Baaghi TV

Author: +9251

  • اقتدار کے بھوکوں کا جمعہ بازار لگا ہوا جبکہ عوام کا چولہا نہیں جل رہا۔ شیخ رشید

    اقتدار کے بھوکوں کا جمعہ بازار لگا ہوا جبکہ عوام کا چولہا نہیں جل رہا۔ شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اقتدار کے بھوکوں کا جمعہ بازار لگا ہوا جبکہ عوام کا چولہا نہیں جل رہا۔

    سابق وفاقی وزیرشیخ رشید نے کہا ہے کہ بجلی 4 اعشاریہ پانچ صفر روپے فی یونٹ مزید مہنگی کردی گئی۔ ملک تقریباً ڈیفالٹ ہوچکا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ اقتدار کے بھوکوں کا جمعہ بازار لگا ہے اورعوام کا چولہا نہیں جل رہا. ان کا مزید کہنا ہے کہ عوام خود بخود سڑکوں پر نکلیں گے۔ فضل الرحمان نے توسیع دینے والی پارلیمنٹ کی مدت بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساری سیاست نومبر کے گرد گھوم رہی ہے۔


    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ن اورش کی سیاست آرپار ہو جائے گی اورپی ڈی ایم الیکشن سے پہلے ٹوٹ جائے گی۔ گندم کی قیمت دو ہزار سے چار ہزار من مقرر کرنا غریب کوگھاس کھانے پر مجبورکرنا ہے۔سردیوں سے پہلے ہی گیس کا شارٹ فال شروع ہو گیا۔ سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھی چندے کی ایمانداری کی یقین دہانی کرائی جارہی ہے۔


    ان کے مطابق: نہ کوئی غیرملکی امداد ملی اور نہ ملکی امداد کی ساکھ ہے۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ٹیلی تھون دکھانے پربھی پابندی ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے رونے سے معیشت ٹھیک نہیں ہو گی۔ یو این کا خطاب ایک بہانہ ہے،اصل میں نواز شریف کومنانا ہے۔ سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگردو2 مہینوں تک سیلابی پانی نہیں نکالا تو گندم،کپاس اورگنے کی بوائی نہیں ہو پائے گی جس سے غذائی بحران پیدا ہو گا۔

  • شمعون عباسی نے ریشم کو بھگو بھگو کر لگا دیں

    شمعون عباسی نے ریشم کو بھگو بھگو کر لگا دیں

    جیسا کہ اداکارہ ریشم کی دریا کے کنارے مچھلیوں کو کھانا ڈالنے کی وڈیو بہت وائرل ہو رہی ہے اس پر ہر کوئی تبصرہ کررہا ہے.اسی طرح کا تبصرہ اداکار شمعون عباسی نے کیا . شمعون عباسی نے اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر ریشم کی اسی وڈیو کو شئیر کیا اور اسکے کیشپن میں لکھا ” میں یا کوئی بھی آپ کے اچھے برے عمل کو جج کرنے والا کوئی نہیں مگر جب اس طرح کے عمل میں حصہ لیا کریں تو کیمرہ استعمال کرنے سے اجتناب کیا کریں اور اگر ضروری ہو تو تھوڑا سا گلوبل انوائرمنٹ کے بارے میں سوچ کر یہ سب کریں. پلاسٹک کا استعمال پوری دنیا میں خطرناک سمجھا جاتا ہے اسے ڈسٹ بن میں پھینکا کریں . اللہ آپ کے اچھے عمل کے بدلے میں آپ کے رزق میں اضافہ کریں امین ”. یوں شمعون عباسی نے

    اداکارہ ریشم کو عزت احترام اور محبت سے سنا دیں اگر یہ کہا جائے کہ بھگو بھگو کر لگائیں تو بے جا نہ ہو گا.
    یاد رہے کہ اداکارہ ریشم کی مچھلیوں کو دریا کے کنارے کھڑے ہو کر خوراک ڈالنے والی وڈیو سوشل میڈیا پر اچھی خاصی تنقید کی زد میں ہے . شمعون عباسی ایک باصلاحیت اداکار ہیں لیکن وہ ایک عرصہ سے شوبز کی چکا چوند سے الگ ہی نظر آتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر وہ باقاعدگی سے نظر آرہے ہوتے ہیں ھالانکہ ان کے پرستار ان کو سکرین پر دیکھنا چاہتے ہیں.

