Baaghi TV

Tag: Corona

  • احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان

    احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان

    لفظ احتساب کو جتنی پزیرائی اس حکومت نے پچھلے دو سالوں میں بخشی وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل اس لفظ کو حاصل نہ تھی۔تحریکِ انصاف اوربالخصوص عمران خان نے احتساب کو ایک نئی شکل دی۔ عمران خان کی طرف سے ان کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ وہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ جیسا بنائیں گے۔تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران احتساب واقعی میں زوروشور سے شروع ہوا اور احتساب کے نام پر بہت سے کیسز بنائے گئےاور ان کا نتیجہ تقریباَ وہی تھا جو ہمیشہ سے نکلتا رہاہے اور بہت سے کیسز بے نتیجہ ختم ہوگئے یا ابھی تک التوا کا شکار ہیں۔ ہمارے ملک میں احتساب کے بعد پیدا ہونےوالی صورتحال دیکھ کرانگریزی کا ایک محاورہ ذہن میں آتا ہے. (Excess of Everything is Bad) یعنی کسی چیز کی بھی زیادتی ٹھیک نہیں ہوتی۔ابھی تک کے حالات دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ہماری ملک بھی احتساب کو برداشت کر پایا یا پھر اس طریقے کارکو نہیں سہہ پایا کیونکہ وہ کیس حدیبیہ مل کا ہو، پانامہ ہو یا چینی سکینڈل جب بھی کوئی کیس شروع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک اعلان یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کیس کی انکوائری پاکستا ن کے بننے سے لیکر آج تک کی ہو گی یا پھر اس کی انکوائری کم ازکم کچھ گزشتہ دہائیوں پر محیط ہوگی جو اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ہم کیس شروع تو کر رہے ہیں مگر یقین کریں اس کو ختم کرنےکا ہمارا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تھوری سی عقل رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ پاکستان میں پرانا ریکارڈموجود بھی ہو تواسے غائب کروانا مشکل نہیں اور رہی بات گواہان کی تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ جس دور سے انکوائری شروع کی جارہی ہےاس دور کا کوئی گواہ نہیں موجود ہوگا۔اوراگر کوئی غلطی سے زندہ ہوا بھی تو جب تک کیس چلنا ہے گواہ خود ہی اللہ کو پیارا ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی حکومت شاید یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ عوام نے ان کو ہمیشہ کے لئے ووٹ دے کر منتخب کر لیا ہےاور بھول جاتے ہیں کہ ان کے پاس صرف تین سال رہ گئے ہیں۔ وزرا، اپوزیشن، حکومتی وزرا سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین ہر کسی کا احتساب شروع ہو چکا ہے۔ ہمارے ملک میں احتساب اور کرونا وائرس میں کافی مما ثلت پائی جاتی ہے، کیونکہ احتساب بھی کرونا وائرس کی طرح بہت تیزی سے لوگوں کواپنی زد میں لیتا ہے اور کرونا کی طرز پر کچھ کو نگل جاتا ہے۔ اور جن کو نگلنے کی حیثیت نہیں ہوتی ان کو چھوڑ دیتا ہے۔یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جو اثرات کرونانےپوری دنیا پر چھوڑے ہیں احتساب نے بھی ہمارے ملک کا تقریباَ وہی حال کیا ہے۔ کرونا کی وجہ سے جہاں پوری دنیا میں لاک ڈاون ہے ہمارے ملک میں احتساب نے بھی کا فی عرصے سے اکانومی کا لاک ڈاون کر رکھا ہے۔ کوئی ادارہ کوئی افسر احتساب کے ڈر سے کام کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔

    عمران خان صاحب اگر آپ نے ریاستِ مدینہ بنانی ہی ہے تو اصول بھی مدینہ کی ریاست بنانے والوں کے اپنانے چاہئے تھے۔ حضور پاک ﷺنے جس طرح فتح مکہ کے موقع پر حکمت کے تحت عام معافی کا اعلان فرمایا،وزیرِاعظم صاحب کو چاہئے تھا 2018کے الیکشن جیتنے کے بعد مشروط معافی کا اعلان کیا جاتا جس کے تحت اپوزیشن کے کیسز معاف کرے کے بدلے کرپشن کی سخت سزا کی قانون سازی کروا سکتے تھے جو کہ اپوزیشن اور پوری پارلیمنٹ مرتےکیا نہ کرتے کے اصول پر تسلیم کر لیتی۔اور آپ ریاستِ مدینہ کے ماڈل جیسی بھی قانون سازی با آسانی کروا سکتے تھے۔ مگر اس وقت عالم یہ ہے کہ کو ئی بھی بِل پاس کروانا تو بہت دور کی بات ہے حکومت اگرکوئی آرڈیننس بھی لے آئے تو اس کو اپو زیشن کے شور شرابے کی وجہ سے واپس لینا پڑتا ہے۔

    ہمارے ملک میں کرپشن اگر چہ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے حلال تو نہیں تھی مگر معاشرہ کا اہم حصہ اور ضرورت بن چکی تھی۔پولیس، بیوروکریٹس، ریڑھی والا، سیاست دان چھوٹے بڑے تمام طبقے اس میں ملوث تھے اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا کہ اچانک پی ٹی آئی کی حکومت آنے پر لوگوں کو بتایا گیا کہ کرپشن معاشرہ میں ایک بہت بڑی لعنت ہےاور یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ عمران خان صاحب اکثر کہتے ہیں کچھ سخت فیصلے کرنےپرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کچھ اہم فیصلے بھی کرنے پرتے ہیں۔ یہاں پر میں ایک بڑی مثال اپنے چھوٹے سےقلم سے دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسلام کے ابتدائی دنوں میں جب شراب کی حرمت آگئی تو اس سے پہلے کسی کے عمل پر بھی کوئی پکڑ نہیں رکھی گئی کیونکہ حرمت سے پہلے اسکو جائز سمجھا جاتا تھا۔اور اسی طرح اسلام میں قرآن میں اور ہمارے نبی ﷺ نے جس چیز سے جب لوگوں کو روکا تو ان کے اس سے پہلے عمل پر کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی، اور پھر فتح مکہ کے موقع پرحضور پاک ﷺ کا معافی دینے کا عمل یہ وہ سنہری اصول ہیں جن کی بنیاد پر ریاستِ مدینہ قائم کی گئی۔

    اگر چہ ہمارے ملک میں ماضی میں ہونے والی کرپشن کو کسی بھی تناظر میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ایک اہم فیصلہ کر کے پچھلے کرپشن کے کیسز کو ہتھیار بنا کراگر ملک میں اہم اورموثر قانون سازی کی جا سکے تو اس وقت کے حا لات میں سب سے بڑا احتساب یہی ہو گا اور آنے والی نسلیں وزیرِاعظم کی احسان بھی مند ہوں گی۔

  • ڈاکٹر اور پیرا میڈیکس سٹاف کرونا کا شکار

    ڈاکٹر اور پیرا میڈیکس سٹاف کرونا کا شکار

    قصور
    پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چوہدری منظور احمد نے قصور میں کرونا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈک سٹاف کی بڑی تعداد کرونا کا شکار ہوگئی جبکہ ہسپتال کا لیبارٹری سٹاف اور ان کا خاندان بھی بڑے پیمانے پر کرونا کا شکار ہو چکا ہے اسی طرح پتھالوجی شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر عدیل اور انکے رفقاء بھی کرونا کا شکار ہوچکے ہیں انستھیزیا شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر عبدالماجد اور انکے ساتھیوں کا کرونا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہ گائنی وارڈ کی ڈاکٹر عقیلہ اور انکی 10ساتھی بھی کرونا کا شکار ہو چکی ہیں گائنی سمیت دونوں اپریشن تھیٹر بند کر دئیے گئے ہیں کورونا وارڈ، دل وارڈ کے اوپر بنائی گئی ہے جس سے دل کے مریض بھی متاثر ہو سکتے ہیں ہسپتال آنے والے 10 میں سے دو یا تین لوگ کرونا کا شکار ہیں جبکہ ہسپتال کا پورا عملہ خوف میں مبتلا ہے اور پنجاب حکومت سب اچھا کا راگ الاپ رہی ہے ڈاکٹروں کی بڑی تعداد کا کرونا سے متاثر ہونے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کرونا کے حوالے سے قصور شہر کے حالات کیا ہیں
    میں مطالبہ کرتا ہوں کہ تمام ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس کو حفاظتی لباس دیئے جائیں قصور شہر کا سب سے بڑا نجی ہسپتال کا عملہ بھی کرونا کا شکار ہو چکا ہے میں قصور کے شہریوں کو درد مندانہ اپیل کرتا ہوں کہ اگر حکمران سنجیدہ نہی لے رہے تو آپ ہی سنجیدہ ہو جائیں تاکہ اس وبا سے بچا جا سکے

