Baaghi TV

Tag: news

  • گوانتاناموبےجیل میں قید پاکستانی قیدی ماجد خان کوبالآخررہا کردیا گیا

    گوانتاناموبےجیل میں قید پاکستانی قیدی ماجد خان کوبالآخررہا کردیا گیا

    نیویارک :امریکی حکومت نے گوانتاناموبے جیل میں قید پاکستانی قیدی ماجد خان کو رہا کر دیا، ماجد خان کو القاعدہ کے لیے کام کرنے پر امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ( سی آئی اے ) نے مارچ 2003 میں گرفتار کیا تھا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 42 سالہ ماجد خان کو امریکا کا ہائی ویلیو قیدی سمجھا جاتا تھا جنہیں نائن الیون کے حملوں کے بعد گرفتار کیا گیا، انہیں 2003 میں گرفتاری کے 3 سال بعد گوانتاناموبے جیل لے جایا گیا جبکہ ایک معاہدے کے تحت انہیں 2022 میں رہا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

    رہائی کے بعد ماجد خان نے کہا کہ آج مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں دوبارہ پیدا ہوا ہوں اور میں نے دنیا میں دوبارہ قدم رکھا ہے، مجھے زندگی میں دوسرا موقع دیا گیا ہے اور میں اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہوں، بیس سالوں میں دنیا بہت بدل گئی ہے اور میں بھی بہت بدل گیا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ میں تھوڑا سا حیرانگی میں ہوں کیونکہ میں آزاد ہونے کا بہت طویل عرصے سے انتظار کر رہا تھا ، قید کے دوران میں ایک چلتا پھرتا مردہ آدمی تھا، سی آئی اے چاہتی تھی کہ میں ہمیشہ اسی طرح رہوں، درحقیقت جب مجھے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا میں دہشت اور درد سے بچنے کے لیے اکثر موت کی تمنا کرتا تھا۔

    دوسری جانب رہائی کے بعد ماجد خان کو کیریبین اور وسطی امریکی ملک بیلیز بھیج دیا گیا ہے جس کا بیلیز کی کابینہ کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے، بیلیز کے وزیر خارجہ ایمون کورٹنے نے کہا کہ خان دہشت گرد نہیں ہیں اور اگر وہ چاہیں تو رہائی پانے کے بعد اپنی باقی زندگی یہاں گزارنے کے لیے آزاد ہیں۔

    واضح رہے کہ گوانتاناموبے حراستی مرکز 2002 میں ’’ دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘‘ کے دوران پکڑے گئے قیدیوں کے لیے کھولا گیا تھا۔

  • شوکت تھانوی:نامورمصنّف،مزاح نگار، شاعر اور صحافی

    شوکت تھانوی:نامورمصنّف،مزاح نگار، شاعر اور صحافی

    2 فروری : یوم پیدائش
    نامور مزاح نگار، شاعر اور صحافی شوکت تھانوی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شوکت تھانوی کا اصل نام محمد عمر ہے اور وہ 2 فروری 1904ءکوبندرابن ضلع متھرا میں پیدا ہوئے ۔آبائی وطن تھانہ بھون ضلع مظفر نگر تھا اور اسی نسبت سے تھانوی کہلاتے تھے۔ وہ ایک طویل عرصے تک لکھنو میں مقیم رہے جہاں انہوں نے مزاح نگاری‘ شاعری اور صحافت کے میدانوں میں جھنڈے گاڑے۔ 1930ءمیں نیرنگ خیال کے سالنامے میں ان کا مشہور مزاحیہ افسانہ “ سود یشی ریل“ شائع ہوا جس کے بعد ان کا شمار اردو کے صف اول کے مزاح نگاروں میں ہونے لگا۔

    قیام پاکستان کے بعد شوکت تھانوی پاکستان منتقل ہوگئے اور پہلے کراچی اور پھر راولپنڈی میں مقیم ہوئے جہاں وہ روزنامہ جنگ راولپنڈی کے مدیر مقرر ہوئے ۔روزنامہ جنگ میں ان کے کالم ”وغیرہ وغیرہ“ اور پہاڑ تلے بھی قارئین میں بے حد مقبول تھے۔

