Baaghi TV

Author: +9251

  • آئی ایم ایف کا اجلاس آج، پاکستان کیلئے قرض کی منظوری کا امکان

    بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آج واشنگٹن میں ہوگا جس میں پاکستان کے ساتھ معاہدے کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔

    ساتویں اور آٹھویں جائزے کے بعد اسٹاف لیول معاہدے منظوری کی صورت میں پاکستان کو فوری طور پر ایک ارب17 کروڑ ڈالر کا قرض جاری ہونے سے رکا ہوا پروگرام بحال ہوجائے گا۔ یاد رہے پاکستان نے پروگرام کی مدت میں ایک سال کی توسیع اور قرض کی رقم میں ایک ارب ڈالر اضافے کی درخواست کر رکھی ہے۔

    واضح رہے کہ دو ہفتے قبل عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو لیٹر آف انٹینٹ جاری کیا تھا، واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے پروگرام بحالی کی مسلسل کوششیں جاری رہیں اور اس معاملے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی مختلف ممالک سے روابطہ کیا تھا۔ جس کے بعد قسط ملنے کی امید بڑھ گئی تھی۔ اسی دوران ڈالر کی قیمت بھی بتدریج کم ہو رہی ہے. آج ہونے والے بورڈ کے اجلاس میں سعودی عرب کے قرض کا کوٹہ بھی پاکستان کو دیے جانے کا امکان ہے۔

    یاد رہے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے تحریک انصاف پر آئی ایم ایف سے ڈیل کو ناکام بنانے کی کوشش کرنے کا الزام لگا دیا تھا. اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ تیمور جھگڑا نے خط لکھا اور کہا اگر آپ نے ہمارے درینہ مسائل حل نہیں کیے تو ہم آئی ایم ایف معاملات میں تعاون نہیں کریں گے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ فواد چودھری نے بھی اسی طرح کا بیان دیا اور شوکت ترین پنجاب میں بھی ایکٹو ہوئے، بعد میں فون پر تیمور جھگڑا نے کہا کہ یہ خط آئی ایم ایف کو نہیں لکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اگر عمران خان کی حکومت نہیں آئے گی تو کیا آپ پاکستان کو تباہ اور مرکزی بینک کرپٹ کردیں گے۔

    مفتاح اسماعیل نےیہ بھی کہا تھا کہ ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے یہ پتہ نہیں کیا چاہ رہے ہیں، آج کے دن ایسا خط لکھنے کی کیا ضرورت تھی، کیا یہ دس دن اور انتظار نہیں کر سکتے تھے۔

  • متحدہ عرب امارت نے ہمیشہ پاکستان کی مشکل گھڑی میں بڑھ چڑھ کر مدد کی ہے

    متحدہ عرب امارت نے ہمیشہ پاکستان کی مشکل گھڑی میں بڑھ چڑھ کر مدد کی ہے

    متحدہ عرب امارت نے ہمیشہ پاکستان کی بڑھ چڑھ کر مدد کی ہے لہذا اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان بھیجوایا گیا ہے اور یو اے ای نے سیلابی صورتحال میں پاکستان کو تنہاء نہیں چھوڑا ہے.

    پاکستان موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کے باعث لاکھوں مکان تباہ اور لوگ بے گھر ہوگئے ہیں جب کہ سیکڑوں کی اموات ہوچکی ہے۔ سیلاب زدگان کی بحالی اور ریلیف کےلیے وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی برادری سے امداد کی اپیل کی تھی جس پر متحدہ عرب امارات نے امدادی سامان کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچائی جسے وفاقی وزیر برائے مںصوبہ بندی احسن اقبال نے نور خان ایئربیس پر وصول کی تاہم یو اے ای حکام کی طرف سے مزید امداد بھیجوانے کا سلسلہ بھی جاری رہے گا. امدادی سامان میں خیمے، خوراک، ادویات اور دیگر اشیاء ضرویہ شامل ہیں جبکہ یو اے ای کی طرف سے مزید امدادی سامان 15 طیاروں کے ذریعے آئندہ چند دنوں میں پاکستان پہنچایا جائے گا۔

