Baaghi TV

Author: +9251

  • وزیراعظم کل سکھر میں سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے

    وزیراعظم کل سکھر میں سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے

    وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف (کل )جمعہ کو سکھر میں سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے اور سیلاب متاثرین سے ملاقات کریں گے۔


    اپنےایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اسلام آباد پہنچنے کے فوراً بعد اقتصادی امور ڈویژن میں سیلاب متاثرین کی امداد، ریسکیو، ریلیف اور بحالی میں تعاون کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں ریسکیو، ریلیف، متاثرین میں نقد رقوم کی تقسیم کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کو چیئرمین این ڈی ایم اے اور ہنگامی امداد کے صوبائی اداروں نے سیلاب کے حوالے سے بریفنگ دی۔وزیر اعظم ( کل) جمعہ کو سکھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے، متاثرین سے ملیں گے۔

    اس سے قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال پر اجلاس منعقد کیا گیا.تین گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں سیلاب متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کیلئے اہم فیصلے لیے گئے.وزیرِ اعظم نے ملک میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر تمام صوبائی حکومتوں کا اعلی سطح کا اجلاس طلب کر لیا.اجلاس میں وزیرِ اعظم آزاد جموں و کشمیر، وزیرِ اعلی گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے وزراءِ اعلی شریک ہونگے.

    وزیرِ اعظم نے سیلاب متاثرین کی امداد کو مزید تیز اور منظم کرنے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے دیں. وفاقی وزراء اور اتحادی رہنماؤں کی سربراہی میں پینے کے صاف پانی، خیموں، مچھر دانیوں، ادویات و طبی امداد اور راشن پر علیحدہ علیحدہ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں.کمیٹیاں تمام صوبوں میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں مزکورہ اشیاء کی فوری فراہمی یقینی بنائیں گی.کمیٹیوں کا آج رات تک نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا جائے گا.

    وزیرِ اعظم نے فوری طور پر اسلام آباد میں سفراء کی کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے.سفراء کو حالیہ بارشوں اور سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر اعتماد میں لیا جائے گا. سفراء کو حکومت کے ریسکیو اور امدادی آپریشن سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے گا.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وزارتِ خزانہ کو سیلاب متاثرین کے فوری ریسکیو اور مدد کیلئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانے کی ہدایت کی.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے جس قدر ہو سکے وسائل مہیا کریں.وزیرِ اعظم نے BISP کے تحت جاری فلڈ ریلیف کیش پروگرام میں تقسیم میں تعطل کا سخت نوٹس لیا ،وزیرِ اعظم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گزشتہ اجلاس میں BISP کو تین دن کے دوران فلڈ ریلیف کیش کی رقم تقسیم کرنے کی ہدایات پر عملدرآمد کیونکر نہ ہوا؟ .وزیرِ اعظم نے BISP کو 2 ستمبر تک فلڈ ریلیف کیش پروگرام کے تحت 25 ہزار فی متاثرہ خاندان پہنچانے کی دو ٹوک ہدایات کر دیں. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ جو بنک اس ٹارگٹ کو پورا نہ کر سکے انکے خلاف سخت کاروائی کی جائے.

  • وزیراعظم کا فلڈ ریلیف کیش پروگرام میں تعطل پر اظہار برہمی

    وزیراعظم کا فلڈ ریلیف کیش پروگرام میں تعطل پر اظہار برہمی

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال پر اجلاس منعقد کیا گیا.تین گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں سیلاب متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کیلئے اہم فیصلے لیے گئے.وزیرِ اعظم نے ملک میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر تمام صوبائی حکومتوں کا اعلی سطح کا اجلاس طلب کر لیا.اجلاس میں وزیرِ اعظم آزاد جموں و کشمیر، وزیرِ اعلی گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے وزراءِ اعلی شریک ہونگے.

    وزیرِ اعظم نے سیلاب متاثرین کی امداد کو مزید تیز اور منظم کرنے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے دیں. وفاقی وزراء اور اتحادی رہنماؤں کی سربراہی میں پینے کے صاف پانی، خیموں، مچھر دانیوں، ادویات و طبی امداد اور راشن پر علیحدہ علیحدہ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں.کمیٹیاں تمام صوبوں میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں مزکورہ اشیاء کی فوری فراہمی یقینی بنائیں گی.کمیٹیوں کا آج رات تک نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا جائے گا.

