Baaghi TV

Tag: current news

  • خواتین ٹی 20 ورلڈ کپ کا آغاز؛ پاکستان سمیت10 ملکوں کی ٹیمیں ٹرافی کے حصول کیلئے مد مقابل

    خواتین ٹی 20 ورلڈ کپ کا آغاز؛ پاکستان سمیت10 ملکوں کی ٹیمیں ٹرافی کے حصول کیلئے مد مقابل

    پاکستان سمیت10 ملکوں کی ٹیمیں ٹرافی کے حصول کیلئے مد مقابل

    جنوبی افریقہ میں کرکٹ کھیلنے والے 10 ملکوں کی ویمنز کرکٹ ٹیمیں جمع ہیں جہاں وہ آٹھویں آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کے حصول کیلئے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کو تیار ہیں۔ ٹورنامنٹ جمعہ 10 فروری سے شروع ہورہا ہے جس میں آسٹریلوی ویمنز کرکٹ ٹیم اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی جس نے 2020 میں اپنے ہوم گراؤنڈ میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلنے جانے والے فائنل میں بھارتی ویمنز کرکٹ ٹیم کو 85 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل جیتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا کو اپنے اولین میچ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی تھی ۔ اسی ٹورنامنٹ میں آئی سی سی نے فرنٹ فٹ نوبال کو مانیٹر کرنے کیلئے پورے ٹورنامنٹ کے دوران ٹیکنالوجی کواستعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایونٹ میں حصہ لینے والی10 ٹیموں کو پانچ پانچ کے دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ میزبان جنوبی افریقہ سمیت 8 ٹیمیں براہ راست رینکنگ کی بنیاد پر ٹورنامنٹ میں شرکت کی اہل ہیں جبکہ آئرلینڈ اور بنگلہ دیش نے کوالیفائنگ رائونڈ کھیل کر اس مرحلے میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

    گروپ اے میں دفاعی چیمپئن آسٹریلیا’ بنگلہ دیش’ نیوزی لینڈ’ میزبان جنوبی افریقہ اور سری لنکا گروپ بی میں انگلینڈ’ بھارت’ آئرلینڈ’ پاکستان اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں ۔ ٹورنامنٹ کے میچز تین شہروں کوساہ ( پورٹ ایلزبتھ) پارل اور کیپ ٹائون میں کھیلے جائیں گے ۔ افتتاحی میچ اور فائنل کی میزبانی کیپ ٹائون کر رہا ہے۔ آسٹریلوی ٹیم 20 اوورز کے اس ٹورنامنٹ میں پانچ مرتبہ فاتح رہی ہے جبکہ انگلینڈ کی خواتین نے 2009 میں اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیلے جانے والے اولین کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دے کر جیتا تھا۔ اس کے بعد انگلش خواتین کی ٹیم تین مرتبہ فائنل میں پہنچی لیکن ہر بار اسے روایتی حریف آسٹریلوی ٹیم کے ہاتھوں شکست کا مزہ چکھنا پڑا تھا۔ ویسٹ انڈین خواتین نے 2016 میں بھارت میں کھیلے جانے والے ٹورنامنٹ کے فائنل میں آسٹریلیا کو شکست دے کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ ویسٹ انڈین ٹیم نے اس ایونٹ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلے اور دوسرے ایونٹ کے فائنل میں پہنچی تھی ۔ پہلے ورلڈ کپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کو انگلینڈ اور دوسرے ورلڈ کپ فائنل میں آسٹریلیا نے زیرکیا تھا ۔

