Baaghi TV

Author: +9251

  • سوشل میڈیا سٹارز کو فلموں میں لانچ کیا جا رہا ہے فلمسٹار میرا برس پڑیں فلموں پر

    سوشل میڈیا سٹارز کو فلموں میں لانچ کیا جا رہا ہے فلمسٹار میرا برس پڑیں فلموں پر

    پاکستانی اداکارہ میرا جو کافی عرصے سے چھوٹی اور بڑی سکرین سے غائب ہیں . انہیں آخری بار فلم باجی میں دیکھا گیا تھا. میرا اکثر یہ شکایت کرتی نظر آتی ہیں کہ ان کے خلاف مسلسل سازش ہورہی ہے تاکہ ان کو کام نہ مل سکے. میرا کہتی ہیں کہ مجھے شوبز سے آئوٹ کرنے میں بہت ساری ہیروئینز کا نام ہے وہ ہیروئنز کون ہے اس بارے میں میرا نے آج تک بات نہیں کی. ھال ہی میں میرا کا ایک انٹرویو ہوا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اسٹارز کو اٹھا کر فلموں میں لایا جا رہا ہے بھلا ان کو فلموں میں کام کرنے کا کیا اندازہ ہو سکتاہے اور کیسے وہ بڑی سکرین کی ڈیمانڈ کے مطابق کام کر سکتے ہیں. اسی طرح سے ڈراموں میں آنے والی لڑکیوں اور لڑکوں کو فلموں میں کاسٹ کیا جا رہا ہے یہ چھوٹی سکرین کے لوگ ہیں ان کی فلموں کے لئے تربیت ہی نہیں ہے یہ کیا

    کام کریں گے. انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سینما گھروں سے مایوس لوٹ رہے ہیں جو فلمیں بن رہی ہیں وہ ڈرامہ لگتی ہیں. فلم بنانے والوں کو کیوں سمجھ نہیں آرہی کہ بڑی اور چھوٹی سکرین میں فرق ہے وہ اس فرق کو سمجھیں اور ان کو کام دیں جو بڑی سکرین کے کام کو جانتے ہیں ورنہ تو فلمیں چاہے جتنی بھی بنتی رہیں فلمی صنعت کی بحالی میں مددگار نہیں ہو سکیں گی.

  • پدمنی کولہا پوری نے کیا فلمساز ساون کمار کو یاد

    پدمنی کولہا پوری نے کیا فلمساز ساون کمار کو یاد

    مشہور فلم ساز ساون کمار 25 اگست کو ممبئی میں 86 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ہندی فلم انڈسٹری کا حصہ تھے۔ انہیں کچھ دن پہلے پھیپھڑوں کے مسائل کی وجہ سے ممبئی کے کوکیلا بین دھیرو بھائی امبانی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کے انتقال پر فلم انڈسٹری سوگوار ہیں. ان کے انتقال پر جہاں پورا بالی وڈ ڈوبا ہوا ہے سوگ میں وہیں پدمنی کولہا پوری بھی ہیں اداس انہوں نے ان کو کیا یاد اور اپنے ساتھ ان کی ایک تصویرسوشل میڈیا پر شئیر کی اورلکھا ” "زندگی غم کا ساگر بھی ہے… ہنس کے اس پار جانا پڑے گا… ساون کمار آج زندگی نما ساگر کو پار کرکے اس پار چلے گئے ہیں… اوم شانتی” . دوسری جانب راکیش روشن نے بھی ساون کمار کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ایک دلکش نوٹ لکھا۔ نوٹ میں لکھا "ساون جی آپ ہمیشہ یاد آئو گے دعا ہے آپ کی روح کو سکون ملے”۔

    سلمان خان نے بھی ساون کے ساتھ ایک تصویر سوشل میڈیا پر شئیر کرکے لکھا ” آپ سکون سے رہیں میرے پیارے ساون جی۔ ہمیشہ آپ سے پیار کیا اور احترام کیا۔یاد رہے کہ ساون کمار نے فلمی صنعت میں اپنے کیریئر کا آغاز بطور پروڈیوسر 1967 کی فلم نونہال سے کیا جس میں سنجیو کمار، بلراج ساہنی، اور اندرانی مکھرجی نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ فلم کو ناظرین اور ناقدین کی جانب سے بھی بے پناہ داد ملی۔ تاہم ساون کمار نے گزشتہ 16 سالوں میں کوئی فلم ڈائریکٹ نہیں کی تھی”

  • سائوتھ بمقابلہ بالی وڈ بحث پر انوپم کھیربھی بول پڑے

    سائوتھ بمقابلہ بالی وڈ بحث پر انوپم کھیربھی بول پڑے

    انوپم کھیر کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، تجربہ کار اداکار نے اپنے مداحوں کو اپنی فلموں کے انتخاب کے ساتھ اپنی پرفارمنس کو پسند کرنے کی متعدد وجوہات دیں ۔ کھیر نے بے بی، اسپیشل 26، اے وینڈے، ویواہ، اور دیگر جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔کیرئیر کے اوائل میں کچھ فلموں میں نیگیٹو کرادر بھی کئے ، کامیڈی بھی کئے اور سنجیدہ کردار بھی کئے ان کو ہر روپ میں ان کے پرستاروں نے خوب سراہا. انوپم کھیر سوشل میڈیا پر فالورز کی ایک بڑی تعداد رکھتے ہیں اور سوشل میڈیا پر بہت زیادہ متحرک بھی رہتے ہیں.ان کی اس سال ریلیز ہوئی فلم دا کشمیر فائلز نے کامیابی کے ریکارڈز توڑے ہیں. حال ہی میں انہوں نے ایک انٹرویو دیا ہے اس میں وہ سائوتھ بمقابلہ بالی ووڈ فلموں کی جاری بحث پر بولے

