Baaghi TV

Author: +9251

  • شہباز گل کے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی  بغاوت کا مقدمہ درج

    شہباز گل کے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی بغاوت کا مقدمہ درج

    خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما شہباز گل پر ملک کے اداروں کے خلاف بیان پر بغاوت کا ایک اور مقدمہ تھانہ چھاؤنی ڈی آئی خان میں درج کر لیا گیا ہے۔

    25 اگست کو تھانہ چھاؤنی میں درج کیا گیا یہ مقدمہ ڈی آئی خان کے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر منیر احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ صوبائی حکومت نے ایک مراسلے کے ذریعے ڈی آئی خان کے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر منیر احمد کو کریمینل پروسیجر ایکٹ کی دفعہ 196 کے تحت بغاوت سے متعلق مقدمات درج کرنے کا اختیار دیا تھا۔

    مقدمے میں مدعی منیر احمد نے موقف اختیار کیا کہ شہباز گل نے آٹھ اگست کو نجی نیوز چینل اے آر وائی نیوز کے ایک پروگرام میں اداروں کے خلاف بیان دے کر بغاوت پر اکسایا تھا۔ مقدمے میں صوبائی حکومت کے اس مراسلے کا حوالہ بھی دیا گیا، جس کے تحت مدعی کو بغاوت کے مقدمات درج کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

    اس مقدمے میں مدعی نے موقف اختیار کیا ہے: ’شہباز گل نے کہا تھا کہ اگر فوج نے موجودہ حکومت کے خلاف بغاوت نہیں کی تو پاکستان انڈیا اور امریکہ کی کالونی بن جائے گا۔ اس بیان سے انہوں نے فوج میں بغاوت کی کوشش کی ہے۔‘ شہباز گل کے خلاف پہلے ہی اسلام آباد اور کراچی میں بغاوت کے مقدمات درج ہیں۔ اسلام آباد میں درج مقدمہ اس وقت زیر سماعت ہے۔

    دفعات کے مطابق: کوئی بھی عدالت پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 108A، 295A، 294A، 153A اور 505 کے تحت تب تک کارروائی نہ کرے، جب تک ان مقدمات کی درخواست صوبائی یا وفاقی حکومت کی طرف سے اختیار کنندہ افسر کی طرف سے دائر نہ کی گئی ہو۔‘
    پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی یہ دفعات ریاست کے خلاف جرائم سے متعلق ہیں۔ پی پی سی کی دفعہ A108 کسی کو قتل پر اکسانے کے حوالے سے ہے اور اگر کسی شخص نے کسی دوسرے شخص کو قتل کرنے پر اکسایا تو اس کے خلاف مقدمہ درج ہوگا۔

    اسی طرح پی پی سی کی دفعہ 153A زبانی، تحریری یا کسی بھی دوسرے طریقے سے کسی مذہبی یا دوسرے گروپ کے جذبات کو ابھارنے کے حوالے سے ہے، جو ریاست کے خلاف جرم قرار دیا جاتا ہے۔ پی پی سی کی دفعہ 505 مسلح افواج کے خلاف کچھ بولنے، لکھنے یا شائع کرنے کے حوالے سے ہے۔

  • سیلاب کے نقصانات سے بچنے کا واحد حل ڈیمز کی تعمیر ہے. عمران خان

    سیلاب کے نقصانات سے بچنے کا واحد حل ڈیمز کی تعمیر ہے. عمران خان

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ سیلاب کے نقصات سے بچنے کا واحد حل ڈیموں کی تعمیر ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں سیلاب متاثرین کیمپ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سیلاب سے ملک بھر میں جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں جبکہ بارشوں اور سیلاب سے سندھ اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
    انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں سیلاب سے ہونے والی نقصانات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے جبکہ 2010 کے سیلاب میں بھی اتنے نقصانات نہیں ہوئے جتنے حالیہ سیلاب میں ہوئے ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ سیلاب کے نقصانات سے بچنے کا واحد حل چھوٹے اور بڑے ڈیموں کی تعمیر ہے۔ ٹانک زام ڈیم کی فیزیبلٹی کی گئی ہے اور ڈیم تعمیر کر کے ہم سیلاب کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیم تعمیر کر کے ہم بارشوں کے پانی کو قیمتی اثاثہ بنا سکتے ہیں۔

    جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان نے کہا ہے کہ سیلابی کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور خیبر پختون خوا میں وفاقی ادارے کچھ بھی نہیں کر رہے۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا کہ حالیہ سیلابی صورتحال میں انتظامیہ اور ریسکیو سمیت تمام ادارے ہائی الرٹ ہیں، سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، ڈی آئی خان میں اضافی ریسکیو عملہ تعینات کردیا گیا ہے۔

    محمود خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے امدادی کاموں کے لیے ایک ارب روپے جاری کیے ہیں اور مزید دو ارب جاری کیے جارہے ہیں، صوبائی حکومت سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، سیلاب میں پھنسے لوگوں کو خوراک اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی جارہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ قومی سانحہ ہے، تمام اداروں کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، بدقسمتی سے صوبے میں وفاقی حکومت کے ادارے کچھ بھی نہیں کر رہے، ضرورت پڑنے پر صوبائی حکومت اپنا ترقیاتی بجٹ بھی سیلاب متاثرین کی بحالی پر خرچ کرے گی۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب زدگان کے معاوضوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، تمام سیلاب زدگان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، متاثرہ علاقوں میں جونہی پانی نکلے گا بحالی کے کاموں کا آغاز کیا جائے گا، متاثرین سیلاب ہمارے اپنے لوگ اور ہمارے بہن بھائی ہیں انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

  • انمول بلوچ شادی کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟

    انمول بلوچ شادی کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟

    چھوٹی سکرین پر اپنے فن کے جادو بکھیرنے والی اداکارہ انمول بلوچ کاحال ہی میں ایک انٹرویو ہوا ہے اس میں ان سے شادی کرنے کے حوالے سے ایک سوال ہوا. انہوں نے اسکے جواب میں کہا کہ شادی جب وقت ہو گا کر لوں گی لیکن شادی کے لئے میرے نزدیک کوئی پابندی نہیں ہے ، یہ کل بھی ہو سکتی ہے پرسوں بھی دس سال بعد بھی. فی الحال میرا شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے میری ساری توجہ اپنے کام پر ہے انمول نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میرے مداح مجھے ہر کردار میں پسند کرتے ہیں. یاد رہے کہ انمول بلوچ ایک کامیاب ماڈل ہیں انہوں نے ماڈلنگ سے ہی اپنے کیرئیر کی شروعات کی. انمول کا ڈرامہ سیریل قربتیں میں اریبہ کا کردار شائقین نے بہت پسند کیا تھا اس میں ان کو ایک ایسی لڑکی دکھایا گیا تھا جو

    پیسے اور پیسے والوں سے بہت متاثر ہوتی ہے اور اپنی ہی دوست کے منگیتر سے شادی کر لیتی ہیں. انہوں نے ڈرامہ سیریل "ایک لڑکی عام سی” میں بھی جو کردار کیا اسکو بہت پسند کیاگیا. انمول بلوچ انسٹاگرام پر اکثر اپنی تصاویر شئیر کرتی رہتی ہیں . اداکارہ اپنی فٹنس پر بہت توجہ دیتی ہیں.انمول منفی اور مثبت ہر قسم کے کردار بخوبی نبھانا جانتی ہیں. انمول مقابلے کی دوڑ سے خود کو دور رکھتی ہیں اور اپنی مرضی کے کردار کرتی ہیں.

  • وزیرِاعظم کی غیرملکی سفراء سے ملاقات، سیلاب متاثرین کی مدد کی درخواست

    وزیرِاعظم کی غیرملکی سفراء سے ملاقات، سیلاب متاثرین کی مدد کی درخواست

    ملک میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 900 ہوگئی، 1300 افراد زخمی اور 3 کروڑ 30 لاکھ متاثر ہیں۔

    وزیرِ اعظم آفس کےمطابق شہباز شریف کی اسلام آباد میں مختلف ممالک کے سفراء سے ملکی سیلابی صورتحال پر ہنگامی ملاقات ہوئی۔

    ملاقات میں آسٹریلیاء، چین، جاپان، کویت، جنوبی کوریا، ترکی متحدہ عرب امارات ، امریکہ ، جرمنی، بحرین، یورپی یونین، فرانس، اومان، قطر، برطانیہ اور سعودیہ عرب کے سفراء شریک ہوئے۔
    وزارتِ اقتصادی امور اور وزارتِ خزانہ کی طرف سے حکومت کے فوری ریسکیو اور ریلیف اقدامات اور گزشتہ روز ڈونرز کانفرنس کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی. سیلاب زدہ علاقوں اور متاثرین کی وڈیو بھی دکھائی گئی.