    شوکت تھانوی کی تصانیف میں موج تبسم‘ بحر تبسم‘ دنیائے تبسم‘برق تبسم، سیلاب تبسم‘ سودیشی ریل‘ قاعدہ بے قاعدہ‘ نیلوفر‘ جوڑ توڑ‘ سنی سنائی‘ خدانخواستہ‘ بارخاطر ، ان کی خودنوشت سوانح ”مابدولت“ اور خاکوں کا مجموعہ شیش محل شامل ہیں۔

    شوکت تھانوی4 مئی 1963ءکو لاہور میں وفات پاگئے اور وہیں حضرت میاں میر کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔

  • کشور ناہید ؛شاعرہ اوربہترین لکھاری

    کشور ناہید ؛شاعرہ اوربہترین لکھاری

    کشور ناہید 1940 میں بلند شہر (ہندوستان) میں ایک قدامت پسند سید گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد آٹھویں جماعت میں تعلیم کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

    میٹرک کے بعد اپنی ضد منوا کر کالج میں داخلہ لیا۔ فرسٹ ایر سے ہی شعر کہنے کا سلسلہ شروع ہوا۔گھر والوں کی شدید مخالفت کے باوجود اُن کا علمی ادبی سفر جاری رہا۔ تعلیمی دور تقریری مقابلوں اور مشاعروں میں حصہ لیتی رہیں اور ان کا کلام ادبی رسائل میں چھپتا رہا۔

    پنجاب یونیورسٹی میں معاشیات میں ایم اے کے دوسرے سال میں تھیں جب گھر والوں کو یوسف کامران کے ساتھ اُن کی دوستی کا علم ہوا۔ ایک ایسے گھرانے میں جہاں رشتے کے بھائیوں سے بات کرنا بھی ممنوع تھا وہاں یہ خبر قیامت سے کم نہیں تھی۔ اس جرم کی پاداش میں کشور اور یوسف کا نکاح پڑھوا دیا گیا۔ کشور کی شادی گو کہ پسند کی شادی تھی مگر اُن کے ازدواجی حالات کچھ اایسے خوشگوار نہ تھے۔کشور اور یوسف کے دو صاحبزادے ہیں۔ یوسف کامران 1984میں انتقال کر گئے۔

    کشور ناہید کے چھ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کو ۱۹۶۹ء میں ان کی کتاب ’’لب گویا‘‘ پر آدم جی ایوارڈ بھی ملا۔ انہوں نے فرانس کی مشہور ناول نگار سمعون ڈی بوار کی کتاب ’’سیکنڈ سیکس‘‘ کا اردو ترجمہ ۱۹۸۳ء میں ’’عورت‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ کشور ناہید کی متعدد نظموں کا انگلش اور ہسپانوی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

    کشور ناہید کو آدم جی ایوارڈ کے علاوہ یونیسکو پر اثر منڈیلا ایوارڈ، ستارئہ امتیاز اور کولمبیا یونیورسٹی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
    .
    دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے
    اس کو بھی بھولنا اچھا لگا پہلے پہلے

    دل تھا شب زاد اسے کس کی رفاقت ملتی
    خواب تعبیر سے چھپتا رہا پہلے پہلے

    پہلے پہلے وہی انداز تھا دریا جیسا
    پاس آ آ کے پلٹتا رہا پہلے پہلے

    آنکھ آئنوں کی حیرت نہیں جاتی اب تک
    ہجر کا گھاؤ بھی اس نے دیا پہلے پہلے

    کھیل کرنے کو بہت تھے دل خواہش دیدہ
    کیوں ہوا دیکھ جلایا دیا پہلے پہلے

    عمر آئندہ کے خوابوں کو پیاسا رکھا
    فاصلہ پاؤں پکڑتا رہا پہلے پہلے

    ناخن بے خبری زخم بناتا ہی رہا
    کوئے وحشت میں تو رستہ نہ تھا پہلے پہلے

    اب تو اس شخص کا پیکر بھی گل خواب نہیں
    جو کبھی مجھ میں تھا مجھ جیسا تھا پہلے پہلے

