Baaghi TV

Tag: news

  • اہل شام کی مدد کیجیئے،عالمی برادری شام پرانسانیت کیخاطرپابندیاں ختم کردے:مبشرلقمان

    اہل شام کی مدد کیجیئے،عالمی برادری شام پرانسانیت کیخاطرپابندیاں ختم کردے:مبشرلقمان

    لاہور:اہل شام کی مدد کیجیئے،عالمی برادری شام پرانسانیت کیخاطرپابندیاں ختم کردے:مبشرلقمان نے دکھی دل کے ساتھ عالمی برادری کواہل شام کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی اپیل کردی ہے، مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ شام والے توپہلے ہی مشکلات اورسانحات میں گھرے ہوئے ہیں اوپر سے یہ زلزلہ آگیا ہے ، ان حالات میں انکی کیفیت اور صورتحال بہت پریشان کن اورقابل رحم ہے

    مبشرلقمان نے اہل پاکستان اور دنیا بھرمقیم پاکستانیوں سے اپیل کی ہےکہ وہ وہاں کی حکومتوں کواس بات پر مجبور کریں کہ وہ شام کے معاملے پرخاموشی کا مظاہرہ نہ کریں یہ مجرمانہ خاموشی انسانیت کوتہس نہس کردے گی ،ان کا کہنا تھاکہ پاکستانی اور دیگران کے دوست ان حکومتوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ شام جیسے قابل رحم ملک پرعائد پابندیاں‌ ختم کرنے کےلیے دباو ڈالیں اور شام میں گھرے لوگوں کی مدد کو پہنچا جائے

     

    https://www.tiktok.com/@realmubasherlucman/video/7197839033395957018?is_from_webapp=1&web_id=7195158896805103105

    ان کا کہنا تھا کہ شام اور ترکی میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں انسانی جانیں ضائع ہوگئی ہیں اور اب تو صورت حال اس قدر خراب ہے کہ زلزلے سے تباہ ہونے والے مکانات کے نیچے شامی بے بسی سے چیخ وپکار کررہے ہیں لیکن کوئی ان کی آواز نہیں سن رہا اس کی بڑی وجہ عالمی برادری کی طرف سے شام پر پابندیوں نے دنیا کوشام کی مدد سے محروم کردیا ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام پاکستانیوں کو دل کھول کرشامیوں کی مدد کرنی چاہیے ، ان کے لیے خوراک ، ادویات اوردیگرضروریات کی حامل اشیا جلد از جلد اہل شام کےلیے روانہ کردینے چاہیں اورعالمی برادری انسانیت کی‌خدمت کے اس جزبے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اپنی مدد پیش کرے

  • امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ
    (Elizabeth Bishop)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پیدائش: 8 فروری 1911
    وفات: 6 اکتوبر 1979

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ امریکہ کی ریاست میسا چیوسیس کے چھوٹے سے شہر ورکرسٹر Worcester میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک کنٹریکٹر تھے جب ان کی عمر آٹھ سال تھی تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا اور ان کی والدہ صدمے سے ذہنی مریضہ بن گئی۔

    ان کی شاعری پر میریں مور Marianne Moore کے لبرل خیالات کا گہرا اثر رہا۔ انھوں نے نیویارک کے وارسر کالج سے 1934 میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ بشپ کی نظمیں” ایک ادبی جریدے ٹرائیل بیلنس” میں شائع ہو چکی ہیں۔

    1949-1950 کے دوران وہ واشنگٹن میں شعبہ شاعری کی مشیر رھی۔

    ان کی شاعری کا اسلوب منفرد نوعیت کا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں اپنے آپ کو” تسخیر”کرنا چاہتی ہیں۔ اور الزبتھ بشپ ” آبلہ فریبی” سے فاصلہ رکھے ہوئی ہیں۔