    وزیرِ اعظم نے غیر ملکی سفرا کو بتایا کہ پاکستان میں گزشتہ تیس سال کی ریکارڈ بارش ہوئی، 13 جون کے بعد سے اب تک سیلابی ریلوں میں 900 سے زائد لوگ لقمہ اجل بنے، 1300 سے زائد افراد زخمی اور تقریباً آٹھ لاکھ مویشی سیلاب کی نذر ہوئے۔
    شہباز شریف نے کہا کہ گھروں، املاک اور انفراسٹرکچر کو ہونے والے نقصان کا ابتدائی تخمینہ اربوں روپے لگایا گیا ہے، مجموعی طور پر اب تک سیلاب سے متاثرین کی تعداد 3 کروڑ 30 لاکھ ہے۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی میں متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر ہے حالانکہ پاکستان کا کاربن گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے. حکومت سیلاب زدگان کے فوری ریسکیو کیلئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے. متاثرین کو فوری طور پر فلڈ ریلیف کیش پروگرام کے تحت 25 ہزار فی خاندان فراہم کیا جا رہا ہے. کھانے پینے کی اشیاء اور خیموں کی فراہمی کی حتہ المکان کوششیں کی جارہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اس قدرتی آفت میں دنیا بھر کے ممالک کو سیلاب زدہ لوگوں کی مدد کیلئے آگے بڑھنا چاہیے. متاثرین کو خیمے، مچھر دانیاں، کھانے پینے کی اشیاء، ادویات کی فراہمی کیلئے دوست ممالک اور عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست ہے.

    اجلاس کے شرکاء نے حکوت کی سیلاب متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات کی تعریف کی اور مختلف ممالک کے سفراء نے وزیرِ اعظم کو سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں شروع کرنے کے بارے آگاہ کیا.

  • 9999 پر ایس ایم ایس کے ذریعے سیلاب زدگان کو فنڈ دینے کی سہولت متعارف کردی گئی

    9999 پر ایس ایم ایس کے ذریعے سیلاب زدگان کو فنڈ دینے کی سہولت متعارف کردی گئی

    پی ٹی اے نے موبائل فون ایس ایم ایس کے ذریعے سیلاب زدگان کے لیے وزیراعظم کے فنڈ میں رقم جمع کرانے کی سہولت متعارف کرادی۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق سیلاب متاثرین کے لیے عطیات جمع کرنے کی غرض سے وزیراعظم فلڈ ریلیف 2022ء کا شارٹ کوڈ 9999 جاری کردیا گیا۔ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اس کا باضابطہ نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

    نوٹی فکیشن کے مطابق شہری موبائل فون سے ’’فنڈ‘‘ لکھ کر 9999 پر ایس ایم ایس بھیج کر 10 روپے عطیہ کرسکتے ہیں، تمام آپریٹرز جمع ہونے والے عطیات سے این ڈی ایم اے کو مطلع کریں گے۔ پی ٹی اے نے یہ نوٹی فکیشن وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر جاری کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تباہ کن سیلاب کی صورتحال میں اندرون و بیرون ملک پاکستانیوں، مخیر حضرات اور اداروں سے عطیات دینے کی اپیل کی تھی۔ وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کے لیے ’’وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ 2022ء ‘‘قائم کیا تھا۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق عوام ’’وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ’ اکاؤنٹ نمبر G-12164 میں عطیات جمع کراسکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز نیشنل بینک آف پاکستان نے وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ 2022 کےلئے ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ افراد کےلئے عطیات کی وصولی کے لئے اکاﺅنٹ کھول دیا تھا.

    نیشنل بینک آف پاکستان نے سیلاب متاثرین کے ریلیف اور بحالی کےلئے فنڈز وصول کرنے کا اعلان کیا تھا. این بی پی حکومت پاکستان کے قائم کردہ فنڈ کے تحت فنڈز جمع کرے گا. ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کو ریلیف کی فراہمی اور ان کی بحالی کےلئے ایک فنڈ قائم کیا ہے جس کے تحت ”وزیر اعظم فلڈ ریلیف فنڈ 2022‘‘ کے ٹائٹل سے ایک اکاﺅنٹ کھول دیا گیا ہے۔

    نیشنل بینک آف پاکستان کی تمام شاخیں پاکستان بھر سے نقد، ڈراپ چیک اور متبادل ڈیلیوری چینلز ( اے ڈی سیز) کے ذریعے عطیات/فنڈز وصول کریں گی۔ ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بھی پاکستان کے اندر سے عطیات وصول کیے جاسکتے ہیں جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی انٹرنیٹ پیمنٹ گیٹ وے کے ذریعے اپنے فنڈز بھیج سکتے ہیں۔

