Baaghi TV

Tag: pakistan

  • مسئلہ کشمیر: امریکہ کو ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے ثالثی کا کردار کیوں ادا کرنا چاہیئے؟

    مسئلہ کشمیر: امریکہ کو ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے ثالثی کا کردار کیوں ادا کرنا چاہیئے؟

    آپ کو یہ جاننے کیلئے یہودی ہونا ضروری نہیں کہ زمینی تنازعات کے باعث ملکوں کے درمیان خطرناک تشدد پیدا ہوسکتا ہے. حال ہی میں ایسا ہی مسئلہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان دیکھنے کو آیا ہے، جس سے دنیائی آبادی کا پانچواں حصہ خطرے میں ہے، اور اس مسئلہ کا حل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے.

    اسرائیل بننے سے ایک سال قبل کشمیر نام کی ریاست وجود میں آئی. 1947 (کشمیر بننے کے پہلے دن) سے ہی کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ دیکھنے کو مل رہا ہے. کچھ عرصہ پہلے 5 اگست کو بھارت نے کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کرکے اس کی خصوصی حیثیت چھین لی.

     ٹرمپ نے مودی سے کیا کہا، خبر آ گئی

    کشمیر ایسا نازک مسئلہ ہے جس کے حل کیلئے امریکہ، اقوام متحدہ، پاکستان اور بھارت نے ہمیشہ سے ہی بہت کوشش کی ہے. اگر اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ ہمیں کچھ سکھاتا ہے تو وہ یہ ہے کہ دو ملک کبھی بھی طاقت کے ذریعے کسی بھی مسئلے کا حل نہیں نکال سکتے.

    دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان مسئلہ کشمیر پر بڑھتی ہوئی کشیدگی باعث خوف ہے. گزشتہ ماہ بھی جب ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان سے ملے تھے تو انہوں نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی.

    اس مسئلہ پر امریکہ ایک انتہائی پچیدہ پوزیشن پر کھڑا ہے. ہم (امریکیوں) نے شروع سے ہی ہندوستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ تجارتی اور سلامتی اتحاد قائم کیے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان مسئلہ کشمیر حل کروائے.

    امریکہ کا پہلا قدم یہ ہونا چاہیئے کہ وہ بھارت کو اس بات پر راضی کرے کہ کشمیر سے فوری طور پر کرفیو ہٹائے، کیونکہ ایسا کرنے سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم ہوسکتی ہے. دیرینہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ہوگا اور مذاکرات کی گنجائش پیدا ہوگی۔

    ٹرمپ مودی کی تعریف نہیں ، تضحیک کر رہا ہے، آخر بھارتی میڈیا کو بھی پتہ چل ہی گیا

    مزاکرات کا سب سے زیادہ فائدہ ان 12 ملین کشمیریوں کو ہوگا جو اس وقت کشمیر میں‌ بھارتی دہشتگردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں. ان کشمیریوں کی حالت زار پر توجہ دی جانی چاہئے اور اقوام متحدہ جیسے متعدد بین الاقوامی ادارے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی غیر سرکاری تنظیموں کو بھی اس مسئلہ کے حل کیلئے کوشش کرنی چاہیئے.

    اسرائیل فلسطین کے مسئلہ کو بھولنا نہیں چاہیئے. کشمیر کا مسئلہ بھی اتنا ہی سنگین ہے، زمین کا یہ ٹکڑا بین الاقوامی تنظیموں، خاص طور پر اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہا ہے. پچھلے کچھ عرصہ میں امریکہ اسرائیل کی بہت زیادہ مدد کر رہا ہے، اور کوشش کر رہا ہے کہ خطہ میں امن قائم ہو. اگر یہ مسائل حل نہ ہوئے تو جنگ بھی ہوسکتی ہے.

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    کشمیر کی طرح اسرائیل اور فلسطین کی صورتحال بھی "حل” ہونے سے بہت دور ہے اور دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی کسی نقطہ نظر پر نہیں مل رہا. اس کے باوجود خطے میں امن مزاکرات سے ہی ممکن ہوگا. دونوں فریقوں کے درمیان یہ مسئلہ غیر ملکی مداخلت کی وجہ سے ہی حل ہوگا. اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو بات جنگ کی طرف بھی جاسکتی ہے.

    دونوں ملکوں کو مسئلہ کے حل کیلئے صدرٹرمپ کی پیشکش کو فوری طور پر قبول کرنا چاہئے. سب سے پہلے موجودہ بحران کو ختم کیا جائے، پھر اس کے بعد باقاعدہ طور پر مزاکرات کیے جائیں. امریکہ جس نے شروع سے ہی دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کے حل کیلئے کوشش کی ہے، اب بھی تاریخی کردار ادا کرنا چاہیئے. ایٹمی جنگ اس مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتی.

    نوٹ: یہ کالم جیک روسن نے امریکی ادارے "دی واشنگٹن ٹائمز” میں‌ لکھا ہے.

