Baaghi TV

Author: +9251

  • بھلے ملک ڈوب جائے یا اس سے بھی بڑی آفت آجائے عمران خان جلسے اور کمپین نہ روکے. جاوید چودھری

    بھلے ملک ڈوب جائے یا اس سے بھی بڑی آفت آجائے عمران خان جلسے اور کمپین نہ روکے. جاوید چودھری

    بھلے پورا ملک ڈوب جائے یا اس سے بھی بڑی آفت آجائے لیکن سابق وزیر اعظم عمران خان اپنے جلسے اور کمپین نہ روکے.
    میری عمران خان سے

    سینئر اینکرپرسن جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ: درخواست ہے کہ آپ جلسے نہ روکیں چاہے کچھ بھی ہو جائے، بھلے سارا ملک برباد ہو جائے کروڑوں لوگ بھی سیلاب میں مر جائیں لیکن آپ پیچھے نہ ہٹیں اور اگر اس سے بھی زیادہ آفت آ جائے آپ اپنی کمپین نہ روکیں۔ لہذا اگر آپ اسے جہاد سمجھتے ہیں تو اس جہاد کو جاری رکھیں۔

    انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ: ملک بچے نہ بچے لوگ رہیں نہ رہیں لیکن آپ اپنا کام جاری رکھیں اور ہاں جو شخص آپ کو یہ رائے دے کہ آپ لوگوں کے پاس جائیں سیلاب زدگان کی بحالی میں مدد کریں اور متاثرین کو ریسکیو کریں تو ظاہر ہے وہ لفافہ ہی ہو گا اور وہ شخص نہ صرف آپ کا پکا دشمن ہو گا بلکہ ملک کا بھی دشمن ہے.

    جاوید چودھری نے مزید کہا کہ: میں کم از کم خود کو ملک دشمن سے نکال کر آپ کو یہ مشورہ دے رہا ہوں اور آپ سے درخواست کر رہا ہوں کہ لگے رہیں خان صاحب رکنا نہیں ہے بلکہ زیادہ بڑی مہربانی ہو گی کہ تین وقت جلسہ کیا کریں صبح، دوپہر، شام جس طرح لوگوں کو تین وقت دوائی کھلائی جاتی ہے اور جب تک آپ تھکتے نہیں ہیں تب تک کام جاری رکھیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ: باقی ملک ٹھیک ہے یا نہیں ہے پھر بھی کوئی ایشو نہیں ہے میں اب اس سے زیادہ تبصرہ نہیں کر سکتا خان صاحب میرا خیال ہے کہ آپ کو یہ کام جاری رکھنا چاہئیے. لہذا راجن پور بھی جائیں جہاں پر چار سو بستیاں تباہ ہو گئی ہیں سوات، جنوبی پنجاب، اور بلوچستان میں جو لوگ مر گئے ہیں ان کے ساتھ بھی خطاب کر آئیں اور دریاؤں کے کنارے پر جائیں وہاں سٹیج لگائیں مائک لگائیں ڈی جے بٹ کو بھی ساتھ لے جائیں وہاں پر ایک بھرپور جلسہ کر کے پھر واپس آ جائیں.

    جاوید چودھری نے مشورہ دیا کہ: اگر جلسوں سے آپ کا کام چل سکتا ہے اور اگر جلسوں سے روکنے والے لوگ لفافہ ہیں تو پھر میرا خیال ہے کہ آپ جاری رکھیں آپ کو نہیں روکنا چاہیے اور نہ ہی کوئی روک سکتا ہے اور اگر اس حالت میں بھی آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سیاست جہاد ہے تو پھر آپ کو یہ جہاد مبارک ہو اور جاری رکھنا چاہئیے۔

    واضح رہے کہ جاوید چودھری ان صحافیوں میں سے ہین جنہوں نے عمران خان کے دور میں بھی ان پر تنقید کی ہے.