    واضح رہے متحدہ عرب امارات ایسا ملک ہے جس نے ہمیشہ پاکستانکی مدد ہے اور ہر مشکل میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے ان کے دارلحکومت ابوظہبی میں ہمیشہ پاکستان کی آزادی کے دن کے حوالے سے بہترین تقاریب کا انقعاد کیا جات ہے جبکہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مشترکہ ورثے اور کثیر الجہتی تعاون پر مبنی بہترین برادرانہ دو طرفہ تعلقات قائم ہیں. یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے جو فقیدالمثال ترقی کے مدارج طے کیے ہیں وہ متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زاید بن سلطان النہیان کی دور اندیش قیادت کے بغیر ممکن نہیں تھے. اس عظیم رہنما کو پاکستان سے بہت لگاؤ ​​تھا۔ انہوں نے پاکستان میں بہت سے سماجی و اقتصادی منصوبوں میں ذاتی دلچسپی لی اور پاکستانی ورکرز کو متحدہ عرب امارات میں کام کرنے کا موقع دیا – یہ پاکستانی، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ لہذا متحدہ عرب امارات میں ان کے جانشین رہنما شیخ زاید کے طے کردہ اعلیٰ معیارات کی پیروی کر رہے ہیں اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کیلئے کوشاں ہیں

    متحدہ عرب امارات درحقیقت سات مملکتوں کے اتحاد کا نام ہے۔ یہ جزیرہ عرب کی مشرقی ساحلی پٹی پر واقع ہے۔ امارات کی تاریخ تجارت سے جڑی ہوئی ہے جو 630 میں اس خطے میں داخل ہوئی، اس کا ساحل یورپی جارحیت پسندوں کے زیر قبضہ تھا۔ یہ علاقہ انیسویں صدی میں برطانوی استعمارکے کنٹرول میں رہا، یہاں تک کہ جواہرات اور ہیروں کی کھیپ برآمد ہوئی پھر انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں اسے خود مختاری مل گئی۔
    اس کے بعد امارات نے گرمیوں میں خلیجی عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے، جبکہ کھجوروں کی کاشت سردیوں میں آمدنی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ بیسویں صدی کے درمیان کے عشرے تک یہ سلسلہ جاری رہا، اس دوران تیل کمپنیوں نے تیل کی تلاش کی۔ خام تیل کی پہلی کھیپ سنہ 1962 میں ابوظہبی سے برآمد ہوئی، اسے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے استعمال کیا گیا۔

    برطانوی استعمار کے خلیج سے دستبرداری کے اعلان کے ساتھ ہی ابو ظہبی ، دبئی ، شارجہ ،عجمان ، ام القواین اور فجیرہ کے حکمرانوں کے مابین یک معاہدہ طے پایا۔ 2 دسمبر 1971 ء کو متحدہ عرب امارات کے نام سے مشہور فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا اور اگلے ہی سال میں ساتویں امارت راس الخیمہ نے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔

  • شہباز اور نواز شریف کیخلاف توہین عدالت کی درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ

    شہباز اور نواز شریف کیخلاف توہین عدالت کی درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدلت کی درخواست قبل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔ درخواست گزار وکیل سید ظفر علی شاہ بطور پنشنر عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کی درخواست پر 16 نومبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ کا آرڈر جاری ہوا ۔ نواز شریف کی 2 اپیلیں اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھیں۔

    وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف اُس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت پر تھے ۔ اُس وقت وفاقی کابینہ نے 25 ملین روپے کی شرط کے ساتھ ایک مرتبہ بیرون ملک جانے کی اجازت دی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کی منظوری اُس وقت کی وفاقی کابینہ نے دی۔ اپیل اِس عدالت میں زیر التوا تھی تو اس وقت کی حکومت نے اِس عدالت سے نہیں پوچھا ۔اُس وقت کی وفاقی کابینہ نے اجازت دے دی تھی لیکن صرف پیسے جمع کرانے کی شرط تھی۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ سینئر کونسل ہیں،یہ بتائیں کہ ایک معاملہ دوسری عدالت میں زیر التوا ہے ہم کیسے سن سکتے ہیں؟یہاں پر اپیلیں زیر التوا تھیں اس کے باوجود حکومت نے نام ای سی ایل سے نکالا تھا عدالت سے نہیں پوچھا ۔ اِس وقت عدالت اس معاملے میں نہیں جائے گی ۔

    عدالت نے کہا کہ ہم اس پٹیشن کو مثالی جرمانے کے ساتھ خارج کرتے لیکن آپ سینئر وکیل ہیں اس لیے اس طرف نہیں جا رہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ پٹیشن واپس لینا چاہتے ہیں یا اس پر آرڈر پاس کریں ؟ درخواست گزار وکیل نے عدالت سے کہا کہ اگر آپ نے درخواست خارج کرنی ہے تو لاہور ہائیکورٹ جاؤں گا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ آپ کا اختیار ہے آپ کسی عدالت سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ وکیل سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ اگر آپ نے درخواست مسترد کرنی ہے تو لاہور ہائیکورٹ جانے کے لیے درخواست واپس لیتا ہوں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کہیں بھی جانے کے لیے آزاد ہوں گے، ہم آبزرویشن نہیں دیں گے۔ ہم اس درخواست پر مناسب حکم نامہ جاری کریں گے۔

  • وزیر اعظم آج سیلاب سے متاثرہ اضلاع نوشہرہ اور چار سدہ کا دورہ کرینگے

    وزیر اعظم آج سیلاب سے متاثرہ اضلاع نوشہرہ اور چار سدہ کا دورہ کرینگے

    وزیر اعظم آج سیلاب سے متاثرہ اضلاع نوشہرہ اور چار سدہ کا دورہ کرینگے

    دورے کے دوران وزیرِ اعظم کو متعلقہ حکام کی جانب سے سیلاب سے ہونے و الے نقصانات اور امدادی کاروائیوں پر بریفنگ دی جائے گی ۔ وزیرِ اعظم امدادی کاموں کا جائزہ لینے کے علاوہ سیلاب متاثرین سے ملاقات بھی کریں گے۔ وزیرِ اعظم آج مہمند ڈیم کی جگہ کا دورہ بھی کریں گے، وزیرِ اعظم کو مہمند ڈیم پروجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنماء مریم نواز شریف بھی آج سیلاب زدگان سے اظہار یکجہتی کے لئے تونسہ شریف کا دورہِ کریں گی ۔ مریم نواز شریف سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین سے ملاقات کریں گی۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں سیلاب سے تباہی کا سلسلہ تاحال جاری ہے، ملک بھر میں بارشوں اور سيلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 61 تک پہنچ چکی ہے۔

    نيشنل ڈيزاسٹر مينجمنٹ اتھارٹى کے مطابق بارشوں اور سيلاب سے سب سے زيادہ اموات سندھ میں ریکارڈ کی گئیں، جہاں 349 اموات ہوئیں، بلوچستان میں بارشوں اورسیلاب سے جا ں بحق افراد کى تعداد 242 ہوگئی، خيبرپختونخوا میں بارشوں اور سيلاب افراد کى تعداد 242 ریکارڈ، پنجاب میں بارشوں اور سيلاب سے 168 اموات گلگت بلتستان میں بارشوں اور سيلاب سے9 اموات جبکہ آزاد کشمیر میں 42 افراد جا ں بحق ہوئے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں 470 مرد 210 خواتين اور 359 بچے جان کى بازى ہار گئے، بارشوں اور سيلاب سے 24 گھنٹے کےدوران 48 افراد ے زخمى ہوئے اور 29 ہزار692 مکانات کو نقصان پہنچا، 13 ہزار323 گھرتباہ ہوئے، ملک بھر میں 157 پلوں کو حاليہ بارشوں سے نقصان پہنچا۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں 7 لاکھ 27 ہزار سے زائد مويشيوں کا نقصان ہوا ہے، جبکہ 3457 کلو ميٹر سڑک کو بارشوں کے باعث نقصان پہنچا۔