    وزیرِ اعظم نے فوری طور پر اسلام آباد میں سفراء کی کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے.سفراء کو حالیہ بارشوں اور سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر اعتماد میں لیا جائے گا. سفراء کو حکومت کے ریسکیو اور امدادی آپریشن سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے گا.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وزارتِ خزانہ کو سیلاب متاثرین کے فوری ریسکیو اور مدد کیلئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانے کی ہدایت کی.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے جس قدر ہو سکے وسائل مہیا کریں.وزیرِ اعظم نے BISP کے تحت جاری فلڈ ریلیف کیش پروگرام میں تقسیم میں تعطل کا سخت نوٹس لیا ،وزیرِ اعظم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گزشتہ اجلاس میں BISP کو تین دن کے دوران فلڈ ریلیف کیش کی رقم تقسیم کرنے کی ہدایات پر عملدرآمد کیونکر نہ ہوا؟ .وزیرِ اعظم نے BISP کو 2 ستمبر تک فلڈ ریلیف کیش پروگرام کے تحت 25 ہزار فی متاثرہ خاندان پہنچانے کی دو ٹوک ہدایات کر دیں. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ جو بنک اس ٹارگٹ کو پورا نہ کر سکے انکے خلاف سخت کاروائی کی جائے.

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی فوری طور پر سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے اپنی تمام تر مشینری متاثرہ علاقوں میں بھیجے. اس امر کیلئے مشینری کم پڑنے کی صورت میں فوری طور پر نجی شعبے سے اسکا انتظام یقینی بنایا جائے. وزیرِ اعظم نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کیلئے کشتیوں کی یقینی فراہمی کے حوالے سے ڈی جی ایم او اور نیول چیف سے رابطے کی فوری ہدایت بھی کی.

    وزیرِ اعظم نے وزارتِ اقتصادی امور اور وزارتِ خزانہ کو فوری طور پر آج کی ڈونرز کانفرنس میں بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کی طرف سے اعلان شدہ امداد کومتاثرین تک پہنچانے کی جامع حکمتِ عملی بنانے کی واضح ہدایت کی.وزیرِ اعظم کی فلڈ ریلیف کمیٹی کو فوری طور پر پاک فوج کو سیلاب متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کیلئے مدعو کرنے اور کاروائیوں کو منظم کرنے کی ہدایت کی.

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ ڈی جی ایم او کو فوری طور پر اعتماد میں لے کر حکومتی ریسکیو و ریلیف آپریشن اور پاک فوج کے آپریشنز کو یکساں کرکے منظم کیا جائے.وزیرِ اعظم نے متاثرہ علاقوں میں گھروں کے بڑی تعداد میں نقصان کے پیشِ نظر متاثرین کیلئے خیموں کی تعداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کرنے کی ہدایت بھی کی.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں ملک میں سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ریسکیو اور ریلیف آپریشن پر ہنگامی اجلاس میں وفاقی وزراء، چیئرمین NDMA, وزیرِ اعلی سندھ، چیف سیکٹریز، PDMAs اور متعلقہ حکام نے شرکت کی.اجلاس کو حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے حوالے سے نقصان کے اعدادو شمار اور جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشن پر تفصیلی بریفنگ دی گئی.

  • جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی جلد بحالی کیلئے فی الفور 5 ارب روپے مختص

    جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی جلد بحالی کیلئے فی الفور 5 ارب روپے مختص

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی جلد بحالی کیلئے فی الفور 5 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرین کی آبادکاری کیلئے ”وزیراعلیٰ پنجاب فلڈ ریلیف فنڈ“ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    عالمی اداروں کا سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد فوری امداد کا اعلان

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کیلئے ہرممکن وسائل فراہم کریں گے۔مخیر حضرات اپنے مشکل میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد کیلئے آگے آئیں۔”وزیراعلیٰ پنجاب فلڈ ریلیف فنڈ“ کی پائی پائی متاثرین کی بحالی پر خرچ کی جائے گی۔

     

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف

     

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی سے وزیراعلیٰ آفس میں صوبائی وزراء اور ارکان صوبائی اسمبلی نے ملاقات کی۔سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی اور پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ محمد خان بھٹی بھی اس موقع پرموجود تھے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی پوری مشینری مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد میں مصروف ہے۔

