Baaghi TV

Tag: news

  • امریکا میں چین کے غبارے کی موجودگی ،امریکی وزیر خارجہ کا دورہ چین منسوخ

    امریکا میں چین کے غبارے کی موجودگی ،امریکی وزیر خارجہ کا دورہ چین منسوخ

    واشنگٹن: امریکا میں چین کے غبارے کی موجودگی پر امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے دورہ چین منسوخ کردیا۔

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فضاؤں میں چین کے مبینہ جاسوس غبارے کی موجودگی کے واقعے کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے امریکی وزیردفاع کا چین کا دورہ ملتوی کیا گیا ہے وزیردفاع کا دورہ چین پہلے سے طے شدہ تھا۔

    بیماراورمعمرخاتون کوبیچ ہائی وے پر زبردستی بس سے اتاد دیا گیا،خاتون سڑک پر ہی دم توڑ گئی

    امریکی فضائی حدود میں انتہائی بلندی پر چین کے گرم گیس کے غبارے کو پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق چینی غبارہ حساس علاقے میں جاسوسی کررہا تھا۔

    دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی کہ غبارہ چین کا ہےغبارہ بنیادی طور پر ایک ائیر شپ ہے جو موسم سے متعلق تحقیق کے لیے استعمال ہوتی ہے ائیر شپ طے شدہ راستے سے بھٹک کرغیر ارادی طور پر امریکی فضائی حدود میں داخل ہوئی جس پر افسوس ہے۔ اس معاملے پر امریکا سے بات چیت جاری رکھیں گے۔

    دنیا کی سب سے بڑی جیل

    قبل ازیں پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ بدھ کے روز شمال مغربی ریاست مونٹانا کے اوپر غبارہ دکھائی دیا تھا۔ اس علاقے میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی لانچنگ اور دیکھ بھال کرنے والے ایئر فورس کے تین مراکز میں سےایک واقع ہے-

    غبارے کی موجودگی پر مونٹانا کے بلنگز ہوائی اڈے پر فضائی ٹریفک کو مختصر عرصے کے لیے روک دیا گیا تھا اورغبارے کا کھوج لگانے کے لیے امریکی جنگی طیاروں کو بھیجا گیا تھا۔

    چین کے غبارے کی نشاندہی پرپینٹاگون نے جنگی طیارے اس علاقے میں بھیج دئیے تھے جہاں غبارہ اڑتا ہوا پایا گیا تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ غبارہ دو روز قبل امریکی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔ اس کی پرواز سے واضح ہے کہ غبارے کو جاسوسی کی غرض سے بھیجا گیا تھا۔

    بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی را منشیات اسمگلنگ میں بھی ملوث نکلی

  • اداکارہ  سنی لیونی کے فیشن شو کے وینیو پر دھماکا

    اداکارہ سنی لیونی کے فیشن شو کے وینیو پر دھماکا

    بھارت کی معروف ماڈل و اداکارہ سنی لیونی کے فیشن شو کے وینیو پر دھماکا ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست منی پور کے شہر امپفال میں ہفتے کے روز دھماکا ہوا جہاں اتوار کو ایک فیشن شو ہونا تھا جس میں سنی لیونی ‘شو اسٹاپر’ تھیں یہ دھماکا صبح 6 بجے ہوا تاہم خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔

    سنی لیونی فلم کے سیٹ پر زخمی

    رپورٹس کے مطابق دھماکے سے 100 میٹر دور ہونے والے فیشن شو میں کل سنی لیونی کو شرکت کرنی ہے جب کہ تحقیقات جاری ہیں کہ دھماکے کے لیے کس چیز کا استعمال کیا گیا تھا پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ دھماکا دستی بم پھٹنے سے ہوا۔

    دوسری جانب اداکارہ سنی لیونی آج کل ایک فلم کی شوٹنگ کررہی ہیں ان کی فلم کا نام ہےکوٹیشن گینگ اس میں وہ ایک اہم کردار ادا کررہی ہیں، سنی کی اس فلم کی شوٹنگ جاری ہے، گزشتہ دنوں سنی فلم کے سیٹ پر گئیں اور کام کے دوران ان کو حادثہ پیش آیا اور ان کا پاؤں زخمی ہو گیا-

    عرفی جاوید کا فون ٹوٹ گیا

    انسٹاگرام پروائرل ہونے والی ایک وڈیو میں‌دیکھا جا سکتا ہے کہ سنی لیونی صوفے پر اپنا زخمی پائوں پکڑ کر بیٹھی ہوئی ہیں اور رو رہی ہیں ، ان کی فلم کے سیٹ پر موجود کرو ان کے پائوں پر نہ صرف پٹی کررہا ہے بلکہ ان کو دلاساہ بھی دے رہا ہےسنی کو اس وڈیو میں‌ رو تے ہوئے دیکھ کر ان کے مداحوں نے ان کے ساتھ ہمدردی کی اور ان کی صحتیابی کے لئے دعائیں کیں-

