Baaghi TV

Author: +9251

  • سیلاب زدہ علاقوں میں اشیائےخورد و نوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے،شہباز شریف

    سیلاب زدہ علاقوں میں اشیائےخورد و نوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے،شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں سیلاب کی صورتحال اور سیلاب زدگان کے لئے امداددی کاروائیوں پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا.

    وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں میں نظام زندگی کی بحالی کے لیے نظام مواصلات، بجلی کی ترسیل اور دیگر امدادی کارروائیوں کو مزید موثر بنانے کیلیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں میں اشیائےضروریہ اور اشیائےخورد و نوش کی فراہمی کو یقینی بنانے کی خصوصی ہدایت کی.

    وزیراعظم شہباز شریف نے سیلابی صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومتوں کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہوئے سڑکوں کی بحالی کے لیے جلد از جلد خصوصی اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ مزید برآں وزیراعظم شہباز شریف نے صوبوں کو درپیش دیگر مسائل کے حل کے لیےجامع حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل, وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور ڈویژن سردار ایاز صادق, وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب, وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال,وفاقی وزیر برائے ریلویز خواجہ سعد رفیق, چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز، چیئرمین NFRCC میجر جنرل ظفر اقبال اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    علاوہ ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دادو میں سیلابی ریلے سے گرڈ اسٹیشن کو بچانے کی فوری ہدایات جاری کر دیں،دادو و گردو نواح کے علاقوں میں سیلابی صورتحال، 500KV گرڈ اسٹیشن کو خطرے کی خبر پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فوری نوٹس لے لیا.

    وزیرِ اعظم نے اعلی سول و فوجی قیادت کو تمام تر وسائل بروئے کار لا کر گرڈ اسٹیشن کو سیلاب سے بچانے کی ہدایت کی،وزیرِ اعظم کی ہدایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے مورو شہر سے تین ایکسکویٹر روانہ کردئے گئے. وزیرِ اعظم سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کے بچاؤ و بحالی کے کام کی 24 گھنٹے خود نگرانی کر رہے ہیں.

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ گرڈ اسٹیشن کا بچاؤ بجلی کی بلا تعطل فراہمی کیلئے نہایت ضروری ہے، گرڈ اسٹیشن کو فوری طور پر سیلاب سے متاثر ہونے سے بچایا جائے.

  • ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات، پاکستان میں سرکاری سطح پر یومِ سوگ منانے کا فیصلہ

    ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات، پاکستان میں سرکاری سطح پر یومِ سوگ منانے کا فیصلہ

    ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں سرکاری سطح پر یومِ سوگ منانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملکۂ برطانیہ کی وفات پر یومِ سوگ منانے کی منظوری دے دی۔

    اس ضمن میں نوٹی فکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق کل پاکستان میں یومِ سوگ کے طور پر منایا جائے گا۔ملکہ برطانیہ کا تابوت آج بذریعہ سڑک ایڈنبرا پہنچایا جائیگا،وزارتِ خارجہ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ملکۂ برطانیہ کی وفات پر سرکاری سطح پر یومِ سوگ منانے کی تجویز دی تھی۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وزارتِ خارجہ کی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔

    وزیرِ اعظم نے کابینہ ڈویژن کو یومِ سوگ سے متعلق انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔واضح رہے کہ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ الیگزینڈرا میری ونڈسر 8 ستمبر کو 96 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔

    ملکہ کو پچھلے سال اکتوبر سے صحت کے مسائل کا سامنا تھا جس کے باعث انہیں چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔الزبتھ دوم 6 فروری 1952ء سے 8 ستمبر 2022ء کو اپنی موت تک 70 سال اور 214 دن برطانیہ کی ملکہ رہیں۔ ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات 19 ستمبر کو ادا کی جائیں گی

  • رانا ثناءاللہ کاعراقی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، پاکستانی زائرین کے مسائل پر تبادلہ خیال

    رانا ثناءاللہ کاعراقی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، پاکستانی زائرین کے مسائل پر تبادلہ خیال

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے اپنے عراقی ہم منصب عثمان علی فردہودسے ٹیلیفونک رابطہ کیا،وزیر داخلہ نےپاکستانی زائیرین کےویزااجراء میں تاخیر،ویزاتعداد میں اضافہ اور پاکستانی زائرین کوعراق داخلے میں درپیش مشکلات کے حوالے سے بات چیت کی.

    وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے ایران عراق سرحد پر پھنسے پانچ ہزار پاکستانی زائرین کو عراق داخل ہونے کی اجازت دینے کی درخواست کی، جبکہ عراق میں براستہ ایران داخل ہونے والے پاکستانی زائرین کیلئے ایران،عراق سرحد مستقل طور پر کھولنے کی درخواست بھی کی.

    وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ چہلم حضرت امام حسین کیلئے عراق جانے کے خواہشمند زائرین کو خصوصی ویزا اجراء کیا جائے.عراقی وزیر داخلہ عثمان علی فرہود نے وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کی تمام تجاویز کا خیرمقدم کیا اور مطالبات کی فوری منظوری اوران پربلاتاخیر عملدآمد کی یقین دہانی کرائی.

    وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کی درخواست پرعراقی ہم منصب عثمان علی فرہودہ نے پاکستانی زائرین کیلئے تمام انٹری پوائنٹس کھولنے کا اعلان کر دیا.عراقی سفارتخانے میں زیرالتواء پاکستانی زائیرین کی تمام ویزا درخواستوں پر فی الفورعملدرآمد کا بھی اعلان کیا.عراقی وزیر داخلہ نے چہلم امام حسین کیلئے عراق جانے والے پاکستانی زائرین کیلئے بھی خصوصی ویزاسہولت دینے کا اعلان بھی کیا.

    دونوں عہنماوں کے درمیان پاکستان سے عراق جانے والے خواہشمندزائرین کیلئے ویزوں کی تعداد میں اضافے کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ زائرین سمیت دیگر مسائل کے پائیدارحل کیلئے پاکستان عراق مشترکہ کمیٹی بنانے پربھی اتفاق کیا گیا.دونوں وزراء داخلہ نے پاکستان،عراق تعلقات کے فروغ اور داخلہ وزارتوں کے درمیان کوارڈینیشن بہتر بنانے کے حوالے سے بھی اقدامات کرنے پراتفاق کیا۔

    وزیر داخلہ رانا ثناءللہ نے ایران عراق سرحد پر پھنسے پانچ ہزار پاکستانی زائیرین کو عراق داخلے کی فوری اجازت دینے پر اپنے عراقی ہم منصب کا شکریہ ادا کیا.وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے ویزا درخواستوں پر فوری عملدرآمد اور تعداد میں اضافے اور اربعین کیلئے خصوصی ویزا پرمٹ جاری کرنے پر بھی اپنے ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کا اپنے عراقی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو کا دورانیہ تقریباً چالیس منٹ رہا۔وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے عراقی وزیر داخلہ عثمان علی فرہودہ کو پاکستان کا جلد دورہ کرنے کی دعوت دی۔عراقی وزیر داخلہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب کیلئے نیک خواہشات کا اظہارکیا، جلد پاکستان آنے کی دعوت قبول کرتے ہوئے وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ کا شکریہ ادا کیا۔

  • ملک میں کل6579 کلومیٹر سڑکوں، 246 پلوں، 176 دکانوں کو نقصان پہنچا،این ایف آر سی سی

    ملک میں کل6579 کلومیٹر سڑکوں، 246 پلوں، 176 دکانوں کو نقصان پہنچا،این ایف آر سی سی

    نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ نقصان سندھ اور خیبر پختونخوا میں ہوا۔این ایف آر سی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے بنیادی ڈھانچے اور نجی املاک کے نقصانات ہوئے ہیں، ملک میں کل6579 کلومیٹر سڑکوں، 246 پلوں، 176 دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    قمبر شہداد کوٹ، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز،ٹھٹھہ،بدین اور جیکب آباد کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیںں .بلوچستان میں کوئٹہ،نصیرآباد،جعفرآباد،جھل مگسی بھی شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ بولان،صحبت پور، لسبیلہ بھی شدید متاثر ہوئے۔کے پی میں دیر،سوات،چارسدہ،کوہستان،ٹانک،ڈی آئی خان شدید متاثرہ علاقے ہیں، پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور سیلاب سے شدید متاثر ہیں۔

