انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے حالیہ مکمل ہونے والی ایشز ٹسیٹ سیریز کے بعد نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کر دی، ٹیسٹ ٹیم رینکنگ میں بپہلے نمبر بھارت براجمان ہے ، جبکہ دوسرے ، تیسرے اور چوتھے نمبر پر بالترتیب نیوزی لینڈ، ساؤتھ افریقہ، اور انگلینڈ کا قبضہ ہے ، پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا ساتواں نمبر ہے ،
اگر ٹیسٹ کے بلے بازوں کی بات کی جائے تو اس میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ، اسٹیو اسمتھ بدستور پہلے نمبر پر براجمان ہیں جبکے ٹاپ ٹین بلے بازوں میں کوئی پاکستانی شامل نہیں ، اور اگر ٹیسٹ باولرز کی بات کی جائے تو آسٹریلوی فاسٹ بولر پیٹ کمنز پہلے نمبر پر براجمان ہیں جبکہ پاکستانی فاسٹ بولر محمد عباس ٹاپ ٹین میں واپس آگئے ہیں
Tag: pakistan

آئی سی سی نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کر دی، محمد عباس کی ترقی

سچن ٹنڈولکر نےاپنا پہلا میچ پاکستان کی جانب سے کھیلا تھا، خصوصی رپورٹ
بھارت کے سابق کرکٹر اور مایہ ناز بلےباز سچن ٹنڈولکر نے اپنا پہلا میچ پاکستان کی جانب سے کھیلا تھا. یہ بات 1987 کی ہے جب پاکستان کرکٹ ٹیم بھارت کے دورہ پر آئی تھی. عمران خان پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے.
اسی دورے میں یعنی 1987 میں بمبئی کے بریبورن اسٹیڈیم میں ایک نمائشی میچ کھیلا گیا. پاکستان کی جانب سے جاوید میانداد اور عبدالقادر کو آرام کا موقع دیا گیا اور میچ نہیں کھلایا گیا. اسی نمائشی میچ میں سچن ٹنڈولکر جو کہ اس وقت صرف 13 سال کے تھے، انہیں پاکستان کی جانب سے فیلڈنگ کیلئے بھیجا گیا. لیکن یہ آفیشل طور پر سچن ٹنڈولکر کا ڈیبیو نہیں تھا، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سچن ٹنڈولکر نے پاکستان کی جانب سے اپنے کیرئر کا پہلا میچ کھیلا اور اس کے بعد بھارت کی جانب سے ڈیبیو کیا. لٹل ماسٹر سچن ٹنڈولکر کو کرکٹ کی تاریخ کا عظیم بلےباز سمجھا جاتا ہے. وہ پہلے بلےباز ہیں جنہوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں ڈبل سنچری اسکور کی. صرف یہ ہی نہیں ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ اسکور کرنے کا ریکارڈ بھی ٹنڈولکر کے پاس ہی ہے.
دوسری جانب تاریخ میں صرف 3 کرکٹرز ایسے ہیں جنہوں نے پاکستان اور بھارت دونوں جانب سے کرکٹ کھیلی. ان کھلاڑیوں میں عبدالحفیظ کردار، عامر الہیٰ اور گل محمد شامل ہیں.

میڈیا ورکرز کا استحصال بند کیا جائے، صحافی برادری سراپا احتجاج
وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے صحافتی ورکرز دشمن میڈیا مشیراور پبلک نیوز چینل کے مالک یوسف بیگ مرزا اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے قریبی دوست اور صحافتی ورکرز دشمن نیوز ون چینل کا مالک طاہر اے خان صحافتی ورکرز کی پانچ پانچ تنخواہوں کے مقروض نکلے ہیں،
کئی سالوں سے حکومتوں سے اربوں کا بزنس اشتہارات کی مد میں وصول کرکے لمبے چوڑے اثاثے بنانے والے ان دونوں مالکان نے اپنے صحافتی ورکرز سے دن رات ایک کرکے کام لیکر ان کی پانچ پانچ ماہ کی تنخواہیں دبا لی ہیں جبکہ ان دونوں نے اپنے اپنے اداروں میں ایسے افراد کو بھی رکھا ہوا ہے جو فری آف کاسٹ کرکے باہر اداروں کو بدنام کرکے بلیک میلنگ کے زریعے پیسے کماتے ہیں اور تنخواہیں مانگنے والے ورکرز کی اداروں میں بیٹھ کر مخالفت کرتے ہیں جن ورکرز نے دن رات محنت کرکے فلیڈ میں اداروں کا نام بنایا ہے آج ان کے پاس گھروں کا کرائے دینے کے لئے پیسے نہیں ہے آج ان کے بچے فیس کی وجہ سے سکول نہیں جاسکتے ہیں آج ان کے گھروں کے بیمار والدین ، بیوی بچے اور بہن ، بھائی دوائی لینے کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیںآج وہ اپنے گھروں کے بجلی ، پانی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی کے لئے لوگوں سے قرضے مانگ رہے ہیں آج وہ دکانداروں سے منہ چھپا کر محلے سے