہائیوں پر محیط اپنے مخالفانہ مؤقف کو تبدیل کر رہے ہیں اور جلد ملکی پارلیمنٹ سے رجوع کریں گے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا تھا کہ عالمی اثرو رسوخ میں اضافے کے نیٹو کے منصوبوں پراضافی توجہ دینےکی ضرورت ہے صدر پیوٹن نے فن لینڈ کو اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ فن لینڈ کی جانب سے عسکری غیر جانبداری کو ختم کرنا ایک غلطی ہوگی۔

    روس کے صدارتی محل کریملن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے تحت صدر پیوٹن نے فن لینڈ کے صدر کو ٹیلی فونک گفتگو میں پیغام دیا تھا کہ چونکہ روس کی جانب سے فن لینڈ کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے لہٰذا عسکری غیر جانبداری کی پالیسی کو ختم کرنا ایک غلطی ہوگی۔

    کیا ایرانی جوہری تنصیبات کوتباہ کردیاجائےگا:اسرائیل نے جوہری تنصیبات پرحملے کی…

  • پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود افغانستان اور یوکرین میں انسانی امداد فراہم کی،وزیرخارجہ بلاول بھٹو

    پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود افغانستان اور یوکرین میں انسانی امداد فراہم کی،وزیرخارجہ بلاول بھٹو

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے نیو یارک میں گلوبل فوڈ سکیورٹی کال ٹو ایکشن کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو کورونا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز درپیش ہیں لہذاٰ ہم نے محدود وسائل کے باوجود افغانستان اور یوکرین میں انسانی امداد فراہم کی۔

    باغی ٹی وی : وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری کاکہنا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سےشدید متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے جبکہ دنیابھرکوبھی ماحولیاتی تبدیلیوں اور خوراک کی قلت جیسےمسائل کا سامنا ہےاسلیےتحفظ خوراک کے لیےمل کرکاوشیں کرنےکی ضرورت ہے-

    انہوں نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے تحفظ خوراک کو براہ راست خطرہ ہے۔صوبہ سندھ میں دنیا میں سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔پاکستان میں پانی کی شدید قلت ہے،ملک کو قحط کا سامنا ہے بھوک کی کوئی قومیت نہیں ہوتی پاکستان خطے اور دنیا بھر میں خوراک کے مسئلے پر کردار ادا کرناچاہتا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تنازعات دنیا کو اس وقت تقسیم کردیتے ہیں جب متحد ہونے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے نئی نسل دنیا کو متحد کرنےکےلیےقیادت کی طرف دیکھ رہی ہےکورونا وباء میں دنیا کومتحد ہونا چاہیے تھا اس وباء کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے جبکہ ضروری ہے کہ کورونا ویکسین کا حصول سب کا حق سمجھا جائے۔

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانستان کی مدد کررہا ہے، ہم نے محدود وسائل کے باوجود افغانستان اور یوکرین میں انسانی امداد فراہم کی۔

    اس سے قبل وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور یو این جنرل اسمبلی کے صدر عبداللہ شاہد سے ملاقا تیں کیں۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے ملاقات

    رپورٹس کے مطابق بلاول بھٹوزرداری نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا جبکہ تنازع کشمیر سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔

    قبل ازیں بلاول بھٹو کی امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے ملاقا ت کی جس کا اعلامیہ دفتر امریکی خارجہ کی جابب سے جاری کیا گیا سکریٹری بلنکن کی طرف سے وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری کے دورہ امریکہ پرخوشی کااظہارکیا گیا اس موقع پر سیکرٹری بلینن کا کہنا تھا کہ آپ سب سے مل کر اچھا لگا۔ خاص طور پر وزیر خارجہ کو دیکھ کر اچھا لگا۔ آمنے سامنے ملنے کا یہ ہمارا پہلا موقع ہے۔ ہم نے فون پر بات کی۔ ہم پاکستان میں نئی ​​حکومت کے ساتھ وزیر خارجہ کے ساتھ کام کرنے پر بہت خوش ہیں۔

    حریت رہنما یاسین ملک کی رہائی کیلئے اسلام آباد میں ریلی

    امریکی وزیرخارجہ سیکرٹری بلینن نے کہا کہ یہاں دونوں کا خیرمقدم ہے، یقیناً، خوراک کی حفاظت پر آج تھوڑی دیر بعد وزارتی میٹنگ کی پہلی اور اہم ترین میٹنگ ہے جس میں دونوں وزرائے خارجہ کا شامل ہونا ایک پیش رفت ہے یہ ایک ایسا چیلنج ہے جو دنیا بھر میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک پہلے سے موجود حالت تھی،انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکومت اوربلاول کےساتھ مل کرکام کرنے پرخوشی ہے، بلاول سے فوڈ سکیورٹی کے مسئلے پر بات ہوگی، یہ اہم چیلنج ہےجسے پوری دنیاکو سامنا ہے لہٰذا اکٹھے ہو کر پاکستان کی شرکت پر شکر گزار ہوں کہ ہم خوراک کی عدم تحفظ کے مسائل کو حل کرنے، دنیا بھر میں لوگوں کی مدد کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کر سکتے ہیں-

    جبکہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں یہاں آنا بہت خوشی کی بات ہے، اور جہاں میں عالمی غذائی تحفظ سے متعلق واقعات کےاس سلسلےمیں شامل ہونےکا منتظر ہوں۔ ہم جانتے ہیں کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی واقعات نے واقعتاً صورتحال کو مزید گھمبیر کر دیا ہے، اورپاکستان جیسے ممالک کو پہلے ہی غذائی تحفظ، پانی کی حفاظت، توانائی کےعدم تحفظ کے چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ ہمارے پڑوس میں موسمیاتی تبدیلی سے لے کر مسائل تک کے بہت سے مسائل ہیں۔ لہٰذا یہ خاص اقدام انتہائی خوش آئند اور اہم ہے۔

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے ملاقات:مشترکہ اعلامیہ جاری

  • جرمن چانسلر نے برطانیہ پرجوہری حملے کی دھمکی کوروسی پاگل پن کا مظہر قرار دے دیا

    جرمن چانسلر نے برطانیہ پرجوہری حملے کی دھمکی کوروسی پاگل پن کا مظہر قرار دے دیا

    جرمن چانسلر نے روسی مؤقف کو پاگل پن کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس کا برطانیہ پرجوہری حملے کی دھمکی اگرپاگل پن نہ کہیں تو کیا کہیں‌،ادھراطلاعات کے مطابق جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ یوکرینی جنگ کے حوالے سے روسی مؤقف میں کوئی لچک دیکھائی نہیں دے رہی ہے۔ ادھر روس نے خبردار کر دیا ہے کہ اگر نیٹو روسی سرحدوں کے قریب جوہری ہتھیار نصب کرے گا تو جوابی کارروائی کی جائے گی۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن چانسلر اولاف شولز نے یوکرین جنگ کو’پاگل پن‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گیارہ ماہ گزرنے کے بعد بھی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے۔

    جرمن چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو فورسز پیچھے نہیں ہٹی ہیں بلکہ مشرقی سرحدوں پر واقع اتحادی ممالک میں اس کی توجہ زیادہ ہو گئی ہے۔ ان کے بقول یوکرین جنگ کی وجہ سے نیٹو اتحاد میں ایک نئی توانائی آئی ہے۔

    اپنے تازہ انٹرویو میں شولس کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرین جنگ میں روسی افواج کو ہونے والا نقصان بہت زیادہ ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سوویت یونین اور افغانستان کی ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی جنگ میں اسے اتنا نقصان نہیں ہوا تھا جتنا روس کو ان گیارہ مہینوں میں ہو چکا ہے۔

    دوسری جانب، مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے وزرائے خارجہ برلن میں ایک ملاقات کر رہے ہیں، جس میں وہ یوکرین جنگ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ اختتام ہفتہ پر ہونے والی ملاقات میں اس جنگ کی حکمت عملی کے علاوہ فن لینڈ اور سویڈن کے اس عسکری اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے بھی گفتگو کی جائے گی۔

    تاہم روس نے بالخصوص ہمسایہ ملک فن لینڈ کے اس اتحاد کا ممبر بننے کی خواہش پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

    روس نے خبردار کیا ہے کہ روسی سرحدوں کے قریب جوہری ہتھیار لانے کے نتیجے میں ماسکو حکومت مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرے گی۔ روسی نائب وزیر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق سویڈن اور فن لینڈ کے خلاف روس کا کوئی مخالفانہ رویہ نہیں ہے اور یوں اس میں کوئی منطق نظر نہیں آتا کہ یہ ممالک نیٹو کی رکنیت اختیار کریں۔

    یاد رہے، روس کا کہنا ہے کہ اس کی سرحدوں کے قریب نیٹو فورسز کی تعیناتی اس کی قومی سلامتی کے منافی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ یورپ کی مشرقی سرحدوں کی طرف نیٹو کی توسیع برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • روس کا ردعمل، رومانیہ کے 10 سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا

    روس کا ردعمل، رومانیہ کے 10 سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا

    ماسکو:رومانیہ کی جانب سے روسی سفارت کاروں کو نکالے جانے کے جواب میں روس نے بھی گزشتہ روز ماسکو اور مغرب کے درمیان جاری کشیدگی اور سفارتی جنگ کے طور پر اپنی سر زمین سے رومانیہ کے 10 سفارت کاروں کو بے دخل کر دیا۔

    روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ روس نے یوکرین میں مبینہ جنگی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانے کی رومانیہ کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روسی وزارت خارجہ نے ایک الگ بیان میں کہا ہے کہ بلغاریہ کے سفارت خانے کے ایک ملازم کو بھی ملک سے نکال دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اپریل کے آخر میں رومانیہ کی وزارت خارجہ نے دس روسی سفارت کاروں کو دارالحکومت بخارسٹ سے ملک بدر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ رومانیہ کا الزام تھا کہ مذکورہ روسی سفارت کاروں نے بین الاقوامی قوانین کے مطابق کام نہیں کیا۔

    یہ اقدام یوکرین کے شہر بوچا میں مبینہ طور پر اجتماعی قبروں کی دریافت اور قصبے سے روسی فوجیوں کے انخلاء کے بعد شہریوں کے قتل کی خبروں پر پورے یورپی براعظم کے غم و غصے کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے تناظر میں یورپی ممالک سے اب تک 300 سے زائد روسی سفارت کاروں کو بے دخل کیا جا چکا ہے۔

  • انسانی حقوق کونسل نے روس کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دیدی

    انسانی حقوق کونسل نے روس کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دیدی

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے یوکرین میں روسی فوج کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دے دی۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں یوکرین میں روسی فوج کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے پیش کی گئی قرارداد کو 33 ووٹ ملے۔

    کونسل میں پیش کی گئی قرارداد میں یوکرین کے دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں میں روسی افواج کی کارروائیوں پر تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا کہا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق چین اور مشرقی افریقی ملک نے قرار داد کے خلاف ووٹ دیا جب کہ کیوبا، قازقستان، بھارت، پاکستان، ازبکستان اور وینزویلا کے ممبران نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔انسانی حقوق کونسل نے فوری طور روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رضاکاروں کو یوکرین میں عام شہریوں تک رسائی دے۔

    اقوام متحدہ میں روس کے سفیر نے کونسل کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پیدا بحران کو حل کرنے اور حقیقی وجوہات پر گفتگو کے بجائے مغرب مجموعی طور پر روس کو کچلنے ایک اور راستہ بنارہا ہے۔
    چین کے سفیر نے بھی قرارداد پر کونسل کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد آگ پر تیل کا کام کرے گی۔

  • یوکرین جنگ کےباعث 48لاکھ یوکرینی ملازمتوں سےمحروم ہوچکے

    یوکرین جنگ کےباعث 48لاکھ یوکرینی ملازمتوں سےمحروم ہوچکے

    ماسکو:یوکرین جنگ کے باعث 48 لاکھ یوکرینی ملازمتوں سے محروم ہوچکے ،اطلاعات کے مطابق روس کی جانب سے رواں برس 24 فروری کو يوکرين پر کیے گئے فوجی آپریشن نے یوکرین کی معیشت کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ روسی فوجی آپریشن کی شروعات سے لے کر اب تک 48 لاکھ یوکرینی شہریوں کی ملازمتيں ختم ہو چکی ہيں۔

    یہ تعداد يوکرين ميں کل ملازمتوں کا تيس فيصد ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی یوکرین میں 48 لاکھ افراد کے بے روزگار ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    ملازمتوں اور کارکنان کے حوالے سے کام کرنے والی عالمی تنظیم انٹرنيشنل ليبر آرگنائزيشن (آئی ايل او) نے يوکرين ميں جنگ کے اثرات پر پہلی مرتبہ باقاعدہ رپورٹ جاری کی ہے۔

    انٹرنيشنل ليبر آرگنائزيشن کا یوکرین جنگ کے بارے ميں کہنا ہے کہ اقتصادی رکاوٹوں اور بڑے پيمانے پر لوگوں کے بے گھر ہونے اور پناہ گزين بننے سے روزگار کی مارکیٹس اور خاندانوں کی مجموعی آمدن بری طرح متاثر ہو رہی ہيں۔

    آئی ایل او کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق اب تک 50 لاکھ سے زائد یوکرینی خواتین، بچے، بوڑھے اور مرد پڑوسی اور دیگر ممالک میں پناہ لے چکے ہیں جن میں سے تقریباً 27 لاکھ کے قریب وہ جواں عمر افراد ہیں جو ملازمت کرنے والے ہیں۔ اِن میں سے 43.5 فيصد یعنی تقریباً 12 لاکھ افراد جنگ کے باعث اپنی ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