    ان کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ” لزبن "ہم جنس نسواں” تھی۔ یہ غلط تاثر ہے۔ ان کا کہنا ہے وہ عورتوں کی شاعری کرتی ہیں۔ بقول ان کے "عورتوں کی زیادہ تر شاعری فطرتا نیلے رنگ کے گیت ہوتے ہیں جس میں آہ و زاری کی جاتی ہے اور درد کا شکار ہوکر سادیت کے گیت لکھتی ہے۔

    1956 میں انھیں پولینٹرز انعام مل چکا ہے۔ ان کی زندگی پر بابرا ھوکر نے ایک فلم This House on Elizabeth Bishop کے نام سے بنائی۔

    بشپ کی تحریروں کی عمدہ اور شاندار خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کو صدیوں پرانے شعری رویوں سے آگہی اور اس کی کلیوں کو وہ سمتیں ہیں جن کو بڑی ہی مہارت سے اپنی شاعری میں سمودینے کی تخلیقی ہنر مندی ان کو آتی ہے۔ وہ اپنے جذباتی شعری اظہار کو اعتدال کے ساتھ کنٹرول کر لیتی ہیں۔ وہ اپنے جذباتی اور حساس کو بڑی مہارت سے شعری پیکر اور اس کو جمالیاتی طور پر تشکیل دے لیتی ہیں۔ جب قاری ان کے جذبوں سے آگاہ ہوتا ہے تو وہ "بلبلاتا ” بھی ہے۔ دراصل ان کے شعری فن میں یہ بات تو ہے کہ وہ اپنے ” زخموں” کو کمال ہوشیاری سے چھپا بھی لیتی ہیں۔ مگر وہ اپنی ذاتی واردات اور زخموں کو بے نقاب کرنے کے لیے اساطیری فکریات اور ڈھانچے سے اسلوبیاتی اور اپنا شعری بیانیہ ترتیب دیتی ہیں۔

    مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بشپ کی شاعری کا مطالعہ اور تجزیہ اسرار اور پر اسرار کے ساتھ کرنا ہے۔ جس طرح ان کی شاعری صرف شاعرہ کو کشف، الہام اور وحی کے بغیر طاقتور، مباحثہ احساسات سے اپنے آپ کو الگ کرتی ہے۔ بشپ نے اس وقت جمالیاتی صوابدید کا ایک راستہ اپنایا جب اس کے بہت سے ہم عصر شعرا ان کی شعری فطانت کا کا تعاقب کررہے تھے. اور ان کی شاعری کے بہت سے ٹکڑوں کو رد و بدل کرنے بعد شائع کرنے والے شعرا کی بھی کمی نہ تھی۔ جس میں بشپ کی شعری فضا اور خوشبو محسوس ہوتی تھی۔ یہ دھوکہ دہی اور پریشانی کا سبسب بھی بنی۔ جس میں جمالیات اور تخلیقی مرکبیات، عمل کیمیائی کے بعد مراقبے کا شکار ہوجاتی ہے۔ جو ان کا حفاظتی حصار تھا۔ وہ التباس کا شکار رہی۔ مگر ان کی یہ تشکیک اور تشویش تو ہے مگر یہ مراقبہ نہیں ہے۔ یہ اصل میں شاعرہ کے نئے شعری اظہار کی تلاش اور جستجو ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ” بلی کی لوری”

    ” میاوں”۔۔۔۔ نیند خواب ہوجاتے ہیں
    اپنی بڑی آنکھوں کو بند کرلو
    ایک مسرت آمیز حیرانگی کے ساتھ
    پیاری ” میاوں” ۔۔۔ اپنی چڑھتی ہوئی تیوری کو گرا دو
    بس تعاون کرو
    ایک بلی کا بچہ نہ ڈوب جائے
    مارکسی حالت میں
    خوشی اور محبت دونوں تمہارے ہوجائیں گے
    ” میاں” ۔۔۔ اداس نہ ہو
    خوشی کے دن جلد آرہے ہیں
    نیند —– اور انھیں آنے دو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الزبتھ بشپ کی تصانیف