    وفاقی کابینہ کے ارکان نے ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کردی

     

    انہوں نے کہا کہ میری ہدایت پر چیف سیکرٹری پنجاب کامران افضل متاثرہ علاقوں میں خود امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تونسہ، ڈی جی خان اور راجن پور میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر دلی دکھ اور افسوس ہے۔ سیلاب سے ہونے والی تباہی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔جو کچھ انسانی بس میں ہوا، آزمائش کی اس گھڑی میں اپنے بہن بھائیوں کیلئے کر گزریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے نقصانات کے ازالے کیلئے سروے کا حکم دے دیا ہے۔ سیلاب متاثرین کی بحالی حکومت پنجاب کی پہلی ترجیح ہے۔

    پنجاب حکومت مشکل کی گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور متاثرین کی دوبارہ آبادکاری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔سیلاب سے متاثرہ ہر فرد کو اس کا حق دیا جائے گا اور انشاء اللہ قوم کی تائید و حمایت سے اس چیلنج سے بھی سرخرو ہو کر نکلیں گے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے کاموں میں پاک فوج کا تعاون لائق تحسین ہے۔ ریسکیو اینڈ ریلیف کے حوالے سے پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہیں۔پاک فوج قابل فخر ادارہ ہے جو ناگہانی صورتحال سے دوچار لوگوں کی مدد میں بھی پیش پیش ہے۔فوجی جوان سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ زلزلہ ہو یا سیلاب یا کوئی اور ناگہانی آفت، پاک فوج ہر آزمائش کی گھڑی میں قوم کی توقعات پر پورا اتری ہے۔پاک فوج کے دستوں نے لوگوں کی بروقت مدد کی اور محفوظ انخلاء کو یقینی بنایاجس پر کورکمانڈر ملتان کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔پاک فوج کے تعاون سے کئی قیمتی جانوں کو پچاناممکن ہوا۔ وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والوں میں غضنفر عباس چھینہ،شہاب الدین خان، محمد عامر عنایت شاہانی،غضنفر عباس شاہ، غلام علی اصغر خان لہری،گلریز افضل گوندل،تیمور علی لالی، سردار محمد محی الدین خان کھوسہ، محمد علی رضا خان خاکوانی، محمد اعجاز حسین اور محمد احسن جہانگیرشامل تھے۔

  • وفاقی کابینہ کے ارکان نے ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کردی

    وفاقی کابینہ کے ارکان نے ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کردی

    وفاقی کابینہ کے ارکان نے ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کردی۔

    کابینہ کے تمام ارکان کی ایک ماہ کی تنخواہ وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ میں جمع ہوگی۔دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر بین الاقوامی تنظیموں اور مالی اداروں نے سیلاب متاثرین کے لئے 50 کروڑ ڈالر سے زائد امداد کا اعلان کیا ہے۔

    کوئٹہ سے پشاور جانے والے ریلوے ٹریک کا پل گرگیا

    ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے وزیراعظم کو 35 کروڑ ڈالر کی فوری امداد سے آگاہ کیا۔
    ورلڈ فوڈ پروگرام نے سیلاب متاثرین کیلئے11 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے 2 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا۔ یو کے ایڈ نے 15 لاکھ پاؤنڈ کی فوری امداد کا اعلان کیا۔اعلامیہ کے مطابق یوکے ایڈ نے سیلاب متاثرین سے متعلق منصوبوں کیلئے 3 کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ کا بھی اعلان کیا ہے۔

    پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں 12375 پاؤنڈ امدادی سامان تقسیم کر دیا

     

    قبل ازیں وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں آنے والی شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 913 تک پہنچ گئی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ عطیہ دہندگان اور دنیا ہماری مدد کریں۔دریائے سندھ میں پانی کا بہائو 2010 کے سپر فلڈ سے زیادہ ہے، 30 ملین متاثرین شیلٹرز کے بغیر ہیں۔

    وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں میں 9 سو سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، ملک کا کوئی حصہ نہیں جو بارشوں اور سیلاب کی زد میں نہ ہو، افسوس ہے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں سیلاب زدگان کی مدد کے بجائے عمران خان نے ہری پور میں جلسہ کیا۔

     

