Baaghi TV

Author: +9251

  • مریم اورنگزیب کی صدرلاہور پریس کلب اعظم چوہدری کو دھمکی کی مزمت

    مریم اورنگزیب کی صدرلاہور پریس کلب اعظم چوہدری کو دھمکی کی مزمت

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے لاہور پریس کلب کے صدر اور سینئر صحافی اعظم چوہدری کو بزدلانہ دھمکی دینے کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے صحافیوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

    اپنے مذمتی بیان میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ صحافیوں کو ہراساں کرنے، ڈرانے، دھمکانے جیسے فعل میں ملوث بزدل عناصر پست ذہنیت کے مالک ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اعظم چوہدری صحافی برادری کی مضبوط آواز ہیں، انہیں ملنے والی دھمکی بزدلانہ حرکت ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے در جی ایم جمالی اور سیکرٹری جنرل رانا محمد عظیم نےلاہور پریس کلب کے صدر اعظم چوہدری کو نامعلوم عناصر کی جانب سے کلاشنکوف کی گولی بھجوائے جانے کے عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں صحافیوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔

    پی ایف یو جے کئی بار صحافیوں کی حفاظت اور سکیورٹی کی جانب توجہ دلوا چکی ہے مگر ذمہ داران کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اب حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ لاہور پریس کلب کے صدر کو دیدہ دلیری کے ساتھ نامعلوم افراد کی جانب سے گولی بھجوا کر دھمکی دی گئی ہے کہ وہ اپنی زبان بند رکھیں۔

    پی ایف یو جے لیڈر شپ نے کہا ہے کہ پریس کلب صحافیوں کا گھر ہے اور اس کے صدرکو دھمکانے کا مطلب پوری صحافی برادری کو دھمکانے کے مترادف ہے۔ اس طرح کسی بھی صحافی کو ڈرایا دھمکایا جاسکتا ہے نہ آزادی اظہار رائے پر قدغن لگائی جا سکتی ہے۔

    پی ایف یو جے لیڈر شپ نے وفاقی اور پنجاب حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اعظم چوہدری کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کروائیں اور اس میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعہ کی طے تک پہنچ کر ملوث افراد کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا گیا تو پی ایف یو جے مشاورت کے بعد ملک گیر احتجاج کرے گی۔

  • وزیراعظم جلد شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے،خرم دستگیر

    وزیراعظم جلد شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے،خرم دستگیر

    وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) انجنیئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف جلد شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے، ملک میں تقریباً 1980 میگاواٹ اضافی بجلی اگلے موسم گرما میں دستیاب ہوگی اور بجلی کی نئی پیداواری صلاحیت درآمدی تیل پر نہیں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو حیدرآباد میں حیسکو پاور ونگ کالونی کے کانفرنس ہال میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پورے ملک میں 200 یا اس سے کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے تصحیح شدہ نئے بل جاری کئے جائیں گے، گھریلو صارفین کے لئے بجلی کے بل جمع کرانے کی آخری تاریخ کی میعاد 06 ستمبر تک بڑھا دی گئی ہے۔ میری یہاں موجودگی کا مقصد حیسکو اور سیپکو ریجنز میں سیلاب زدگان کے حوالے سے درپیش مسائل کو حل کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں انتہائی غیر معمولی بارشیں ہوئی ہیں کہیں اوسط سے چار گنا اور بعض مقامات پر سات گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں، اس کا اثر ہماری بجلی کی سپلائی کرنے والی کمپنیوں پر بھی پڑا ہے، گرڈ اسٹیشنز ڈوبے ہوئے ہیں، کہیں کھمبے پانی میں گر گئے ہیں، کچھ مقامات پر حفاظتی اقدامات کے طور پر بھی بجلی کی سپلائی منقطع کی جاتی ہے۔

