Baaghi TV

Tag: pakistan

  • جمعیت علماء نے ہمیشہ صبر سے کام لیا  مگر  برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی. مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء نے ہمیشہ صبر سے کام لیا مگر برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی. مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء نے ہمیشہ صبر اور برداشت سے کام لیا ہے، مگر برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، کارکنان سے اب بھی کہتا ہوں کہ تحمل اور برداشت سے کام لیں، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا سانحہ باجوڑ سے متعلق اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سانحہ باجوڑ نے پوری امت کو نڈھال کردیا ہے اور پاکیزہ لوگوں کا اجتماع تھا ، اس اجتماع سے امن کا پیغام دیا جارہا تھا .

    باجوڑ میں امن کنونشن کے نام سے ورکرز کنونشن منعقد کیا تھا، سفاکوں نے امن کے نام سے ہونے والے مسلمانوں کے اجتماع پر حملہ کیا
    46 لوگ شہید اور سو سے دوسو کے درمیان زخمی ہیں، باجوڑ سانحہ دل کو دہلا دینے والا کر بناک واقعہ ہے ، یہ حملہ صرف جے یو آئی پر نہیں بلکہ پورے پاکستان اور امت مسلمہ پر حملہ ہے. جبکہ جاری اعلامیہ میں مزید کہا کہ امن اور فساد ایک دوسرے کے مقابلے میں آئے، جے یو آئی کے کارکن امن کی آواز بلند کر ہے تھے اور مفسدین نے فساد کا مظاہرہ کیا، اللہ تعالی فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، ہمیں اطمینان ہے کہ ہم امن کے علمبردار ہیں ہم مشیت الہی کے علمبردار ہیں.

    مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ ہماری آواز قرآن اور رسول اللہ کی آواز ہے، اس طرح کے واقعات سے یہ سلسلہ رک نہیں سکتا، ہم پر حملے ہوئے کارکن شہید ہوئے تمام قربانیوں کے باوجود حق کا پرچم بحال رکھا اور کبھی جھکنے نہیں دیا ہے جبکہ یہ ایک نظریاتی جنگ ہے ایک طرف امن کے علمبردار ہیں اور دوسری طرف فساد کے علمبردار ہیں جو تمام مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں جبکہ حملہ آور جاہل سفاک قاتل اور اسلام کے دشمن ہیں.

    مولانا کا کہنا تھا کہ ملک دشمنوں کے خلاف ہماری امن کی تحریک جاری رہے گی، ہم امت مسلمہ اور پاکستان کے بقاء کی جنگ لڑیں گے اور ان شاء اللہ اس میں سرخرو ہونگے ، تمام شہداء سے دلی تعزیت کرتا ہوں میں خود مستحق ہوں کہ مجھ سے تعزیت کی جائے، شہید ہونے ولے میرے بھائی ساتھی اور جے یو آئی کے کارکن ہیں، سیاسی محاذ پر جے یو آئی مسلمہ قوت ہے ایسے فساد سے ہمارا راستہ روکا جارہا ہے

    مولانا فضل الرحمان کے کے مطابق اس طرح کے واقعات سے جےیوآئی کا عوام سے رابطہ توڑا جا رہا ہے، تجربہ ہے کہ یک چند دنوں کی ایک لہر ہے جو اپنا بھیانک اور کالا کردار تاریخ کے اوراق پر رقم کرکے فارغ ہو جاتا ہے، جے یو آئی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو اپنی جد وجہد کو جاری رکھے ہوئے ہے تمام تر مشکلات کے باوجود ترقی کی ہے عوام میں مقبولیت حاصل کی ہے، ان گھناونے عمل سے نہ پہلے راستہ روک سکے ہو نہ آج روک سکتے ہو.

    جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ نے کہا کہ چند لوگوں کو حق کس نی دیا ہے سب کو کافر کہنے والے، ان حربوں سے ہمیں اپنی فکر اور نظریے کو نہیں ہٹا سکتے، ہمارا عہد اللہ کے ساتھ ہے اور ہمیں اللہ تعالی اپنے عہد پر پورا اترنے کی توفیق دے، جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوری کا اجلاس طلب کرلیا ہے لیکن اس سے پہلے قبائلی زعماء کا جرگہ بلانے کی تجویز ہے، زعماء اور پختون قیادت بیٹھے اور اس خطے کے بارے میں سوچیں، حال میں خیبر ایجنسی میں دو واقعات ہوئے ،جس میں مسلمانوں کا خون بہا ہے ،کچھ عرصہ پہلے کورم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکائے گئے اور اس خطے کے مسلمانوں کا خون بہایا گیا، پورا پشتون بیلٹ آج جل رہا ہے بلوچ بیلٹ جل رہا ہے کراچی تک فسادات کی لہر تھم نہیں رہی

    مولانا نے کہا کہ ملک کو کوئے مستحکم کرنا ہے، کیا ہمارے ریاستی ادارے صرف اس بات کے لئے رہ گئے ہیں کہ وہ کسی غریب مولوی صاحب کو تھانے میں لے آئی اور ان پر الزمات لگائیں کہ تمہارے پاس کسی نے کھانا کھایا یا چائے پی ؟ یہی ان کی صلاحیتیں ہیں، چھبیس ادارے ہیں انٹیلیجنس کے وہ کہاں غائب ہیں، اتنا بڑا انٹیلیجنس فیلئر بے گناہوں کو تنگ کرکے اپنی کاروائی ڈالتے ہیں کاغذی کروائی بھرتے ہیں.

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے کیا اعتماد دلا سکتے ہیں کہ ریاست میری جان کی حفاظت کرسکتی ہے یا نہیں یا صرف مجھ سے ٹیکس وصول کریں گے اور میری جان ومال کی حفاظت نہیں کرے گی، مجھے شکایت ہے مجھے کرب ہے میں نے ریاست کو بچانے کے لئے قربانیاں دی ہیں میں نے اس ریاست کے بقاء اور استحکام کے لئے جد وجہد کی ہے ، میں ریاست کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہوں لیکن اکیلے ایک جماعت کیا کرسکتی ہے ۔پوری قوم ریاستی اداروں کی طرف دیکھ رہی ہے جو ریاست جی حفاظت کے ذمہ دار اور مسؤل ہیں اسی کے لئے وہ تنخواہیں لے رہے ہیں وہ کہاں ہیں آج ؟ کب وہ ہمارے شکوں کا ازالہ کریں گے کب وہ ہمارے زخموں کا مرہم بنیں گے کب وہ ہمارے مستقبل اور آنے والی نسلوں کی حفاظت کا نظام بنائیں گ جبکہ ان ساری چیزوں پر قومی سطح پر غور کرنا ہے تمام مکاتب فکر کو بیٹھنا ہے ان شاء اللہ ہم سب کو بلائیں گے پی ڈی ایک کو بھی بلانا پڑے گا سیاسی جماعتوں کو اکٹھا بیٹھنا پڑے گا
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    انہوں نے کہا کہ عنقریب اس حوالے سے ہمہ جہت رابطے کرونگا ،ذمہ داروں کے ساتھ گفتگو بھی کرونگا، ساری صورتحال سامنے رکھونگا کہ ہم سالہا سال سے جس کرب میں ہیں اور جس کرب کا اظہار لر رہے ہیں، کرب کا اظہار جرم ہوجاتا ہے لیکن ہمیں کرب میں مبتلا کرنے والے دندناتے پھریں، ان ساری چیزوں پر قومی سطح پر غور کرنا ہے، ہم بری طرح دہشت گردی کا شکار ہیں لیکن دہشت گردی کا خاتمہ مقصود ہونا چاہیے اس پر تجارت جی اجازت نہیں دی جا سکتی، جرم کا خاتمہ چاہیے اس کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا خود بہت بڑا جرم ہے