  • بیماراورمعمرخاتون کوبیچ ہائی وے پر زبردستی بس سے اتاد دیا گیا،خاتون سڑک پر ہی دم توڑ گئی

    بیماراورمعمرخاتون کوبیچ ہائی وے پر زبردستی بس سے اتاد دیا گیا،خاتون سڑک پر ہی دم توڑ گئی

    بھارتی ریاست اڑیسا میں بیمار اور معمر خاتون کو زبردستی بس سے اتار دیا گیا جس سے خاتون ہائی وے پر ہی دم توڑ گئیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق جمعرات کی دوپہر 50 سالہ بیمار خاتون اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد اپنے بیٹے کے ہمراہ گاؤں واپس جارہی تھیں خاتون اور بیٹا ایک پرائیوٹ بس میں سوار تھےکہ اچانک خاتون کی طبیعت بگڑی جس پربیٹے نے ڈرائیوراور کنڈکٹر کو اسپتال لے جانے کا کہا جس کے بعد بس کے عملے کی جانب سے مدد کے بجائے خاتون اور اس کے بیٹے کو بیچ ہائی وے پر زبردستی اتار دیا گیا۔

    پنجاب میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں، کالعدم تنظیموں کے 9 دہشت گرد گرفتار

    خاتون کے رشتہ داروں کے مطابق خاتون کے بیٹے کو ہائی وے پر کوئی مدد نہیں مل سکی اورا س کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ وہ ایمبولینس کرایہ پر لے سکے، بعد ازاں پولیس نے موقع پر پہنچ کر خاتون کو اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹرز کی جانب سے خاتون کو مردہ قرار دے دیا گیا-

    اس واقع پر پولیس نےمؤقف اپنایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور علاقے کے لوگ جائے وقوعہ پر پہنچے اور پولیس نے ایمبولینس کے ذریعے خاتون کو اسپتال پہنچایا،پھر لاش کو اس کے گھر تک پہنچانے کا بھی بندوبست کیا، لواحقین کی جانب سے واقع کی شکایت بھی درج نہیں کروائی گئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بیٹے سوجیت کا کہنا ہے کہ اگر بروقت طبی امداد مل جاتی تو اس کی والدہ زندہ بچ سکتی تھیں۔

    بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی را منشیات اسمگلنگ میں بھی ملوث نکلی

  • پاکستان میں بلاک ہونے پر وکی پیڈیا کا بیان سامنے آ گیا

    پاکستان میں بلاک ہونے پر وکی پیڈیا کا بیان سامنے آ گیا

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے) کی جانب سے توہین آمیز اور غیر قانونی مواد نہ ہٹانے پر بلاک ہونے والی آن لائن سروس وکی پیڈیا کا بیان بھی سامنے آ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر وکی پیڈیا کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ پی ٹی اے نے ہماری سروس اور تمام پراجیکٹس کو پاکستان میں بلاک کر دیا ہے۔

    وکی پیڈیا توہین آمیز مواد نہ ہٹانے پر پاکستان میں بلاک


    ویب سائٹ کی جانب سے ٹوئٹر پر بتایا گیا ہے کہ ہمیں پی ٹی اے کی جانب سے یکم فروری کو بتایا گیا کہ وکی پیڈیا کی سروس کو 48 گھنٹوں کے لیے ڈی گریڈ کر دیا گیا ہے اور پھر 3 فروری کو غیر قانونی مواد کا جواز بنا کر ہماری سروس کو پاکستان میں مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا۔

    مونس الہی کا ایک اور دوست غائب

    آن لائن سروس نے بتایا کہ ہم ’معلومات سب انسانوں کے لیے‘ پر یقین رکھتے ہیں اور وکی پیڈیا کی سروس کو پاکستان میں بلاک کرنے کا مطلب ہے کہ دنیا کی پانچویں بڑی آبادی کو بلا معاوضہ معلومات کی رسائی سے محروم کر دیا گیا ہے، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہر کوئی پاکستان کی تاریخ اور ثقافت تک رسائی سے محروم ہو جائے گا۔


    ویب سائٹ کا مزید کہنا ہے ہمیں امید ہے کہ حکومت پاکستان ہر کسی کو معلومات تک رسائی کے حق میں ہمارا ساتھ دے گی اور وکی پیڈیا سروس اور پراجیکٹس کو فوری بحال کرے گی تاکہ پاکستان کے لوگ دنیا بھر میں اپنے معلومات کو شیئر کر سکیں۔

    پنجاب میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں، کالعدم تنظیموں کے 9 دہشت گرد گرفتار

  • دنیا کی سب سے بڑی جیل

    دنیا کی سب سے بڑی جیل

    وسطی امریکہ کے ملک ایل سواڈور میں دنیا کی سب سے بڑی جیل کی تعمیر مکمل کر لی گئی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایل سلواڈور میں 410 ایکڑ پر قائم جیل میں 40 ہزار قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے جبکہ جیل کی حفاظت پر 600 فوجی اور 250 پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