  • ایبٹ آباد میں کرونا کا راج

    ایبٹ آباد میں کرونا کا راج

    ایبٹ آباد اور ہزارہ میں کرونا کی روک تھام کے لیے ھزارہ بھر میں سخت حفاظتی اقدامات کیے جا رھے ھیں خصوصی طور پر ضلع ایبٹ آباد میں کرونا کے بڑھتے ھوۓ کیسوں کے پیش نظر گلیات کے بازاروں کالاباغ نتھیاگلی ایوبیہ خانسپور ڈونگا گلی سمیت مختلف یونين کونسل میں ریڈ الرٹ کر دیا گیا ملاچھ گاؤں کو کچھ وقت کے لیے سیل کیا گیا ھے گلیات کی انتظامیہ نے عوام سے ایپل کی ھے کہ بازار موجودگی کے وقت ماسک ضرور لگاٸیں ایبٹ آباد شہر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر گٸ ھے اسی طرح ھری پور میں کرونا کے مریض دن بدن بڑھتے ھی جا رھیے ھیں حویلیاں شہر میں کوٸی حفاظتی اقدامات نہیں ھیں بازاروں میں انتہائی رش دیکھنے میں ملا ھے

  • کرونا کا پھیلاؤ تیز لوگ پرہیز سے گریزاں

    کرونا کا پھیلاؤ تیز لوگ پرہیز سے گریزاں

    قصور
    کوٹ رادھاکشن میں درجنوں مقدمات اور جرمانوں کے باوجود کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہسپتال مریضوں سے بھرنے لگے شادی تقریبات اور دیگر تقریبات بھی جاری سوشل ڈسٹینس برقرار رکھنا نہ ممکن ہو گیا تفصیلات کے مطابق شہر اور گردونواح میں کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے کورونا کے حوالے سے معلومات رکھنے والوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا شہر میں موجود ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھ گیا جبکہ لوگ ٹیسٹ مثبت نہ آ جائے اسی لئے کورونا ٹیسٹ کروانے سے گریزاں ہیں اور کھلے عام گھومنے پھرنے میں مشغول ہیں جس سے دیگر افراد میں بھی کورونا منتقل ہونے لگا ہے ماسک کا استعمال بہت کم کیا جا رہا ہے اور دیگر ایس او پیز پر بھی عمل نہیں کیا جا رہا ہے سبزی منڈی بینک ہسپتال اور دیگر کاروباری مراکز کورونا کو پھیلانے کے بڑے سبب بن چکے ہیں اسکے ساتھ شادی تقریبات اور دیگر تقریبات کا سلسلہ بھی جاری ہے جہاں پر سوشل ڈسٹینس برقرار رکھنا تقریبا ناممکن ہے اور انتظامیہ اس حوالے سے کسی قسم کی کاروائی سے گریزاں ہے جب کہ لوگ آج بھی کورونا کے مرض کو مذاق سمجھتے ہیں اگر یہی صورتحال رہی تو شہر اور گردونواح میں مریضوں کا سیلاب آ جائے گا جس کے تدارک کی اشد ضرورت ہے