  • زراعت کے شعبے سے ٹیکس اکٹھا ہو نا چاہیے ،  فروغ نسیم

    زراعت کے شعبے سے ٹیکس اکٹھا ہو نا چاہیے ، فروغ نسیم

    وفاقی وزیر قاانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 80 فیصد لوگوں کا زریعہ معاش زراعت کے شعبے سے منسلک ہے اور وفاقی حکومت کو اس شعبے سے ٹیکس اکٹھا کرنا چاہیے ،
    وفاقی وزیر نے ارٹیکل 149 کو لیکر اپوزیشن کی طرف سے مچائے جانے والے شور شرابے کے متعلق کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہمیشہ کیلئے اس ملک کا خزانہ لوٹتے رہیں اور کوئی اس متعلق ان سے ایک سوال بھی نہ کرے ، ان کا مزید کہنا تھا کہ 20-25 فیصد ہونے والی کاروباری سرگرمیوں کا ٹیکس اکٹھا کیا جا رہا ہے ، اور ان 75-70 فیصد سرگرمیوں کا ٹیکس کون اکٹھا کرے گا جو ہمارے دیہات میں ہوتیں ہیں ؟

  • جنوبی افریقہ نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا

    جنوبی افریقہ نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا

    جنوبی افریقہ نے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میں بھارت کو 9 وکٹ کے بڑے مارجن سے شکست دے دی ، اور تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل بھارتی ٹیم کا غرور خاک میں ملا دیا ،
    بھارت کے شہر بنگلور میں دونوں ٹیمیں آمنے سامنے آئیں ، بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ، بھارت کے اوپنرز نے اچھا سٹارٹ فراہم کیا اس کے بعد وکٹیں گرنا شروع ہوئیں اور کوئی کھلاڑی جم کر کھیل نہ سکا ، شکھر دھون نے 36 اور رشب پانٹ نے 19 رنز بنائے ، بھارتی ٹیم مقررہ 20 اوورز 9 وکٹوں کے نقصان پر 134 رنز بنا سکی، جنوبی افریقہ کی طرف سے ربادا نے 3 ، ہینڈرکس نے 2 اور فورٹو ان نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ،
    جواب میں جنوبی افریقہ نے ہدف ایک وکٹ کے نقصان پر آخری اوور میں پورا کر لیا ، جنوبی افیقہ کے کپتان کوئنٹن ڈی کاک نے 52 گیندوں پر 79 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی ، ریزا ہینڈرکس اور تیمبا بوما نے بھی 27 اور 28 ارنز بنا کر کپتان کا خوب ساتھ دیا ، بھارتی بالرز نے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا مگر انہیں وکٹیں نہ مل سکیں اور یوں جنوبی افریقہ نے ہدف سترھویں اوور میں با آسانی پورا کر لیا ، شاندار باولنگ کرنے پر بیورن ہینڈرکس کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا اور ٹی ٹوئینٹی سیریز ایک ایک سے برابر ہو گئی،

  • ٹرائنگولر سیریز ، زمبابوے نے افغانستان کو سات وکٹوں سے شکست دے دی

    ٹرائنگولر سیریز ، زمبابوے نے افغانستان کو سات وکٹوں سے شکست دے دی

    بنگلہ دیش میں کھیلی جانے والی ٹرائنگولر سیریز کے پانچویں میچ میں زمبابوے نے افغانستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی ، افغانستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 155 رنز بنائے ، جن میں رحمان اللہ کے 61 اور حضرت اللہ زازئی کے 31 رنز نمایاں تھے ، ان کے علاوہ کوئی بلے باز نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکا ، زمبابوے کی طرف سے کرسٹوفر موفو نے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ،
    جواب میں زمبابوے نے 155 رنز کا ہدف 3 وکٹوں کے نقصان پر آخری اوور میں پورا کر لیا ، زمبابوے کے کپتان اور اوپنر بلے باز مساکڈزا نے 42 گیندوں پر 71 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، چاکابوا نے ان کا پورا ساتھ دیتے ہوئے 39 رنز اسکور کیے ، شین ولیمز نے 21 رنز کی اننگز کھیلی، افغانستان کے کپتان اور شاندار لیگ اسپنر راشد خان سمیت کوئی افغانی باؤلر متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکا، زمبابوے کے کپتان مساکڈزا کو شاندار اننگز کھیلنے پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ بھی دیا گیا ،

  • بازار بنو قینقاع سے سری نگر تک ، تحریر فردوس جمال

    بازار بنو قینقاع سے سری نگر تک ، تحریر فردوس جمال

    عہد نبوی مبارک ہے،مدینہ منورہ میں بنو قینقاع کا بازار سج چکا ہے،بازار میں ایک یہودی سنار کی دکان ہے،یہودی تاجر کی دکان میں اس کے چند یہودی دوست گپیں ہانک رہے ہیں،اسی دوران ایک مسلمان عورت دکان پر آتی ہے،یہودی تاجر کی شیطانیت جاگ جاتی ہے وہ مسلمان عورت سے چہرے کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کرتا ہے مسلمان عورت سختی سے منع کرتی ہے،نظریں بچا کر مکار یہودی مسلمان بہن کا آنچل کسی کیل کے ساتھ باندھ دیتا ہے جب وہ جانے کے لئے اٹھتی ہے تو بے پردہ ہو جاتی ہے وہ چیخنے چلانے لگتی ہیں دکان میں بیٹھے یہودیوں کے قہقہے پورے بازار میں سنائی دیتے ہیں دکان کے سامنے سے گزرتا ایک راہ گیر مسلمان یہ منظر دیکھ کر دکان کے اندر چلا آتا ہے اس کی ایمانی غیرت جاگ اٹھتی ہے اور وہ یہودی دکاندار کو قتل کر دیتا ہے،یہودی مل کر اس مسلمان پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اسے شہید کر دیتے ہیں،یہ خبر رسول خدا تک پہنچتی ہے آپ اپنے جاں نثاروں کے ساتھ یہودی بستی کا محاصرہ کرتے ہیں عہد شکنی کے باعث ان سب کو مدینہ منورہ سے نکال باہر کرتے ہیں،انہیں جلاوطن کرتے ہیں.