    تین سالہ بچی سے اجتماعی زیادتی

    دنیا کی سب سے بڑی جیل 62 ہزار جرائم پیشہ افراد کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر بنائی گئی ہے۔ یہ جیل دارالحکومت سان سلواڈور سے 73 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک دیہی علاقے تعمیر کی گئی ہے۔

    ایل سواڈور کے صدر نجیب بوقیلہ نے توکولوکا وادی میں اس جیل کا افتتاح کیا صدر نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ اس کی تعمیر کا مقصد مختلف جتھوں کی ملک میں شرپسندیوں کو روکنے میں مدد کرنا ہے جو کہ براعظم امریکہ کی سب سےبڑی جیل بھی ہو گی،ہم نے یہ جیل انسداد دہشتگردی کےمرکز کے طور پر کھولی ہے جو کہ سات ماہ کے قلیل عرصے میں تعمیر کی گئی ہے ۔

    کمرہ امتحان میں 500 لڑکیاں اکیلا لڑکا غش کھا کر گر پڑا

    نائب وزیر برائے انصاف و تحفظ عامہ اوسیریس لونا نے بھی بتایا کہ اس قید خانے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا جہاں 600 فوجی اور ڈھائی سو پولیس اہلکار مامور ہوں گے۔

    واضح رہے کہ ایل سلوا ڈور وسطی امریکہ میں 21 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر محیط براعظم کا سب سے چھوٹا ملک ہے جس کی آبادی بہ مشکل 66 لاکھ ہے۔ ایل سلوا ڈور کے صدر فلسطینی نژاد نجیب بوقیلہ ہیں جنہوں نے ملک میں دنیا کی سب سے بڑی جیل بنائی ہے۔

    اس سے قبل یہ سب سے بڑی جیل کا اعزاز ترکیہ کے پاس تھا جس کی “مرمرہ سیزاوی” جیل کو گینز بک میں سب سے بڑی عالمی جیل قرار دیا گیا تھا۔

  • مرزا یاس یگانہ چنگیزی برصغیر کے معروف شاعر

    مرزا یاس یگانہ چنگیزی برصغیر کے معروف شاعر

    گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
    سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

    مرزا یاس یگانہ چنگیزی اپنے معاصرین میں اپنی شاعری کے نئے رنگوں اور دکھ درد کی بے شمار صورتوں میں لپٹی ہوئی زندگی کے سبب سب سے الگ نظر آتے ہیں۔ یگانہ کا نام مرزا واجد حسین تھا پہلے یاس تخلص کرتے تھے بعد میں یگانہ تخلص اختیار کیا۔ ان کی پیدائش 17 اکتوبر 1884ء کو محلہ مغلپورہ عظیم آباد میں ہوئی۔

    1903 میں کلکتہ یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ تنگیِ حالات کے سبب تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ سکے۔ 1904ء میں واجد علی شاہ کے نواسے شہزادہ میرزا محمد مقمیم بہادر کے انگریزی کے اتالیق مقرر ہوئے۔ مگر یہاں کی آب وہوا یگانہ کو راس نہیں آئی اور وہ عظیم آباد لوٹ آئے۔

    عظیم آباد میں بھی ان کی بیماری کا سلسلہ جاری رہا اس لئے تبدیلی آب وہوا کے لئے 1905ء میں انھوں نے لکھنؤ کا رخ کیا۔ یہاں کی آب وہوا اور اس شہر کی رنگا رنگ دلچسپیوں نے یگانہ کو کچھ ایسا متأثر کیا کہ پھریہیں کے ہورہے، یہیں شادی کی اور یہیں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں۔ تلاش معاش کیلئے لاہور اور حیدرآباد گئے بھی گئے لیکن لوٹ کر لکھنؤ ہی آئے۔

    ابتدائی کچھ برسوں تک تو یگانہ کے تعلقات لکھنؤ کے شعراء وادباء کے ساتھ خوشگوار رہے، انہیں مشاعروں میں بلایا جاتا اور یگانہ اپنی تہہ دار شاعری اور خوش الحانی کی بنا پر خوب داد وصول کرتے لیکن دھیرے دھیرے یگانہ کی مقبولیت لکھنوی شعراء کو کھلنے لگی۔ وہ یہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ کوئی غیرلکھنوی لکھنؤ کے ادبی معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے۔ اس لیے یگانہ کے خلاف سازشیں شروع ہوگئیں۔ ان کے لیے معاشی مشکلیں پیدا کی جانے لگیں۔ اس دشمنی کی انتہا تو اس وقت ہوئی جب یگا نہ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں کچھ ایسی رباعیاں کہہ دی تھیں جن کی وجہ سے سخت مذہبی خیالات رکھنے والوں کو تکلیف ہوئی۔

