Baaghi TV

Author: +9251

  • پاک افغان حکام کے مابین تجارت کے فروغ کیلئے مربوط کوششوں پر اتفاق

    پاک افغان حکام کے مابین تجارت کے فروغ کیلئے مربوط کوششوں پر اتفاق

    پاکستان اور افغانستان کے حکام نے طورخم بارڈر پر ملاقات کی، ملاقات میں تجارت کے فروغ کے لیے مربوط کوششوں پر اتفاق کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق حکام نے سرحد پار کرنے والی گاڑیوں کی تعداد 500 سے بڑھ کر 1200 ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں پاکستان کی جانب سے ایف سی، این ایل سی، ایف آئی اے اور پولیس حکام نے شرکت کی جبکہ افغان وفد کی قیادت بارڈر سیکیورٹی کمانڈر مولوی خالد نے کی۔

    ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز محمد طیب کی صدارت میں کسٹمز ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں پاکستانی حکام نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ جس طرح پاکستان نے پیاز کی درآمد پر عائد ڈیوٹی ختم کی تھی اسی طرح افغانستان سے ٹماٹر اور کوئلے پر عائد ایکسپورٹ ٹیکس کو بھی ختم کیا جائے۔

    مذاکرات میں افغان فریق نے پاکستانی حکام کو یقین دلایا کہ وہ ان کی درخواست افغان وزارت تجارت تک پہنچائیں گے۔ افغان وفد نے مطالبہ کیا کہ افغانستان سے تازہ پھلوں کے درجنوں ٹرک کئی دنوں سے پاکستان میں داخل ہونے کے منتظر ہیں، خدشہ ہے کہ لاکھوں روپے مالیت کے پھل خراب ہو سکتے ہیں۔

    پاکستانی حکام نے افغان حکام کو یقین دلایا کہ ٹرکوں کو ترجیحی بنیادوں پر کلیئر کیا جائے گا۔ افغان حکام نے پاکستان میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 500 سے بڑھا کر 1200 کرنے پر پاکستانی فریق کا شکریہ ادا کیا۔

    پاکستانی ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز نے کہا کہ گاڑیوں کی نقل و حرکت کو یومیہ 2000 گاڑیوں تک بڑھایا جائے گا۔ ملاقات کے دوران افغان حکام نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کسٹمز اور ایف سی کی کارروائیوں سے چائلڈ لیبر کا 80 فیصد خاتمہ ہو چکا ہے، امید ہے کہ اس کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

  • دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے پاکستان کیلئے 50 ملین درہم کی فوری امداد کی ہدایت کر دی

    دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے پاکستان کیلئے 50 ملین درہم کی فوری امداد کی ہدایت کر دی

    متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لئے 50 ملین درہم کی فوری امداد کی ہدایت کی ہے۔

    برطانیہ سیلاب زدگان کیلئے مزید ڈیڑھ کروڑ پاؤنڈ امداد دے گا

    یہ امداد محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشی ایٹوز، ورلڈ فوڈ پروگرام اور محمد بن راشد المکتوم ہیومینٹیرین اینڈ چیریٹی اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سےبراہ راست خوراک کی صورت میں سیلاب سے متاثرہ افراد اور خاندانوں کوفراہم کی جا ئے گی ۔

     

    چئیرمین نادرا کا وزیر اعظم کو فلڈ ریلیف فنڈ کے لیے 10 کروںڑ روپے کا عطیہ

     

    یو اے ای کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان میں بڑے پیمانے پر سیلاب سے 1136 سے زائد افراد جاں بحق، لاکھوں افراد بے گھر، 3450 کلومیٹر سے زیادہ اہم سڑکیں تباہ اور کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران پاکستان میں بارشوں کی شرح گزشتہ 30 سالوں کے دوران ریکارڈ کی گئی شرح سے چار گنا تجاوز کر گئی ۔

    عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں آگئیں‌

     

    رپورٹ کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری امداد کی فراہمی متحدہ عرب امارات کی عالمی سطح پر قدرتی آفات اور بحرانوں سے متاثرہ افراد کی ضروریات کو پورا خواہش کا مظہر ہے۔ محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشی ایٹوز 2015ء میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے تحت 30 سے زیادہ انسانی اور ترقیاتی اقدامات اور اداروں کو یکجا کیاگیا ہےجن میں سے زیادہ تر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے 20 سال سے زیادہ عرصے میں قائم کئے اور ان کی معاونت بھی کر رہے ہیں۔ آج اس میں درجنوں خیراتی ادارے شامل ہیں جو پانچ اہم شعبوں میں کام کرتے ہیں جن میں انسانی امداد اور ریلیف، صحت کی دیکھ بھال اور بیماریوں پر قابو پانا ، تعلیم اور علم کو پھیلانا، اختراع اور کاروباری صلاحیت اور کمیونٹیز کو بااختیار بنانا شامل ہیں۔

  • اگست میں ترسیلات زر 2 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ارب 70 کروڑ ڈالر رہیں،مفتاح اسماعیل