    جاوید چودھری نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ: "ہمارے موجودہ وزیراعظم عمران خان ان لطیفوں کو اب نیکسٹ لیول پر لے گئے ہیں‘ماضی اب چھوٹا لطیفہ محسوس ہوتا ہے مثلاً ہم ان کے منہ سے معاشی ترقی کے دعوے سن سن کر تھک چکے ہیں‘ حکومت روز دعویٰ کرتی ہے لارج اسکیل مینوفیکچرز نے ہزار ارب روپے کما لیے‘ حکومت نے زرعی شعبوں میں چودہ سو ارب روپے ڈال دیے‘ تجارتی خسارہ کم ہو گیا‘ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی پیداوار بڑھ گئی۔

    زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح پر پہنچ گئے اور تارکین وطن نے ملک میں ڈالروں کے انبار لگا دیے وغیرہ وغیرہ لیکن جب کارکردگی کی سند دینے کا وقت آیا تو وزیرخزانہ شوکت ترین کا نام بری کارکردگی یا ناکام وزراء کی فہرست میں آ گیا‘ وزیراعظم آج بھی 27 فروری 2019 کو بھارت کے دو جنگی طیارے گرانے اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری کا کریڈٹ لیتے ہیں لیکن یہ وزیردفاع پرویز خٹک کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔”

    انہوں نے مزید کہا تھا کہ:

  • اس وقت نفرت کی نہیں‌دل جوڑنے کی باتیں کریں فخر عالم

    اس وقت نفرت کی نہیں‌دل جوڑنے کی باتیں کریں فخر عالم

    فخر عالم نے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو پیغام جاری کیا ہے اس میں انہوں کافی سنجیدہ باتیں کہی ہیں انہوں نے کہا کہ یہ وقت نفرت کو چھوڑ کر دل جوڑنے کا ہے. میں شکر گزار ہوں سندھ رینجرزکا، این جی اوز کا اوران سب کا جو سیلاب زدگان کے لئے مدد کررہے ہیں.پاکستان کے تمام سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ چلیں. سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والے بہت مل جائیں گے لیکن اس وقت قومی سانحے کو مد نظر رکھیں اور لوگوں کے دلوں میں حب الوطنی کا جذبہ ابھاریں. میں نےسندھ کا کچھ حصہ دیکھا ہے جو تباہی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے وہ کافی خوفناک ہے. اس وقت سب کچھ تباہ ہو چکا ہے یقینا اس کے اثرات اس سیلاب کے تھم جانے کے بعد ظاہر ہوں گے

    اس لئے بہت ضروری ہے کہ بین الاقوامی کمیونٹی کو مدعو کیا جائے تاکہ امداد کے معاملات سیدھے ہو سکیں. فخر عالم نے مزید کہا کہ سندھ ، بلوچستان اور کے پی کے بہت سارے زمینی راستے کٹ چکے ہیں وہاں کے لوگوں تک پہنچنے کا راستہ بھی نہیں ہے.بہت ہی خوفناک صورتحال ہے اس میں ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے. فخر عالم کی طرح تمام شوبز شخصیات سیلاب زدگان کی مدد کے لئے لوگوں کو وڈیو پیغامات جاری کرکے متحرک کررہے ہیں.

  • پاکستانی کرکٹرز کے بارے میں کے آر کے کا ٹویٹ وائرل

    پاکستانی کرکٹرز کے بارے میں کے آر کے کا ٹویٹ وائرل

    بالی وڈ اداکار کمال راشد کمار نے حال ہی میں ایک ٹویٹ کیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ ”پاکستانی کھلاڑیوں کے رویے کو دیکھ کر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ آئی پی ایل (IPL) کھیلنا چاہتے ہیں اور ان کا رویہ انڈین کرکٹرز کے ساتھ خاصا دوستانہ بھی ہے۔ کے آر کے کے اس ٹویٹ پر کافی رد عمل آ رہا ہے اور کئی پاکستانی اس ٹویٹ کو پاکستانی کرکٹرز کی توہین کہہ رہے ہیں. ان کا کہنا ہےکہ پاکستانی کرکٹرز کے بارے میں یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ انڈین پلئیرز کے ساتھ آئی پی ایل میں کھیلنے کےلئے مرے جا رہے ہیں. کمال راشد خان نے یہ ٹویٹ ایشیا کپ 2022 کے انڈیا پاکستان میچ کے بعددیا. یاد رہے کہ گزشہ روز انڈیا اور پاکستان کے درمیان میچ تھا جسے پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ انڈینز اور پوری دنیا میں شوق سے دیکھا

    گیا، میچ کے آخری اورز کافی سنسنی خیز تھے آخری اورز کی ہر بال پر دیکھنے والوں کو دل دھڑک رہے تھے،. پاکستان نے آخری گیند تک فائٹ کی لیکن جیت انڈیا کا مقدر ٹھہری لیکن جس طرح‌ سے پاکستانی کھلاڑیوں نے جان لگائی اور آخر تک میچ کو اپنے ہاتھ میں کرنے کی سر توڑ کوشش کی اس پر پاکستانی عوام ی طرف سے ان کو کافی داد ملی.پاکستان اور انڈیا کا میچ دیکھنے کےلئے ہمیشہ ہی دونوں ملکوں کے لوگ کافی پرجوش رہتے ہیں.اسلئے ان دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے میچ کو ایک جنگ سمجھا جاتا ہے.

