لاہور(حمزہ رحمن): پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے وزیر اعلی پنجاب سے کرونا کے حالات میں تعلیمی بورڈز کی طرف سے ظالمانہ فیسوں میں غریب طلباء کو ریلیف دینے کا مطالبہ کر دیا. زرائع کے مطابق گزشتہ سال پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نے نہم اور گیاریویں کلاسز سے کروڑوں روپے امتحانی فیسوں کی مد میں اکٹھے کیے لیکن کرونا کی وجہ سے امتحان نہیں لیا گیا تھا۔
اسی موضوع پر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدرمیاں شبیراحمد ہاشمی کا کہنا ہے کہ رواں سال میٹرک اور انٹر کلاسز کے پریکٹیکل نہ ہونے کے باوجود میٹرک سائنس اور ایف ۔ایس ۔سی کے طلباء سے کرونا کے دنوں میں کروڑوں روپے پریکٹیکل فیسوں کی مد میں بٹورے جارہے ہیں ۔کوئی نوٹس لینے والا نہیں ہے، جبکہ کرونا کی وجہ سے پوری دنیا کے قوانین میں ترامیم کر کے غریب عوام کیلیے آسانی پیدا کی گئی لیکن پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کمائی کی خاطر ڈبل فیس اور ٹرپل فیس کے قانون میں ترمیم نہیں کررہے حالانکہ تمام بچوں نے گزشتہ سال امتحانی فیسیں جمع کرائیں لیکن امتحان نہیں ہوا ۔
مرکزی صدر ایپسا کا کہنا ہے کہ ٹعلیمی بورڈز کی طرف سے آگر فیسوں میں ریلیف نہ دیا گیا اور اس سال کرونا کی وجہ سے ڈبل اور ٹرپل فیس کا شیڈول ختم کرکے سنگل فیس کے ساتھ داخلے جمع کرانے کی اجازت نہ دی گئ تو سیکنڈری بورڈ لاہور کے سامنے دھرنا دیں گے.
یاد رہے کہ کرونا کی وجہ سے اگر ڈبل فیس اور ٹرپل فیس کا شیڈول ختم کر کے سنگل فیس نہیں کیا جاتا تو ایک لاکھ سے زائد پیف (پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن) سکولز کے میٹرک کے طلباء کو بھی ڈبل فیسیں ادا کرنا پڑیں گی ۔
Tag: pakistan

پنجاب کے تعلیمی بورڈز کی جانب سے کروڑوں روپے پریکٹیکل فیسوں کی مد میں بٹورے جانے کا انکشاف.

اسلام اور ویلنٹائن ڈے تحریر: ضیاء عبدالصمد
اسلام کا دوسرا نام حیاء بھی ھے۔ ویلینٹائن ڈے کا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں ھے نوجوان نسل مغرب کے اس کلچر کو اپناتے جارہیں اور دن بہ دن اس بے حیائی کو عام کرتے جارہیں
اس سلسلے میں سب سے پہلے
قرآنِ کریم کے متعدد مقامات پر اس بات کے واضح اشارات موجود ہیں کہ عورت کا چہرہ اور دونوں ہاتھ بھی مقامِ ستر ہیں اور ننگے منہ اس کا گلی بازار میں نکلنا جائز نہیں۔
صحیح بخاری میں حضرت عائشہؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا:اللہ تعالیٰ پہلی مہاجر صحابیات پر رحم کرے، جب یہ حکم نازل ہوا کہ عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سینوں پر اوڑھنیوں کے پلو ڈالے رہیں تو انھوں نے اپنی قمیصوں کے نیچے استعمال کی جانے والی چادروں کو پھاڑا اور ان کی اوڑھنیاں بنالیں۔
یعنی عورت کو چاہیے کہ اپنا بناؤ سنگار چھپا کر رکھے تاکہ اجنبی مرد کو نظر یں نیچی رکھنے میں مدد ملے۔ اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
اور اپنے پاؤں زمین پر نہ ماریں تا کہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں۔
یعنی عورت پائل پہنے ہو تو اس پر حرام ہے کہ زمین پر زور زور سے پاؤں مار کر چلے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ مرد پائل کی چھن چھن سنیں گے تو فتنے میںپڑ جائیں گے۔ عورت کے لیے جب ایسا کرنا حرام ہے تو چہر ے کو کھلا رکھنا کیو نکر جائز ہوسکتا ہے۔ مرد محض پائل کی جھنکار سن کر تو فتنے میں مبتلاہو گا لیکن کیا چہرے کی دلکشی و جلوہ سامانی اس کے ہوش نہ اڑائے گی؟
سنن ابو داود اور سنن کبریٰ بیہقی میں حضرت انسؓسے مروی ہے کہ نبی اکرم اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ ؓ کے پاس اپنے آزاد کردہ غلام کے ہمراہ تشریف لائے۔ اس وقت حضرت فاطمہؓ کے سرپر ایک اوڑھنی تھی، جب وہ اپنا سر ڈھانپتیں تو وہ پاؤں تک نہیں پہنچتی تھی اور جب پاؤں چھپاتیں تو سر تک نہیں پہنچتی تھی۔ نبی اکرم نے جب اپنی لختِ جگر کو ذہنی الجھن میں دیکھا تو ارشاد فرمایا:تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، تیرا باپ اور غلام ہی تو ہیںيَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا.