گزرتے ہیں اور کوئی ان کو گھر کا راشن ادھار دینے کے لئے تیار نہیں ہے آج وہ دفتر جانے کے لئے پیدل آفس آنے پر مجبور ہیں جناب وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب یہ آپ کے وہ مشیر اور دوست ہیں جو آپ کے لئے صحافتی دنیا میں بدنامی کا باعث بن رہے ہیں جس کی وجہ سے صحافتی کمیونٹی آپ کو بدعائیں دینے اور آپکو نااہل کہنے پر مجبور ہے یہ وہ لوگ ہیں جہنوں نے دوسرے صحافتی اداروں کے مالکان کو ورغلا کر تنخواہیں روکنے اور ورکرز فارغ کرنے اور تنخواہوں کی کٹوتی کے لئے تیار کیا ہیں یہ وہ دونوں ورکرز دشمن ہیں جہنوں صحافتی ورکرز پر چند دنوں میں شب خون مارا ہیں
اگر یہ دونوں مالکان نے اپنے ورکرز کی تنخواہوں کی ادائیگی نہ کی تو ہم اسلام آباد وزیر اعظم ہاوس اور ان دونوں مالکان کے گھروں کے باہر مظاہرے بھی مظاہرے بھی کریں گے کشکول بھی لٹکائیں گے اور ان تمام حالات اور ماحول کے ذمہ دار یہ دونوں صحافتی اداروں کے مالکان ہونگے

وہ ہم سے راضی ہے، اور ہم اس سے راضی ، تحریر سید زید زمان حامد
جب سیدنا ابوبکرؓ نے اپنے بعد سیدنا عمرؓ کو خلیفہ بنانے کیلئے لوگوں سے مشورہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ عمرؓ ویسے تو بہت اچھے ہیں مگر طبیعت کے بہت سخت ہیں۔ اس بات کو سن کر سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا، ”عمرؓ اس لیے سخت ہیں کہ میں نرمی کرتا ہوں۔۔۔“
اکثر جب کچھ لوگ مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ آپ طبیعت کے بہت سخت ہیں تو میں ان کو یہی واقعہ سناتا ہوں۔میں منافقوں اور پاکستان کے دشمنوں پر اس لیے سخت ہوں کہ ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان ان دشمنوں کے معاملے میں خطرناک حد تک نرمی کا معاملہ رکھتے ہیں۔اگر ریاست پاکستان، حکومت، عدلیہ اور فوج پاکستان کے دشمنوں پر سختی کریں، غداروں اور منافقوں کو سولی چڑھائیں، سازشیوں کے سر وقت پر کچلے جائیں تو پھر مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اتنی بے چینی اور جلال کے ساتھ دشمنوں کے خلاف اذان دوں۔۔۔؟
میں کفار و منافقین و دشمنوں کے خلاف اس لیے جلال دکھاتا ہوں کہ ریاست کا بوسیدہ نظام ان سانپوں کو پالتا ہے۔کیا ریاست پاکستان اجتماعی طور پر ہر فیصلہ درست کررہی ہے؟کیا پاکستان میں عدل و انصاف ہے؟کیا منافقین اور دشمن سزا پا چکے ہیں؟ظاہر ہے کہ نہیں۔۔۔ تو پھر اجتماعی فیصلے بھی تو غلط ہی ہورہے ہیں ناں۔۔۔!معاملہ پاکستان اور امت رسولﷺ کا ہے۔ اگر کہیں پاکستان اورامت کو حکومتی فیصلوں سے تکلیف پہنچے گی تو پہلے میں نصیحت کروں گا، پھر تنبیہ کروں گا اور پھر بھی اگر وہ ظلم پر اسرار کرتے رہے تو پھر اعلان جنگ ہوگا۔یہ پاکستان کسی کے باپ کا نہیں ہے، سیدی رسول اللہﷺ کی امانت ہے۔ اس کے معاملے میں یہ فقیر کسی کا لحاظ نہیں کرے گا۔
میرے بہت سے دوست سرکاری افسران ہیں۔ میں اکثر ان سے پوچھتا ہوں کہ تم اپنے آس پاس خیانت و ظلم ہوتے دیکھتے ہو تو آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ان کا ہر دفعہ ایک ہی جواب ہوتا ہے: ”یار سرکاری نوکری کی مجبوریاں ہوتی ہیں۔“
یاد رکھیں، ہم بھی سرکاری نوکری کررہے ہیں۔۔۔ ”سرکارﷺ “ کی نوکری، ہماری بھی مجبوریاں ہیں۔
آج اس پاک سرزمین کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں اور امت رسولﷺ کے دفاع اور آبرو کی حفاظت کیلئے ہمیں اذان دیتے بیس برس ہوچکے ہیں۔ ہماری”سرکاری نوکری“ کی صرف ایک مجبوری ہے: اور وہ یہ کہ سیدی رسول اللہﷺ سے ہم خیانت نہیں کرسکتے!باقی ہمیں کسی چیز کا لحاظ نہیں کریں گے۔جب معاملہ پاکستان کا ہو، امت رسولﷺ کا ہو، تو ہم کبھی بھی کسی پر اندھا اعتماد نہیں کریں گے، چاہے حکومت ہو، عدلیہ ہو، فوج ہو یا میڈیا۔اللہ نے جو فراست اور تجربہ ہمیں عطا فرمایا ہے اور جو ڈیوٹی ہم سے لے چکا ہے اور لے رہا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ ہم ریاست کا نظام چلانے والوں پر گہری نگاہ رکھیں۔جاہل ہم سے کہتے ہیں کہ حکومت کو آپ سے زیادہ پتہ ہے، وہاں زیادہ بہتر دماغ نظام چلانے کیلئے بیٹھے ہیں۔تو پھر ہمارا سوال ان سے یہ ہے کہ پھر ملک میں اتنا فساد کیوں ہے، ملک میں اتنا ظلم کیوں ہے، ملک میں اتنی جہالت کیوں ہے، ملک میں کفر کا نظام کیوں ہے، مسلمان کی آبرو اور خون اتنا سستا کیوں ہے۔۔۔؟؟؟