  • ریشم پھنس گئیں مشکل میں

    ریشم پھنس گئیں مشکل میں

    اداکارہ ریشم جو اکثر سوشل میڈیا پر اپنی ایسی وڈیوز شئیر کرتی رہتی ہیں کہ جن میں وہ کبھی نیاز دلا رہی ہوتی ہیں کبھی کوئی دیگ بنا رہی ہوتی ہیں کبھی کسی کی مدد کررہی ہوتی ہیں. ایک ایسی ہی وڈیو ان کی جانب سے حال ہی میں سوشل میڈیا پر جاری کی گئی جس میں وہ دریا کے کنارے اپنی گاڑی روک کر باہر نکلتی ہیں اور باہر نکل کر وہ مچھلیوں کے کھانے کےلئے گوشت اور ڈبل روٹی پھینکتی ہیں ان کے اس عمل کی تو تعریف ہورہی ہے لیکن انہوں نے جو گوشت اور گوشت کے پلاسٹک کے تھیلے دریا میں خوراک پھینکنے کے ساتھ ہی پھینک دئیے اس پر بہت زیادہ تنقید ہو رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اداکارہ ماحولیاتی اور آبی آلودگی سے بے خبر ہیں شاید ان کو پتہ ہی نہیں کہ آبی اور

    ماحولیاتی آلودگی کیا ہوتی ہے. سوشل میڈیا پر ریشم پر شدید تنقید کی جا رہی ہے تاہم ریشم کی جانب سے اس ھوالے سے نہ معذرت اور نہ ہی کوئی رد عمل سامنے آیا ہے . لیکن جنہوں نے بھی وڈیو دیکھی ہے وہ اداکارہ پر تنقید کے نشتر برسا رہے ہیں. ناقدین کا کہنا ہےکہ صرف ریشم ہی نہیں بلکہ ہمارے ہاں ہر دوسرا انسان اس طرح کے کام کرتا پایا جاتا ہے جو کہ نہایت ہی غلط ہے لوگوں کو شعور اور آگاہی دئیے جانے کی اشد ضرورت ہے.

  • بارے کچھ پاکستان پیکٹ اور ٹرسٹ کرامیٹک کی جانب سے منعقدہ اینٹی ٹوبیکو پوسٹ کارڈ مقابلہ کے!!! — بلال شوکت آزاد

    بارے کچھ پاکستان پیکٹ اور ٹرسٹ کرامیٹک کی جانب سے منعقدہ اینٹی ٹوبیکو پوسٹ کارڈ مقابلہ کے!!! — بلال شوکت آزاد

    مجھے بچپن سے سیگریٹ /تمباکو نوشوں اور کسی بھی طرح کے نشے کے عادی لوگوں سے شدید الرجی ہے۔ ۔ ۔ نفرت نہیں کہوں گا کیونکہ یہ بہت ہی سخت اور شدید جذبہ ہے جس کی ذد میں میرے بہت سے پیارے اور دوست احباب بھی آجائیں گے البتہ مجھے سیگریٹ/تمباکو نوشوں سے الرجی ہے یہ بات ان کو معلوم ہے اور وہ جب میری معیت میں ہوں تو میرا لحاظ اور احترام کرتے ہوئے سیگریٹ/تمباکو نوشی یا تو کرتے ہی نہیں یا پھر مجھ سے فاصلہ اختیار کرکے اپنا شوق یا نشہ پورا کرلیتے ہیں۔