    اگست میں ترسیلات زر 2 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ارب 70 کروڑ ڈالر رہیں،مفتاح اسماعیل

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ اگست میں ملکی برآمدات 2 ارب 50 کروڑ ڈالر رہیں جو 13 فیصد زیادہ تھیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگست میں ترسیلات زر 2 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ارب 70 کروڑ ڈالر رہیں۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اگست میں درآمدات 5 ارب 70 کروڑ ڈالر رہیں، گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ درآمدات 13 فیصد کم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگست میں انرجی کی درآمدات 2 ارب ڈالر رہیں جو 5 فیصد زیادہ تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگست میں نان انرجی درآمدات 3 ارب 60 کروڑ ڈالر رہیں، گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں نان انرجی درآمدات 21 فیصد کم رہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اگست میں تجارتی خسارہ 27 فیصد کمی کے ساتھ 3 ارب 20 کروڑ ڈالر رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات اور ترسیلات زر درآمدات سے ابھی بھی کم ہیں جسے ہم بڑھائیں گے۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خوراک کے چیئرمین راؤ اجمل نے زرعی ترقیاتی بینک کا دورہ کیا۔زرعی ترقیاتی بینک نے سیلاب زدہ علاقوں کے کسانوں کیلئے 12 ارب روپے ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ راؤ اجمل نے کہا کہ 12 ارب روپے کے قرضے ایک سال کیلیے موخر کرنے پر بینک کے مشکور ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ میں زرعی ترقیاتی بینک نے 5 کروڑ روپے دیے ہیں۔ اس کے علاوہ جو ضلع آفت زدہ قراردیا جائے گا وہاں زرعی ترقیاتی بینک قرضوں کی واپسی موخر کردے گا۔

  • سیلاب کے باعث 400 بچوں سمیت 1200 افراد جاں بحق ہوئے،مریم اورنگزیب

    سیلاب کے باعث 400 بچوں سمیت 1200 افراد جاں بحق ہوئے،مریم اورنگزیب

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث 1200 کے قریب افراد جاں بحق جبکہ 4 ہزار زخمی ہوئے، جاں بحق ہونے والوں میں تقریباً 400 بچے بھی شامل ہیں۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ لوگوں کے مویشی، گھر اور املاک سیلاب میں بہہ گئے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے سندھ اور بلوچستان کے لیے 10، 10 ارب روپے کی گرانٹ دی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ ملکوں کی فہرست میں ہے۔انہوں نے بتایا کہ زمینی رابطے منقطع ہونے کے باعث امدادی سامان ہیلی کاپٹرز کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سیلاب متاثرین کی مدد کی جا رہی ہے۔وزیراعظم کے ہمراہ سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا،سیلاب زدہ علاقوں کی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوا،سیلاب زدہ علاقوں کی صورتحال دیکھنے کے بعد نیند نہیں آتی،اس وقت صحت کے مسائل پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں،15بلین سندھ، 10 بلین خیبر پختونخوا اور پنجاب کیلئے مختص کیے گئے ،جن کا مالی نقصان ہوا ہے ان کے لیے 5لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں،اب تک 6 لاکھ خاندانوں تک 25 ہزار روپے فی خاندان پہنچ چکے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نےپاکستان کی معیشت کیخلاف سازش کی،عمران خان کوجلسوں کی بجائےسیلاب زدہ علاقوں میں جاناچاہیے،عمران خان روزنیاالزام لگاتےہیں،اگرآپ 4سال کچھ ثابت نہیں کرسکےتواب الزامات لگانابندکردیں،آپ معیشت ،روزگاراورقومی سلامتی کیلئےخطرناک ہیں.

  • سیلاب سے متاثرہ ایک ایک خاندان جلد دوبارہ آباد ہوگا، راجہ بشارت

    سیلاب سے متاثرہ ایک ایک خاندان جلد دوبارہ آباد ہوگا، راجہ بشارت

    چیئرمین وزارتی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی، صوبائی وزیر کوآپریٹوز، تحفظ ماحول و پارلیمانی امور محمد بشارت راجہ نے یقین دلایا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ ایک ایک خاندان جلد دوبارہ اپنے گھروں میں آباد ہوگا۔ مکانات کی دوبارہ تعمیر کا کام پانی اترتے ہی شروع کر دیں گے۔ پنجاب حکومت متاثرہ بھائیوں کی امداد کے لئے مالی وسائل میں کمی نہیں آنے دے گی۔

    برطانیہ سیلاب زدگان کیلئے مزید ڈیڑھ کروڑ پاؤنڈ امداد دے گا

    ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امسال پنجاب میں مجموعی طور پر 364 ملی میٹر بارشیں ہوئیں جو معمول سے 85 فیصد زیادہ تھیں۔ اگرچہ بارشوں سے پہلے فلڈ وارننگ جاری کی گئی تھی اور متعلقہ محکموں نے تیاری بھی کی تھی لیکن اندازے سے کہیں زیادہ بارشوں کے مقابلے میں یہ تیاریاں زیادہ موثر ثابت نہیں ہو سکیں۔

    تباہ کن سیلاب سے 30 لاکھ سے زائد پاکستانی بچے خطرات کا شکار

     

    محمد بشارت راجہ نے کہا کہ پورے صوبے میں بارشوں اور طغیانی کے نتیجے میں 188 اموات ہوئیں۔ اس کے علاوہ 3 ہزار 256 افراد زخمی ہوئے جبکہ 25 ہزار 315 مکانات کو نقصان پہنچا۔ راجن پور، ڈی جی خان اور میانوالی کے اضلاع میں سب سے زیادہ نقصانات ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ بارشوں اور سیلاب سے 6 لاکھ44 ہزار 339 افراد متاثر ہوئے جبکہ دو لاکھ سے زائد مویشی بھی ہلاک ہوئے۔

    صوبائی وزیر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی خود تمام ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں کو پہلے ہی آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے۔ اس وقت ریلیف کا کام آخری مراحل میں ہے پھر بحالی کا اہم مرحلہ شروع کریں گے۔ محمد بشارت راجہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی طرف سے متاثرہ افراد کے لئے ریلیف پیکیج منظور کیا گیا ہے۔ ہر جاں بحق فرد کے لواحقین کو دس لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی۔ پہلے کچے مکانوں کی تعمیر کے لئے امداد نہیں دی جاتی تھی تاہم اس بار کچے مکانوں کی تعمیرنو کے لئے بھی حکومت امداد مہیا کرے گی۔ متاثرہ علاقوں میں 184 ریلیف کیمپ قائم کئے گئے۔ راجن پور کی 3 تحصیلوں، ڈی جی خان کی 4 تحصیلوں اور میانوالی کی ایک تحصیل میں مجموعی طور پر 33 ہزار 478 خیمے، 4400 تھیلے آٹا، 68 ہزار 637 فوڈ ہیمپرز، 3 ہزار سے زیادہ دیگیں اور ہزاروں پانی کی بوتلیں تقسیم کی جا چکی ہیں۔ڈپٹی کمشنر ڈی جی خان کو 100 ملین، ڈی سی راجن پور کو 80 ملین اور ڈپٹی کمشنر میانوالی کو 65 ملین روپے جاری کئے گئے ہیں۔ مزید بھی جتنی رقم کی ضرورت ہوگی وہ مہیا کی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح سمندر پار پاکستانی اپنے بھائیوں کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ چند روز پہلے ہونے والی ٹیلی تھون کے دوران چیئرمین عمران خان کی پکار پر چند منٹوں میں کروڑوں کے عطیات جمع ہوئے۔حکومت کے ساتھ فلاحی تنظیمیں بھی اپنے متاثرہ بہن بھائیوں کی امداد میں سرگرم عمل ہیں۔ یہ ایک قومی سانحہ ہے۔ متاثرین سیلاب کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ان کی ہمت اور جذبے کو سلام کرتے ہیں۔ انشااللہ اس مشکل وقت سے سرخرو ہو کے نکلیں گے۔

  • توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، عمران خان

    توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، نوازشریف، زرداری، یوسف رضا گیلانی کے توشہ خانہ کیسز کو بھی سنا جائے، دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا۔ چار لوگوں نے بند کمرے میں بیٹھ کر سازش کی اور پھر مجھے نااہل کروانے کا منصوبہ بنایا۔

    پی ٹی آئی حکومت جاتے جاتے ہمارے لیے گڑھے کھود کر گئی،وزیراعظم

    سرگودھا میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تیری عبادت اورتجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں،سرگودھا میں سوچا نہیں تھا لوگ اتنی تعداد میں جلسے میں آئیں گے، جلسے میں بڑی تعداد میں خواتین کے آنے پرشکریہ ادا کرتا ہوں، سیلاب کی وجہ سے متاثرین مشکلوں میں ہے،قوم سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے،ہم سب مل کرسیلاب متاثرین کی مشکلیں کم کرنے کی پوری کوشش کریں گے، بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، ڈی جی خان، راجن پور میں لوگ متاثر ہوئے، ٹیلی تھون میں سوچا تھا تین گھنٹے میں چند کروڑ اکٹھے ہو جائیں گے، کم وقت میں متاثرین کے لیےساڑھے500کروڑاکٹھا کیا۔

     

    بشریٰ بی بی کی جانب سے ملک ریاض سے ہار لینے کے سوال پر عمران نے کہا ہیرے بہت سستے ہوتے

     

    انہوں نے کہا کہ ٹیلی تھون میں اوورسیزپاکستانیوں نے دل کھول کرپیسہ دیا،ٹیلی تھون کی تمام لائنیں مصروف ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کا رابطہ نہیں ہوسکا،اگر فون لائنیں مصروف نہ ہوتی تو مزید پیسے اکٹھے ہوجاتے،سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کنٹرول روم بنائیں گے،جہاں پرمتاثرین کومدد کی ضرورت وہاں پرامداد بھجوائیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر تمہیں پہلی دفعہ اندازہ ہوا فارن فنڈنگ کیا ہوتی ہے،ہمیں زیادہ پیسہ بیرون ملک پاکستانیوں نے بھیجا۔

    عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں آگئیں‌

     

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی غلامی کی وجہ سے ہمیں ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں،بیرون ملک پاکستانیوں کومتحرک کرکے ایسی اسکیمیں لائیں گے تاکہ پاکستان کی قرضوں سے جان چھوٹ جائے،لیٹروں کی لوٹ مار کی وجہ سے ہم بیرون ملک ہاتھ پھیلاتے ہیں،قرضے اتارکرہم اپنے پاؤں پرکھڑا ہو کر ایک خود دار قوم بنیں گے،سوچا نہیں تھا سرگودھا کے لوگ اتنی تعداد میں باہرنکلیں گے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جب تک ملک میں انصاف کا نظام قائم نہیں ہو گا تب تک عظیم قوم نہیں بن سکتے،ہمارے ملک میں ظلم کا نظام ہے، کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ قانون ہے،چھوٹا چورجیل اور بڑا چور، چوری کرے تو ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہے،آزاد عدلیہ کے لیے مجھے بھی جیل میں ڈالا گیا،8 دن ڈی جی خان کی جیل میں گزارے، جیل میں ایک امیر چورنہیں بلکہ سارے چھوٹے چورنظرآئے، ملک کے بڑے بڑے ڈاکو مجھے اسمبلی میں نظر آئے، بڑے لیٹروں میں سے ایک ڈیزل بھی ہیں، زرداری، شریف خاندان والے بیرون سازش کے تحت لیٹروں کو مسلط کیا گیا، آپ سب حقیقی آزادی کی تحریک میں شامل ہو جائیں، جب تک یہ چوراوپربیٹھے ہیں اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ امریکا کو چیری بلاسم جوتے پالش کرنے والا چاہیے تھا،ڈیزل تو پہلے ہی تیار بیٹھا تھا،ملک کی سب سے بڑی بیماری زرداری ہے،زرداری نوٹ دیکھ کر اس کی مونچھیں اوپر، نیچے جانا شروع ہو جاتی ہیں، زرداری سے چلا جاتا نہیں لیکن پیسے کے پیچھے جان دینے کو تیارہیں، تینوں اکٹھے ہو گئے اور ان کے ساتھ اور سازشی پاکستان میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک پلان انسان اور ایک اللہ بناتا ہے،اللہ نے لوگوں کے دل موڑدیئے لوگ سڑکوں پر نکل آئے، جنہوں نے سازش کی وہ ہکے، بہکے رہ گئے، قوم سڑکوں پرنکل آئی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کے بعد پہلی دفعہ خواتین،بچے سڑکوں پرنکل آئے،25مئی کو پولیس، رینجرزنے خواتین پر شیلنگ کر کے خوف پھیلایا، میں توبھول ہی گیا ہوں میرے خلاف اب تک 17 ایف آئی آرکٹ چکی ہیں،پنجاب کے ضمنی الیکشن میں ہرحربہ استعمال کیا گیا پھربھی یہ ہارگئے،پنجاب کے ضمنی الیکشن ہارنے پر حمزہ ککڑی کو فارغ کرنا پڑا، ضمنی الیکشن ہارے تو ان کی کانپیں ٹانگنا شروع ہوگئیں، ان کو خوف تھا کہ اگر عام انتخابات کرادیئے تو دو تہائی اکثریت عمران لے گا، ضمنی الیکشن کے بعد انہوں نے ٹیکنکل طریقے سے مجھے فارغ کرانے کی سازش شروع کی، پہلی سازش حکومت گرانا، دوسری سازش مجھے راستے سے ہٹانے کی کوشش تھی، ایک بند کمرے میں یہ بھی فیصلہ ہوا، عمران خان کو مکمل طور پر سائیڈ کر دیا جائے۔

    اپنی بات جاری رکھتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک ٹیپ ریکارڈ کر کے رکھوادی ہے جس میں اُن چار لوگوں کے نام ہیں جنہوں نے میری حکومت کے خلاف سازش کی اور نااہل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو وہ ٹیپ عوام کے سامنے آئے گی اور پھر عوام اُن چاروں لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے پالتو الیکشن کمشنر کو مجھے فنڈنگ کیس میں نا اہل کرنے کا کہا گیا۔

    پی ٹی آئی چیئر مین نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے،نوازشریف، زرداری،یوسف رضا گیلانی کے توشہ خانہ کیسز کو بھی سنا جائے، دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا،توشہ خانہ کیس میں یہ سارے ذلیل ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم تو 27 ویں شب کو شب دعا منا رہے تھے، مدینہ میں ان کے خلاف چور، چور کے نعرے لگے اور مقدمہ میرے خلاف توہین مذہب کا درج کیا گیا، شہباز گل پرجنسی تشدد کیا گیا، میں نے یہ کہا جنہوں نے تشدد نہیں روکا ان کیخلاف قانونی کارروائی کروں گا، اس پر میرے خلاف دہشت گردی کا کیس بنادیا گیا،مجھ پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے پر دنیا میں مذاق اڑایا گیا، دہشتگردی مقدمے کا مقصد مجھے کسی طرح راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں،بتایا جائے کونسا معاشرہ کسٹوڈین تشدد کی اجازت دیتا ہے،حلیم عادل شیخ پر بھی تشدد کیا گیا، 27 مقدمات درج کیے گئے، مسلم لیگ (ن) والے چاہتے ہیں نواز شریف کی طرح مجھے بھی نا اہل کیا جائے، نواز شریف نے لندن میں اربوں روپے کے چار مہنگے فلیٹس خریدے، دس سال پہلے نوازشریف سے منی ٹریل مانگی آج تک نہیں دی،مریم نوازکہتی تھی لندن تو کیا ملک میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں،مریم نواز جتنے سیدھے منہ سے جھوٹ بولتی ہیں کبھی کسی کو نہیں بولتے سنا، اللہ تعالیٰ حق اور سچ کو سامنے لیکر آتا ہے، نواز شریف جب پکڑا گیا تو حسین نواز نے لندن فلیٹس کو تسلیم کیا، لندن کے چار بڑے محلات کی مالکہ مریم نوازہیں،قوم کا پیسہ چوری کر کے لندن کے فلیٹ خریدے گئے تھے ن لیگ والوں میرا نواز شریف کیس سے موازنہ نہ کرو،مسلم لیگ والوں میرا سب کچھ اورجینا مرنا پاکستان میں ہے۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک طرف جب قوم کی خواتین جاگ جائیں تو انقلاب آجاتا ہے، باپ اگر ن لیگ اور بچے، بیوی سارے تحریک انصاف میں ہوتے ہیں، ماں بچے کی شکل کو دیکھ کر پہچان جاتی ہیں، ماؤں کو پتا ہے(ن) لیگ اور زرداری چورہیں، قوم کے پیسوں سے لندن کے فلیٹس خریدے گئے،26سال سے ان کی کرپشن کے خلاف جدوجہد کر رہا ہوں، قوم کا جوپیسہ سکولز، ہسپتال، سڑکوں، بجلی بنانے پر لگنا تھا وہ چوری کیا گیا، کرپشن پورے ملک کو تباہ کردیتی ہے، یہ چوری کا پیسہ بیرون ملک بھیجتے ہیں،آج کل چیری بلاسم سیلاب متاثرین کے پاس صرف تصویریں کھنچوانے کے لیے جارہا ہے، شہبازشریف اگر متاثرین کی مدد کے لیے سیریس ہیں تو اپنا اور بھائی کا آدھا پیسہ ملک میں واپس لے آئے،شہبازشریف جب سے اقتدارمیں آیا ہے ملک کی شرمندگی ہورہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ شہبازشریف دوسروں سے کہتا ہے ملک میں پیسہ لیکر آؤ، یہ خود ملک کا پیسہ چوری کر کے بیرون ملک لے جاتے ہیں، دنیا کا کوئی ایک سربراہ بتا دیں جس کا پیسہ بیرون ملک ہواوروہ اقتدارمیں ہو،ان کوہمارے اوپرمسلط کیا گیا ہے،آپ نے میرے ساتھ کھڑا ہونا ہے ہم نے ان لوگوں سے حقیقی آزادی چھیننی ہے۔ انہوں نے سازش کر کے ہماری حکومت گرائی، حکومت کے اکنامک سروے کے مطابق پی ٹی آئی حکومت میں معاشی ترقی 6 فیصد گروتھ تھی،کورونا کے باوجود یہ 17 سال بعد پاکستان کی بہترین معاشی کارکردگی تھی،کورونا کے باوجود ہماری ریکارڈ ایکسپورٹ تھی،ریکارڈ ٹیکس ریونیو اکٹھا کیا گیا، ہمارے دور میں کسانوں نے سب سے زیادہ پیسہ کمایا،آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود ہم نے مہنگائی کو کنٹرول میں رکھا، 17 سے 18 فیصد مہنگائی تھی، آج مہنگائی 45 فیصد سے اوپر چلی گئی ہے، بجلی کے بل دیتے ہوئے لوگوں نے دو گولیاں ڈسپرین کی بھی ساتھ کھائیں،ہماری حکومت نے ہر خاندان کو 10لاکھ علاج کی انشورنس دی،چارماہ پہلے ڈاکٹرز ہسپتال میں میرے دوست نے کہا پہلی دفعہ ہیلتھ کارڈ پر دل کا آپریشن کیا،آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود ہم نے مہنگائی کو کنٹرول اور عوام کوسبسڈی دی، آج سازش کرنے والے بتائیں ملک کا جوحال ہے کون ذمہ دارہے؟

  • قومی یکجہتی کے ذریعے مشکل وقت کا مقابلہ کریںگے،شہباز شریف

    قومی یکجہتی کے ذریعے مشکل وقت کا مقابلہ کریںگے،شہباز شریف

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے پورا ملک متاثر ہوا ہے اور اس افتاد سے نمٹنے کے لیے ہمیں بھائی چارے اور مواخات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ اس آفت سے نمٹنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں.