  • سولیسیٹرز واچ ڈاگ کے تین قانونی فرم ڈرامائی طور پر بند

    سولیسیٹرز واچ ڈاگ کے تین قانونی فرم ڈرامائی طور پر بند

    برطانوی ادارے میل آن لائن کے انکشاف کے بعد سولیسیٹرز واچ ڈاگ نے تین قانونی فرموں کو ڈرامائی طور پر بند کر دیا ہے جو ہزاروں پاؤنڈ کے عوض جھوٹے کیس بنا کر سیاسی پناہ دلوانے کی آفرز کرتے تھے جبکہ میل آن لائن کے مطابق وکیلوں کے نگران ادارے نے آج ڈرامائی طور پر ان تین کمپنیوں کو بند کر دیا ہے جن کا انکشاف میل نے ہزاروں پاؤنڈز میں سیاسی پناہ کے جھوٹے دعوے جمع کرانے کی پیشکش بارے کیا تھا.

    جبکہ ریگولیٹر نے ایک قانونی مشیر پر وکیلوں کی فرموں کے لئے کام کرنے پر بھی پابندی عائد کردی ہے کیونکہ اس نے غیر قانونی تارکین وطن کے کی شکل میں موجود ہمارے خفیہ رپورٹر کو بتایا کہ وہ اسے رقم کے بدلے سیاسی پناہ دلوائیں گے جبکہ اس کے بدلے جھوٹے تشدد اور فیک دھمکیوں کی کیس فائل بنائی جائے گی.

    جبکہ برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک اور لارڈ چانسلر الیکس چاک نے کہا تھا ایسی غیر قانونی حرکت پر ان کے خلاف قانون کے مطابق نمٹا جائے گا، جبکہ میل نے لکھا کہ وزیر داخلہ سوئیلا بریورمین، شیڈو اٹارنی جنرل ایملی تھورن بیری اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے ہوم افیئرز کے ترجمان ایلسٹر کارمائیکل ان تمام سیاست دانوں میں شامل تھے جنہوں نے قانونی حکام سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ لارڈ چانسلر کے ایک خط کے جواب میں سالیسیٹرز ریگولیشن اتھارٹی بورڈ کی چیئرمین اینا بریڈلی نے کہا کہ وہ میل کے ذریعہ شناخت کیے گئے وکیلوں کے ظاہری رویے سے ‘حیران’ ہیں۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ریگولیٹر نے فوری طور پر کارروائی کی ہے جس میں تین فرموں میں کام کرنے والے وکیلوں کو معطل کرنا اور ان فرموں کو بند کرنا شامل ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ایس آر اے نے ایک اور فرم میں کام کرنے والے ایک غیر منظم شخص کے خلاف بھی ایک حکم جاری کیا ہے جو اسے کسی بھی ایس آر اے ریگولیٹڈ فرم کے ساتھ یا اس کے لئے کام کرنے سے روکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واچ ڈاگ نے مزید شواہد جمع کرنے کے لیے ملوث دو فرموں کا فوری معائنہ بھی شروع کر دیا ہے اور ہمارے اقدامات کو مربوط کرنے کے لیے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    بریڈلی نے مزید کہا کہ ریگولیٹر اپنی نئی ہدایات پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے امیگریشن سیکٹر کا وسیع پیمانے پر معائنہ بھی شروع کر رہا ہے۔ اس کا آغاز آئندہ چند ہفتوں میں ہوگا اور اس میں پناہ کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کے مختلف طبقوں کو شامل کیا جائے گا اور ڈیلی میل کی تحقیقات میں اٹھائے گئے مسائل کو مدنظر رکھا جائے گا۔ جبکہ ایس آر اے ہمارے قوانین اور قانونی فرموں کے لئے دستیاب بہترین طریقہ کار کے بارے میں معلومات کو وسعت اور فروغ دے گا۔

  • قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 منظور کرلیا

    قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 منظور کرلیا

    سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 منظورکثرت رائے سےمنظور کرلیا۔

