Baaghi TV

Author: +9251

  • عمران خان نے فواد چوہدری کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا

    عمران خان نے فواد چوہدری کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے خود ہی رابن رافیل سے خبر کی تصدیق کرکے سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو جھوٹا ثابت کردیا۔

    اپنے دور حکومت میں صحافیوں پر حملوں کا مذاق اڑانے، پی ایم ڈی اے اور ایک واٹس ایپ فارورڈ کرنے پر جیل بھیجنے اور پیکا جیسے کالے قوانین لانے والے سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری بار بار میڈیا پر حملہ آور ہوتے ہیں اور بار بار جھوٹے ثابت ہوتے رہتے ہیں۔

    اس بار خود عمران خان نے بھی فواد چوہدری کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے اور سابق وفاقی وزیر کا جھوٹ بے نقاب ہوگیا ہے، سابق وزیر اعظم عمران خان نے سابق امریکی سفارتکار رابن رافیل سے ملاقات کی تصدیق کردی ہے. دراصل ہوا کچھ یوں تھا کہ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اتوار کو کہا تھا کہ سابق امریکی سفارت کار رابن رافیل سے چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی ملاقات تین سال پہلے ہوئی تھی مگر گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی اس بارے میں عمران خان سے بات نہیں ہوئی ہے.

    ان کا کہنا تھاکہ رابن رافیل اگر یہاں ہیں یا آئیں گی تو ملاقات میں کوئی مسئلہ نہیں، وہ ریٹائر ہوچکی ہیں، ان کا امریکی حکومت سے کوئی لین دین نہیں ہے. تاہم اب نجی ٹی وی دنیا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے امریکی سی آئی اے کی تجزیہ کار، سابق سفارت کار اور لابسٹ رابن رافیل سے ملاقات کی تصدیق کر دی ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ رابن رافیل کو پرانا جانتا ہوں، وہ امریکی حکومت کے ساتھ نہیں تھنک ٹینک کے ساتھ ہیں۔

    واضح رہے کہ اتوار کے روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے سابق خاتون امریکی سفارت کار رابن رافیل نے ملاقات کی ہے۔

  • اداروں کیخلاف توہین آمیز بیانات رکوانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی

    اداروں کیخلاف توہین آمیز بیانات رکوانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی

    سپریم کورٹ میں اداروں کے خلاف توہین آمیز بیانات کا سلسلہ رکوانے کی درخواست دائر کردی گئی ہے.

    مشترکہ درخواست مخلتف شہروں کے چھ شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی ہے، درخواست میں پیمرا، الیکشن کمیشن اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے. جبکہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 19 میں اظہار رائے کی آزادی لامحدود نہیں اور آرٹیکل 19 کے تحت اظہار رائے پر کچھ قدغنیں بھی ہیں۔

    درخواست میں‌ استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت کو توہین آمیز بیانات کا سلسلہ روکنے کیلئے کوڈ آف کنڈیکٹ تیار کرنے کا حکم دیا جائے اور کوڈ آف کنڈیکٹ پر عمل کرکے اداروں کی تضحیک، سرکاری ملازمین کی تضحیک،سرکاری حکام سرکاری ملازمین کی تضحیک کا سلسلہ روکا جائے. جبکہ وفاقی حکومت کو موجودہ اظہار رائے کے قوانین پر نظر ثانی کرنے کا حکم دیا جائے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ: فریقین کو آرٹیکل 19 پر من و عن عمل در آمد یقینی بنانے کا حکم دیا جائے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے نئے آرمی چیف کےتقررکے حوالے سے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ فوج ادارے کی سینئر قیادت کے بارے میں توہین آمیز اورغیرضروری بیان پر حیران ہے۔

    انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے ایک بیان میں کہا تھا کہ:’’افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کو بدنام اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جب یہ ادارہ ہر روز پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ کے لیے جانیں دے رہا ہے‘‘۔ آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) کے تقرر پر سینیر سیاست دان کی جانب سے تنازعات پھیلانے کی کوشش انتہائی بدقسمتی کی بات اور مایوس کن ہے کیونکہ اس اعلیٰ عہدے پر تقرر کے طریق کار کی آئین میں اچھی طرح وضاحت کی گئی ہے۔

  • وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام تیز کردیا گیا

    وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام تیز کردیا گیا

    وزیراعظم میاں محمّد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں اور بجلی کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف بحالی کے کاموں کو خود سے مانیٹر کر رہے ہیں، جب کہ اس حوالے سے انہیں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کی گئی تازہ رپورٹ کے مطابق گوادر سے رتوڈیرو موٹروے ایم 8 کے آپریشنل سیکشنز ٹریفک کیلئے بحال کردیئے گئے ہیں، جب کہ ایم 8 وانگو ہلز کے مقام سے لینڈ سلائڈنگ کلئیر کر دی گئی ہے۔

    خیبر پختونخوا میں تیمر گرہ – باجوڑ 132 کے وی ٹرانسمیشن لائن بحال کردی گئی ہے، جب کہ باجوڑ اور منڈا گرڈ اسٹیشنز پر معمول کے آپریشنز بحال بھی کردیئے گئے ہیں۔ دوسری جانب بھان سعیدآباد کو متبادل ذریعہ سے بجلی سپلائی کی جا رہی ہے۔ وارا کے قصبے کو قمبر گرڈ اسٹیشن سے بجلی سپلائی دی جانے لگی۔ واضح رہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور پاور ڈویژن بحالی کے کاموں پر دن رات معمور ہیں.

    دوسری جانب وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج بروز منگل 13 ستمبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں چھ نکاتی ایجنڈا زیر غور آئے گا۔ اجلاس میں سیلاب کی صورت حال ، امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

    ایجنڈے کے مطابق حج کوٹہ سے اضافی بکنگ پر تحقیقات سے متعلق فیصلہ ہوگا، جب کہ اس کے علاوہ دس ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کی تجاویزکابینہ میں پیش ہونگی۔ اجلاس میں الیکٹرک پنکھوں کی کم سے کم بجلی کی لاگت کا معیارمقررکرنے کی سمری پیش ہوگی۔ اس کے علاوہ کابینہ کی کمیٹی برائے قانون سازی کے 2 ستمبرکے فیصلوں کی توثیق ایجنڈا میں شامل ہے۔ کابینہ کی کمیٹی برائے نجکاری کے 7 ستمبرکے فیصلوں کی توثیق اور کابینہ کمیٹی برائے ای سی سی کے 8 ستمبرکے فیصلوں کی توثیق ایجنڈ ے میں شامل ہے۔

  • لاپتا افراد کیس: آئی جی اسلام آباد پولیس عدالت میں طلب

    لاپتا افراد کیس: آئی جی اسلام آباد پولیس عدالت میں طلب

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتا شہری کی بازیابی کے لئے دائر درخواست کے دوران عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو آج دو بجے طلب کر لیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتا شہری کے اہل خانہ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔

    اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے بیٹے کو بائیس اگست کو گھر سے اٹھایا گیا تھا۔ ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دی مگر کچھ نہیں ہوا۔ وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس کہتی ہے آپ کا لڑکا ہمارے پاس نہیں ہے۔ عدالت نے لاپتا شہری کی بازیابی پر جواب کیلئے انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس کو عدالت طلب کرلیا۔ عدالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ آئی جی اسلام آباد دن 2 بجے تک عدالت کے روبرو پیش ہوں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے حکومت کو لاپتا افراد کی بازیابی کیلئے 2 ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وزیراعظم صاحب مسنگ پرسنز ایک بہت بڑا ایشو ہے، ریاست کا وہ ردعمل نہیں آ رہا جو ریاست کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ شہریوں کو لاپتا کرنا آئین توڑنے کے مترادف ہے۔ یہ عدالت پارلیمنٹ کا بہت احترام کرتی ہے، تمام صوبوں کے چیف ایگزیکٹو بھی ذمہ دار ہیں اگر ان کے علاقے سے کوئی اٹھایا جاتا ہے، اس عدالت کے فیصلے سے پہلے ایگزیکٹو نے اس بات کو یقینی بنانا ہوگی کہ کوئی لاپتہ افراد نہیں ہوں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کمیشن کے متعلق بہت کچھ بتایا، کمیشن لاپتا افراد کے لواحقین پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کو اذیت دیتے رہے، جنھوں نے آئین کی خلاف ورزی کی ان کے خلاف کارروائی ہونی چائیے، معاملات کو پارلیمنٹ میں لے کر جائیں ان پر قانون سازی کریں، بھارت نے یہی کیا، دیگر ممالک نے یہی کیا۔