  • پاکستان کو درپیش سیلاب کی آفت میں متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد!!! —بلال شوکت آزاد

    پاکستان کو درپیش سیلاب کی آفت میں متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد!!! —بلال شوکت آزاد

    امت مسلمہ ایک جسم کی طرح ہے, جب جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف سے بلبلا اٹھتا ہے۔ اس کی نظیر بارہا دیکھنے کو ملی کہ مسلمان ممالک عمومی و خصوصی مواقع پر ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ نظر آئے خواہ وہ کسی مسلمان ملک کی دگرگوں معاشی و اقتصادی صورتحال ہو, جنگی و عسکری معاملہ ہو یا پھر قدرتی آفات و مصائب کا زمانہ ہو الغرض کسی بھی لحاظ سے خودکفیل اور طاقتور مسلمان ممالک نے امت مسلمہ کے عظیم نظریہ کے جھنڈے تلے ضرورت مند و کمزور مسلمان ملک کی مدد ضرور کی ہے اور جب تک بحالیات کا کام مکمل نہ ہوا پیٹھ نہیں موڑی۔

    بات کریں پاکستان میں پہلے سے جاری معاشی و اقتصادی تنزلی اور سیاسی بحران کے دوران حالیہ مون سون بارشوں اور ریکارڈ سیلاب کی تو اس مصیبت کی گھڑی میں بھی مسلمان ممالک اور عالمی برادری نے پاکستان کو مکمل مدد کی ناصرف یقین دہانی کروائی بلکہ کئی ممالک نے ہنگامی بنیادوں پر مدد جمع کرنے اور اسکی ترسیل کے لیے طریقہ کار وضع کرنے پر ذمہ دار متعین کردیے ہیں جو جلد از جلد امداد اور بحالی کے کام کو یقینی بنائیں گے۔

    لیکن متحدہ عرب امارات کی پاکستان اور اسکی عوام سے محبت اپنی مثال آپ ہے جس کی نظیر نہیں ملتی کہ جب دیگر ممالک سوچ بچار اور تیاری میں مگن ہوتے ہیں یہ مسلمان ملک پاکستان اور اسکی عوام کے دکھ بانٹنے کے لیے پورے وسائل کے ساتھ اگلے مورچوں پر موجود ہوتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ متحدہ عرب امارات کے شیوخ کا دوسرا اور سرمائی گھر پاکستان ہےتو یہ قطعی غلط بیانی اور مبالغہ نہیں ہوگا۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی برادر شپ اور تعلقات کی ایک عظیم تاریخ ہے۔پاکستان ان اولین ممالک میں سے ایک ہے جس نے 1971 میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ دونوں ریاستوں کے باہمی تعلقات تاریخ، مذہب اور ثقافت کی مشترکہ بنیادوں پر استوار ہیں اور دن بہ دن ان میں گرم جوشی اور محبت کی شدت بڑھتی جارہی ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں بالخصوص معیشت اور تجارت میں قریبی تعاون ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو مالی امداد فراہم کی جاتی رہی ہے کہ یہ امداد پاکستان میں معاشی بحرانوں اور بجٹ خسارے کے مسائل سے نمٹنے کے لیے موثر رہی ہے مطلب جس کی وجہ سے پاکستان بہت دفعہ مشکلات بھرے ادوار سے باہر نکلا ہے اور اس وقت متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی ایک خاطر خواہ تعداد بھی موجود ہے جو ملکی ذرمبادلہ میں اضافے کا باعث ہے اور جنہیں متحدہ عرب امارات حکومت کی جانب سے مکمل مدد اور تحفظ دستیاب ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے حکمران مختلف سماجی اور انسانی شعبوں میں ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد کے لیے پاکستان کو اپنی تکنیکی اور مالیاتی مہارت اور خدمات فراہم کرنے کے لیے کافی مہربان ہیں۔

    اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبے شامل ہیں۔

    متحدہ عرب امارات قدرتی آفات کے وقت بے گھر ہونے والی آبادی کو پناہ گاہ، خوراک اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرکے انسانی امداد میں توسیع کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے گزشتہ دہائیوں کے دوران سیلاب زدگان کو ہمیشہ امداد فراہم کی جاتی رہی ہے۔

    اسی سلسلے کی ایک اور کڑی کے تناظر میں عرب امارات نے دوبارہ پاکستان اور اس کی عوام کو اکیلا نہ چھوڑتے ہوئے حالیہ مون سون اور سیلاب کی مخدوش صورتحال سے دوچار پاکستان کے لیے کل عرب امارات کے صدر جناب شیخ محمد بن زید النہیان کے خصوصی حکم اور ہدایات پر امدادی پیکج کی پہلی پرواز روانہ کی ہے جس میں 3000 ٹن خوراک, طبی سامان اور عارضی پناہ گاہوں کا سامان شامل ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی خبر رساں ایجنسی WAM کے مطابق، صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کو فوری امدادی امداد فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، جو موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کا سامنا کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں، زخمیوں اور بے تحاشہ افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔

    اس میں مزید کہا گیا کہ

    "صدر محترم شیخ محمد نے بے گھر افراد کے لیے تمام انسانی امدادی خدمات کی فراہمی کا بھی حکم دیا ہے تاکہ وہ جن چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں ان پر قابو پانے کی صلاحیت کو بڑھا سکیں”۔

    متحدہ عرب امارات کی امدادی امداد میں خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ تقریباً 3,000 ٹن خوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ طبی مدد کا سامان بھی شامل ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ

    "متحدہ عرب امارات کی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی حفاظت اور ان کی خوراک، طبی اور رسد کی ضروریات کو محفوظ بنانے کی کوششوں سے متعلق پاکستانی کیڈرز اور اداروں کو ہر قسم کی انسانی امداد بھی فراہم کریں گی۔”

    وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو میں متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ

    "عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان نے اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔”

    متحدہ عرب امارات کے صدر نے اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔ اس تناظر میں، انہوں نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ متحدہ عرب امارات فوری طور پر خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ ساتھ مزید طبی اور دواسازی کا سامان بھی بھیجے گا۔

    وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو ملک میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں سے ہونے والی ملک گیر تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متحدہ عرب امارات ہلال احمر اور خلیفہ بن زید فاؤنڈیشن کے جاری امدادی کاموں کا بھی اعتراف کیا۔

    وزیر اعظم شہباز نے امدادی اور امدادی سرگرمیوں میں حکومت کی کوششوں میں مدد کے لیے متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد پر صدر کا شکریہ ادا کیا۔

    بیشک متحدہ عرب امارات نے اسی طرح گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں آئے سیلابوں اور زلزلوں کے ساتھ ساتھ معاشی بحرانوں میں بھی ہمیشہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی بھرپور مدد اور حوصلہ افزائی کی ہے اور کبھی پاکستان کو کسی مصیبت کی گھڑی میں اکیلا و دربدر نہیں چھوڑا کیونکہ نازک وقت میں برادر اور دوست ممالک کی حمایت متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔

  • فیک نیوز: پی ٹی آئی نے الخدمت کے امدادی ٹرک کے پینافلکس کو فوٹوشاپ کرکے اپنا بنادیا

    فیک نیوز: پی ٹی آئی نے الخدمت کے امدادی ٹرک کے پینافلکس کو فوٹوشاپ کرکے اپنا بنادیا

    تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کارکنان نے الخدمت کے امدادی ٹرک کے پینافلکس کو فوٹوشاپ کرکے سابق وزیر اعظم عمران خان کی تصویر لگا دی

    تحریک انصاف نے الخدمت کے امدادی ٹرک پر لگے بینر جس پر الخدمت کا لوگو اور امدادی سامان، متاثرین سیلاب، بلوچستان 2022 لکھا تھا کو تبدیل کرکے اس پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی تصاویر لگا کر یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کی کہ یہ امدادی سامان متاثرین کیلئے عمران یا تحریک انصاف کی طرف سے بھیجا گیا ہے جو سراسر جھوت ہے کیوںکہ یہ امدادی سامان جماعت اسلامی کی تنظیم الخدمت کی طرف سے بلوچستان کیلئے بھیجا گیا تھا.