    این ایف آر سی سی نے بتایا کہ پاک فوج کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز محصور افراد کو نکالنے کیلئے485 پروازیں کرچکے ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں میں 22 پروازیں کی گئیں، 70 افراد کو بچایا گیا، جبکہ ہیلی کاپٹرز سے 29.9 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا۔

    این ایف آر سی سی کے مطابق اب تک ہیلی کاپٹرز کے ذریعے 4424 پھنسے افراد کو نکالا جاچکا ہے، ریلیف کیمپس اور امدادی اشیا جمع کرنے کے پوائنٹس مکمل فعال ہیں، ملک بھر میں147 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

    284 کلیکشن پوائنٹس سندھ،جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں قائم ہیں، سیلاب متاثرین کیلئے امدادی اشیا کو جمع اور آگے تقسیم کیا جارہا ہے۔

    این ایف آر سی سی نے بتایا کہ اب تک6 ہزار855 ٹن خوراک متاثرین میں تقسیم کی جاچکی ہے، 1203 ضروری اشیا اور 45 لاکھ 97 ہزار569 ادویات متاثرین کو دی جاچکی ہیں ،متاثرہ علاقوں میں اب تک 250 طبی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، طبی کیمپوں میں 1 لاکھ 2721 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا۔

    اس کے علاوہ پاک فضائیہ اور بحریہ کی جانب سے بھی ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں، پاک بحریہ کے 2 ہیلی کاپٹروں نے سندھ کے علاقوں میں50 پروازیں کیں،این ایف آر سی سی کے مطابق پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز نے465 افراد کو بچایا،3505 کلو راشن اور 300 کلو ادویات تقسیم کیں،نیوی کی8 غوطہ خور ٹیموں نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں26 غوطہ خور آپریشن کیے۔

    علاوہ ازیں نیوی نے56 میڈیکل کیمپس میں 38 ہزار 496 مریضوں کا علاج کیا گیا، 4 فلڈ ریلیف کیمپس،6 کلیکشن پوائنٹس اور2 خیمہ بستیاں لگائی ہیں۔این ایف آرسی سی نے بتایا کہ پاک فضائیہ کی بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور 90 پروازوں سے 1521 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

    پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرین میں 4800 ٹینٹس، 2 لاکھ 16 ہزار4 کھانے کے پیکٹ، 2584 کلو راشن کے پیکٹ،1 لاکھ 96 ہزار677 لیٹر پانی، 19 ٹینٹ سٹی، 18ہزار441 لوگوں کو خوراک،خشک راشن اورطبی امداد دی۔این ایف آر سی سی کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ نے اب تک54 ریلیف کیمپ،44 میڈیکل کیمپس لگائے، میڈیکل کیمپس میں 46ہزار980 مریضوں کا علاج کیا گیا ہے۔پاک فضائیہ نے سندھ میں نوابشاہ، سکھر، میرپور خاص، تلہاڑ، جیکب آباد، سیہون میں کام جاری رکے ہوئے ہیں۔

    بلوچستان میں پاک فضائیہ سمگلی،قلعہ عبداللّٰہ اور قلعہ سیف اللّٰہ میں امداد پہنچا رہی ہے، راجن پور،ڈی جی خان،اسکردو، غذر، نلتر، گھانچے، نوشہرہ،چارسدہ،سیدو شریف، شانگلہ، لارام میں مصروف عمل ہے۔

  • سیلابی پانی، ٹرین آپریشن کی بحالی میں مشکلات کا سامنا

    سیلابی پانی، ٹرین آپریشن کی بحالی میں مشکلات کا سامنا

    ریلوے حکام نے ٹریک اور پلوں پر سیلابی پانی ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر100فیصد مسافر و فریٹ ٹرین آپریشن بحال ہونے میں مزید 12سے15روز تاخیر سے شروع ہونے کا عندیا دیدیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ریلوے انتظامیہ نے آج 11 ستمبر تک مسافروں کو تمام ٹرینوں کا ری فنڈ دیدیا ہے البتہ کل 12 ستمبر سے صرف روہڑی اسٹیشن تک رحمان بابا ٹرین کو پشاور سے براستہ فیصل آباد چلایا جائے گا،اپ اور ڈاؤن کی 30 سے زائد ٹرینیں بند ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ریلوے حکام کو سیلابی پانی کی وجہ سے ٹرین آپریشن شروع کرنے میں ٹیکینکل مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اگر ٹرین آپریشن شروع کیا جاتا ہے تو ریلوے انفراسٹرکچر کو مزید ٹیکینکل نقصان پہنچنے کے خدشہ ہے۔