    اس موقع کا فائدہ اٹھا کریگانہ کے مخالفین نے ان کے خلاف ایسی فضا تیار کی کہ مذہبی جوش وجنون رکھنے والے یگانہ کو لکھنؤ کی گلیوں میں کھیچ لائے، چہرے پر سیاہی پوت کران کا جلوس نکالا اور طرح طرح کی غیرانسانی حرکتیں کیں۔لکھنؤ کے اس ادبی معاشرے میں یگانہ کیلئے سب سے بڑا مسئلہ اس سوچ کے خلاف لڑنا تھا جس کے تحت کوئی فرد یا گروہ زبان وادب اور علم کو اپنی جاگیر سمجھنے لگتا ہے۔

    یگانہ کی شاعری کی داستان لکھنؤ میں کی جانے والی ایک ایسی شاعری کی داستان ہے جو وہاں کی گھسی پٹی اور روایتی شاعری کو رد کرکے فکر وخیال اور زبان کے نئے ذا ئقوں کو قائم کرنے کی طرف مائل تھی۔ لکھنؤ میں یگانہ کے معاصرین ایک خاص انداز اور ایک خاص روایت کی شاعری کی نقل اڑانے میں لگے ہوئے تھے۔ ان کے یہاں نہ کوئی نیا خیال تھا اور نہ ہی زبان کا کوئی نیا ذائقہ وہ داغ و مصحفی کی بنائی ہوئی لکیروں پر چل رہے تھے۔

    لکھنؤ میں یگانہ کی آمد نے وہاں کے ادبی معاشرے میں ایک ہلچل سی پیدا کردی۔ یہ ہلچل صرف شاعری کی سطح پر ہی نہیں تھی بلکہ یگانہ نے اس وقت میں رائج بہت سے ادبی تصورات ومزعومات پر بھی ضرب لگائی اور ساتھ ہی لکھنو کے اہلِ زبان ہونے کے روایتی تصور کو بھی رد کیا۔ غالب کی شاعری پر یگا نہ کے سخت ترین اعتراضات بھی اس وقت کے ادبی ماحول میں حد سے بڑھی ہوئی غالب پرستی کا نتیجہ تھے۔

    یگانہ کی شاعری آپ پڑھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ وہ زبان اور خیالات کی سطح پر شاعری کو کن نئے تجربوں سے گزار رہے تھے۔ یگانہ نے بیسوی صدی کے تمام تر تہذیبی، سماجی اور فرد کے اپنے داخلی مسائل کوجس انداز میں چھوا اور ایک بڑے سیاق میں جس طور پرغزل کا حصہ بنایا، اس طرح ان کے عہد کے کسی اور شاعرکے یہاں نظر نہیں آتا۔ یہی تجربات آگے چل کر جدید اردو غزل کا پیش خیمہ بنے۔

    یگانہ کی کتابیں : شعری مجموعے : نشتر یاس، آیات وجدانی، ترانہ، گنجینہ۔ دیگر : چراغ سخن، غالب شکن۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
    سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

    مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
    مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

    کشش لکھنؤ ارے توبہ
    پھر وہی ہم وہی امین آباد

    درد ہو تو دوا بھی ممکن ہے
    وہم کی کیا دوا کرے کوئی

    کسی کے ہو رہو اچھی نہیں یہ آزادی
    کسی کی زلف سے لازم ہے سلسلہ دل کا

    موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی
    لے دعا کر چکے اب ترک دعا کرتے ہیں

    واعظ کی آنکھیں کھل گئیں پیتے ہی ساقیا
    یہ جام مے تھا یا کوئی دریائے نور تھا

    سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا
    سر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیا

    خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
    خدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیا

    وہی ساقی وہی ساغر وہی شیشہ وہی بادہ
    مگر لازم نہیں ہر ایک پر یکساں اثر ہونا

    خدا جانے اجل کو پہلے کس پر رحم آئے گا
    گرفتار قفس پر یا گرفتار نشیمن پر

    دیوانہ وار دوڑ کے کوئی لپٹ نہ جائے
    آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھا نہ کیجئے

    پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے
    اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا

    شربت کا گھونٹ جان کے پیتا ہوں خون دل
    غم کھاتے کھاتے منہ کا مزہ تک بگڑ گیا
    جیسے دوزخ کی ہوا کھا کے ابھی آیا ہو
    کس قدر واعظ مکار ڈراتا ہے مجھے

    پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا
    خدا تھے اتنے مگر کوئی آڑے آ نہ گیا

    بتوں کو دیکھ کے سب نے خدا کو پہچانا
    خدا کے گھر تو کوئی بندۂ خدا نہ گیا

    کیوں کسی سے وفا کرے کوئی
    دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی

    پہنچی یہاں بھی شیخ و برہمن کی کشمکش
    اب مے کدہ بھی سیر کے قابل نہیں رہا

    غالب اور میرزا یگانہؔ کا
    آج کیا فیصلہ کرے کوئی

    مفلسی میں مزاج شاہانہ
    کس مرض کی دوا کرے کوئی

    کعبہ نہیں کہ ساری خدائی کو دخل ہو
    دل میں سوائے یار کسی کا گزر نہیں

    نہ دین کے ہوئے محسن ہم اور نہ دنیا کے
    بتوں سے ہم نہ ملے اور ہمیں خدا نہ ملا

    مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا
    پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا

    جھانکنے تاکنے کا وقت گیا
    اب وہ ہم ہیں نہ وہ زمانہ ہے

    پیام زیر لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیا
    اشارہ پاتے ہی انگڑائی لی رہا نہ گیا

    آ رہی ہے یہ صدا کان میں ویرانوں سے
    کل کی ہے بات کہ آباد تھے دیوانوں سے

    خدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں کیا ہوں
    خود اپنی ذات پہ شک دل میں آئے ہیں کیا کیا

    صبر کرنا سخت مشکل ہے تڑپنا سہل ہے
    اپنے بس کا کام کر لیتا ہوں آساں دیکھ کر

    دیر و حرم بھی ڈھ گئے جب دل نہیں رہا
    سب دیکھتے ہی دیکھتے ویرانہ ہو گیا

    مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے
    بہانہ کر کے تنہا پار اتر جانا نہیں آتا

    باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے باز آ
    ڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہے

    دور سے دیکھنے کا یاسؔ گنہ گار ہوں میں
    آشنا تک نہ ہوئے لب کبھی پیمانے سے

    دنیا کے ساتھ دین کی بیگار الاماں
    انسان آدمی نہ ہوا جانور ہوا

    مرتے دم تک تری تلوار کا دم بھرتے رہے
    حق ادا ہو نہ سکا پھر بھی وفاداروں سے

    نہ سنگ میل نہ نقش قدم نہ بانگ جرس
    بھٹک نہ جائیں مسافر عدم کی منزل کے

    دنیا سے یاسؔ جانے کو جی چاہتا نہیں
    اللہ رے حسن گلشن ناپائیدار کا

    رنگ بدلا پھر ہوا کا مے کشوں کے دن پھرے
    پھر چلی باد صبا پھر مے کدے کا در کھلا

    کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے
    اک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہے

    حسن ذاتی بھی چھپائے سے کہیں چھپتا ہے
    سات پردوں سے عیاں شاہد معنی ہوگا

    یگانہؔ وہی فاتح لکھنؤ ہیں
    دل سنگ و آہن میں گھر کرنے والے

    پردۂ ہجر وہی ہستئ موہوم تھی یاسؔ
    سچ ہے پہلے نہیں معلوم تھا یہ راز مجھے

    ساقی میں دیکھتا ہوں زمیں آسماں کا فرق
    عرش بریں میں اور ترے آستانے میں

    فردا کو دور ہی سے ہمارا سلام ہے
    دل اپنا شام ہی سے چراغ سحر ہوا

    یاسؔ اس چرخ زمانہ ساز کا کیا اعتبار
    مہرباں ہے آج کل نا مہرباں ہو جائے گا

    ہاتھ الجھا ہے گریباں میں تو گھبراؤ نہ یاسؔ
    بیڑیاں کیونکر کٹیں زنداں کا در کیونکر کھلا

    بے دھڑک پچھلے پہر نالہ و شیون نہ کریں
    کہہ دے اتنا تو کوئی تازہ گرفتاروں سے

    یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں
    یادش بخیر بیٹھے تھے کل آشیانے میں

    امتیاز صورت و معنی سے بیگانہ ہوا
    آئنے کو آئنہ حیراں کو حیراں دیکھ کر

  • ایلون مسک کا تخلیق کاروں کے لیے معاوضے کا اعلان

    ایلون مسک کا تخلیق کاروں کے لیے معاوضے کا اعلان

    کیلیفورنیا: ایلون مسک نے تخلیق کاروں کے لیے معاوضے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی: جمعے کے روز سربراہ ٹوئٹر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ آج سے ٹوئٹر اشتہارات کی مد میں کمائی جانے والی آمدنی سے تخلیق کاروں کو ان اشتہارات کے دِکھائے جانے کی مد میں حصہ دے گا جو ان کے رپلائی تھریڈ میں موجود ہوں گے۔

    دنیا کے امیر ترین افراد ، 20 ویں نمبر کی فہرست سے بھی اڈانی غائب


    ایلون مسک کا کہنا تھا کہ معاوضے کے لیے وہ لوگ اہل ہوں گے جو ٹوئٹر بلیو ویریفائیڈ کے سبسکرائبر ہوں گے۔


    واضح رہے ٹوئٹر بلیو ویریفائیڈ فیچر کی مدد میں صارفین سے آٹھ ڈالرز معاوضہ وصول کر رہا ہے۔

    ٹویٹر تخلیق کار کی معیشت کو سرگرم کرنے میں سست تھا، لیکن زیادہ تر ٹیکسٹ پر مبنی سوشل ایپ بالآخر بورڈ میں آ گئی۔ کمپنی نے حالیہ برسوں میں مواد کے تخلیق کاروں کو پیسہ کمانے میں مدد کرنے کے لیے چند خصوصیات متعارف کروائیں، جن میں Super Follows، Ticketed Spaces اور ایک خصوصی منیٹائزیشن ڈیش بورڈ شامل ہیں۔