    قومی اسمبلی میں وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پیش کیا جس کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو پانچ سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی۔ جبکہ ترمیمی بل کے مطابق آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہوگی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا۔

    آرمی ترمیمی بل کے مطابق اس قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا، علاوہ ازیں عام عہدے پر تعینات افسر ریٹائرمنٹ، استعفیٰ ، برطرفی کے دو سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکے گا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    ترمیمی بل کے مطابق حساس ڈیوٹی پر تعینات اعلی افسران ریٹائرمنٹ کے بعد پانچ سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گے، خلاف ورزی کرنے والے کو دو سال تک سخت سزا ہو گی۔ بل میں کہا گیا ہےکہ آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکٹرانک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 کے مطابق آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگریزی پھیلائے تو اسے دو سال تک قید اور جرمانہ ہو گا۔

  • گھریلو ملازمہ تشدد معاملہ؛ سول جج کا موقف سامنے آگیا

    گھریلو ملازمہ تشدد معاملہ؛ سول جج کا موقف سامنے آگیا

    گھریلو ملازمہ رضوانہ پر مبینہ تشدد کرنے والی خاتون کے شوہر سول جج عاصم حفیظ کا کہنا ہے کہ جب بچی گھر گئی تو بالکل ٹھیک تھی، میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے، بچی کے والدین پیسوں کی لالچ یا کسی کی ہدایت پر الزامات لگا رہے ہیں۔ جبکہ گھریلو ملازمہ 14 سالہ رضوانہ پر مبینہ بہیمانہ تشدد کرنے والی خاتون کے شوہر سول جج عاصم حفیظ نے نجی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میری اہلیہ نے گھر کے کاموں کے لئے اپنی دوست کو ملازمہ کا کہا تھا، جس پر رضوانہ کو ہمارے گھر لایا گیا جبکہ بچی کے والدین اس کی عمر 14 سال بتارہے ہیں، لیکن جب وہ ہمارے گھر آئے تو بتایا تھا کہ رضوانہ کی عمر 16 سے 17 سال ہے، اور ضلعی قوانین کے تحت یہ عمر ملازمت کے قابل تھی، جس پر بچی کو گھر میں ملازمت پر رکھا، اور اس کے گھر والوں کو 10 ہزار یا اس سے زیادہ رقم بھجواتے تھے۔

    سول جج کا کہنا تھا کہ میں بچی سے کوئی چیز لانے کا کم ہی کہتا تھا، اور بات بھی کم ہی کرتا تھا، وہ ملازمت کے دوران متعدد بار اپنے والدین سے ملنے گئی، تاہم وہ گھر جانے سے ڈرتی تھی، مجھے اہلیہ نے بتایا تھا کہ بچی کہتی ہے کہ وہ گھر گئی تو اسے والدین ماریں گے، کیوں کہ تنخواہ بند ہوگی اور انہیں اس کا خرچ برداشت کرنا پڑے گا۔ سول جج نے بتایا کہ بچی کا تعلق غریب خاندان سے تھا، وہ گندی رہتی تھی اور چہرے اور سر پر خارش کرتی تھی، جس کی وجہ سے اس کے سر میں زخم بن گئے تھے، 8 جولائی کو اسے انفیکشن ہوا تو میں نے اس کا علاج بھی کروایا۔

    عاصم حفیظ کا کہنا تھا کہ میری اہلیہ کا مسئلہ ہے کہ وہ سخت مزاج ہیں، اور کبھی سخت بول دیتی ہیں، لیکن بچی کے حوالے سے اہلیہ نے بتایا ہے کہ انہوں نے کبھی مار پیٹ نہیں کی۔ سول جج نے بتایا کہ رضوانہ جس دن اپنے گھر واپس جارہی تھی اس کی حالت ایسی نہیں تھی جو میڈیا پر دکھائی گئی، اس کے جاتے ہوئے میں ناشتہ کررہا تھا، وہ میرے پاس سے گزری اس نے سامان بھی اٹھا رکھا تھا، اس کے بازو یا چلنے میں کوئی تکلیف نہیں تھی۔