    خواجہ برہان الدین نے اس حوالے سے لکھا کہ: تحریک اںصاف نے اپنا دو نمبر کام دوبارہ شروع کردیا اور انہوں الخدمت کو فوٹو کو ایسے بنا کر پیش کیا جیسے یہ ان کا اپنا ہو.


    انہوں نے مزید لکھا کہ: ان کو ایسی غلط حرکت سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ ایسی سنگین صورت حال میں ایسی حرکتیں شرمناک ہیں.
    سینئر تجزیہ کار عصمت اللہ نیازی نے لکھا کہ: مطلب سیلاب والوں کی مدد میں بھی فراڈ شروع؟ کیا ان میں کوئی شرم نام کی چیز نہیں ہے.

    جبکہ اعجاز نامی صارف نے کہا کہ: یہ تصویر پی ٹی ائی سوشل میڈیا نے فوٹو شاپ نہیں کی۔ سٹریٹجک میڈیا نے خود فوٹو شاپ کرکے پی ٹی ائی کیخلاف پروپیگنڈہ کررہی ہے. اور یہ تو کوئی بھی ایڈیٹ کر کے پی ٹی آئی کے نام لگا دے.

    ایک صحافی حسن زیدی نے سوال کیا کہ کیا تحریک انصاف اور بھی کچھ ہے بانسبت ایک فیک نیوز فیکٹری کے؟

    پی ٹی آئی کے ناقد مبشر نے کہا کہ: تحریک انصاف والوں کو ایسا کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے اور اگر انہوں نے یہ نہیں کیا تو اس کی مکمل تحقیق ہونی چاہئے اور جو لوگ ملوث کاروائی ہو.

  • ابرار الحق نے اپنے کنسرٹ کی کمائی سیلاب زدگان کے نام کردی

    ابرار الحق نے اپنے کنسرٹ کی کمائی سیلاب زدگان کے نام کردی

    اداکار و گلوکار اور ہلال احمر کے چئیرمین ابرار الحق بھی سیلاب زدگان کی مدد کےلئے کافی متحرک ہیں. گزشتہ روز ایک معروف صحافی نے ایک ٹویٹ کیا اور طنز کے نشتر چلائے ابرار الحق پر کے وہ ہلال احمر کے چئیرمین ہیں اور ابھی تک وہ سیلاب زدگان کی مدد کے لئے میدان میں نہیں آئے. اطلاعات ہیں کہ ابرار الحق نے سیلاب زدگان کے لئے ایک کنسرٹ کیا ہے اور اس سے اکٹھی ہونے والی رقم سیلاب متاثرین کے نام کر دی ہے.
    ابرار الحق کا کہنا ہےکہ یہ کنسرٹ روٹین میں میری مصروفیات کے شیڈیول میں‌ تھا لیکن جب میں نے دیکھا کہ میرے بہن بھائی پریشانی اور آفت کی زد میں آگئے ہیں تو میں نے اس کنسرٹ سے حاصل ہونے والی ساری کمائی ان کو دینے کا فیصلہ کر لیا . انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کوئی خوشی

    کا موقع نہیں ہے کہ ہم گانے گاتے پھریں لیکن یہ شو صرف اسلئے کیا گیا ہے تاکہ جو پیسے اکٹھے ہوں ان سے بے سروسامان بیٹھے لوگوں کی مدد ہو سکے. ابرار الحق کی طرح بہت سارے لوگ جو ہو سکے کررہے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طریقے سے سیلاب زدگان کے لئے مدد کا بندوبست کیا جا سکے. یاد رہے کہ ابرار الحق تحریک انصاف کا بھی حصہ ہیں اور انہی کے پلیٹ فارم سے انہوں نے الیکشن بھی لڑا. ابرار الحق اس وقت ہلال احمر کے چیرمین کے طور پر بھی فرائض انجام دے رہے ہیں.