    وفاقی وزیر نے حیسکو اور سیپکو کے چیفس کو ہدایات دیں کہ جہاں بھی نکاسی آب کے مسائل درپیش ہیں وہاں کسی قسم کی لوڈشیڈنگ نہ کی جائے اور 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے تاکہ نکاسی آب کا مسئلہ ترجیحی طور پر حل ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کردی گئی تھی کہ بارشوں کے دوران حتی الامکان بجلی کی فراہمی جاری رہنی چاہیئے اس حوالے سے حیسکو اور سیپکو نے محنت کی اور لوگوں نے بھی محسوس کیا ہوگا کیونکہ پہلے بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی بجلی غائب ہوجاتی تھی، لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ ابھی بھی چیلینجز درپیش ہیں، صوبے کے تمام اضلاع سے تفصیلی رپورٹ حاصل کر رہا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ حیسکو کے تین اہم گرڈ اسٹیشنز بارش کی وجہ سے بند ہوگئے تھے جن میں نوابشاہ ون، دوڑاور جھرک گرڈ اسٹیشن شامل ہیں، نوابشاہ کے چار فیڈرز کو متبادل گرڈ اسٹیشنز سے منسلک کرکے چلادیا گیا ہے، جھرک گرڈ اسٹیشن کو بھی لو لوڈ پر چلادیا گیا ہے، بحالی کا کام جاری ہے، جن گرڈ اسٹیشنز میں پانی جمع ہوا ہے وہاں سے پانی کی نکاسی کا کام بھی کیا جارہا ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے کارکنان ہمارے اور آپ کے لئے بارش میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کام کرتے ہیں ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کا چیلنج ابھی ختم نہیں ہوا، شمال سے ایک نیا ریلا دریائے کابل اور کنہار سے آرہا ہے جو کے پی سے گذرتا ہوا ملک کے جنوبی علاقوں میں بھی آئے گا، آنے والے چند ہفتے ایمرجنسی کے ہیں جس میں پوری کوشش کی جارہی ہے کہ بجلی کے محکمے کے سربراہان، سینئر افسران اور عملہ پوری ذمہ داری سے خدمات انجام دیں اور کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل مقصد ان کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے لیکن فی الحال سیلاب کی صورتحال اور بلوں کی تصحیح کے معاملے پر ہماری پوری توجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایک پارٹی نہیں بلکہ وسیع البنیاد جمہوری حکومت میں شامل دس کی دس پارٹیاں ریلیف کے کام میں مصروف عمل ہیں، ہم سب اکٹھے ہیں اور بلا تفریق سیلاب متاثرین کو ریسکیو کریں گے، ان کو ریلیف بھی پہنچائیں گے اور بحالی کا کام بھی جاری رہے گا۔ صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں ریلیف کے معاملے میں ملکی سطح پر غور و فکر کیا جارہا ہے، دس روز میں تفصیلی بحث کے بعد ریلیف کے سلسلے میں جو فیصلہ کیا جائے گا وزیراعظم اس کا اعلان کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ متاثرین کو دوسرے طریقے سے بھی ریلیف دیا جارہا ہے اور بی آئی ایس پی کے تحت ہر خاندان کو 25 ہزار روپے کی مالی امداد کی فراہمی کی جارہی ہے، سیلاب کے دوران جو افراد جاں بحق ہوئے ہیں ان کے ورثا کے لئے فی کس 10 لاکھ روپے امدادی چیکس دینے کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔ حیسکو کی کارکردگی ایک علیحدہ سوال ہے، خراب ٹرانسفارمرز کی تبدیلی کا معاملہ بھی ایک چیلنج ہے ان مسائل کو بھی حل کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت کے دور میں لوڈشیڈنگ کافی حد تک کم ہوگئی تھی۔ بجلی کے حوالے سے ملک میں دو قسم کی صورتحال ہے، ایک تو وہ فیڈرز ہیں جہاں بلوں کی ریکوری 80 فیصد سے زیادہ ہے اور لائن لاسز 20 فیصد سے کم ہیں ، جہاں ریکوری اچھی ہے وہاں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم ہوتا ہے جبکہ زیادہ لائن لاسز والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ زیادہ ہوجاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ موسم گرما کے دوران ملک میں بجلی کی طلب 25 ہزار میگاواٹ کے قریب متوقع تھی لیکن یہ طلب 30 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہوگئی۔ پچھلے چار سال یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ ملک میں بجلی وافر مقدار میں دستیاب ہے مگر ملک کے اندر بجلی وافر مقدار میں موجود نہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فرنیس آئل پر پرانی ٹیکنالوجی کے ذریعے جو بجلی تیار کی جاتی ہے وہ اس طرح ہے جیسے حکومت اور عوام اپنا خون جلا رہی ہے، ہمارے پاس بجلی پیدا کرنے کی موثر صلاحیت 25 ہزار میگاواٹ تک کی ہے اس سے زائد بجلی بناتے ہیں تو ہمیں تیل سے بنانی پڑتی ہے جس سے پھر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ جیسے معاملات پیدا ہوتے ہیں۔

    ہماری کوشش ہے کہ اگلے موسم گرما سے قبل جو زیر تکمیل پلانٹس جن میں تھر میں 1320 میگاواٹ کا شنگھائی الیکٹرک اور 330 میگاواٹ کے دو منصوبے وہاں موجود ہیں، سے تقریباً 1980 میگاواٹ اضافی بجلی اگلے موسم گرما میں دستیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف جلد شمسی توانائی پالیسی کا بھی اعلان کریں گے، اگلے موسم گرما میں ہمارے پاس ان ذرائع سے ہزاروں میگاواٹ بجلی دستیاب ہوگی اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ سولر سے سستی بجلی بنانے کے دوران دن کے وقت ہم ایندھن پر پلانٹس کو کم سے کم چلائیں تاکہ بجلی کی لاگت کم کرکے عوام کے بجلی کے بل بھی کم کئے جاسکیں۔