    انہوں نے کہا کہ میرے لئے سائوتھ اور بالی وڈ ایک جیسا ہی ہے میں بالکل بھی اس میں فرق نہیں کرتا نہ ہی اس وقت یہ بات کہہ کر رہا ہوں لیکن میں جو سوچتا ہوں اسے مجھے کہہ دینا چاہیے، مجھے لگتا ہے کہ ” سائوتھ والے کہانیاں سنا رہے ہیں، یہاں ہم (بالی وڈ)ستارے بیچ رہے ہیں۔”
    انہوں نے کہا کہ ایک اچھی فلم اجتماعی کوشش سے بنتی ہے میں نے تیلگو فلموں میں کام کرکے بہت کچھ سیکھا ہے، انہوں نے بتایا کہ میں بہت جلد ملیالم فلم کرنے جا رہا ہوں.

  • انوشکا شرما کی فلموں میں واپسی، چکدا ایکسپریس کے لئے انگلینڈ میں تربیت

    انوشکا شرما کی فلموں میں واپسی، چکدا ایکسپریس کے لئے انگلینڈ میں تربیت

    انوشکا شرما بالی ووڈ کی سب سے زیادہ ورسٹائل اداکاراؤں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اداکاری کا آغاز 2008 کی کامیاب رومانوی فلم، رب نے بنا دی جوڑی میں شاہ رخ خان کے ساتھ کیا اور 2010 کی فلم، بینڈ باجا بارات سے شہرت حاصل کی۔ انہوں نے پی کے، سنجو، سوئی دھاگا، سنجو، دل دھڑکنے دو، این ایچ 10، اور فلوری جیسی مشہور بھارتی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ طویل عرصے سے سلور اسکرین سے دور رہنے والی اداکارہ اب ‘چکدا ایکسپریس’ کے ساتھ اسکرین پر واپسی کر رہی ہیں۔اس کے لئے انہوں نے تیاری بھی شروع کر دی ہے اور وہ انگلینڈ میں اس فلم میں اپنے کردار کے حوالے سے تربیت بھی لے رہی ہیں. اس ھوالے سے وہ کافی پرجوش بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ فلموں میں واپسی کے

    لئے بہت خوش ہیں. یاد رہے کہ انوشکا آخری بار 2018 میں ریلیز ہوئی آنند ایل رائے کی فلم زیرو میں دیکھی گئیں تھیں.انوشکا آج کل انگلینڈ میں ہیں جہاں وہ اس فلم کی شوٹنگ کریں گی یہ فلم او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز ہوگی.

    انوشکا شرما نے یش راج کے بینر تلے پانچ سال مسلسل ایک معاہدے کے تحت کام کیا ان کا شمار ان اداکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے شاہ رخ خان ، عامر خان اور سلمان خان کے ساتھ کام کیا. شائقین ان کی خوبصورت اداکاری کو بے حد پسند کرتے ہیں.

  • آج جماعت اسلامی کا 81  واں یوم تاسیس منایا جارہا ہے

    آج جماعت اسلامی کا 81 واں یوم تاسیس منایا جارہا ہے

    آج جماعت اسلامی کا81 واں یوم تاسیس اندرون اور بیرون ملک منایا جارہاہے۔

    سیکریٹری اطلاعات قیصر شریف یوم تاسیس کے سلسلے میں ملک بھر میں تقریبات ہو رہی ہیں، مرکزی تقریب شام ساڑھے بجے منصورہ میں ہوگی.

    قیصر شریف نے کہا کہ: مولانا سید ابو اعلی مودودی جماعت اسلامی کے بانی امیر تھے جماعت اسلامی نے رواں صدی کو سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے منسوب کیا۔ انہوں نے مزید کہا: جماعت اسلامی پرامن جمہوری سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور جماعت اسلامی پاکستان کو عظیم اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لیے جدوجہد کررہی ہے.

    جماعت اسلامی کی تاریخ

    جماعت اسلامی منصہ ظہور پر تو 26اگست 1941میں آئی مگر یہ اس تحریک کا آغاز نہیں تھا، جماعت اسلامی اسی تحریک کا تسلسل ہے جو مکہ کے غاروں، طائف کے بازاروں، مدینہ کی گلیوں، ہجرت کی سختیوں اور بدر و حنین کے معرکوں سے نبرد آزما ہوتی ہوئی ہم تک پہنچی ہے۔ یہ تحریک انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہی ہے اور قیامت تک اپنی یہ ذمے داری نبھاتی رہے گی۔

    اس تحریک کا آغاز خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ نے 14سوسال قبل کیا، پھر یہی تحریک خلافت راشدہ، صحابہ کرامؓ، تبع تابعین، آئمہ کرام اور مشائخ عظام کی محنتوں سے ہم تک پہنچی ہے، اس تحریک کی قیادت امام ابو حنیفہ،ؒ امام شافعی ؒ ، امام احمد بن حنبلؒ اور امام مالک ؒ نے کی، یہی تحریک لے کر امام ابن تیمیہ ؒ آگے بڑھے، پھر یہ تحریک سیدعبد القادر جیلانی ؒ، سیدمجدد الف ثانی ؒ سے ہوتی ہوئی سید علی ہجویر یؒ بابا بلھے شاہؒ، سید حسن البنا شہیدؒ اور سید مودودی ؒ تک پہنچی اور آج یہ تحریک دنیا بھر میں جماعت اسلامی کے نام سے آگے بڑھ رہی ہے۔