یہ ہمارے ریاستی اداروں کے اجتماعی گناہ ہی تھے کہ جن کی وجہ سے 1971 ءمیں ہمارا ملک ہی ٹوٹ گیا۔سقوط ڈھاکہ کسی ایک فرد واحد کی وجہ سے نہیں بلکہ ریاست کے ہر ادارے کی جہالت و حماقت کی وجہ سے ہم پر عذاب بن کر مسلط ہوا۔ اب ہم کسی پر اندھا اعتماد نہیں کریں گے، بلکہ عمل کی گواہی مانگیں گے۔
براس ٹیکس ایک فرد کا نام نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ فقیر اس ادارے کا سربراہ ہے، مگر ہماری ٹیم میں اس ملک کے اعلیٰ ترین محب وطن اور صاحب فراست لوگ شامل ہیں۔ ہم انہیں دشمنوں کے شر اور حاسدوں کے حسد سے بچانے کیلئے پس پردہ رکھتے ہیں، مگر جو بات ہم کرتے ہیں اس میں گہری فراست اور تحقیق شامل ہوتی ہے۔
حکومت، میڈیا، عدلیہ اورافواج کی ہمیشہ کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں۔الحمدللہ، ہماری کوئی مجبوریاں نہیں ہیں، ہم نے کسی سے تمغے نہیں لینے، تنخواہ، پنشن اور مراعات طلب نہیں کرنی، کوئی عہدہ نہیں چاہتے۔جب یہ زنجیریں پیروں میں نہ ڈلی ہوں تو ظالم کے سامنے حق بات کہنا قدر آسان ہوجاتا ہے۔
اللہ کے فضل سے ہمیں اب اپنے آپ کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ ماننے والے تو اللہ اوراسکے رسولﷺ کو نہیں مانتے، اور جن کو اللہ نے زندہ دل عطا کیے ہیں وہ ہمارے مشن کی اہمیت اورقوت کو پہچانتے ہیں۔ہم صرف دربار نبویﷺ سے احکامات لیتے ہیں، اور پاکستان کے معاملے میں دنیا کی اور کوئی طاقت ہمیں مجبور نہیں کرسکتی۔ ان شاءاللہ۔یہ بات ہم کوا یک بار پھر واضح کردیں کہ پاکستان کے دفاع اور غزوہ ہند میں ہمارا یہ مشن ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے بدترین دشمن مشرک اور منافق اس کو روکنے اور ختم کرنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگارہے ہیں۔ ہمارے خلاف صرف وہی بات کرے گا جو ازلی بدنصیب ہے، متکبر ہے یا منافق ہے!
استغفر اللہ، میں تکبر نہیں کررہا، صرف اللہ کا فضل بیان کررہا ہوں۔پچھلے 12 سال سے پاکستان کے میڈیا میں ہوں، ہزاروں اذانیں دی ہیں، کوئی ایک ”یوٹرن“ دکھا دیں، کوئی ایک بات دکھا دیں کہ جو کہی ہو اورغلط ثابت ہوئی ہو؟ کیا پھر بھی آپ کو اللہ کا فضل اور کرم نظر نہیں آتا۔۔۔؟ہر معاملے میں یہ فقیر اس قوم پر حجت تمام کرچکا ہے۔ کوئی ایسا مسئلہ اب باقی نہیں ہے کہ جس پر تفصیلی تجزیہ کرکے فیصلہ کن حل نہ بتا دیا گیا ہو۔ حکومتی نظام کی درستگی ہو، معیشت کی اصلاح ہو، نظام کی تبدیلی ہو، اخلاقی و روحانی تربیت ہو، ملکی دفاع و غزوہ ہند کے معرکے ہوں۔ تمام حجتیں تمام کی جاچکی ہیں۔آج بھی اس ملک میں ہزاروں بے شرم اور بے غیرت ایسے ہیں کہ جن کا کام صرف ہماری اذان کا تمسخر اڑانا ہے، طنز کرنا ہے، حملے کرنا ہے اور اس مشن کوروکنا ہے۔
آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
کتوں کے بھونکنے سے فقیرکا رزق کم نہیں ہوجاتا۔۔۔!آج پاکستان کی حکو مت، میڈیا اور نظام میں اس فقیر کو ایک دشمن کی طرح دور رکھا جاتا ہے، حالانکہ یہ خود ملک و قوم و ملت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ کفر اور ظلم کے نظام میں کلمہءحق بلند کرنے کی یہ ادنیٰ سی قیمت ہے کہ جو ہم بہت شوق سے دے رہے ہیں۔
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ۔۔۔!مشرکوں سے جنگ اب بہت نزدیک ہے۔ جوہمارا مذاق اڑاتے ہیں اور طنز کرتے ہیں کہ یہ بھارت سے جنگ کروانا چاہتے ہیں، جلد ہی وہ ہنسیں گے کم اورروئیں گے زیادہ۔حجت اس حکومت اور نظام پرپوری ہوچکی ہے، ہمیں ان کے طنز اور مذاق سے دھیلا فرق نہیں پڑتا۔ہم جس مالک کی ڈیوٹی کررہے ہیں، الحمدللہ، وہ ہم سے راضی ہے، اور ہم اس سے راضی ہیں!