    North & South (Houghton Mifflin, 1946)
    Poems: North & South. A Cold Spring (Houghton Mifflin, 1955) —winner of the Pulitzer Prize[1]
    A Cold Spring (Houghton Mifflin, 1956)
    Questions of Travel (Farrar, Straus, and Giroux, 1965)
    The Complete Poems (Farrar, Straus, and Giroux, 1969) —winner of the National Book Award[2]
    Geography III (Farrar, Straus, and Giroux, 1976)
    The Complete Poems: 1927–1979 (Farrar, Straus, and Giroux, 1983)
    Edgar Allan Poe & The Juke-Box: Uncollected Poems, Drafts, and Fragments by Elizabeth Bishop ed. Alice Quinn (Farrar, Straus, and Giroux, 2006)
    Poems, Prose and Letters by Elizabeth Bishop, ed. Robert Giroux (Library of America, 2008) ISBN 9781598530179
    Poems (Farrar, Straus, and Giroux, 2011)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • سورن لتا سے  سعیدہ بانو تک کا سفر

    سورن لتا سے سعیدہ بانو تک کا سفر

    اداکارہ سورن لتا

    یوم وفات : 8 فروری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سورن لتا 20 دسمبر 1924ء کو راولپنڈی کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ سورن لتا کے فنی کیریئر کا آغاز 1942ء میں رفیق رضوی کی فلم آواز میں ایک ثانوی کردار سے ہوا تھا۔ 1943ء میںوہ نجم نقوی کی فلم تصویر میں پہلی مرتبہ بطور ہیروئن جلوہ گر ہوئیں، اس فلم کے ہیرو نذیر تھے۔نذیر کے ساتھ ان کی اگلی فلم لیلیٰ مجنوں تھی۔ یہی وہ فلم تھی جس کے دوران انہوں نے اسلام قبول کرکے نذیر سے شادی کرلی۔ ان کا اسلامی نام سعیدہ بانو رکھا گیا۔ اس زمانے میں انہوں نے جن فلموں میں کام کیا ان میں رونق، رتن، انصاف، اس پار اور وامق عذرا کے نام سرفہرست ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے شوہر نذیر کے ہمراہ پاکستان آگئیں جہاں انہوں نے اپنے ادارے کے بینر تلے فلم "_سچائی” بنائی۔ اس فلم میں ہیرو اور ہیروئن کا کردار نذیر اور سورن لتا نے ادا کیا۔ اسی سال پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم” پھیرے” ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز ، ہدایت اور ہیرو نذیر تھے جبکہ ہیروئن سورن لتا تھیں۔” پھیرے” کی کامیابی کے بعد نذیر اور سورن لتا کی پنجابی فلم” لارے” اور اردو فلم "انوکھی داستان” ریلیز ہوئیں۔

    1952ء میں نذیر نے شریف نیر کی ہدایت میں فلم ” بھیگی پلکیں” تیار کی جس میں سورن لتا نے الیاس کاشمیری کے ساتھ ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں نذیر نے ولن کا کردار ادا کیا تھا۔ 1953ء میں سورن لتا کی چار مزید فلمیں ، شہری بابو، خاتون،نوکراور ہیر ، ریلیز ہوئیں۔ اس کے بعد بھی سورن لتا کی کئی اور فلمیں نمائش پذیر ہوئیں جن میں سوتیلی ماں، صابرہ، نور اسلام، شمع، بلو جی اورعظمت اسلام، شامل تھیں۔ عظمت اسلام سورن لتا کی بطور ہیروئن اور نذیر کی بطور فلم ساز اور ہدایت کار آخری فلم تھی۔ اس کے بعد سورن لتا نے چند مزید فلموں میں کریکٹر ایکٹر کردار ادا کئے تاہم چند برس بعد فلمی صنعت سے کنارہ کش ہوگئیں۔ سورن لتا ایک تعلیم یافتہ اداکارہ تھیں ، انہوں نے لاہور میں جناح پبلک گرلز اسکول کی بنیاد رکھی اور آخری وقت تک اس کی روح و رواں اور سربراہ رہیں۔
    8 فروری 2008ء کو برصغیر پاک و ہند کی نامور ہیروئن سورن لتا لاہور میں وفات پاگئیں۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • نادرالفصام جنہوں نے امریکی موسیقی میں سعودیہ کا نام روشن کیا

    نادرالفصام جنہوں نے امریکی موسیقی میں سعودیہ کا نام روشن کیا

    نادرالفصام جنہوں نے امریکی موسیقی میں سعودیہ کا نام روشن کیا.