    چیف جسٹس نے وزیراعظم سے استفسار کیا تھا کہ جبری گمشدگیوں پر سیکیورٹی کونسل کے ہر رکن کو عدالت ذمہ دار ٹھہرائے؟ لاپتا افراد کے پرانے کیسز پر لواحقین کو مطمئن کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، آئندہ کسی شخص کو لاپتا نہیں ہونا چاہیے، تلاش کرنا عدالت کا نہیں ریاست کا کام ہے، ریاست کے پاس ایجنسیز ہیں، دیگر ذرائع ہیں، جائیں اور تلاش کریں۔ سول بالادستی اور اداروں پر حکومت کا کنٹرول آئین کے مطابق ہونا چاہیے، وفاقی دارالحکومت سے ایک صحافی کو اٹھایا گیا جس کی ویڈیوز موجود ہیں، یہ عدالت کیسے مان لے کہ ریاست اتنی کمزور ہے کہ اس کی تحقیقات نہ کر سکے، ایس ای سی پی کے ایک افسر کو اٹھایا گیا اس نے واپس آ کر کہا کہ شمالی علاقہ جات کی سیر کو گیا تھا.

  • کورونا وائرس سے ایک مریض انتقال جبکہ کیسز میں نمایاں کمی

    کورونا وائرس سے ایک مریض انتقال جبکہ کیسز میں نمایاں کمی

    کورونا وائرس سے ایک اور مریض انتقال کر گئے جبکہ کیسز میں نمایاں کمی واقع پوئی.

    قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 1 مریض انتقال کر گئے جبکہ 99کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔ ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 9ہزار161 ٹیسٹ کیے گئے ہیں ۔ملک میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران مثبت کیسز کی شرح 1.08 فیصدر رہی ۔


    قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں کوروناکے89 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے. ملک میں ایک بار پھر کورونا کیسز کی شرح میں اضافے کے بعد قومی ادارۂ صحت (این آئی ایچ) نے شہریوں کو ماسک کا استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

    قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں ویکسینیشن کے اہل عوام کو کووڈ 19 کے خلاف مکمل ویکسین بھی لگا دی گئی ہے. نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز کے مطابق 2020ء میں اس وبائی مرض کے پھیلاؤ کے بعد سے رواں سال مارچ میں کیسز کی تعداد کم ترین سطح پر تھی لیکن اب ان کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سامنے آیا تھا۔

    کووِڈ- 19 وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

    یہ وائرس متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے رطوبتوں کے چھوٹے قطروں اور ایسے چیزوں کی سطح کو چھونے سے پھیلتا ہے جو کورونا وائرس سے آلودہ ہوچکی ہوں۔ کورونا وائرس ان چیزوں کی سطح پر کئی گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن اسے عام جراثیم کش محلول سے بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