    آسٹریلوی ٹیم کو سب سے زیادہ ورلڈ کپ میچز کھیلنے اورجیتنے کا اعزاز حاصل ہے۔ آسٹریلوی خواتین نے سات ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں مجموعی طور پر 38 میچز کھیلے اور 29 میں فتوحات حاصل کیں جبکہ صرف آٹھ میچوں میں اسے شکست ہوئی۔ ایک میچ ٹائی ہوا۔ انگلش کرکٹ ٹیم نے 30 میں سے 18 میچ جیتے 12 ہارے۔ نیوزی لینڈ نے 32 میں سے 22 جیتے 10 ہارے۔ بھارت کو 31 میچز میں سے 17 میں کامیابی ملی جبکہ 14 میں شکست کامنہ دیکھنا پڑا۔ جنوبی افریقن ٹیم 27 میچز میں سے 11 جیتی 16 ہاری۔ سری لنکن ٹیم نے میچز میں سے آٹھ جیتے اور 19 ہارے۔ بنگلہ دیش نے 17 میچوں میں سے صرف دو جیتے اور 15 میں شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی۔ آئرلینڈ13 اور تھائی لینڈ نے 4 میچ کھیلے لیکن دونوں ٹیموں کو تمام میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    ویسٹ انڈیز وہ واحد ملک ہے جسے دومرتبہ ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہے۔ ویسٹ انڈیز نے 2010 اور2018 میں اس ایونٹ کی میزبانی کی تھی اوردونوں بار ویسٹ انڈین ٹیم کو سیمیفائنل میں شکست ہوئی تھی۔ انگلینڈ اور آسٹریلیا وہ ممالک ہیں جنہوں نے میزبانی کرتے ہوئے ورلڈ کپ جیتا جبکہ تین میزبان ایشائی ملک پہلے راؤنڈ میں ہی باہر ہوگئے تھے۔ 2012 کے میزبان ملک سری لنکا ’ 2014 کا میزبان بنگلہ دیش اور 2016 کا میزبان بھارت گروپ مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکے تھے۔ اس ٹورنامنٹ کا آغاز آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے نام سے ہوا تھا اور 2019 تک اسے آئی سی سی ویمنز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے نام سے ہی جانا جاتا تھا۔ جس کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ رکھ دیا گیا ۔ یہ 20 محدود اوورز کا خواتین کرکٹ کا دو سالہ بین الاقوامی ایونٹ ہے۔ یہ ایونٹ بین الاقوامی کرکٹ کی گورننگ باڈی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے زیر اہتمام منعقد کیا جاتا ہے۔

    اس کا پہلا ایڈیشن 2009 میں انگلینڈ میں منعقد ہوا تھا۔ پہلے تین ٹورنامنٹس میں آٹھ آٹھ ممالک شریک ہوئے تھے۔ لیکن پھر 2014 کے بعد ٹیموں کی تعداد کو بڑھا کر 10 کر دیا گیا تھا۔ جولائی 2022 میں آئی سی سی نے اعلان کیا تھا کہ بنگلہ دیش 2024 کے ٹورنامنٹ کی میزبانی کرے گا اور 2026 کے ٹورنامنٹ کا میزبان انگلینڈ ہو گا اور اس ٹورنامنٹ میں ٹیموں کی تعداد 10 سے بڑژھا کر 12 کر دی جائے گی ۔ ہر ٹورنامنٹ میں 8 ٹیموں کی ایک مقررہ تعداد خود بخود کوالیفائی کرتی ہے، باقی ٹیموں کا تعین ورلڈ T20 کوالیفائر کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ 2014 تک ڈراز کے وقت آئی سی سی ویمنز ٹی 20 انٹرنیشنل رینکنگ میں ٹاپ چھ ٹیمیں براہ راست کوالیفائی کرتی تھیں جبکہ دو ٹیمیں کوالیفائنگ رائونڈ کھیل کر آنی تھیں۔ 8 ملکوں کی ویمنز کرکٹ ٹیموں کو ساتوں آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے کااعزاز حاصل ہے جن میں آسٹریلیا’’ نیوزی لینڈ’ جنوبی افریقہ’ سری لنکا’ انگلینڈ’ بھارت“ پاکستان اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں۔ بنگلہ دیش چار’ آئرلینڈ تین اورتھائی لینڈ نے ایک بار اس ایونٹ میں شرکت کی ہے۔

    ٹورنامنٹ میں شریک ہر ٹیم 15 رکنی اسکواڈ پر مشتمل ہے تام زخمی ہونے والی کھلاڑیوں کیلئے متبادل کی اجازت ہے۔ ٹورنامنٹ کے باقاعدہ آغاز سے قبل ٹیموں نے 6 سے 8 فروری تک وارم اپ میچز کھیلے۔ جس میں آئرلینڈ نے دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کو شکست دے کر تہلکہ مچا دیا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کی کارکردگی بھی کوئی متاثر کن نہیں ہے۔ پاکستان نے سات ٹورنامنٹس میں مجموعی طور پر 28 میچز کھیلے ہیں اور صرف آٹھ میچوں میں کامیابی حاصل کی جبکہ 19 میچز میں اسے حریف ٹیموں نے زیر کیا۔ ایک میچ بے نتیجہ رہا۔ پاکستان کی 15 رکنی ٹیم آل راؤنڈر بسمہ معروف کی زیر قیادت اس ٹورنامنٹ میں شرکت کررہی ہے ٹیم کی دیگرکھلاڑیوں میں ندا ڈار (نائب کپتان) ایمن انور ’عالیہ ریاض ’ عائشہ نسیم‘ صدف شمس’ فاطمہ ثنا’ جویریہ ودود’ منیبہ علی صدیقی’ نشرہ سندھو’ عمیمہ سہیل’ سعدیہ اقبال’ سدرہ امین’ سدرہ نواز اور طوبیٰ حسن شامل ہیں جبکہ ریزرو کھلاڑیوں میں کائنات امتیازاور غلام فاطمہ شامل ہیں۔

    پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف اس بارگروپ مرحلے سے آگے بڑھنے کیلئے خاصی پرامید ہیں۔ بسمہ معروف دوسری بار ٹی 20 ورلڈ کپ میں ٹیم کی قیادت کررہی ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ ٹیم کی مسلسل اچھی کارکردگی کی وجہ سے اسبار پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ میں بہتر نتائج دے گی۔ ٹیم جواں سال باصلاحیت اورتجربہ کار کھلاڑیوں کا مجموعہ ہے۔ پاکستان کے گروپ میں بھارت شامل ہے لیکن پاکستان کا روایتی حریف کے خلاف ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ بھارت کو پاکستان پر ٹی 20 میچوں میں تین کے مقابلے میں 10 فتوحات کی برتری حاصل ہے۔ تاہم حال ہی میں ایشیاکپ میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد بھارت کو 13 رنزسے شکست دی تھی اور 138 رنز کے ہدف کاکامیابی سے دفاع کیا تھا۔ پاکستانی ٹیم نے جنوری 2021 کے بعد 21 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیلے جن میں سے 10 جیتے اور9 میں حریف ٹیمیں فاتح رہیں۔

    پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ کا زیادہ تر دارو مدار بسمہ معروف’منیبہ علی ’سدرہ امین‘ عمیمہ سہیل پر ہے جبکہ نداڈاراورعائشہ نسیم جارحانہ بیٹنگ کر کے رنزوں میں تیزی سے اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ طوبیٰ حسن’ ندا ڈار’ نشرہ سندھو’ فاطمہ ثنا اپنی شاندار نپی تلی بولنگ سے حریف ٹیموں کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ تاہم اس سب کا پتہ توگراؤنڈ میں چلے گا جب ٹیمیں کامیابی کیلئے ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گی۔ ٹورنامنٹ کا پہلا میچ 10 فروری کو گروپ اے میں شامل میزبان جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے مابین کیپ ٹاؤن میں کھیلا جائے گا۔ گروپ راؤنڈ میچز 22 فروری تک جاری رہیں گے اور دونوں گروپوں سے دو دو ٹاپ ٹیمیں سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کریں گے. 11 فروری کو پارل میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز’ آسٹریلیا بمقابلہ نیوزی لینڈ’ 12 فروری کو ایشیا کے دو روایتی حریف پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں کیپ ٹاؤن میں مدمقابل ہوں گی جبکہ اس میچ کے بعد اسی گراؤنڈ پر بنگلہ دیش اور سری لنکا کا مقابلہ ہوگا ۔

  • لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کردی

    لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کردی

    لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک کے لئے بڑا حکم جاری کردیا ہے، عدالت نے لاہور شہر میں درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔ جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کے متعللق کیس کی سماعت کی، نگران حکومت کی جانب سے سموگ تدارک کے لئے چینی ماہرین کی خدمات کے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔عدالت نے ٹریفک کے رش والے علاقوں میں خلاف ورزی کی صورت میں ایمرجنسی نمبرز کے بورڈ آویزاں کرنے کی ہدایت کر دی۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ نگران حکومت نے سموگ تدارک کے لئےچینی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے لئے ورکنگ پیپر جاری کردیا ہے۔جس پر عدالت نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب آپ اس ورکنگ پیہر کو وفاقی حکومت کےذریعے چِینی حکومت سے شئیر کریں ۔ چینی ماہرین کی مدد سے سموگ کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    جسٹس شاہد کریم نے کہا ہے کہ شہر میں درخت کاٹنے کو فوجداری جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی کی جائے ، لاہور شہر میں سموگ کے معاملے پر پہلے ہی حالات بہت خراب ہیں ، درخت کاٹ کر حالات مزید ابتر نہ کئے جائیں ۔ عدالت نے کہا ہے کہ کسی بھی پراجیکیٹ کے لئے آئندہ محکمہ ماحولیات درختوں کی کٹائی کی صورت میں این او سی جاری نہ کرے۔عدالت نے ٹریفک کےرش والے علاقوں میں خلاف ورزی کی صورت میں ایمرجنسی نمبرز کے بورڈز اویزاں کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ سماعت 17 فروری تک ملتوی کردی۔

  • نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف  ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع

    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع کردی۔

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع کردی ہے.محمدخان بھٹی کےخلاف کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے اور ان کے اثاثوں کی چھان بین کیلئے ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ نیب ذرائع نے بتایا کہ محمدخان بھٹی کو ملنے والی تنخواہیں، مراعات اور سیشن الاؤنس کاریکارڈحاصل کرلیا، بینک نے سیکڑوں صفحات پر مشتمل ریکارڈ نیب کو جمع کرا دیا ہے۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ محمدخان بھٹی نے2007 تا 2018 جبری رخصت پر ہونے کے باوجود تنخواہیں وصول کیں اور کروڑوں روپے کی غیرقانونی مراعات وصول کیں۔ ذرائع کے مطابق نیب نے کروڑوں روپے کی مخلتف ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ بھی حاصل کرلیا۔ محمدخان بھٹی کےخلاف ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن میں بھی مبینہ کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں۔ دوسری جانب سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کی اہلیہ نے شوہر کی گمشدگی پر چیف جسٹس پاکستان سے ازخود نوٹس کا مطالبہ کیا ہے۔

    واضح‌رہے کہ اس سے قبل محمد خان بھٹی کے خلاف مقدمے میں نامزد ایکسیئن ہائی وے رانا محمد اقبال کا عدالت میں دیا گیا اعترافی بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ محمدخان بھٹی ٹرانسفر پوسٹنگ کی مد میں زبردستی رشوت وصول کرایا کرتے تھے، ترقیاتی کاموں کی مد میں زبردستی محمد خان بھٹی رشوت وصول کرایا کرتے تھے۔ ایکسیئن ہائی وے رانا محمد اقبال نے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ محمدخان بھٹی پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے فرنٹ مین ہیں، ذکا نامی شخص نے محمدخان بھٹی سے متعارف کرایا تھا، 10 لاکھ رشوت کے عوض مجھے ایکسیئن ایم اینڈ آر گجرات تعینات کرایا گیا، گجرات میں کام شروع کیا تو ابتدائی 3 ماہ میں محمد خان بھٹی کو تقریباً 3کروڑ روپے پہنچائے، جس کے بعد محمد خان بھٹی نے میرا تبادلہ بطور ایس ڈی او ہائی وے پھالیہ کرا لیا۔

    رانا محمد اقبال نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ محمد خان بھٹی نے جولائی میں کنٹریکٹرز کو نئےکام دینے کے لیے بڑی رقم کا مطالبہ کیا، پھالیہ تعیناتی کے دوران 25 کروڑ اکٹھےکر کے محمد خان بھٹی کو جی او آر ون ان کے گھر پہنچائے، مئی 2022 سے جولائی 2022 تک میں او ایس ڈی رہا، پرویز الٰہی نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھایا اور محمد خان بھٹی سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ لگ گئے۔ ملزم نے اعترافی بیان میں مزید بتایا تھا کہ محمد خان بھٹی نے سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ بنتے ہی میرے آرڈر بطور ایکسیئن منڈی بہاؤالدین کرا دیے، محمد خان بھٹی نے مجھے من پسند آسامیوں پر تعیناتیوں کی مد میں پیسے اکٹھے کرنے کا ٹاسک سونپا، دلشاد کو ایکسیئن ہائی وے لاہور تعینات کرنے کے لیے 20 لاکھ رشوت لی تھی. کاشف شکور سے ایس ای لاہور سرکل تعینات کرنے کے لیے 50 لاکھ رشوت لی تھی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    رانا محمد اقبال نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا تھا کہ مختلف افسروں کو من پسند آسامیوں پر تعینات کرنے کے لیے مجموعی طور پر 2 کروڑ رشوت لی گئی تھی. محمد خان بھٹی پرنسپل سیکرٹری بنے تو مختلف محکموں کے لیے ڈیویلپمنٹ کا بہت بڑا پیکج منظور کروایا، محمد خان بھٹی کی ہدایت پر کام دینے کے عوض 50کروڑ جمع کر کے ان کے گھر پہنچائے، رشوت دیتے وقت رہائش گاہ پر مونس الٰہی اور دیگر بھی موجود تھے، مونس الٰہی کی موجودگی میں 2 کمپنیوں کو کام دینے کا حکم دیا، دو کمپنیوں کو کام دلوانے کی مد میں محمد خان بھٹی نے 10کروڑ روپے رشوت لی تھی.

  • پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے

    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے

    اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستانی معیشت پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیداواری صلاحیت میں اصلاحات اور لیبر فورس میں خواتین کی شمولیت کے بغیر پاکستانی معیشت ترقی نہیں کرسکتی۔

    تفصیلات کے مطابق ورلڈ بینک نے پاکستانی معیشت پر رپورٹ جاری کردی، ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی معیشت پیداواری صلاحیت میں اصلاحات کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی، پاکستان کی معیشت نازک مرحلے پر ہے۔عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں مالی وسائل کی تقسیم سے متعلق خرابیاں دور کرنے پر زور دیا ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو سالانہ 6 سے 8 فیصد معاشی ترقی کی ضرورت ہے۔

    ورلڈ بینک فنڈزکااستعمال؛ہائی کورٹ نے سندھ حکومت کو مزید ٹھیکے دینے سے روک دیا

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وسائل کے اعتبار سے پیداوار نہ ہونا ملکی ترقی میں رکاوٹ ہے، تمام شعبوں پر ٹیکسوں کو ہم آہنگ کرنے سے معیشت میں بہتری آسکتی ہے۔ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ ریئل اسٹیٹ کے شعبے کے بجائے مینو فیکچرنگ اور تجارتی شعبے کو بہتر کیا جائے، تجارتی پالیسی سے برآمدی شعبوں میں برآمد مخالف رویوں کو ختم کیا جائے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سے ریجنل ڈائریکٹر ورلڈ بینک کی سربراہی میں وفد کی ملاقات

    رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں 22 فیصد خواتین ملازمت کرتی ہیں اس شرح کو بڑھانا چاہیئے، خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت سے ترقی میں اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔ خواتین کے لیے روزگار کے 73 لاکھ مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ورلڈ بینک کے مطابق ملک میں خواتین کو روزگار کی فراہمی سے جی ڈی پی کی شرح 23 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔

    سیلاب سے 90 لاکھ تک پاکستانی غربت کا شکار ہونے کا خدشہ ہے، ورلڈ بینک

    عالمی بینک نے پاکستان کا بنیادی مسئلہ نجی حکومتی اخراجات پر انحصار قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جنرل سیلز ٹیکس کو ہم آہنگ کرنا اور بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 2 دہائیوں میں پاکستان میں فی کس خام قومی پیداوار کی شرح کم رہی، پائیدار ترقی کے لیے دیرینہ عدم توازن کا مسئلہ ہنگامی بنیاد پر حل کرنا ہوگا۔

  • اسلام آباد کے نجی اسپتال میں مولانافضل الرحمان کا کامیاب آپریشن

    اسلام آباد کے نجی اسپتال میں مولانافضل الرحمان کا کامیاب آپریشن

    اسلام آباد کے نجی اسپتال میں مولانافضل الرحمان کا کامیاب آپریشن

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ اور جے یو آئی (ف) ک امیر مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد کے ایک اسپتال میں آپریشن کیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان گزشتہ کئی ماہ سے مثانے کی تکلیف کا شکار تھے، معالجین نے تکلیف کی وجہ پتھری قرار دی تھی۔ جے یو آئی (ف) کے ترجمان کے مطابق اسلام آباد کے نجی اسپتال میں گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کے مثانے سے پتھری نکالنےکے لئے آپریشن کیا گیا تھا۔ مولانا فضل الرحمان اب بھی اسلام آباد کے نجی اسپتال میں داخل ہیں اور ان کی طبیعت بہتر ہورہی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل جے یو آئی کی جانب سے ناسازی طبیعت کے باعث مولانا فضل الرحمان کی سیاسی سرگرمیوں کی منسوخی سے متعلق خط لکھ کر عہدیداروں کو باضابطہ آگاہ کیا تھا. مولانا عبدالغفور حیدری کی جانب سے کارکنوں کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی طبیعت کافی عرصے سے ناساز رہی ہے، ان کی سیاسی سرگرمیاں تاحکم ثانی منسوخ رہیں گی۔