  • دریا سوات کی گزرگاہ پر مراد سعید اور اعظم خان نے 100 کروڑ روپے لے کر تعمیرات کی اجازت دی تھی

    دریا سوات کی گزرگاہ پر مراد سعید اور اعظم خان نے 100 کروڑ روپے لے کر تعمیرات کی اجازت دی تھی

    دریا سوات کی گزرگاہ پر اس وقت کے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید اورسابق وزیر اعظم کے پرسنل سیکرٹری اعظم خان نے 100 کروڑ لے 100 ہوٹلز اور بنگلوں کی تعمیرات کی اجازت دی تھی.

    صحافی اظہر سید نے دعوی کیا ہے کہ: دریائے سوات کی قدرتی گزر گاہ کے راستے میں سو کروڑ سے زیادہ کی رشوت لے کر سو سے زیادہ ہوٹل اور بنگلے تعمیر کرنے کی اجازت دینے میں نوسر باز عمران خان کا سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیر مواصلات مراد سعید اور سابق کمشنر مالاکنڈ ڈویژن شامل ہیں.


    ضلعی انتظامیہ کے مطابق سوات میں سیلاب سے 130 کلومیٹر کی سڑکیں تباہ ہوگئیں جبکہ 15رابطہ پل مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے۔ سیلابی ریلے سے 100 سے زائد مکانات اور دیگر عمارتیں تباہ ہوئیں جبکہ 50 کےقریب ہوٹلز تباہ ہو گئے۔
    چاروں صوبوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں، 900 سے زائد اموات، لاکھوں افراد فوری امداد کے منتظر ہیں جبکہ کالام میں دریا کنارے بنے ہوٹل تباہ و برباد ہوگئے، بحرین میں بھی سیلابی ریلا راستے میں آنے والی ہر شے تنکوں کی طرح بہا لے گیا ہے.

    اب سوال یہ ہے کہ یہ جتنا نقصان ہوا اس کا زمہ دار کون ہے؟

    اس کا جواب بھی بہت ہی سادہ سا ہے اور وہ یہ کہ اس کے زمہ دار وہ حضرات ہیں جنہوں دریا سوات کے قدرتی راستے میں‌ تعمیرات کی اجازت دی ہے ان میں سب پہلا نام مراد سعید کا آتا ہے جو اس وقت وزیر مواصلات تھے دوسرا نام اس وقت کے وزیر اعظم عمران کے پرسنل سیکرٹری اعظم خان کا آتا ہے اور تیسرا نام ہے سابق کمشنر مالاکنڈ ڈویژن جنہوں ملی بھگت سے یہ سارا کا سرانجام دیا تھا.

    لیکن پھر خیال یہ بھی آتا ہے کہ کیا ی سب اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے علم نہیں تھا ؟ یا پھر کہیں وہ بھی دانستہ یا نادانستہ اس کام میں شریک جرم تھے بہرحال ہمارا سادہ سا خیال ہے کہ اس سب تباہی کی زمہ دار سابقہ و موجودہ صوبائی حکومت ہے کیوںکہ یہ سارا کچھ ان کے دور میں ہوا تھا. لہذا چیف جسٹس آف پاکستان کو چاہئے کہ اس کرپشن کا سو موٹو لیتے ہوئے اس کی انکوائری کا حکم دے اور قصورواروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں.