    امریکا میں مقیم ایک سعودی شہری کی قومی لباس میں گٹارپرامریکی گیت کی گائیکی کےچرچے دور دورتک ہیں۔ سعودی عرب کے نادر الفصام نے قومی لباس پہن کر پردیس میں انگریزی زبان میں لکھا گیت گا کر مغرب اور مشرق کی ثقافت کا حسین امتزاج پیش کیا ہے۔ موسیقار الفصام کی اس کاوش پر ثقافت اور موسیقی سے دلچسپے رکھنے والے حلقوں کی طرف سے تحسین کی جا رہی ہے۔

    العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں نے پہلی بار گٹارکو اس وقت تھاما میری عمرپانچ سال تھی۔ گٹار بجانے میں بار بار ناکامی کے باوجود اسے جاری رکھا اورشوق ترک نہیں کیا۔ اب گٹار تھامے بیس سال ہوچکےہیں۔ ان کے والد 1975ء سے امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آباد ہوئے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم امریکا کی جنوبی ریاستوں ٹینیسی اور اوکلاہوما میں قیام پذیر رہے۔ اس وقت میں نوعمر تھا۔ یہ علاقے امریکن بلیوز آرٹ کا گہوارہ ہیں اور یہاں کی ثقافت اور فنون لطیفہ بیسویں صدی کے آغاز میں نسل پرستی کی لعنت سے افریقی امریکیوں کے آلام ومصائب کو بیان کرتے ہیں۔
    مزید یہ بھی بڑھیں؛
    کالے جادو کی پیدائش؛ ماں نے نومولود بچی کو زندہ دفن کردیا
    گیارہ سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد پھینک دیا گیا
    پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر کو گرفتار کرلیا گیا
    جسم پر ظاہر ہونے والی وہ علامات جو ڈپریشن کا نتیجہ ہوتی ہیں
    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی عالمی بینک کے ریجنل ڈائریکٹر سے ملاقات
    برطانیہ میں تقریباً 52 ہزار جائیدادیں گمنام سرمایہ کاروں کی ملکیت. رپورٹ

    یہی وجہ ہے کہ اس طرح میرے حواس اور فنکارانہ ذوق ملکی موسیقی کے درمیان پروان چڑھا، میرا یہ شوق بلیوز سے مشتق سمجھا جا سکتا ہے- یہ سب امریکا کے ان علاقوں میں رہنے کے نتیجے میں ممکن ہوا۔ نادر الفصام نے بتایا کہ ان کا بچپن اور لڑکپن انگریزی زبان کے ماحول میں گذرا۔ انگریزی میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ میں انہوں گٹار کے ساتھ تعلق قائم رکھا۔ مزید سیکھنے کے لیے انہوں نے امریکی انسٹی ٹیوٹ آف میوزک اینڈ ساؤنڈ انجینیرنگ میں ایک کورس کیا۔

    وہ باقاعدگی سے الیکٹرک گٹار،عام گٹار اورباس گٹار درست انداز میں بجاتے ہیں۔ باس گٹار ایک موٹا تار والا آلہ ہے جو گٹار اور تال کو یکجا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک دھات کا آلہ ہوتا ہے جسے ڈوبرو کہتے ہیں۔ اسے شیشے کے ٹکڑے کے ساتھ بجایا جاتا ہے۔ اس کی آواز ہندوستانی ستار سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ الفصام نے سنہ2018ء میں اپنے آبائی ملک ایک فیسٹیول کے ذریعے سعودیوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی جس میں اس نے اپنی تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ اس کا ماننا ہے کہ اس کی موسیقی کی کاوش کو عمومی طور پر تمام خلیجی شہریوں اور خاص طور پر سعودی شہریوں نےبھرپور پذیرائی دی۔