    واٹس ایپ کا ایک ماہ میں 36 لاکھ 77 ہزار اکاؤنٹ معطل کرنے کا دعویٰ

    یو ٹیوب نے طویل عرصے سے اپنے تخلیق کاروں کے ساتھ آمدنی کو تقسیم کیا ہے اور اسے عام طور پر ویڈیوز سے قابل اعتماد طریقے سے پیسہ کمانے کے لیے بہترین جگہ سمجھا جاتا ہے۔ کمپنی آن چینل اشتہارات کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی کا 55% ادا کرتی ہے اور حال ہی میں اپنے مختصر فارم ٹک ٹاک کے مدمقابل، YouTube Shorts کے لیے آمدنی کا اشتراک متعارف کرایا ہے۔

    دیگر کمپنیاں، خاص طور پر میٹا، اس منیٹائزیشن ماڈل کو اپنانے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ٹک ٹاک نے صرف ٹک ٹاک Pulse کے ساتھ پچھلے سال کے وسط میں اپنے اشتھاراتی ریونیو شیئرنگ پروگرام کا اعلان کیا تھا، حالانکہ اس پیشکش کو صرف کم از کم 100,000 فالورز والے اکاؤنٹس تک بڑھایا گیا تھا اشتہارات کی آمدنی کا اشتراک ماڈل ان پلیٹ فارمز پر بھی کم عام ہے جو ویڈیو کے بجائے متن پر زور دیتے ہیں۔

    تین سالہ بچی سے اجتماعی زیادتی

  • بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی  را منشیات  اسمگلنگ میں بھی ملوث نکلی،پاکستانی ایجنسیوں نے ہندوستانی ایجنسیوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا

    بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی را منشیات اسمگلنگ میں بھی ملوث نکلی،پاکستانی ایجنسیوں نے ہندوستانی ایجنسیوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا

    بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی را منشیات اسمگلنگ میں بھی ملوث نکلی،پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ہندوستانی ایجنسیوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا-

    باغی ٹی وی: بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی را منشیات اسمگلنگ میں بھی ملوث نکلی ،بھارتی فوج اپنی ہی عوام کو چونا لگانے میں پیش پیش ہے،بھارتی فوج اپنے ہی سینئر افسران کو دھوکہ دینے لگی،جھوٹ، جعلی مقابلے اور ماورائے عدالت قتل ہندوستانی فوج کی پہچان ہے-

    بھارتی فوج، را اورمقبوضہ جموں کشمیر پولیس میں مودی سرکار کے سامنے نمبر بنانے کامقابلہ جاری ہے ،بھارتی فوج مودی سرکار کی خوشامد کے چکر میں ہتھیار اسمگل کر کے آزادی پسندوں کے سر منڈھنے لگی-

    ابتدائی طور پر اسلحہٰ اور منشیات کی چھوٹی کھیپ کو کشمیر پولیس سے خفیہ رکھ کر سمگل کیا جاتا۔ کامیابی کی صورت میں ایک بڑی کھیپ) 50 رائفل، 30 پستول، 20 دستی بم، 50 کلوگرام منشیات (کا آزاد کشمیر سے سمگلنگ کا ڈرامہ رچایا جاتا)۔


    بھارتی فوجی افسران پروموشن، تمغوں اور رپورٹ کے چکر میں کشمیریوں کے خون سے کھیلنے لگ گئے،منصوبے کے مطابق مجبور کشمیریوں کو پیسے کا لالچ دے کر اسمگلنگ پر آمادہ کیا جاتا،موقع ملنے پر بے خبر ’اسمگلر‘ کو جعلی آپریشن میں مار دیا جاتا-

    آپریشن کارنگ دے کر ذاتی تشہیرکی جاتی اور الزام پاکستان کے سر تھوپ دیا جاتا،اسلحہٰ اور منشیات کی چھوٹی کھیپ کو کشمیر پولیس سے خفیہ رکھ کر اسمگل کیا جاتا،آزاد کشمیر سےا سمگلنگ کا ڈرامہ رچایا جاتا،جعلی اسمگلرزکوبھارتی فوج کےہاتھوں مروا دیاجاتا،آپریشن میں ملوث افسران کو انعام کے طور پر ہتھیار اور آوٹ اسٹینڈنگ رپورٹ سے نوازا جاتا-

    سی آئی ڈی کشمیر کا جموں و کشمیر پولیس کے سر براہ کو مراسلہ منظر عام پر۔مراسلے میں سی آئی ڈی کشمیر کا سربراہ جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ کو منصوبے سے آگاہ کرتے ہوئے اسے نظر اندازکرنے کی ہدایات دے رہا ہےمراسلے میں 3راجپوت کے حاجی پیر سیکٹر، 12جاٹ کے اڑی سیکٹر اور لیفٹیننٹ کرنل اکشنت کا ضلع کپواڑہ میں جعلی آپریشن کا ذکر ہے۔