تحریر سید زید زمان حامد
حکمران جماعت کے وزیر جمہوری دور میں بادشاہت کی مثالیں ہیں
زیر نظر تصویر یقیناً مغلیہ دور کی نہیں جس میں کنیزیں بادشاہ سلامت کے استقبال کے لئے کھڑی ہوں۔ یہ ہمارے آج کے معاشرے کی تصویر ہے، جس میں ہماری طالبات جناب ایم این اے فرخ حبیب صاحب کا استقبال فرما رہی ہیں۔ اور یہ وہ نمائندہ ہیں جو طلبہ تنظیم کو ہیڈ کرتے رہے۔
وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے میاں فرخ حبیب کی گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین سمن آباد میں یومِ دفاعِ پاکستان کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی ،میاں فرخ حبیب نے پرچم کشائی کی اور طالبات سے پر جوش خطاب کیا
عالمی یوم جمہوریہ پہ سندھ میں میرٹ و انسانی حقوق کا جنازہ ، تحریر انشال راؤ
پندرہ ستمبر بروز اتوار دنیا بھر میں عالمی یوم جمہوریہ منایا گیا، جمہوریت کا انسانی حقوق سے گہرا تعلق ہے جسے عالمی انسانی حقوق کے چارٹر UDHR کے آرٹیکل 21 میں واضح کیا گیا ہے، اقوام متحدہ کے مطابق "Democracy is fundamental building block for peace, sustainable development & human rights”. انسانی معاشرے کی فلاح کے لیے اقوام متحدہ نے ایجنڈہ 2030 تک sustainable development کے لیے سترہ اہم نکات پر کام کرنے کی ٹھان رکھی ہے، کسی بھی معاشرے کی ترقی میں تعلیم و تعلیم یافتہ طبقے کی کلیدی حیثیت ہے اور بچے اس معاشرے میں Sustainable Development کا چہرہ ثابت ہوتے ہیں،
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا کہ "Education is the matter of life & death for nation” اور آئین پاکستان میں تعلیم کی سہولت دینا حکومت کا فرض اور ذمہ داری ہے آج بہتر سال گزرنے کے بعد بھی حقائق انتہائی المناک اور مایوس کن ہیں UNESCO کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ سے زائد بچے اسکول کا منہ نہیں دیکھتے جس سے روز روشن کی طرح حقیقت سب پہ عیاں ہوجاتی ہے کہ ملک و قوم کی تنزلی کی اصل وجہ کیا ہے، تعلیم کی زبوں حالی کی فہرست والے ممالک کے حساب سے پاکستان افریقہ کے پسماندہ ترین و جنگ زدہ ممالک سے بھی پیچھے ہے، پاکستان کے تمام یونٹس میں صوبہ سندھ ایک ایسا یونٹ ہے جو تعلیم میں سب سے پیچھے ہے اگر سندھ کی تعلیم کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں تعلیمی پسماندگی و معذوری کے حساب سے سندھ نیچے سے ٹاپ پر ہے،
پچھلے دنوں سیکریٹری تعلیم کو ایک نجی ٹیلیویژن چینل پر انٹرویو دیتے سنا جس میں ایسے ایسے انکشافات سامنے آئے کہ حیرانگی خود حیران ہوکر رہ گئی مگر ایک سیکریٹری تعلیم تھے کہ ان کی ڈھٹائی کو سلام ہے، سیکریٹری تعلیم نے انکشاف کیا کہ 2019 تک محکمہ تعلیم سندھ کے پاس محکمہ کا ڈیٹا ہی جعلی تھا، انہیں کچھ نہیں معلوم تھا کہ کتنے اسکول بند ہیں، کتنے کھلے ہیں، کتنے اسکولوں میں فرنیچر ہے اور کتنے اسکول بجلی پانی وغیرہ کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، کون کون سے اسکول صرف ریکارڈ میں ہیں جنکا گراونڈ پر کوئی وجود نہیں ہے، کتنی انرولمنٹ ہے، قاضی شاہد پرویز سیکریٹری تعلیم ڈھٹائی کیساتھ ہنستے ہوے بتاتے رہے کہ آفس میں بیٹھ کر افسران و سپرنٹنڈنٹ صاحبان ڈیٹا بناکر بھیج دیتے تھے، تعلیم کی ابتر حالت کو دیکھتے ہوے محکمہ تعلیم سندھ نے SPSC پر عوام و دنیا کا عدم اعتماد دیکھتے ہوے ورلڈ بینک کی شراکت سے ملک کے مستند ترین اچھی ساکھ والے ادارے IBA کے زریعے ٹیسٹ کے زریعے 2000 ہیڈماسٹرز بھرتی کرنے کا اشتہار دیا جس کے لیے تقریباً بیس ہزار افراد نے درخواستیں جمع کروائیں مگر بمشکل ایک ہزار امیدوار ہی کامیاب ہوپائے،