  • زلزلےنےترکیہ کی معیشت کوبھی تباہ کردیا:پہلی بارتجارتی سرگرمیاں معطل

    زلزلےنےترکیہ کی معیشت کوبھی تباہ کردیا:پہلی بارتجارتی سرگرمیاں معطل

    استنبول:ترکیہ میں شدید زلزلے کے بعد صورت حال اس قدرخراب ہے کہ اب تو ترکی نے اپنی معاشی سرگرمیاں ہی مطل کردی ہیں، ترک حکام کے مطابق ترکی کے سٹاک ایکسچینج نے 24 سالوں میں پہلی بار تجارت کو معطل کر دیا، اس فروخت کے بعد جس نے دو تباہ کن زلزلوں کے نتیجے میں اس کی مرکزی ایکویٹی گیج کی قیمت سے 35 بلین ڈالر کا خاتمہ کر دیا۔

    بورسا استنبول نے بدھ کی صبح ایک بیان میں کہا،”ہمارے اسٹاک ایکسچینج نےایکویٹی، فیوچرز اور آپشنز مارکیٹوں میں تجارت کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے،”۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ تجارت کب دوبارہ شروع ہوگی۔

    100 انڈیکس اس ہفتے 16 فیصد کم ہو گیا ہے، جس نے ترکی کے جنوبی علاقے میں آنے والے دو مہلک زلزلوں کے نتیجے میں اس کے ممبر اسٹاک کی مالیت سے تقریباً 35 بلین ڈالر کا نقصان کیا ہے۔ ترک اسٹاک، جو اس سال عالمی سطح پر بدترین بحران کا شکار ہے ،حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ منگل کو اپنی جنوری کی بلند ترین سطح سے 20 فیصد سے زیادہ گرنے کے بعد تکنیکی ریچھ کی مارکیٹ میں داخل ہوئے۔

    استنبول میں مارمارا کیپیٹل کے مینیجنگ پارٹنر حیدر اکون نے کہا، "اس طرح کی تباہی کے وقت، سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے اسٹاک مارکیٹ میں تجارت کو معطل کرنا ایک بہتر فیصلہ ہے۔” ایکویٹیز میں سرمایہ کاری مقامی لوگوں میں ملک کی بڑھتی ہوئی افراط زر کے خلاف ایک اچھے فیصلے کے طور پرپسند کیا جارہا ہے ، جو 2022 میں تقریباً 86 فیصد کی بلندی تک پہنچ گئی۔

    ترکی کے دس شہروں اور ہمسایہ ملک شام کے کچھ حصوں میں آنے والے طاقتور زلزلوں سے مرنے والوں کی تعداد پہلے ہی 11,000 سے تجاوز کر چکی ہے، ہنگامی ٹیمیں منجمد درجہ حرارت میں ملبے میں پھنسے ممکنہ طور پر ہزاروں متاثرین کو بچانے کے لیے بھرپورکوشش کررہی ہیں ۔ ترکی نے تین ماہ کی ایمرجنسی کے اعلان کے بعد زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں فوجیوں کو تعینات کرنا شروع کر دیا ہے۔

  • ترکیہ زلزلہ: پاک فوج نے 48 گھنٹوں بعد دو لوگوں کو زندہ نکال لیا ہے

    ترکیہ زلزلہ: پاک فوج نے 48 گھنٹوں بعد دو لوگوں کو زندہ نکال لیا ہے

    ترکیہ زلزلہ: پاک فوج نے 48 گھنٹوں بعد دو لوگوں کو زندہ نکال لیا ہے

    ترکیہ میں آنے والے زلزلے کے بعد پیدا ہونے والی تباہی سے نمٹنے کیلئے امداد اور ریسکیو کا کام جاری ہے، جس میں پاکستانی عملہ بھی دن رات سرگرم ہے۔ پاکستان سے امدادی سامان سے لدے ہوائی جہاز، فوجی دستے اور رضاکار ترکیہ پہنچ چکے ہیں اور امدادی سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔


    پاکستان کے ریسکیو عملے ”پاکستان اربن سرچ اینڈ ریسکیو“ نے ترکیہ کے علاقے ادیامن میں 48 گھنٹوں بعد ایک شخص کو منہدم عمارت کے ملبے سے زندہ نکال لیا۔ ترکیہ میں موجود پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہماری ٹیمیں ریسکیو اور ریلیف میں مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی رہیں گی۔
    مزید یہ بھی بڑھیں؛
    پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر کو گرفتار کرلیا گیا
    جسم پر ظاہر ہونے والی وہ علامات جو ڈپریشن کا نتیجہ ہوتی ہیں
    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی عالمی بینک کے ریجنل ڈائریکٹر سے ملاقات
    برطانیہ میں تقریباً 52 ہزار جائیدادیں گمنام سرمایہ کاروں کی ملکیت. رپورٹ
    علاوہ ازیں، الزلے میں پھنسنے والے 19 پاکستانی طلباء کو غازیانتپ سے اڈانا منتقل کیا گیا اور رہائش فراہم کی گئی۔ سفارتخانہ انہیں جلد پاکستان واپس لانے کے انتظامات کر رہا ہے۔ترکی میں موجود پاکستانی سفارتخانے نے ترکیہ زلزلے سے متعلق معلومات کیلئے فون نمبرز بھی جاری کئے ہیں۔

    خیال رہے کہ ترکیہ اور شام میں زلزلے سے مجموعی اموات 11 ہزار 400 سے زیادہ ہوچکی ہیں، ترکیہ اور شام میں پیر کو 7.8 شدت کا زلزلہ آیاتھا۔

  • ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دل کو فائدہ ہو سکتا ہے

    ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دل کو فائدہ ہو سکتا ہے

    بوسٹن: بوسٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی، خون میں گلوکوز پر قابو پانے میں کچھ مدد ملتی ہے جس سے لامحالہ دل کو فائدہ ہوسکتا ہے۔

    غذائی ماہرین نے مزید تحقیق اور طویل اثرات کے مطالعے پر زور دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ انڈوں کو نہ ہی مضر، نہ ہی مفید قرار دے رہے ہیں ان کا اثر یہ ہے کہ اس سے انڈے کھانے کی شرح کم رکھی جائے تو ہی بہتر ہوگا۔

    انڈے پروٹین کا پاور ہاؤس، نہار منہ اُبلا انڈا کھانا صحت کے لئے کتنا ضروری؟

    انڈوں میں پروٹین ہوتا ہے، وٹامن ڈی جیسے فوائد ہوتے ہیں اور کولائن بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن انڈے خون کی رگوں میں تنگی پیدا کرسکتے ہیں اب انڈے کےجو فوائد سامنےآئے ہیں وہ براہِ راست کی بجائے بالراست ہیں عین یہی مؤقف محتاط ماہرین کا بھی ہےیعنی ایک انڈہ روزانہ اور وہ بھی زردی کے بغیر۔

    اس تحقیق میں سائنسدانوں نے 1971 کے ایک سروے کو دیکھا ہے جس میں 5000 بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس تحقیق کا فالواپ ہرچار سال بعد کیا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان میں سے جن افراد نے ہفتے میں پانچ یا اس سے زائد انڈے کھائے ان کا بلڈ پریشر قدرے معمول پر رہا اور فاسٹنگ بلڈ شوگر بھی اوسط سے کم تھی۔ اس طرح زیابیطس کا خطرہ کم ہوجاتا ہے اور بلڈ پریشر جیسی خاموش قابل بیماری بھی دور رہتی ہے۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