    بقول علامہ محمد اقبال ؒ بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ جماعت اسلامی وطن عزیز کی واحد دینی جماعت ہے جو ہر قسم کے مسلکی، علاقائی اور قومیت کے تعصبات سے پاک ہے۔ اس کے دروازے ہر کسی کے لیے کھلے ہیں، جماعت اسلامی میں شورائی نظام ہے جس میں کارکنان کی مشاورت کو ہمیشہ بڑی اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ یہ جماعت اسی منہج پر کاربند ہے جس کی تعلیم حضورﷺ نے اپنی سنت مبارک سے دی تھی وہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب اور فرستادہ ہونے اور براہ راست اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے امین ہونے کے باوجود صحابہ کرام ؓ سے ہر معاملے میں مشاورت کرتے حالانکہ ان پر وحی الٰہی نازل ہوتی تھی اور وہ انسانی مشوروں سے بے نیاز تھے مگر انھوں نے کبھی بھی صحابہ کرام ؓ کی آرا کو نظر انداز نہیں کیا اور ان کا پورا پورا احترام کیا۔

    اﷲ تعالیٰ نے بھی اپنے پیغمبر ﷺ کو حکم دیا کہ ’’اپنے معاملات میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کرو۔‘‘ملک کو اس کے بنیادی مقصد سے ہم آہنگ کرنے اور عام آدمی کے حقوق کے تحفظ کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد کا اعتراف اس کے مخالفین بھی کرتے ہیں۔ قرار داد مقاصد، تحریک نظام مصطفیٰﷺ، تحریک ختم نبوت،بنگلہ دیش نامنظور اور دیگر قومی تحریکوں میں جماعت اسلامی نے ہمیشہ صف اول میں رہتے ہوئے اپنا شاندار کردار نبھایا ہے۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس میں موروثیت کا کوئی شائبہ تک نہیں، یہاں ہر کارکن قائد اور قائد کارکن ہے۔

    کوئی کارکن بھی قیادت کے منصب تک پہنچ سکتا ہے۔ دیگر جماعتوں خواہ وہ سیاسی ہوں یا دینی، ان میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں، موروثیت نے پارٹیوں پر قبضہ جما کر انھیں خاندانی پراپرٹی بنا رکھا ہے، باپ کے بعد بیٹا اور بیٹے کے بعد پوتا پارٹی قیادت پر قابض ہوجاتا ہے اور اگر بیٹا یا پوتا اس قابل نہ ہو تو بیٹی نواسی یا پوتی اس منصب جلیلہ پر فائز ہو جاتی ہے اور کسی کو اختلاف کی جرأت نہیں ہوتی۔ ایک طبقہ اشرافیہ نے ان پارٹیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، کہیں جاگیردار ہیں کہیں وڈیر ے اور سرمایہ دار اور کہیں قومیت و مسلک کے علمبردار! جب کہ جماعت اسلامی نے ان موروثی خرابیوں اور خاندانی تسلط سے پاک ایک آئینی و جمہوری راستے پر چلتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا ہوا ہے۔

    بانی جماعت اسلامی سید مودودیؒ، میاں طفیل محمد ؒ، قاضی حسین احمد ؒ اور سید منور حسن ؒ کے کسی بیٹے، بیٹی، پوتے یا نواسے نے کبھی خواب میں بھی جماعت اسلامی کا امیر بننے کے متعلق نہیں سوچا۔ جماعت اسلامی کی دعوت کا مرکزو محور ہی اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ اس کی دعوت کا مرکزی نقطہ ہی یہ ہے کہ ’’اللہ کی بندگی کے ساتھ دوسری بندگیا ں جمع نہ کرو‘‘ ہم کسی کو اپنے امیر کی طرف نہیں بلاتے اور نہ کسی خاص شخصیت کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے کارکن اپنے امیر کی اطاعت بھی معروف میں کرتے ہیں، مجہول اور منکر کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتے۔ ( سید مودودی ؒ )۔ جماعت اسلامی عالمی اسلامی تحریکوں کی سرخیل کا کردار ادا کر رہی ہے۔

    اندرون ملک جماعت اسلامی کے شاندا رماضی نے اس کے تابناک مستقبل کی راہ متعین کردی ہے۔ آج ایک زمانہ جماعت اسلامی کی خدمات، خواہ وہ خدمت خلق کے حوالے سے ہوں ، دفاع وطن کے حوالے سے ہوں، جمہوریت کی بحالی اور اسلامی نظام حکومت کے قیام اور آئین پاکستان کی تدوین کے لیے ہوں یا فاشزم کا راستہ روکنے کے حوالے سے ہوں کا معترف ہے۔

    جماعت اسلامی کی تنظیم ’طریقہ کار‘ اپنے کاز سے کمٹمنٹ ، خدمت و اخلاص اور صلاحیتوں کا دشمن بھی اعتراف کرتے ہیں۔ جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان میں جماعت اسلامی نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یہ جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت اور جدوجہد کا بین ثبوت ہے کہ آج بھی مسئلہ کشمیر کو ایک قومی مسئلہ کی حیثیت حاصل ہے اور حکمران تمام تر عالمی دباؤ کے باوجود اس سے انحراف کی جرأت نہیں کرسکتے ۔