    انٹرنيشنل ليبر آرگنائزيشن کی اس رپورٹ کے مطابق اگر یوکرین میں جاری جنگ فوری طور پر رک جاتی ہے تو 34 لاکھ ملازمتيں واپس بحال ہو سکتی ہيں جس سے بے روزگاری کی مجموعی شرح 8.9 فيصد ہو گی۔ دوسری جانب اگر جنگ جاری رہتی ہے تو 70 لاکھ تک ملازمتيں ختم ہونے کا امکان ہے جس سے یوکرین میں بے روزگاری کی شرح 43.5 فيصد تک کی خطرناک سطح پر پہنچ سکتی ہے۔

  • یومِ فتح پر روسی صدر کی تقریرطاقت، دھمکی اور جنگ کا اظہار تھی:فرانس

    یومِ فتح پر روسی صدر کی تقریرطاقت، دھمکی اور جنگ کا اظہار تھی:فرانس

    پیرس:فرانس کے دوبارہ منتخب ہونے والے صدر ایمانوئیل میکرون نے دوسری عالمی جنگ میں نازی افواج کی شکست کی 77 ویں سالگرہ کے موقع پر منائے گئے روس کے یومِ فتح پر صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے کی گئی تقریر کو طاقت، دھمکی اور جنگ جیسے مؤقف کا مظاہرہ قرار دیا ہے۔

    صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا کہ یورپ کو اپنے ماضی سے سبق لیتے ہوئے اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ اگر روس اور یوکرین امن مذاکرات کرتے ہیں تو کسی فریق کی تذلیل نہ کی جائے۔

    فرانسیسی صدر کے مطابق 9 مئی کو دو مختلف تصورات پیش کیے گئے۔ ایک طرف روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے طاقت کا مظاہرہ کرنے، ڈرانے دھمکانے اور جنگ جیسے مؤقف کا اظہار کیا تو دوسری طرف یورپی یونین عوام کی قیادت میں امن کو مستحکم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

    صدر ایمانوئیل میکرون نے مزید کہا کہ اُنہیں یقین ہے کہ امن، استحکام اور خوشحالی کا یہ منصوبہ ہمیں جاری رکھنا چاہیے تاکہ ہم زیادہ جمہوری، زیادہ متحد اور زیادہ خود مختار رہ سکیں۔

    صدر ایمانوئیل میکرون کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ہمیں امن قائم کرنا ہوگا، ہمیں اس بات کو کبھی بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ پہلے ہمیں یہ کام یوکرین اور روس دونوں کے ساتھ کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔ اس بات چیت کی شرائط بھی یوکرین اور روس کو ہی طے کرنا ہوں گی۔

    فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ یورپ اپنے ماضی سے سبق سیکھے۔ امن ان میں سے کسی ایک یا دوسرے کو نظرانداز کرنے یا خارج کرنے یا کسی کی تذلیل سے نہیں ہوگا جیسا کہ 1918ء میں جرمنی کے ساتھ ہوا تھا۔

  • حالات بتارہے ہیں کہ روس یوکرین سے نہیں نکلے گا:جوبائیڈن

    حالات بتارہے ہیں کہ روس یوکرین سے نہیں نکلے گا:جوبائیڈن

    واشنگٹن :حالات بتارہے ہیں کہ روس یوکرین سے نہیں نکلے گا:اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ولادیمیر پوٹن کےیوکرین سے اب واپس نہیں جائے گا ، یا پھر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ روس کے پاس اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچا

    امریکی صدر نے روسی رہنما کو "بہت حساب کتاب کرنے والا آدمی” قرار دیا جس نے غلطی سے یہ سمجھا کہ جنگ نیٹو اور یورپی یونین کو تقسیم کر دے گی۔لیکن امریکیی صدرجوبائیڈن کا کہنا تھا کہ حملے نے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کو ایک دوسرے کے قریب کردیا ہے

    بائیڈن نے اعتراف کیا کہ وہ "یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم کیا کرتے ہیں” مسٹر پوتن کے باہر نکلنے کے منصوبے کے اشارے نہیں مل رہے

    یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس روس کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے مزید اربوں ڈالرز یوکرین کو دینےکے لیے تیار ہے – ڈیموکریٹس فوجی اور انسانی امداد کے لیے $40 بلین (£32 بلین) کی تیاری کر رہے ہیں۔

    یہ سب کچھ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے لیے جوابی پیغام کے طور پر کام کرتا ہے، جس نے یومِ یورپ پر قبضہ کیا ہے – 1945 میں جرمنی کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی سالگرہ اور روس کی سب سے بڑی حب الوطنی کی چھٹی – اس حملے کے پیچھے اپنے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے بہت کام کیا ہے