Baaghi TV

Author: +9251

  • کامیڈین علی اصغر آخر  کیوں ہیں مایوس؟

    کامیڈین علی اصغر آخر کیوں ہیں مایوس؟

    بالی وڈ میں چند ایک کامیڈین کافی مشہور ہیں علی اصغر ان میں سے ایک ہیں. علی اصغر بہترین کامیڈی کرتے ہیں کمال کی کامیڈی ٹائمنگ رکھتے ہیں. علی اصغر اداکار رشی کپور کی بہترین نقل اتارا کرتے تھے ایک بار رشی کپور نے کہا بھی تھا کہ اداکار علی اصغر میری بہت اچھی نقل اتارتے ہیں اور میں ان کے اس فن س بہت متاثر ہوں. علی اصغر نے کافی عرصہ تک کپل شرما شو میں کام کیا اس شو میں وہ ایک عورت کا کردار نبھاتے تھے لیکن اچانک سے انہوں نے 2017 میں اس شو سے علیحدگی اخیتار کر لی کہا جاتا ہے کہ علیحدگی شو میں کسی دوسرے کامیڈین کی وجہ سے اخیتار کی. لیکن علی اصغر نے حال ہی

    میں ایک انٹرویو میں کپل شرما شو سے علیحدگی کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ایک عرصے سے کامیڈی ہی کرتا آرہا ہوں سب مجھے کامیڈین کے طور پر ہی جانتے ہیں اور دیکھنا بھی صرف عورت کے روپ میں چاہتے ہیں. ٹھیک ہے یہ میرے چاہنے والوں کی محبت ہے لیکن میں عورتوں کے کردار کرکے تھک گیا ہوں اور مجھے ڈر لگنے لگا تھا کہ کہیں میری صلاحیتیں صرف ایک ہی طرح کا کردار کرنے سے دب کر نہ رہ جائیں اس لئے مجھے کپل شرما شو سے علیحدہ ہونا پڑا. لیکن میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ میری صلاحیتوں کو کوئی آزمانے کو تیار ہی نہیں مجھے کوئی دوسرا رول دینے کو تیار ہی نہیں جو کہ میرے لئے مایوس کن بات ہے.

  • آئمہ بیگ ہو گئیں شرمندہ لیکن کیوں؟

    آئمہ بیگ ہو گئیں شرمندہ لیکن کیوں؟

    نوجوان نسل کی نمائندہ گلوکارہ آئمہ بیگ بہت پاپولر ہیں ان کی آواز میں گائے ہوئے گیت پاکستانی کی نامور ہیروئینز پر پکچرائز ہوتے ہیں. آئمہ بیگ نے گلوکاری کو باقاعدہ کیرئیر بنانے سے پہلے ٹی وی کے پروگرامز کئے. آئمہ بیگ چونکہ گلوکاری کے شعبے میں ہی جانا چاہتی تھیں لہذا انہوں نے گلوکاری کے کیرئیر کو اپنا لیا. آج آئمہ کا شمار پاکستان کی صف اول کی گلوکاروں میں ہوتا ہے. آئمہ ساحر علی بگا جیسے بڑے موسیقاروں کے ساتھ کام کر چکی ہیں. پی ایس ایل کا اینتھم بھی گا چکی ہیں. آئمہ بیگ نے بے شک اردو میں کافی پروگرامز کئے ہیں لیکن آج بھی وہ اردو بولنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہو جاتی ہیں. ان سے اگر کوئی مسلسل اردو میں بات کرنا چاہے تو وہ گھبرا جاتی ہیں.ایسا ہی حال ہی میں ہوا اس وقت جب

    ایک صحافی نے ان سے انٹرویو کیا آئمہ مسلسل انگلش میں بات کررہی تھیں صحافی نے گلوکارہ کو بار ہا منع کیا اور کہا کہ آئمہ آپ اردو میں بات کریں. آئمہ ایک لمحے کو اردو میں بات کرتیں تو دوسرے ہی لمحے پھر انگلش میں بات کرنے لگ جاتیں جب صحافی نے بار بار ٹوکا تو ایک وقت میں وہ شرمندہ ہوکر کہنے لگیں اصل میں ارد گرد کا جیسا ماحول ہو آپ ویسی ہی زبان بولنے لگ جاتے ہو.مجھے اچھی اردو بولنی آتی ہے لیکن انگلش میں زرا روانی ہے اس لئے شاید بے اختیار انگلش منہ سے نکلنا شروع ہو جاتی ہے.