    عاصم حفیظ کا کہنا تھا کہ کہا جارہا ہے کہ ہم بچی کو بھوکا رکھتے تھے، بچی کے والدین پیسوں کی لالچ یا کسی کے کہنے پر الزامات لگا رہے ہیں، انہیں اس حوالے سے کوئی ہدایات دے رہا ہے، میرے حوالے سے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں جا کر پوچھ لیں، جہاں مجھے ملنے والا خاکروب بھی کھائے پیے بغیر واپس نہیں جاتا، اور میرے گھر میں کوئی بھوکا رہے تو مجھے مر جانا چاہئے۔

    سول جج نے کہا کہ میڈیا ٹرائل کی وجہ سے میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی سے اپنی پوسٹنگ کھو دی ہے، آپ جا کر معلوم کرسکتے ہیں کہ میرے جانے پر لوگ افسردہ اور اور ان کی آنکھیں نم ہیں، میرے حلقہ احباب سے پوچھا جائے کہ میں کس شخصیت کا مالک ہوں۔ عاصم حفیظ کا کہنا تھا کہ میں اور میرا پورا خاندان سفاکانہ میڈیا ٹرائل کا شکار ہیں، ہمارا ذہنی سکون اور عزت سب برباد ہوچکا ہے، سول سوسائٹی اور میڈیا کو سمجھنا چاہیے کہ جج اور ان کے اہلِ خانہ بھی انسان ہیں، وحشیانہ میڈیا ٹرائل سے بہتر ہے کہ ہمیں ذبح کردیا جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    سول جج نے مزید کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں ہم بااثر اور طاقتور ہیں، لیکن ہم عام مزدور کی طرح ایسے حالات میں اپنا دفاع بھی نہیں کر پا رہے، ملازمت کے ضابطہ اخلاق کے تحت میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں جو ان کی بدقسمتی ہے، رضوانہ کے جسم پر چوٹوں کا فیصلہ وقت کرے گا، لیکن اگر ہم بے قصور ثابت بھی ہوگئے تو ہمارے خاندان پر لگنے والے وحشیانہ زخموں کا ازالہ کون کرے گا، ہمارے بچے مستقبل میں معاشرے کا سامنا کیسے کریں گے۔ تاہم واضح رہے کہ جنرل اسپتال لاہور میں مالکن کے تشدد کی شکار گھریلو ملازمہ رضوانہ کا 7 روز سےعلاج جاری ہے، بچی کی حالت مسلسل کبھی بگڑ اورکبھی سنبھل رہی ہے، اسپتال انتظامیہ کے مطابق رضوانہ کو مسلسل سانس میں دشواری کا سامنا ہے، ان کی برونکوسکوپی دوبارہ کی گئی ہے، اس کے آئندہ 48 گھنٹے اہم ہیں انہیں وینٹیلیٹر پر منتقل کیا جاسکتا ہے۔

  • تین ون ڈے انٹرنیشنل میچ سیریز؛ سری لنکا میں کھیلی جائے گی، افغانستان بورڈ کی تصدیق

    تین ون ڈے انٹرنیشنل میچ سیریز؛ سری لنکا میں کھیلی جائے گی، افغانستان بورڈ کی تصدیق

    تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز 22 سے 26 اگست تک سری لنکا میں کھیلی جائے گی، افغانستان بورڈ کی تصدیق

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز 22 سے 26 اگست تک سری لنکا میں کھیلی جائے گی جبکہ افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کی تصدیق کردی ہے۔ یہ سیریز فیوچر ٹور پروگرام کا حصہ ہے۔ پہلا ون ڈے انٹرنیشنل 22 اگست کو ہمبنٹوٹا میں کھیلا جائے گا۔ دوسرا ون ڈے بھی 24 اگست کو ہمبنٹوٹا میں ہی کھیلا جائے گا جبکہ کولمبو 26 اگست کو تیسرے اور آخری ون ڈے انٹرنیشنل کی میزبانی کرے گا۔