    انہوں نے کہا کہ بجلی کی نئی پیداواری صلاحیت درآمدی تیل پر نہیں ہوگی اور مستقبل میں جتنی بھی بجلی کی پیداواری صلاحیت ہوگی وہ تھر کول، ہائیڈل ذرائع، پن بجلی، شمسی اور نیوکلیئر ذرائع سے حاصل کی جائے گی جس سے ملک کے صارفین کو بجلی کی لگاتار اور سستی فراہمی یقینی ہوسکے گی۔

    حیسکو اور سیپکو کو حکومت سندھ کے حوالے کرنے کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت سندھ سے بات چیت چل رہی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں بھی بجلی کی ڈسٹری بیوشن کے عمل میں شامل ہوسکتی ہیں۔ اس موقع پر چیف ایگزیکیوٹو آفیسر حیسکو نور احمد سومرو، مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما شاہ محمد شاہ، سابقہ سینیٹر نہال ہاشمی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے

  • عالمی رہنماوں کا شہباز شریف کو ٹیلیفون، تعاون کی یقین دہانی

    عالمی رہنماوں کا شہباز شریف کو ٹیلیفون، تعاون کی یقین دہانی

    پاکستان میں بارشوں کے بعد سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں. ترک صدر رجب طیب اردوان ، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النیہان اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون کیا ہے اور آفت کے باعث نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعظم کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے ٹیلی فون کیا۔ شہباز شریف نے پاکستان میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال اور ہنگامی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے لیے حکومتی کوششوں سے آگاہ کیا۔

    وزیر اعظم نے بتایا کہ پاکستان جون 2022 کے وسط سے ریکارڈ بارشوں کے ساتھ مون سون کا غیر معمولی موسم برداشت کر رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں، ذریعہ معاش اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ بارش سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا، حکومت متاثرہ علاقوں تک پہنچنے اور لوگوں کو ان کی نقل مکانی اور امداد کی ترسیل میں مدد کے لیے تمام تر کوششیں کر رہی ہے۔

    پاکستان نے "اقوام متحدہ کی فلیش اپیل” تیار کی ہے جو 30 اگست کو شروع کی جائے گی اور امید ہے عالمی برادری فلیش اپیل کی فنڈنگ پاکستان کی ضروریات کو پورا کرنے میں کردار ادا کرے گی۔وزیراعظم نے انسانی بنیادوں پر امداد پر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کیا۔

    دوطرفہ تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف نے تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے لیے ترکوں کی غیر متزلزل حمایت پر صدر اردوان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    ترک صدر نے شہباز شریف سے شدید بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر نقصان پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دینگے۔

    ایرانی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون کیا ، وزیر اعظم شہباز شریف کو ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے ٹیلی فون کیا۔ وزیر اعظم نے سیلاب کی صورتحال پر ایرانی صدر کی ہمدردی پر شکریہ ادا کیا۔

    شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان مون سون کے شدید موسم کو برداشت کر رہا ہے، بہت سے علاقوں کو 4-5 گنا اور اس سے بھی زیادہ شدید موسم آیا ہے، بڑے پیمانے پر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے انسانی جانوں، ذریعہ معاش، مویشیوں، املاک اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔

    وزیراعظم نے زور دیتے ہوئ ےکہا کہ سڑکوں اور پلوں سمیت بنیادی ڈھانچے پر شدید اثرات سے انسانی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے، جو لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے اور امداد کی ترسیل دونوں میں رکاوٹ ہے۔

    اس سلسلے میں حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ”اقوام متحدہ کی فلیش اپیل” تیار کی ہے جو 30 اگست 2022 کو شروع کی جائے گی۔ امید ہے عالمی برادری فلیش اپیل کی فنڈنگ کی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا حصہ ڈالے گی۔

    ٹیلفونک رابطے کے دوران دوطرفہ تناظر میں وزیراعظم نے تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے ایران کی مسلسل حمایت کو بھی سراہا۔ صدر ابراہیم رئیسی نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام شعبوں میں امدادی امداد میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون کیا اور مون سون کی غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سے سے ملک گیر تباہی کے پر افسوس کا اظہار کیا۔ یو اے ای کے صدر نے سیلاب کے باعث بڑے پیمانے پر ہلاکتیں، زخمی ہونے اور شدید نقصان کے بعد پاکستان کو فوری امداد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    صدر نے بے گھر افراد کے لیے تمام انسانی امدادی خدمات کی فراہمی کا بھی حکم دیا تاکہ وہ درپیش چیلنجوں پر قابو پا سکیں۔ متحدہ عرب امارات کی امداد میں خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ تقریباً 3,000 ٹن خوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ٹن طبی اور دواسازی کا سامان بھی شامل ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی حفاظت اور ان کی خوراک، طبی اور رسد کی ضروریات کو یقینی بنانے کی کوششوں سے متعلق پاکستانی اداروں کو ہر قسم کی انسانی امداد بھی فراہم کریں گی۔