  • پیٹرول کے باعث کرونا کا پھیلاؤ

    پیٹرول کے باعث کرونا کا پھیلاؤ

    قصور
    پیٹرول تاحال نایاب حکومت بحالی کروانے میں ناکام منی پیٹرول پمپوں پر ڈاکو راج
    تفصیلات کے مطابق یکم جون سے قصور میں بھی پورے ملک کی طرح پیٹرول نایاب ہے مگر افسوس کے گلی محلوں میں موجود منی پیٹرول پمپوں پر دستیاب ہے جو کہ اپنی مرضی کے ریٹوں پر فروخت کر رہے ہیں
    قصور سے رائیونڈ تک قصور بائی پاس پر واقع ٹوٹل کمپنی کے پیٹرول پمپ کے علاوہ کسی پمپ کے پاس پیٹرول نہیں مگر جہاں موجود ہے وہاں باری گھنٹوں بعد ہی آتی ہے اور بہت زیادہ رش کے باعث ایس او پیز کی دھجیاں بکھر رہی ہیں جس سے کرونا کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی ہے کیونکہ اب تک قصور شہر میں بہت سے کرونا مریض کنفرم ہو چکے ہیں لہذہ گورنمنٹ جلد سے جلد پیٹرول کی سپلائی بحال کروائے ورنہ کرونا کے پھیلاؤ کا شدید خطرہ ہے

  • ٹک ٹاکرز کی گورنر کے ہاں دعوت اور ان کے کرونا آگاہی مہم میں کردار پر اعتراض کیوں؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    ٹک ٹاکرز کی گورنر کے ہاں دعوت اور ان کے کرونا آگاہی مہم میں کردار پر اعتراض کیوں؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز گورنر پنجاب اور ان کی اہلیہ نے پاکستان کے معروف ٹک ٹاکرز کو مدعو کیا اور ان سے استدعا کی کہ وہ کورونا کی آگاہی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں. اس پر خاصی لے دے جاری ہے، بعض ان کو ناچنے والے، کنجر اور کئی برے ناموں سے لکھ رہے ہیں اور یہاں تک کہا جارہا ہے کہ اب یہ کنجر ناچ ناچ کر ہمیں کرونا سے آگاہ کریں گے وغیرہ وغیرہ. تو دوستو ذرا قومی گریبان میں جھانک کر دیکھیے کہ ان ہمارا قومی مزاج بھی تو یہی ہے کہ وہ کشمیر ہو یا کچھ اور ان پر ہم ناچ گانے کروا کر ہی آزادی کی کوشش کر رہے ہیں تو کرونا کی آگاہی کے لیے اگر ٹک ٹاکرز کو مدعو کرکے ان سے گزارش کی گئی تو اس میں عجب کیسا؟ اور دوسری بات کہ ان ٹک ٹاکرز کو معروف میں نے اور آپ نے ہی کیا نا ان کی ویڈیوز دیکھ دیکھ کر اب وہ معاشرے میں انفلواینسر بن چکے ہیں . انہوں نے اپنا آپ منوایا ہے اور قوم نے ان کو دیکھا ہے ان کی ویڈیوز کے ویوز کروڑوں میں ہوتے ہیں آپ کہیں کہ آپ ان کو فالو نہی کرتے ان کو نہیں دیکھتے تو جن یا کوئی مخلوق تو ہے نہیں جو ان کو فالو کر رہی ہے ہم انسان ہی ہیں جو ان کو دیکھتے اور فالو کرتے ہیں. آپ مانیں یا نہ مانیں. ان کی پچاس پچاس لاکھ فالونگ ہے جتنی ہمارے سیاستدانوں یا علماء کی بھی نہیں ہوتی. جب ہم علماء اور رہنماؤں کو فالو کرنا چھوڑ کر ٹک ٹاکرز کو ہی فالو کریں گے تو کرونا آگاہی بھی تو پھر یہ ٹک ٹاکرز ہی دیں گے. جب قوم جہاد اور مظلوموں کی مدد کو قران و حدیث کی بجائے ڈراموں اور فلموں میں ڈھونڈے گی تو پھر نیلم منیر سے ہی کشمیر کی آزادی کی تحریک چلائی جائے گی نا پھر گانوں سے ہی کشمیر کی آزادی کی تحریک کو تقویت دی جائے گی. ہر ایشو پر متشدد رائے دینے سے قبل ذاتی اور قومی گریبان میں ضرور جھانک کر دیکھیں کہ ہمارا انفرادی اور قومی مزاج کیسا ہے. لاکھوں کروڑوں کی فالونگ رکھنے والوں کو اگر گورنمنٹ اپنی کسی مہم میں استعمال کرنا چاہ رہی ہے تو اچھی بات ہے. ویسے بھی قوم ان ڈاکٹروں اور علماء کی بات کہاں سن رہی ہے جو ان کو احتیاط کی تلقین کر رہے چلو اب قوم کے "پسندیدہ” لوگ ٹک ٹاکرز ہی ان کو سکھائیں گے سب کچھ……
    محمد عبداللہ