  • کوہستان: 5 گھنٹے 5 بھائی سیلابی ریلے میں پھنسنے کے بعد بہہ گئے مگر حکومت نے ہیلی نہ بھیجا

    کوہستان: 5 گھنٹے 5 بھائی سیلابی ریلے میں پھنسنے کے بعد بہہ گئے مگر حکومت نے ہیلی نہ بھیجا

    کوہستان: 5 گھنٹے 5 بھائی سیلابی ریلے میں پھسنے کے بعد بہہ گئے مگر حکومت نے ہیلی نہ بھیجا.

    کوہستان میں پانچ بھائی سیلابی ریلے کے بیچوں بیچ پورے 5 گھنٹے زندگی اورموت کے درمیان جھولتے رہے جنکی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے باوجود صوبائی حکومت نے ایک ہیلی کاپٹر پشاور سے نہ بھیج سکی، جسے آنے میں فقط ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ ہی لگتا۔


    سوشل میڈیا صارفین نے کہا حکومتی مدد کے انتظار میں پانچ نوجوان بھائی سیلابی ریلے میں بہہ گئے.

    ایک صارف نے کہا کہ: اگر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا ہیلی کاپٹر عمران نیازی کے لیے استعمال ہو سکتا ہے تو قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے کیوں نہیں ہوا؟ انہوں نے مزید کہا کہ: پچھلے 9 سال سے زائد عرصہ سے لگا تار صوبے پر حکمرانی کرنے والی جماعت تحریک انصاف نیا خیبرپختونخوا نہیں بنا سکی اور ناہی نیا پاکستان بنا پائی ہے،

    ایک اور صارف نے کہا کہ: کے پی کے عوام کا پیسہ نیازی اپنی سوشل میڈیا ٹیم پہ لگا رہا ہے تاکہ اپنے سیاسی حریفوں کو گالیاں پڑوا سکے اور حقیقت میں تو لیڈر بن نہ سکا سوشل میڈیا پہ بن جائے۔ انہوں نے مزید کہا: مجھے حیرت ہو رہی ہے پختونوں نے اس میں ایسی کیا خوبی دیکھی ہے کہ جو 8 سال سے کے پی میں ان کی جماعت حکومت کر رہی ہے.


    ولید نامی صارف نے ہیلی کاپٹر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: یہ وہ بدقسمت ہیلی کاپٹر ہے جو کے پی کے عوام کو ریسکیو کرنے کیلئے دستیاب نہیں لیکن عمران خان کے لئے رکشہ کی طرح چلتا ہے۔

  • گزشتہ 3 سال کے دوران متعدد افغان باشندوں کے شناختی کارڈ بننے کا انکشاف

    گزشتہ 3 سال کے دوران متعدد افغان باشندوں کے شناختی کارڈ بننے کا انکشاف

    پاکستان کی وزارت داخلہ نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران متعدد افغان باشندوں نے جعلی دستاویزات جمع کراتے ہوئے نادرا سے شناختی کارڈ بنوا لیے تھے۔ نشاندہی ہونے کے بعد 181 افغان شہریوں کے شناختی منسوخ کر دیے گئے۔

    وزارت داخلہ کے مطابق: شناختی کارڈ بنانے والے آٹھ ہزار 152 افراد کی شہریت کی تصدیق کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ سینیٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئی وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق نادرا نے گزشتہ تین سال میں اپنے ملازمین کے خلاف بھی کارروائی کی اور افغان شہریوں کی شناختی کارڈ کے اجراء میں معاونت پر 43 ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کیا۔

    رپورٹ کے مطابق ’نادرا کا کام پاکستانی شہریوں کو شناختی کارڈ جاری کرنا ہے اور ملک میں بڑی تعداد میں غیر ملکی افراد کے قیام کی وجہ سے نادرا کو بہت محتاط ہو کر کام کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود نادرا کے ملازمین کی ملی بھگت سے کچھ افغان شہری جعلی شناختی کارڈ بنوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ تین سال میں ایسے ملازمین خلاف 279 انکوائریاں شروع کی گئی ہیں۔‘
    رپورٹ کے مطابق نظام میں موجود ان خامیوں کو ختم کرنے کے لیے نادرا نے کچھ اقدامات کیے ہیں جس کے بعد غیر ملکیوں کے لیے شناختی کارڈ بنوانے کا راستہ بند ہو جائے گا۔