    تاپم یاد رہے کہ پاکستان اسوقت آئی سی سی کی عالمی ون ڈے رینکنگ مین دوسرے نمبر پر ہے جبکہ افغانستان کا نمبر آٹھواں ہے۔ پاکستانی ٹیم سترہ اگست کو سری لنکا پہنچے گی اورانیس سے اکیس اگست تک ہمبنٹوٹا میں ٹریننگ کرے گی،ٹیم 27 اگست کو وطن واپس روانہ ہوگی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ

    خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا پاکستان اور افغانستان کے درمیان تین ون ڈےمیچز کی سیریزہوگی پی سی بی کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے بھی ون ڈے سیریز کی تصدیق کردی تھی یہ سیریز فیوچر ٹور پروگرام کا حصہ ہے،

  • چین کے نائب وزیر اعظم کی آرمی چیف سے ملاقات

    چین کے نائب وزیر اعظم کی آرمی چیف سے ملاقات

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چین کے نائب وزیراعظم ہی لیفنگ نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی ہے جبکہ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے اور مضبوط بنانے کی خواہش کا اعادہ کیا۔


    خیال رہے کہ چین کے نائب وزیر اعظم ان دنوں اسلام آباد میں پاکستان کے دورہ پر ہیں اور سی پیک کی دس سالہ تقریبات کے سلسلے میں اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم منصوبہ ہے، سی پیک سے خطے میں سماجی ترقی کا آغاز ہوا، سی پیک ہمارے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہے۔چین کے نائب وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کے نئے دور کا آغاز ہے، پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری ہے، دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستانہ تعلقات ہیں۔انہوں ںے مزید کہا کہ سی پیک کی دس سالہ تقریبات میں شرکت کرنے پر خوشی محسوس کررہا ہوں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ

    علاوہ ازیں اس سے قبل چین کے نائب وزیراعظم نے صدر مملکت اور وزیر اعظم سے بھی ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں کے تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور آئیندہ کا لائحہ عمل بھی زیر بحث لایا گیا جبکہ پاک چین دوستی کو سراہا گیا اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو جاری رکھنے کا عزم کیا.

  • گیارہ  ماہ سے کلیم اللہ سلیم اللہ کھیلا جا رہا ہے. عطاء تارڑ

    گیارہ ماہ سے کلیم اللہ سلیم اللہ کھیلا جا رہا ہے. عطاء تارڑ

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا،توشہ خانہ کیس میں ملزم تین بار عدالت پیش ہوا لیکن جواب دینے سے قاصر رہا، 11ماہ سے کلیم اللہ ،سلیم اللہ کھیلا جا رہا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےعطاء تارڑ نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا واحد کیس ہے جو 11 ماہ سے زیر سماعت ہے اور ملزم تین بار عدالت پیش ہوئے اور جواب دینے سے قاصر رہے، ملزم راہ فرار اختیار کر رہا ہے کہ یہ نہ بتانا پڑے کہ تحفہ بیچ کر حاصل کرنے والی رقوم جمع کرائی گئی رقوم سے مطابقت کیوں نہیں رکھتیں۔

    انکا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی امید کا عالم تو دیکھیں آپ دوسری دفعہ سپریم کورٹ کیسے جا سکتے ہیں؟ گزشتہ سپریم کورٹ بنچ نے معاملہ واپس ہائی کورٹ بھیجا تھا، چیئرمین تحریک انصاف نے آج عجیب بہانے بنائے ہیں کہتے ہیں سوالنامہ عاشورہ میں ملا،پھر کہتے ہیں کہ اکاؤنٹنٹ سے بات کرنی ہے، مقدمہ جب منطقی مراحل میں ہے تو بہانے بن رہے ہیں۔ یہ واحد کیس ہے جس میں سپریم کورٹ،ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ نے کیس روکنے کی درخواستوں کو خارج کیا۔