  • محکمہ صحت کی شہریوں سے اپیل

    محکمہ صحت کی شہریوں سے اپیل

    قصور
    کرونا سے تین اموت مگر شہری ابھی تک بے احتیاط محکمہ صحت نے لوگوں سے احتیاط کی اپیل کر دی
    تفصیلات کے مطابق قصور میں کرونا کے تین مریضوں کی دو دن قبل وفات ہو چکی ہے فوت شدگان میں کھڈیاں خاص کا شہری اسلم،کوٹ اندرون عثمان خان والا کا رہائشی محمد عتیق اور بھٹہ سوہن والا کا رہائشی محمد تنویر شامل ہیں محکمہ صحت قصور کے مطابق ان افراد کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم یہ زندگی کی بازی ہار گئے
    واضع رہے کہ ان تینوں کی میتوں کو قصور انتظامیہ نے ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے ان کے ورثاء کے حوالے کر دیا گیا تھا جنہیں ایس او پیز پر عمل درآمد کرکے ان کے آبائی قبرستانوں میں سپرد خاک کیا گیا ہے
    تاہم قصور ہسپتال میں اب بھی کرونا سے متاثرہ 6 افراد زیر علاج ہیں اس سے قبل ڈی پی ایس قصور قرنطینہ سنٹر سے 200 سے زائد افراد صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں محکمہ صحت حکام کے مطابق قصور میں اچانک کرونا کا تیز ہو جانا شہریوں کی جانب سے احتیاطی تدابیر نا کرنا ہے جس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں لہذہ شہری گھروں سے نکلتے وقت ماسک کا استعمال لازمی کریں اور ایک دوسرے سے کم سے کم چھ فٹ کا فاصلہ رکھیں وٹامن سی اور پروٹین کیساتھ خشک میوہ جات بھی استعمال کریں کیونکہ خشک میوہ جات میں اومیگا 3 سے جسمانی دفاعی نظام مضبوط ہوتا ہے

  • کرونا سے نجات فقط احتیاط

    کرونا سے نجات فقط احتیاط

    قصور
    جامع مسجد کمبوہ والی اندروں کوٹ مراد خاں قصور کی انتظامیہ حافظ محمد رفیق ،حاجی سراج دین ، مولوی منشاء نے حکومتی احکامات مدنظر رکھ کے مثال قائم کر دی
    تفصیلات کے مطابق مسجد انتظامیہ نےکرونا وائرس سے بچاو کیلئے مکمل حفاظتی تدابیر اپنا لئے ہیں کوٹ مراد خان قصور میں جامع مسجد کمبوہ والی کی انتظامیہ نے کہا ہے ہم گورنمنٹ انتظامیہ کے ساتھ شانہ بشانہ کورونا کی وبا سے لڑیں گے جبکہ کوٹ مراد خاں کے محلے داروں کا کہنا ہے ہمیں ہر ممکن طریقے سے نمازیوں کو کورونا بچاوْ کیلئے سامان مہیا کرنا ہو گا
    مسجد انتظامیہ نے نمازیوں سے ماسک، سینیٹائزر، استعمال کرنے کی درخواست کی ہے جبکہ مسجد انتظامیہ نے نمازیوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا احتیاط کریں یہ قوم کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے
    حافظ محمد رفیق کا کہنا تھا احتیاط، نظم وضبط اور تعاون کے اصولوں سے کرونا سے نجات مشکل نہیں