ان ہیڈماسٹرز سے پہلے سندھ کے سرکاری اسکولوں میں مجبور سے مجبور والدین بھی اپنے بچوں کو داخل کروانا پسند نہیں کرتے تھے، سندھ کے اسکول بالخصوص پرائمری اسکول اوطاقوں، شادی ہالز، پارٹی دفاتر، گودام و مویشی کے باڑوں کے طور پہ استعمال ہوتے تھے، اساتذہ کی اکثریت کو پڑھانے سے زیادہ گپ شپ میں دلچسپی تھی، نوبت یہاں تک آ پہنچی تھی کہ تاریخی اسکولوں میں جن میں ہزاروں میں انرولمنٹ ہوا کرتی تھی کہ ڈبل ڈبل شفٹ لگانا پڑتی تھی وہاں تیس اساتذہ پینتیس طلبہ، چوبیس اساتذہ سولہ طلبہ، پچاس پچاس اساتذہ چالیس سے پچاس طلبہ کی تعداد تک آ پہنچے تھے، اساتذہ پرائیویٹ اسکولوں میں تو پڑھالیتے مگر سرکار سے بھاری تنخواہیں وصول کرکے بھی پڑھانا پسند نہ کرتے تھے، بقول سیکریٹری قاضی شاہد پرویز و منسٹر محکمہ تعلیم کے کلرک بادشاہ اور پیراشوٹی افسران آفسز میں بیٹھ کر رپورٹیں بناکر کاغذوں کا پیٹ بھرتے رہتے، جو فنڈز سرکار سے آتے وہ ہوا میں اڑ یا اڑا دئیے جاتے جبکہ اسکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کی بینچز تک نہ ہوتیں، رہی بات پانی بجلی، لیٹرین یا دیگر سہولیات کی وہ تو سوچنا ہی محال ہے، کھیل و تفریح کے لیے فنڈز تو باقاعدگی سے جاری ہوتے رہے مگر کسی اسکول میں ایک پلاسٹک انڈہ بال تک کا وجود نہیں، اساتذہ کی بڑی تعداد ویزا سسٹم پر رہتی جنہیں منتھلی لیکر ڈیوٹی فری سہولت دے دی جاتی، ان حالات کی وجہ سے سرکاری اسکول و اساتذہ سندھ کی عوام میں اپنا اعتماد مکمل کھوچکے تھے،
IBA کے زریعے بھرتی کردہ ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز نے اسکولوں میں آکر انتھک محنت و لگن سے کام کیا، اپنے ہاتھوں سے رنگ روغن چونا وغیرہ کیا، کچروں کے ڈھیروں کو اسکول سے یا آس پاس سے اٹھایا، کمیونٹی کے مخیّر حضرات سے مل کر اسکول میں بنیادی سہولیات کو بحال کرکے بہتر ماحول بنایا، تعلیم پر خصوصی توجہ دی جن سے کمیونٹی کا اعتماد سرکاری اسکولوں پر بحال ہونا شروع ہوا، اساتذہ کی اپنے ذاتی رسورسز پر ٹریننگز و موٹیویشنز کیں تاکہ وہ بہتر تعلیم مہیا کرسکیں، تاریخ میں پہلی بار SMC کمیٹیوں کو ایکٹیو کرکے پوری دیانتداری سے SMC فنڈز کو اسکولوں میں یوٹیلائز کیا، پرائیویٹ اسکولوں کی طرز پر اپنی مدد آپ کے تحت نرسری کلاسز کو قائم کیا، پہلی بار پرائمری سطح پر نصابی سرگرمیوں کیساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں کو متعارف کروایا، اس کے علاوہ حقیقیططور پر گلی گلی گھر گھر پھر کر انرولمنٹ ڈرائیو مہم چلائیں جن سے ہزاروں آوٹ آف اسکول چلڈرن اسکولوں میں داخل ہوے الغرض کہ جن اسکولوں میں آئی بی اے ہیڈماسٹرز کو تعینات کیا گیا وہ کھنڈر اسکول سے ماڈل اسکول میں تبدیل ہوگئے جن کی بدولت سندھ کے سرکاری اسکولوں پر عوام کا اعتماد بحال ہوا،
یہ آئی بی اے ہیڈماسٹرز ہی تھے جنہوں دور دراز تک اپنے خرچ پر جا جا کر اسکول پروفائیلنگ کی جس کی بنیاد پہ محکمہ تعلیم کو پہلی بار حقیقی ڈیٹا دستیاب ہوا اور اب وہ اسی ڈیٹا کی بنیاد پہ کوئی بھی پالیسی بناکر کامیاب بناسکتے ہیں، ان کی دیانتداری و شاندار کارکردگی کو نہ صرف محکمہ کے افسران بلکہ سیکریٹری و وزیر تعلیم تک سراہتے رہے ہیں اور انہیں مستقل کرنے کی یقین دہانی کرواتے رہے لیکن پھر مافیا مائنڈسیٹ کو جب کرپشن و اقربا پروری کے خاتمے کا ڈر ہوا تو "اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا” کے مصداق سندھ حکومت کے کرپٹ افسران و وڈیرہ شاہی حکومت نے میرٹ پہ بھرتی اور دیانتدار ہیڈماسٹروں کو ہی محکمے سے فارغ کرنے کی ٹھان لی اور ان کی نوکریوں کو ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جسکے خلاف ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز احتجاج کرنے کے لیے کراچی پہنچ گئے،
پندرہ ستمبر کو کراچی پریس کلب پر کئی گھنٹے احتجاج کے بعد جب کسی حکومتی نمائندے نے ان کی ذات تک نہ پوچھی تو انہوں نے وزیراعلیٰ ہاوس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کرکے پریس کلب سے کوچ کیا، آئی بی اے ہیدماسٹرز و ہیڈمسٹریسز کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری آڑے آگئی اور ان پر تاریخ کا بدترین تشدد شروع کردیا جسکے نتیجے میں متعدد ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز زخمی ہوگئے اور بہت سارے گرفتار کرکے جیل منتقل کردئیے گئے، زخمی ہیڈماسٹرز میں دو کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے متعدد خواتین بھی شدید زخمی ہوئیں جن میں سے ایک کے بازو میں فریکچر بھی ہوگیا، عالمی یوم جمہوریہ پر سندھ حکومت نے نہتے ہیڈماسٹروں پہ تشدد کرکے دنیا میں یہ پیغام دیدیا ہے کہ ان کے نزدیک انسانی حقوق کی کوئی حیثیت نہیں، یہ وڈیرے تھے اور وڈیرے ہیں جو بات انہیں ناگوار گزریگی تو وہ یہ کسی طور پہ برداشت نہیں کرینگے،