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف

    شیری رحمان نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب سے کل شام تک 913 لوگ جاں بحق ہوگئے، سندھ میں 169 ، کے پی میں 169 اور پنجاب میں 164 لوگ جاں بحق ہوئے، عمران خان کے پی اور پنجاب میں سیلاب زدگان کی جان و مال بچانے کے بجائے اپنی سیاست بچانے میں لگے ہوئے، کیا عمران خان کو پورے ملک میں سیلاب نظر نہیں آ رہا؟

    سینٹر شیری رحمان نے میڈیا سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیلاب زدگان کی حالت زار کو اجاگر کرنے، بچاو اور امدادی سرگرمیوں اور مون سون کی بارشوں سے ہونے والے نقصانات کو اجاگر کرنے پر توجہ مرکوز کرے تاکہ متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو عوامی تعاون کے ساتھ ایک مربوط ردعمل سے آگاہ کیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ اگست کے مہینے میں ملک میں مجموعی طور پر 166 ملی میٹر بارش ہوئی جو کہ معمول سے 241 فیصد زیادہ ہے جبکہ ملک کے جنوبی حصے بالخصوص سندھ میں رواں سیزن کی معمول کی اوسط سے 784 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں جو کہ تشویشناک ہے۔ یہ چونکا دینے والے اعدادوشمار محکمہ موسمیات کی جانب سے مرتب کیے گئے ہیں، شدید بارشوں نے متاثرہ صوبوں کے مختلف سیلاب زدہ علاقوں میں پلوں اور مواصلاتی ڈھانچے کو بہا دیا۔

    انہوں نے زور دیا کہ دریائے سندھ میں پانی کا بہائو 2010 کے سپر فلڈ سے زیادہ ہے، یہ مون سون کی بارشوں کے آٹھواں سلسلہ ہے جہاں جنوبی پاکستان میں شدید اور زیادہ بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے سندھ کے 23 اضلاع کو آفت زدہ علاقے قرار دیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملک میں قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا ہے، ملک میں سیلابی صورتحال کی وجہ سے وزیر خارجہ اور وزیر اعظم نے بیرون ملک سرکاری دورے ملتوی کر دیے ہیں۔ مسلح افواج اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں سرگرم ہیں۔

  • عالمی اداروں کا سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد فوری امداد کا اعلان

    عالمی اداروں کا سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد فوری امداد کا اعلان

    عالمی تنظیموں اور مالیاتی اداروں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی اپیل پر سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد کی فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف

    وزیر اعظم نے سیلاب زدگان کو امداد فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی ڈونرز کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور ڈونرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں چین، امریکا اور یورپی یونین کے حکام، اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت کے اداروں نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے عالمی شراکت داروں کو ملک میں بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    پاکستان دیئے گئے اہداف کو کامیابی کے ساتھ مکمل کررہا ہے:ایف اے ٹی ایف

     

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی بارشوں اور سیلاب سے ملک میں ایمرجنسی کی صورتحال ہے، بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، مکانات، املاک کے علاوہ فصلوں، باغات اور انفراسٹرکچر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، رابطہ سڑکیں، پل بہہ جانے اور زمینی راستے کٹ جانے کی وجہ سے ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مشکلات آ رہی ہیں، پاک فوج اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ریسکیو اور ریلیف کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔

     

    پاکستان کو بیرونی قرض کی مد میں 130 ارب ڈالرز ادا کرنے ہیں. وزیر مملکت خزانہ

     

     

    وزیراعظم نے کہا کہ 2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی ہے، خوراک، ادویات، خیموں، عارضی پناہ گاہوں کی متاثرین کو اشد ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت، صوبوں، مرکزی و صوبائی محکموں کے اشتراک عمل سے کام کر رہی ہے، فوری طور پر 5 ارب روپے جاری کئے گئے، ہر جاں بحق کے خاندان کو 10 لاکھ روپے کی ادائیگی جاری ہے، 25 ہزار روپے کی سیلاب متاثرین کو فوری نقد ادائیگی کی جارہی ہے جس پر 80 ارب خرچ ہوں گے،

    انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہی کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ تنہا وفاقی یا صوبائی حکومتیں متاثرین کو مکمل بحال نہیں کر سکتیں، عالمی اداروں، تنظیموں، ممالک اور مالیاتی اداروں کا ہنگامی تعاون درکار ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے بڑے حصے کو پہلے ہی آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے، پہلے دن سے ذاتی طور پر ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہوں، وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ 2022 قائم کیا ہے تاکہ متاثرین کی امداد اور بحالی کی کوششوں میں مزید تیزی آئے۔

    انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں، تنظیموں کی مدد سے متاثرین کی مدد میں بڑی مدد ملے گی، فوج، سرکاری ادارے، شہری خدمات کے محکمے، ڈاکٹرز، نرسز اور رضا کار مشکل حالات میں بڑے جذبے سے کام کر رہے ہیں، متاثرین کی مدد کرنے والے تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ سیلاب کے نتیجہ میں عوام کو پیش آنے والے مشکل حالات پر دل نہایت غمگین ہے، جلد سے جلد ہر متاثرہ پاکستانی تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

    وزیراعظم نے انٹرنیشل پارٹنرز سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وسائل کی دستیابی سے ہماری مدد کریں۔ طبی عملے سمیت درپیش حالات سے نمٹنے کے لئے ضروری اشیاء کی فراہمی درکار ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے انٹرنیشنل پارٹنرز کو متاثرہ علاقوں کے دورے کی دعوت بھی دی،حکومت پاکستان تباہ حال علاقوں میں انٹرنیشنل پارٹنرز کے دورے کے انتظامات کرے گی۔

  • وویک اوبرائے نے بتایا دیا کہ وہ شادی کے لئے کیسے راضی ہوئے

    وویک اوبرائے نے بتایا دیا کہ وہ شادی کے لئے کیسے راضی ہوئے

    بالی وڈ اداکار وویک اوبرائے کا ایک انٹرویو کلپ ہو رہا ہے بہت وائرل اس میں انہوں نے بتایا کہ وہ شادی کےلئے کیسے راضی ہوئے. وویک نے کہا میری زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب میں بہت پریشان تھا اور میری فلمیں بھی خراب جا رہی تھیں. میں‌اپنی امی کی گود میں سر رکھ کر رویا کرتا تھا اور پوچھا کرتا تھا امی یہ سب میرے ساتھ کیوں ہو رہا ہے میں ڈپریشن میں جا رہا ہوں. تو میری والدہ مجھے کہا کرتی تھیں شادی کر لو سب ٹھیک ہو جائیگا .میں نہیں‌ مانتا تھا .میری والدہ کوششیں کرتی رہیں میں نے کہا میں نے نہیں‌ کرنی شادی. میں کسی فلم کی شوٹنگ کےلئے لندن گیا تھا وہاں سے واپسی پہ ماں کو کال کی اور بتایا واپس آرہا ہوں. تو ماں نے کہاکہ میں نے ایک لڑکی پسند کی ہے وہ آسٹریلیا میں

    اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں‌ منانے گئی ہے مل لو اس سے جا کے، اس کے بعد میں‌کبھی شادی کا نہیں‌کہوں‌گی. میں گیا وہاں اور اس سے ملا میں بہت امپریس ہوا، وہ بالکل سادے کپڑوں میں‌آئی سادے بال بنائے ہوئے تھے بغیر میک اپ کے تھی. میں ہیرو گیری کررہا تھا اس نے مجھے پوچھا کیا کرتے ہو میں نے کہا ایکٹر ہوں‌بولی وہ تو آپکا کام ہے آپ ہیں کون کیسے ہو اس سوال کے بعد مجھے لگا کہ بس اسی سے شادی کرنی ہے لہذا میں نے اس سے شادی کا فیصلہ کر لیا ماں کو کال کی تو شرمندہ ہو رہا تھا لیکن میں نے کہا کہ مجھے لڑکی پسند ہے. جولائی میں‌ ملا ، ستمبر میں منگنی اور اکتوبر میں شادی ہو گئی ہماری اور آج میں بہت خوش ہوں.

  • مریم نواز، رانا ثناء، فضل الرحمان و دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

    مریم نواز، رانا ثناء، فضل الرحمان و دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

    رہنماء مسلم لیگ (نواز) مریم نواز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ، جمیعت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان و دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی ہے.

