Baaghi TV

Tag: latest

  • پنجاب، خیبر پختونخواہ انتخابات ازخود نوٹس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

    پنجاب، خیبر پختونخواہ انتخابات ازخود نوٹس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

    سپریم کورٹ نے پنجاب، خیبر پختونخواہ انتخابات تاخیر ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ فیصلہ آج 11 بجے سنایا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے ازخود نوٹس میں فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

    از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والے عدالت عظمیٰ کے 5 رکنی بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر شامل تھے۔

    ابتدائی طور پر 22 فروری کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی درخواست پر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی سماعت کے لیے 9 رکنی لارجربینچ تشکیل دے دیا تھا تاہم 24 فروری کو 9 رکنی لارجربینچ سے 4 اراکین کے خود الگ ہونے کے بعد 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت مکمل کی۔

    جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے سماعت سے معذرت کرلی تھی۔

    عدالت عظمیٰ کا آج سامنے آنے والا فیصلہ طے کرے گا کہ صوبائی اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کی صورت میں صدر مملکت، گورنر، یا الیکشن کمیشن آف پاکستان میں سے کس آئینی ادارے کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا چاہیے۔

    گزشتہ روز پورے دن جاری رہنے والی سماعت کے بعد بینچ نے تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر مختصر حکم سنانے کا اعلان کیا، تاہم بعد ازاں فیصلہ آج بروز بدھ تک محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدالت کے علاوہ کسی کو انتخابی مدت بڑھانے کا اختیار نہیں، ٹھوس وجوہات کا جائزہ لیکر ہی عدالت حکم دے سکتی ہے، الیکشن بروقت نہ ہوئے تو استحکام نہیں آئے گا، حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے، پہلی بار ایسی صورتحال ہے کہ کنٹینر کھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں ہے۔

    اٹارنی جنرل نے روسٹرم پر آکر کہا کہ میں دلائل دینے کے لیے تیار ہوں ۔ اور اعتراض اٹھایا کہ عدالتی حکم میں سے سپریم کورٹ بار کے صدر کا نام نکال دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو ادارے کے طور پر جانتے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جو عدالت میں لکھوایا جاتا ہے وہ عدالتی حکمنامہ نہیں ہوتا۔ جب ججز دستخط کردیں تو وہ حکمنامہ بنتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر عابد زبیری نے دلائل شروع کیے تو جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نوے دن کا وقت اسمبلی تحلیل کیساتھ شروع ہو جاتا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کیا نگران وزیراعلی الیکشن کی تاریخ دینے کی ایڈوائس گورنر کو دے سکتا ہے؟ کیا گورنر نگران حکومت کی ایڈوائس مسترد کر سکتا ہے۔

    وکیل عابد زبیری نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار گورنر کا ہے وزیر اعلی کا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے اعتراض اٹھایا کہ عابد زبیری درخواست گذار کے وکیل ہیں بار کی نمائندگی نہیں کرسکتے، جس پر عابد زبیری نے جواب دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا وکیل ہوں کسی سیاسی جماعت کا نہیں، سپریم کورٹ ماضی میں قرار دے چکی ہے انتخابات 90 روز میں ہی ہونے ہیں،

    عابد زبیری وکیل اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے کہا کہ سیف اللہ کیس میں 12 ججز نے انتخاب کے عمل کو لازمی قرار دیا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 48 کہتا ہے کہ صدر کا ہر عمل اور اقدام حکومت کی سفارش پر ہوگا، آیا موجودہ حکومت یا سابقہ حکومت انتخابات کے اعلان کا کہے گی؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کے مطابق الیکشن کی تاریخ دینا ایڈوائس پر ہوگا۔

    عابد زبیری نے کہا کہ آئین میں اسمبلی کی تحلیل کے چار طریقے بتائے گئے ہیں۔ جسٹس منیب نے کہا کہ نگران حکومت تو 7 روز بعد بنتی ہے، آئین کی مختلف شقوں کی آپس میں ہم آہنگی ہونا ضروری ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پنجاب کے کیس میں وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کیا گورنر نے نہیں۔ عابد زبیری نے کہا آئین کے آرٹیکل 112 کے مطابق عدم اعتماد ایڈوائس پر یا پھر 48 گھنٹوں میں حکومت ختم ہوسکتی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کے مطابق آج بھی حکومت گورنر سے انتخاب کا کہہ سکتی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر حکومت کی تاریخ کے حوالے سے ایڈوائس آجائے تو گورنر کیسے انکار کرسکتا ہے۔

    عابد زبیری نے کہا کہ پنجاب میں 22 جنوری کو نگران حکومت آئی تھی، نگران حکومت کا اختیار روزمرہ کے امور چلانا ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صدر اور گورنر معاملہ میں کابینہ کی ایڈوائس کے پابند ہیں، کیا الیکشن کی تاریخ صدر اور گورنرز اپنے طور پر دے سکتے ہیں؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نگران حکومت کی تعیناتی اور الیکشن کی تاریخ پر گورنر کسی کی ایڈوائس کا پابند نہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر بولے کہ جہاں صوابدیدی اختیار ہو وہاں کسی ایڈوائس کی ضرورت نہیں۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی تحلیل کا نوٹیفکیشن کون کرے گا؟