    کہتے ہیں جیسی نیت ویسی مراد۔ ۔ ۔ میری اولین نوکری ایک سیفٹی آفیسر کے طور پر جنوبی پنجاب کی ایک بہت بڑی فرٹیلائزر فیکٹری کی کنسٹرکشن کے وقت وہاں تعیناتی سے شروع ہوئی, میری کنسٹرکشن کمپنی جس کا میں ملازم تھا وہ چائنہ کی مشہور و معروف کیمیکل انجنیئرنگ کمپنی تھی اور جنہوں نےسیفٹی ڈیپارٹمنٹ جس کو انگریزی میں Health, Safety & Environment کہا جاتا ہے میں سب لوکل پاکستانی ہی بھرتی کیے تھے۔

    تب میرا کام ورکنگ اینڈ کنسٹرکشن سائیٹ پر سیفٹی میعارات بتانا اور لاگو کروانا تھا جس میں سب سے زیادہ زور جن باتوں پر ہوتا ان میں سیگریٹ/تمباکو نوشی سرفہرست تھی۔ اس بابت بہت سخت قوانین تھے جن کی ذد میں اکثر لیبر سے لیکر مینجمنٹ لیول تک لوگ آتے اور جرمانہ و سرزنش کا سامنا کرتے لیکن اس بدبخت نشے سے توبہ تائب نہ ہوتے۔

    میں اس عادت یا نشے سے اس قدر عاجز ہوں کہ میرا بس چلے تو میں پاکستان میں اس حوالے سخت قوانین کی داغ بیل ڈالوں لیکن یہ میرے بس میں تو کیا میرے جیسے اور سیگریٹ/تمباکو بیزار لوگوں کے بھی بس کی بات نہیں۔

    ہاں البتہ اس پر آگاہی مہم اور تحریک چلائی جاسکتی ہے تاکہ ہمارے پیارے, اپنے اور دوست اس قبیح فعل سے بچ جائیں اور اپنی صحت اور جیب اور اخلاقی اقدار کو بچالیں۔

    میں ایک ایسی ہی تحریک سے آج ہی روشناس ہوا ہوں جو ایک لمبے عرصے سے پاکستان بھر میں سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف جدوجہد میں پیش پیش ہے۔

    اس تنظیم/تحریک کا نام "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” ہے جس کی شارٹ فارم PACT ہے جو پاکستان میں تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے سول سوسائٹی کے کارکنوں اور ماہرین صحت کے تعاون سے ایک ملک گیر سیگریٹ/تمباکونوشی روک تھام مہم ہے۔ چونکہ تمباکو دنیا میں کثیر اموات کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے اور پاکستان میں اس سے سالانہ 175,000 اموات ہوتی ہیں لہذا اس صورتحال میں عوامی آگاہی کے لیے کام کرنےکی اشد ضرورت ہے لیکن تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کو تمباکو انڈسٹری کے لابنگ گروپس کی طرف سے سخت مخالفت ملتی ہے، اس لیے اس پلیٹ فارم کا مقصد بھی ایسے کسی بھی حربے کو بے نقاب کرنا اور عوامی آگاہی اجاگر کرنا ہے۔

    مزید یہ کہ ان کا مقصد حکومت پر زور دینا ہے کہ وہ ایسی اصلاحات متعارف کرائے جو ہمارے بچوں کو مہلک سگریٹ سے محفوظ رکھیں۔

    اس عظیم مقصد کے تحت "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” یا PACT مختلف ایونٹس اور مقابلوں اور آگاہی پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے۔ جس سے بچوں بڑوں سب میں سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف نفرت پیدا کی جائے اور وہ صحت مند معاشرے کی بنیاد بن سکیں۔

    اسی سلسلے کی ایک کڑی میں PACT اور Trust Chromatic لائے ہیں ایک انوکھا مقابلہ جس کا پہلا سیزن بھی کامیاب رہا تھا سو اب اسی کا دوسرا سیزن لایا گیا ہے جس میں پاکستان کا کوئی بھی شہری حصہ لیکر بیس سے پچاس ہزار روپے تک کا نقد انعام جیت سکتا ہے۔