    باغی ٹی وی اسلام آباد: مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر رہماؤں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے.
    مقامی وکیل علی اعجاز بٹر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے، مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں عطا اللہ تارڑ اور مریم اورنگ زیب کو بھی توہین عدالت درخواست میں فریق بنایا گیا۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ: سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ مریم نواز اور دیگر کو پاکستان کے اداروں اور عدلیہ کا احترام نہیں لیکن بدقسمتی سے یہ لوگ حکومتی معاملات بھی چلا رہے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق: فریقین نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے بارے میں بار بار توہین آمیز زبان استعمال کی اور ان بیانات کے ذریعے نظام انصاف کی ساکھ پر سوال اٹھا کرعوام کا عدلیہ سے اعتماد اٹھانے کی کوشش کی گئی۔

    درخواست کے ساتھ مریم نواز شریف کی 25 جولائی کی پریس کانفرنس کا ٹرانسکرپٹ بھی جمع کروایا گیا ہے. جبکہ استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین پیمرا کو عدلیہ کے خلاف پریس کانفرنسز کا ٹرانسکرپٹ جمع کرانے کی ہدایت کی جائے جبکہ مریم نواز شریف اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”534043″ /]

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں سماعت سے قبل حکومتی اتحاد کے رہنماؤں نے 25 جولائی کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے الیکشن اور آرٹیکل 63 اے سے متعلقہ معاملے پر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ دہرایا تھا، تاہم اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق یہ پریس کانفرنس ’سپریم کورٹ کو دباؤ میں لانے کی کوشش‘ تھی.

    اسلام آباد میں ہونے والی اس پریس کانفرنس میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنما شریک ہوئے تھے.

    پریس کانفرنس کا آغاز مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے کیا تھا، جنہوں نے ’بینچ فکسنگ‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے اسے ایک ’جرم‘ قرار دیا اور کہا کہ ہمارے ہاں انصاف کے نظام کا حال یہ ہے کہ ’جب کوئی پٹیشن آتی ہے تو لوگوں کو پہلے سے پتہ ہوتا ہے کہ بینچ کون سا ہے اور وہ بینچ کیا فیصلہ دے گا۔‘

    مریم نواز نے کہا تھا: ’مجھے میرے ہمدردوں نے مشورہ دیا کہ آپ یہ پریس کانفرنس نہ کریں کیونکہ اس سے آپ کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت اپیل پر اثر پڑ سکتا ہے تاہم میں نے انہیں جواب دیا کہ عوام کے سامنے حقائق سامنے رکھنے چاہییں۔‘

    انہوں نے مزید کہا تھا: ’کسی بھی ادارے کی توہین باہر سے نہیں، ادارے کے اندر سے ہوتی ہے اور ٹھیک اور انصاف پر مبنی فیصلے پر جتنی تنقید کی جائے، وہ معنی نہیں رکھتی۔‘ اس پریس کانفرنس کو قومی سطح پر ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر کیا گیا تھا.

  • شفالی شاہ نے بتا دیا کہ رشتہ کیسے اور کب خراب ہوتا ہے؟

    شفالی شاہ نے بتا دیا کہ رشتہ کیسے اور کب خراب ہوتا ہے؟

    شیفالی شاہ بالی ووڈ کی مقبول اداکارہ ہیں انہوں نے حال ہی میں فلم ڈارلنگز میں عالیہ بھٹ کی ماں کا کردار ادا کیا ہے، انہوں نے اس میں ایسی خاتون کا کردار ادا کیا ہے جو نجی زندگی میں مسائل سے گزرتی ہے . شفالی شاہ نے ایک انٹرویو دیا ہے اس میں ان سے جب پوچھا گیا کہ رشتے میں خرابی کی سب سے بڑی وجہ کیا دیکھتی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ” بے عزتی ” . اداکارہ نے کہا کہ بے عزتی مزاح کی بہت ہلکی سطح سے شروع ہو سکتی ہے اور آپ کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ اس طرح شروع ہوتی ہے کہ ” آرے وہ تو ایسا ہی کرتا ہے… آرے وہ تو ویسا ہی کرتا ہے… آرے اسکو تھوڑی نہ سمجھ آئے گی”۔ لیکن مسلسل یہ چیز چلتی رہے اور آپ کو دبایا جائے اور ایک وقت ایسا آئے کہ آپ کو بھی لگے کہ اگر