    عطاء تارڑ نے کہا کہ ہر کسی کی درخواست کو نمبر نہیں لگتا ان کی درخواست پر آج ہی نمبر لگ گیا ہے ، چیئرمین تحریک انصاف کو جسمانی ریمانڈ کے دوران سپریم کورٹ سے ریلیف ملا ، عام شہری جو لاڈلا نہیں اس کو اپیل کا ایک حق ہوتا ہے،ایک ملزم اپنا بیان نہیں ریکارڈ کرانا چاہ رہا ،اعلیٰ عدلیہ کی مداخلت بار بار کیوں کرائی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو معلوم ہے کہ وہ چور ہے اس کے وکیل علی ظفر کے اعترافی بیان موجود ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    انہوں نے کہا کہ ملزم توشہ خانہ کا ٹرائل تکنیکی بنیادوں پر تاخیر کا شکار کرنا چاہتے ہیں، ملزم سپریم کورٹ میں کہتے ہیں جج پر اعتبار نہیں ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ جج کے بارے ہم فیصلہ دیں گے۔ سپریم کورٹ کو کہا جاتا ہے کہ سٹے دے دیں ،کیا یہ سہولت کسی بھی سائل کو حاصل ہے؟ان کے وکلاء چیف جسٹس سے کیوں ملے ،چیف جسٹس کو انہیں سماعت کا موقع نہیں دینا چاہئے تھا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی پر پابندی لگانے پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

  • سینیٹ میں جو بل پیش  ہوا اس پر اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ فیصل کریم کنڈی

    سینیٹ میں جو بل پیش ہوا اس پر اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ فیصل کریم کنڈی

    وفاقی وزیر مملکت اور پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء فیصل کریم خان کنڈی کا کہنا ہے کہ منسٹر آف سٹیٹ نے سینیٹ میں ایک بل پیش کیا جس میں پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے. نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ اپنے اتحادیوں کو آن بورڈ لیتی ہے جبکہ ہم نے کبھی ایسا نہیں سوچا جبکہ جو بل لایا گیا اعتماد میں نہ لینے کی وجہ سے ہم سمیت دیگر جماعتوں کے ارکان نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔

    فیصل کریم کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ ہم تمام لوگوں کو آن بورڈ لیکر دیکھیں گے کہ اس بل پر کیا ہو سکتا ہے اور کیا نہیں، ہم ایسا بل نہیں لانا چاہتے جو کل کو ہمارے ہی گلے پڑ جائے جبکہ نگران سیٹ اپ کے حوالے سے انہوں نے احسن واحد کو بتایا کہ نگران سیٹ اپ کیلئے پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹی دوبارہ مل بیٹھے گی اور اس کمیٹی میں نام شیئر ہونگے جس کے بعد اس پر پر بحث ہوگی۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا ہے کہ ابھی نگران وزیراعظم کے نام کیلئے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، سیاسی لوگوں کے نام سامنے آ رہے ہیں اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    رہنما پیپلز پارٹی فیصل خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیا کبھی کسی سیاستدان کو کہا گیا ہے کہ ڈیپوٹیشن پر جج یا بیوروکریٹ بن جائیں، کیا سب لوگوں نے ہمارے پاس ہی آنا ہے کبھی کسی جج کو کبھی کسی بیوروکریٹ کو لے آئیں، اس کا کیا مطلب ہے جج اور بیوروکریٹ اچھی سیاست کر لیتے ہیں۔جبکہ ماضی میں ہم نے تجربے کیے ہیں اور انہی لوگوں کو بٹھا دیا لیکن جب آر ٹی ایس کا سوئچ آف ہوا تو یہ خاموش تھے، لیکن جب الیکشن گزر جاتے تو یہ کہتے کہ ہمیں تو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

  • سی پیک  سے خطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا. نائب وزیر اعظم چین

    سی پیک سے خطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا. نائب وزیر اعظم چین