    مقابلے کی تفصیلات کچھ اسطرح سے ہیں کہ

    آغاز مقابلہ بتاریخ 12 اگست 2022 ہے اور اس مقابلے کا عنوان ہے

    "CHROMATIC PRESENTS POST CARD COMPETITION SEASON 02”

    جبکہ اس کی پرائز منی بالترتیب اول انعام 50000 روے اور دوم انعام 20000 روپے ہوگا جبکہ جیتنے والے امیدواروں کو انعامات ایک بہت بڑی تقریب میں پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کے سامنے دیا جائے گا۔

    اس مقابلے کی تھیم "Ban Nicotine Pouches” اور "Ban Modren Tobacco Products” ہے لہذا جس کو ان میں سے جس موضوع بابت دلچسپی یا معلومات ہو وہ اسی پر پوسٹ کارڈ ڈیزائن کرسکتا ہے۔

    یاد رہے یہ ایک گرافک ڈیزائننگ مقابلہ ہے لیکن اس میں ہر خاص و عام کو موقع دیا جائے گا اس لیے اس مقابلے میں عمر کی حد آٹھ سال سے 25 سال رکھی گئی ہے کیونکہ اس مقابلے کا مقصد ہی بچوں اور نوجوانوں کو سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا حصہ بنانا اور ان کو سیگریٹ/تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہے۔

    آپ اس مقابلے میں کیسےشامل ہوسکتے ہیں؟

    بہت آسان ہے, آپ اپنا ڈیزائن ڈیجیٹلی فوٹوشاپ, الیسٹریٹر, کینوا یا کسی بھی اور سافٹ ویئر و ایپ پر بناسکتے ہیں بلکہ یہاں تک کہ آپ کو کمپیوٹر کی الف ب نہیں معلوم لیکن آپ ڈرائنگ کرسکتے ہیں تو آپ ہاتھ سے ڈرا کرکے بھی مقابلے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    آپ اپنی تخلیق کیسے جمع کرواسکتے ہیں؟

    یہ اور بھی آسان ہے, آپ نے PACT کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فالو کرنا ہے, اپنا ڈیزائن PACT کے فیسبک, انسٹا گرام اور ٹوئٹر اکاؤنٹس پر ٹیگ کرنا ہے اور ساتھ ہی اپنا ڈیزائن بذریعہ PACT ای میل (نام, شہر, عمر اور موبائل نمبر کے ساتھ) ارسال کرنا ہے۔

    "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” یا PACT کا مقابلے لیے دیا گیا ای میل ایڈریس درج ذیل ہے۔

    POSTCARDCOMPETITION2022@GMAIL.COM

    مزید معلومات کے لیے PACT کی آفیشل ویب سائٹ www.pakistanpact.com کا وزٹ کرسکتے ہیں۔

    دیکھیں سیگریٹ/تمباکو نوشی ایک بری عادت ہی نہیں بلکہ جان لیول شوق بھی ہے۔ اس کے عادی افراد ناصرف اپنے لیے بلکہ اپنے پیاروں کے لیے بھی خطرہ ہیں کیونکہ جتنا نقصان ایک سیگریٹ/تمباکو نوش کو ہوتا ہے اتنا ہی اس کے اردگرد موجود لوگوں کو بھی ہوتا ہے۔

    سیگریٹ/تمباکو نوشی کینسر اور ٹی بی جیسے امراض کے پھیلاؤ کی بھی بنیادی وجہ ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ماحولیاتی و اخلاقیاتی آلودگی کی بھی اہم وجہ ہے۔

    آئیے PACT, Trust Chromatic اور باغی ٹی وی کے سنگ اس بری اور جان لیوا عادت و نشے کے خلاف مہم کا حصہ بنیں اور معاشرے کو صحت مند و توانا بنانے میں اپنا حصہ ڈالیے, مقابلے میں حصہ لیں, اپنے خیالات اور معلومات کو رنگوں اور لکیروں سے مزین کریں اور معاشرے کی بہتری میں حصہ ڈالیں اور ساتھ ہی نقد انعام جیتنے کا موقع بھی حاصل کریں۔