    میں نے کچھ کہا یا اپنے خیالات کا اظہار کیا تو اس کا ری ایکشن پتہ نہیں کیا ہو گا تو پھر یہ سیریس مسئلہ ہے جس کے بارے میں آپ کو سوچنا چاہیے. اگر آپ کسی کے سامنے اپنے آپ کو لیکر ہی فکر مند ہیں تو یقینا یہ ایک بہت ہی گھمبیر اور سیریس مسئلہ ہوتا ہے. یاد رہے کہ شیفالی شاہ آج کل اپنی انتہائی کامیاب سیریز دہلی کرائم کے دوسرے سیزن کی تیاری کر رہی ہیں۔ پہلے سیزن نے پچھلے سال بین الاقوامی ایمی ایوارڈ جیتنے والا پہلا ہندوستانی شو بن کر تاریخ رقم کی.

  • مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا  ہے۔ آرمی چیف

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب متاثرہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    250ویں کور کمانڈرز کانفرنس آج جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی جسکی صدارت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی ہے۔

    اس کانفرنس میں فورم کو ملک میں سیلاب کی صورتحال اور آرمی فارمیشنز کی جانب سے جاری امدادی کارروائیوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے بیرونی اور داخلی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے.

    آئی ایس پی آر کے مطابق: آرمی چیف نے آپریشنل کاروئیوں کو برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کوششیں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
    اجلاس میں شامل اعلی آرمی آفسران نے سیلاب کی صورتحال اور فوج کی طرف سے جاری ریلیف فنڈز اور کاروئیوں کا بھی جائزہ لیا ہے، غیرمعمولی بارشوں اور سیلاب سے قیمتی جانوں کے ضیاع اور مالی طور پر ہونے والے وسیع نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سیلاب متاثرین کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھنے کا عزم کیا۔

    آرمی چیف نے جاری امدادی کوششوں کو سراہاتے ہوئے سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایت کی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ : مصیبت کی اس گھڑی میں امداد کیلئے ہر ایک سیلاب زدہ علاقہ اور متاثرہ فرد تک ہمیں پہنچنا چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہئے.

    آئی ایس پی آر کے مطابق: کانفرنس میں سول انتظامیہ کے ساتھ ریسکیو اور بحالی آپریشنز کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے.

  • کپل شرما 10 ستمبر سے پھر لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں گے

    کپل شرما 10 ستمبر سے پھر لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں گے

    کپل شرما شو کو بھارت سمیت پاکستان میں بھی بہت پسند کیا جاتا ہے. اس شو میں بالی وڈ کی بڑی بڑی شخصیات شوق سے جاتی ہیں شاہ رخ خان اور امیتابھ بچن جیسے بڑے آرٹسٹ بھی اس شو میں جانے میں فخر محسوس کرتے ہیں. کپل شرما کا نیا سیزن 10 ستمبر سے شروع ہو رہا ہے جس میں ایک بار پھر ہمیں بالی وڈ کی شخصیات کے انٹرویوز دیکھنے کو ملیں گے. کہا جا رہا ہے اس شو کا سیٹ تیار ہو چکا ہے اور آج کل کپل شرما شو کی تیاری کررہے ہیں حال ہی میں‌ کپل شرما نے اپنی ٹیم کے ساتھ شو کا پرومو بھی ریکارڈ کروایا ہے. اطلاعات یہ بھی ہیں کہ نئے سیزن

    میں بہت سارے نئے نوجوان کامیڈین کو متعارف کرایا جائے گا جبکہ شو کا طریقہ کار پہلے جیسا ہی ہوگا۔کپل شرما نے سیزن کے پروگرامز کی ریکارڈنگ بھی شروع کر دی ہے حالیہ دنوں میں جو ریکارڈنگ کی گئی ہے وہ بالی وڈ کے کھلاڑی اکشے کمار کے ساتھ کی ہے. کپل شرما شو میں پہلے جو ٹیم دکھائی دے رہی تھی کہا جا رہا ہے اس ٹیم سے بہت سارے لوگ ہمیں اس سیزن میں‌ نظر نہیں آئیں گے. پہلے تو نوجوت سنگھ سدھو کی جگہ ارچنا پورن سنگھ نے لے لی اب کی بار کون ہو گا یا وہی ہوں گی شو میں، اس ھوالے سے تفصیلات آنا باقی ہیں.