    جماعت اسلامی کی تنظیم ہمیشہ قابل رشک رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے کارکنان کے نظم و ضبط کی مثالیں دی جاتی ہیں، جس پر ہم ﷲ کے شکر گزار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکنان کے سامنے ایک واضح نصب العین ہے جس کو وہ کسی بھی صورت نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے۔

    جماعت اسلامی کے سیکڑوں ارکان و کارکنان سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں کے ممبر رہے مگر کسی کے دامن پر کرپشن، کمیشن، اقربا پروری کا کوئی داغ نہیں، یہ محض اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی اور اس کے سامنے جواب دہی کا احساس ہے، ورنہ وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جس میں سیاستدان دونوں ہاتھوں سے قومی دولت لوٹ رہے ہیں۔ جماعت اسلامی مظلوم طبقہ کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ہم اقتدار کے ایوانوں کے دروازے عام آدمی پر کھولنے کی جدوجہد کر رہے ہیں تاکہ غریب مزدور، ہاری اور کسان کے بیٹے کو بھی زندگی گزارنے کی وہی سہولتیں مل سکیں جن سے وزیروں مشیروں اور حکمرانوں کے بیٹے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

    جماعت اسلامی کی سیاست کا بنیادی مقصد ملک میں شریعت کا نفاذ ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ وہ عظیم مقصد جس کے لیے ہمارے بڑوں نے بے انتہا قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا تھا اس وقت تک پورا نہیں ہوگا جب تک کہ یہاں مدینہ کی طرز پر ایک اسلامی و فلاحی حکومت قائم نہیں ہوجاتی۔ ایک ایسی حکومت جس کے پیش نظر معاشرے کے پسے ہوئے طبقہ کی فلاح و بہبود ہو، جس میں یتیموں، بیواؤں، مسکینوں اور غریبوں کو کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑیں اور ریاست ان کی کفالت کی ذمے داری پوری کرے۔ یہ خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک کہ عوام اس کے حصول کے لیے ایک بڑی جدوجہد کے لیے تیار نہ ہوں۔

    ’’خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی، نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا‘‘ نومبر 2015 میں جماعت نے مینار پاکستان لاہور کے سبزہ زار میں کل پاکستان اجتماع منعقد کیا اور ملک بھر سے عوام کو اسی میدان میں اکٹھا کیا جس میں کھڑے ہوکر ہمارے آباؤ و اجداد نے ایک اسلامی ریاست کے حصول کا عہد کیا تھا۔ ہم نے قوم کو ’’اسلامی پاکستان ۔خوشحال پاکستان‘‘ کا ایجنڈا دیا جس میں یہ عہد کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے جماعت اسلامی کو اقتدار دیا اور عوام نے ہم پر اعتماد کیا تو ہم پاکستان کو مدینہ کی اسلامی و فلاحی ریاست کا نمونہ بنائیں گے۔ سودی معیشت کا خاتمہ کیا جائے گا، عورتوں اور طالبعلموں کو غیر سودی قرضے مہیا کیے جائیں گے۔ عام آدمی کے حقوق کا تحفٖظ کریں گے، مزدوروں کسانوں اور محنت کشوں کو ان کا جائز مقام دلائیں گے۔

    مزدور کی کم از کم تنخواہ تیس ہزار مقر ر کریں گے اور غریبوں کو پانچ بنیادی ضروریات زندگی، چاول، چینی، آٹا، گھی اور دالیں ارزاں نرخوں پر مہیا کریں گے اور پانچ بڑی بیماریوں دل گردے ہیپاٹائٹس، کینسر اور تھیلیسمیا کا تمام سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج ہوگا۔

    غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کرے گا۔ مدارس کو بھی وہی سہولتیں دیں گے جو بڑے تعلیمی اداروں کالجوں اور یونیورسٹیوں کو حاصل ہیں۔ تمام تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب تعلیم ہوگا۔ آئمہ کرام اور خطباء کو سرکاری خزانے سے تنخواہ دی جائے گی تاکہ وہ ملک میں اتحاد و یکجہتی کی فضا قائم کریں اور مسلکی، علاقائی اور قومیتوں کے تعصبات کو ختم کرکے ایک قوم کی حیثیت سے آگے بڑھا جاسکے۔ ہمیں امید ہے کہ قوم اسلامی پاکستان …خوشحال پاکستان کے ایجنڈے پر ہمارا ساتھ دے گی اور پاکستان دنیا میں اپنا کھویا ہوا عزت و وقار دوبارہ حاصل کرسکے گا۔