  • لال سنگھ چڈھا کیا ہو گئی بری طرح ناکام ؟

    لال سنگھ چڈھا کیا ہو گئی بری طرح ناکام ؟

    بالی وڈ کے پرفیکشنسٹ عامر خان کی فلم لال سنگھ چڈھا جس کی ریلیز سے قبل یہ فلم ہر حوالے سے رہی چرچا میں .یہ فلم اس لئے بھی چرچا میں رہی کیونکہ یہ ہالی وڈ فلم فارسٹ گمپ کا ری میک ہے. 11 اگست کو ریلیز ہونے والی اس فلم کے بارے میں ڈائریکٹر اور اداکاروں کی طرف سے بڑے بڑے دعوے کئے گئے. عامر خان اس فلم کو لیکر کافی پرجوش تھے ان کا کہنا تھا کہ اگر اسکو شائقین کی طرف سے پسند نہ کیا گیا تو مجھے بہت برا لگے گا.فلم ریلیز ہونے کے بعد کے جو باکس آفس رزلٹس آئے ہیں وہ کافی مایوس کن ہیں.کہا جا رہا ہے کہ فلم اچھا بزنس نہ کر پانے کی وجہ سے عامر خان کو لگا ہے ایک بڑا دھچکا. لال سنگھ چڈھا کی اب تک کی کمائی ان کی پہلی فلموں کے بزنس سے کافی کم ہے. فلم نے پہلے چھ دن میں صرف

    چھیالیس کروڑ کمائے. فلم کی ابھی تک کی کمائی کو دیکھتے ہوئے اسے ناکام ترین فلم کہا جا رہا ہے. بلکہ اس سال میں جتنی بھی فلمیں ریلیز ہوئی ہیں ان میں سب سے کم بزنس لال سنگھ چڈھا کا ہے یوں فلم بری طرح ناکامی سے دوچار ہو گئی ہے. دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فلم کے بائیکاٹ کا جو ٹرینڈ چل رہا تھا اس نے بھی فلم کے بزنس کو کافی متاثر کیا ہے اور ایک بڑا طبقہ فلم دیکھنے ہی نہیں گیا.دوسری طرف فلم کے ڈسٹری بیوٹرز بھی کافی مایوس ہیں.

  • فاطمہ جناح پر بنی سیریز 2023 میں ریلیز کی جائیگی

    فاطمہ جناح پر بنی سیریز 2023 میں ریلیز کی جائیگی

    مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح پر بننے والی سیریز ہے کافی چرچہ میں.شائقین کے لئے یہ سیریز اس لئے بھی زیادہ دلچپسی کا باعث بن رہی ہے کیونکہ اس میں سجل علی فاطمہ جناح کا کردار ادا کررہی ہیں. اس سیریز میں فاطمہ جناح کے لڑکپن اور جوانی کا کردار سندس فرحان جب کہ ان کی ادھیڑ عمری کا کردار سجل علی اور زائد العمری کا کردار سامعہ ممتاز کر رہی ہیں. ٹریلر کافی شاندار ہے اور دیکھ کر باقاعدہ محسوس ہو رہا ہے کہ ہم شاید قیام پاکستان کے وقتوں کو اپنی نظروں سے دیکھ رہے ہیں یا پاکستان بنتا ہوا دیکھ رہے ہیں. سوشل میڈیا سے راتوں رات شہرت حاصل کرنے والی دنا نیر مبین اس میں ایک صحافی کا کردار کررہی ہیں اس صحافی کے کردار کا نام انیتا پونا والا ہے. عمر عبداللہ نے فاطمہ جناح کے سیکرٹری جوزف کا کردار کیا ہے. اس

    سیریز میں مفصل طریقے سے فاطمہ جناح کی زندگی کا احاطہ کیا گیا ہے. یہاں تک کہ اس میں فاطمہ جناح کو صدارتی امیدوار کا الیکشن لڑتے ہوئے بھی دکھایا گیاہے. ٹریلر سے محسوس ہو رہا ہے کہ تمام اداکاروں نے اپنے اپنے کردار ادا کرنے کےلئے جی جان لگا دی ہے. فاطمہ جناح پر بننے والی سیریز کو دانیال کے افضال نے ڈائریکٹ کیا ہے .سیریز قیام پاکستان اور قیام پاکستان سے پہلے کے حالات کے گرد گھومتی ہے جو یقینا دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں. سیریز کا ٹریلر شائقین نے بہت پسند کیا ہے اور یقینا وہ اس کی ریلیز کے منتظر ہیں تاہم اطلاعات یہی ہیں کہ اگلے برس فاطمہ جناح پر بننے والی سیریز ریلیز کی جائیگی.