    وزارت داخلہ کے مطابق شناختی کارڈ بنانے والے آٹھ ہزار 152 افراد کی شہریت کی تصدیق کی تحقیقات جاری ہیں۔

    اب کسی بھی مجاز افسر کو اس کے تصدیق کیے گئے دستاویزات کی مزید تصدیق کے لیے ایس ایم ایس بھیجا جائے گا۔ جس کی تصدیق کے بعد ہی کاغذات تسلیم کیے جائیں گے۔ پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے کی صورت میں خاندان کے سربراہ کو ایم ایم ایس بھیجا جائے گا۔ اگر متعلقہ فرد اس کے خاندان سے تعلق نہیں رکھتا ہوگا تو وہ نادرا کو آگاہ کر سکیں گے۔ علاقائی زبان و لب و لہجہ بھی چیک کیا جا سکے گا۔ کسی بھی شناختی کارڈ کے حصول کے لیے متعلقہ یونین کونسل سے پیدائش کے سرٹیفکیٹ کا حصول یقینی بنایا گیا ہے اور یونین کونسل کے نظام کو نادرا کے ریکارڈ سے لنک منسلک کر دیا گیا ہے جس سے معلوم ہو سکے گا کہ بچے کے والدین کا تعلق متعلقہ یونین کونسل سے ہے یا نہیں۔

    نادرا نے اپنے نظام میں نئے ایس او پیز بھی متعارف کرائے ہیں جس کے تحت روزانہ کی بنیاد پر نئے شناختی کارڈ کے لیے آنے والی درخواستوں کا فرداً فرداً جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سے نادرا کو جعلی اور مشکوک درخواستوں کو جانچنے میں مدد مل رہی ہے۔
    صرف یہی نہیں بلکہ کسی بھی جعلی اور مشکوک درخواست کی اطلاع فوری طور پر انٹیلی جنس بیورو اور آئی ایس آئی کو دی جاتی ہے۔ اگر یہ ایجنسیاں اس معاملے میں کسی نادرا ملازم کی نشاندہی کریں تو ان کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی جا رہی ہے۔
    نادرا نے ’پراسرار صارف‘ کی اصطلاح بھی متعارف کروائی ہے جس کے تحت خفیہ طریقے سے کسی بھی مشکوک شخص کے بارے میں معلومات اکٹھی جاتی ہیں اور کلیئرنس نہ ہونے کی صورت میں کیس متعلقہ ایجنسیوں کو بھیج دیا جاتا ہے۔

  • معروف وکیل کے گھر بغیر سرچ وارنٹ چھاپہ لاہور بار کی مزمت

    معروف وکیل کے گھر بغیر سرچ وارنٹ چھاپہ لاہور بار کی مزمت

    اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے محمد رمضان چوہدری کے اہل خانہ کے گھر غیر قانونی چھاپے اور ہراساں کرنے کی شدید مذمت کی ہے .

    ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ: لاہور پولیس کا یہ طرز عمل ناقابل قبول ہے۔ لہذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

    اطلاعات کے مطابق: مورخہ 26-08-2022 بروز جمعہ صبح تقریباً 4 بجے، تقریباً 12-15 پولیس کی گاڑیاں جن میں 40-50 پولیس اہلکار سول اور وردی میں تھے اور ان کے ساتھ ایک موٹر سائیکل سوار ان کی رہنمائی کرتے ہوئے سیکٹر ای ڈی ایچ اے فیز 1 لاہور میں رہائش گاہ پہنچنے

    پولیس فورس نے پہلے گھر کو گھیرے میں لیا اور پھر 15-16 افراد غیر قانونی اور غیر آئینی طریقے سے اور بغیر کسی سرچ وارنٹ کے اسلحہ سے لیس گھر کے احاطے میں داخل ہوئے اور نوکروں کو ڈرایا دھمکایا اور کہا کہ وہ گھر کے اندرونی دروازے کھول دیں ورنہ دروازے توڑ دیں گے۔ گھر کے افراد کو گرفتار کرنے کے لیے آئیں ہیں.


    انہوں نے گھر میں موجود اہل خانہ اور رشتہ داروں کے بارے میں بھی دریافت کیا۔ مذکورہ افراد نے گھر میں گھس کر نوکروں اور اہل خانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں ہیں. جبکہ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال بھی کیا ہے۔ مذکورہ افراد نے گھر کے نوکروں کو 15 منٹ تک یرغمال بنایا اور ان سے اہل خانہ کے بارے میں سوالات کرتے رہے۔

    علاوہ ازیں گھر کے احاطے کی تصویریں بھی لیں گئی اور گیراج کے اندر کھڑی کاروں کی تصاویر بھی بنائیں گئی. مزید نوکروں سے د استفسار پر جب انہیں معلوم ہوا کہ فیملی اسلام آباد میں ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقدمات کے سلسلے میں ہے تو بعدازاں چلے گئے.