    عابد زبیری نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی تحلیل کا نوٹیفکیشن سیکرٹری قانون نے جاری کیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ گورنر کہہ رہا ہے کہ اسمبلی میں نے تحلیل نہیں کی۔ عابد زبیری نے موقف اپنایا کہ تاریخ دینے کی بات کا ذکر صرف آئین کے آرٹیکل 105 (3) میں ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ حکومت کے انتخاب کی تاریخ دینے پر کوئی پابندی نہیں۔ عابد زبیری نے کہا کہ اتنے دنوں سے اعلان نہیں کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں حکومت آئینی ذمہ داری پوری نہیں کررہی؟ نوے روز میں الیکشن کرانا آئین کی روح ہے، اٹارنی جنرل سے کہیں گے آئینی نکات پر معاونت کریں۔ عابد زبیری نے دلائل دیے کہ وقت کے دبائو میں اگر اسمبلی ٹوٹ جائے تو صدر مملکت تاریخ دے گا، میرا موقف ہے کہ انتخاب کی تاریخ دینا صدر مملکت کا اختیار ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مشاورت میں وسائل اور حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگر الیکشن کمیشن انتحابات کرانے سے معذوری ظاہر کرے کیا پھر بھی گورنر تاریخ دینے کا پابند ہے۔ عابد زبیری نے کہا کہ گورنر ہر صورت تاریخ دینے کا پابند ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر کے پاس تاریخ نہ دینے کا کوئی اختیار نہیں، گورنر الیکشن کمشن کے انتطامات مدنظر رکھ کر تاریخ دے گا۔ جسٹس منصور علی شاہ بولے کیا صدر کابینہ کی ایڈوائس کے بغیر کوئی فیصلہ کرسکتا ہے؟۔

    جسٹس جمال خان نے کہا کہ صدر کے اختیارات آئین میں واضح ہیں۔ صدر ہر کام کے لیے ایڈوائس کا پابند ہے۔ عابد زبیری نے موقف اپنایا کہ صدر مملکت ہر کام کے لیے ایڈوائس کے پابند نہیں۔ صدر ہر وہ اختیار استعمال کرسکتے ہیں جو قانون میں دیا ہوا ہو۔ انتحابات کی تاریخ پر صدر اور گورنر صرف الیکشن کمیشن سے مشاورت کے پابند ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر بطور سربراہ مملکت ایڈوائس پر ہی فیصلے کرسکتے ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر جب بھی تاریخ دے گا 52 دنوں کا مارجن رکھا جائے گا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صدر کے اختیارات برارہ راست آئین نے نہیں بتائے، آئین میں اختیارات نہیں تو پھر قانون کے تحت اقدام ہوگا، قانون بھی تو آئین کے تحت ہی ہوگا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اب تو آپ ہم سے پوچھنے لگ گئے ہیں کہ کرنا کیا ہے، صدر مملکت کس قانون کے تحت چٹھیاں لکھ رہے ہیں؟۔

    عابد زبیری نے جواب دیا کہ صدر مملکت نے مشاورت کیلئے خط لکھے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین میں تو کہیں مشاورت کا ذکر نہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل بولے کہ اگر مان لیا قانون صدر مملکت کو اجازت دیتا ہے پھر صدر ایڈوائس کا پابند ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نگران حکومت بھی تاریخ دینے کا کہہ سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دوسرے فریق کو سن کر فیصلہ کریں گے صدر کو مشاورت کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات 90 روز سے آگے کون لیکر جا سکتا ہے یہ الگ بات ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ کیا الیکشن کمشن گورنر کی تاریخ کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ گورنر اگر 85 ویں دن الیکشن کا کہے تو الیکشن کمیشن 89 دن کا کہہ سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر کو اسی وجہ سے الیکشن کمیشن سے مشاورت کا پابند کیا گیا ہے، صدر ہو یا گورنر سب ہی آئین اور قانون کے پابند ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر الیکشن کی تاریخ صرف قومی اسمبلی تحلیل ہونے پر دے سکتے ہیں، دوسری صورت میں ملک بھر میں انتخابات ہوں تو ہی صدر تاریخ دے سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ صدر کے صوابدیدی اور ایڈوائس پر استعمال کرنے والے اختیارات میں فرق ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ گورنر اسمبلی تحلیل کے اگلے دن انتخابات کا کہہ دے تو الیکشن کمیشن نہیں مانے گا۔ جسٹس منیب اختر بولے کہ گورنر نے الیکشن ایکٹ کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں موقف اپنایا کہا الیکشن 90 روز میں ہی ہونے چاہئے اور الیکشنز کو 90 روز سے آگے نہیں لیکر جانا چاہیے، گورنر پنجاب کا موقف ہے الیکشن کمیشن خود تاریخ دے، گورنر نے انٹرا کورٹ اپیل میں کہا ہے کہ ان سے مشاورت کی ضرورت نہیں اور الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ وہ ازخود تاریخ کیسے دے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا ہائیکورٹ میں 14 دن کا وقت کیوں مانگا گیا؟۔ بطور اٹارنی جنرل آپ کیس شروع ہوتے ہی مکمل تیار تھے، ایسے کون سے نکات تھے جس کی تیاری کیلئے وکلا کو 14 دن درکار تھے، ہائیکورٹ میں تو مقدمہ روزانہ کی بنیاد پر چلنا چاہیے تھا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ صدر نے الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 ون کا استعمال کیا ہے اگر صدر کا اختیار نہیں تو سیکشن 57 ون غیر موثر ہے،اگر سیکشن 57 ون غیر موثر ہے تو قانون سے نکال دیں-

    اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ میرے حساب سے الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے سکتا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ دو یا چار دن اوپر ہونے پر آرٹیکل 254 لگ سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ استفسار کیا کہالیکشن کمیشن کی انتخابات کی تیاری کیا ہے جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا انتخابی مہم کا دورانیہ کم نہیں کیا جاسکتا،وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت کوبتایا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کیلئے وقت درکار ہوتا،انتخابی مہم کا دورانیہ دو ہفتے تک کیا جاسکتا ہے-

    جسٹس منیب نے کہا کہ آئین پر عمل کرنا زیادہ ضروری ہے اٹارنی جنرل نے کہااگر انتخابات 90 دن میں ہی ہونا لازمی ہیں تو 1988 کا الیکشن مشکوک ہوگا؟2008کا الیکشن بھی مقررہ مدت کے بعد ہوا تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلا سوال تو یہ ہے کہ تاریخ دے گا کون؟الیکشن کمیشن کی تاریخ آنے پر ہی باقی بات ہوگی-