  • اللہ کو منہ نہیں دکھانا؟ مشی خان کا حکومت سے سوال

    اللہ کو منہ نہیں دکھانا؟ مشی خان کا حکومت سے سوال

    جیسا کے ہر دوسرا انسان بجلی کے زیادہ بلوں سے بلک اٹھا ہے معمولی بل بھی بیس تیس ہزار سے کم نہیں بھیجا جا رہا. مشی خان بھی چیخ اٹھی ہیں انہوں نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک وڈیو شئیر کی ہے جس میں انہوں نے حکومت پر جی بھر کر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا غصہ نکالا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ گھر بند ہو اور صرف فریج چل رہا ہوں اس کا بھی بل اچھا خاصا آرہا ہے. فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں غریب عوام کو لوٹا جا رہا ہے. مشی خان نے کہا کہ میری تو سمجھ میں نہیں آرہی کہ یہ حکومت آخر کرنا کیا چاہ رہی ہے. مجھے اتنا فرق پڑ رہا ہے تو دوسروں کو

    کتنا پڑتا ہو گا اور خصوصی طور پر ایسے لوگوں کو جن کی تنخواہیں اتنی کم ہیں وہ گھر کا کرایہ دیں بچوں کی سکول کی فیسیں دیں یا صرف بجلی کا بل بھر کے بھوکے پیاسے بیٹھ جائیں. مشی خان نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اللہ کو منہ نہیں دکھانا ، قبروں میں نہیں جانا ؟ یا ساری زندگی یہیں بیٹھے رہنا ہے خدا کا خوف کریں. یاد رہے کہ مشی خان عمران خان کی بہت بڑی سپورٹر ہیں اور ان کے علاوہ کسی کو لیڈر نہیں مانتیں یہی وجہ ہے کہ وہ عمران خان کے علاوہ آنے والی ہر گورنمنٹ کو آڑھے ہاتھوں لیتی ہیں.

  • کیا پوجا مشرا نے بگ باس میں جانے کےلئے سلمان خان سے معافی مانگی ہے؟

    کیا پوجا مشرا نے بگ باس میں جانے کےلئے سلمان خان سے معافی مانگی ہے؟

    پوجا مشرا جو بگ باس میں شرکت کر چکی ہیں، بگ باس سے نکلنے کے بعد انہوں نے بگ باس کی انتظامیہ اور سلمان خان پر بے اتنہا الزامات لگائے اور یہاں تک کہہ دیا کہ بگ باس کے گھر ان کا ریپ ہوا اور سلمان خان نے پوجا کا ساتھ نہیں دیا وہ حقیقت جانتے تھے. پوجا مشرا نے یہ بھی کہا کہ سلمان خان نے ان کو دھوکہ دیا اور بالی وڈ میں انہیں فلمیں دلوانے کی بجائے انہوں نے سوناکشی سنہا کو بریک دیا. اس طرح کے اندھا دھند کئی الزامات پوجا مشرا کی طرف وقتا فوقتا سلمان خان پر لگتے رہے. لیکن انہوں نے یوٹرن لیتے ہوئے سلمان خان سے معافی مانگ لی اور کہا کہ ان کو اکسایا گیا تھا کہ وہ سلمان خان کے خلاف بولیں اور سوناکشی سنہا کی فیملی نے ان پر جادو ٹونے کروائے تاکہ ان کا کیرئیر نہ آگے بڑھ سکے ان

    کو کام نہ ملے سکے اور ان کے حصے کا کام سوناکشی کو ملتا رہے. پوجا مشرا نے جب معافی مانگی تو ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ سلمان خان کے ساتھ ساتھ کلرز ٹی وی بھی ان کو معاف کر دے اور بگ باس 16 میں انہیں ایکبار آنے کا موقع دیں. انہوں‌نے کہا کہ بگ باس نے ان کا بہت خیال رکھا اور وہ چاہتی ہیں کہ وہ ایک بار پھر بگ باس کا حصہ بنیں اور سلمان خان اس سلسلے میں‌ان کی مدد کریں. کہا جا رہا ہے کہ پوجا مشرا نے سلمان خان اور کلرز ٹی وی سے معافی صرف بگ باس میں شریک ہونے کے لئے مانگی ہے. دوسری طرف سلمان خان نے پوجا مشرا کے نہ کسی پہلے بیان پر رد عمل دیا اور نہ ہی ان کی معافی کے بعد کوئی رد عمل دیا ہے.