    ایک اورمراسلے میں CID ‘K’فورس کا اہلکار کمانڈنگ آفیسر کے غیر آمادہ رویے کو مبینہ طور پرایس پی بارہ مولا اور 12جاٹ رجمنٹ کے درمیان ہونے والے آپریشن کی ناکامی کی وجہ بتا رہا ہے۔ مراسلے میں مزید یہ بھی کہا گیا کہ کمانڈنگ آفیسر کے چھٹی جانے کی صورت میں سیکنڈ ان کمانڈ اس جعلی آپریشن پر رضا مند ہے۔

    بھارت تحریکِ آذادی کے کشمیر کو دبانے اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے پہلے بھی یہ حربے آزما چکا ہے۔ 26 فروری 2019 کو بی جے پی کی انتخابات میں جیت یقینی بنانے کیلئے جعلی سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ رچایا گیا۔

    16جنوری2021کو "دی وائر” کی رپورٹ میں ارناب گوسوامی کی لیک واٹس ایپ چیٹ کے مطابق پلوامہ حملے میں مودی سرکار خود ملوث تھی 18 جولائی 2020 کو بھارتی فوج نے تین کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دے کر شہید کر ڈالا۔شور مچنے پر نام نہاد انصاف کا پرچار کیا۔لیکن جنوری 2021میں اسی واقعے میں ملوث بریگیڈیر کٹوچ کو ’یدھ سیوا میڈل‘ سے نوازا گیا۔

    3 فروری 2022کو بھارتی فوج نے شبیر احمد کو چند گیر، بانڈی پورہ سے اسلحہ سمیت گرفتار کیا جبکہ کشمیرسی آئی ڈی کے مطابق شبیر احمد 19 جنوری سے زیرِ حراست تھا2010 میں مچھل میں تین نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کر ڈالا 14مارچ 2022کو جعلی مقابلے میں ابرار نامی شخص کو اسلحہ سمیت زخمی حالت میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔

    28نومبر 2022 کو بھارتی فوج نے ضلع کپواڑہ کے گاؤں پنج ترن میں ایک گھر کے نزدیک اسلحہ چھپایا۔ جسے مکان مکین نے فون میں ریکارڈ کر لیا ویڈیومیں بھارتی فوجیوں کو اسلحہ چھپاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے30نومبر کو بھارتی فوج نے چھاپہ مار کر وہی ہتھیار برآمد کرلیے اور الزام پاکستان پر لگا دیا۔

    ہندوستانی فوج کے افسران، سینئر افسران کی چاپلوسی کے لئے منشیات اور اسلحہ اسمگل کررہے ہیں کشمیر میں 1279 دن کے غیر قانون محاصر ے کے باوجود بہادر کشمیری آج بھی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں کشمیریوں کی تحریک آزادی سے توجہ ہٹانے اور2023 میں 9 ریاستوں کے انتخابات جیتنے کے لئے، ہندوستانی فوج ان ہتھکنڈوں کا استعمال کررہی ہے۔

    باراک اوباما نے اپنی کتاب، The Promised Land میں لکھا تھا کہ پاکستان مخالف موقف پر ہندوستانی انتخابات جیتتا ہےعالمی میڈیا کئی بار ان جعلی مقابلوں پر آواز اٹھا چکا ہے۔

    2010 اور 2015میں بی بی سی نے کشمیر میں ہونے والے جعلی مقابلوں پر سوال اٹھایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق 25مارچ 2020کو کابل میں سِکھ گُردوارے پر حملے میں بھی بھارتی دہشتگرد ملوث تھے اور بھارتی قوانین ایسے جرائم میں ملوث فوجیوں کا تحفظ بھی کرتے ہیں۔

    امریکی جریدے فارن پالیسی نے بھی بھارتی دہشت گردی کے حوالے سے بھارت کو بے نقاب کیا تھا جس میں داعش اور بھارتی روابط کو دُنیا کے سامنے لایا گیاتھا اور اس گٹھ جوڑ کو عالمی اور علاقائی خطرہ قرار دیا گیا جبکہ 30دسمبر 2020 کوٹی آر ٹی ورلڈ نے بھی بھارتی جعلی مقابلوں کا پردہ چاک کیا تھا۔

    سکھ یاتریوں کی بھارت میں ہی مودی کے خلاف نعرے بازی

    بھارتی ہٹ دھرمی، ایک بار پھرپاکستان آنیوالے سکھ یاتریوں کوروک دیا گیا

    خالصتانی ہوں،حکومت مودی کے دباؤ کا شکارہے، گوپال سنگھ چاولہ کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    سکھ برادی کا خالصتان بارے ریفرنڈم 2020، وینا ملک نے بڑا اعلان کر دیا

    آسٹریلوی حکومت نے میلبرن میں خالصتان ریفرنڈم رکوانے سے انکار کردیا۔

     علیحدگی پسند گروپ سکھس فار جسٹس (SFJ) نے میلبورن آسٹریلیا میں خالصتان ریفرنڈم مہم کا آغاز کیا ج

    انٹرپول نے خالصتان کے رہنما کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارت کی درخواست مسترد کردی