    چیف آپریٹنگ سپرنٹنڈنٹ آفیسر ریلوے وقار شاہد کے مطابق ٹریک پر سیلابی پانی کی صورتحال کا چوبیس گھنٹے جائزہ لیا جارہا ہے، ریلوے ٹریک اور پلوں پر سیلابی پانی کی وجہ سے ٹرین آپریشن کسی صورت شروع نہیں کیا جاسکتا ،100 فیصد مسافر اور فریٹ ٹرین آپریشن بحال ہونے میں مذید 12سے 15 روز لگ سکتے ہیں جیسے ہی صورتحال بہتر ہوگی سو فیصد ٹرین آپریشن شروع کردیا جائے گا۔

    ذرائع کےمطابق اپ اور ڈاؤن کی 30 سے زائد ٹرینیں مکمل طور پر بند ہیں جس کی وجہ سے ریلوے خسارہ بھی بڑھتا جارہا ہے۔

  • پنجاب حکومت کے پاس نئی گاڑیوں کیلئے پیسے ہیں سیلاب متاثرین کیلئے نہیں،خرم دستگیر

    پنجاب حکومت کے پاس نئی گاڑیوں کیلئے پیسے ہیں سیلاب متاثرین کیلئے نہیں،خرم دستگیر

    وفاقی وزیرتوانائی خرم دستگیرنے کہا کہ سیلاب سے بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا،سیلاب سے بجلی سپلائی میں رکاوٹ آئی تھی،سیلاب سے متاثرہ بجلی کا نظام مکمل بحال کر دیا ہے،دن رات کی محنت کے بعد بجلی کا نظام بحال کیا گیا ہے.

    گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرتوانائی خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ اب صرف معمول کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے ،دادو کا گریڈ اسٹیشن بلوچستان اور جنوبی سندھ کی سپلائی کیلئے بہت اہم ہے،دادو کے گریڈ اسٹیشن پر خطرہ ابھی بھی موجود ،پانی کا ریلا اس کی طرف بڑھ رہا ہے،ہم دادو گریڈ اسٹیشن کو بچانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں،دادو شہر چاروں طرف سے پانی میں گھیرا ہوا ہے.

    خرم دستگیرنے کہا کہ ملک میں خسارے والے فیڈرز میں معمول کی لوڈشیڈنگ جاری ہے،کچھ لوگ اس ملک میں فساد پھیلانے چاہتے ہیں، خیبر پختونخوا میں سیلاب سے بجلی کے کھمبے بھی پانی میں بہہ گئے تھے،یہ سیاست کا نہیں بلکہ سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کا وقت ہے،سیلاب متاثرین کی بحالی کی حکومت اپنا کام کر رہی ہے،کسی جتھے کے پاس جلسے کیلئے 10 کروڑ ہیں تو بہتر یہی تھا کہ وہ سیلاب متاثرین کیلئے استعمال ہوتے،سیلاب متاثرین کیلئے حکومت پنجاب کے پاس پیسے نہیں.

    انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے پاس وزرا کیلئے نئی گاڑیاں خریدنے کیلئے30کروڑ روپے موجود ہیں،ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ایک دن بھی پیٹرول کی شارٹیج نہیں ہوئی،بجلی کے بلوں کا بہت دکھ تھا مگر وزیر اعظم نے فوری طور پر ریلیف دیا،بجلی کی قیمت نیچے آئیگی، تمام اسٹیشن چلا کر لوڈشیڈنگ کو کنٹرول رکھا، کل خبر آئی ان کے دور میں یوٹیلٹی اسٹور میں 6ارب روپے کا گھپلا ہوا،ان کے دور میں کویڈ فنڈز میں کم ازکم 140ارب روپے کا گھپلا ہوا ہے،300یونٹ والوں کو ریلیف فوری طور پر دیدیا ہے ،ہم نے متاثرین کو گھر بنا کر دینے ہیں، کروڑوں لوگوں کو کھانا فراہم کرنا ہے، تحریک انصاف کا فتنہ اور فساد جلد عوام کے سامنے بے نقاب ہوجائے گا.