    چین کے نائب وزیر اعظم ہی لیفنگ ان دنوں پاکستان کےدورہ پر ہیں اور انہوں ایک تقریب میں کہا ہے کہ سی پیک دونوں ممالک کے درمیان اہم منصوبہ ہے جس سےخطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا، پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری ہے۔ اسلام آباد میں چین پاکستان اکنامک کوریڈور کی 10 سالہ تقریب سےخطاب کرتے ہوئےسی پیک کی دس سالہ تقریب میں شرکت سے خوشی ہوئی،سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کاحصہ ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان فلیگ شپ منصوبے ہے۔

    جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک نے دونوں ممالک کے مفاد کو نئی جلا بخشی ہے، اوریہ منصوبہ پاک چین دوستی کے نئے دور کا آغاز ہے،دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ اور تاریخی تعلقات ہیں،پاکستان ، چین اچھے پڑوسی ،دوست اور پارٹنر ہے۔ ہی لیفنگ نے کہا نے کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان میں سڑکوں کے جال بچھائے گئے سی پیک کے تحت اربن ریلوے،فائبر آپٹیکل کے منصوبوں کو عمل جامہ پہنائیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ توانائی بحران ختم کرنے میں پاک چین اقتصادی رہداری (سی پیک) نے اہم کردار ادا کیا جس کے باعث ملکی برآمدات میں اضافہ ہوا، سی پیک کے تحت منصوبوں کو وقت سے پہلے مکمل کیا۔

    سی پیک کے 10 برس مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ چند منصوبوں پر ابھی بھی کام جاری ہے جو تکمیل کے مراحل میں ہے، پاکستان اور چین آئرن برادرز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی قیادت نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دوستی نبھانے میں اہم کردار ادا کیا، آج دونوں ممالک کے لیے یاد گار دن ہے، سی پیک کے تحت پاکستان میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، چند منصوبوں پر ابھی بھی کام جاری ہے جو تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سانحہ باجوڑ کے باعث سی پیک کی سالگرہ سادگی سے منارہے ہیں، اب ہم سی پیک کے دوسرے مراحل میں داخل ہورہے ہیں، صدر شی چنگ پنگ نے دورہ پاکستان کے موقع پر سی پیک کا تحفہ دیا۔

  • گوگل نے نئی پالیسی جاری کردی

    گوگل نے نئی پالیسی جاری کردی

    دنیا کی معروف ترین ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے نئی پالیسی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیفشل اینٹیلجنس سے بنائے گئے ریویوز گوگل کی پالیسیوں کے خلاف ہیں لہذا انکی اجازت نہیں ہے اور ان کو اسپیم تصور کیا جائے گا۔ جبکہ گوگل کے مطابق صارفین ایسا کونٹینٹ دیکھیں تواپنی فیڈ میں موجود is_spam نامی فیچر کی مدد سے اس کی نشان دہی بطور اسپیم کریں۔

    گوگل کی طرف سے جاری کردہ نئی پالیسی کے مطابق آٹو میٹڈ کنٹینٹ کے بارے میں کہا گیاہے کہ کمپنی آٹومیٹڈ پروگرام یا آرٹیفشل اینٹیلجنس سےلکھے گئے ریویوز کی ہرگز اجازت نہیں دیتی ہے، اگر کسی صارف کو ایسا کنٹینٹ دکھائی دے تو is_spam فیچرکا استعمال کرکے اسپیم مارک کردیا جائے، علاوہ ازیں گوگل کی پالیسی شر انگیز، نازیبا اور توہین آمیز مواد کے استعمال سے روکتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    خیال رہے کہ گوگل کی جانب سے نئی اَپ ڈیٹ کی گئی پالیسی میں غیر قانونی کنٹینٹ، نقصان دہ لنک یا وہ لنک جو میلویئر، وائرس یا نقصان دہ سافٹ ویئر جیسے ہوں وہ سختی سے منع کئے گئے ہیں، مصنوعی ذہانت اور آٹو میٹڈ کنٹینٹ کی پروڈکٹ ریٹنگ پالیسیز 28 اگست 2023ء سے نافذ العمل ہوگی۔