    ٹورنٹو:کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم کے حوالے سے تاریخ رقم ، خالصتان ریفرنڈم میں ایک لاکھ 10 ہزار سکھوں نے ووٹ کاسٹ کی

  • تین سالہ بچی سے اجتماعی زیادتی

    تین سالہ بچی سے اجتماعی زیادتی

    بھارت میں دو افراد نے تین سالہ بچی کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی کے جنوبی علاقے میں دو ملزمان نے جنگل میں لے جا کر تین سالہ بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، واقعہ کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔

    دنیا کے امیر ترین افراد ، 20 ویں نمبر کی فہرست سے بھی اڈانی غائب

    پولیس کا کہنا ہےکہ واقعے میں ملوث دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن کی شناخت 27 سالہ رام نیواس مشرا اور 22 سالہ شکتی مان سنگھ کے نام سے ہوئی جبکہ دونوں ملزمان مدھیا پردیش کے رہائشی ہیں دونوں ملزمان نئی دہلی کا کچرا اٹھانے والی مقامی کمپنی میں ہیلپر ہیں جبکہ دونوں ملزمان شادی شدہ ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہےکہ واقعے کی اطلاع بچی کی ماں نے دی جو متاثرہ بچی کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچی اور شکایت درج کرائی۔

    عراق میں 5 ہزار سال پرانا انوکھا فریج دریافت کرلیا گیا

    خاتون نے اپنی شکایت میں بتایا کہ اس کی تین سالہ بچی صبح سے لاپتا تھی اور اس نے جب بچی کی تلاش شروع کی تو اس کے پڑوسی نے بچی کو جنگل کی طرف دیکھے جانے کی اطلاع دی، جنگل میں بچی کی تلاش کے بعد وہ وہاں روتی ہوئی پائی گئی وہ بچے کو فوراً تھانے لے گئے۔ اسے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یا ایمس لے جایا گیا، جہاں اس کا علاج کیا جا رہا ہے۔

  • عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم ،حافظ قرآن بھی تھیں

    عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم ،حافظ قرآن بھی تھیں

    3 فروی 1975
    عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم کا یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مصر سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ ام کلثوم 31دسمبر 1898میں مصر کے ایک دیہی علاقے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام ابراہیم اور والدہ محترمہ کا نام فاطمہ تھا۔ ان کے والد ابراہیم قرآن کے حافظ اور مسجد کے امام تھے اپنی بیٹی کلثوم کو بھی انہوں نے قرآن حفظ کرایا۔ بعد میں ان کے والد نے ہی ان کو گلوکاری کی طرف دھکیل دیا۔ انہوں نے گلوکار ابوالعلا سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ۔

    انہوں نے سب سے زیادہ مصر کے عرب شاعر احمد راہی کے گیت گائے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی شعراء کے کلام بھی گائے۔ ام کلثوم کی آواز میں بلا کی مٹھاس اور سوز و سرو شامل تھا وہ اپنی آواز کا جادو جگا کر سامعین پر سحر طاری کر دیتی تھیں یہی وجہ ہے کہ انہیں مصر کی بلبل،کوکب المشرق یعنی مشرق کا ستارہ اور عرب موسیقی کی ملکہ کے خطاب سے نوازا گیا۔ مصر کے شاہ فاروق اور جمال ناصر بھی ان کے مداحوں میں شامل تھے ۔

    شاہ فاروق نے ان کو مصر کے سب سے بڑے ایوارڈ "ذیشان الکمال” سے نوازا۔ جبکہ علامہ اقبال کا ترجمہ شدہ کلام عربی میں گانے پر حکومت پاکستان کی جانب سے ان کو ستارہ الہلال کا ایوارڈ عطا کیا گیا ۔ مصری حکومت نے ام کلثوم کی آواز میں قرآن کی تلاوت بھی ریکارڈ کروایا ۔ ام کلثوم 1923 میں اپنے آبائی گاؤں سے قاہرہ منتقل ہو گئیں ۔ 1954میں ام کلثوم کی ڈاکٹر حسن الخضری سے شادی ہوئی ۔ ام کلثوم پر گاتے وقت وجد طاری ہو جاتا تھا۔ اس لیے وہ وہ اپنے ہاتھ میں رومال رکھتی تھی وہ گانے کے دوران وجد میں آ کر اس رومال کو پھاڑ کر لیرا لیرا کر دیتی تھیں ۔

    ام کلثوم کا شمار عرب دنیا کی موسیقی کے 4 بڑے گلوکاروں میں ہوتا ہے جن میں عبدالحلیم حافظ، ام کلثوم ، محمد عبدالوہاب اور فرید الطرش شامل ہیں ۔ دنیائے عرب کی ملکہ موسیقی اور ستارہ مشرق ام کلثوم کا 3 فروری 1975 میں انتقال ہوا ان کے جنازہ نماز میں 40 لاکھ افراد نے شرکت کی تھی جوکہ ایک عالمی ریکارڈ اور ان کی انتہا درجے کی مقبولیت کا ثبوت بھی ہے۔