    جسٹس منیب اختر نے کہاآپ بطور اٹارنی جنرل قانون کا دفاع کرنے کی بجائے اس کے خلاف بول رہے ہیںجسٹس محمد علی مظہر بولے کہ سیکشن 57 ون ختم کردیں تو الیکشن ہو ہی نہیں سکے گا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں الیکشن کمیشن انتخاب تاریخ کا اعلان کرے الیکشن کمیشن کہہ سکتا ہے 14 اپریل تک الیکشن ممکن نہیں،ٹھوس وجوہات کے ساتھ الیکشن کمیشن فیصلہ کرنے کا مجاز ہے کسی نے ابھی تک تاریخ ہی نہیں دی سب کچھ ہوا میں ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس 90 روز سے تاخیر کا اختیار کہاں سے آیا؟ جھگڑا ہی سارا 90 روز کے اندر الیکشنز کرانے کا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹھوس وجوہات پر آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا کہ تاریخ کا اعلان کئے بغیر آرٹیکل 254 کا سہارا کیسے لئے جاسکتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا قانون واضح نہیں تو کیسے کہیں الیکشن کمشن غلطی کررہا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نوے دن سے تاخیر پر عدالت اجازت دے سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ یہ نہ سمجھیں عدالت کسی غیر آئینی کام کی توسیع کرے گی، آرٹیکل 254 کا جہاں اطلاق بنتا ہوا وہاں ہی کریں گے۔سپریم کورٹ میں ایک موقع پر سیاسی جماعتوں کو الیکشن کی تاریخ پر مشاورت کیلئے بھی کہا گیا۔ چیف جسٹس نے شیری رحمن اور فواد چودھری کو روسٹرم پر بھی بلایا اور استفسار کیا کہ کیا ان کی جماعتیں مشاورت پر تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ 20 فروری کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 9 اپریل کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا تھا۔

    یاد رہے کہ 12 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری پر دستخط کر دیے تھے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے وزیراعلیٰ کی جانب سے ارسال کی گئی سمری پر دستخط نہیں کیے تھے، جس کے بعد صوبائی اسمبلی 48 گھنٹوں میں از خود تحلیل ہوگئی تھی۔

    بعدازاں 18 جنوری کو گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے سے متعلق ارسال کی گئی سمری پر دستخط کیے تھے دونوں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے نئے انتخابات کے لیے تاریخ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    پی ٹی آئی نے 27 جنوری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تاریخ کا فوری اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔

    بعد ازاں الیکشن کمیشن نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن سے صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے مشاورت کی تھی تاہم اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا تھا، گورنر پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر اپیل دائر کی تھی اور اس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی تھی۔

    دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا حکم دینے سے متعلق درخواستوں پر ای سی پی سے الیکشن شیڈول طلب کرلیا تھا۔

  • مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار

    مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار

    مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار ہیں۔ اب تک پچاس سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی وجہ شہرت سفر نامے اور ناول نگاری ہے۔ اس کے علاوہ ڈراما نگاری، افسانہ نگاری اور فن اداکاری سے بھی وابستہ رہے۔ مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیب ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مستنصر کا آبائی تعلق گجرات سے ہے لیکن اس وقت لاہور میں رہتے ہیں۔ بچپن میں قیام پاکستان کو دیکھنے کا موقع ملا ۔
    مستنصر حسین تارڑ کے والد رحمت خان تارڑ گجرات کے ایک کاشت کار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ مستنصر صاحب نے اپنے والد سے گہرا اثر قبول کیا۔

    ابتدائی حالات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مستنصر حسین تارڑ 01 مارچ 1939ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ بیڈن روڈ پر واقع لکشمی مینشن میں اُن کا بچپن گزرا جہاں سعادت حسن منٹو پڑوس میں رہتے تھے۔ اُنھوں نے مشن ہائی اسکول، رنگ محل اور مسلم ماڈل ہائی اسکول میں تعلیم حاصل ک۔ میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ ایف اے کے بعد برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ممالک کا رخ کیا، جہاں فلم، تھیٹر اور ادب کو نئے زاویے سے سمجھنے، پرکھنے اور برتنے کا موقع ملا۔ پانچ برس وہاں گزارے اور ٹیکسٹائل انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کرکے وطن واپس لوٹے۔

    ادبی و فنّی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٹی وی ڈراموں میں کام کیا ہے۔ متعدد سفر کیے۔ آج کل اخبار جہاں میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ناول کے حوالے سے بھی وہ ایک اہم نام ہے۔ انہوں نے بہاؤ، راکھ (ناول)، خس و خاشاک زمانے اور اے غزال شب جیسے شہرہ آفاق ناول تخلیق کیے۔ اس کے علاوہ آپ نے ٹی وی پروگراموں کی میزبانی بھی کرتے رہے ہیں۔ پی ٹی وی نے جب پہلی مرتبہ 1988ء میں صبح کی نشریات صبح بخیر کے نام سے شروع کیں تو مستنصر حسین تارڑ نے ان نشریات کی کئی سال تک میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔ ریڈیو پروگرام کی بھی میزبانی کی ۔

    1957ء میں شوقِ آوارگی انھیں ماسکو، روس میں ہونے والے یوتھ فیسٹول لے گئی۔ (اُس سفر کی روداد 1959 میں ہفت روزہ قندیل میں شائع ہوئی۔)۔ اس سفر کی روداد پر ناولٹ ”فاختہ“ لکھی۔ یہ قلمی سفر کا باقاعدہ آغاز تھا۔