  • ایشیا کپ، افغانستان کی سری لنکا کو با آسانی شکست

    ایشیا کپ، افغانستان کی سری لنکا کو با آسانی شکست

    ایشیا کپ میں پہلے ٹی ٹونٹی میچ کے دوران افغانستان نے سری لنکا کو با آسانی شکست دیدی۔ 105 رنز کا ہدف 11 ویں اوورز میں ہی حاصل کر لیا۔

    افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے حریف ٹیم سری لنکا کو بیٹنگ کی دعوت دی تو نیسانکا اور کوشل مینڈس نے اننگز کا آغاز کیا۔ آئی لینڈرز کو پہلے ہی اوورز میں دو نقصان اٹھانا پڑ گئے۔ دونوں اوپنرز بالترتیب تین اور دو سکور بنا کر آؤٹ ہوئے۔

    اس کے بعد دیگر کھلاڑی بھی کریز پر زیادہ دیر تک نہ رُک سکے، راجا پاکسے 38 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے، اسالانکا 0، گوناتھیکلے 17، ڈی سلوا 2، شناکا 0، کرونارتنے 31 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، فضل الحق فاروق نے تین شکار کیے، مجیب الرحمان اور محمد نبی نے دو دو کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔

    افغانستان کی ٹیم نے ہدف کا تعاقب 11 ویں اوورز میں حاصل کر لیا۔ حضرت اللہ زازائی 28 گیندوں پر 37 رنز ، نجیب اللہ زردان دو رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، رحمن اللہ گرباز 40، ابراہیم زردان 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، ہاسا رنگا نے ایک وکٹ حاصل کی۔

  • ملک میں سیلاب سے تباہی،عمران خان جلسے اور عارف علوی سالگرہ منانے میں مصروف

    ملک میں سیلاب سے تباہی،عمران خان جلسے اور عارف علوی سالگرہ منانے میں مصروف

    پاکستان میں آنے والے بدترین سیلاب اور لامتناہی بارشوں کے بعد ہونے والی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 900 سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں،جبکہ صرر مملکت اسلامی جمہوری پاکستان ڈاکٹر عارف علوی ملک کی ہنگامی حالت سے بے خبر ایوان صدر میں اپنی شادی کی 50 ویں سالگرہ منا رہے ہیں.

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاز کے باوجود ایوان صدر میں میں تقریب کا انعقاد اور اور اپنی شادی کی 50 ویں سالگرہ منانا کسی لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہے.

    پاکستان تحریک انصاف میں شامل تمام لوگ ایک ہی ذہنیت کے حامل ہیں چاہیے پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان ہوں، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ہوں یا سابق وفاقی وزراء سب میں ایک چیز مشترکہ ہے اور وہ ہے ذاتی مفادات.

    ملک سیلا ب میں ڈوب رہا ہے لوگ کھلے آسمان تلے ذندگی گزارنے پر مجبور ہیں، سینکٹرروں ایکڑ پر محیط فصلیں اور گھر تباہ ہو گئے، 900 سے ذائد افراد اپنی جان گنوا بیٹھے،کئی لوگ اور بچے سیلابی ریلے میں بہہ گئے،حکومت اور ملک کے ادارے سیلاب ذدگان کی امداد اور بحالی کیلئے کوشاں ہیں، پاک فوج اور دیگر ادارے دن رات سیلاب میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے میں لگے ہیں، عالمی ادارے اور ممالگ مصیبت کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور کئی ممالک کی جانب سے پاکستان کی امداد کی جارہی ہے مگر پاکستان تحریک انصاف ان حالات میں بھی سیاست اور ذاتی مفادات کے لئے کوشاں ہے.

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کزشتہ روز کے پی کے حکومت کے ہیلی کاپٹر میں اس وقت فضائی جائزہ لیا جب پانچ دوست کئی گھنٹوں تک خود کو ریسکیو کرنے کیلئے پکارے رہے اور آخر کار سیلابی ریلے میں بہہ گئے، یہی نہیں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان ملک میں ایمرجنسی کی صورتحال میں بھی اپنے اقتدار کیلئے جلسے کر رہے ہیں اور آج جہلم میں عمران خان کی جانب سے سیاسی جلسہ منعقد کیا گیا.

    عمران خان کے خطاب پر سینئر صحاافی،تجزیہ نگار اور اینکر سلیم سافی نے کہا کہ عمران لفافی۔۔تمہاری ساری زندگی لفافوں پر گزری ہے۔ نوازشریف سے پلاٹ لیا۔ گولڈ سمتھ کے لفافوں سے بچے پال رہے ہو۔ تمہارے لفافوں میں جہاز اور لینڈ کروزر آتے ہیں۔ تمہیں حکمرانی بھی لفافوں میں پڑے ووٹوں سے دلوائی گئی۔ اور آج جب سیلاب زدگان کی بات آئی ہے تو آپ کو فیڈریزنگ بری لگی۔


    ایک طرف عمران خان ملک میں جلسے کر رہے ہیں تو دوسری طرف صدر عارف علوی ملک میں تباہی کے باوجود اپنی شادی کی سالگرہ منا رہے ہیں .جبکہ پی ٹی آئی کے سابق وزراء اس کوشش مین ہین کہ کسی طرح پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاملات خراب ہو جائیں ، یہ ہے پاکستان تحریک انصاف کی حب الوطنی جس پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے.