    اب وہ پیاسا ہے تو ہر بوند بھی پوچھے نسبت
    وہ جو دریاؤں پہ ہنستا رہا پہلے پہلے

    وہ ملاقات کا موسم نہیں آیا اب کے
    جو سر خواب سنورتا رہا پہلے پہلے

    غم کا دریا مری آنکھوں میں سمٹ کر پوچھے
    کون رو رو کے بچھڑتا رہا پہلے پہلے

    اب جو آنکھیں ہوئیں صحرا تو کھلا ہر منظر
    دل بھی وحشت کو ترستا رہا پہلے پہلے

    میں تھی دیوار تو اب کس کا ہے سایہ تجھ پر
    ایسا صحرا زدہ چہرا نہ تھا پہلے پہلے

  • سنجے دت بھی پٹھان کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے

    سنجے دت بھی پٹھان کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے

    بالی وڈ اداکار سنجے دت نے بھی فلم پٹھان کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے ہیں ، انہوں نے اس فلم کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وقت سیلبریشن کا ہے . اور میں داد دیتا ہوں شاہ رخ خان سمیت انکی پوری ٹیم کو کہ وہ آڈینز کو سینما گھروں تک لانے میں‌کامیاب ہو گئے ہیں. سنجے دت نے کہا کہ کافی عرصے کے بعد کسی فلم نے شائقین کو سینما گھروں تک آنے کے لئے مجبور کر دیا ہے. انہوں نے شاہ رخ خان کی بھی دل کھول کر تعریف کی اور کہا کہ اب شائقین کے اس طرح سینما گھروں میں آنے کو مسلسل برقرار رکھنا ہو گا اور یقینا یہ ایک چیلنج ہو گا . انہوں نے کہا کہ مجھے بہت امید ہے کہ اب شائقین ہندی فلموں کو دیکھنے کےلئے سینما گھروں کا رخ کریں گےاور بائیکاٹ کلچر سے باہر نکل آئیں گے. سنجے دت نے کہا کہ پٹھان کی پوری ٹیم کے لئے تالیاں ہونی چاہیے.

    یاد رہے کہ فلم پٹھان بالی کی اس سال کی پہلی فلم بن گئی ہے جس نے اتنے بڑے پیمانے پر بزنس کیا ہے اب اس کے بعد جتنی بھی فلمیں ریلیزہوں گی یقینا وہ باقی سٹارز اور فلم میکرز کے لئے ایک چیلنج ہی ہوگا. فلم پٹھان ابھی تک 600 کروڑ سے اوپر تک کا بزنس کر چکی ہے اور مسلسل لوگ دیوانہ وار فلم کو دیکھنے کےلئے سینما گھروں‌کا رخ کررہے ہیں.

  • میری عادل سے علیحدگی نہیں ہوئی جھوٹی خبریں مت چلائو راکھی میڈیا پر برس پڑیں

    میری عادل سے علیحدگی نہیں ہوئی جھوٹی خبریں مت چلائو راکھی میڈیا پر برس پڑیں

    بالی وڈ اداکارہ راکھی ساونت برس پڑی ہیں میڈیا پر انہوں نے میڈیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری عادل کے ساتھ علیحدگی کی جھوٹی خبریں‌ مت چلائیں ہماری علیحدگی نہیں ہوئی صرف اختلافات ہیں اور اختلافات کی وجہ بھی میں آپ سب کے ساتھ شئیر کر چکی ہوں. راکھی نے میڈیا کو یہ پیغام اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر دیا. انہوں نے کہا کہ میں سب کو وارن کررہی ہوں خدا کے لئے سچ لکھیں جھوٹ کیوں‌لکھ رہے ہیں، میں عادل کے ساتھ اپنی شادی کو بچائوں گی. آپ لوگ میرا ساتھ دیں الٹا آپ لوگ میری شادی ختم ہو گئی ایسی خبریں پھیلا رہے ہیں، ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہیں لیکن اختلافات چل رہے ہیں. راکھی نے کہا کہ میڈیا کو اس دکھ بھرے وقت میں میرا ساتھ دینا چاہیے اور وہی میرا گھر توڑنے کی خبریں چلا