    رہنما جمعیت علماء اسلام کا مزید کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے ڈاکٹرز کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی تھیں مگر ڈاکٹرز نے مولانا کو سختی سے سیاسی سرگرمیوں سے روکا تھا. مولانا عبدالغفور حیدری کی جانب سے کارکنوں کو لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان طبیعت بہتر ہونے تک آرام کریں گے، اس عرصے کے دوران کارکنوں اور ہمدردوں کو گھر پر آکر عیادت کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    جنوری میں بھی مولانا فضل الرحمان نے ناسازی طبیعت کے باعث ڈاکٹرز کے مشورے پر تمام سیاسی سرگرمیاں منسوخ کردی تھیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ برس بھی مولانا فضل الرحمان کی طبیعت بگڑ گئی تھی اور وہ چند روز لاہور کے اسپتال میں زیر علاج رہے تھے۔ اس وقت ترجمان جے یو آئی (ف) نے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو لبلبے کا عارضہ ہے۔

  • پاکستان کبھی دیوالیہ نہیں ہو گا، تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان کبھی دیوالیہ نہیں ہو گا، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک کی 22کروڑ عوام کے لیے پوری ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ پاکستان نہ تو معاشی دیوالیہ ہوگا اور نہ ایک ایٹمی طاقت کے ملک کو امریکہ سمیت عالمی مالیاتی ادارے دیوالیہ ہونے دیں گے۔ وطن عزیز کی فوج اور قومی سلامتی کے ادارے باوقار اور شاندار ادارے ہیں۔ پتہ نہیں ہمارے سیاستدان کن چکروں میں پڑ کر اس ملک کی جگ ہنسائی کروا رہے ہیں۔ چین سمیت عرب ممالک بھی وطن عزیز کی معاشی صورت حال پر فکر مند ہیں اور نہ ہی پاک فوج اقتدار پر کمند ڈالنے کی سوچ رہی ہے۔ حکمرانوں اور ملک کے تمام سیاستدانوں کو سوچنا ہوگا اپنے وسائل پر توجہ دینا ہوگی ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنا ہوگا۔ سوشل میڈیا اور وی لاگر اس ملک اور عوام کو مایوس نہ کریں تاہم قومی سیاسی احوال پر سرسری نگاہ کی جائے تو یہ افسوسناک حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ ہمارے سیاسی زعماء کی اکثریت بے معنی اور بے وقت مسائل میں گرفتار ہے۔

    ان کے درمیان سیاسی نظریات اور افکار کے حوالے سے اختلاف رائے کی بجائے ذاتی مفادات کا ٹکرائو زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اپنی جماعت کی ساکھ کو بحال کرنے کے لئے اپنی بیٹی مریم نواز کو میدان میں اتارا لیکن نواز شریف کی سیاسی مشکلات کا ازالہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی بے شمار وجوہات ہیں سب سے اہم سبب یہ ہے کہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا نتیجہ خیز مظاہرہ کرنے کی بجائے سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کیا اور یوں اپنے لئے اور اپنی سیاسی جماعت کے لئے آزمائش کی روش کو عام کردیا۔ عوام الناس کی طرف سے حکومت کی کارکردگی کے بارے میں جو تبصرے کئے جاتے ہیں اس سے ہر خاص و عام آگاہ ہے۔

    پیپلز پارٹی کے بے تاج بادشاہ آصف علی زرداری اپنے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو ایوان اقتدار میں وزیراعظم کی اس مسند پر رونق افروز دیکھنا چاہتے ہیں۔ قرائن یہی ظاہر کرتے ہیں کہ آصف علی زرداری اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لئے تمام تجربات کو بروئے کار لائیں گے۔ اس سلسلے میں وہ سیاسی شطرنج ہر قیمت کھیلیں گے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جماعت بھی قومی اسمبلی میں دوبارہ داخل ہورہی ہے یہ پی ڈی ایم اور بالخصوص شہباز شریف کے اقتدار کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ موجودہ سیاسی کھیل میں اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہے۔ پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کی تمام توجہ ملک و قوم کی سلامتی پر مرکوز ہے۔ کاش ہمارے سیاسی زعماء اس حقیقت کا احساس اور ادراک کریں کہ ان کے قول و فعل کا عام آدمی کے ذہن ہی نہیں بلکہ روز مرہ زندگی پر کتنا گہرا اثر پڑتا ہے۔

  • پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز

    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز

    کراچی:پاکستان کے معروف سائنسدان اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان کو دنیا کی معروف ”وال آف سائنٹسٹ“ میں شامل کرلیا گیا۔سوئٹزر لینڈ میں ’’وال آف سائنٹسٹ‘‘ مشہور انجینئرنگ یونیورسٹی ’’سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘‘ کی جانب سے بنائی گئی ہے۔

    بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے ترجمان کے مطابق پروفیسر عطاء الرحمان مسلم دنیا سے پہلے سائنسدان ہیں، جن کو ’’وال آف سائنٹسٹ‘‘ میں شامل کیا گیا ہے، اس میں صرف دنیا کے نمایاں سائنسدانوں کو ہی شامل کیا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ ’’سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘‘ دنیا میں صفِ اول کی جامعات کی فہرست میں 12 ویں نمبر پر ہے۔

    شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی اور آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے پروفیسر عطاء الرحمن کو اس اچیومنٹ پر مبارکباد دیتے ہوئے جامعہ کراچی اور پوری قوم کیلئے اعزاز قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ پروفیسر عطاء الرحمان رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر کی جانب سے دنیا کے 500 بااثر ترین مسلمانوں کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔

    پروفیسر عطاء الرحمان چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان اور وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے مناصب پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ کئی مرتبہ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے صدر بھی رہے ہیں۔ڈاکٹر عطاء الرحمان مسلم دنیا سمیت کئی دیگر ممالک کی اکیڈمی آف سائنسز کے صدر بھی رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ چین اور ملائیشیا میں ان کے نام سے متعدد تحقیقی اور تعلیمی ادارے قائم کئے جاچکے ہیں۔

    ڈاکٹر عطاء الرحمان نے اپنی گراں قدر خدمات کے باعث ناصرف ملکی بلکہ متعدد بین الاقوامی ایوارڈز بھی حاصل کئے ہیں، چینی صدر ژی جن پنگ نے انہیں چین کے سب سے اعلیٰ ’’سائنٹیفک ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا تھا۔ڈاکٹر عطاء الرحمان کو فیلو آف رائل سوسائٹی (لندن) کا اعزاز بھی حاصل ہے، انہیں ’دی ورلڈ اکیڈمی آف سائنس (ٹی ڈبلیو اے ایس)‘ ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

  • قومی اسمبلی کی نشستیں بحال ہونے کا پی ٹی آئی کا پروپیگنڈا جھوٹ ثابت

    قومی اسمبلی کی نشستیں بحال ہونے کا پی ٹی آئی کا پروپیگنڈا جھوٹ ثابت

    اسلام آباد: تحریک انصاف کے 35 ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کا اسپیکر کا فیصلہ برقرار ہے۔قومی اسمبلی کے اسپیکر آفس نے لاہور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی نشستیں بحال ہونے کا پی ٹی آئی کا پروپیگنڈا جھوٹ ثابت ہوگیا۔

    اسپیکر آفس کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے 35 استعفوں کی بابت محض الیکشن کمیشن کا نوٹی فکیشن معطل کر کے سماعت مکمل ہونے تک الیکشن کمیشن کو ان حلقوں میں دوبارہ انتخاب کروانے سے منع کیا گیا ہے۔ فیصلے میں استعفے منظور کرنے کے اسپیکر کے فیصلے کو چھیڑا نہیں گیا۔

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے فیصلہ موصول ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اسپیکر آفس کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے آخری پیراگراف میں واشگاف الفاظ میں لکھا گیا ہے کہ چونکہ (درخواست دہندگان نے) اسپیکر کے 22-1-2023 کے نوٹی فکیشن کی کاپی درخواست کے ساتھ نہیں لگائی، لہٰذا اسپیکر کے فیصلے کے خلاف کوئی عبوری ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔

    اسپیکر دفتر کے مطابق تمام معاملات کو آئینی و قانونی لحاظ سے دیکھ کر فیصلہ کیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی کا مؤقف درست ثابت ہوا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے استعفوں کے معاملے پر انتہائی تحمل کے ساتھ نہ صرف غور کیا بلکہ بارہا پی ٹی آئی ارکان کو طلب کیا گیا اور بار بار طلبی کے باوجود پی ٹی آئی ارکان نہ آئے اور استعفے منظور کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔ جب اسپیکر قومی اسمبلی نے استعفوں کی منظوری دے دی تو اس کے بعد اعتراض کردیا جو غیر آئینی تھا۔

  • سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کیلئے ضابطہ اخلاق جاری

    سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کیلئے ضابطہ اخلاق جاری

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا۔اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے لئے جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق سرکاری خرچ پر کوئی امیدوار یا جماعت تشہیری مہم نہیں چلا سکے گی، کسی سرکاری عہدیدار کی تصاویر انتخابی مہم میں استعمال نہیں ہوسکتی، عوامی مقامات اور سرکاری عمارتوں پر پارٹی جھنڈے لگانے پر بھی پابندی ہوگئی۔

    الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم کے لئے پمفلٹ سائز 9×6 انچ، بینرز سائز 3×9 فٹ ، پوسٹرسائز 18×23 انچ مقرر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امیدوار مقررہ سائز سے بڑے پوسٹر استعمال نہیں کر سکیں گے۔

    ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی امیدوار 2×3 فٹ سے بڑا پورٹریٹ استعمال نہیں کر سکے گا، وال چاکنگ، پینا فلیکس، بل بورڈز پر مکمل پابندی ہوگی، پمفلٹ اور بینرز پر چھاپنے والے کا نام اور پتہ پرنٹ کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق تفرقہ بازی اور نفرت انگیز تقاریر پر بھی پابندی ہوگی جب کہ مخالف رہنماؤں اور جماعتوں کے پتلے اور جھنڈے بھی نذر آتش نہیں کئے جاسکتے، جلسے جلوس مقامی انتظامیہ کے مختص مقامات پر ہی منعقد ہوسکیں گے، امیدوار ریلی کا روٹ مقامی انتظامیہ کیساتھ طے کرنے کے پابند ہوں گے۔

  • پی ایس ایل8؛کون کون سی فرنچائززنےبیٹنگ کمپنیز سےمعاہدے کررکھے ہیں؟تفصیلات آگئیں

    پی ایس ایل8؛کون کون سی فرنچائززنےبیٹنگ کمپنیز سےمعاہدے کررکھے ہیں؟تفصیلات آگئیں

    لاہور:پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آٹھویں ایڈیشن میں نامور فرنچائز نے بیٹنگ کمپنی (جُوا کھیلنے والی کمپنیز) سے معاہدے کرنے پر سابق کرکٹرز نے بورڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔پی ایس ایل فرنچائز کراچی کنگز نے پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں ایڈیشن کیلئے 1×Bat کمپنی کو ٹائٹینیم اسپانسر کے طور سائن کیا ہے، جو ایک بیٹنگ سائٹ کا سروگیٹ برانڈ ہے جس کا نام 1×Bet ہے جیسے پاکستان اور بھارت سمیت کئی ممالک میں پابندی کا سامنا ہے۔

    پی سی بی نے کرکٹر آصف آفریدی پر دو سال کی پابندی عائد کر دی

    اسی طرح دفاعی چیمپئین لاہور قلندرز نے بھی میلبٹ نامی کمپنی جبکہ ملتان سلطانز نے Wolf777 News نامی ویب سائٹ سے شراکت داری پر دستخط کیے ہیں تاہم Wolf777 نامی کمپنی ایک بیٹنگ کمپنی ہے، جو جوئے کو فروغ دینے کیلئے خبروں کی آڑ میں دیگر ناموں سے ویب سائٹس استعمال کرتی ہیں۔

    کامران اکمل کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    دوسری جانب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے بھی MCW Sports نامی ویب سائٹ سے پلاٹینم اسپانسر کا معاہدہ کیا تاہم یہ بھی ایک بیٹنگ سائٹ MCW Casino کے نام سے سروگیٹ برانڈ ہے۔

    پی ایس ایل8: پشاور زلمی کے ہیڈ کوچ ڈیرن سیمی کراچی پہنچ گئے

    قبل ازیں پاکستان کرکٹ بورڈ کو پہلے بھی بیٹنگ ویب سائٹ کے ساتھ معاہدے کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔سابق کپتان راشد لطیف نے ڈومیسٹک ٹیموں اور پی ایس ایل فرنچائزز کو بیٹنگ کمپنی کو بطور اسپانسر سائن کرنے کی اجازت دینے پر پی سی بی پر تنقید کی ہے۔