  • اسلام آباد انتظامیہ نے شہریوں سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی تعاون کی اپیل کردی ،تین ریلیف کیمپ قائم

    اسلام آباد انتظامیہ نے شہریوں سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی تعاون کی اپیل کردی ،تین ریلیف کیمپ قائم

    اسلام آباد :ملک بھر میں سیلابی صورتحال کے باعث متاثرہ علاقوں میں اشیاء خوردونوش اور دیگر امدادی سامان کی اشد ضرورت ہے ۔اسلام آباد انتظامیہ نے پاک فوج کی مدد سے تین فلڈ ریلیف کیمپ قائم کردئیے ہیں ۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر کہا ہے کہ پاکستان آرمی اور ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے مشترکہ طور پر سیلاب زدگان کی مدد کے لئے تین امدادی کیمپ لگائے ہیں.شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی حسبِ توفیق سیلاب زدگان کے لئے عطیات جمع کروائیں. کیش وصول نہیں کیا جائے گا ،کھانے پینے کی اشیاء/ ٹینٹ ، کمبل ، کپڑے اور دیگر ضروریاتِ زندگی عطیہ کریں،امدادی کیمپس میں عملہ دن بارہ سے رات بارہ بجے تک امدادی سامان وصول کررہا ہے۔
    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن کا ٹویٹ

  • اسلامی تنظیمیں اور عالمی برادری پاکستان کی فوری مدد کریں ،او آئی سی

    اسلامی تنظیمیں اور عالمی برادری پاکستان کی فوری مدد کریں ،او آئی سی

    اسلامی تعاون کی تنظیم (اوآئی سی) نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی امدادکیلئے تنظیم کے رکن ممالک، انسانی ہمدردی کی بنیادپرکام کرنے والی اسلامی تنظیموں اوربین الاقوامی برادری سے پاکستان کی فوری امدادکی اپیل کی ہے۔


    اوآئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین براہیم طہٰ نے پاکستان میں مون سون کی بارشوں اورسیلاب سے قیمتی انسانی جانوں اور اموال کی تباہی پرگہرے رنج وغم کااظہارکیا۔


    انہوں نے قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پرپاکستان کی حکومت اورعوام کے ساتھ تعزیت، افسوس اورہمدردی کااظہارکیا۔

    حسین براہیم طہٰ نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی امدادکیلئے تنظیم کے رکن ممالک ، انسانی ہمدردی کی بنیادپرکام کرنے والی اسلامی تنظیموں اوربین الاقوامی برادری سے پاکستان کی فوری امدادکی اپیل کی ہے تاکہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی مشکلات کو کم کیا جاسکے۔

    اس سے قبل عالمی تنظیموں اور مالیاتی اداروں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی اپیل پر سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد کی فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔

    وزیر اعظم نے سیلاب زدگان کو امداد فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی ڈونرز کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی تھی۔ اجلاس میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور ڈونرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں چین، امریکا اور یورپی یونین کے حکام، اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت کے اداروں نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے عالمی شراکت داروں کو ملک میں بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تاریخی بارشوں اور سیلاب سے ملک میں ایمرجنسی کی صورتحال ہے، بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، مکانات، املاک کے علاوہ فصلوں، باغات اور انفراسٹرکچر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، رابطہ سڑکیں، پل بہہ جانے اور زمینی راستے کٹ جانے کی وجہ سے ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مشکلات آ رہی ہیں، پاک فوج اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ریسکیو اور ریلیف کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔

  • حکومت آئی ایم ایف سے بات کر کے ریلیف لے،عمران خان

    حکومت آئی ایم ایف سے بات کر کے ریلیف لے،عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں تحریک انصاف آئی ایم ایف کا پروگرام منسوخ کرانا چاہتی ہے، وزیرخزانہ خیبرپختونخوا تیمورجھگڑا مفتاح اسماعیل سے دوماہ سے وقت مانگ رہا ہے، مفتاح کہتے ہیں صوبے سرپلس دینگے، سیلاب سے تباہی آئی ہے، صوبے کہاں سے سرپلس دیں گے، مفتاح اسماعیل سیلاب آیا ہے، دل بڑا کرو گوری چمڑی سے گھبرانے کے بجائے آئی ایم ایف سے بات کر کے ریلیف لیں، کورونا جب آیا تھا تومیں نے آئی ایم ایف سربراہ سے بات کرکے ریلیف لیا تھا۔ سیلاب سے اربوں کی تباہی ہوئی ہے، حکومت کو ہمت پکڑ کر آئی ایم ایف سے بات کرنی چاہیے۔