    ایک صارف نے لکھا: عدالت عالیہ( اللہ کی عدالت، 137 نمبر والی نہیں ) کے حکم سے تمام ناجائز تجاوزات ختم ہو گئی ہیں. ایک اور شخص نے کہا: ریحام خان کی کتاب والے مراد سعید کی بدعمالیوں نے عوام کو تباہ و برباد کردیا ہے.

    فائٹ فار دی رائٹ نامی صارف نے لکھا: کے پی کے اور عمران خان کی بے حسی اپنی جگہ قابل نفرت ہے مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آئی ہے لاکھوں روپے ہر مہینہ تنخواہیں لینے والے سفید ہاتھی این ڈی ایم اے کے پاس ہیلی کاپٹرز کیوں نہیں ہیں؟ اوراگر ہیں تو کہیں استعمال ہوتے نظر کیوں نہیں آتے تاکہ سیلاب جیسی قدرتی آفت میں انسانی جانیں بچا سکیں. اس کے جواب میں ایک صارف نے کہا کہ وہاں بھی عمران خان جیسے نوسرباز او ران کے ساتھی مراد سعید اور اعظم خان بیٹھے ہوئے ہیں.

  • اس مشکل گھڑی میں کسی ایک سماجی ادارے کو نہیں بلکہ سب کو مل کر کام کرنا ہوگا حدیقہ کیانی

    اس مشکل گھڑی میں کسی ایک سماجی ادارے کو نہیں بلکہ سب کو مل کر کام کرنا ہوگا حدیقہ کیانی

    گلوکارہ و اداکارہ حدیقہ کیانی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ جب بھی کوئی قدرتی آفت آتی ہے ایسے میں ہمارے لوگوں کا جذبہ دیکھنے والا ہوتا ہے، وہ بڑھ چڑھ کر متاثرہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں. اب بھی دیکھا جا سکتا ہےکہ لوگ کتنے پر جوش ہیں اور اپنے متاثرہ بہن بھائیوں کی مدد کےلئے ہر قسم کی کوشش کررہے ہیں. حدیقہ کیانی نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ 2005 میں جب زلزلہ آیا تھا اس وقت بھی لوگوں کا متاثرہ فیملیز کے لئے مدد کا جذبہ دیدنی تھا. اسی طرح سے 2010 میں بد ترین سیلاب آیا جس میں بھی لوگوں نے متاثرہ لوگوں کی مدد کی. حدیقہ کیانی نے کہا کہ مجھے بہت فخر ہے کہ ہماری قوم مشکل گھڑی میں ایک ساتھ کھڑی ہوجاتی ہے. حدیقہ کیانی نے

    کہا کہ اس وقت بے سروسامان لوگوں‌ کی مدد کرنا کسی ایک سماجی ادارے کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا. نقصان بہت زیادہ ہو چکا ہے. انہوں نے اس چیز پر بھی زور دیا کہ اس وقت سیاست نہیں کی جانی چاہیے یہ وقت سیاست کا نہیں ہے بلکہ مل کر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے.یاد رہے کہ سیلاب نے اس بار جو تباہ کاریاں کی ہیں وہ اس سے پہلے دیکھنے کو نہیں‌ ملیں. بڑی تعداد میں نقصان ہو چکا ہے اور سلیبرٹیز لوگوں‌ کو موٹیویٹ کررہی ہیں کہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں متاثرہ لوگوں‌کی مدد کریں.

  • متاثرہ لوگوں‌ کی مدد کرنے کی بجائے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھانا افسوسناک ہے فیصل قریشی

    متاثرہ لوگوں‌ کی مدد کرنے کی بجائے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھانا افسوسناک ہے فیصل قریشی