  • عمران خان کی حکومت کے خلاف سازش ہوئی ؟ جانیے منیب بٹ کا رد عمل

    عمران خان کی حکومت کے خلاف سازش ہوئی ؟ جانیے منیب بٹ کا رد عمل

    منیب بٹ کہنے کو تو اداکار ہیں لیکن وہ سیاست میں اس طرح سے دلچپسی لیتے ہیں جیسے ان کے پاس سیاست کا بہت زیادہ تجربہ ہے وہ ہر سیاسی معاملے پر ٹویٹ کرتے ہیں. ھال ہی میں ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کا میں حمایتی اس لئے ہوں کیونکہ وہ سچ بولتے ہیں اور ایماندار لیڈر ہیں، ان کی حکومت کے خلاف یقینا سزش ہوئی ہے کنفرم ہے یہ بات تو لیکن اس میں ہمارے دیگر سیاستدان شامل تھے یا نہیں یہ دیکھنا باقی ہے اس بارے میں ، میں کچھ بھی کنفرم نہیں کہہ سکتا. لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ سپریم کورٹ‌کو چاہیے کہ وہ جیوڈیشل کمیشن تشکیل دے تاکہ اس معاملے کی انکوائری ہو سکے. منیب بٹ نے مزید کہا کہ عمران خان کی حکومت کے چار سال

    نہ بہت برے تھے نہ ہی بہت اچھے تھے لیکن اتنے اچھے ضرور تھے کہ لوگوں کو مالی طور پر فائدہ ہوا انکے دور میں انویسٹرز پاکستان آئے ،لیکن جیسے ہی ان کی حکومت کو گرایا گیا انویسٹرز نے اپنا پیسہ باہر لیجانا شروع کر دیا اب یہاں پر کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہے. انہوں نے انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نوازشریف کو میرا یہ مشورہ ہے کہ وہ جلد از جلد پاکستان آئیں اور عوام کا سامنا کریں عوام انکی منتظر ہے جبکہ بلاول کو انہوں نے پاکستانی سیاست کا مستقبل کہہ ڈالا .

  • مشی خان نے عفت عمر اور ان  کے شوہر کا بنایا مذاق

    مشی خان نے عفت عمر اور ان کے شوہر کا بنایا مذاق

    مشی خان عفت عمر پر تنقید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں‌دیتیں. مشی خان کو عفت عمر پر یہ غصہ ہے کہ وہ پہلے عمران خان کی اگر حمایتی تھیں تو اب وہ کیوں ان کے خلاف بولتی ہیں دوسری طرف عفت عمر کہتی ہیں کہ عمران خان nے جس طرح کے دعوے کئے تھے وہ ویسے نہیں‌نکلے ان کے دعوے اور ان کی شخصیت دونوں مختلف ہیں. عفت عمر ادھر کوئی ٹویٹ کرتی ہیں ادھر مشی خان تنقید کرنے پہنچ جاتی ہیں. حال ہی میں جب عفت عمر نے اپنے شوہر کے ساتھ ٹویٹر پر تصویر لگائی اور کیپشن میں لکھا ” میں‌ ہوں اپنے صنم کی بانہوں میں ، تم جلو اور مرو یوتھیو” . اس تصویر پر مشی خان نے قوٹ ری ٹویٹ کر کے

     

     

     

     

     

     

    لکھا کہ ”کیوں یہ کوئی بریڈ پٹ ہے جو ہمیں جلنا ہے ، ہمارا ٹیسٹ تم سے بہتر ہے ،ایسا صنم تمہیں مبارک ہمیں کیا ” .

     

     

    عفت عمر نے اپنی ایک اور تصویر شئیر کرکے اسکا کیپشن لکھا ” برن ( جلو) . اس رپر بھی مشی خان پہنچ گئیں اور قوٹ ری ٹویٹ کرکے لکھا ” اس میں‌جلنے والی کیا بات ہے ڈارلنگ، بورنگ اور لنڈے کے ڈریس جیسی لک ہے ، خوش فہمی سے نکلو بہن” یاد رہے کہ مشی خان ہر اس انسان کو آڑھے ہاتھوں لیتی ہیں جو عمرا ن خان کا حمایتی نہیں ہے ان کے رویے میں اس حوالے رتی برابر بھی لچک نہیں ہے۔

  • چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے دوماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دینے کا اعلان کردیا

    چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے دوماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دینے کا اعلان کردیا

    چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے دوماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دینے کا اعلان کیا ہے۔

    ملک میں ہونے والی حالیہ مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں نے ملک کے متعدد اضلاع میں تباہی مچارکھی ہے، لاکھوں افراد بے گھر اور بے سرو سامان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    دوسری جانب جہاں مخیر حضرات سیلاب متاثرین کی امداد کرتے نظر آرہے ہیں، وہیں سرکاری ملازمین کے علاوہ ملکی اداروں کے سربراہان اور ارکان بھی سیلاب متاثرین کے تعاون میں پیش پیش ہیں۔
    گزشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل آفیسرز کی طرح دیگر فوجی افسران نے بھی رضاکارانہ بنیاد پرمالی عطیات دینے کا اعلان کیا تھا، اور کہا تھا کہ عوام سے عطیات جمع کرنے کیلئے تمام بڑے شہروں میں عطیہ مراکز قائم کیے جائیں گے۔

    وفاقی کابینہ کے ارکان نے بھی ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب زدگان کیلئےعطیہ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت کابینہ ارکان کی تنخواہیں وزیراعظم فلڈریلیف فنڈمیں جمع کرائی جائیں گی۔
    دوسری جانب آج چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے بھی اپنی دو ماہ کی تنخواہیں سیلاب متاثرین کو عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے مطابق تمام سینیٹرز اپنی ایک ماہ کی تنخواہ متاثرین کے ریلیف اور بحالی کیلئےدیں گے۔