آئین پاکستان ہر شہری کو پرامن احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا حق دیتا ہے اس کے علاوہ عالمی انسانی حقوق چارٹر میں پرامن احتجاج، اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے اور قانونی چارہ جوئی کا حق ہر انسان کے لیے یکساں موقع ہے جبکہ سندھ حکومت کے نزدیک نہ آئین پاکستان کا احترام ہے نہ ہی کسی عالمی قانون کا، پندرہ ستمبر کے دن سندھ کی حکمران جماعت نے محض ایک شخص کی ذاتی رائے پہ مبنی بیان کو بنیاد بناکر پورے سندھ میں احتجاجی جلسے و ریلیاں نکالیں لیکن وہی حق عوام کو دینے کے لیے تیار نہیں، یہ میڈیا ریکارڈ کا حصہ ہے کہ کس بیدردی سے سندھ پولیس نے آئی بی اے ہیڈماسٹروں پر بہیمانہ تشدد کیا،
میڈیا نمائندگان جوکہ کسی بھی معاشرے کی کان آنکھ اور زبان کا کردار ادا کرتے ہیں زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوے جب میڈیا نے سندھ حکومت کے آئی بی اے ہیڈماسٹروں سے غیرانسانی و غیراخلاقی سلوک پر احتجاج کیا اور سوالات کیے تو ترجمان وزیراعلیٰ سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ڈھٹائی کیساتھ اس مذموم حرکت کو جائز قرار دے دیا اور انہیں مستقل نہ کیے جانے کے سوال پہ موقف دیا کہ گریڈ 17 میں کسی کو بغیر کمیشن کے بھرتی نہیں کیا جاسکتا اس لیے قانونی رکاوٹوں کے باعث انہیں مستقل نہیں کیا جاسکتا، جبکہ یہی سندھ حکومت ہے جس نے وٹرنری ڈاکٹرز کو بغیر کسی تحریری امتحان کے گریڈ سترہ میں بھرتی کرکے اسمبلی بل کے زریعے مستقل کردیا، ریونیو اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکمے میں گریڈ سترہ میں اپنے پیاروں کو بغیر کسی کمیشن یا کسی تحریری ٹیسٹ کے بھرتی کرکے انہیں اسمبلی بل پاس کرکے مستقل کرتے ہوے نہ تو کوئی قانونی رکاوٹ پیش آئی نہ ہی کسی میرٹ کا احترام یاد آیا،
میڈیکل کالجز یونیورسٹی اور بورڈز میں اپنے من پسند افراد و عزیز و اقارب کی بھرتی بغیر ٹیسٹ کے کرلی جائے تو بھی عین جائز و آئینی ہے، ڈاکٹرز جن سے لاکھوں نہیں کروڑوں افراد کی جان و صحت کا معاملہ وابستہ ہے انہیں بغیر کسی انٹرویو یا ٹیسٹ کے بس گھر بیٹھے اپائنٹمنٹ آرڈرز دئیے گئے ان سب کا قانونی جواز پیدا ہوجانا بھی سمجھ سے بالاتر ہے، ان سب سے بڑھ کر تعجب و حیرانکن بات یہ کہ محکمہ قانون سندھ میں گریڈ 17 اور گریڈ 18 کے اٹارنیز کو گھر بیٹھے آرڈر دیکر حال ہی میں مستقل کردیا گیا تو کوئی قانونی رکاوٹ آڑے نہیں آئی، یہ پاکستانیوں کیساتھ ساتھ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ وڈیرہ شاہی کا تسلط ہے ان کے نزدیک قانونی رکاوٹیں تمام تر خرابیاں صرف میرٹ پہ بھرتی افراد کے معاملے میں ہی پیدا ہوجاتی ہیں اس کی دو اہم وجوہات ہیں ایک یہ کہ ان میں نہ انکے سیاسی غلام ہوتے ہیں نہ ہی ان کو کروڑوں روپے دیکر آئے ہوے ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کوئی جگہ نہیں جبکہ جو لوگ ان کے اپنے ہوں یا بھاری رشوت دیکر ان کرپٹ بیوروکریٹس و وڈیروں کی جیبیں گرم کرکے آئیں تو وہ عین جائز ہیں،آئین پاکستان کا آرٹیکل 27 تعصبانہ قانون کی مخالفت کرتا ہے ایک ہی ملک یا صوبے میں ایک طبقے کے لیے قانون کچھ اور جبکہ غریبوں و مڈل کلاس طبقے کے لیے کچھ اور، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب صاحب ایک ہی صوبے میں دو قانون کیا آرٹیکل 27 کی کھلی خلاف ورزی نہیں؟ بیرسٹر صاحب آپکے نزدیک قانونی جوکہ اصل میں نااہل ہیں وہ تو بغیر کسی ٹیسٹ کے بھرتی ہوے جبکہ یہ ہیڈماسٹر صاحبان و ہیڈمسٹریسز تو ملک کے سب سے مستند ادارے IBA کے زریعے بھرتی ہوے ہیں اور رہی بات کمیشن SPSC کی تو اس کی ساکھ کا یہ حال ہے کہ سندھ کی عوام اسے ہاوس آف کرپشن اور سفارش کہتی ہے جسے ملک کی اعلیٰ عدلیہ سپریم کورٹ تک نے نااہل اور کرپٹ ترین ادارے کی سند سے نوازا ہے،