    کورونا وائرس کی علامات کون سی ہیں؟

    کورونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا شامل ہیں۔ بیماری کی شدت کی صورت میں نمونیہ اور سانس لینے میں بہت زیادہ مشکل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بیماری بہت کم صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ اس بیماری کی عام علامات زکام (فلو) یا عام نزلے سے ملتی جلتی ہیں جو کہ کووِڈ- 19 کی نسبت بہت عام بیماریاں ہیں۔ اس لئے بیماری کی درست تشخیص کے لئے عام طور پر معائنے (ٹیسٹ) کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مریض واقعی کووِڈ- 19 میں مبتلا ہوچکا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ نزلے زکام اور کووِڈ- 19 کی حفاظتی تدابیر ایک جیسی ہیں۔ مثال کے طور پر بار بار ہاتھ دھونا اور سانس لینے کے نظام کی صحت کا خیال رکھنا (کھانسی کرتے اور چھینکتے وقت اپنا منہ کہنی موڑ کر یا پھر ٹشو یا رومال سے ڈھانپ لینا اور استعمال شدہ رومال یا ٹشو کو ایسے کوڑا دان میں ضائع کرنا جو ڈھکن سے بند ہوسکتا ہو)۔ نزلہ زکام کی ویکسین دستیاب ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ آپ خود کو اور اپنے بچوں کو ویکسین کی مدد سے محفوظ رکھیں۔

  • دادو گرڈ اسٹیشن کی حفاظت کیلئے 36 گھنٹوں میں بند باندھنا لائق تحسین. وزیراعظم شہباز

    دادو گرڈ اسٹیشن کی حفاظت کیلئے 36 گھنٹوں میں بند باندھنا لائق تحسین. وزیراعظم شہباز

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دادو گرڈ اسٹیشن کو محفوظ بنانے کے لئے 36 گھنٹے میں بند باندھنا لائق تحسین ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے بیان میں کہا دادو گرڈ اسٹیشن کی سیلاب سے حفاظت کے لئے سول اور ملٹری حکام کے تعاون سے 36 گھنٹے میں 3 کلومیٹر کا بند باندھنا لائق تحسین اقدام ہے۔


    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ رتو ڈیرو اور خضدار کے درمیان ایم 8 پر لینڈ سلائیڈنگ ہٹا کر بلوچستان کی آخری شاہراہ کو بھی ٹریفک کے لئے بحال کرنے پر این ایچ اے کی ٹیم کو شاباش دیتا ہوں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم کی ہدایت کے بعد پاکستان آرمی، رینجرز اورسول اداروں کی بروقت کوششوں سے دادو گرڈ اسٹیشن کو ڈوبنے سے بچالیا گیا تھا. ذرائع کے مطابق پاکستان آرمی، رینجرز اور سول اداروں کی مشترکہ کوششوں سے دادو گرڈ اسٹیشن کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا تھا۔ دادو گرڈ اسٹیشن کے پاس 36گھنٹے مسلسل کام کے بعد2.4کلو میٹر پروٹیکشن بند بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں دادو گرڈ اسٹیشن سیلابی ریلے سے محفوظ رہا تھا۔ گرڈ اسٹیشن کے اِرد گرد بند بنانے سے نہ صرف گرڈ محفوظ رہا بلکہ علاقے کو بجلی کی فراہمی بھی منقطع نہیں ہوئی تھی۔ دادو گرڈ اسٹیشن کو محفوظ بنانے کے لئے پاکستان آرمی اور انجینئرز کور نے اپنے تمام وسائل استعمال کئے تھے. علاقے کے لوگوں نے بروقت کارروائی کو سراہا تھا.

    خیال رہے کہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے دادو میں سیلابی صورت حال کے پیش نظر 500 کلو واٹ بجلی کی پیداوار کرنے والے گرڈ اسٹیشن کو بچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی تھی. وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے دادو میں سیلابی صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سول اور فوجی حکام کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کردی تھی جسکے بعد کام میں تیزی آئی تھی.