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے عوام سے درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ گریڈ 16 سے 22 تک کے ملازمین بھی 3 دن کی تنخواہ دیں گے، قوم بالخصوص مخیرحضرات ریلیف اوربحالی کیلئےآگےبڑھیں، اور نماز جمعہ کے بعد خصوصی دعاؤں کی اپیل ہے۔

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی اپیل پر ملک بھر کی جامع مساجد بشمول پارلیمنٹ ہاؤس کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد سیلاب زدگان کے لئے خصوصی طور پر اجتماعی دعا ئیں کی گئیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کی جامع مسجد میں چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سمیت اراکین سینیٹ و قومی اسمبلی کی کثیر تعداد نے خصوصی طور پر اجتماعی دعا میں شرکت کی۔چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے قوم سے اپیل کی تھی کہ نمازجمعہ کے بعد حالیہ بارشوں کے روکنے کیلئے اللہ تبارک تعالیٰ کے حضور خصوصی دعائیں کی جائیں۔ حالیہ بارشوں کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور بارشوں و سیلابی صورتحال کی وجہ سے بے شمار قیمتی جانی ومالی نقصانات ہوئے ہیں۔ محمد صادق سنجرانی نے مخیر حضرات سے سیلاب زدگان کیلئے امداد کی بھی اپیل کی تھی۔

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر مرزا محمد آفریدی اور اراکین سینیٹ کی جانب سے سیلاب زدگان کے ساتھ افسوس اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ محمد صادق سنجرانی اور مرزا محمد آفریدی نے سیلاب زدگان کی امداد کیلئے اپنی دوماہ کی تنخواہ دینے کا اعلان کیا۔جبکہ اراکین سینیٹ کی ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دی جائے گی اسی طرح سینیٹ سیکرٹریٹ کے گریڈ سولہ سے بائیس تک کے ملازمین کی تین دن کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو ریلیف دینے کیلئے فراہم کی جائے گی

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے ملک بھر میں سیلابی صورتحال اور طوفانی بارشوں کے سبب ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع اور تباہ کاریوں سے متعلق رپورٹ جاری کی گئی ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 34 افراد جاں بحق ہو گئے جس میں 17 بچے، 10 مرد اور 7 خواتین شامل ہیں، اِن اموات کے بعد حالیہ بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 940 ہوگئی ہے.
    این ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کے پی کے میں 16، سندھ میں 13، بلوچستان میں 4، پنجاب میں ایک شخص جاں بحق ہوئے ہیں.

    این ڈی ایم اے کا بتانا ہے کہ: سیلاب اور بارشوں کے باعث 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں پر مبنی این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق حالیہ سیلاب اور بارشوں کےدوران زخمی افراد کی تعداد 1343 سے زائد ہوگئی ہے۔ این ڈی ایم اے کا کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 85 ہزار 900 جانور مر گئے، حالیہ مون سون بارشوں کے دوران سندھ میں 85 ہزار 830 جانور مر چکے ہیں جن کے باعث ملک بھر میں جانوروں کی اموات کی تعداد 7 لاکھ 94 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں سندھ میں 15 پلوں کو نقصان پہنچا، حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں تاحال 145سے زائد پل منہدم ہو چکے ہیں۔

    اسی طرح گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید ایک لاکھ 75 ہزار 85 گھروں کو نقصان ہوا، حالیہ بارشوں اور سیلاب سے تاحال مکمل طور پر 6 لاکھ 70 ہزار 328 گھروں کو نقصان پہنچ چکا ہے۔
    این ڈی ایم کا بتانا ہے کہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر اونچے ترین درجے کا سیلاب متوقع، تربیلا ڈیم میں پانی اسٹور کرنے کی گنجائش ختم ہوچکی جبکہ چشمہ بیراج میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 7 فٹ رہ گئی ہے۔
    این ڈی ایم اے کے مطابق منگلا ڈیم میںبھی پانی کی ذخیرہ کرنے کی گنجائش صرف 62.7 فٹ باقی رہ گئی ہے۔
    اس طرح دریائےسوات میں بھی اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔
    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دریا کے کنارے مقیم مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہوجانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

    الخدمت فاؤنڈیشن خواتین ونگ ٹرسٹ لاہور کمیونٹی سنٹر کے تحت40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا امداد ی سامان بلوچستان سیلاب متاثرین کے لئے بھیج دیا گیا – امدادی سامان میں راشن، بستر، برتن اور کپڑے شامل ہیں – اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے الخدمت فاؤنڈیشن خواتین پاکستان کی جنرل مینجر درخشاں فرحین نے کہا کہ جس طرح دکھ کی اس گھڑی میں دل کھول کر عوام اور مخیر حضرات بلوچستان کے مصیبت ذدہ سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کی امداد کے لئے عطیات دے رہے ہیں قابل ستائش ہے – انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے دکھ درد میں ہم برابر کے شریک ہیں – اللہ تعالی ان کی مشکلات اور دکھ کا مداوا کرے – انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کی بحالی تک بھرپور تعاون جاری رکھے گا- انہوں نے کہا کہ اس وقت الخدمت کے

  • پاکستان سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک پرکشش ملک ہے

    پاکستان سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک پرکشش ملک ہے

    قطر نے پاکستان میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ دوحہ کے دوران کیا گیا۔ امیر قطر نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور تزویراتی تعلقات کی اہمیت اور تجارتی تبادلے اور قطر انوسٹمنٹ اتھارٹی کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دے کر اقتصادی شراکت داری کو بڑھانے کی خواہش پر زور دیا ہے۔ قطر انوسٹمنٹ اتھارٹی نے پاکستان میں ہوا بازی، زراعت، توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ قطر کی سرمایہ کار کمپنیوں کی پاکستان میں مشترکہ منصوبوں کے لیے جوائنٹ ونیچر کمپنی بھی قائم ہوگی۔

    بلاشبہ پاکستان سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک پرکشش ملک ہے۔ پاکستان میں انفرا اسٹرکچر، قدرتی وسائل، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اپ گریڈ کرنے کے سیکٹرز میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقعے موجود ہیں اور پاکستان خطے کے ان ملکوں میں شامل ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی آزادانہ پیش کش کرتا ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق: موجودہ حکومت دہشت گردی، مخدوش سرحدی صورتحال، سیاسی عدم استحکام کے باوجود ملکی معیشت کی بحالی کے بنیادی مسئلے سے غافل نہیں اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ لگانے کی ترغیب اور سہولتیں دے رہی ہے مگر مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے امن و امان کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

    اس کے علاوہ انصاف کی فراہمی اور گڈ گورننس پر بھی پوری توجہ دینا ہوگی۔ ماضی میں بڑے بڑے غیرملکی سرمایہ کاروں نے یہاں سرمایہ لگایا مگر قانونی الجھنوں اور خراب گورننس کی وجہ سے مسائل کا شکار ہو کر اپنے پروجیکٹس میں دلچسپی کھو بیٹھے حکومت کو جہاں سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات دینا ہوں گی وہاں انصاف اور گڈ گورننس کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ پاکستان سو فیصد غیر ملکی ایکویٹی کی اجازت دیتا ہے، یہاں سے منافع لے جانے کی کوئی حد مقرر نہیں خصوصاً لارج اسکیل انفرا اسٹرکچر اور مینو فیکچرنگ کے سیکٹرز میں سرمایہ کار اپنا منافع واپس اپنے ملک لے جا سکتے ہیں۔

    یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں اقتصادی ترقی کی شرح اس خطے کے ممالک میں مختلف عوامل کی بنا پر سب سے کم ہے حالانکہ ورک فورس کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا نواں بڑا ملک ہے، بائیس کروڑ آبادی میں سے بارہ کروڑ افراد کام کرنے والے ہیں جن کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن ماحول پوری طرح سازگار نہ ہونے کی وجہ سے ضرورت کے مطابق سرمایہ کاری نہیں ہو رہی جس کے سبب ترقیاتی عمل سست روی کا شکار ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ امن و امان کی صورت حال ہے جو سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر دیتی ہے۔

    کراچی میں جو ملک کا معاشی حب ہے لاقانونیت عروج پر ہے کراچی پولیس اعتراف کرتی ہے کہ یہاں ٹارگٹ کلر اور کسی بھی واردات کے لیے کرائے کا مجرم مل جاتا ہے۔ بعض سیاسی جماعتیں بھی اپنی طاقت کے مظاہرے کے لیے ہتھیار استعمال کرنے میں عار محسوس نہیں کرتیں۔

    پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے دوسری قیمتی معدنیات کے علاوہ اس کے پاس 105 ٹریلین کیوبک فیٹ شیل گیس اور 19 ارب بیرل سے زائد تیل کے ذخائر ہیں جن کا بڑا حصہ شورش زدہ بلوچستان میں واقع ہے ان وسائل کو بروئے کار لانے کے علاوہ توانائی، مواصلات، زراعت، صنعت، انفرا اسٹرکچر، صحت و تعلیم اور کئی دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق ملک کے 84 فیصد سرکاری اداروں میں کرپشن بڑھ رہی ہے سرمایہ کاروں کو ایسی صورتحال سے محفوظ رکھنا ہو گا اس کے بغیر شاید کم ہی لوگ سرمایہ لگانے پر کے لیے تیار ہوں۔

    سی پیک منصوبے کے تحت چین نے 2015 اور 2030 کے درمیان پاکستان میں مختلف شعبوں میں 62 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنی ہے، جس میں پاکستان کے فرسودہ بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے علاوہ اس منصوبے کے تحت سڑکوں کے جال بچھانے، ریلوے میں انقلابی تبدیلی لانا، شمالی اور جنوبی معاشی کوریڈور قائم کرنا اور بیجنگ کو گوادر کی بندرگاہ سے ملانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ اس منصوبے کے تحت پاکستان میں توانائی کی کمی کو پورا کرنا بھی شامل ہے اور مختلف صنعتی زون بھی قائم کرنا ہے۔

    اس منصوبے کے تحت 2015 سے 2018 تک تقریباً 20 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی اور 2018 سے 2020 کے درمیان پانچ ارب ڈالرز کی اضافی سرمایہ کاری بھی کی گئی، لیکن مقام افسوس ہے کہ سابقہ تحریک انصاف کی حکومت نے سی پیک منصوبے کو پس پشت ڈال دیا تھا۔