    رہا ہے. مجھے شدید تکلیف ہوئی ہے ایسی خبریں سن کر پڑھ کر. خدا کے لئے میری مشکلات میں اضافہ مت کیجیے، میں عادل کی بیوی ہوں وہ میرا شوہر ہے ، میں اس سے الگ نہیں ہوں گی ، دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس سے الگ نہیں کر سکتی. آپ لوگ بھی ایسی باتیں‌کرنے سے باز رہیں . اگر میں آپ لوگوں کے ساتھ دل ہلکا کررہی ہوں تو اسکا کیا مطلب ہے جو بھی دل میں آئے گا لکھ دو گے.

  • عمرہ کرنا اور 30 روزے رکھنا چاہتی ہوں  راکھی ساونت

    عمرہ کرنا اور 30 روزے رکھنا چاہتی ہوں راکھی ساونت

    بالی وڈ‌ اداکارہ راکھی ساونت جواکثر تنازعات میں گھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں، اس بار جو تنازعہ ہے اس نے ان کو ہلا کر رکھ دیا ہے. راکھی کافی پریشان ہیں ، راکھی نے کہا کہ اگر میں نے اسلام قبول کیا ہے تو میں اس کے احکامات پر عمل کروں گی . میں نمازیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ عمرہ بھی کرنا چاہتی ہوں اور عمرہ پر جانا بھی عادل کے ساتھ چاہتی ہوں، انہوں نے کہا میں نے طے کر رکھا ہے اس بار رمضان المبارک میں پورے 30 روزے رکھوں گی. اور اللہ سے دعا کروں‌گی کہ میرا گھر بچ جائے اور جو لوگ ہمیں الگ کرنا چاہتے ہیں انکو ہدایت دے. راکھی نے کہا کہ مجھے میرے اللہ پر بہت یقین ہے ، وہ میرے آنسوئوں‌کو دیکھ رہا ہے وہ میرے آنسوئوں کا سبب بننے والوں سے ضرور پوچھے گا ضرور انکو کٹہرے میں کھڑا کرے گا.

    راکھی ساونت نے کہا کہ میں نےاسلام دل سے قبول کیا ہے کلمہ پڑھا ہے ، عادل سے بہت محبت کی ہے. مجھے گھر بسانے دیں ، مت میرے گھر کو توڑیں . انہوں نے یہ بھی کہا میں عمرہ کروں گی تو یقینا میرے دل کو سکون ملے گا اگر عادل میرے ساتھ نہیں بھی جائیگا تو کوئی میرا مسلمان بھائی میرے ساتھ عمرہ پر چلا جائے شاید میرے دل کو سکون مل جائے.

  • عادل درانی کی راکھی ساونت کو طلاق دینے کی دھمکی

    عادل درانی کی راکھی ساونت کو طلاق دینے کی دھمکی

    بالی وڈ اداکارہ راکھی ساونت ہیں اپنی شادی کو لیکر خاصی پریشان. انہوں نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ میرے شوہر عادل نے مجھے طلاق دینے کی دھمکی دی ہے، اور کہا ہے کہ ہمارے اسلام میں میاں بیوی کی باتیں گھروں میں ہوتی ہیں. میں نے گھر میں کئی مہینے بات کی ہے لیکن عادل کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی اس لئے مجھے سڑک پر نکلنا پڑا ہے. راکھی نے کہا کہ عادل نے مجھے طلاق دینے کی دھمکی دی ہے اسکا کہنا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ‌دے گا اگر میں گھر کی باتیں گھر میں نہیں رکھوں گی. راکھی نے مزید یہ بھی کہا کہ میں پچھلے کئی مہینوں سے عادل سے کہہ رہی ہوں کہ جو کچھ وہ کررہا ہے نہ کرے ،اور مجھے اپنا لے لیکن وہ کسی بات کی طرف نہیں آرہا. اسکے افئیرز کی وجہ سے میں اس سے ناراض ہوں.