(الاحزاب، 33 : 59)
اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔
دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے:
النور، 24 : 31)اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ۔
عورت کے لیے ہاتھ پاؤں اور چہرے کے علاوہ سارا جسم ستر ہے، جس کو چھپانا اس پر فرض ہے۔ مذکورہ بالا تین اعضاء چھپانے کا شرعی حکم نہیں ہے۔يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا.
(الاحزاب، 33 : 59)
اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے
سنن ابو داود اور سنن کبریٰ بیہقی میں حضرت انسؓسے مروی ہے کہ نبی اکرم اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ ؓ کے پاس اپنے آزاد کردہ غلام کے ہمراہ تشریف لائے۔ اس وقت حضرت فاطمہؓ کے سرپر ایک اوڑھنی تھی، جب وہ اپنا سر ڈھانپتیں تو وہ پاؤں تک نہیں پہنچتی تھی اور جب پاؤں چھپاتیں تو سر تک نہیں پہنچتی تھی۔ نبی اکرم نے جب اپنی لختِ جگر کو ذہنی الجھن میں دیکھا تو ارشاد فرمایا:تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، تیرا باپ اور غلام ہی تو ہیں
آزاد عورت کا سارا جسم ہی مقامِ ستر ہے۔ شوہر اور محرم کے سوا کسی غیر محرم مرد کو عورت کے جسم کا کوئی بھی حصہ دیکھنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ سوائے علاج معالجہ اور شہادت وغیرہ کی ضرورت و مجبوری کے۔
جس پرکوئی ہاتھ نہیں ڈالتا تھا ایس پی ماڈل ٹاؤن کا قبضہ گروپ طیفی بٹ کے ڈیرے پرکریک ڈاؤن
لاہور15 جنوری (حمزہ رحمن) سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر اور ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان کی ہدایت پرایس پی ماڈل ٹاؤن کی قیادت میں پولیس کا بدنام زمانہ قبضہ مافیا اور رسہ گیر خواجہ تعریف عرف طیفی بٹ کے ڈیرے پرکریک ڈاؤن کیا گیا.
ترجمان پولیس ماڈل ٹاؤن ڈویژن لاہور کے مطابق موقع پر ریکارڈ یافتہ قبضہ گروپ خواجہ تعریف عرف طیفی بٹ کے 03 اہم کارندے گرفتارکر لیے گئے
ایس ڈی پی او ماڈل ٹاؤن کے مطابق گرفتارملزمان میں فیاض،لال خان اور امیر محمد شامل ہیں، جبکہ ملزمان کے قبضہ سے رائفل،پسٹل اور گولیاں برآمد کی گئیں، اور مقدمہ درج کر لیا گیا.
ایس پی ماڈل ٹاؤن دوست محمد کا کہنا تھا کہ قبضہ مافیا اور ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا.
یاد رہے کہ ایس پی ماڈل ٹاؤن دوست محمدکو حال ہی میں کرائم کنٹرول لرنے لے لیے دوبارہ ماڈل ٹاؤن ڈویثرن میں جارج دیا گیا ہے.
ایک اورپولیس آفسر نے کرونا کو شکست دے دی.
(حمزہ رحمن) ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس جنوبی پنجاب کیپٹن ر ظفر اقبال اعوان نے کرونا کو شکست دے دی
کیپٹن ر ظفر اقبال اعوان نے صحت یابی کے فوری بعد فرائض کی انجام دہی کا آغاز کردیا.صحت یابی کیلئے دعاؤں اور نیک تمناؤں پر پولیس فورس اور عوام کا شکر گزار ہوں۔ کرونا کیخلاف جنگ احتیاطی تدابیر’موثر علاج اور ہمت و حوصلے سے ہی جیتی جاسکتی ہے۔اس موقع پر ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کا کہنا تھا کہ کرونا کیخلاف نشتر ہسپتال کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی مثالی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔
کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے معاشرے کا ہر فرد اپنا کردار ادا کرے۔جنوبی پنجاب پولیس فورس نے اپنے کمانڈر کی صحت یابی پر مسرت اور نیک تمناؤں کا اظہارکیا.