  • بد احتیاطی پر شہریوں کیلئے خطرے کی گھنٹی

    بد احتیاطی پر شہریوں کیلئے خطرے کی گھنٹی

    قصور
    ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں کورونا کے قصور شہر سے تعلق رکھنے والے تین مریض ہلاک میتیں ورثاء کے حوالے ایم ایس ڈاکٹر لئیق چوہدری

    تفصیلات کے مطابق قصور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں تین کورونا کے مریض وفات پا چکے ہیں
    والوں میں کھُڈیاں خاص کا رہائشی محمد اسلم ،کوٹ عثمان کا عتیق الرحمان اورب ھٹہ سوہن والا قصور کا رہائشی تنویر شامل ہے
    ایم ایس ڈی ایچ کیو قصور ڈاکٹر کئیو چوہدری نے بتایا کہ تینوں افراد کا کورونا پازیٹیو آنے کے بعد انہیں ہسپتال داخل کیا گیا تھا جبکہ ہسپتال انتظامیہ نے حکومتی ایس او پیز کے تحت میتیں ورثاء کے حوالے کر دی ہیں
    تاہم ڈسٹرکٹ ہسپتال میں اب بھی 6 کورونا کے مریض ہیں موجود ہیں
    جبکہ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر نہ اپنانے پر کورونا کے کیسیز بڑھنے لگے ہیں جو کہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں

  • یاسمین راشد:سب سے زیادہ کیسز لاہور میں رپورٹ ہوئے ہیں

    یاسمین راشد:سب سے زیادہ کیسز لاہور میں رپورٹ ہوئے ہیں

    یاسمین راشد: پورے پنجاب میں اب ستائیس ہزار آٹھ سو پچاس ٹیسٹ رپورٹ ہوئے ہیں. پنجاب میں اب تک پانچ سو چالیس اموات ہوئیں.پنجاب میں آخری چوبیس گھنٹوں میں ترتالیس ہوئی ہیں. پنجاب میں اب تک دو لاکھ تینتالیس ہزار ٹیسٹ ہو چکے ہیں. سب سے زیادہ کیسز لاہور میں رپورٹ ہوئے ہیں .جو ایک بہت بڑا کام محکمہ صحت نے کیا وہ کانٹیکٹ ٹریسنگ کابہے.نوے ہزار آٹھ سو انہتر افراد کو ٹریس کیا گیا ہے.

    کانٹیکٹ ٹریسنگ میں چار ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے. ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ کوئی کیس سامنے آئے تو اسکے ٹیسٹ کے بعد اسکے کانٹیکٹس کو ٹریس کریں.ایک بہت بڑا خدشہ اسپتالوں کے بیڈز بھرنے سے متعلق ہے.آج کی صورتحال کے مطابق لاہور میں سنگین مریض ایک سو انیس راولپنڈی میں ایک سو سولہ ہے.سنجیدہ مریضوں کا مجموعی نمبر صوبہ میں دو سو اکاون ہے.کنٹرول روم ہمارا اسٹیبلیش ہوا ہوا ہے.ایک پورے پنجاب کاکنٹرول روم ہے . زیادہ سے زیادہ معلومات دینےے کی کوشش کر رہے ہیں. ایک سمری کل سے بہت تنازعہ کا شکار ہوئی ہوئی ہے. سمارٹ سیمپلنگ کے لیئے ہمیں کیبنیٹ کمیٹی کی جانب سے کہا گیا تھا.

    کمیٹی بنائی گئی جس میں بین القوامی یونیورسٹیز سے بھی ایکسپرٹ شامل کیئے گیے. اٹھائیس اپریل کو انہیں کہا کہ ہمی سیمپلنگ کر کے بتائیں کہ مستقبل کا بتائیں کیسز کہاں تک پہنچیں گے.صوبہ بھر میں انہوں نے پینتیس ہزار کے قریب ٹیسٹ کیئے. لاہور میں انہوں نے اکیس ہزار کے قریب ٹیسٹ کیئے.اس سارے عمل ہر چھ کرور کا خرچہ آیا.