    ٹی وی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان لوٹنے کے بعد جب ان کے اندر کا اداکار جاگا، تو انھوں نے پی ٹی وی کا رخ کیا۔ پہلی بار بہ طور اداکار ”پرانی باتیں“ نامی ڈرامے میں نظر آئے۔ ”آدھی رات کا سورج“ بہ طور مصنف پہلا ڈراما تھا جو 74ءمیں نشر ہوا۔ آنے والے برسوں میں مختلف حیثیتوں سے ٹی وی سے منسلک رہے۔ جہاں کئی یادگار ڈرامے لکھے، وہیں سیکڑوں بار بہ طور اداکار کیمرے کا سامنا کیا۔ پاکستان میں صبح کی نشریات کو اوج بخشنے والے میزبانوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ بچوں کے چاچا جی کے طور پر معروف ہوئے۔ 2014ء میں ایکسپریس ٹی وی پر ”سفر ہے شرط“ کے نام سے سفر نامہ پروگرام بھی کر رہے ہیں۔ جیو ٹی وی پر شادی کے حوالے سے ایک پروگرام بھی کیا۔

    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ناول اور سفرناموں کے علاوہ مستنصر صاحب نے ڈرامے بھی تحریر کیے جن میں قابل ذکر یہ ہیں :
    شہپر
    ہزاروں راستے
    پرندے
    سورج کے ساتھ ساتھ
    ایک حقیقت ایک افسانہ
    کیلاش
    فریب

    سفر نامے
    ۔۔۔۔۔۔
    1969ء میں وہ یورپی ممالک کی سیاحت پر روانہ ہوئے، واپسی پر ”نکلے تری تلاش میں“ کے نام سے سفرنامہ لکھا۔ یہ 71ءمیں شائع ہوا۔ قارئین اور ناقدین دونوں ہی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اِس کتاب کو ملنے والی پزیرائی کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اگلا سفر نامہ ”اندلس میں اجنبی“ تھا ۔ 42 برسوں میں 30 سفرنامے شائع ہوئے۔ 12 صرف پاکستان کے شمالی علاقوں کے بارے میں ہیں۔ پاکستان کی بلند ترین چوٹی ”کے ٹو“ پر ان کا سفرنامہ اس قدر مقبول ہوا کہ دو ہفتے میں پہلا ایڈیشن ختم ہوگیا۔ اِس علاقے سے اُن کے گہرے تعلق کی بنا پر وہاں کی ایک جھیل کو ”تارڑ جھیل“ کا نام دیا گیا۔ ان کے چند نمایاں سفرناموں کے نام یہ ہیں:

    نکلے تری تلاش میں
    اندلس میں اجنبی
    خانہ بدوش
    نانگا پربت
    نیپال نگری
    سفرشمال کے
    سنولیک
    کالاش
    پتلی پیکنگ کی
    شمشال بے مثال
    سنہری اُلو کا شہر
    کیلاش داستان
    ماسکو کی سفید راتیں
    یاک سرائے
    نیو یارک کے سو رنگ
    ہیلو ہالینڈ
    الاسکا ہائی وے
    لاہور سے یارقند
    امریکا کے سورنگ
    آسٹریلیا آوارگی
    راکاپوشی نگر
    اور سندھ بہتا رہا

    اوائلِ عمر میں سوویت یونین کے سفرنامے ”لنڈن سے ماسکو تک“ سے انھوں نے سفر ناموں کی ابتدا کی۔ اس کے بعد ”نکلے تیری تلاش میں“ سے انہوں نے اردو ادب میں سفرنامہ لکھنے کے لیے ایک ایسا انداز متعارف کروایا جس کی اقتدا میں کئی سفرنامے لکھے گئے۔ انہوں نے سفرنامہ کو دلچسب، پُر مزاح، آسان اور سلیس تحریر سے ادب میں سفرناموں کے قارئین کی ایک کثیر تعداد پیدا کی۔ منظر نگاری کرتے ہوئے وہ الفاظ کی ایسی جادوئی بنت کرتے ہیں کے پڑھنے والا اس مقام و منظر سے بھرپور واقفیت حاصل کرلیتا ہے۔ ”نکلے تیری تلاش میں“ کے بعد انہوں نے مڑ کر نہیں دیکھا اور اندلس میں اجنبی، خانہ بدوش، کے ٹو کہانی،نانگا پربت، یاک سرائے، رتی گلی،سنو لیک، چترال داستان، ہنزہ داستان، شما ل کے سفرناموں سے ایسے سفرنامے تحریر کیے جن کو پڑھ کر کئی لوگ آوارہ گرد بن کر ان مقاموں کو دیکھنے ان جگہوں تک جا پہنچے۔”غار حرا میں ایک رات اور منہ ول کعبہ شریف” ان کے وہ سفر نامے ہیں جوحجاز مقدس کے بارے میں تحریر کیے گئے ہیں۔”نیو یارک کے سو رنگ،ماسکو کی سفید راتیں،پتلی پیکنگ کی،سنہری الو کا شہر بھی یادگارسفر نامے کہے جا سکتے ہیں ۔

    ناول نگاری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سفرنامے کے میدان میں اپنا سکہ جما کر ناول نگاری کی جانب آ گئے۔ اولین ناول "پیار کا پہلا شہر” ہی بیسٹ سیلر ثابت ہوا۔ اب تک اِس کے پچاس سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ یوں تو ہر ناول مقبول ٹھہرا، البتہ راکھ اور “بہاؤ” کا معاملہ مختلف ہے۔ خصوصاً “بہاؤ” میں اُن کا فن اپنے اوج پر نظر آتا ہے، پڑھنے والوں نے خود کو حیرت کے دریا میں بہتا محسوس کرتا ہے۔ اِس ناول میں تارڑ صاحب نے تخیل کے زور پر ایک قدیم تہذیب میں نئی روح پھونک دی۔ ”بہاؤ“ وادی سندھ کے ایک شہر کا احوال ہے جو ایک قدیم دریا سرسوتی کے معدوم اور خشک ہوجانے کا بیان ہے، جس سے پوری تہذیب فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ ناول کی زبان انتہائی منفرد ہے اس میں سندھی، سنسکرت، براہوی اور سرائیکی زبان کے الفاظ جا بجا ملتے ہیں جس سے ناول کا طرزِ تحریر اور اسلوب منفرد ہو جاتا ہے۔ ”بہاؤ“ کی طرزِ تحریرو زبان کی مثال ملنا مشکل ہے، یہ ایک انوکھی تخلیق ہے بقول مصنف یہ ایک(Myth )متھ ہے۔ ”بہاؤ“ میں مستنصر حسین تارڑ ماہر بشریات Anthropoligist نظر آتے ہیں۔