پنجاب حکومت نے ہزاروں ہیڈماسٹرز و تعلقہ ایجوکیشن افسران کو NTS کے زریعے بھرتی کیا اور مستقل کردیا، بالکل اسی طرح وفاق میں بہت سارے محکموں میں NTS و دیگر اچھی ساکھ کے اداروں کے زریعے گریڈ 17 اور 18 کی بھرتیان کنٹریکٹ پر کی گئیں جن کی مستقلی کے لیے موجودہ وفاقی حکومت نے پچھلے ماہ ہی کمیٹی تشکیل دی ہے، سندھ حکومت کو آئی بی اے ہیڈماسٹرز کی مستقلی میں قانون کی پابندی کا کوئی احترام نہیں معاملہ صرف بدنیتی پر مشتمل ہے کہ ان کے اپنے پیارے اور ان کے سیاسی غلام کوئی نہیں جس کی بنا پر سندھ حکومت اور اسکی کرپٹ بیروکریسی کو یہ لوگ برداشت نہیں،
معلوم نہیں سندھ میں کب تک یوں ہی میرٹ کا جنازہ نکالا جاتا رہیگا؟ نجانے کب تک اندھیرنگری چوپٹ راج ایک ہی صوبے میں دو دو چار چار قانون رہینگے؟ پتہ نہیں وہ کونسا خوش نصیب دن ہوگا جب سندھ میں بھی میرٹ کی بحالی و قدر ہوگی؟ ہوگی یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کریگا مگر اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سندھ حکومت و سندھ کی بیوروکریسی میرٹ کی ازلی دشمن ہے، اخلاقی طور پر پاکستانی عوام و پاکستان کے باضمیر اشرافیہ کو سندھ میں میرٹ کی بحالی کے لیے کردار ضرور ادا کرنا چاہئے۔
تحریر انشال راؤ


انگلینڈ نے آخری ٹیسٹ جیت کر ایشز سیریز برابر کر دی
لندن: انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے ایشز سیریز 2019 کے آخری اور فیصلہ کن میچ کو جیت کر ایشز سیریز 2-2 سے برابر کر دی ، 1972 کے بعد پہلی دفع ایسا ہوا ہے ایشز سیریز برابری پر حتم ہوئی ہے،
پانچویں ٹیسٹ کے آخری روز کھیل کا آغاز انگلینڈ نے کیا اور صرف 20 منٹ میں انگلش کھلاڑی 398 کے مجموعے پر پویلین لوٹ گئے ، اس کے بعد آسٹریلوی بیٹنگ لائن شدید لڑکھٹراتی نظر آئی، آسٹریلیا کے اوپنرز کو انگلش پیسر سٹورٹ براڈ نے چلتا کیا ، اس کے مارنس لابوس شین جیک لیچ کا شکار ہو گئے، اس کے اسٹیو اسمتھ نے کچھ مزاحمت کی لیکن 23 رنز پر وہ بھی ہمت ہار گئے، اس کے بعد میتھیو ویڈ نے 117 رنز کی شاندار اور زمہ دارانہ اننگز کھیلی اور آسٹریلیا کا کل سکور 240 تک پہنچا دیا لیکن کوئی بلے باز ان کے ساتھ زیادہ دیر تک کھڑا نہ رہ سکا اور 260 کے آسٹریلوی مجموعے پر ویڈ بھی آؤٹ ہو گئے اور یوں آسٹریلیا کی پوری ٹیم 263 کے مجموعے پر آؤٹ ہو گئی،
قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان نے خیبر پختونخوا کی پوزیشن مستحکم کردی
ناردرن اور خیبرپختوانخوا کرکٹ ٹیموں کے درمیان ایبٹ آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں جاری میچ کے دوسرے روز خیبرپختوانخوا کے بلے بازوں نے مزید 183 رنز جوڑے۔
میزبان ٹیم نے 526 رنز پر اننگ ڈکلیئر کردی اور اس کے 9 کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔کپتان محمد رضوان نے 22 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 176 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ عادل امین نے 73 رنز بنائے۔ ناردرن کرکٹ ٹیم کی جانب سے شاداب خان نے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ صدف حسین، موسیٰ خان، عماد وسیم اور محمد نواز نے 1، 1 کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔ جواب میں ناردرن کرکٹ ٹیم نے دن کے اختتام تک 1 وکٹ کے نقصان پر 109 رنز بنائے۔
میچ کے تیسرے روز حیدر علی اور عمر امین بالترتیب 56 اور 20 رنز سے خیبرپختوانخوا کی جانب سے اننگز کا دوبارہ آغاز کریں گے۔ سدرن پنجاب اور خیبرپختوانخوا کی ٹیمیں میچ کی پہلی اننگ میں مقررہ 110 اوورز میں 400 رنز بنانے پر 5,5 اضافی پوائنٹس حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں جبکہ سندھ کی ٹیم کو 3 پوائنٹس دئیے گئے۔ سندھ نے مقررہ 110 اوورز میں 301 رنز بنائے تھے۔ پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن 20-2019 میں قائداعظم ٹرافی کے لیے نیا پوائنٹس سسٹم متعارف کروا یا ہے۔