    پی ٹی آئی حکومت جاتے جاتے ہمارے لیے گڑھے کھود کر گئی،وزیراعظم

    وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہم قومی یکجہتی کے ذریعے اس مشکل وقت کا مقابلہ کریںگے ۔ پوری قوم اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالے۔. وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں مختلف وفود سے ملاقات میں کیا.

    پاک فوج مشکل گھڑی میں مشکلات پرقابو پانے میں سیلاب متاثرین کی مدد کرے گی،آرمی چیف

     

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے چئیرمین نادرا محمد طارق ملک نے ملاقات کی چئیرمین نادرا نے وزیر اعظم کو فلڈ ریلیف فنڈ کے لیے 10 کروںڑ روپے عطیہ کا جیک پیش لیا۔

    چئیرمین قاضی محمد منصور دلاور کی سربراہی میں پاکستان فارماسوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے وفد نے وزیر اعظم سے ملاقات کی، اور وزیر اعظم فلڈ ریلیف فنڈ کے لیے 2 کروڑ روپے عطیہ کا چیک پیش کیا۔پاکستان فارماسوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن نے سیلاب متاثرین کے لیے 5 کروڑ روپے کی ادویات بھی عطیہ کیں۔

    وزیر اعظم نے NDMA حکام کو ہدایت کی کہ وہ مختلف متاثرہ علاقوں میں ادویات کی ضرورت کا تعین کرنے کے بعدپاکستان فارماسوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر ان کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔پاکستان فارماسوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن نے ضرورت پڑنے پر مزید ادویات عطیہ کرنے کا بھی عہد کیا۔

    گلوبل CEO وسیم احمد کی سربراہی میں اسلامک ریلیف کے وفد کی بھی وزیر اعظم سے ملاقات۔ وفد میں اسلامک ریلیف کے کنٹری ڈائریکٹر آصف علی شیرازی اور کنٹری ایڈووکیسی سپیشلسٹ رضا قاضی بھی موجود تھے۔

    اسلامک ریلیف نے وزیر اعظم کو بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخواہ میں سیلاب زدگان کے ریلیف کے لیے اقدامات پر بریفنگ دی۔ انہوں نے وزیر اعظم کو 3 کروڑ پاؤنڈ عطیہ جمع کرنے کے ہدف کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

  • برطانیہ سیلاب زدگان کیلئے مزید ڈیڑھ کروڑ پاؤنڈ امداد دے گا

    برطانیہ سیلاب زدگان کیلئے مزید ڈیڑھ کروڑ پاؤنڈ امداد دے گا

    برطانیہ نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے 1 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈز (تقریباً سات ارب پاکستانی روپے ) کی مالی مدد کا اعلان کر دیا۔

    سیکرٹری خارجہ لز ٹرس نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ پاکستان کو تباہ کن سیلاب کے بعد زندگی بچانے کے لیے امداد فراہم کر رہا ہے، ملک کا ایک تہائی حصہ پانی کے اندر ڈوبا ہوا ہے۔

    برطانوی حکومت کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق برطانیہ کی طرف سے 15 ملین پاؤنڈز کی امداد سے ملک بھر کے لوگوں کو پناہ گاہ اور ضروری سامان فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ سیلاب سے 33 ملین سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں، 1,100 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، سکریٹری خارجہ کی طرف سے اعلان کردہ تازہ ترین فنڈنگ گزشتہ ہفتے کے آخر میں برطانیہ کی جانب سے تباہی کے لیے 1.5 ملین پاؤنڈ فراہم کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

    برطانیہ سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے پاکستان کو 15 ملین پاؤنڈ کی مالی مدد کرے گا.5 ملین پاؤنڈ اقوام متحدہ کی فلیش اپیل کے بعد پاکستان کو دیے جا رہے ہیں۔10 ملین پاؤنڈ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی عالمی ایجنسیوں کے ذریعہ دیے جائیں گے۔ 10 ملین پاؤنڈ کی رقم پینے کے صاف پانی شیلٹر اور خواتین و بچیوں کی امداد پر خرچ کی جائے گی۔

    برطانوی سیکرٹری خارجہ لز ٹرس نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ لاکھوں لوگوں کو تباہ کن سیلابوں کا سامنا ہے جس نے ملک کا ایک تہائی حصہ متاثر کیا ہے جو تقریباً برطانیہ کے حجم کے برابر ہے، ایک بڑے انسانی ہمدردی کے عطیہ دہندگان کے طور پر ہم سب سے زیادہ کمزور لوگوں تک زندگی بچانے والی امداد حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے

    وزیر مملکت برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی لارڈ طارق احمد آف ومبلڈن نے کہا کہ ہم موسمیاتی تبدیلی کے المناک اثرات اور لاکھوں لوگوں پر پڑنے والے اثرات کو پہلے سے دیکھ رہے ہیں۔ برطانیہ پاکستانی حکام کے ساتھ 24 گھنٹے کام کر رہا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ قلیل مدتی اور طویل مدتی میں کس مدد کی ضرورت ہے۔

  • عمران خان کا کل گجرات میں جلسہ،پرویزالہیٰ اور مونس انتظامات کا جائزہ لینے پہنچ گئے

    عمران خان کا کل گجرات میں جلسہ،پرویزالہیٰ اور مونس انتظامات کا جائزہ لینے پہنچ گئے

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے کل گجرات میں ہونے والے جلسے کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی ظہور الٰہی سٹیڈیم پہنچ گئے. حسین الٰہی ایم این اے، موسیٰ الٰہی اور صوبائی وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر بھی ان کے ہمراہ تھے.

    چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی نے کل چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے جلسے کے انتظامات کا جائزہ لیا ،چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی نے جلسہ گاہ کا دورہ کیا ، چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کی جلسے کے لئے بہترین انتظامات کی ہدایت کی.

    چودھری پرویزالٰہی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ گجرات کل بھی عمران خان کا تھا، آج بھی عمران خان ہے اور کل بھی عمران خان کا رہے گا۔کل کا جلسہ گجرات کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہو گا۔ گجرات کے لوگوں کا جوش و خروش دیکھ کر دل خوش ہو گیا ہے۔ کل کا جلسہ نئی تاریخ رقم کرے گا۔

    چودھری پرویزالٰہی کا کہنا تھا کہ عمران خان کو مائنس کرنے والے خود مائنس ہو چکے ہیں،عمران خان کے بغیر پاکستانی کی سیاست نامکمل ہے، عمران خان کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے، گجرات کے لوگ عمران خان سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔

  • ڈیڑھ لاکھ سے زائد سیلاب متاثرین وبائی امراض کا شکار، امداد نہ ملنے کا شکوہ

    ڈیڑھ لاکھ سے زائد سیلاب متاثرین وبائی امراض کا شکار، امداد نہ ملنے کا شکوہ

    ملک میں سیلاب کی تباہ کاریاں تھمنے کا نام نہیں لے رہیں، بے گھر متاثرین میں اب مختلف اقسام کی وبائی بیماریاں پھیل رہی ہیں جب کہ متاثرین امداد کا ملنے کا شکوہ کررہے ہیں۔

    ملک میں مون سون بارشوں کا سلسلہ تو تھم گیا ہے لیکن اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں کا اثرات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 27 افراد سیلاب کی نذر ہوگئے، جس کے بعد اب ملک میں اس قدرتی آفت کے نتیجے میں لقمہ اجل ہونے والوں کی مصدقہ تعداد 1191 ہوچکی ہے جب کہ 3 ہزار 641 افراد زخمی ہیں۔

    24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں مزید 15، خیبر پختونخوا میں 7، بلوچستان میں 4 اور پنجاب میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔ این ڈی ایم اے کے مطابق ملک میں اب تک سیلاب اور بارشوں سے 3 لاکھ 72 ہزار 823 گھر تباہ ہوئے جب کہ 7 لاکھ 33 ہزار 536 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ قدرتی آفت کے نتیجے میں 243 پل تباہ اور 5 ہزار 63 کلومیٹر شاہراہوں کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ 7 لاکھ 31 ہزار سے زائد مویشی بھی سیلاب میں بہہ گئے۔

    بلوچستان

    بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی حالت سب سے زیادہ تشویش ناک ہے، راستوں کی بندش اور امن و امان کی مخدوش صورت حال کے باعث ہزاروں متاثرین تک تاحال امداد نہیں پہنچ پارہی۔ کراچی سے زمینی رابطہ نامکمل ہونے کے باعث اشیائے ضروریہ کی ترسیل کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے ناجائز منافع خور مافیا میدان میں آگیا ہے۔

    بلوچستان میں سیلاب کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے ، کوئٹہ میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹوں تک پہنچ گیا ہے جبکہ دیگر اضلاع میں بجلی دستیاب ہی نہیں۔ سولر پینلز کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، دکاندار کہتے ہیں کہ راستے بند ہیں، مال کم ہو نے کی وجہ قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ چیف ایگزیکٹیو افسر کیسکو کہتے ہیں کہ سیلاب کے باعث بجلی کے 27 گریڈ اور 336 فیڈر متاثر ہوئے ہیں ، بحالی کا کام ایک ہفتے میں مکمل کر لیا جائے گا۔

    سندھ

    سکھر میں بارش رُکے ایک ہفتہ گزر گیا لیکن شہر بدستور پانی پانی ہے، ایک درجن سے زائد کالونیوں سے تاحال پانی نہ نکالا جاسکا، بےنظیر کالونی، بھوسا لین، گول ٹکری اور احمد نگر زیرآب ہیں، شہبازکالونی اور دیگر علاقوں میں بھی 3 سے 4 فٹ پانی کھڑا ہے۔ پانی کی نکاسی نہ ہونے اور پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی کے باعث گیسٹرو، ملیریا اور جلد کی بیماریاں پھیلنے لگی ہیں۔

    خیر پور میں سیلاب متاثرین نے کٹوہرگوٹھ کے قریب سیم نالے کی حفاظتی دیوار کو توڑ دیا ہے جس کی وجہ سے پانی شہر میں داخل ہوگیا، کئی علاقوں میں پانی کی سطح 3 فٹ تک بلند ہوگئی۔ سیلابی پانی ضلع سانگھڑ کے قریب آن پہنچا ہے، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سیم نالوں میں شگاف کو بھرنے اور نالوں کی صفائی کا کام کررہے ہیں، سیلابی صورتحال کے پیش نظر اب تک 34 ہزار خاندان گھر بار چھوڑ کر سڑکوں پر آچکے ہیں۔
    کم از کم 1500ارب کا نقصان

    نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث سندھ کو کم از کم پندرہ سو ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے، اس نقصان میں بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا نقصان شامل نہیں ہے ۔ مراد علی شاہ نے مزید بتایا کہ سندھ میں 205 ارب روپے کی کپاس فصلوں کو نقصان پہنچا ہے ، خیرپور میں کھجور کی فصل کا نقصان 7 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ 2016 کی خانہ شماری کے مطابق صوبے میں 30 لاکھ کچے گھر ہیں، حالیہ بارشوں کے باعث تمام کچے گھر ڈھے چکے ہیں۔

    جنوبی پنجاب

    جنوبی پنجاب میں سیلابی پانی اترنے کے ساتھ ساتھ تباہی کے اثرات بھی واضح ہونے لگے ہیں۔

    ڈیرہ غازی خان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی ابتدائی ریورٹ جاری کردی گئی ہے جس کے مطابق ندی نالوں میں سیلاب سے اب تک 45 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں سیلاب سے367 دیہات زیرآب آئے، 2 لاکھ 12 ہزار 838 افراد متاثر ہوئے، طوفانی بارشوں اور سیلاب سے 17 ہزار 838 مکانات منہدم، 96 اسکول متاثر جب کہ 22 سڑکوں کو مکمل یا جزوی نقصان پہنچا۔

    رود کوہی اور کوہ سلیمان کے سیلابی ریلے کو راستہ دینے کے لیے قومی شاہراہ کو راجن پور کے قریب سے توڑ دیا گیا ہے اور علاقہ مکین لکڑی سے بنے عارضی پُل سے گاڑیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب جنوبی پنجاب کے سیلاب زدگان میں وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان میں زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں، ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد متاثرین مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق 37 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں جب کہ 33 ہزار سے زائد خارش اور جلدی امراض کا شکار ہوگئے، اب تک 20 ہزار تیز بخار میں مبتلا اور 17ہزار کو ڈائیریا ہوگیا، ڈھائی ہزار سے زائد کو آنکھوں کی بیماری میں آگھیرا، 21 افراد کو کتوں نے کاٹ لیا اور 2 کو سانپ نے ڈسا۔

    فاضل پور میں سیلابی پانی سے شمس آباد کالونی کے سیکڑوں گھر تباہ ہوگئے ہیں جس کے بعد علاقہ مکین نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ راجن پور اور فاضل پور کے درمیان واقع بستی کے مکینوں کے لیے نئی مشکل نے آگھیرا ہے، امدادی سامان اصل حقداروں تک پہنچنے سے پہلے ہی لوٹ مار شروع ہوگئی ہے۔

    خیبر پختونخوا

    سوات کی تحصیل مٹہ میں دریا برد ہونے والے گاؤں جلالہ کے مکین بے سر و سامانی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، گاؤں میں ہرطرف تباہی کے مناظر ہیں، سیلاب سے باغات بہہ گئے، گاؤں کے 21 مکانات دریا برد جب کہ جامع مسجد بھی شہید ہوگئی، متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومت آباد کاری کے لئےمالی مدد فراہم کرے۔

    دیر سے کمراٹ جانے والی سڑک بری کوٹ کے مقام پر ایک کلو میٹر تک سیلاب کے پانی میں ڈوب گئی ہے، اس کے نتیجے میں کمراٹ اور تھل سمیت کوہستان کی ایک لاکھ سے زائد آبادی کا شہر سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ متاثرین مشکل راستوں پر کئی کلو میٹر طویل پیدل سفر پر مجبور ہیں جب کہ ضلعی انتظامیہ اور لیویز اہلکار امداد کندھوں پر لاد کر متاثرین تک پہنچا رہے ہیں۔

    نوشہرہ اور چار سدہ کو آپس میں ملانے والے دریائے کابل پر واقع پُل ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، یہ پُل سیلاب کی وجہ سے پانچ روز سے بند تھا۔اس کے کھلنے سے چار سدہ اور نوشہرہ کا رابطہ بحال ہو گیا۔