    انسانی وسائل کی ترقی پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی وسائل کی ترقی پر سرمایہ کاری اقتصادی شرح نمو میں اضافے کے لیے ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ انسانی وسائل کی ترقی اور غیر ہنر مند افرادی قوت کو ہنر مند بنانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کرے تاکہ اقتصادی ترقی اور انسانی وسائل میں موجود خلا کو پر کیا جاسکے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کی معیشت عالمی سطح پر اس وقت مقابلہ کرسکتی ہے جب اسے پڑھے لکھے اور ہنر مند افراد دست یاب ہوں۔ غیر ہنر مند اور کم پڑھی لکھی افرادی قوت سے اقتصادی ترقی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    معیشت کے ڈھانچہ جاتی بگاڑ کو درست کرنے کے لیے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا ایک فوری منفی رد عمل بھی دیکھنے میں آتا ہے مگر معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوجاتی ہے، گزشتہ حکومت ایسے اقدامات سے کتراتی رہی، اس لیے وہ تمام اصلاحات موخر ہوتی رہیں جن کی وجہ سے آج معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوسکی اور خوشحالی ہم سے دور ہوگئی۔

    ہمیں معاشی ترقی کی بنیاد رکھنی ہوگی، ایسی مضبوط بنیاد جس پر مستحکم معاشی ترقی کی شاندار عمارت تعمیر ہوسکے اور جو اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم و دائم رہے، ہمیں برآمدات بڑھانے، زراعت، آئی ٹی سیکٹر اور صنعتی برآمدات بڑھانا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا اور اپنی برآمدات کی مسابقت کو بڑھانا ہوگا تاکہ وہ عالمی منڈی دیگر ممالک کی مصنوعات کا مقابلہ کرسکیں، ہمیں کاروبار کرنے کے مواقعے کو آسان اور بہتر بنانا ہوگا تاکہ مقامی اور بیرونی سرمایہ کار زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں۔

    مشینری اور خام مال کی درآمد کے بعد اس کی ویلیو میں اضافہ کرکے برآمد کرنا ہوگا، اس طرح جتنی درآمدات بڑھیں گی اس سے کہیں زیادہ برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ موجودہ حکومت کو تباہ حال معیشت کو درست راہ پر گامزن کرنے کا مشکل چیلنج درپیش ہے، تاریخی مہنگائی، غیر ملکی زر مبادلہ کی مشکلات، زیادہ لاگت پر بے دریغ قرضوں کا حصول، لوڈ شیڈنگ کے مسائل نے صورتحال کو بہت سنگین بنا دیا ہے۔

    پاکستان میں آج بھی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں تجارتی ادارہ قائم کرنے اور اسے چلانے میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔ تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے، اس لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پھر سے سر اٹھارہا ہے۔ ہم اپنا اقتصادی نظام چوں کہ بیساکھیوں پر کھڑا رکھنے کے عادی ہیں لہٰذا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو اس وقت بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے آنے والی ترسیلات زر کا سہارا ہے۔ گزشتہ سالوں میں پاکستان میں بنگلہ دیش کی طرح برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور نہ بھارت کی طرح بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔

    بھارت کے برعکس پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری میں کمی دیکھی گئی ہے۔ معیشت کے آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری، دونوں میں اضافہ ہو ورنہ پاکستان پر قرضے میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ قطر ہمارا بردار اسلامی ملک ہے ، جس نے ہر کڑے وقت میں ہماری مدد کی ہے ، اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کس طرح قطر کی سرمایہ کاری پیش کش سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

  • سیلاب متاثرین کی صورتحال پر اداکار ایوب کھوسہ کا جذباتی وڈیو پیغام

    سیلاب متاثرین کی صورتحال پر اداکار ایوب کھوسہ کا جذباتی وڈیو پیغام

    سینئر اداکارہ ایوب کھوسہ نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر سا وڈیو پیغام جاری کیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ ”میں اس وقت بلوچستان کے ڈسٹرکٹ لسبیلہ میں ہوں اور یہاں یہ صورت حال ہےکہ ہر طرف پانی ہی پانی ہے اس وجہ سے مین ہائی وے کے تمام راستے کٹ گئے ہیں ، اس کے علاوہ بھی دیکھیں تو آس پاس کے جتنے بھی راستے تھے وہ سب کٹ چکے ہیں. میں بار بار ریکویسٹ کر چکا ہوں پھر ریکویسٹ کررہا ہوں کہ خدا کے واسطے آگے بڑھیں، آپ جہاں اتنے کام کرتے ہیں وہیں یہ بھی کریں. یہاں کے لوگوں کی مدد کریں . ان کے گائوں پہنچیں ان کے علاقوں میں پہنچیں ان کے مال مویشیوں کے لئے ان کی مدد کریں ان کے گھروں کی دوبارہ تعمیر میں ان کی مدد کریں ان کا سب کچھ پانی کا ریلہ بہا کر لے گیا وہ بے یارو مددگار ہیں خدارا ان کی زندگیوں کو آسان بنائیں اللہ آپ کی زندگی آسان بنائے گا اور اللہ آپ کو اس کا اجر دے گا.

    ایوب کھوسہ نے یہ وڈیو اپنے ٹویٹر اکائونٹ سے جاری کی اور اس کا کیپشن یہ لکھا ” میری آپ سے ریکویسٹ ہے خُدا کے واسطے آگئے بڑھیں اور بلوچستان میں کھانا پانی پہنچائیں میرا بلوچستان ڈھوب گیا ہے”.
    ایوب کھوسہ کے علاوہ بھی درد دل رکھنے والے تمام فنکار لوگوں سے مدد کی اپیل کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان اور اسکے عوام کو بچائیں.