  • ہمارے دور میں ہیروئنز کو چند گانوں اور رومانوی سینز کے لئے کاسٹ کیا جاتا تھا منداکنی

    ہمارے دور میں ہیروئنز کو چند گانوں اور رومانوی سینز کے لئے کاسٹ کیا جاتا تھا منداکنی

    بالی وڈ اداکارہ منداکنی جو بلا کی خوبصورت اور باصلاحیت اداکارہ تھیں ، انہوں نے اسی کی دہائی میں کیرئیر کا آغاز کیا اور نوے کی دہائی میں انہوں نے شادی کے بندھن میں‌بندھنے کےبعد فلموں سے دوری بنا لی،مندکنی کافی عرصے سے شوبز کی چکا چوند سے دور ہیں یہاں تک کہ وہ کسی فلمی پارٹی میں بھی کم ہی دکھائی دیتی ہیں. انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے کچھ باتیں کی ہیں‌شئیر. انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے دور میں ہیروئنز کے لئے بہت بڑے کردار نہیں لکھے جاتے تھے بلکہ ہیروئنز تو صرف چند

    رومانوی گانوں اور سینز تک محدود ہوتی تھیں انہیں صرف اسی کام کے لئے سائن کیا جاتا تھا. اور مجھے ایک فلم کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپیہ ملتا تھا جو کہ آج کے زمانے کے حساب سے کچھ بھی نہیں ہے. انہوں نے کہا کہ ہمارے دور کے فنکار کوئی بہت زیادہ کمایا نہیں کرتے تھے جبکہ آج کے دور میں‌فنکاروں کو اچھا خاصا معاوضہ دیا جاتا ہے جو شاید آج کے زمانے کے حساب سے ہے. لیکن ہمارے زمانے میں بہت کم پیسے دئیے جاتے تھے. یاد رہے کہ منداکنی کے کریڈٹ پر کافی ہٹ فلمیں ہیں ا ن کا ایک گیت سن صاحبہ سن آج بھی شائقین کو یاد ہے.

  • اہم قومی فیصلے سیاسی مفادات سے مشروط نہیں. وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف

    اہم قومی فیصلے سیاسی مفادات سے مشروط نہیں. وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف

    مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اہم قومی فیصلے سیاسی مفادات سے مشروط نہیں ہوتے۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران خان اقتدار کی ہوس میں اتنا گر چکا ہے کہ آرمی چیف کے تقرر کو الیکشن اور سیاست سے نتھی کررہا ہے۔


    خواجہ محمد آصف نے اپنے ٹوئٹ میں مزید کہا کہ موجودہ حکومت اس ذمے داری سے متعلق مقررہ وقت پر آئین اور ادارے کی بہترین روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔اہم قومی فیصلے سیاسی مفادات سے مشروط نہیں ہوتے۔ جبکہ گزشتہ روز ایک ٹی وی انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی پر اتحادیوں سے مشاورت سے پہلے ادارے اور پھر متعلقہ افراد سے بات ہوگی لیکن ابھی اس کا آغاز نہیں ہوا۔

    خواجہ آصف نے ایک ٹوئیٹ ریٹوئیٹ کیا جس میں سلیم صافی نے دعوی کیا تھا کہ: عمران خان نے کرپشن کا جو کارڈ نوازشریف ،مریم نواز ،شہبازشریف ،آصف زرداری، فریال تالپوراورمولانا فضل رحمن پر کھیلا ان میں سے کسی ایک پربھی وہ کرپشن ثابت نہ کرسکے تو اب اس غبارے سےہوا نکل گئ ہے.