  • انور مقصود کو معافی مانگنی پڑ گئی لیکن کیوں؟

    انور مقصود کو معافی مانگنی پڑ گئی لیکن کیوں؟

    معروف لکھاری، دانشور اور طنز و مزاح نگار انور مقصود سے ہیں ان کے پرستار کچھ ناراض. پرستاروں کی ناراضگی کو جائز جانتے ہوئے انور مقصود نے مانگ لی ہے ان سے معافی. رپورٹس کے مطابق انور مقصود نے اپنے سیاسی مزاحیہ تھیٹر ڈرامہ ساڑھے 14 اگست میں آئٹم سانگ شامل کیا جس پر شائقین بےحد ناراض ہوئے .انہوں نے اعتراف کیا کہ تھیٹر ڈرامہ ساڑھے 14 اگست پاک و ہند کی تاریخ ، تہذیب اور ثقافت پر مبنی ہے، چونکہ جدید تقاضوں سے بھی اس ڈرامے کو ہم آہنگ کرنا تھا اسلئے آج کی تہذیب و ثقافت دکھانا بھی ضروری تھا اس لئے آئٹم سانگ شامل کر لیا لیکن میں ان سب سے معافی مانگتا ہوں کہ جن کو یہ تجربہ اچھا نہیں لگا. انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ساڑھے 14 اگست کے لئے یہ

    آخری ڈرامہ ہے اسکے بعد اب میں اس سیریز کا کوئی بھی ڈرامہ نہیں لکھوں گا.اب کوئی نئی کوشش کروں گا. یاد رہے کہ انور مقصود آج کل کے ڈراموں کے حوالے کہتے ہیں کہ آج کا ڈرامہ جس طرح کا بن رہا ہے اسے اگر لوگ پسند کررہے ہیں تو اچھی بات ہے لیکن میں کم از کم ایسے ڈرامے نہیں لکھ سکتا نہ ہی کسی کی ڈکٹیشن پر چل سکتا ہوں اس لئے میں نے خود بخود ہی کنارہ کشی اختیار کر لی ہے.

  • جنت مرزا کے منگیتر کو جلدی ہے شادی کی لیکن ٹک ٹاکر کیا چاہتی ہیں؟

    جنت مرزا کے منگیتر کو جلدی ہے شادی کی لیکن ٹک ٹاکر کیا چاہتی ہیں؟

    ٹک ٹاک سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی ٹک ٹاکر جنت مرزا کہتی ہیں کہ میرے منگیتر کی خواہش ہے کہ ہم دونوں جلد شادی کے بندھن میں بندھ جائیں اور یہ خواہش صرف ان کی نہیں‌ ہے بلکہ میری بھی ہے میں بھی چاہتی ہوں کہ میں بہت جلد شادی کرکے اپنا گھر بسا لوں. جنت مرزا نے کہا کہ میرا رشتہ پکا ہو چکا ہے اور ہم بہت جلد شادی کا ارادہ رکھتے ہیں. جنت مرزا نے کہا کہ میں نے پنجابی فلم میں کام تو کر لیا ہے لیکن اب میری خواہش ہے کہ میں اردو فلموں اور ڈراموں میں کام کروں. جنت نے کہا کہ مجھے کام کی آفرز کافی آتی رہتی ہیں لیکن میں سوچ سمجھ کر کسی بھی پراجیکٹ کے لئے ہاں کروں گی. ایک سوال کے جواب میں جنت مرزا نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ میں مغرور ہوں میں بالکل

    بھی مغرور نہیں‌ ہوں میں اپنے مداحوں کے ساتھ بہت عاجزی سے ملتی ہوں. یاد رہے کہ جنت مرزا ٹک ٹاک پر پاکستان میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی لڑکی ہیں. انہوں نے سید نور کی فلم تیرے باجرے دی راکھی میں کام بھی کیا. ان پرستار ان کو اداکاری کے مزید پراجیکٹس میں دیکھنا چاہتے ہیں. جنت اکثر سوشل میڈیا پر اپنی وڈیوز شئیر کرتی رہتی ہیں جسے ان کے مداح بہت پسند کرتے ہیں.