    اس تحقیق میں 30 سے 64 سال کے افراد شامل تھے جنہوں نے بعد میں 1983 سے 1995 تک ہر تین دن بعد اپنے کھانے پینے کا ریکارڈ رکھا ہوا تھا۔ ان میں سے طویل عرصے تک جن افراد نے زیادہ انڈے کھائے ان میں بلڈ پریشر کی کیفیت نہ تھی اور نہ ہی خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھی ہوئی دیکھی گئی۔

    تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں انڈے کھانے سے خون میں چکنائی اور کولیسٹرول کو بھی شامل کرنا تھا جو دل کے امراض کی ایک اہم علامت بھی ہے۔

    اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

  • ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی ہوسکتی مگر فلحال وارننگ

    ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی ہوسکتی مگر فلحال وارننگ

    ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی ہوسکتی مگر فلحال وارننگ

    وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کر کے مصنوعی بحران پیدا کرنے وال کو سخت نتائج سے خبردار کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصدق ملک کا کہنا تھا ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں ہے، ہمارے پاس 20 روز کے پیٹرول اور 29 روز کے ڈیزل کا اسٹاک موجود ہے۔ مصدق ملک کا کہنا تھا ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے ہے، پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے والوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگ اس طرح کے اقدامات کر کے عوام میں اپنی عزت گھٹا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں سے کہتا ہوں کہ آج ہی رک جائیں ورنہ سخت نتائج بھگتنا پڑیں گے، جو بھی ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہوا اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا، ریاست قدم اٹھائے گی تو پھر آپ لوگ بیٹھ کر پریس کانفرنسیں کر رہے ہوں گے۔
    مزید یہ بھی بڑھیں؛
    پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر کو گرفتار کرلیا گیا
    جسم پر ظاہر ہونے والی وہ علامات جو ڈپریشن کا نتیجہ ہوتی ہیں
    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی عالمی بینک کے ریجنل ڈائریکٹر سے ملاقات
    برطانیہ میں تقریباً 52 ہزار جائیدادیں گمنام سرمایہ کاروں کی ملکیت. رپورٹ
    ملک میں چند روز قبل آنے والے بجلی بریک ڈاؤن کے حوالے سے وزیر مملکت برائے پیٹرولیم کا کہنا تھا بجلی بریک ڈاؤن کی وجوہات پرکام مکمل کر لیا ہے، دو دن میں رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دوں گا۔ مصدق ملک کا کہنا تھا روس سے تیل خریداری کے معاملات مارچ کے آخر تک طے ہو جائیں گے اور امید ہے کہ اپریل سے ملک میں روس سے تیل آنا شروع ہو جائے گا۔ یاد رہے چند روز سے پنجاب کے مختلف شہروں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کی خبریں زیر گردش ہیں اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں پمپس پر پیٹرولیم مصنوعات کی فراہم محدود کر دی گئی ہے۔

  • ہندوستان کے با اثر فنکار اور”غزل کنگ” جگجیت سنگھ

    ہندوستان کے با اثر فنکار اور”غزل کنگ” جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ جو کہ "غزل کنگ” یا "غزل کے بادشاہ” کے نام سے مشہور ہیں، ایک ہندوستانی غزل گلوکار، موسیقار تھے۔

    8 فروری 1941 میں پیدا ہونے والےجگجیت سنگھ نےمتعدد زبانوں میں گایا اورغزل کےاحیاء اور مقبولیت کا سہرا،ایک ہندوستانی کلاسیکی فن کی شکل ہے، جس نے عوام کے لیے موزوں اشعار کا انتخاب کیا اور انہیں اس انداز میں کمپوز کیا جس میں الفاظ اور راگ کے معنی پر زیادہ زور دیا گیا۔

    انہیں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے لحاظ سے، ان کی کمپوزنگ کا انداز اور گائیکی (گائیکی) کو بول پردھان سمجھا جاتا ہے، جو الفاظ پر زور دیتا ہے انہوں نے پریم گیت (1981)، آرتھ (1982)، اور ساتھ ساتھ (1982)، اور ٹی وی سیریلز مرزا غالب (1988) اور کہکشاں (1991) جیسی فلموں کے لیے اپنی موسیقی میں اس کو اجاگر کیا۔