  • امریکہ، پاکستان  میں سیلاب زدگان کے لیے مزید 2 کروڑ ڈالر امداد دے گا

    امریکہ، پاکستان میں سیلاب زدگان کے لیے مزید 2 کروڑ ڈالر امداد دے گا

    جوبائیڈن انتظامیہ پاکستان میں سیلاب زدگان کے لیے مزید 2 کروڑ ڈالر امداد دے گی۔

    امریکی رکن کانگریس شیلا جیکسن لی نے ہیوسٹن میں فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کیا اور اس موقع پر شیلا جیکسن نے کہاکہ پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد امریکی انتظامیہ کو صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں بائیڈن انتظامیہ نے مزید 20 ملین ڈالرز کی منظوری دے دی ہے۔

    دوسری جانب میئر ہیوسٹن اور رکن کانگریس ایل گرین کا کہنا تھا کہ ہم اس مشکل گھڑی میں پاکستانیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، عالمی برادری پاکستان کی مدد کرے۔

    قبل ازیں امریکا نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 3 کروڑ ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا تھا۔اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے کے مطابق پاکستان میں سیلاب کے باعث ہونے والی تباہی سے افسردہ ہیں۔

    امریکی سفارت خانے نے اعلان کیا تھا کہ یوایس ایڈ کے ذریعے انسانی امداد میں مزید 3 کروڑ ڈالرز (6 ارب پاکستانی روپے سے زائد) دیں گے۔امریکی سفارت خانے کا کہنا تھا کہ امداد کیلئے مقامی شراکت داروں اورحکام کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور امداد کا مقصد متاثرین کوفوری خوراک، صاف پانی، مالی مدد اورپناہ گاہ دینا ہے۔

    دوسری جانب امریکا میں تعینات پاکستان کے سفیر مسعود خان نے امریکا کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے 3 کروڑ ڈالر امداد پر اظہار تشکر کیا تھا.ان کا کہنا تھاکہ انسانی بنیادوں پر3 کروڑ ڈالر امداد پر امریکا کے شکر گزار ہیں، اس آفت کے دوران امریکا کے پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کو سراہتے ہیں۔

  • یواین سیکرٹری جنرل پاکستان کا دورہ مکمل کرکے واپس چلے گئے

    یواین سیکرٹری جنرل پاکستان کا دورہ مکمل کرکے واپس چلے گئے

    یواین سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان کا دورہ مکمل کرکے واپس چلے گئے، سیلاب سے تباہی کا ذمہ دار جی ٹوئنٹی ممالک کو قرار دیا اور عالمی برادری سے پاکستان کی مدد کی اپیل کی ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس کی روانگی سے قبل ٹرمینل پر ملاقات کی، وزیر اعلیٰ سندھ نے یو این کے سیکرٹری جنرل کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے اور متاثرین سے ملاقات کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے انتونیو گوتریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی عالمی برادری کو پاکستان کے سیلاب متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اپیل قابل ستائش ہے، اس موقع پرمراد علی شاہ نے یو این سیکرٹری جنرل کو سندھ کے روایتی تحائف اجرک اورسندھی ٹوپی دے کر ٹرمینل ون سے رخصت کیا۔

    اس سے قبل انتونیو گوتریس نے وزیراعظم شہبازشریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ سندھ اور بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا، ساتھ ہی سیلاب متاثرین کے کیمپس کا دورہ کیا، دورے کے دوران انہوں نے پاکستان میں سیلاب سے تباہی کا ذمہ دار جی ٹوئنٹی ممالک کو قراردیتے ہوئے کہا کہ 80 فیصد کاربن کا اخراج یہی جی ٹونٹی ممالک کرتے ہیں۔

    انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ سوال پاکستان کیلئے امداد کا نہیں، پاکستان کے ساتھ انصاف کا ہے۔عالمی حدت میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے لیکن خمیازہ پاکستان بھگت رہا ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں دیکھی تباہی الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتی، ترقی یافتہ ملک پاکستان کو تباہی سے نکالنے میں مدد کریں۔