  • سیلاب متاثرین کے لیے 9 ممالک اور 3 عالمی تنظیموں کے 82 طیارے امداد لیکر پہنچ چکے. ترجمان دفتر خارجہ

    سیلاب متاثرین کے لیے 9 ممالک اور 3 عالمی تنظیموں کے 82 طیارے امداد لیکر پہنچ چکے. ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 9 ممالک اور 3 عالمی تنظیموں کے 82 طیارے امداد لیکر پہنچ چکے ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق متحدہ عرب امارات سے 37 ترکیہ سے 12 ، امریکہ سے 10 اور چین سے چار طیارے امدادی سامان لیکر پاکستان پہنچے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ازبکستان، ترکمانستان اور فرانس سے ایک ایک طیارہ امدادی سامان لیکر پہنچا ہے ۔ عالمی ادارہ خوارک نے 3 اور یونیسف کے 2 طیارے سیلاب متاثرین کے لیے سامان لیکر پہنچے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے امدادی سامان کے 6 طیارے بھیجے ہیں۔

    واضح رہے کہ تباہ کن اور ہلاکت خیز سیلاب کے بعد پاکستان کی جانب سے مدد کی اپیل کے جواب میں دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے امداد اور اظہار یکجہتی کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے جب کہ اب تک کینیڈا، فرانس، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکی اور آذربائیجان نے مدد کے عزم کا اظہار کیا تھا اور متعدد نے امدادی طیارے بھیج دیا ہے.

    غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، پوپ فرانسس نے عالمی برادری سے پاکستان کی مدد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ متاثرین کے لیے دعاگو ہیں۔ جبکہ کینیڈین وزیر برائے بین الاقوامی ترقی ہرجیت سجن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کینیڈا کی حکومت نے پاکستان میں امدادی کارروائیوں کے لیے انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کو 20 ہزار ڈالر مختص کیے ہیں۔


    خیال رہے کہ یہ فنڈز پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی پانی، صفائی اور حفظان صحت کی خدمات اور نقد امداد کے لیے استعمال کررہی علاوہ ازیں ہرجیت سجن نے مزید کہا تھا کہ ‘ہم صورتحال کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ملکی شراکت داروں اور کثیرالجہتی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ یہ دیکھیں کہ کینیڈا پاکستانی عوام کے لیے کیا اضافی مدد فراہم کر سکتا ہے’۔

    قطر ہلال احمرسوسائٹی نے اپنے ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ سے ایک لاکھ ڈالرز مختص کیے تاکہ سیلاب متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے، ان پر بیتنے والی تباہی کے ہولناک اثرات کو کم کر کے ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

  • پاکستان میں سیلاب،آئرن برادر کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں گے،چین

    پاکستان میں سیلاب،آئرن برادر کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں گے،چین

    چین نےکہا ہے کہ ہمیشہ کی طرح گزشتہ سال بھی پاک چین دوستی ہر طرح کے حالات میں لوہے کی طرح مضبوط رہی،آئرن برادر کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں گے،پاکستان کو کئی دہائیوں کے شدید ترین سیلاب کا سامنا ہے جس کے باعث 1 ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق اور 33 ملین (3 کروڑ 30 لاکھ)سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں،سیٹلائٹ جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان کے کل رقبے کا بڑا حصہ زیر آب آچکا ہے۔اس بات کا اظہار چینی وزارت خارجہ کے شعبہ ایشیائی امور کے ڈائریکٹر جنرل لیوجن سونگ نے دوسرے پاک چائنہ تھنک ٹینک سے اپنے خطاب کے دوران کہی۔