    جہلم میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اللہ نے پاکستان کو بڑے امتحان میں ڈالا ہے،اللہ کبھی کبھی اپنی مخلوق کوآزماتا ہے،اللہ نے ہمیں ایک آزمائش دی ہے ہم سب وعدہ کرتے ہیں اللہ ہم اس امتحان میں فیل نہیں ہونگے،سوات، چترال سمیت ہر جگہ عذاب آیا ہوا ہے، موسم کی خرابی کی وجہ سے تونسہ، راجن پور،ڈی جی خان نہیں جا سکا، سیلاب سے فصلوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا،بلوچستان، سندھ میں لوگوں کا برا حال ہے، اس امتحان سے ملکر قوم مل کر لڑتی ہے، ایسے امتحان سے ہم سب نے ملکرمقابلہ کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2010کے سیلاب میں ہر پاکستانی نے مل کر مقابلہ کیا تھا، آج بھی ہم سب نے مل کر اس امتحان کا مقابلہ کرنا ہے،نوجوانوں کی ٹائیگرفورس بنائی ہے،ٹائیگرفورس متاثرہ علاقوں میں جا کر حکومتوں کی مدد کرے گی،پیر کی شام کو ایک ٹیلی تھون کرونگا،پاکستان اوربیرون ملک پاکستانیوں سے پیسہ اکٹھا کرونگا،احساس پروگرام کی طرح اس پروگرام میں بھی ثانیہ نشترکوسربراہ بنائیں گے۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ یہ اللہ کا امتحان ہے،ہم ڈیمزبناسکتے ہیں،ہمیں فخرہے ہماری حکومت نے پاکستان میں 10 ڈیمزبنانا شروع کیے،50 سال بعد بھاشا، داسو، مہمند ڈیم بن رہے ہیں۔ جب ڈیم ہوتے ہیں تو بارش کے پانی کو قابو کیا جاسکتا ہے،وہی بارش کا پانی تباہی کے بجائے رحمت بن جاتا ہے،چین میں 80 ہزارٹوٹل ڈیم ہے،چین میں 5 ہزاربڑے ڈیم ہے،پاکستان میں ڈیم نہ بنا کربڑی کوتاہی کی گئی،جتنی بھی حکومتیں آئی سب سے سوال پوچھتا ہوں آپ لوگوں کوخیال کیوں نہ آیا،پچاس سال میں کسی حکومت نے ملک میں ڈیم بنانے کا نہیں سوچا،تحریک انصاف کی حکومت کوپہلی دفعہ ڈیم بنانے پرمبارکباد دیتا ہوں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ نوشہرہ میں 2010ء میں سیلاب کے دوران ڈوب گیا تھا،ہماری حکومت نے نوشہرہ میں بند بنائے تھے، یہی بند نوشہرہ کو بچائیں گے، اگر عثمان بزدار اربوں روپے سے بند نہ بناتے تو تونسہ نے ڈوب جانا تھا، سندھ میں بارش آئے تو ڈوب جاتا ہے اوردوسری طرف پینے والا پانی نہیں ملتا،لاہورکے اندر ہم نے انڈر گراؤنڈ پانی کو اکٹھا کرنے کا پلان بنایا،اگر ڈیم بنا ہوتا تو ڈیرہ اسماعیل خان میں تباہی کو روکا جاسکتا تھا،پانی کوتباہی بنانے کے بجائے نعمت بنانا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ اخبارات میں ہمارے خلاف کمپین چل رہی ہے، ایک میڈیا ہاؤس ہمیشہ پیسے لیکرچوروں کی حفاظت کرتا ہے،کمپین کررہے ہیں اس وقت جلسے نہیں کرنے چاہئیں، لفافوں کان کھول کرسن لو،میں سیاست نہیں کر رہا حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں، 30 سال سے ملک لوٹنے والوں کے خلاف حقیقی آزادی کی جنگ لڑرہا ہوں،ملک میں قانون کی بالادستی کی جنگ لڑرہا ہوں۔ پاکستان نے اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا، ہماری جدوجہد سیلاب اورجنگوں کے دوران بھی جاری رہے گی، جب تک حقیقی آزادی نہیں ملتی ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین کاکہنا تھا کہ چوروں کا ٹولہ کان کھول کرسن لے تم جیسے چوروں سے آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی، فکر نہ کرو، سیلاب کے دوران ہم وہ کام کریں گے جو تم ساری زندگی بھی نہیں کرسکتے، تم چوروں کو تو کوئی پیسے دینے کو بھی تیارنہیں، بھگوڑا لندن بیٹھ کرہمیں درس دے رہا ہے سیاست نہیں کرنی چاہیے،نوازشریف مفرور مجرم، شہبازشریف، ڈیزل، زرداری سن لو حقیقی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی، زرداری کوپیسوں کی بیماری ہے جب پیسہ دیکھتا ہے تواس کی مونچھیں اوپرنیچے ہوجاتی ہیں، سیلاب متاثرین کے لیے بھی جدوجہد کروں