    اداکار فیصل قریشی نے حال ہی میں ایک وڈیو پیغام جاری کیا ہے اس میں انہوں نے شدید افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ میں بہت پریشان ہوا ہو یہ جان کر کے سیلاب زدگان کی مدد کرنے کی بجائے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں‌بڑھائی جا رہی ہیں. انہوں اس وڈیو میں ایک واقعہ بھی شئیر کیا جس کی تفصیلات کچھ یوں بتائیں انہوں نے کہا کہ میرے ایک دوست نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو کچھ واٹر پروف ٹینٹس بھجوانے کا سوچا اور بھجوا بھی رہا ہے، جو وہ واٹر پروف ٹینٹس بھجوا رہا ہے اسکے مطابق کچھ عرصہ پہلے اسکی قیمت سات آٹھ ہزار تھی اور اب تیراں چوداں ہزار بتائی جا رہی ہےے صرف اسلئے کہ یہ مشکل گھڑی ہے لوگوں نے اسکی خریداری کرنی ہی

    کرنی ہے. فیصل قریشی نے تو بلکہ طنز بھی کی ان لوگوں پر جو ایسا کررہے ہیں یہ کہہ کر کہ” یار بڑے ہی ایماندار اور مددگار لوگ ہیں”. فیصل قریشی کی اس وڈیو پر صارفین کی جانب سے کافی کمنٹس کئے جا رہے ہیں اور سب اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھانے والوں پر لعن طعن کررہے ہیں. یاد رہے کہ اس وقت سیلاب زدگان کی صورتحال یہ ہےکہ ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں ماں دو روٹیوں کو آٹھ بچوں میں تقسیم کررہی تھی اس پریشان کن وڈیو نے دیکھنے والوں‌کو رلا کر رکھ دیا.

  • دا لیجنڈ آف مولا جٹ کو دیکھ کر لوگ مولا جٹ بھول جائیں گے ناصر ادیب

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ کو دیکھ کر لوگ مولا جٹ بھول جائیں گے ناصر ادیب

    ناصر ادیب جنہوں نے 1979 میں ریلیز ہوئی فلم مولا جٹ لکھی تھی انہوں نے دا لیجنڈ آف مولا جٹ لکھی ہے. حال ہی میں‌ ناصر ادیب کا ایک انٹرویو ہوا ہے اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے جو پہلی مولا جٹ لکھی تھی وہ اپنی جگہ تھی اور دا لیجنڈ آف مولا جٹ اپنی جگہ. ناصر ادیب نے یہ بھی دعوی کیا ہےکہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ کو دیکھ کر لوگ مولا جٹ کو بھول جائیں گے. انہوں نے کہا کہ اس فلم میں‌ کردار سارے پرانی مولا جٹ کے ہیں لیکن کہانی کو تھوڑا سا مختلف لکھا گیا ہے. ناصر ادیب نے کہا کہ مصطفی قریشی اور سلطان راہی اپنے دور کے سٹار تھے اور فواد خان ، ماہرہ خان اور حمزہ عباسی اپنے دور کے سٹارز ہیں. ناصر ادیب نے یہ بھی کہا کہ ہمیں وقت کے

    ساتھ چلنا چاہیے اور میں ماضی سے نکل آیا ہوں حال میں‌ جی رہا ہوں اور کام بھی حال کے تقاضوں کے مطابق کررہا ہوں یہی وجہ ہے کہ مجھ سے نوجوان اور آج کل کے کام کرنے والے لوگ رابطہ کرتے ہیں سکرپٹ لکھواتے ہیں. ناصر ادیب نے کہا کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ دو گھنٹے اٹھاراں منٹ کی فلم ہے جو شائقین کے دل جیت لے گی. انہوں نے کہا کہ حالانکہ اس فلم میں‌سارے آج کے ہی فنکار ہیں لیکن سب نے پنجابی بہت اچھے انداز میں بولی ہے اور میں فلم کی کامیابی کے لئے کافی پر امید ہوں.