    انہوں نے گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کا حوالے دیتےہوئے کہا کہ پاکستان میں بارش اور سیلاب نے پلوں اور سٹرکوں کو بہادیا جبکہ خشک زمین دلدل میں تبدیل ہوچکی ہے،متاثرہ علاقوں میں نقل و حمل کا سلسلہ رک چکا ،کھیتی باڑی اور مکانات تباہ جبکہ باشندے بے گھر ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ساتھ بچے حصول علم سے محروم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چینی عوام پاکستانیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہیں،اس کے ساتھ ساتھ ہم پاکستانی عوام کے مضبوط کردار کی تعریف کرتے ہیں جنہوں نے خود کو ریلیف کے لیے اکٹھا کیا اور تیزی سے اپنے گھروں کی تعمیر نو شروع کی۔انہوں نے چین اور پاکستان کو آئرن برادر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ کبھی نہیں بھولیں گے کہ 2008 میں وینچوان زلزلے کے بعد پاکستان نے فوری طور پر فوجی طیاروں کے ذریعے ٹینٹ اور دیگر سامان بھیجا،چین اس کابدلہ اس سے کئی گنا اتارے گا۔لیو جن سونگ نے کہا کہ اپنے آئرن برادر کی مشکلات کو سمجھتا ہے،یہاں سیلاب کے بعد صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی کی چیانگ نے بالترتیب صدر عارف علوی اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو تعزیتی پیغامات بھیجے۔انہوں نے کہا کہ چین نے سی پیک فریم ورک کے تحت پاکستان کو 4,000 خیمے، 50,000 کمبل اور 50,000 واٹر پروف سائبان فراہم کیے ہیں اور ان سب کو سیلاب کے خلاف فرنٹ لائن پر استعمال میں لایا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی (سی آئی ڈی سی اے) کے ذریعے چین نے پاکستان کو 100 ملین یوآن ہنگامی انسانی امداد فراہم کی، اگست کے آخر میں کل 25,000 میں سے پہلے 3,000 خیموں کو چینی فوجی ہوائی جہازوں کے ذریعے صوبہ سیچوان سے پاکستان بجھوایا اور استعمال میں لایا گیا،جیسے جیسے سیلاب کی صورتحال تیار ہوئی سیڈا نے انسانی امداد کے 300 ملین یوآن کا اضافہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ دیگر فوری امدادی سامان جیسے سبزیوں اور خیموں کا فوری بندوبست کیا جا رہا ہے،چینی عوام بھی مدد کر رہے ہیں، پاکستانی سفارت خانے کے ہنگامی امدادی اکاؤنٹ کو کھلنے کے چند گھنٹوں کے اندر 1 ملین یوآن کے عطیات موصول ہو گئے یہاں تک کہ بیجنگ سے تعلق رکھنے والے پرائمری سکول کے طالب علم لوان منگ سوان نے اپنی تمام جیب خرچ عطیہ کردی۔ان کا کہنا تھا کہ چینی شہری امدادی رضاکاروں کی ٹیمیں بھی پاکستان پہنچ گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں چینی کمپنیوں نے متاثرہ سڑکوں اور پلوں کی مرمت کے لیے پہل کی، حال ہی میں، وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے صوبہ سیچوان کی لوڈنگ کاؤنٹی میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں پر اظہار ہمدردی کیا۔ سیلاب بے رحم ہیں لیکن انسان رحم دل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ چین اور پاکستان کی دوستی پہاڑ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے، ہمیں یقین ہے کہ ہمارے پاکستانی بھائی تباہی پر غالب آ جائیں گے اور اپنا گھر دوبارہ بنائیں گے۔

    سی پیک بارے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے لیے مضبوط معاونت فراہم کر رہا ہے، کچھ عرصہ قبل کروٹ پلانٹ، سی پیک کے تحت پہلے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے سات سال کی تعمیر کے بعد کام شروع کر دیا ۔ اس منصوبے نے ہزاروں مقامی ملازمتیں پیدا کی ہیں اور 3.2 بلین کلوواٹ آور کی سالانہ پیداوار کے ساتھ یہ اب 50 لاکھ خاندانوں کے لیے سستی صاف توانائی فراہم کرتا ہے،اس سے ہر سال کاربن کے اخراج میں 3.5 ملین ٹن کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس سے پاکستان کو توانائی کی حفاظت اور سبز معیشت میں منتقلی میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک اعلیٰ معیار کی ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، وزیر اعظم محمد شہبازشریف سی پیک کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور انہوں نے دو بار گوادر پورٹ کا دورہ کیا، چینی کمپنیوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کی درخواستوں کا موقع پر ہی جواب دیا۔