گا،سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کروں گا لیکن تمہیں نہیں چھوڑنا،دو ڈاکو خاندانوں کے آنے سے پہلے پاکستان برصغیرمیں تیزی سے ترقی کررہا تھا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جب ڈاکو خاندان مسلط ہوئے توہم بھارت، بنگلادیش سے بھی پیچھے رہ گئے، شہبازشریف،مفتاح اسماعیل کہہ رہے ہیں ہماری وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام فیل ہو جائے گا،شہبازشریف اوران کے اتحادیوں نے قرضے لوگوں پرچڑھائے،جب ہم نے اقتدارسنبھالا تواس وقت سب سے زیادہ بیرونی خسارہ تھا،موجودہ حکومت کے اکنامک سروے کے مطابق تحریک انصاف حکومت میں 6 فیصد گروتھ ہو رہی تھی، ہمارے دورمیں چارفصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، ہم یہ پاکستان چھوڑ کر گئے تھے، ہماری حکومت نے پہلی دفعہ 10 لاکھ علاج کے لیے انشورنس دی، سازش کرکے ہماری حکومت گرائی اورچارماہ بعد ملک کا دیوالیہ نکال دیا،آج ملک میں مسلسل مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ ہمارے دور میں 16 فیصد اور آج مہنگائی 45 فیصد ہے، ان کا توسارا شور ہی مہنگائی کے خلاف تھا۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل کہہ رہا ہے آئی ایم ایف پروگرام ہم ناکام بنانا چاہتے ہیں،دوماہ سے تیمورجھگڑا میٹنگ کے لیے بلاتا رہا،سیلاب سے اربوں کی تباہی ہوئی کدھرسے سرپلس ہوگا، گوری چمڑی سے اتنا نہ گھبراؤآپ کوآئی ایم ایف سے بات کرنی چاہیے ملک میں سیلاب آیا ہوا ہے،دل بڑا کرو، ٹرانسپلانٹ کرالو، آئی ایم ایف سے بات کرو۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کے بیانات سے شرمندگی ہوتی ہے، امپورٹڈ حکومت ایک غیرتمند قوم کو شرمندہ کررہی ہے،ان کا چوری کا پیسہ بیرون ملک پڑا ہے یہ ان کے غلام ہیں۔ایک طرف کہتے ہیں سیلاب آیا ہوا ہے، سیلاب کی وارننگ کے دوران سب سے بڑی پارٹی کو کیسز کر کے دیوار سے لگایا جا رہا ہے، 25مئی کوپرامن احتجاج کرنے والوں پر شیلنگ، مقدمات درج کیے گئے، ہمارے دورمیں انہوں نے دھرنے دیئے کسی کو نہیں روکا، 25 مئی کو ظلم کیا گیا، اس وقت جمہوریت اورہماری آزادی کو مسلط ٹولے سے خطرہ ہے، ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن، پولیس کے ساتھ مل کربھی یہ بری طرح ہارے، اب یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں ان کوپتا ہے الیکشن میں پھینٹا پڑے گا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اب یہ تکنیکی طریقے سے مجھے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں، آج تک آئین وقانون کے دائرے میں رہ کرسیاست کی، 25 مئی کو تشدد کیا گیا، انتشار کے ڈر کی وجہ سے دھرنا ختم کیا تھا، مجھ پردہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا، میرے خلاف دہشت گردی کے مقدمے کی دنیا میں خبر پھیل گئی، شہبازگل کوعدالت میں پیش کرنے کے بجائے اسے برہنہ کر کے جنسی تشدد کیا گیا، میں نے کہا شہبازگل پرتشدد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، کیا قانونی کارروائی کا کہنا دہشت گردی ہے؟ دنیا میں دہشت گردی کا مقدمہ بننے پر مذاق اڑایا گیا، مسٹر ایکس کے بعد اب اسلام آباد میں ’مسٹروائی کو تحریک انصاف کو ڈرانے کے مشن پر بھیجا گیا ہے، مسٹروائی غور سے سن لو ہم ایک پُر امن سیاسی جماعت ہیں، ایک طرف کہتے ہیں سیلاب میں سب کواکٹھا ہونا چاہیے، چاروں صوبوں کواکٹھا رکھنے والی جماعت کے خلاف سازش اس ملک سے بھی غداری ہے، یہ ملک کی جمہوریت کو کمزور کرنے کی سازش ہے، جتنا میرے اندرسٹیمنا پوری جدوجہد کرونگا۔ ایک ہم نے سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کرنی ہے،دوسرا سب حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے تیار ہو جائیں کپتان سب سے آگے ہوگا۔