    راکھی ساونت مزید کہا کہ میں نے عادل سے کئی بار کہا ہے کہ میں‌سیڑھی نہیں آپ کی بیوی بن کر رہنا چاہتی ہوں. میں نے عادل کو شاہ رخ‌ خان ، سلمان خان ، رنویر سنگھ جیسے آرٹسٹوں سے ملوا دیا اتنی شہرت دیدی اور کیا چاہیے اسکو مجھ سے کیوں‌مجھے تنگ کررہا ہے. میرا استعمال نہ کرے ، میرا استعمال کرکے اگر اسکو آسکر ملتا ہے تو لے لے لیکن میرے ساتھ شادی کوخراب نہ کرے.

  • عادل کو انٹرویو نہ کریں راکھی نے میڈیا سے اپیل کیوں کی؟‌

    عادل کو انٹرویو نہ کریں راکھی نے میڈیا سے اپیل کیوں کی؟‌

    بالی وڈ‌ اداکارہ راکھی ساونت جنہوں نے عادل درانی کے ساتھ تیسری شادی اسلام قبول کر کے کی ہے ، وہ اپنے رشتے کو لیکر ہیں کافی پریشان ، انہوں نے گزشتہ روز میڈیا سے اپیل کر دی ہے کہ عادل درانی کو انٹرویوز مت کریں میں ہی اسکو میڈیا میں لیکر آئی تھی اور میں ہی آپ سب سے اپیل کررہی ہوں کہ اسکو مزید انٹرویو نہ کریں اسکو سٹار نہ بنائیں. راکھی نے یہ کہتے ہوئے صحافیوں کے پائوں کو بھی ہاتھ لگانے کی کوشش کی. راکھی ساونت اس موقع پر زارو قطار روتی رہیں انہوں نے کہا کہ میں نے بہت دل سے شادی کی لیکن یہ شادی مجھے راس نہیں آئی میں بے حد پریشان ہوں عادل مجھے چھوڑ کر کسی دوسری لڑکی کو کیسے اپنا سکتے ہیں. میں اس شادی کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کروں گی. راکھی

    نے مزید کہا کہ نہ مجھ سے کھایا جا رہا ہے نہ پیا جا رہا ہے میری ماں کو ابھی ابھی دفنایا ہے میں نے ، مجھ پہ ماں کے کینسر کا ، اسکی موت کا ، عادل کی گرل فرینڈ کا پہاڑ ٹوٹا ہے ، ساری دنیا میں میرا مذاق بن رہا ہے خدا اس سے بہتر ہے تو مجھے اٹھا لے. راکھی نے کہا کہ میں ڈرامہ نہیں کرتی ، میں دل سے دکھی ہوں ور میں نے جیسی مشکل زندگی جی ہے کوئی ایسی زندگی ایک دن بھی جی کر دکھائے. راکھی میڈیا کو بار بار عادل کو انٹرویو کرنے سے منع کرتی رہی .

  • راکھی اور عادل کے اختلافات کی کہانی سامنے آگئی

    راکھی اور عادل کے اختلافات کی کہانی سامنے آگئی

    بالی وڈ‌اداکارہ اور آئٹم گرل راکھی ساونت جنہوں نے عادل درانی کے ساتھ شادی کرنے کے لئے اسلام قبول کر لیا وہ ہیں اب خاصی پریشان . وہ اکثر میڈیا میں کہتی رہی ہیں کہ وہ اپنی شادی کو بچانا چاہتی ہیں. لیکن کھل کر انہوں نے کوئی بات نہیں کہی تھی کہ وہ ایسا کیوں کہتی تھی ، وہ ایسا کیوں کہتی تھیں یہ اب کھل کر سامنے آ گیا ہے. راکھی ساونت کے شوہر عادل درانی کا کسی لڑکی کے ساتھ افئیر ہے جس کی وجہ سے راکھی خاصی پریشان ہیں. راکھی کو عادل کی گرل فرینڈ باقاعدہ فون کر کے دھمکاتی ہے کہ اسے چھوڑ دو ورنہ وہ تمہیں چھوڑ کر مجھ سے شادی کرے گا. اس لڑکی کی وجہ سے عادل اور راکھی کے درمیان ان بن چل رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ راکھی کی ماں آخری دنوں میں جب بہت بیمار تھی تو راکھی اکیلی ہسپتالوں میں