    سینئر صحافی سلیم صافی نے مزید کہا کہ: میرا دعوی ہے کہ جتنی کرپشن عمران خان کی حکومت میں ہوئی ہےاتنی ماضی کی کسی حکومت میں نہیں ہوئی ہے.

    ایک اور بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ: ملاقاتیں تحریک انصاف والے کرے اور خط جلسوں میں لہراۓ عمران خان اور بیرونی سازش کاالزام ہم پر درحقیقت یہ ایک منافقت کی انتہاء ہے. لہذا تف ہے ان لوگوں کی ذھنیت پر جو اس کے جھوٹ پر یقین کرتے ہیں. خواجہ آصف نے یہ بیان سینئر صحافی طلعت حسین کی ایک پوسٹ کے جواب میں جس میں لکھا تھا کہ عمران خان نے روبن رفیل سے ملاقات کی ہے جبکہ ماضی میں امریکیوں پر سازش کا الزام لگا چکے ہیں.

  • اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر240 روپے کا ہوگیا

    اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر240 روپے کا ہوگیا

    اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت فروخت240 روپے ہوگئی ہے.

    آج بروز منگل کو کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی پیش قدمی کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کو مارکیٹ کے آغاز میں ہی انٹر بینک میں ڈالر 1 روپے 18 پیسے مہنگا ہوکر 231 روپے کا ہوگیا۔ دوپہر 12 بجے انٹربینک میں ڈالر2روپے18پیسےمہنگا ہوکر232روپے کا ہوگیا۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت فروخت 2 روپے بڑھ کر240 روپے ہوگئی۔

    پیر کوانٹر بینک میں کاروبار کے اختتام پرڈالر 1 روپے 64 پیسے مہنگا ہوکر 229.82 روپے پر بند ہوا تھا۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت فروخت 238 روپے پربند ہوئی تھی۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا تھا کہ سیلاب کے بعد درآمدی ضروریات کیلٸے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور آئی ایم ایف کی ایکسچینج ریٹ کو فری فلوٹ رکھنے کی شرط نے بھی صورتحال دشوار کردی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف (IMF) کی جانب سے پاکستان کو1 ارب 16 کروڑ ڈالر قرض مل گیا، جس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس سے روپے کی گرتی قدر کو سہارا ملے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا اور ڈالر کو لگام نہ دی جاسکی۔ گذشتہ چند روز سے ملک کی کرنسی مارکیٹوں میں ڈالر سمیت دیگرغیرملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپیہ بے قدری کا شکار رہا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں: اداروں کیخلاف توہین آمیز بیانات رکوانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی
    اوپن کرنسی مارکیٹ، ڈالرکی قیمت فروخت 238 روپے پربند
    کرنسی ڈیلرز کا کہنا تھا کہ ڈالر کی طلب میں مسلسل اضافہ اس کی قدر میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ڈالر کی طلب کے مقابلے میں فراہمی آدھی بھی نہ ہونے کے باعث ڈالر مسلسل مہنگا ہورہا ہے۔ نجی ٹی وی سے بات کرتےہوئے امپورٹرعبدالرؤف کا کہنا تھا کہ بینکوں سے ڈالر دستیاب نہیں ہیں اوربلیک مارکیٹ کا حجم بڑھ رہا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو کاروبارکا تیزی کےساتھ آغاز ہوا۔

    ہفتے کے دوسرے روز 100 انڈیکس میں 150 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔اسٹاک مارکیٹ میں 42 ہزار پوائنٹس کی حد بحال ہوگئی۔ دوپہر 12 بجے 100 انڈیکس میں 200 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اورانڈیکس 42060 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ پیر کی صبح اسٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 42 ہزار پوائنٹس کی حد بحال ہوگئی تھی اور 100 انڈیکس 199 پوائنٹس کے اضافے سے 42 ہزار 48 پوائنٹس پر پہنچ گیا تھا۔