    انہوں نے کہا کہ تباہی سے نمٹنے کی پاکستان میں سکت نہیں اور نہ ہی پاکستان اکیلے یہ کرسکتا ہے، اقوام متحدہ پاکستان کی آواز کے ساتھ آواز ملائے گا، بحالی کے آپریشن میں کافی فنڈز کی ضرورت ہوگی، ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری ہے، جس کے بعد بحالی کا آپریشن ہوگا۔

  • راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت کئی شہروں  میں موسلادھاربارش، ہائی الرٹ جاری

    راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں موسلادھاربارش، ہائی الرٹ جاری

    جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھاربارش سے جل تھل ایک ہوگیا، نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے، واسا نے ہائی الرٹ جاری کردیا۔

    ایم ڈی واسا کے مطابق نشیبی علاقوں میں واسا عملہ ہیوی مشینری کے ساتھ موجود ہے، گولڑہ کے مقام پر 32 ملی میٹر، چکلالہ پر 30 اور سید پور کےے مقام پر 21 ملی میٹرملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔چکوال اور شکر گڑھ میں بھی بادل جم کر برسے، اسلام آباد میں صبح سویرے بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا۔

    جڑواں شہروں پر کالی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں، واسا نے مسلسل بارش کے باعث راولپنڈی میں ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔ایم ڈی واسا کے مطابق بوکڑہ میں 15، شمس آباد میں13 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کا لیول5 فٹ اور گوالمنڈی پل پر 4 فٹ ہے۔

    علاوہ ازیں مظفرآباد اور گردونواح میں بارش کا سلسلہ جاری،،ایس ڈی ایم نے شہریوں کو موسمی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے سفر کی ہدایت کی ہے،شہری ندی نالوں اور دریاوٴں کے قریب جانے سے گریز کریں .جبکہ اٹک شہر اورگردونواح میں بارش سے گرمی کی شد ت میں کمی آگئی.

    سوہاوہ ،شہر اور گردونواح میں موسلادھار بارش ہوئی،بارش سے متعدد علاقوں میں فیڈر زٹرپ کر گئے اور بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی،خوشاب اور گردونواح میں بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا،دینہ اور گردونواح میں بارش سے گرمی کی شدت میں کمی آگئی.

  • یو این سیکریٹری جنرل  کی سیلاب متاثرین کی بے مثال  معاونت پر مشکور ہیں، وزیراعظم

    یو این سیکریٹری جنرل کی سیلاب متاثرین کی بے مثال معاونت پر مشکور ہیں، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ یو این سیکریٹری جنرل کی سیلاب متاثرین کی بے مثال معاونت پر مشکور ہیں، انتونیو گوتریس کا دورہ سیلاب سے جنم لینے والے انسانی المیے سے متعلق آگاہی کیلئے اہم ہے،یو این سیکریٹری جنرل کے ہمدردانہ اور قائدانہ کردار نے بے حد متاثر کیا.


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیضام میں وزیاعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری کی مدد کی ضرورت ہے.

    وزیارعظم نے کہا کہ یو این سیکریٹری جنرل سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی سے دلی طورپررنجیدہ ہوئے،یو این سیکریٹری جنرل سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی سے دلی طورپررنجیدہ ہوئے،موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں انہوں نے جو کہا اس پر دنیا کو توجہ دینی چاہیے.

    شہباز شریف کا مذید کہنا تھا کہ میں یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا سیلاب متاثرین کی مثالی حمایت کیلئےشکرگزار ہوں.انکا دو روزہ دورہ اس انسانی سانحے کےبارے دنیا بھر میں آگاہی پھیلانے کیلئے نہایت اہم رہا. انکی ہمدردی اور قائدانہ خصوصیات نے مجھےمتاثر کیا.پاکستان کو اس چیلینج سےنبردآزما ہونےکیلئے عالمی تعاون کی ضرورت ہے.


    دوسری جانب یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پاکستان کے دورہ اور سیلاب کی صورتحال کا مشاہدہ کرنے کے بعد ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے ایسے نقصانات نہیں دیکھے جو سیلاب سے پاکستان میں ہوئے.

    انہوں نے کہا کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے ملکوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ے گا،موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات متاثرہ ملکوں کی برداشت سے باہر ہوسکتے ہیں،موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے جو مشترکہ توجہ کا متقاضی ہے.