    ایک مسلمان شخص ایک مسلمان بہن کے لئے جان تک سے گزر جاتا ہے جسے وہ جانتا بھی نہیں ہے کہ کون تھی،رسول خدا نے ان کی تربیت ہی ایسی کی تھی کہ مظلوم کی آواز پر لبیک کہنا ہے،ایک مسلمان بہن کی پکار پر رسول پاک
    خود اس بستی کا محاصرہ کرتے ہیں.

    90 ہجری ہے،حجاج بن یوسف فوجی کمانڈروں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ میں ہیں،خصوصی ایلچی یہ پیغام لیکر داخل ہوتا ہے کہ شاہ جزیرہ یاقوت نے جو تحفے تحائف اور مسلمان عورتیں بھیجا تھا انہیں دیبل کے قریب بحری قزاقوں نے قیدی بنایا ہے ان قیدی عورتوں میں سے ایک نے آپ کو پکارا ہے کہ اے حجاج ہماری مدد کرو،ہمیں اس جہنم سے چھڑاؤ،حجاج بن یوسف اپنی نشست سے اٹھتے ہیں ان کی آنکھوں میں خون اترتا ہے،ان کا چہرہ غصے سے لال ہوتا ہے،اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو بلاتے ہیں ایک مسلمان بہن کی پکار پر بیس ہزار فوجیوں کا لشکر دے کر محمد بن قاسم کو دیبل کی طرف روانہ کرتے ہیں،اس ایک مسلمان بہن کی پکار راجہ داہر کی بادشاہت و تخت کا خاتمہ اور سندھ کی فتح کا سبب بن جاتی ہے.

    223 ہجری ہے،عباسی خلیفہ معتصم باللہ اپنے شاہی تخت پر فروکش ہیں،خدام چاک و چوبند کھڑے ہیں،نبیذ کا دور چل رہا ہے،شاہی ایلچی نے آ کر خبر دی کہ عموریہ میں ایک مسلمان بہن رومیوں کی قید میں ہے وہ چیخ چیخ کر مسلمانوں کے خلیفہ کو پکار رہی ہے وامعتصماه !
    معتصم باللہ کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے نبیذ کے گلاس کو پھینک دیتے ہیں لبیک اے میری بہن کہتے ہوئے وہ تخت سے اٹھ جاتے ہیں،فوج کے سپہ سالار کو بلاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ رومیوں کا سب سے مضبوط شہر کون سا ہے کہا جاتا ہے عموریہ نا قابل تسخیر شہر ہے،معتصم باللہ مسلمانوں کا لشکر لیکر عموریہ کی طرف بڑھتے ہیں پچپن دن کے طویل اور سخت معاصرے کے بعد شہر کو فتح کرتے ہیں،اس مسلمان بہن کو رومیوں کی قید سے نکالتے ہیں،ایک مسلمان بہن کی پکار مضبوط قلعوں کو شکست دینے اور شہر کا شہر فتح کرنے کا سبب بن جاتی ہے.

    یہ ہمارا عہد رفتہ تھا کہ کیا بنو قینقاع بازار کا فرد تنہا کیا دیبل کی اینٹ سے اینٹ بجاتا جواں اور کیا عباسی بادشاہ ایک مسلمان بہن کی پکار پر سب نے لبیک کہا.

    مگر

    آج کشمیر کی کتنی مظلوم بہنیں اور کتنی بیٹیاں مدد کے لیے پکار رہی ہیں،اس آس میں کہ ان کے دینی بھائی مسلم دنیا کے غیرت مند حکمران ان کی آواز پر لبیک کہیں گے،لیکن ان کی پکار قید خانوں زندانوں اور گھر کی دیواروں سے ٹکرا کر دم توڑ جاتی ہے انہیں کوئی جواب نہیں ملتا ہے کہ لبیک میری بہنا!

    ہندو آرمی چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرکے ان کے گھروں میں داخل ہوتی ہے.

    وہ چاند چہرے جو کبھی آسمان کے چاند نے بھی نہیں دیکھے تھے ان چہروں پر ہندو فوجیوں کی ناپاک اور حیوانیت بھری نظریں پڑتی ہیں.

    عصمتیں پامال اور آنچل لٹ رہے ہیں،گھروں میں کھانا نہ پینا،بچوں کے لئے دوا نہ علاج،چھ ہفتوں سے کشمیر ایک جیل خانہ بن چکا ہے،میڈیا اور امدادی تنظیموں کے لئے رسائی بند ہے،کرفیو ہے اور موت کا سناٹا ہے،مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے پروگرام چل رہے ہیں،شیوسینا اور آر ایس ایس کے غنڈے کشمیر پہنچ چکے ہیں.