    جاتی ہوئی دیکھی گئیں عادل ان کے ساتھ دکھائی نہیں دئیے. راکھی ساونت کا ماننا ہے کہ انہوں نے نے اگر شادی کی ہے تو وہ اب عادل کے ساتھ گھر بسانا چاہتی ہیں. لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عادل کا راکھی کے ساتھ گھر بسانے کا ارادہ نہیں ہے وہ دیر سویر سے راکھی کو چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں. انہوں نے بالی وڈ میں اینٹری کے لئے محض راکھی ساونت کو سیڑھی بنا کر استعمال کیا. اس رشتے کا انجام درد ناک ہی محسوس ہوتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ راکھی عادل کے ساتھ اپنے رشتے کو بچا پاتی ہیں یا نہیں.

  • برطانیہ: شرح سود میں دسویں مرتبہ اضافہ،14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    برطانیہ: شرح سود میں دسویں مرتبہ اضافہ،14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    بینک آف انگلینڈ نے مسلسل 10 ویں بار شرح سود میں اضافہ کردیا ہے جس کے بعد وہ 14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : مہنگائی کی روک تھام کے لیے بینک آف انگلینڈ نے شرح سود میں 0.50 فیصد اضافہ کیا ہے،اس اضافے کے بعد شرح سود 3.5 فیصد سے بڑھ کر 4 فیصد ہوگئی ہے۔

    برطانیہ تاریخ کےمشکل ترین دورمیں داخل:ہڑتالی ملازمین کی تعداد6 لاکھ تک جاپہنچی

    بینک آف انگلینڈ نے کہا کہ برطانوی معیشت کو مختصر عرصے کی کساد بازاری کا سامنا ہوسکتا ہے مگر اس کا دورانیہ گزشتہ سال پیشگوئی کیے گئے دورانیے سے کم ہوگا۔

    ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں شرح سود 4.5 فیصد تک جاسکتی ہے مگر اگلے سال سے اس میں کمی آنے لگے گی۔

    شرح سود بڑھنےسےٹریکرمارگیج صارفین کو ہر ماہ 49 پاؤنڈ زائد ادا کرنا ہوں گے جبکہ عام ریٹ پر مارگیج لینے والے صارفین 31 پاؤنڈ زائد ماہانہ ادا کریں گے۔

    برطانیہ میں ہڑتالیں ہی ہڑتالیں

    دوسری جانب دنیا اس وقت معاشی بحرانوں کی زد میں ہےاوراب تو ترقی یافتہ ممالک بھی اپنےمشکل ترین دورسے گزر رہے ہیں ، ملازمین کو تنخواہیں دینے کےلیے پیسے نہیں ہیں اور ملک چلانے کےلیے خزانے میں کچھ بچا نہیں ، دوسری طرف کل برطانیہ کی معاشی صورت حال سے متعلق آئی ایم ایف کا کہنا تھاکہ برطانوی معیشت 2023 میں 0.6 فیصد تک سکڑ جائے گی۔ برطانیہ میں 6 لاکھ سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر ہڑتال کردی، ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

    کل 5 لاکھ کے قریب سرکاری ملازمین ہڑتال میں شامل تھے مگرآج یہ تعداد بڑھ گئی ہے اوربرطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ حالات بہت ہی زیادہ بگڑگئے ہیں احتجاج میں ایمبولینس، ٹرین، بس اور بارڈر فورس کے ملازمین سمیت 127 محکموں کے6 لاکھ ورکرز نے حصہ لیا۔ملازمین کی ہڑتال کے باعث اسکول، یونیورسٹیز، ٹرین اور بس سروسز بُری طرح متاثر ہوئی، جبکہ ملک بھر میں 75 سے زیادہ احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔جبکہ اس سے پہلے ہی چار لاکھ سے زیادہ اساتذہ کی ہڑتال سے تقریباً 85 فیصد اسکول اور 150 یونیورسٹیز جزوی یا مکمل طور پر بند رہیں۔

    برطانیہ میں 200 پناہ کے متلاشی لاوارث‌ بچے لاپتا ہونے کا اعتراف