  • کوئٹہ میں ایل پی جی 700 روپے اور روٹی 50 روپے کی ہو گئی

    کوئٹہ میں ایل پی جی 700 روپے اور روٹی 50 روپے کی ہو گئی

    کوئٹہ میں گیس نہ ہونے سے لکڑی اور ایل پی جی کا استعمال بڑھ گیا اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منافع خوروں نے ایل پی جی کی قیمتیں کئی گنا بڑھادی ہیں جبکہ روٹی بھی 50 روپے کی ہوگئی ہے۔

    شہر میں گیس نہ ہونےسے لکڑی اور ایل پی جی کا استعمال کیا جا رہا ہے، گیس کی بندش کے بعد ایل پی جی کی من مانی قیمت پر فروخت جاری ہے، مختلف علاقوں میں ایل پی جی 300 سے700 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔

    شہری گیس نہ ہونے پر ایل پی جی منہ مانگے دام میں خریدنے پر مجبور ہیں، تندور پر روٹی کی قیمت میں بھی 10 سے25 روپےتک کا اضافہ ہوگیا ہے اور شہر کےمختلف علاقوں میں روٹی 35 سے50 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔

    دوسری جانب سیلاب نے بستیوں کی بستیاں اجاڑ دیں، 24 گھنٹے کے دوران مزید 45 لوگ موت کی وادی میں چلے گئے، ملک بھر میں اب تک سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 982 ہوگئی، اب تک 6 لاکھ سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا، 8 لاکھ سے زائد مویشی ہلاک ہوچکے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق مون سون بارشوں اور سیلاب ریلوں کے باعث ملک بھر میں جاں بحق افراد کی تعداد 982 ہوگئی جبکہ اب تک 6 لاکھ سے زائد مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ 8 لاکھ سے زائد مویشی سے سیلابی پانی کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور جنوبی پنجاب میں انسانی المیہ جنم لینے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ دوسری جانب سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کیلئے فوج بھیجنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    ادھر تنگی اور شبقدر کو ملانے والا منڈا ہیڈ ورکس سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔ چارسدہ ،شبقدر،نوشہرہ اور دیگر علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں، دریائے کابل میں اونچے درجے کا سیلاب ،پانی نوشہرہ شہرمیں داخل ہونے سے پولیس لائن، ہسپتال اور گھر بھی ڈوب گئے جس کے بعد ایمر جنسی نافذ کردی گئی۔ پانی سڑک پر آنے سے سردریاب اور چارسدہ کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، کشتی پل کے مقام پربھی سیلابی ریلے سے کچے مکانات زمین بوس ہونے کے بعد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔

    دوسری جانب دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ کے بعد چشمہ بیراج میں طغیانی آگئی جس سے 4لاکھ کیوسک سے زائد پانی کی آمد کے ساتھ تمام سپل ویز کھول دیئے گئے۔

    کندیاں کے قریب درمیانے درجے کا سیلاب آیا ہے، دریا میں پانی کا لیول 638 فٹ ہو گیا،12گھنٹے کے دوران 6لاکھ کیوسک پانی کی آمد متوقع ہے، قریبی علاقوں میں فلڈ وارننگ جاری کردی گئی ہے۔

  • ارکان اسمبلی اپنی توانائیاں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے مختص کردیں،نواز شریف

    ارکان اسمبلی اپنی توانائیاں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے مختص کردیں،نواز شریف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پارٹی کے ارکان صوبائی اسمبلی اور ارکان قومی اسمبلی کو سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کے لیے اہم ہدایات جاری کردیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں نواز شریف نے کہا کہ ن لیگ کے ایم این ایز، ایم پی ایز، ورکرز اپنی توانائیاں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے مختص کردیں۔نواز شریف نے پاکستان اور بیرون ملک مقیم پارٹی اراکین اور کارکنوں کو بھی اہم ہدایت کی ہے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ سیاست انتظار کر سکتی ہے، اس وقت ہماری اولین ترجیح مشکلات میں گھرے ہمارے بہن بھائی ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ متاثرین سیلاب کی تکالیف کے ازالے کیلئے ہمیں ہر ممکن اقدامات کرنے ہوں گے۔

    مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے استفسار کیا ہے کہ میرے حق میں اور کتنی گواہیاں درکار ہیں؟ لندن میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہر بات پر سوموٹو لینے والوں کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے انکشافات نظر نہیں آتے۔انہوں نے کہا کہ میں پوچھتا ہوں کہ میرے حق میں جج ارشد ملک، جسٹس شوکت صدیقی کے بعد اور کتنی گواہیاں درکار ہیں؟

    سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ میرا اور مریم نواز کا عدالتی فیصلوں کے ذریعے سیاسی قتل کیا گیا، میرے ساتھ ناانصافی ہوئی۔اُن کا کہنا تھا کہ پوچھتا ہوں مجھے اور مریم نواز کو کون انصاف فراہم کرے گا؟ ہے کوئی میرے اور مریم نواز کے کیس پر سوموٹو لینے والا؟

    نواز شریف کا مذید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مشکل ترین حالات میں بہترین کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ حالات کے ذمہ دار سابق وزیراعظم عمران خان اور اُن کی سابقہ حکومت ہے۔