    ہمارے پاس اسکے جو نتائج سامنے آئے اس کے مطابق لاہور میں پانچ عشاریہ ایک آٹھ فیصد انفیکٹیوٹی آئی. انفیکٹیویٹی کا مطلب یہ ہے کہ ہم کتنے افراد انفیکٹڈ ہیں. اس ڈیٹا سے اندازہ ہوا کہ شاید اتنے لوگوں کو وائرس لگا.
    یہ ایک سائینٹیفک ڈیٹا تھا جس کے ذریعے ہم نے اندازہ لگانا تھا کہ آگے کیا کرنا ہے. اس وقت ہمارے پاس ستر فیصد جگہ ہے لیکن ہمیشہ برے کے لیئے پلان کیا جاتا ہے. اللہ کی مہربانی ہے کہ ہم سمجھ رہے تھے اتنی تعداد سامنے آئے گی وہ بھی سامنے نہیں آئی.

    ابھی بھی میو اسپتال میں اٹھائیس سے تیس وینٹی کیٹرز خالی پڑت ہین. جو ایک اتنا شور مچا کہ پندرہ کو سمری موو کی گئی کہ ہمیں خدشہ ہے کہ اتنے کیسز جو سامنے آئے ہیں تو اتنے فیصد افراد اس سے متاثر ہوں گے. اسی رہورٹ مین یہ بھی بتایا گیا کہ پچاس عمر سے زیادہکے افراد زیادئ متاثر ہو سکتے ہیں. ایکسپرٹس کا اوپینیئن تھا کہ ابھی بند رکھیں.لیکن افر پاکستان کی صورتحال دیکھی جائے تو پنتالیس فیصد ریوینیو رک گیا. میرے لیئے ابھی بھی الارمنگ صورتحال ہے. ہم اندازہ لگاتے ہیں کہ اتنے فیصد افراد اس بجماری سے متاثر ہین.

    آپ نے اپنے آپ کو بچانا ہے. یہ ایک صدقہ جاریہ ہے کہ آپ لوگوں کو بچائیں.چالیس فیصد انفیکشن ماسک پہننے سے پھیلاو سے رک جائے گی. خواتین میں ابھی تعداد پچیس فیصد ہے. وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر خواتین اپنے چہرے کور کرتے ہیں.ہمارا کسی قسم کے اعداد و شمار چھپانے کا ارادہ نہیں ہے. انفیکٹڈ افراد کی تعداد بڑھی کیونکہ لوگوں نے احتیاط نہیں کی.بار بار پیغام دیں کہ اپنی حفاظت خود کریں.

    آپ سب کی زندگی ہمیں بہت عزیز ئے. انٹرنیشنل ایئر لائینز بیک کرپٹ ہو چکی ہیں. فیکٹریز بند ہو چکی ہیں.
    ابھی اللہ کی مہربانی تھی کہ گندم کی کٹائی کا سیزن تھا. بہت سے لوگوں نے فصلیں کاٹ کے گھر کا سرکل چلایا. ابھی ہم نے ڈاکٹرز کا جو ڈیوٹی روسٹر بنایا وہ یہ تھا کہ وہ ایک ہفتہ چھ گھنٹے کے لیئے کام کرتے تھے اسکے بعد چھٹی کرتے تھے. ڈاکٹر ہی نہیں اس وقت بہت سے طبقات متاثر ہوئے.ڈاکٹرز بھی آپ جیسے انسان ہیں.جو میری طرح ذرا بوڑھے ڈاکٹرز ہیں وہ زیادہ متاثر ہو رہے ہیں. کوئی بھی کورونا کا مریض جب اسپتال آتا ہے تو کسی مسئلہ کے ساتھ آتا ہے.اس کی علامات کا اعلاج اسی وقت شروع ہو جاتا ہے.

    اس وائرس کا ابھی تک کوئی بھی اعلاج نہیں ہے,صرف علامات کا اعلاج ہے.جب علامات ظاہر ہوں تو جلدی آ جائیں. گھر بیٹھ کر انتظار نہ کرتے رہیں کہ طبیعت زیادہ خراب ہو گی تو جائیں گے. سات ہزار ایک سو سولہ افراد اب تک صحت مند ہوئے ہیں.