  • کنزہ ہاشمی نے بتا دیا لوگ ان سے ناراض کیوں ہوجاتے ہیں؟

    کنزہ ہاشمی نے بتا دیا لوگ ان سے ناراض کیوں ہوجاتے ہیں؟

    ٹی وی اداکارہ کنزہ ہاشمی جو ہمیشہ سنجیدہ کرداروں میں ہی نظر آتی ہیں انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ وہ کس قسم کا مزاج رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بہت ہی زیادہ صاف گو ہوں جو دل میں آئے بول دیتی ہوں ایسا نہیں ہوتا کہ میرے دل میں کچھ اور ہو اور زبان پر کچھ اور ہو۔ میں نے ہمیشہ صاف گوئی کو پسند کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میری صاف گو لوگوں سے بنتی بھی بہت ہے۔ کنزہ ہاشمی نے کہا کہ پیار محبت کی زندگی میں بہت اہمیت ہے اور پیار محبت کے بغیر زندگی کے رنگ ادھورے ہیں لیکن میں یہاں یہ بتانا

    چاہتی ہوں کہ مجھے بلاوجہ کی اپنی زندگی میں مداخلت اچھی نہیں لگتی میں نہیں چاہتی کہ کوئی مجھ پہ حکمرانی کرے۔ کنزہ نے مزید کہا کہ میں نے کبھی کسی کی زندگی میں دخل اندازی نہیں کی چاہے میرا کسی سے کتنا بھی اچھا تعلق کیوں نہ ہو اپنی حدود میں رہتی ہوں اسی طرح سے چاہتی ہوں کہ میری بھی زندگی میں کوئی مخل نہ ہو۔ یاد رہے کہ اداکارہ صبور علی سجل علی کی بہن ہیں سجل علی تو اپنے کیرئیر میں‌اپنی بہن صبور علی سے کافی آگے دکھائی دیتی ہیں کیونکہ انہوں نے ہالی وڈ کی فلموں میں بھی کام کیاہے جبکہ صبور علی کا کیرئیر ٹی وی کی حد تک محدود ہے.

  • علی انصاری کو کس ہیرو جیسا کام نہیں کرنا ؟

    علی انصاری کو کس ہیرو جیسا کام نہیں کرنا ؟

    چھوٹی سکرین کے اداکار علی انصاری اور صبور علی کی کچھ عرصہ قبل شادی ہوئی ہے دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کافی خوش ہیں۔ علی انصاری کی شکل بالی وڈ اداکار عمران ہاشمی سے ملائی جاتی ہے اور کہا جا تا ہے کہ علی انصاری عمرا ن ہاشمی کی طرح نظر آتے ہیں۔ تاہم علی انصاری نے کبھی یہ خود نہیں کہا کہ ان کی شکل عمران ہاشمی سے ملتی ہے۔ حال ہی میں صبور علی اور علی انصاری نے تاہش ہاشمی کے شو میں شرکت کی دونوں سے وہاں دلچسپ سوالات ہوئے ، علی انصاری سے جب تابش نے پوچھا کہ آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ کی شکل لوگ عمران ہاشمی سے کیوں ملاتے ہیں؟ کام کی وجہ سے شکل کی وجہ سے انہوں نے کہا کہ میرا چہرہ ہی ان کے ساتھ

    ملاتے ہیں ان جیسے کام نہ مجھے آفر ہوئے ہیں نہ میں آفر ہونے پر ویسے کام کروں گا۔ صبور علی نے بھی اس شو میں کہا کہ وہ کرداروں کے انتخاب سوچ سمجھ کر کرتی ہیں ان کی پہلی ترجیح سکرپٹ ہوتا ہے اور سکرپٹ اچھا لکھا ہو تو وہ فورا حامی بھر لیتی ہیں۔ یاد رہے کہ ہنسنا منع ہے ایسا کامیڈی شو ہے جو بھارتی کامیڈی شو کپل شرما شو کی کاپی ہے اس شو کو جہاں بہت پسند کیا جا رہا ہے وہیں تنقید بھی ہورہی ہے ناقدین کا کہنا ہےکہ تابش ہاشمی کپل شرما کی بھونڈی نقل اتار رہے ہیں.