  • پی ٹی آئی کی امریکی لابنگ کمپنیز کے ساتھ معاہدوں کی چونکانے والی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں. شیری رحمان

    پی ٹی آئی کی امریکی لابنگ کمپنیز کے ساتھ معاہدوں کی چونکانے والی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں. شیری رحمان

    وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی امریکی لابنگ کمپنیز کے ساتھ معاہدوں کی چونکانے والی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

    وفاقی وزیر شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں ماہ پی ٹی آئی نے امریکی کمپنی فینٹن آرلُک سے معاہدے کیا اور پی ٹی آئی کی سابق سی آئی اے اہلکار کی کمپنی کے ساتھ معاہدوں کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ مئی 2021 میں امریکی کمپنی کے ساتھ عمران خان کے سابق معاون خصوصی نے معاہدہ کیا اور پی ٹی آئی کے لیے مارچ 2022 کا معاہدہ سابق سفیر اسد مجید نے کیا۔

    شیری رحمان نے کہا کہ 7 مارچ کو خط موصول ہونے کے باوجود پی ٹی آئی 22 مارچ کو سابق سی آئی اے کی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کر رہی تھی۔ عمران خان نے امریکہ میں اپنا اچھا امیج بنانے کے لیے لابنگ فرم کے ساتھ معاہدے کیا۔
    انہوں نے کہا کہ اگر امریکی حکومت نے دھمکی آمیز پیغام بھیجا تھا تو پی ٹی آئی کو وہاں اپنی تشہیر کی ضرورت کیوں پڑی؟ اور بیرونی سازش کا بیانیہ بنانے کے لیے عمران خان نے پاکستان کے مفادات اور خارجہ تعلقات داؤ پر لگا دیئے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں لکھاری عمر اظہر نے کچھ دستاویزات اپنے ٹوئیٹر پر شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ: ان دستاویزات سے تصدیق ہوتی کہ تحریک انصاف نے لابنگ کیلئے جس لابنگ فرم کے ساتھ معاہدہ کیا ہے اس لابنگ فرم کا سربراہ امریکی انٹیلجنس ایجنسی سی آئی اے کا سابق اسٹیشن چیف اسلام آباد رابرٹ گرینیئر نکلا ہے.

    امریکہ پر اپنی حکومت گرانے کی سازش کا الزام لگانے والے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جماعت امریکہ میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے تین مختلف لابنگ فرموں سے معاہدے کر چکی ہے جن میں سے ایک لابنگ فرم کے سربراہ رابرٹ گرینیئر پاکستان میں بطور سی آئی اے اسٹیشن چیف بھی تعینات رہ چکے ہیں۔

  • مینوفیکچررز پر اسپیشل انکم ٹیکس عائد کرنے پر غور

    مینوفیکچررز پر اسپیشل انکم ٹیکس عائد کرنے پر غور

    وفاقی حکومت نے مینوفیکچرنگ پر 5 فیصد اسپیشل انکم ٹیکس عائد کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔

    ٹربیون میں شائع خبر کے مطابق حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 860 پروڈکٹ لائنز پر ان کی درآمدات کی اجازت دینے کے عوض ان پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز پر غور نہیں کیا گیا۔ ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ کی صورت میں پانچ اہم سیکٹرز کے لیے ٹیکس رعایتیں دینے کے لیے ریونیو حاصل ہوسکتا تھا۔

    باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ آئندہ اجلاس میں انھیں ڈیوٹی کے نفاذ کے بدلے میں درآمدات پر سے پابندی اٹھانے پر قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ میں منی بجٹ کو فائنل کرنے کے لیے متعدد اجلاس ہوچکے ہیں۔ ایک اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں بھی ہوا تھا۔