    کیا ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں ایک بھی محمد بن قاسم نہیں کیا ساٹھ سے زائد مسلمان بادشاہوں میں ایک بھی معتصم باللہ نہیں؟ ایک بھی حجاج بن یوسف نہیں؟

    کشمیری قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے،ہماری منتظر ہے،لیکن یہ انتظار لمبا نہیں ہوگا.یہ قانون قدرت ہے کہ اگر ہم اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآں نہ ہوئے تو اللہ پاک ہماری جگہ کسی اور قوم کو یہ کام سونپ دیں گے.
    تحریر فردوس جمال

  • شیل اور ایگزون موبل پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کرنے کو تیار

    شیل اور ایگزون موبل پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کرنے کو تیار

    وفاقی وزیر برئے پاور اینڈ پیٹرولیم عمر ایوب خان سے آئل اینڈ گیس کی انٹرنیشنل کمپنیوں کے ایک وفد نے ملاقات کی اور پاکستان میں نئے ایل این جی ٹرمینل بنانے اور ملک میں توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ایل این جی فراہم کرنے کا معاہدہ طے پا گیا،
    ملک میں 5 نئے ایل این جی ٹرمینلز بنائے جائیں گے ، جن کو ایل این جی فراہم کرنے کی زمہ داری ایگزون موبل اور شیل کمپنیوں کی ہو گی ، اس سے پاکستان میں گیس کے بحران سے نمٹنے میں بڑی مدد ملے گی اور پاکستان اپنے انڈسٹریل سیکٹر کو بلا تعطل گیس فراہم کرنے میں کامیاب ہو گا ،
    اس وقت پاکستان میں صرف دو ایل این جی ٹرمینلز ہیں جو کہ ہورٹ قاسم پر واقع ہیں، ان کی کل گنجائش 750 ملین کیوبک فٹ ہے جس میں سے حکومت صرف 600 ملین کیوبک فٹ یومیہ کا استعمال کر پا رہی ہے اور 150 ملین کیوبک فٹ کی گنجائش کے استعمال نہ ہونے سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے ، اور نئے ایل این جی ٹرمینلز کے بن جانے سے اس بڑے نقصان سے بھی بچا جا سکے گا ،

  • میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    کشمیر میں آج کرفیو لگے چھیالیس روز ہو چکے ظلم و بربریت کی انتہا ہو گئی ۔وہ جس وادی کو ہم جنت نظیر کہتے تھے- وہاں خون کی ندیاں بہتے آج کئی برس بیت گئے۔ہمارے مظلوم کشمیری بھائی اپنی آزادی کی جنگ اکیلے لڑ رہے ہیں۔ حق خوارادیت کے لیے جان دے رہے ہیں۔ہماری مائیں روز اپنے بیٹوں کو قربان کر رہی ہیں۔
    بھارت نے ظلم و ستم کی انتہا کردی ۔بھوک پیاس سے بلکتے کشمیری مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔

    پچھلے 72 سال سے مسلسل آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی آزادی کا وقت آ ہی گیا۔
    وہ مسلہ کشمیر جو اقوام متحدہ کے ٹیبل کے کسی دراز میں پڑا تھا ۔
    وہ جس کو قرار داد کے طور پر فائل سے نکال کے چائے کے ٹیبل پے رکھ کر ایک دفعہ اسپیکر میں پڑھ لیا گیا تھا۔
    اس مسلے کو پچھلے چھیالیس روز سے بھارت ہوا دے رہا ہے۔ اب اگر ہوا دے ہی دی گئی تو اب یہ طوفان تھمنے والا نہیں ۔

    اب تو پوری قوم بلکہ پوری دنیا سے اٹھنے والی ایک ہی آواز ہے کہ

    ایک نعرہ ایک آواز۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔
    کشمیر سے پنجاب تک ۔۔۔
    سب بنے گا پاکستان۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔

    اب ہم کیوں انتظار کریں کسی اور مسیحا کا؟؟؟
    کیوں انتظار کریں بڑی عالمی برادری کا؟؟؟

    ہم کمزور نہیں ۔۔۔۔
    اور جن کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد و نصرت ساتھ ہو ۔۔۔
    وُہ کمزور ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ہمیں بھروسہ ہے اپنی طاقت ور فوج پے ۔ہمیں بھروسہ ہے اپنے مجاہدوں پر۔۔۔
    وہ فوج جس نے بڑی عالمی طاقتوں کو شکست دی۔
    جو نا کسی سے ڈرنے والے نا کسی کے آگے جھکنے والے۔
    جن کی اڑان کو آج تک کوئی اور طاقت شکست نا دے پائی۔

    راستے کٹھن بھی ہوں تو سینہ تان کے چلتے ہیں

    ہماری عادت نہیں مشکل راستوں سے منہ موڑنا

    پوری دنیا سن لے کہ ہم ایسی بہادر نڈر فوج کے مالک ہیں جو پہلے کئی طوفانوں کا رخ موڑ چکی ہے۔
    اب بھارت کی باری ہے ۔بھارت سن لے کے ہم موت سے نہیں ڈرتے ۔۔۔پاک فوج کے جوان ہر پل جام شہادت کے لیے تیار ہیں۔ہمارے مجاہد تیار ہیں اب مرنا ہے یا مار دینا ہے۔

    اب ہمارے کشمیری مسلمان اکیلے نہیں اُن کے ساتھ پاکستان کی مصلح افواج کھڑی ہے۔
    پورا پاکستان کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے۔
    اب اگر دنیا کی بڑی طاقتیں انڈیا کو نہیں روک سکتیں ۔تو ہم خود اب اس طوفان کا رُخ موڑیں گے۔
    اب وہ ہی طریقہ اپنائیں گے جس کی اجازت ہمارا مذہب ہمیں دیتا ہے
    جس کی اجازت ہمارا دین اسلام دیتا ہے۔
    جس کا حکم ہماری دو جہاں کی مقدس کتاب قرآن مجید میں ہے ۔
    ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ مظلوموں کی مددّ کرو۔۔۔

    اب ہمیں کسی اور کے حکم کا انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔
    اب ہم جائیں گے کشمیر میں ۔۔۔۔جہاں ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں اپنے بیٹوں کے لاشے اُٹھا رہی ہیں۔خون سے تر وادی ہمیں بولا رہی ہے کہ کوئی تو آئے ہمیں ان درندوں سے نجات دلائے۔۔

    اب ہماری حکومت کو چاہیے کہ اپنی فوج اور مجاہدوں کو اِک بار کشمیر کے لیے لڑنے کی اجازت دے۔
    پھر ہمیں کسی اور طاقت کی ضرورت نہیں کشمیر ان شاء اللہ آزاد ہو گا۔
    یہ خواب جلد پورا ہو گا
    ہمارے خواب کی تعبیر ہماری پاک فوج کی صورت میں آئے گی۔

    اور پھر کشمیر بنے گا پاکستان۔۔
    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کا زمہ دار کون ؟  تحریر فرحان شبیر

    پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کا زمہ دار کون ؟ تحریر فرحان شبیر

    اقلیتوں کے ساتھ افسوسناک واقعات کے بعد نیپال سے دانشوڑوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ ماضی کے مسلم حکمرانوں کو ایک کوسنے اور عربی تہذیب کو لعن طعن زوروں سے جاری ہے ۔ اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے واقعات کو اسلام سے جوڑ کر پوری پاکستانی قوم کو شرمندہ کیا جارہا ہے ۔ ابدالی ، محمد بن قاسم اور غزنوی کی اولاد ہونے کے طعنے دئیے جارہے ہیں ۔ ہندوستان میں تو یہ سلسلہ ہندو توا کے پرچارکوں کی طرف سے صدیوں سے جاری ہے ۔ سلطان ٹیپو کے خلاف مراٹھوں کی لڑائی سے لیکر تحریک پاکستان اور پاکستان بننے کے بعد سے لیکر اب تک ۔ ہندو توا کے اسیر کٹر ہندو ہوں یا بھارت کے سیکولر سب ہی یک زبان ہو کر برصغیر پر حکمران رہنے والوں کو عرب ، افغان حملہ آور لٹیرے گردانتے ہیں جنہوں نے یہاں کے باسیوں پر ایک غیر ملکی تہذیب ایک غیر ملکی زبان اور غیر ملکی مذہب نافذ کیا ۔

    ہمارے لبرل سیکولر احباب کے نزدیک باہر سے آنے والے مسلم حکمران تو یہاں کے لوگوں کے بادشاہ بن بیٹھے لیکن جو راجے مہاراجے جو یہاں راجے بنے بیٹھے تھے وہ شاید کسی انتخاب میں الیکشن جیت کر آئے تھےاور یہاں پر کوئی بڑا ہی برابری اور احترام آدمیت پر مبنی نظام تھا جسے مسلمانوں نے عربی تہذیب لاد کر الٹ پلٹ کر دیا ۔ ارے بھائی وہ بھی تو طاقت کے زور پر راجے مہاراجے بنے بیٹھے تھے کیا انکے دور میں راجہ بھوج اور گنگو تیلی ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھاتے تھے ۔ یہاں پر تو عوام ہندو برہمنوں کے خود ساختہ Cast سسٹم کا شکار تھے ۔ انسان انسانیت کے مقام سے گر کر گائے ماتا کا پیشاب پیتا تھا اور آج بھی پیتا ہے ۔

    میں تو شکر ادا کرتا ہوں کہ اسلام یہاں آیا اور آج خدا نے کسی گائے کا موتر پینے والے گھر میں پیدا نہیں کیا ۔ یہ کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ ایک حقیقت کا بیان ہے ۔ یہاں بیوہ کو مرنے والے کے ساتھ جلا کر مار دیا جاتا تھا ۔ یہاں شودر کے گھر پیدا ہونے والا ساری زندگی ناپاک ، ملیچھ اور کمتر سمجھا جاتا تھا ۔ اسلام نے یہاں کے لوگوں کو ایک متبادل فراہم کیا ۔ کہ جو اس کمیونٹی میں شامل ہوگیا وہ ابن آدم ہونے کی جہت سے واجب التکریم ہے اور سب ابن آدم ایک برابر ہیں ۔ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ۔ دانشوڑ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے یہاں اپنا مذہب ٹھونسا جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ میرے دین نے یہاں کے اچھوتوں کو کاسٹ سسٹم کے گرداب سے نکال کر ایک ہی جھٹکے میں سب کے برابر کھڑا کردیا ۔

    یاروں سے التماس ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ ہمدردی کی آڑ میں پورے پاکستانیوں اور اسلام پر شدت پسندی کا لیبل نہ لگائیں ۔ اس خطے کے اندر پاکستان میں موجود ہندوں کے مندر ، سکھوں کے گردوارے ، عیسائیوں کے چرچ ، بدھا کے مجسمے اور دیگر مذہبی مقامات کوئی آج سے نہیں سینکڑوں ہزاروں سال سے ہیں ۔ بلوچستان میں دور پہاڑوں میں واقع تین ہزار سال پہلے کا ہنگلاج دیوی کا مندر ہو یا چکوال میں کٹاس راج ، سکھر کا سادھو بیلہ ہو یا کراچی کا شیو نرائن صدیوں پرانے ہیں ۔ سکھوں کے گردوارے اور عیسائیوں کے چرچ پانچ سو سال سے تین سو سالوں تک کی ہسٹری رکھتے ہیں ۔ مسلم حکمرانوں کو تو چھوڑئیے جنہوں نے یاروں کے بقول یہاں لوٹ مار کی لیکن خود پاکستان کی ستر سال کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ہاں آج تک اقلیتوں کے مذہبی مقامات کو کوئی بڑے پیمانے پر ، ریاستی سطح پر طویل عرصے تک نہ کوئی نقصان پہنچایا گیا نہ ایسی سوچ کی کبھی کسی نے پذیرائی کی بلکہ ہمیشہ رد کیا گیا ہے

    بحیثیت مجموعی پاکستانی قوم کے ہاتھوں اقلیتوں یا انکی عبادت گاہوں کو بحیثیت مجموعی نقصان نہیں پہنچا ۔ ننکانہ صاحب میں گرو نانک کی جنم بھومی چلے جائیں یا بلوچستان کے پہاڑوں میں ہنگلاج دیوی کے مندر کے ساتھ مقیم دو ڈھائی سو لوگوں پر مشتمل ہندو اکثریتی ٹاون کے باسیوں کے پاس بیٹھیں خدا کا شکر ہے کہ کہیں بھی اقلیتوں کے سر پر ہر وقت کے خوف کا عالم کبھی طاری نہیں ہوا اور نہ اب ہے ۔ لاہور شہر میں بیسیوں اداروں میں کرسچین اور کراچی میں صدر اور آس پاس کی دفاتر میں کئی ہندو برادری کے افراد ملسمانوں کے ساتھ ہی کام کرتے ہیں کھاتے پیتے بھی ہیں ۔ میرے دوست کے دفتر میں پیون ہندو لڑکا مکیش تھا ہم سب اسکے ہاتھ کا لگایا ہوا کھانا اور بنائی ہوئی چھائے مزے سے کھاتے پیتے تھے اور وہ بھی ساتھ ٹیبل پر ہی بیٹھا ہوتا تھا ۔ ایسی کئی مثالیں آپ سب کے سامنے بھی ہونگی ۔

    بھارت کی میجورٹی اگر اسی پر یقین رکھتی ہے کہ مسلمان دوسرے مذاہب سے نفرت کرتے ہیں تو اس میں حیرت نہیں انکی معاشرت اور سیاست کا تقاضہ ہی یہی ہے لیکن یہ ہمارے نیپال کے دانشوڑوں کی سمجھ داری سمجھ نہیں آتی ۔ مثلا گھوٹکی میں ہندو برادری کے مندر پر توڑ پھوڑ کے بعد جس طرح پورے علاقے نے پہرہ دیا اور اقلیتوں کو تسلی دی اسے ایک ایسے عمل سے بھی تشبیہ دی جیسے کوئی پہلی دفعہ پاکستان میں کسی نے گلے لگایا ہے اور اس سے پہلے پاکستانی مندروں کے باہر سوٹے اور ڈنڈے لیکر کھڑے ہوتے تھے کہ سب کو زبردستی کلمہ پڑھواکر چھوڑیں گے ۔ پھر کبھی یہ بھی سوچنے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ کچھ واقعات کی ٹائمنگ بڑی عجیب ہوتی ہے ۔

    کشمیر میں مسلم بچیوں کے ریپ کے واقعات جب شروع ہوئے پاکستان میں قصور میں بچوں کی ویڈیو اسکینڈل کا معاملہ آگیا ۔ ادھر پاکستان دنیا بھر میں اقلیتوں کے ساتھ بھارتی مظالم کا رونا رو رہا ہے ادھر خود پاکستان میں گھوٹکی کا واقعہ ہوجاتا ہے ۔ قصور میں پھر بچوں کے ریپ کی خبریں اور لاڑکانہ سے ہندو لڑکی کا پراسرار قتل سارے دنیا کے میڈیا کی اٹینشن لے جاتا ہے ۔ اب جہاں آپکا وزیر کشمیر سمیت پورے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہندو توا کے علمبردار نریندر مودی اور امیت کا ظلم گنوائے گا وہیں وہیں مودی پاکستان سے آنے والی ان خبروں کو بنیاد بنا کر پاکستان کا مقدمہ کمزور کریگا ۔

    ہمیں یہ تو بتایا جاتا ہے کہ مسلم حکمرانوں نے برصغیر کو لوٹا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ مسلم حکمران یہ لوٹا ہے ہوا مال لیکر کہاں گئے ۔ مکہ ؟ مدینہ ؟ ایران ؟ یا بابر کے آبائی وطن فرغانہ ؟ تاریخ تو یہی بتاتی ہے مسلم حکمرانوں کی اکثریت یہیں کی ہورہی اور یہاں کا پیسہ بھی یہیں رہا اور یہاں کے انفراسکٹچر پر لگا ۔ لیکن جو حال نیشن شیمنگ کے پراپیگنڈہ نے جاپانیوں کا اور جرمنز کا کیا وہی حال اس نیشن شیمنگ نے پوری مسلم ورلڈ کا اور برصغیر کے مسلمانوں کا بھی کیا اور اس میں غیروں کے ساتھ ساتھ ہمارے سو کالڈ لبرل سیکولر اور ماضی کے کمیونزم و سوشلزم کے پرچار دانشوڑوں کا بھی بڑا گہرا کردار ہے ۔ جیسے کسی انسان کو مایوس کرنا ہو تو اسے Body shaming میں ڈال دو ویسے ہی ان مہربانوں نے ہماری پوری قوم کو ہی Nation shaming میں ڈالا ہوا ہے

    یار لوگ یہ تو بتاتے ہیں کہ مسلم حکمرانوں نے برصغیر کو لوٹا مگر یہ نہیں بتاتا کہ پھر اس لوٹ کھسوٹ میں خود ہندو کیسے شامل ہوگئے ۔ مثلا بابر سے اورنگ زیب عالمگیر تک کے 6 Great Mughals حکمرانوں میں تیسرے نمبر والے جس اکبر اعظم کے دور میں برصغیر پھلا پھولا ، اسی اکبر اعظم کے 9 رتنوں( یہ اکبر کے خاص مشیر تھے ۔ Nine jewels ) میں سے 4 ہندو تھے ۔ راجہ مان اسکا آرمی چیف ، راجہ ٹوڈرمل فنانس کا منتظم تھا جبکہ تان سین اور ۔۔۔ بھی ہندو تھے ۔ یعنی لوٹنے والے مسلمان اکبر کا چیف آف آرمی بھی ہندو اور معیشت کا انتظام یعنی عوام سے لگان یا ٹیکس لینے کا منتظم بھی ہندو ۔ دانشوڑوں سے سوال ہے کہ یہ کیسی لوٹ مار تھی بھائی ؟

    "مسلمان” بابر آیا تو ” ہندو "رانا سانگا ساتھ ملکر لڑا "مسلمان” ابراہیم لودھی کے خلاف ۔ مسلمان کو ہرا کر ہندو کو ساتھ ملا کر مسلمان بابر نے یہاں کے باسیوں پر حکومت کی ۔ بابر کے بعد ہمایوں ، ہمایوں کے بعد اکبر ، اکبر کے بعد جہانگیر، جہانگیر کے بعد شاہ جہاں اور شاہ جہاں کے بعد اورنگ زیب عالمگیر نے تو 49 سال حکومت کی ۔ 49 سال کوئی کم عرصہ نہیں ہوتا ، یعنی آدھی صدی ۔ اورنگ زیب عالمگیر کی اسلام پسندانہ طبیعت تو ہمارے دانشوڑوں کو بہت چبھتی ہے لیکن دانشوڑ یہ نہیں بتاتے کہ اورنگ زیب عالمگیر کا آرمی چیف بھی ایک ہندو ہی تھا ۔ راجہ جے سنگھ ۔ تو یہ کیسی لوٹ مار تھی بھائی ؟
    مغل سلسلہ کے بانی ظہیر الدین بابر اگر فرغانہ سے اٹھ کر دہلی میں آبسا تو اسی کے پوتے جلال الدین اکبر نے اس برصغیر کو دنیا کی تیسری بڑی دفاعی اور معاشی طاقت بنا دیا ۔ اسی اکبر کے بیٹے جہانگیر اور پوتے شاہ جہاں نے برصغیر کو آرٹ اور کلچر دیا ۔ دنیا کو سول اینجینئرنگ اور آرکیٹیکٹ کا ایک شاہکار ، ایک عجوبہ ” تاج محل ” دیا ۔ ہمارے مختلف شہروں اور پہاڑوں میں بنے قلعہ روہتاس ، لاہور کا قلعہ ، قلعہ بالا حصار ، سندھ کے بے شمار قلعے باہر سے آنے والوں کی اولادوں نے اسی سرزمین پر بنائے اور یہ آج بھی یہیں ہیں ۔

    ایک اور شخصیت محمود غزنوی کی ہے کہ جی غزنی سے آیا سومنات کا مندر لوٹا ۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ محمود غزنوی ، غزنی سے بامیان ، بامیان سے پنجاب میں ملتان اور پھر یہاں سے سومنات گیا ۔ یہ پورا راستہ پانچ ہزار کلومیٹر بنتا ہے ۔ اس میں دو ہزار کلومیٹر تو ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت پر مشتمل علاقہ تھا ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ محمود نے پانچ ہزار کلومیٹر میں آنے والے بامیان میں بدھا کے مجسموں کو بھی نہیں چھیڑا بیچ میں دو ہزار کلومیٹر کی ہندو بیلٹ پر کسی اور مندر کو نہیں توڑا سوائے سومنات کے ۔ اگر محمود کا مقصد ہندو یا دیگر مذاہب کو نیچا دکھانا تھا تو بامیان میں بدھا کے مجسمے بھی نہیں بچتے اور بیچ کے راستے میں آنے والے مندر ۔ سومنات کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا جیسا دیگر راجوں مہاراجوں کے درمیان لگان اور ٹیکس وصولی کا تھا ۔ مثلا اورنگ زیب کے دور میں ایک مسلمان راجہ عبدالحسن تانہ شاہ نے لگان کا پیسہ دینے میں تین سال تک ٹال مول کی ۔ اورنگزیب نے بھائی کو بھیجا ۔ پتہ چلا فصلیں تو بہت ہوئیں پر تانہ شاہ بہانے کرتا آرہا تھا اور لوگوں سے ٹیکس لینے کے باوجود مرکز کو بھیجنے کے بجائے ایک مسجد میں چھپائے بیٹھا تھا ۔ اورنگ زیب کے بھائی نے اس مسجد کو منہدم کرکے چھپا ہو پیسہ نکالا اور مرکز کو دیا ۔

    اس کوئی دو رائے نہیں کہ جس طرح گھوٹکی کے واقعے کے بعد اہل علاقہ کا مندر کی حفاظت کے لئیے جمع ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم پاکستانی اور مسلمان بحیثیت مجموعی اقلیتوں کے ساتھ غلط سلوک رکھنے کو اچھا نہیں سمجھتے ، اور ہمارے ہاں کی میجورٹی کسی اقلیتی برادری کے فرد کو مسلمان بنانے کے لئیے شمشیر بکف نہیں پھرتی ( پہلے میجورٹی خود تو ڈھنگ سے مسلمان ہوجائے ) بالکل اسی طرح اس طرح کے افسوسناک واقعات کا رو نما ہونا یہ ثابت کرتا ہے چاہے تعداد میں کم کیوں نہ ہوں ایسے لوگ موجود ہیں جو اقلیتوں کے ساتھ کسی بھی بات کا بتنگڑ بنا کر اقلیتوں کو نقصان پہنچانے اور پوری قوم کا چہرہ داغدار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔

    اس کا کوئی انکار نہیں کہ دین کے ضمن میں متشدد نظریات رکھنے والے بھی اسی معاشرے میں پائے جاتے ہیں اور یہ ہمارے علما اور پڑھے لکھے طبقے کا کام ہے وہ اپنے اپنے حلقوں میں قرآن کے اس حکم کی شد و مد سے ترویج کریں کہ دین کے معاملے میں کسی بھی جبر اور اکراہ سے کا لینا احکام خداوندی کا انکار ہے نہ کہ ثواب کا ۔ اور پھر قرآن کریم میں تو اقلیتوں کے مندر ، گرجے، صعوموں اور عبادت گاہوں کی حفاظت کے لئیے جان تک دے دینے کے واضح احکامات ہیں ۔ مومنین کا فریضہ ہے کہ کسی بھی خبر کی پہلے تصدیق کریں پھر اس پر یقین کریں جو تصدیق کے بغیر یقین کر لے وہ مومن نہیں ہے خدا کی نظر میں ۔ مولوی صاحبان سے التماس ہے کہ اس طرح کسی کو کلمہ پڑھوانا دین کی خدمت نہیں دشمنی ہے اور دانشوڑوں سے التماس ہے تاریخ کا مطالعہ بالغ نظری سے کریں نہ کہ دوسری کی لگائی ہوئی عینکیں لگا کر ۔ کیوں کہ پھر وہی بات آجاتی ہے کہ
    بیاں میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے
    تیرے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہئیے

  • ” لڑنا نہیں اس کے ساتھ ، بہت مارتا ہے "

    ” لڑنا نہیں اس کے ساتھ ، بہت مارتا ہے "

    دبئی میں ہونے والی باکسنگ فائٹ میں فلپائنی خریف کو 62 سیکنڈ میں زیر کرنے والے پاکستانی باکسر کی سپورٹ میں شعیب اختر میدان میں آ گئے ، شعیب اختر نے محمد وسیم کیساتھ ملاقات کی اور سوشل میڈیا پر ان کیساتھ ویڈیو پیغام جاری کیا اورکہا کہ "آج پوراہیرو میرے ساتھ بیٹھا ہوا ہے، لڑنا نہیں اس کیساتھ بہت مارتا ہے، ابھی یہ تھکا نہیں یہ بہت سے مزید ٹائٹل جیتنے والا ہے ، انشااللہ”،

  • سرلنکن کرکٹ بورڈ دورہ پاکستان کیلئے پرامید

    سرلنکن کرکٹ بورڈ دورہ پاکستان کیلئے پرامید

    سری لنکن کرکٹ بورڈ نے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے دورہ پاکستان وزارت دفاع سری لنکا کی اجازت سے مشروط کر دیا، سیکرٹری سری لنکن کرکٹ بورڈ موہن ڈی سلوا کا کہنا ہے کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ دورہ پاکستان کیلئے پرامید ہے، ان کا مزید کہنا ہے کہ اگست میں جب ہم نے سیکورٹی انتطامات کا جائزہ لینے کی غرض سےدورہ پاکستان کیا تو ہم پاکستان کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات سے مطمئن تھے ، بعد میں حساس اداروں کی معلومات کے باعث ہمیں ڈیفنس منسٹری کی اجازت کا نتظار کرنا پڑ رہا ہے،