وزیراعظم کی رہاشی علاقہ کی پولیس قبضہ مافیا بن گئی؟
موضع ملوٹ کی اراضی پر قبضے کا معاملہ شدد اختیار کر گیا. تھانہ بنی گالہ کی حدود میں واقع موضع ملوٹ کی ارضی کا قبضے سلسلہ راتوں رات بھی جاری، تھانہ بنی گالہ کے ایس ایچ او عاصم کو مقامی مالکان کی اطلاع کے باوجود سلسلہ نا رک سکا، تھانہ بنی گالہ کا عملے کی موجودگی میں ہیوی مشینری سے رات گئے قبضے کا سلسلہ جاری ہے، سول عدالتوں اور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ایس ایچ او بنی گالہ کاروائی سے گریزاں
اس حوالے سے (ًمظاہرین) تصدق شاہ کا کہنا ہے کہ بارہاایس ایچ او عاصم کو قبضے کی اطلاع دی گئی مگر پولیس کی موجودگی میں اراضی پر ڈویلپمنٹ کا کام جاری ہے. پولیس کی موجودگی میں موقع پر مسلح افراد موجود ہیں
تصدق شاہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایسے ہی قبضے کے سلسلے میں اطلاع دینے پر ہم پر ہی جھوٹی ایف آر دی گئی تھی.
پولیس کی موجودگی میں ہیوی مشینری کا کام کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ محکمہ پولیس اس سارے کام میں ملوث ہے. ہماری درجنوں درخواستوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا گیا.
عدالت کے کلئیر احکامات کے باوجود ہماری درخواست پر آیف آئی آر نہی دی جارہی، تصدق شاہ کی دہائی
سابقہ ایف آئی آر جھوٹی ثابت کرنے کے لیئے کل بنی گالہ کے احتجاج اور پریس کانفرنس میں ثبوتوں سے پردہ اٹھائیں گئے، اس کے ساتھ ساتھ انکا کہنا تھا کہ کل تھانہ بنی گالہ کے باہر احتجاج پر مجبور ہیں.
ایک اور مسلم ملک کی کشمیر کے موقف پر پاکستان کی حمایت
اسلامآباد (حمزہ رحمن) ایک اور مسلم ملک کی کشمیر کے موقف پر پاکستان کی حمایت، ایسا اس موقع پر ہوا جب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے آزربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف کی ملاقات ہوئی.اس موقع پر صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان آزربائیجان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جبکہ پاکستان آزربائیجان تعلقات مشترکہ عقیدے ، تاریخی اور ثقافتی روابط پر مبنی ہی.
صدر مملکت نے ناگورنو کاراباخ کی آزادی پر حکومت اور آزربائیجان کے عوام کو مبارکباد پیش کی، جبکہ پاکستان آزربائیجان کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا کا اعلان بھی کیا، انکا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم بڑھانے اور ثقافتی وتجارتی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے.
صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ اسلام آباد میں پاک – آذربائیجان -ترکی سہ فریقی مذاکرات سے سہ رخی تعلقات اور برادر ممالک کے مابین تعاون کو فروغ حاصل ہو گا، صدر عارف علوی صدر مملکت نے کشمیر پر او آئی سی رابطہ گروپ کے ممبر کی حیثیت سے آزربائیجان کے کردار کو سراہا.اس موقع پر آزربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف پاکستان اور آذربائیجان کے مابین تجارتی اور ثقافتی تعاون میں اضافے کی صلاحیت موجود کا اعتراف کیا.
جیہون بیراموف آزری وزیرِ خارجہ نے نگورنو کاراباخ پر آزربائیجان کے موقف کی حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ اداکیا، ان کا اعلامیہ تھا کہ آزربائیجان مسئلہ کشمیر پر تمام بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا.
پیپلز پارٹی کی حکومت کے آگے نئی رکاوٹ، ایک اور سیاسی کارڈ یا نئی تحریک کا اعلان؟
اسٹیل مل پر سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا ٹریڈ یونین رہنماؤں سے مشاورتی اجلاس ہوا جس میں اسٹیل مل کو فوری طور پر سندھ حکومت کے حوالے کرنے کے لیے سندھ اسمبلی میں قرارداد لانے کا اعلان کیا گیا۔ یہ فیصلہ ٹریڈ یونین رہنماؤں کی سفارش پر کیا گیا ہے.
اجلاس میں صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ ،سعید غنی، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی، سیکریٹری محکمہ محنت رشيد سولنگی، ڈپٹی کمشنر ملیر گھنور لغاری، مزدور رہنما کرامت علی، حبیب جنیدی اور اسٹیل مل ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی جس میں سندھ حکومت نے اسٹیل مل معاملے پر وفاق کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، مسودہ مشیر قانون مرتضیٰ وہاب تیار کر رہے ہیں۔
اس مو قع پر سید ناصر حسین شاہ کا کہان تھا کہ سندھ حکومت محنت کشوں کے حقوق کا ہرحال میں تحفظ کرے گی.
اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت ہے کہ اسٹیل مل کے محنت کشوں سے سفارشات لے کر ان پر عمل کیا جائے۔انکا کہنا تھا کہ محنت کش پر امن احتجاج کریں، ان کا حق ہے، لیکن ایسی کوئی چیز نہ کریں جس سے ان کی تحریک کو نقصان پہنچے کچھ سال قبل پی آئی اے کی تحریک میں میں لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں تھیں. صوبائی وزرا کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم خط لکھیں اور وفاقی حکومت فوراً اسٹیل مل کا کنٹرول سندھ حکومت کے حوالے کر دے۔ یہ طویل جدوجہد ہے جو ہم سب نے مل کر کرنی ہے.
اس موقع پر مزدور رہنما کرامت علی کا کہنا تھا کہ مستقل بنیادوں پر تحریک چلانی پڑے گی، وفاق اتنی آسانی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔سٹیل مل پر پبلک کو موبلائیز کرنے کی ضرورت ہے، احتجاج کرنے والے مزدوروں کے خلاف مقدمات درج کئے جا رہے ہیں، یہ ہمارے قوانین کی خلاف ورزی ہے اسے روکا جائے۔ ٹریڈ یونین رہنماکا کہنا تھا کہ یہاں پر بیٹھے تمام ٹریڈ یونین ساتھی متفق ہیں کہ سندھ حکومت کے ساتھ مل کر اس معاملے کو روکیں گے.
امن و امان کی صورتحال کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو طلب کر لیا گیا.
اسلام آباد (حمزہ رحمن) اسلام آباد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اجلاس میں سینیٹر جاوید عباسی نے اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی بد امنی اور جرائم کی جانب کمیٹی کی توجہ مبز ول کراوئی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا کام عوام کی حفاظت کرنا ہے جبکہ یہاں پولیس نے ایک نہتے طلب علم کو جان سے مار ڈالا اور اسکے والدین انصاف انتظار میں ہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین نے اسلام آباد کی امن و امان کی صورتحال کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا۔
سینیٹر میاں عتیق شیخ نے بھی کہا کہ اسامہ ستی قتل کیس کے حقائق چھپانے کی کوشش نہ کی جائے اور اس کی غیر جانبدارنہ انکوائری کرائی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے بعض عوامی ارداشتوں کا بھی جائزہ لیا اور اُس پر بھی مناسب کاروائی کی ہدایات دیں۔
اسلام آباد قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز جاوید عباسی، میاں عتیق شیخ کے علاوہ وزارت داخلہ، وزارت پیٹرولیم و ایف آئی اے اور دیگر محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کمیٹی کا ان کیمرہ اگلا اجلاس آئندہ ہفتے بلایا جائے گا۔ جس میں سیکرٹری پیٹرولیم، اوگرا، ایف آئی اے، سیکرٹری قانون و دیگر منسلک اداروں کو بریفنگ کیلئے بلایا جائے گا اور کمیٹی کی سفارشات کو وزیراعظم پاکستان کو مدعوو کر کے ان کے سامنے رکھا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری پیٹرولیم اور ایف آئی اے کو سراہا جنہوں نے انتھک محنت سے اس میگا کرپشن کو بے نقاب کیا۔
سینیٹر رحمان ملک نے بھارت داعیش اور بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی کے کلاوے جوڑدیئے
اسلام آباد (حمزہ رحمن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمیٹی چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بھارت خود داعش کی پرورش کر رہا ہے اور بھارت میں داعش کے باقاعدہ ٹریننگ کیمپ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری پر ہونے والے حملوں،بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی اور عالمی سطح پر بھارت کے خلاف ملنے والے شواہد عالمی برادری کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بلوچستان میں داعش ایک عناصر تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہیں اور وزارت داخلہ اس سلسلے میں کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرے اور اب تک جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں اُس پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مودی کے مظالم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ہم کشمیریوں کے حقوق کیلئے ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے۔
کرونا وباء سے تحفظ کیلئے ویکسین پر بات کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ اگر چہ ویکسین دنیا کیلئے ای اچھی اور خوش آئند پیش رفت ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی سرکار کے ہاتھوں اس سہولت سے بھی محروم رہے گے اور ہمیں خود مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کو یہ سہولت فراہم کرنی ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں زونبی کے نام سے ایک نشہ متعارف کرایا جا رہا ہے جو کہ انتہائی خطرنا ک نشہ ہے جس سے بچے عجیب و غریب حرکا ت شروع کر دیتے ہیں اور اپنا ذہنی توازن برقرار نہیں رکھ پاتے۔ انہوں نے کہا کہ اس گنونے جرم میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کی اشد ضرورت ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ اس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے۔