    حکومت ان مینوفیکچررز پر 1 تا 5 فیصد خصوصی انکم ٹیکس عائد کرنے پر غور کررہی ہے جبکہ جن کی سالانہ آمدن پانچ کروڑ یا زائد ہے مگر وہ اپنی پیداوار کا دس فیصد سے کم برآمد کرتے ہیں۔ یہ اسپیشل انکم ٹیکس سپرٹیکس کی جگہ پر عائد کیا جائے گا مگر اس کی حد پانچ کروڑ روپے سے شروع ہوگی جو سپرٹیکس کے معاملے میں پندرہ کروڑ روپے تھے۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ صنعتوں کو ایک ’ نگیٹیو لسٹ ‘ کے تحت نئے ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے گا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے اس اقدام سے پاکستان میں صنعت کاری کی حوصلہ شکنی ہوسکتی ہے کیونکہ مینوفیکچرنگ پر پہلے ہی بہت زیادہ ٹیکس عائد ہوچکے ہیں.
    وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 4 فیصد سپرٹیکس کی جگہ پر ان مینوفیکچررز پر 5 فیصد تک انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز جو کچھ بھی ایکسپورٹ نہیں کرتے۔

  • سی پیک اگلے مرحلے پر عملدرآمد کی تیاری شروع کردی. وزیراعظم

    سی پیک اگلے مرحلے پر عملدرآمد کی تیاری شروع کردی. وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ گزشتہ 10 سالوں کے دوران سی پیک نے پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد رکھتے ہوئے پاکستان کو ماضی میں بجلی کی قلت اور کمزور بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔

    گلوبل ٹائمز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بطور وزیراعظم میں اپنے مستقبل کے دوطرفہ اقتصادی تعاون کے ایجنڈے کے سنگ بنیاد کے طور پر سی پیک منصوبے کی بروقت تکمیل کو ترجیح دیتا ہوں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اگلے مرحلے کی مشترکہ ترجیحات پر عمل درآمد کے لیے تیاری شروع کر دی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مختصر مدت میں ہم زیر تعمیر بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے تمام سیاسی دھڑے اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر مکمل اتفاق رائے رکھتے ہیں۔ اتحادی حکومت کی ترقیاتی حکمت عملی کا انحصار اس بات پر ہے کہ معاشی بنیادوں کو کس طرح ٹھیک کیا جائے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے، ہمیں فوری طور پر طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ڈھانچہ جاتی بنیادیں رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری ترقیاتی حکمت عملی کا بنیادی مقصد پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود اور پاکستان کو ایک خود انحصار ریاست بنانا ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز باضابطہ طور پرسی پیک اتھارٹی کو ختم کرنے کی منظوری دے دی جو چین کی رضامندی سے مشروط ہے۔
    حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے اربوں ڈالر کے منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد میں مدد ملے گی۔یہ فیصلہ 2ماہ قبل وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے بھیجی گئی اس سمری کی بنیاد پر کیا گیا جس میں سی پیک اتھارٹی کو تحلیل کرنے کی سفارش کی گئی تھی جو اپنے قیام سے ہی متنازع ہے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سی پیک کے مفاد میں ہے کہ منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اتھارٹی کو تحلیل کر دیا جائے۔
    انھوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ اسٹریٹجک اتحادی چین کو سب سے پہلے اعتماد میں لیا جائے کہ سی پیک اتھارٹی کی تحلیل سے یہ تاثر نہ لیا جائے کہ پاکستان سی پیک منصوبے کو رول بیک کر رہا ہے۔

    وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ چینی حکام کی رضامندی کے بعد سی پیک اتھارٹی ایکٹ منسوخ کر دیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ چین نے سی پیک کے نفاذ کے طریقہ کار کے بارے میں پاکستان کے اندرونی فیصلہ سازی میں مداخلت نہیں کی اور ماضی میں اس کا نام ایسے لوگوں کو بے اثر کرنے کے لیے غلط استعمال کیا گیا جو سی پیک اتھارٹی میں فوجی بالادستی کے حق میں نہ تھے، سی پیک اتھارٹی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ (ن) لیگ کی پرانی پالیسی کے مطابق ہے جس کے مطابق وہ مذکورہ اتھارٹی جیسے متوازی سیٹ اپ کے قیام کے حق میں نہیں ہے۔

    احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی سی پیک منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد میں رکاوٹ بنی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وزارت منصوبہ بندی سہولت کار کا کردار ادا کرے گی جبکہ سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد متعلقہ وزارتوں کے ہاتھ میں ہوگا۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت پرانے ادارہ جاتی انتظامات کو بحال کرے گی جس نے 2014 سے 2018 کے درمیان سی پیک منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد میں مدد کی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک سیکرٹریٹ کو وزارت منصوبہ بندی میں بحال رکھا جائے گا۔

  • حرامانی کی ہو گئی بستی جئی

    حرامانی کی ہو گئی بستی جئی

    اداکارہ حرا مانی جو کہ چھوٹی سکرین کی بہترین اداکارہ ہیں لوگ ان کو پسند کرتے ہیں اور ان کو دیکھنا چاہتے ہیں. حرا مانی کو گلوکاری کا بھی شوق ہے اسی شوق کی تسکین کے لئے انہوں نے کشمیر گھی والوں کے لئے فراری کے نام سے ایک گیت بھی گایا اس گیت کو بہت پسند کیا گیا. حرا مانی آج کل ہیں بیرون ملک، حال ہی میں ان کی ایک وڈیو وائرل ہوئی ہے اس میں وہ ایک کنسرٹ کررہی ہیں اور کنسرٹ میں کافی پرجوش ہیں. وہ اپنے ہی ایک ڈرامے کا او ایس ٹی جا تجھے معاف کیا گا رہی ہیں اور اس دوران انہوں نے تین بار مائیک آڈینز کی طرف کیا اور انہیں ریسپانس دینے کو کہا لیکن کسی نے بھی ان کو ریسپانس نہ دیا. حرا مانی خود ہی

    اپنا گانا جا تجھے معاف کیا بے گاتی رہیں. جو وڈیو وائرل ہو رہی ہے اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حرا مانی کے گلے سے آواز نہیں نکل رہی اور ان کے سر بکھرے پڑے ہیں لیکن حرامانی کافی پر اعتماد نظر آرہی ہیں.سوشل میڈیا پر اس وڈیو کے بعد حرامانی کا کافی مذاق بنایا جا رہا ہے اور انہیں کوئی بے سری کہہ رہا ہے تو کوئی ان سے معافی مانگ رہا ہے کہ خدا کے لئے گانا نہ گائیں بلکہ گانا گانا چھوڑ دیں.

  • پرومیکس انڈیا ایوارڈز 2022 گولڈ پرائز، دھوپ کی دیوار اور قاتل حیسنائوں کے نام

    پرومیکس انڈیا ایوارڈز 2022 گولڈ پرائز، دھوپ کی دیوار اور قاتل حیسنائوں کے نام

    پاکستانیوں‌ کے لئے ہے خوشخبری، دھوپ کی دیوار اور قاتل حسیناؤں کے نام نے پرومیکس انڈیا ایوارڈز 2022میں گولڈ پرائز اپنے نام کر لیا ہے. نامور پاکستانی میوزک آرٹسٹ ذیشان پرویز کو قاتل حسیناؤں کے نام میں بہترین پروگرام ٹائٹل سیکوئنس کیلئے گولڈ ایوارملا، جب کہ معروف ویژیول آرٹسٹ رہادا تاجور نے دھوپ کی دیوارکیلئے بہترین keyآرٹ کے لئے ایک اور گولڈ ایوارڈ جیتا۔ سرحد کے دونوں اطراف بسنے والے ڈیجیٹل ناظرین کے فیورٹ احد رضا میر اور سجل علی نے دھوپ کی دیوار میں بہترین سوشل میڈیا کمپین برائے پروگرام کا ایوارڈ حاصل کیا۔یاد رہے کہ دھوپ کی دیوار معروف ڈرامہ اور ناول نگار عمیرہ احمد نے لکھا ہے

    جب کہ اسکے ڈائریکٹر حسیب حسن ہیں.کہانی میں‌جو واقعات کو شامل کیا گیا ہے وہ حقیقی ہیں ، کہانی پاکستان اور بھارت کے 2 خاندانوں کے گرد گھومتی ہے۔ ویب سیریز دراصل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزیوں پر شہید ہونے والے اہلکاروں کے خاندان کے درد کو سامنے لانے کی ایک کوشش ہے۔
    قاتل حیسنائوں کے نام کی ڈائریکشن مینا گور نے کی ہے انہوں کہانی لکھی بھی ہیں. کہانی خواتین کے گرد گھومتی ہے اور شائقین نےاس میں محبت، انتقام، انقلاب اور دوسروں کی خدمت کرنے کی مختلف کہانیاں دیکھیں.