    راکھ کو 1999ء میں بہترین ناول کے زمرے میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا، جس کا بنیادی موضوع سقوط ڈھاکا اور بعد کے برسوں میں کراچی میں جنم لینے والے حالات ہیں۔ ”قلعہ جنگی“ نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے پس منظر میں لکھا گیا۔ اردو کے ساتھ پنجابی میں بھی ناول نگاری کا کام یاب تجربہ کیا۔ اس سفر میں افسانے بھی لکھے۔ ان کی شناخت کا ایک حوالہ کالم نگاری بھی ہے، جس میں ان کا اسلوب سب سے جداگانہ ہے۔ ’خس و خاشاک زمانے‘ ضخیم ناول ہے جس میں دو خاندانوں کی کئی نسلوں پر پھیلی داستان بیان کی گئی ہے۔

    ”اے غزال شب“ سوویت یونین کے زوال کے بعد، پھیکے پڑچکے سرخ رنگ کی کہانی ہے جس میں لینن کے مجسمے پگھلا کر صلیبیں بنائی جا رہی ہیں اور کرداروں میں اُکتاہٹ بڑھ رہے ہے۔ اکتاہٹ، جو ان میں واپس اپنے وطن آنے کی خواہش جگاتی ہے، وہاں قیام کرنے کی غرض سے نہیں کہ اب وہاں اُن کا اپنا کوئی نہیں، فقط نامعلوم میں جھانکنے کے لیے۔ اور جب وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں، تو شوکی جھوٹا سامنے آتا ہے۔

    ایک عجیب و غریب کردار جس کا تخیل گم شدہ چیذوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اور قارئیں ناول کے چار کرداروں ہی کے زمرے میں آتے ہیں، اُس کی زبان سے سنتے ہیں۔ راکھ اور خس و خاشاک زمانے کی طرح یہ ناول بھی پاکستان کی مٹی سے جڑا ناول ہے جس کے کردار جاندار لیکن ماضی گزیدہ ہیں۔ خس و خاشاک زمانے بلا شبہ عظیم ناولوں کی فہرست میں شامل کرنے کے قابل ہے لیکن اے غزال شب بھی اگرچہ ضخامت میں قدرے مختصر ہے لیکن اسے بھی ایک ماسٹر پیس کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ جو قاری تارڑ کے اسلوب سے آشنا ہیں انہیں اس ناول میں ان کا فن اپنے عروج پر نظر آئے گا۔ تارڑ نے ماسکو میں اپنے قیام کے دوران میں جن حالات و واقعات کا مشاہدہ کیا اور ماسکو کی سفید راتیں میں تحریر کیا اس کا عکس اگر چہ جا بجا نظر آتا ہے لیکن اس ناول میں انداز بیاں، گہرائی و گیرائی کا جواب نہیں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب آکے تارڑ کا فن اپنے کمال تک پہنچا ہے۔ اس ناول میں تارڑ کے کردار ماضی کے خوابوں کے اسیر اور زندگی کی لایعنیت سے تنگ آئے لوگ ہیں۔

    (1)بہاؤ
    (2)بے عزتی خراب
    (3)پیار کا پہلا شہر)
    (4)راکھ
    (5)قلعہ جنگی
    کالم نگاری
    اس کے علاوہ تارڑ صاحب کالم نگاری بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کے کالموں کے مجموعہ مندرجہ ذیل ہیں:
    چک چک
    الو ہمارے بھائی ہیں
    گدھے ہمارے بھائی ہیں
    شطر مرغ ریاست
    تارڑ نامہ 1،2،3،4
    آج کل روزنامہ نئی بات اور ہفتہ وار اخبار جہاں میں بھی باقاعدگی سے کالم نگاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔.
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خانہ بدوش
    جپسی (ناول)
    اندلس ميں اجنبی
    پیار کا پہلا شہر
    نانگا پربت
    ہنزہ داستان
    شمشال بے مثال
    کے ٹو کہانی
    برفیلی بلندیاں
    سفر شمال کے
    گدھے ہمارے بھائی ہیں
    کالاش
    یاک سرائے
    دیو سائی
    چترال داستان
    کاروان سرائے
    الّو ہمارے بھائی ہیں
    نکلے تيری تلاش میں
    بہاؤ (ناول)
    راکھ (ناول)
    پکھیرو (ناول)
    سنو لیک
    نیپال نگری
    پتلی پیکنگ کی
    یاک سرائے
    دیس ہوئے پردیس (ناول)
    سیاہ آنکھ میں تصویر (کہانہاں)
    خس و خاشاک زمانے (ناول)
    اے غزال شب(ناول)
    الاسکا ہائی وے
    ہیلو ہالینڈ
    ماسکوکی سفید راتیں
    لاہور سے یارقند تک
    خطوط (شفیق الرحمٰن،کرنل محمد خان،محمد خالداختر)
    نیویارک کے سو رنگ
    امریکا کے سو رنگ
    آسٹریلیا آوارگی
    راکا پوشی نگر
    اور سندھ بہتا رہا
    15 کہانیاں
    تارڑ نامہ (1)
    تارڑ نامہ (2)
    تارڑ نامہ(3)
    تارڑ نامہ(4)
    تارڑ نامہ(5)

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مستنصر حسین تارڑ کی ادبی خدمات کے بدلے صدارتی تمغا حسن کارکردگی اوران کے ناول ”راکھ“ کو 1999 میں بہترین ناول کے زمرے میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا اور آپ کو 2002ء میں دوحہ قطر میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔

    متاثر کرنے والے لوگ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مطالعے کی عادت جتنی پختہ ہے، اتنی ہی پرانی۔اردو میں قرۃالعین حیدر ان کی پسندیدہ لکھاری ہیں۔ اُن کا ناول ”آخری شب کے ہمسفر“ اچھا لگا۔ ٹالسٹائی اور دوستوفسکی کے مداح ہیں۔ ”برادرز کرامازوف“ کو دنیا کا سب سے بڑا ناول خیال کرتے ہیں۔ شفیق الرحمن کی کتاب ”برساتی کوے“ کو اپنے سفرنامے ”نکلے تری تلاش میں“ کی ماں قرار دیتے ہیں۔ کرنل محمد خان کی ”بجنگ آمد“ کو اردو کا بہترین نثری سرمایہ سمجھتے ہیں۔ غیرملکی ادیبوں میں رسول حمزہ توف کی ”میرا داغستان“ اور آندرے ژید کی خودنوشت اچھی لگیں۔ کافکا اور سارتر بھی پسند ہیں۔ ترک ادیب یاشر کمال اور اورحان پامک کے مداح ہیں۔ مارکیز اور ہوسے سارا ماگو کو بھی ڈوب کر پڑھا۔ ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمن کی تنقیدی بصیرت کے قائل ہیں۔ اپنی تخلیقات کے تعلق سے ان سے مشورہ ضرور کرتے ہیں۔

    تارڑ کہتے ہیں’’دوستوفسکی سے مَیں نے صبر سیکھا کہ کیسے لکھا جاتا ہے، کیسے کردار نگاری کی جاتی ہے۔ مَیں کوئی اوریجنل شخص نہیں ہوں بلکہ میرے اندر اُن بہت سے ادیبوں کی جھلک نظر آتی ہے، جنہیں مَیں نے پڑھا ہے اور جو آہستہ آہستہ مجھ میں سرایت کرتے گئے ہیں۔ آیا میرا اپنا کوئی اَنگ بھی بنا ہے یا نہیں، یہ مَیں نہیں کہہ سکتا۔ دوستوفسکی، چیخوف اور ٹالسٹائی کے بعد مَیں نے کافکا، کامیو اور کئی فرانسیسی ادیبوں کے ساتھ ساتھ جرمن ادیب ہرمن ہیسے کو بھی پڑھا، جن کے ناول ”سدھارتھ“ کو تو ایک بائبل کی طرح پڑھا جاتا ہے‘‘ ۔

    تاثرات و تبصرے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان کے ناول جنہوں نے سب سے زیادہ ادبی حلقوں میں پزیرائی حاصل کی ان میں سرفہرست ”بہاؤ“ کا نام آتا ہے جووادئ سندھ کے معاشرتی طرز اور اطوار کو واضح کرتا ہےاردو ادب کے مشہور ناول نگار عبداللہ حسین بہاؤ کے بارے میں لکھتے ہیں "اس تحریر کی پشت پر جس قدر تخیلاتی ریسرچ پائی جاتی ہے اس کا اندازہ کر کے حیرت ہوتی ہے- رسمی لحاظ سے سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کے اگر یہ ناول کسی ترقی یافتہ ملک میں لکھا جاتا تو چند سال کے اندر مصنف کو کسی یونیورسٹی کی جانب سے علم بشریا ت کی اعزازی ڈگری پیش کی جاتی "عبد اللہ حسین کے ان الفاظ سے بہاؤ کی ادبی حیثیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

    ” نکلے تری تلاش میں“ سفرنامہ 71ءمیں شائع ہوا۔ قارئین اور ناقدین دونوں ہی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اِسے پڑھنے کے بعد محمد خالد اختر نے لکھا تھا: “ اُس نے مروجہ ترکیب کے تاروپود بکھیر ڈالے ہیں! ”اندلس میں اجنبی“ پڑھ کر شفیق الرحمن نے کہا: ”تارڑ کےسفرنامےقدیم اور جدید سفرناموں کا سنگم ہیں!“

    اس کے علاوہ ”راکھ اورخس و خاشاک زمانے کو بھی شاہکار نہ کہنا نہ انصافی ہوگی۔تقسیم برصغیر کے بارے میں لکھ گئے یہ ناول ان تاریخی حقائق کو بیان کرتے ہیں جن پی اب تک بات کرنا پسند نہیں کی جاتی ہے، “خس و خاشاک زمانے“” کو تو پاکستان کی ایک ایسی دستاویز کہا جاسکتا ہے جو پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اور تہذیبی اقدار اور اس کے بدلتے رویوں کو بیان کرتی ہے۔ جب کے ”پیار کا پہلا شہر“ اور ”قربت مرگ میں محبت“ مقبول عام ہیں۔ ادب سے لگاؤ رکھنے والا شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس نے پیار کا پہلا شہر پڑھ نہ رکھا ہو۔ اس کے علاوہ ڈاکیا اور جولاہا، سیاہ آنکھ میں تصویر،جپسی، قلعہ جنگی، فاختہ اور اے غزال شب کے نام بھی ان کے ناولوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بقول عبداللہ حسین اے غزال شب اُن کا پسندیدہ ترین ناول ہے۔

  • جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر مبینہ حملے کا مقدمہ درج

    جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر مبینہ حملے کا مقدمہ درج

    جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر مبینہ حملے کا معاملہ،پولیس نے مقدمہ درج کر لیا-

    باغی ٹی وی: انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پولیس کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کرلیا گیا،مقدمہ میں عمران خان، مراد سعید، علی نواز اعوان، فرخ حبیب، شبلی فراز کو نامزد کیا گیا-

    ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ میں حسان نیازی، عامر کیانی، شہزاد وسیم، راجہ بشارت، واثق قیوم، میاں اسلم اقبال، غلام سرور خان، حماد اظہر و دیگر قائدین کو بھی نامزد کیا گیا ہجوم میں سے کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ سمیت ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔


    پولیس کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت جوڈیشل کمپلیکس اور ہائی کورٹ پر حملے کی کوشش کی گئی۔ 25 افراد گرفتار کرلیے ہیں جبکہ دیگر کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔


    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کے لئے مختلف صوبوں میں پولیس ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔ سیاسی جماعت کے رہنماء ہجوم کی قیادت کررہے تھے جنہوں نے عوام کو اکسایا اور توڑ پھوڑ کے لئے آمادہ کیا۔ جوڈیشل کمپلیکس میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ پولیس نے حکمت عملی سے ہائی کورٹ میں ایسے کسی ممکنہ اقدام کو روکا۔

    قبل ازیں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر شدید بدنظمی دیکھی گئی، پی ٹی آئی کارکنان نے عمارت کا دروازہ توڑ دیا۔ سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیئےکھل کر حکومت مخالف نعرے بازی بھی کی۔ بھاری نفری کے باوجود جوڈیشل کمپلیکس پر سیکیورٹی کے انتظامات درہم برہم ہوگئے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان پیشی کیلئے ریلی کی صورت میں زمان پاک لاہور سے بذریعہ موٹروے جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پہنچے موٹروے پر جگہ جگہ چیئرمین تحریک انصاف کا استقبال کیا گیا۔ زیروپوائنٹ سے کارکنوں کی ایک بڑی ریلی ٹول پلازہ اسلام آباد پہنچی جہاں سابق ارکان اسمبلی اور کارکنوں نے اپنے لیڈر کو خوش آمدید کہا ریلی میں شامل گاڑیوں پر گل پاشی بھی کی۔

    عمران خان کی انسداد دہشتگردی عدالت اور بینکنگ کورٹ میں پیشی کے موقع پر وکلاء کی بڑی تعداد بھی موجود رہی۔ پارٹی رہنما بھی استقبال کیلئے جوڈیشل کمپلیکس پہنچے۔ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید عمران خان کی گاڑی کی چھت پر سوار رہے۔ پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد حفاظتی حصار توڑ کر عدالتی احاطے میں داخل ہوگئی، پارٹی کارکنوں کی جانب سے کمپلیکس کے اندرونی حصے میں ہنگامہ آرائی بھی کی گئی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی بدترین بدنظمی ہوئی جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات اور علاقہ سیل کرنے کے باوجود وکلاء ہائی کورٹ کا دروازہ زبردستی کھول کر اندر داخل ہوئے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پولیس نے میڈیا کو داخلے سے روک دیا-

    قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمرانی ٹولے نے آج جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کیا، عدلیہ کی توہین کی، توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی جس پر مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔

    وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے گا، توشہ خانہ کیس میں بھی عدالت نے بار بار طلبی کے باوجود عدم پیشی پر عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ پوری قوم کو اس سارے معاملے پر تشویش ہے کہ اس فتنے کو کس طرح سے اسپیشل ٹریٹمنٹ دیا جا رہا ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بدبخت عمرانی ٹولے نے آج جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر حملہ کیا، گیٹ توڑ کر داخل ہوئے، سی سی ٹی وی کیمرے توڑے گئے، جوڈیشل کمپلیکس میں غنڈہ گردی کی گئی ہے اور جوڈیشل کمپلیکس کی بطور ادارے کی توہین کی گئی ہے لہٰذا توڑ پھوڑ کرنے، عدلیہ کی عزت و تکریم کو سبوتاژ کرنے پر مقدمہ درج کیا جا رہا ہے جو بھی اس میں ملوث ہے اس کو گرفتار کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو اس سارے معاملے پر تشویش ہے کہ اس فتنے کو کس طرح سے اسپیشل ٹریٹمنٹ دیا جا رہا ہے، پہلی دفعہ ایسا ہو رہا ہے کہ عدالتوں میں پیشیوں کا وقت ملزم خود مقرر کر رہا ہے، دوسری طرف ایک عام آدمی چند منٹ تاخیر پر پہنچے تو اسے سزا دی جاتی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ آج توشہ خانہ کیس میں پہلے 9 بجے، پھر 11 بجے اور پھر عمران خان پیش ہی نہیں ہوئے جس پر عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔قانون کا احترام نہ کرنے، غنڈہ گردی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے جا رہے ہیں، اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

    اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہم نے ساڑھے تین بجے تک عمران خان کا انتظار کیا مگر وہ پیش نہیں ہوئے اس لیے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر کیا جانے والا توشہ خانہ ریفرنس حکمراں اتحاد کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔

    ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔

    آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔

    بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔

    جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادا کر کے خریدا۔

    اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔

  • خواجہ سرا ؤں کے رات 12 بجے کے بعد گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد

    خواجہ سرا ؤں کے رات 12 بجے کے بعد گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد

    کوئٹہ : خواجہ سرا ؤں کے رات 12 بجے کے بعد گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کردی گئی-

    باغی ٹی وی : ایس ایچ او سول لائن مٹھا خان کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سول لائن تھانے کے علاقوں جناح روڈ ،کوئلہ پھاٹک اور دیگر مقامات پر خواجہ سرا رات بھر پھرتے نظر آتے ہیں ، جس کی وجہ سے کافی مسائل جنم لے رہے ہیں۔

    ایس ایچ او سول لائن کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سول لائن تھانے کی حدود میں خواجہ سرا ؤں کے رات 12 بجے کے بعد گھر سے نکلنے پر پابندی عائدکردی گئی  ہے۔

    اعلامیے کے مطابق 12 بجے کے بعد شہر میں پھرنے والے خواجہ سراؤں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ خواجہ سرا ؤں کوبے نظیر کفالت پروگرام میں شامل کر لیا گیا ہے۔ خواجہ سراؤں کو ہر سہ ماہی میں 7000 روپے دیے جائیں گے۔