  • پاکستان پرڈیوسر ایسوسی ایشن سیلاب زدگان کی مدد کے لئے کوشاں

    پاکستان پرڈیوسر ایسوسی ایشن سیلاب زدگان کی مدد کے لئے کوشاں

    اسوقت وطن عزیز سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پریشان حال ہے، سیکنڑوں لوگ بے سروسامان ہیں کھلے آسمان کے نیچے بھوکے پیٹ بیٹھے ہیں. کئی افراد کی زندگیاں سیلاب کی نذر ہو گئی ہیں. پوری دنیا پاکستان کو امداد بھیجنے کےلئے جہاں سرگرم ہے وہیں پاکستانی بھی سیلاب زدگان کے ساتھ کھڑے ہیں ان کی مدد کےلئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں. پاکستان پرڈیوسر ایسوسی ایشن اس حوالے سے کافی سرگرم دکھائی دے رہی ہے. پرڈیوسر ایسوسی ایشن کے چئیرمین امجد رشید نے اس ھوالے سے سندھ اور پنجاب کے لیے کمیٹیاں تشکیل دیں ہیں اور وہ کمیٹیاں سر توڑ کوششیں کررہی ہیں کہ سیلاب زدگان تک امداد پہنچائی جائے. صوبہ پنجاب سے سید نور اور اداکار شان شاہد،سندھ سے ہمایوں سعید اور شرمین عبید

    چنائے ان کمیٹیوں کا حصہ ہیں.شان شاہد اور ہمایوں سعید سوشل میڈیا پر لوگوں سے سیلاب زدگان کی مدد کے لئے اپیل کررہے ہیں. ہمایوں سعید کا کہنا ہے کہ اس مشکل گھڑی میں ہم سب کو سیلاب زدگان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے یہ ملک ہے تو ہم ہیں اس لئے کون کیا سوچتا ہے کس کو سپورٹ کرتا ہے اس چیز کو ایک طرف رکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے . اسی طرح سے شان شاہد کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے اسے قائم و دائم رکھنا ہمارا فرض ہے لہذا اپنے دکھی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے.

  • مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں. چینی سفیرنونگ رونگ

    مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں. چینی سفیرنونگ رونگ

    پاکستان میں چین کے سفیرنونگ رونگ نے کہا ہے کہ مشکل گھڑی میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    اسلام آباد میں فرینڈز آف سلک روڈ سیمنارسے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصان پر افسوس ہے۔مشکل گھڑی میں پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ریلیف اوربحالی کے کاموں میں بھرپور حصہ لیں گے۔

    چینی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ چین سے پاکستان کے لئے امداد کی پہلی کھیپ کل روانہ ہوگی۔ فوری طورپر25000 ٹینٹ اور دیگر امدادی سامان دیا جائے گا۔پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کو 300امریکی ڈالر اور چین کی ایسوسی ایشنز کی جانب سے 1500 ملین روپے وزیراعظم ریلیف فنڈ میں دئیے جائیں گے۔

    نونگ رونگ نے کہا کہ سی پیک منصوبوں پر کام کی رفتار تیز ہو گئی ہے۔پاکستان کے زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری 640 ملین ڈالر ہوگئی ہے جبکہ رواں سال پاکستان کی چین کو برآمدات 4 ارب ڈالرز سے زائد ہوگئی ہیں۔

    سیمنار سے خطاب میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ امریکا عسکریت پسندوں کو اپنے اہداف کے حصول کے لئے استعمال کرسکتا ہے۔ پاکستان میں عسکریت پسندوں کی دوبارہ صف بندی خطرناک اور پاک چین تعلقات پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

    سینیٹر مشاہد حسین نے سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات باہمی فائدے پر مبنی ہیں۔ پاکستان نے امریکا اور چین کو قریب لانے کی کوشش کی۔سی پیک بہترمستقبل کی ضمانت ہے۔

    تاریخ
    پاکستان 1947ء میں قائداعظم کی قیادت میں آزاد ہوا جبکہ چین 1949ء میں مائوزے تنگ کی عظیم قیادت اور اُن کے لانگ مارچ کے ثمرات کے نتیجہ میں آزاد ہوا۔ 1949ء میں چین کی آزادی کے ساتھ ہی پاکستان اور چین کے تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہونا شروع ہو گئے تھے۔ پاکستان نے چین کی آزادی کو تسلیم کیا۔ یہ پاکستان اور چین کی دوستی کا نقطہ آغاز تھا یا اسے اِس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ پاکستان اور چین کی دوستی کی ابتدا تھی۔