    رشکئی انڈسٹریل پارک زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاروں کو راغب کر رہا ہے،سی پیک کے تحت صنعتی، زرعی اور سماجی ذریعہ معاش میں تعاون ٹھوس پیش رفت کر رہا ہے جو پاکستان کی صنعت کاری اور جدید کاری میں نئے کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے تائیوان اور سنکیانگ جیسے چین کے بنیادی مفادات سے متعلق مسائل پر چین کے لیے پاکستان کی مضبوط حمایت کو بھی تسلیم کیا۔امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی کے گزشتہ ماہ چین کے علاقے تائیوان کے دورے پر پاکستان کی حکومت، پارلیمنٹ اور مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے آگے بڑھ کر 100 سے زائد ممالک کے ساتھ انصاف کا پیغام دیتے ہوئے ون چائنا اصول پر اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

  • سعودی عرب کی پاکستانی سیلاب زدگان کیلئے قومی مہم کا آغاز

    سعودی عرب کی پاکستانی سیلاب زدگان کیلئے قومی مہم کا آغاز

    سعودی عرب نے پاکستان میں سیلاب زدگان کی مدد کیلئے قومی مہم کا آغاز کر دیا۔
    برادر ملک سعودی عرب نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے بڑا اقدام کیا ہے۔ سیلاب زدگان کی بحالی اور امداد کے لیے قومی مہم شروع کی گئی ہے۔

    مہم کا آغاز سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر کیا گیا۔ سعودی سفارتخانہ کا کہنا ہے کہ سیلاب زدگان کی مدد کیلئے سعودی عرب میں براہ راست نشریات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

    شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے لیے 100 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سیلاب زدگان کی مدد کے لیے عطیات مہم شروع کی گئی ہے تمام اہل خیر سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ’ساھم‘ پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستانی عوام کی مدد کے لیے آگے آئیں۔

    دوسری جانب اسلام آباد میں متحدہ عرب امارات كے سفیر حمد عبید الزعابی پاکستان میں سیلاب سے متاثرین کے لیے امدادی پیکجز جمع كرنے کے لیے "ہم آپ کے ساتھ ہیں” کے اقدام میں یو اے ای بھر سے سینکڑوں رضاکاروں کے ساتھ شامل ہوئے، اور یہ مہم 1,200 ٹن خوراک جمع کرنے میں کامیاب ہوئی۔

  • پنجاب اسمبلی اجلاس ، متعدد بلوں کی منظوری

    پنجاب اسمبلی اجلاس ، متعدد بلوں کی منظوری

    پنجاب اسمبلی اجلاس میں متعدد بلوں کی منظوری دے دی گئی، بورڈ آف ریونیو ترمیمی بل 2021 بھی شق وار منظور کرلیا گیا۔

    وزیر پارلیمانی امور راجہ بشارت نے پنجاب پنجاب اکوپیشن سیفٹی اینڈ ہیلتھ بل 2022 ایوان میں پیش کر دیا گیا۔پنجاب اسمبلی نے بورڈ آف ریونیو ترمیمی بل 2021 کو شق وار منظور کر لیا۔پنجاب اسمبلی نے بورڈ آف ریونیو ترمیمی بل 2021 کو شق وار منظور کر لیا۔
    پنجاب اسمبلی نے متروکہ وقف املاک و قوانین برائے بے گھر افراد بل 2021 شق وار منظور کر لیا۔

    صوبائی اسمبلی نے پنجاب سید کارپوریشن ترمیمی بل 2022 کی شق وار منظوری دے دی،پنجاب اسمبلی نے پنجاب فیکرٹریز ترمیمی بل 2022 کی شق وار منظوری دے دی۔،پنجاب اسمبلی نے مسودہ ترمیم جنگلات بل 2022 کی شق وار منظوری دے دی۔پنجاب اسمبلی کی جانب سے منظور کئے جانے والے چھ بل پارلیمانی امور کے وزیر راجہ بشارت نے پیش کئے تھے۔

    اسپیکر نے محکموں کی جانب سے بروقت جواب نہ آنے پراسپیکر نے وقفہ سوالات کو موثر بنانے کیلئے حکومت کو اپوزیشن سےمل کر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی۔

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس کا ایجنڈا مکمل ہونےپر سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے اجلاس آج دوپہر تین بجے تک ملتوی کر دیا۔۔