  • الیکشن کمیشن کے کاغذوں میں عمران خان اب بھی رکن قومی اسمبلی ہیں

    الیکشن کمیشن کے کاغذوں میں عمران خان اب بھی رکن قومی اسمبلی ہیں

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے کاغذوں میں عمران خان اب بھی رکن اسمبلی ہیں۔

    الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ سے حاصل کئے گئے تحائف ظاہرنہ کرنے پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی نااہلی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔
    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ بار بار کہا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن استعفے منظور نہیں کررہا۔ دکھا دیں اگر سابق ڈپٹی اسپیکر نے کوئی استعفیٰ بھیجا ہو۔ الیکشن کمیشن کے کاغذوں میں عمران خان اب بھی رکن اسمبلی ہیں۔

    بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ عمران خان رکن اسمبلی نہیں ہیں اس لئے انہیں نوٹس جاری نہیں ہوسکتا۔کوئی رکن اسمبلی استعفے کا اعلان کرکے ایوان میں نہ جائے تو استعفیٰ منظور تصور ہوتا ہے۔اسپیکر کی جانب سے بھیجا گیا ریفرنس 24 اگست کو مقرر ہے۔
    چیف الیکشن کمشنر نے بیرسٹر گوہر خان سے کہا کہ کمیشن میں قانونی بات کریں باقی گفتگو ٹی وی پر کیا کریں۔ استعفیٰ منظورکرنے کے حوالے سے بیانات بھی نہ دیا کریں۔

    الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت 22 اگست تک ملتوی کردی۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے قائدین کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔ یہ ریفرنس رواں ماہ الیکشن کمیشن پہنچا جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسے آج سماعت کے لیے مختص کیا تھا۔

    توشہ خانہ سکینڈل طویل عرصے سے خبروں میں ہے جس کی وجہ یہ الزام ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے توشہ خانے سے سستے داموں تحائف خریدنے کے بعد انھیں بیچ دیا تھا۔
    یہاں یہ بات اہم ہے کہ توشہ خانہ سے تحائف خریدے جاتے ہیں اور انھیں مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے تاہم بعض حلقے یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ اخلاقی طور پر تحفہ بیچنا غلط ہے۔ البتہ عمران خان اس بارے میں کہہ چکے ہیں کہ ’میرا تحفہ، میری مرضی۔

    ریفرنس کی کاپی کے مطابق درخواست گزار نے کہا ہے کہ عمران خان پر قانونی طور پر لازم تھا کہ وہ ہر مالی سال کے آخر میں اپنے، اپنی اہلیہ اور ڈیپینڈینٹس کے تمام تر اثاثے، چھپائے بغیر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کراتے۔
    دستاویز میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ عمران خان نے ‘جانتے بوجھتے‘ توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کو چھپایا اور یہ کہ انھوں نے ‘قبول کیا ہے جیسا کہ مختلف میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ انھوں نے یہ تحائف فروخت کیے۔ لیکن الیکشن کمیشن کے دستاویزات میں ان کی فروخت بھی چھپائی گئی۔‘

    دستاویز کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کو اپنی حکومت کے دوران کل 58 باکسز تحائف کی صورت میں ملے جن میں مختلف اشیا تھیں۔ یہ تحائف عمران خان نے توشہ خانہ سے 20 اور بعدازاں 50 فیصد رقم ادا کر کے حاصل کیے۔
    ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کی لاگت 30 ہزار سے کم تھی لہٰذا قانون کے مطابق وہ یہ تحائف مفت حاصل کر سکتے تھے جبکہ 30 ہزار سے زائد قیمت کے تحفوں کی قیمت کا 20 فیصد ادا کر کے وہ گفٹس لیے گئے۔