قائداعظم ٹرافی: سدرن پنجاب کے سمیع اسلم کی ڈبل سینچری
قائداعظم ٹرافی کے دوسرے روز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں جاری میچ میں سدرن پنجاب نے اپنی اننگز کا دوبارہ آغاز 291 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ سے کیا توسمیع اسلم کی مزاحمت جاری رہی۔
اوپنرسمیع اسلم نے 410 گیندوں پر 243 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ ان کی اننگز میں 29 چوکے اور 1 چھکا شامل تھا۔ سمیع اسلم قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جانیوالے فرسٹ کلاس کرکٹ میچ میں بیٹ کیری کرنے والے 12ویں کھلاڑی بن گئے ہیں۔دوسری جانب عدنان اکمل 113 اور عامر یامین 64 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ سدرن پنجاب کی پوری ٹیم 467 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ سنٹرل پنجاب کی جانب سے وقاص مقصود نے 83 رنز کے عوض 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ حسن علی نے 3، بلال آصف نے 2 اور ظفر گوہر نے 1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ جواب میں سنٹرل پنجاب نے 4 اوورز میں 17 رنز بنائے تھے کہ کم روشنی کے باعث میچ روک دیا گیا۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں روشنی بہتر ہونے پر سنٹرل پنجاب کے اوپنرز احمد شہزاد اور اظہر علی نے اننگز کا دوبارہ کیا اور دن کے اختتام تک ٹیم کا مجموعی اسکور 47 رنز تک پہنچادیا۔ میچ کے تیسرے روز احمد شہزاد 22 اور اظہر علی 20 رنز سے اننگز کا دوبارہ آغاز کریں گے۔
24 ویں نیشنل سیونزرگبی چیمپئن شپ2019ء پاکستان آرمی نے جیت لی
لاہور (سپورٹس رپورٹر) پاکستان رگبی یونین کے زیراہتمام 24 ویں نیشنل سیونز رگبی چیمپئن شپ2019ء پاکستان آرمی نے جیت لی، فائنل میں دلچسپ مقابلے کے بعد پاکستان ایئرفورس کو 5-0 سے جیت لی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان رگبی اکیڈمی لاہور کینٹ میں دو روزہ ٹورنامنٹ میں 12 ٹیموں نے حصہ لیا۔گزشتہ روز آرمی، ایئرفورس، واپڈا اور ریلوے نے سیمی فائنلز کیلئے کوالیفائی کیا تھا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی ڈائریکٹر سروس ٹائرز چودھری عارف سعید تھے۔ اس موقع پر پاکستان رگبی یونین کے چیئرمین فوزی خواجہ،ٹورنامنٹ ڈائریکٹر شکیل احمد ملک، رگبی سروسز مینجر سید معظم علی شاہ، عاصم علی، پنجاب رگبی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور سابق کھلاڑیوں سمیت سینکڑوں تماشائی گراؤنڈ میں موجود تھے۔ پہلے سیمی فائنل میں پاکستان آرمی نے ریلوے کو 52-0 سے ہرایا جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں پاکستان ایئرفورس نے پاکستان واپڈا کی ٹیم کو 21-5 سے ہرا دیا۔تیسری چوتھی پوزیشن کے میچ میں پاکستان واپڈا نے ریلویز کو 50-0 سے ہرا کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔
اس طرح فائنل دونوں سروسز کے درمیان ہوا جو پاکستان آرمی نے 5-0 سے جیتا۔ پہلے ہاف میں آرمی کے انجم نے خوبصورت ٹرائی سکور کرکے آرمی کو برتری دلا دی جو آخر تک قائم رہی۔ ایئرفورس کی ٹیم نے کچھ اچھے موو بنائے مگر ٹرائی کرنے میں ناکام رہے۔ اس طرح نیشنل گیمز 2019ء پشاور کیلئے چاروں صوبوں کے علاوہ آرمی، ایئرفورس، واپڈا اور ریلویز نے کوالیفائی کرلیا۔ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان رگبی یونین فوزی خواجہ نے سروس ٹائرز کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دو روزہ چیمپئن شپ کو سپانسر کیا۔ فوزی خواجہ کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان سے اتنی بڑی تعداد میں ٹیموں کی شمولیت رگبی کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔










