Baaghi TV

Author: +9251

  • یوٹیلیٹی اسٹورز پر مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے.

    یوٹیلیٹی اسٹورز پرمختلف برانڈز کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف برانڈز کی 900 گرام چائے کی قیمت 400 روپے تک مہنگی ہو گئی۔ 900 گرام چائے کی قیمت 905 روپے سے بڑھ کر 1305 روپے ہوگئی۔ ٹی وائیٹنر کی قیمتوں میں 100 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر دلیے، سیریل ، نوڈلز،سوئیوں اورنمکو کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا گیا۔ بچوں کے دودھ کے 800 گرام پیکٹ کی قیمت 260 روپے بڑھ گئی۔ مختلف مصالحہ جات کی 50 گرام میں 50 روپے تک اضافہ ہوا ہے۔سرخ مرچ 100 گرام کی قیمت 84 روپے کا جبکہ 100 گرم مصالحے کی قیمت میں 42 روپے تک اضافہ ہوا۔ کسٹرڈ ،کالی مرچ ،میتھی ،جام ،مشروبات سمیت کئی اشیاء کے دام بھی بڑھ گئے ہیں۔ شہد کی 100 گرام کی بوتل 100 روپے مہنگی ہوگئی ہے جبکہ ایک کلو اچار کا پیک 57 روپے تک مہنگا ہوگیا ہے۔ کھیر کا 55 گرام کا پیک 20 روپے، 200 گرام چھوارے 40 روپے اورجھاڑو کی قیمت 9 روپے بڑھ گئی ہے۔

    ترجمان یوٹیلٹی اسٹورز کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز پر دستیاب اشیاء کی کوالٹی سب سے اعلی اور قیمتیں سب سے کم ہیں۔ملک بھر کے تمام اسٹورز پر ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی بہتری کیلئے کچھ برانڈزکی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے جو ان برانڈز کی طرف سے ہے۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ تمام یوٹیلیٹی اسٹورز پر سبسڈائزڈ گھی 300روپے فی کلوگرام، چینی 70 روپے فی کلومیں دستیاب ہے۔20 کلو آٹے کا تھیلا 800روپے پر وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ دالوں اور چاول پر بھی سبسڈی دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر دستیاب سینکڑوں دیگر برانڈڈ اشیاء بھی عام مارکیٹ سے کم قیمت پرفراہم کی جا رہی ہیں۔

    دوسری جانب غریب عوام کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت دن بدن چیزوں کو مہنگا کرتی جارہی ہے جس سے ہمارا جینا حرام ہوگیا ہے لہذا حکمران وقت بتائے کہ ہمغریب لوگ کہاں جائیں.

  • پی ٹی آئی حکومت میں کورونا ریلیف فنڈ کے نام پر اکٹھا کیا گیا 5 ارب وبا کے سدباب کیلئے استعمال نہیں ہوا تھا

    پی ٹی آئی حکومت میں کورونا ریلیف فنڈ کے نام پر اکٹھا کیا گیا 5 ارب وبا کے سدباب کیلئے استعمال نہیں ہوا تھا

    پی ٹی آئی حکومت میں کرونا فنڈ کے نام پر اکٹھا کیا گیا 5 ارب کرونا وبا کے سدباب کیلئے استعمال نہیں ہوا تھا.

    عمران خان کے کووڈ ریلیف پیکیج کی آڈٹ رپورٹ میں ’اربوں روپے کی بےضابطگیوں‘ کی نشاندہی کی گئی، آپ کو یاد ہوگا کہ سنہ 2020 میں پاکستان میں اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مختص کیے گئے امدادی پیکیج کی جانچ پڑتال کی رپورٹ میں اربوں روپوں کی بےضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی.

    رپورٹ میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)، یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن، وزارت دفاع اور دیگر محکموں کے اکاؤنٹس اور ان کو کووڈ 19 کی وبا سے نمٹنے کی مد میں دی گئی رقم کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔ تاہم اس وقت رپورٹ میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کے بارے میں جب وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف اس رپورٹ سے ‘مطمئن’ ہے جبکہ اس رپورٹ میں موجود بے ضابطگیوں کی ‘توثیق’ کی جا چکی ہے۔

    لیکن انھوں نے ان محکموں اور اداروں میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے خلاف کسی قدم اٹھائے جانے یا انکوائری شروع کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا تھا.

    آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی جانب سے تیار کی گئی یہ رپورٹ 30 جون 2020 کے مالی سال کے اختتام پر کورونا امدادی سرگرمیوں میں شامل وفاقی محکموں کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے بعد گزشتہ سال جون میں مکمل کی گئی تھی. دو سو سے زائد صفحات پر مبنی اے جی پی کی اس رپورٹ میں این ڈی ایم اے، بی آئی ایس پی، یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن، وزارت دفاع اور دیگر سرکاری محکمہ جات کو کووڈ امدادی پیکج کے تحت دی جانے والی رقوم کی جانچ پڑتال کی گئی تھی جس میں کم از کم چالیس ارب روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی اور ان کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے تھے۔

    این ڈی ایم اے کو اس عرصے میں 33 ارب روپے دیے گئے جس میں ادارے نے تقریباً 23 ارب روپے استعمال کیے۔ تاہم اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے بعد بتایا گیا کہ آڈٹ کے دوران متعدد ایسے مشاہدات سامنے آئے جس میں سامان حاصل کرنے کے عمل میں بے ضابطگیاں، معاہدوں اور مالیاتی معاملات میں نگرانی کے عمل میں کمزوریاں نظر آئیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کئی مواقعوں پر طلب کیا گیا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔


    این ڈی ایم اے کی جانب سے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے ساتھ ریسورس مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ کے لیے کیے گئے تقریباً سوا چار کروڑ روپے کے معاہدے پر رپورٹ میں سوالات اٹھائے گئے اور کہا گیا تھا کہ ‘معاہدہ کی کوئی توجیہ نہیں کیونکہ این آئی ٹی بی کے پاس اس نظام کو نافذ کرنے کی ’اہلیت نہیں تھی اور نہ ہی اس معاہدے کو اتنی جلد بازی میں کرنے کی توجیہ قابل قبول ہے۔

    رپورٹ میں یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ چینی کی خریداری میں 1.4 ارب روپے جبکہ گھی اور کوکنگ آئل کی خریداری کی مد میں 1.6 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی.

    واضح‌ رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ملک میں سیلاب کی تباہ کاری اور متاثرین کی مدد کے لیے منعقد کی گئی ٹیلی تھون میں تحریک انصاف کی جانب سے پانچ ارب روپے کے عطیات وصول ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس پانچ ارب روپے کا حشر بھی وہی ہوگا جو ماضی میں کرونا فنڈ کا ہوا تھا؟

  • دنانیر مبین نے کیا شکریہ ادا یو اے ای کا

    دنانیر مبین نے کیا شکریہ ادا یو اے ای کا

    سوشل میڈیا سے شہرت پانے والی اداکارہ دنانیر مبین نے متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا ہے. انہوں نے ایک وڈیو پیغام میں کہا ہےکہ پاکستان اس وقت نہایت مشکل میں ہے اور اسکو ہم سب کی ضرورت ہے. یہ دیکھ کر میرےدل کو بے حد خوشی ہوئی ہے کہ متحدہ عرب امارات پاکستان کے مشکل وقت میں اسکے ساتھ کھڑا ہے اور امداد بھیج رہا ہے. مجھے اپنی مسلم کمیونٹیز کے درمیان اتحاد دیکھ کر بے حد خوشی ہے.دنانیر نے مزید کہا کہ کے پی کے سندھ جیسے دیگر علاقوں میں صورتحال اس وقت کافی خراب ہے.

    دنانیر کے علاوہ بھی پاکستانی عوام اور نامومار شخصیات یو اے ای کی حکومت کی شکر گزار ہیں کیونکہ یو اے ای کی حکومت بڑے پیمانے پر پاکستان امداد بھیج رہی ہے. یو اے ای کے علاوہ بھی دنیا کے کئی ممالک اس مشکل وقت میں مدد کرے ہیں. پاکستان میں موجود این جی اوز اور عام لوگ اس وقت سیلاب زدگان کی جس طرح‌ مدد کررہے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے گو کہ چند ناخوشگوار واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں جیسا کہ راشن کے جھانسا دیکر عصمت دری کی جا رہی ہے، دوکانداروں نے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دگنی کر دی ہیں. دوسری طرف الخدمت فائونڈیشن کی امدادی سرگرمیوں‌ کی پوری دنیا میں دھوم مچی ہوئی ہے.

  • شہباز گل نے ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا

    شہباز گل نے ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا

    بغاوت پر اکسانے کے الزام میں قید پی ٹی آئی رہنما شہبازگل نے ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواست دائر کردی ہے.

    بغاوت پر اکسانے کے الزام میں قید تحریک انصاف کے رہنما شہبازگل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کردی ہے۔ شہباز گل نے درخواست میں ایس ایچ او کوہسار،سٹی مجسٹریٹ سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے۔ درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ 9 اگست کو تھانہ کوہسار پولیس نے گرفتار کیا، 17 اگست کو پمز کے سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے معائنہ کیا، اڈیالہ جیل اور پمز کے میڈیکل بورڈ کے مطابق تشدد کے شواہد ملے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کیس کے حتمی فیصلے تک ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل کی درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر کر دی ہے۔ شہبازگل کی درخواست پر سماعت پیر کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ کریں گے۔

    اس سے قبل پی ٹی آئی رہنما شہبازگل نے اسلام آباد کی سیشن عدالت میں بھی درخواست ضمانت دی تھی، تاہم عدالت نے اسے مسترد کرکے خارج کردیا تھا۔ شہباز گل کے وکیل برہان معظم نےعدالت میں دائر درخواست میں مؤقف پیش کیا تھا کہ اُن کے موکل اپنے بیان کے حوالے سے پیدا ہونے والی کسی بھی غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے تیار ہیں۔ وکیل برہان معظم نے اپنے دلائل میں کہا کہ شہباز گل معافی مانگنے کیلئے بھی راضی ہیں لیکن عدالت یہ بھی دیکھے کہ اُن کی گفتگو کے مختلف نکات کو اٹھا کر کس طرح بغاوت کا الزام لگایا گیا۔

    واضح رہے کہ: شہباز گِل نے نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی‘ کے ایک پروگرام میں متنازع گفتگو کی تھی جس کی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا دوسری جانب یہ پروگرام نشر ہونے کے بعد پیمرا نے چینل کی نشریات معطل کر دی تھی اور ٹی وی انتظامیہ کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

  • وزیراعظم  شہباز شریف کا سیلاب متاثرین سے ملنے کیلئے دورہ گلگت بلتستان

    وزیراعظم شہباز شریف کا سیلاب متاثرین سے ملنے کیلئے دورہ گلگت بلتستان

    وزیرِاعظم میاں محمد شہباز شریف کا آج بروز جمعہ 2 ستمبر سیلاب متاثرین سے ملنے کے لیئے گلگت بلتستان کا دورہ.

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف گلگت بلتستان آمد پر سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور جاری ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیں گے۔ دورے سے متعلق وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے وزیراعظم کو گلگت میں بارشوں اور سیلاب کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ تاہم بعد ازاں وزیرِ اعظم غذر جائیں گے اور متاثرہ علاقوں کے فضائی جائزے کے بعد متاثرین سے ملاقات بھی کریں گے۔ وزیراعظم سیلاب سے متاثرہ گاؤں بوبر جائیں گے۔

    گلگت بلتستان میں سیلاب سے تقریبا درجنوں افراد جاں بحق ہوئے ہیں، اور اب تک 7406 ملین سے زائد کے نقصانات ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) کا کہنا ہے کہ اب تک سیلاب سے درجنوں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    جی بی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں سیلاب سے 22 پاور ہاؤسز کو نقصان پہنچا جس میں سے 19 عارضی طور پر بحال کردیے گئے۔ 49 سڑکوں کو نقصان پہنچا جن میں سے 41 عارضی طور پر بحال کردی گئیں، پینے کے پانی کی 78 سپلائیز کو نقصان پہنچا، 65 عارضی طور پر بحال کردی گئیں۔

    علاوہ ازیں 500 آب پاشی کے چینلز کو نقصان پہنچا، 340 عارضی طور پر بحال کردی گئیں، 56 پلوں کو نقصان پہنچا جن میں سے 43 عارضی طور پر بحال کردیے گئے۔ جی بی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سیلاب سے 7406 ملین کے نقصانات ہوئے ہیں۔

    ضلع گلگت کی وادی گوروجگلوٹ، بارگو اور سیاحتی علاقہ نلتر میں سیلاب نے تباہی مچا دی تھی۔ نلتر کا سیلابی ریلہ گلگت کو بجلی فراہم کرنے والے 18 میگاواٹ بجلی گھر میں داخل ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے گلگت شہر کی بجلی 48 گھنٹوں تک معطل رہی تھی گوروجگلوٹ میں دریا کا رخ نشیبی علاقوں کی طرف جس کے باعث مزید نقصان کا اندیشہ جبکہ گلگت کے شمال کی جانب گاؤں بارگو میں سیلاب آنے کی وجہ سے لوگوں کی زرعی اراضی اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ضلع غذر کے کئی گاؤں جن میں درمدر گاؤں، فمانی، مومن آباد اشکومن، گلوداس، چرتوئی گوپس، طاؤس یاسین، مجاور اشکومن، پکورہ اشکومن، برنداس اشکومن شامل ہیں، میں بھی مختلف درجے کے سیلاب آئے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے مختلف مقامات پر سڑکیں بلاک ہیں اور ٹریفک کی روانی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا.

  • راولپنڈی میں بچوں کی تبدیلی کا معاملہ؛ والد نومولود بیٹی کو چھوڑ کر فرار ہوگیا

    راولپنڈی میں بچوں کی تبدیلی کا معاملہ؛ والد نومولود بیٹی کو چھوڑ کر فرار ہوگیا

    راولپنڈی کے بینظیر بھٹو اسپتال میں بچوں کی تبدیلی کا معمہ حل ہوگیا، نومولود لڑکی اب بھی بچوں کی نرسری میں موجود ہیں جب کہ لڑکے کا والد ہونے کے دعویدار سے شناختی کارڈ کی کاپی کرانے کے بہانہ سے گیا اور پھر واپس نہیں آیا۔

    راولپنڈی کے بینظیر بھٹو اسپتال میں بچوں کی تبدیلی کا معاملہ حل ہوگیا جس کی انکوائری مکمل ہونے پر انتظامیہ نے ایل ایچ وی کو ذمہ دار قرار دیا اور غلطی کرنے والی ایل ایچ وی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آپریشن تھیٹر کی ہیڈ نرس کے بارے میں لاہور وزارت صحت کو لکھ کر بھیج دیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق لڑکے کا دعویدار خاندانوں میں سے ایک کیس سے پیچھے ہوگیا ہے جب کہ پانچ رکنی انکوائری کمیٹی نے تحقیقات کے بعد نومولود بچے کو (لڑکے) کو حقیقی والدین کے حوالے کردیا ہے۔

    اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ جس خاندان نے تھانہ میں درخواست دی تھی ان کو اسپتال دوبارہ بلایا گیا تھا جب کہ لڑکے کا والد ہونے کے دعویدار سے شناختی کارڈ کی کاپی کرانے کے بہانہ سے گیا اور پھر واپس نہیں آیا، جس کے باعث نومولود لڑکی ابھی بھی بچوں کی نرسری میں موجود ہے، جس کا خیال رکھ رہے ہیں۔ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ باچا خان جس نے پولیس میں رپٹ درج کرائی اور اب بھاگ گیا اس کے لیے پولیس حکام کو لکھا جایے گا لیکن جب تک والدین نہیں آئیں گے تب تک بچی ہمارے پاس موجود ہے۔

    خیال رہے کہ راولپنڈی کے مقامی اسپتال میں ایک خاتون کے ہاں بیٹی جبکہ دوسری کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی، نومولود بچوں کی تبدیلی کے بعد دونوں خاندانوں نے بیٹی لینے سے انکار کردیا تھا۔ دونوں خاندانوں کا دعویٰ تھا کہ بیٹا ان کا ہے، راولپنڈی پولیس نے معاملہ حل کرنے کے لئے دونوں مولود بچوں اور ان کے والدین کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔

  • عارف علوی کا دورہ ڈی جی خان: مبشر لقمان کا گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ، انتظامیہ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی

    عارف علوی کا دورہ ڈی جی خان: مبشر لقمان کا گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ، انتظامیہ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی

    عارف علوی کا دورہ ڈیرہ غازی خان، سیئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ مار کر انتظامیہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا.

    آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ دنوں صدر پاکستان عارف علوی نے سیلاب زدگان کیلئے صوبہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا تھا، لیکن اب سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان نے اس دو نمبر دورہ اصل حقیقت اپنے پروگرام کھرا سچ میں کھول کر رکھ دی ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جس ریلیف کیمپ کا دورہ کیا وہ دراصل ایک گھوسٹ کیمپ بنایا گیا تھا کیونکہ صدر مملکت کو سیلاب سے متاثرہ دور دراز علاقوں میں لے جانے کے بجائے ائیرپورٹ کے قریب ایک عارضی ریلیف کیمپ کا دورہ کرایا گیا۔

    جبکہ ضلعی انتظامیہ نے اس بات کا اہتمام کیا تھا کہ نجی میڈیا کے نمائندے صدر پاکستان کے دورے کی کوریج نہ کر سکیں کیونکہ پھر وہ اس بارے میں سوال کرسکتے لیکن سینئر اینکر مبشر لقمان نے چھاپہ مار کر انتظامیہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے، چھاپہ کے دوران مبشر لقمان نے متعلقہ افراد سے سوال کیا کہ اس کیمپ میں سیلاب متاثرین کہاں ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ اب یہ کیمپ خالی ہوگئے ہیں مبشر لقمان نے پھر کہا کہ جہاں سیلاب آیا ہوا اس کے قریب کیمپ لگانے کے بجائے آپ نے ائیر پورٹ کے قریب کمیپ کیوں لگایا اور یہاں تک سیلاب متاثرین کیسے پہنچیں گے؟ اس بارے انتظامیہ کے پاس کوئی ٹھوس جواب نہ تھا،

    سینئر اینکرپرسن نے کہا کہ جہاں متاثرین رہ رہے وہاں لے جاو تو انتظامیہ نے کہا پردہ کا مسئلہ ہے وہاں خواتین ہیں نہیں جاسکتے سکتے تو اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ دور سے ہی دکھا دو جس پر ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا.

    مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ جگہ جگہ وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کے پینا فلیکس لگے ہوئے مگر یہاں انتظامیہ کارکردگی صفر ہے. ایک اور جگہ مبشر لقمان نے سیلاب متاثرین کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سینئر اینکر کو بتایا کہ جہاں پنجاب حکومت کی کارکردگی صفر ہے اور ہم سیلاب زدگان کا برا حال ہے.


    مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ: یہ گھوسٹ کیمپ محض اعلی عہداران کے دورہ کے وقت فوٹو سیشن کیلئے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ انہیں سیلاب زدہ علاقوں میں جانے کی زہمت نہ کرنی پڑے اور وہ ائیر پورٹ سے سیدھا نزدیکی کیمپ آکر فوٹو سیشن کروا میڈیا پر چلوا دیں کہ ہم نے سیلاب متاثرین کا دورہ کیا حالانکہ حقیقت یہ ہے. اور یہ لوگ صرف اور صرف ان لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں جو گھروں بیٹھ کر ٹی وی اسکرین پر دیکھ رہے ہوتے ہیں.

    مبشر لقمان نے ناظرین کو پنجاب حکومت کی دو نمبری دکھاتے ہوئے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ یہ حکومت مستحقین کا حق مار کر عوام کی نظروں میں دھول جھوک رہی ہے، جبکہ یہ لوگ اللہ کو کیسے جواب دیں گے، مبشر لقمان نے مزید کہا کہ یہ سارا ڈرامہ دیکھ کر مجھے تو سیاست سے نفرت ہونا شروع ہوگئی ہے. ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر فلاحی تنظیمیں اور افواج پاکستان صحیح طور پر کام کررہے ہیں ورنہ سیاستدانوں نے تو عوام کا تمسخر اڑایا ہوا ہے.

  • ڈرامہ سیریل کشف میں بلال عباس اور سجل علی ایکساتھ

    ڈرامہ سیریل کشف میں بلال عباس اور سجل علی ایکساتھ

    اداکارہ سجل علی اور بلال عباس کی جوڑی کو بہت پسند کیا جاتا ہے ان دونوں نے فلم کھیل کھیل میں بھی ایکساتھ کام کیا تھا. فلم تو خاص نہ چل سکی لیکن ان دونوں کی جوڑی سراہا گیا۔ اس کے علاوہ ڈرامہ سیریل رنگریزا میں ایک ساتھ کام کر چکے ہیں۔ شائقین اس جوڑی کے سحر میں مبتلا ہیں اور ان کو ایک ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں۔یہ دونوں ایک ساتھ جب بھی آتے ہیں وہ پراجیکٹ شائقین کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے ۔ سجل علی اور بلال عباس ایک بار پھر ساتھ دیکھے جائیں گے ان کے علاوہ ڈرامے کی دیگر کاسٹ میں محمد احمد،اسما عباس و دیگر شامل ہیں ڈرامے کے پرڈیوسر ہمایوں سعید ، شہزاد نصیب اور ڈائریکٹر ندیم بیگ ہیں جبکہ کہانی اداکار محمد احمدکی تحریر کردہ ہے۔ دونوں آج کل ڈرامہ سیریل

    کشف کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔ کراچی میں جاری اس ڈرامے کی شوٹنگ تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو رہی ہے۔شائقین اس جوڑی کو ایک بات پھر ساتھ دیکھنے کے لئے بےتاب ہیں ۔ ندیم بیگ کی حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم لندن نہیں جائونگا نے ریکارڈ توڑ بزنس کیا ہے.اب ندیم بیگ ڈرامہ سیریل کشف ریکارڈ کررہے ہیں یقینا یہ ڈرامہ بھی ان کے مداحوں کو پسند آئیگا.

  • پاکستان نیوی کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری

    پاکستان نیوی کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری

    پاکستان نیوی کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ دور دراز علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    ترجمان پاک بحریہ کے مطابق پاک بحریہ کے جوان سندھ کے مختلف علاقوں بشمول سانگھڑ، تحصیل مہر، سلطان کوٹ، شاہ بندر، کوڈاریو، دولت پور، چوھڑجمالی، سجاول اور ٹھٹھہ میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ پاک بحریہ نے سندھ حکومت کے ساتھ ساتھ امدادی کارروائیوں کا دائرہ کار پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سیلاب زدہ علاقوں تک بھی بڑھا دیا ہے۔

    پاک بحریہ کے جوان کشتیوں اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ پاک بحریہ کی جانب سے متاثرین میں راشن بیگز، تیار کھانا، صاف پانی اور دیگر ضروریات زندگی فراہم کی جارہی ہیں۔

    دوسری جانب راجن پور، جامشورو، سانگھٹر اور ڈی آئی خان میں بھی پاکستان نیوی کے میڈیکل کیمپس کے علاوہ مختلف علاقوں میں موبائل میڈیکل ٹیمز بھی کام کر رہی ہیں۔ پاک بحریہ کے جوانوں نے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ڈیرہ اسماعیل خان میں چشمہ روڈ کی عارضی مرمت کے بعد اسے عام ٹریفک کیلئے کھول دیا ہے۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاک بحریہ مقامی انتظامیہ اور فلاحی تنظیموں کے تعاون سے تمام متاثرین کی ہر ممکن بحالی کے لیے پر عزم ہے۔

    علاوہ ازیں کراچی کے مختلف حصوں میں سیلابی ریلوں اور طوفانی بارشوں کے دوران پاک بحریہ نے امدادی آپریشن کیا گیا. پاک بحریہ نے سندھ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اشتراک سے حالیہ طوفانی بارشوں سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال میں ہر ممکن امداد فراہم کی اور سیلاب زدہ گھروں میں پھنسے مقامی لوگوں کو بچا کر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں سول انتظامیہ کو مدد فراہم کی۔ پاک بحریہ نے اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے بڑی مقدار میں بارشوں کے جمع شدہ پانی کی نکاسی کو ممکن بنایا۔پاک بحریہ کے جوان شیر شاہ ، صدر، لیاری، بزرٹا لائن ، پنجاب چورنگی اور ماڑی پور سمیت کراچی کے مختلف علاقوں میں پہنچے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا.

  • بااثر وڈیرے اپنے گھر اور فصلیں بچانے کیلئے دوسروں کو ڈبونے لگے ہیں

    بااثر وڈیرے اپنے گھر اور فصلیں بچانے کیلئے دوسروں کو ڈبونے لگے ہیں

    سندھ میں سیلاب متاثرین نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بااثر لوگ اپنے گھر اور فصلیں بچانے کیلئے دوسروں کو ڈبونے لگے ہیں۔

    نوشہرو فيروز شہر کو ڈوبنے سے بچانے کے ليے شہری خود اپنی مدد آپ کے تحت بائی پاس پر پہرا دينے لگے ہیں، جہاں شہريوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وڈيرے اپنی فصلوں کو بچانے کے ليے پانی شہر کی جانب چھوڑ رہے ہيں۔ بھریاروڈ کے قریب پانی کے تیز بہاؤ سے پکا چانگ روڈ ٹوٹ گیا، جس کے باعث سیلابی ریلے سے گزرنا شہریوں کیلئے دشوار بنا ہوا ہے۔

    سیلاب کے باعث بھريا روڈ کا خيرپور اور ضلع نوشہروفيروز کے ديگر شہروں سے رابطہ تيرہويں روز بھی منقطع ہے، جب کہ سڑک دريا بن گئی ہیں جہاں عورتيں اور بچے پانی ميں ڈوبے ہوئے انتظاميہ کی راہ تک رہے ہیں۔ سیلاب کے باعث راستے بحال نہ ہونے پر شہری اپنی مدد آپ کے تحت پيدل گزرنے کیلئے بانس لگا کر راستہ بنا رہے ہیں۔

    سانگھڑ میں بھی صورت حال مختلف نہیں ، جہاں کوٹ نواب اکبر بگٹی مکمل سیلاب میں ڈوب گيا۔ علاقے میں بارہ روز گزرنے کے باوجود کوئی حکومتی امداد آخری اطلاعات تک بھی نہ پہنچ سکی، کئی کئی فٹ جمع پرانے پانی کے باعث علاقے میں بيمارياں پھيلنے لگی ہیں۔ متاثرین نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ کيا ہم اس وطن کے باسی نہيں؟۔ سانگھڑ یوسی کوٹ نواب میں ایک اندازے کے مطابق سترہ گاؤں زیر آب آئے ہیں۔ سانگھڑ میں سڑک کنارے ہزاروں افراد امداد کے منتظر ہیں۔


    دوسری جانب دادو کے علاقے جوہی سے آنے والا ریلا منچھر جھیل میں داخل ہوگیا ہے، جس سے خیرپور ناتھن شاہ سمندر کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔ شہر ميں جگہ جگہ کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔ شہريوں کا کہنا ہے کہ مکمل تباہی سے بچانے کیلئے منچھر جھيل کا بند توڑا جائے، تاہم اس مطالبے کو پورا کرنے میں منتخب وڈيرے رکاوٹ بن گئے ہیں۔

    بلوچستان سے آنے والے سیلابی ریلے نے لاکھوں کی آبادی والے خیرپور ناتھن شاہ کو مکمل ڈبو دیا۔ سیلابی ریلے نے شہر سمیت چھوٹے بڑے دیہات میں تباہی کے نشان چھوڑ دیئے۔ مٹیاری کے قريب نیو سعیدآباد میں بارش کے پانی سے سرکاری گودام میں چالیس ہزار سے زاٸد گندم کی بوریاں خراب ہونے لگیں ہیں۔ سیلابی ریلے میں بھیگنے کی وجہ بوریوں سے تعفن اٹھنے لگا ہے۔

    وزيراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نجی ٹی وی سے گفتگو ميں بتايا کہ سيلاب سے پندرہ سو ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، جب کہ تين لاکھ کچےگھرتباہ ہوئے۔ ٹنڈوالہٰ یار میں بھی لوگ گھر چھوڑ کر کيمپوں ميں رہنے پر مجبور ہيں۔ حيدرآباد کے نياز اسٹيديم سے پانی نہ نکالا جاسکا، جہاں ميدان گندے جوہڑ کا منظر پيش کر رہا ہے۔