    تاہم پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں اختتام ہوا اور اسٹاک مارکیٹ اتار چڑھاؤ کے بعد مندی کا شکار ہوگئی تھی۔ پیر کو اسٹاک مارکیٹ کا 100 انڈیکس 86 پوائنٹس کی کمی سے 41862 پوائنٹس پر بند ہوا۔ واضح رہے کہ منگل 6 ستمبر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے اپنے پہلے بنیادی انڈیکس پی ایس ایکس ڈیویڈنڈ 20 انڈیکس کا اجرا کردیا تھا۔

    پی ایس ایکس ڈیویڈنڈ 20 انڈیکس کو پی ایس ایکس میں ڈیویڈنڈ ادا کرنے والی سرفہرست 20 کمپنیوں کی کارکردگی کو ٹریک کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا جس کے تحت کمپنیوں کو ان کے گزشتہ 12 ماہ کے ڈیویڈنڈ دینے کی بنیاد پر درجہ بندی اور وزن دیا گیا ہے۔

  • عمران خان امریکا مخالف بیان دیکرپھر امریکیوں سے چھپ کر ملتے ہیں. مریم اورنگزیب

    عمران خان امریکا مخالف بیان دیکرپھر امریکیوں سے چھپ کر ملتے ہیں. مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان امریکا کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں اور امریکی فرم سے امریکا میں لابی اور برانڈنگ کرواتے ہیں، چھُپ چھُپ کے ملاقاتیں کرتے ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عمران خان صاحب جتنی اوقات ہے، اُتنی بات کریں۔ ’’کی جائے‘‘ اور ’’ کیا جائے‘‘ کا وقت ختم، عمران خان کا حقیقی مسئلہ ذاتی انا، تکبر، خود پسندی، اقتدار کی ہوس اور کرپشن ہے۔ عمران صاحب پہلے فیصلہ کریں آپ کا مسئلہ ہے کیا؟ بیرونی سازش ؟ حقیقی آزادی ؟ الیکشن کمشنر؟ کرپشن کا این آر او؟ انہوں نے کہا کہ حقیقی آزادی نہیں بلکہ اپنی حقیقی کرپشن سے این آر او چاہتے ہیں۔ بیرونِ ملک سازش نہیں بلکہ اپنی فارن فنڈنگ کی حقیقی سازش سے این آر او چاہتے ہیں۔ عمران خان کا مقصد کوئی الیکشن نہیں بلکہ اپنے مقدمات ختم کرانا ہیں۔ عمران خان دھونس، دھمکی، گالی سے این آر او مانگ رہے ہیں۔ عمران خان، فرح گوگی اور بشریٰ بی بی کے لیے این آر او مانگ رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان بیمار، شکست خوردہ ذہنیت اور کرپٹ انسان ہے ۔ عمران خان جھوٹا ، انا پرست اور خود غرض و بہروپیا ہے۔ عمران خان فارن فنڈنگ میں این آر او مانگ رہے ہیں۔ الیکشن کمشنر نے آخر کیا گناہ کیا ہے؟ 8 سال سے زیرالتوا فارن فنڈنگ کیس میں فیصلہ ہی تو سنایا ہے ۔ عمران صاحب آپ نے الیکشن کمشنر سے کس چیز کی گارنٹی لی تھی؟ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان فارن فنڈنگ میں الیکشن کمشنر سے این آر او مانگ رہے تھے ۔ عمران صاحب الیکشن کمشنر پہ آپ کا غصہ ہے کیوں ؟ عمران صاحب آپ کو الیکشن کمشنر کی کیا ، کس نے اور کیوں گارنٹی دی تھی ؟ امریکا کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں اور امریکی فرم سے امریکا میں لابی اور برانڈنگ کرواتے ہیں، چھُپ چھُپ کے ملاقاتیں کرتے ہیں۔