    سنگھ کو تنقیدی پذیرائی اور تجارتی کامیابی کے لحاظ سے اب تک کا سب سے کامیاب غزل گائیک اور موسیقار سمجھا جاتا ہے پانچ دہائیوں پر محیط کیریئر اور بہت سے البمز کے ساتھ، اس کے کام کی حد اور وسعت کو صنف کی وضاحت کےطورپرسمجھا جاتا ہےسنگھ کا 1987 کا البم، بیونڈ ٹائم، ہندوستان میں پہلی ڈیجیٹل ریکارڈ شدہ ریلیز تھی ان کا شمار ہندوستان کے بااثر فنکاروں میں ہوتا تھا۔

    ستار بجانے والے روی شنکر اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی اور ادب کی دیگر سرکردہ شخصیات کے ساتھ، سنگھ نے ہندوستان میں فنون اور ثقافت کی سیاست کرنے اور ہندوستان کے روایتی فن کے ماہرین، خاص طور پر لوک فنکاروں اور موسیقاروں کے ذریعہ تعاون کی کمی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

    انہوں نے کئی فلاحی کاموں کو فعال تعاون فراہم کیا جیسے سینٹ لوئس میں لائبریری میریز سکول، ممبئی، بمبئی ہسپتال، CRY، سیو دی چلڈرن اور ALMA۔ سنگھ کو حکومت ہند نے 2003 میں پدم بھوشن سے نوازا تھا اور فروری 2014 میں حکومت نے ان کے اعزاز میں دو ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا گلوکار 10 اکتوبر 2011 کو انتقال کر گئے-

  • ترکیہ و شام زلزلہ: شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان کی متاثرہ علاقوں میں فضائی پل بنانے کی ہدایت

    ترکیہ و شام زلزلہ: شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان کی متاثرہ علاقوں میں فضائی پل بنانے کی ہدایت

    سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شاہ سلمان انسانی امداد اورریلیف مرکز(کے ایس آر ای ایف) کوشام اور ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں فوری امداد مہیّا کرنے کے لیے ایک فضائی پل بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    باغی ٹی وی: سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق اس فضائی پل کے ذریعے زلزلے سے متاثرہ شامی اور ترک عوام کو طبی سامان، ادویہ ،رہائش کے لیے خیمے، خوراک کا سامان مہیا کیا جائے گا اس کے علاوہ یہ لاجسٹک معاونت بھی مہیّا کرے گا۔

    ترکی و شام میں زلزلہ، اموات 8 ہزار کے قریب،پاک فضائیہ،این ڈی ایم اے کی امداد روانہ

    خادم الحرمین الشریفین اورولی عہد کی ہدایات میں دونوں ممالک میں زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے "سہیم” پلیٹ فارم کے ذریعے ایک مہم کا انعقاد بھی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیہ اور شام میں زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 9 ہزار سے تجاوز کر گئی،ترکیہ میں 7ہزار108،شام میں2 ہزار530 افراد جاں بحق ہوئے،،ترکیہ میں زلزلے سے 31 ہزار777 افرادزخمی ہوئے، زلزلےسےمتاثرہ علاقوں میں5 ہزار775عمارتیں تباہ ہوئی ہیں، زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں 10ہزارخیمےلگا دیے گئے –

    جاپانی پروفیسر کی مشرقی وسطی میں مزید زلزلوں کی پیشگوئی

    ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ ترکیے میں زلزلے سے اموات میں کتنا اضافہ ہوگا اس کا ابھی اندازہ نہیں لگا سکتے۔ ترک صدر نے ملک بھر میں ایک ہفتے کے سوگ کا اعلان کردیا، ترکیہ میں ایک ہفتے تک پرچم سرنگوں رہے گا۔