    اس موقع پر کراچی آرٹس کونسل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شازیہ عطا مری نے کہا تھا کہ خواجہ سرا ملک کے پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔خواجہ سراؤں کے رہنما آواز اٹھانے پر تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ سرا نادرا میں اپنا رجسٹریشن کروائیں۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ کار بڑھا رہے ہیں ۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا تھا کہ خواجہ سراؤں کیلئے بلدیات میں نشستیں مختص کیں۔ خواجہ سرا لوکل گورنمنٹ کا حصہ ہوں گے سرکاری ملازمتوں میں خواجہ سراؤں کا کوٹہ بڑھایا گیا ہے-

  • ترکیہ و شام زلزلہ: ماہر موسمیات نے سوشل میڈیا پر 3 دن قبل ہی خبردار کردیا تھا

    ترکیہ و شام زلزلہ: ماہر موسمیات نے سوشل میڈیا پر 3 دن قبل ہی خبردار کردیا تھا

    موسمیات اور زلزلے سے متعلق ریسرچ کرنے والے ایک ماہر نے سوشل میڈیا پر 3 فروری کو ہی پیشنگوئی کردی تھی کہ ترکیہ اور شام کسی بھی وقت تباہ کن زلزلے کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: ترکیہ اور شام میں آج دو انتہائی تباہ کن زلزلے آئے جس کے نتیجے میں درجنوں عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور 2200 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں جب کہ تاحال دونوں ممالک میں عمارتوں کے ملبے سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جا ری ہے۔

    ترکیہ اور شام میں آنے والے پہلے زلزلے کی شدت 7 اعشاریہ 8 ریکارڈ کی گئی جبکہ کچھ گھنٹوں بعد ترکیہ ک علاقے البستان میں 7 اعشاریہ 5 شدت کا ایک اور زلزلہ بھی ریکارڈ کیا گیا ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسے 1939 کے بعد سے بدترین زلزلہ قرار دیا ہے۔

    کہا جاتا ہے کہ بارش اور طوفان سے تو پیشگی آگاہ کیا جا سکتا ہے لیکن زلزلے کے بارے میں پیشن گوئی کرنا تقریباً ناممکن ہے لیکن حیران کن طور پر سوشل میڈیا پر 3 روز قبل کی گئی زلزلے کی پیشن گوئی آج درست ثابت ہوگئی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیدرلینڈ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کار فرینک ہوگر بیٹس نے سوشل میڈیا پر اپنی ٹوئٹ میں کچھ روز پہلے ہی اس خطے میں بڑے زلزلے کی پیشگوئی کر دی تھی۔


    فرینک ہوگر بیٹس نے 3 فروری کو ایک ٹوئٹ کی جس میں انہوں نے بتایا کہ جلد یا بدیر 4 سے 6 فروری کے درمیان جنوبی وسطی ترکیہ، اردن، شام اور لبنان میں 7 اعشاریہ 5 شدت کا زلزلہ آئے گا، یعنی جانی و مالی نقصان کے اعتبار سے یہ کافی خطرناک زلزلہ ثابت ہوگا ان کی زلزلے سے متعلق پیشگوئی 3 روز بعد ہی سچ ثابت ہوئی۔

    فرینک ہوگر بیٹس نے اپنی ریسرچ ایجنسی کی پوسٹ کو بھی ری ٹوئٹ کیا جس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ پہلے زلزلے کے بعد ایک اور بڑا جھٹکا آئے گا، ان کی یہ پیشگوئی بھی سچ ثابت ہوئی۔


    ان ٹوئٹس کے عین مطابق زلزلے کے دو جھٹکے آئے پہلا ترکیہ اور شام کا تھا جس کی شدت 7.8 تھی جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں جب کہ اس کے بعد ایک اور زلزلہ ترکیہ کے علاقے البستان میں آیا جس کی شدت 7.5 ریکارڈ کی گئی جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    نیدر لینڈ کے ریسرچر نے زلزلے کے حوالے سے اپنی پیشگوئی درست ثابت ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا وسطی ترکیہ میں آنے والے زلزلے سے متاثرہ ہونے والے ہر فرد کے لیے میرا دل بہت دکھی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ماہرین بھی ترکیہ میں بڑے پیمانے پر زلزلے میں استنبول شہر کی تباہی کا خدشہ ظاہر کرچکے ہیں دسمبر 2022 میں بھی ایک سائنسدان نے اسی علاقےمیں بڑے زلزلے سے خبردار کیا تھا۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلہ : ماہرین نے پاکستان اوربھارت کو بھی خبردار کر دیا

    ترکیہ میں اتنے شدید زلزلے کیوں آتے ہیں؟

    ترکیہ دنیا کے سب سے زیادہ فعال زلزلہ زون میں واقع ہے کیونکہ اس مقام پر کئی ٹیکٹونک پلیٹس آپس میں مل رہی ہیں اور حرکت بھی کر رہی ہیں ترکیہ اناتولین ٹیکٹونک پلیٹ پر واقع ہے جس کے گرد عربین پلیٹ، یوریشین پلیٹ اور افریقن پلیٹ موجود ہیں اور یہ پلیٹس مکمل طور پر حرکت کر رہی اور فعال ہیں جس کے باعث ہر مہینے زیر زمین ہزاروں زلزلے آتے ہیں۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل ترکیہ کو 1939 میں بدترین زلزلے کا سامنا کرنا پڑا ہے جب ارزنکان صوبے میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا اور 33 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے، اس زلزلے میں ہزاروں افراد زخمی بھی ہوئے۔

    اس کے بعد ترکیہ نے 1999 میں ایک اور شدید زلزلے کا سامنا کیا جس کی شدت 7.4 ریکارڈ کی گئی تھی اور اس زلزلے میں 17 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ زلزلے کے باعث سیکڑوں عمارتیں گرگئیں تھیں۔

    ترکی میں زلزلہ، وزیراعظم کا ترک صدر سے رابطہ