  • عدالت نے اسلام آباد ایئرپورٹ کا کنٹرول قطر کو دینے کیخلاف درخواست مسترد کردی

    عدالت نے اسلام آباد ایئرپورٹ کا کنٹرول قطر کو دینے کیخلاف درخواست مسترد کردی

    لاہور ہائی کورٹ نے قومی ایئرلائن لائن کے شیئرز اور اسلام آباد ایئرپورٹ کا کنٹرول قطر کو دینے کے ممکنہ اقدام کیخلاف دائر کی گئی درخواست مسترد کردی۔

    ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ کا کنٹرول اور پی آئی اے کے شیئرز قطری حکومت کے حوالے کرنے کے ممکنہ اقدام کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، سماعت کے دوران جج نے درخواست پر اظہار برہمی کیا اور درخواست مسترد کردی۔

    عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار ایڈوکیٹ نبیل کاہلوں کو ریمارکس دئیے کہ صرف میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر کیس فائل کردیا، آپ کیس واپس لیں گے یا میں جرمانے کے ساتھ درخواست خارج کردوں۔

    ایڈوکیٹ نبیل کاہلوں نے درخواست میں وفاقی حکومت، سول ایوی ایشن اور وزارت خارجہ سمیت دیگر کو فریق بنایا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ حکومت پی آئی اے کی 51 فیصد اونرشپ اور اسلام آباد ائیر پورٹ کا کنٹرول قطر حکومت کے حوالے کرنے کا معاہدہ کررہی ہے۔

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ ڈیل کے نتیجے میں پی آئی اے کی ملکیت نیویارک میں روز ویلٹ ہوٹل بھی قطر کو دیا جا رہا ہے اور یہ ڈیل وزیراعظم کے حالیہ دورہ قطر کے دوران فائنل کرلی گئی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ حکومت پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ہی قطر سے ڈیل کررہی ہے لہذا لاہور ہائی کورٹ حکومت کی جانب سے قطر کے ساتھ ہونے والی ڈیل روکے۔

    دو روز وفاقی وزیر ہوابازی خواجہ سعد رفیق نے پاکستانی ایئرپورٹس کا کنٹرول قطر کے حوالے کیے جانے سے متعلق خبروں کو افواہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’کوئی ائیرپورٹ نہ تو فروخت ہورہا ہے نہ اس حوالے سے کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہی قومی ایئرلائن کے شیئرز دینے پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے‘۔

  • پیمرا نے توہین عدالت کیس میں عمران خان کی تقریر کا ریکارڈ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دیا

    پیمرا نے توہین عدالت کیس میں عمران خان کی تقریر کا ریکارڈ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دیا

    پیمرا نے توہین عدالت کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کا ریکارڈ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دیا ہے۔

    ایڈیشنل سیشن جج زیبا چودھری کو دھمکانے کے الزام میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کے سلسلے میں پیمرا کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کی ایف نائن پارک میں تقریر کا ریکارڈ عدالت میں جمع کروا دیا گیا ہے۔

    پیمرا کے ڈی جی مانیٹرنگ اشفاق احمد مانی نے عدالتی حکم پر عمران خان کی 20 اگست کی تقریر کی ڈی وی ڈی اور ٹرانسکرپٹ عدالت میں جمع کروایا۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 23 اگست کو نوٹس جاری کر کے ریکارڈ طلب کیا تھا، جس کے بعد پیمرا کی جانب سے عدالتی حکم پر عمل درآمد کی رپورٹ بھی ریکارڈ کے ساتھ جمع کروائی گئی ہے۔

    دوسری جانب توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے ریفرنس تحریک انصاف کے وکیل نے جواب جمع کرانے کےلیے پھرمہلت مانگ لی، الیکشن کمیشن نے ایک ہفتے میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

    چیف الیکشن کمشنرسکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے سماعت کی، تحریک انصاف کے معاون وکیل بیرسٹر گوہر نے کمیشن کو بتایا کہ علی ظفر لاہور میں ہیں اس لئے ان سے مشاورت نہیں ہو سکی۔ کوشش ہوگی آئندہ سماعت تک جواب جمع کروا دیں، ذاتی طور پر وقت مانگ رہا ہوں، کمیشن دو ہفتے دے دے۔

    الیکشن کمشنر کہا کہ سارا کچھ تو ریکارڈ کا حصہ ہے اتنا وقت لگنا نہیں چاہیے، تحریک انصاف کے وکیل کی مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کردی۔ تحریک انصاف کے وکیل کی مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کردی۔ کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے باہر غیرمعمولی سیکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