Baaghi TV

Author: +9251

  • کوہ سلیمان میں بارشوں کا نیا سلسلہ،پرویز الٰہی نے ہنگامی اقدامات اٹھانے کا حکم دے دیا

    کوہ سلیمان میں بارشوں کا نیا سلسلہ،پرویز الٰہی نے ہنگامی اقدامات اٹھانے کا حکم دے دیا

    کوہ سلیمان میں بارشوں کا نیا سلسلہ، وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کا حکم دے دیا.

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ ہنگامی حالات میں ضلعی انتظامیہ، ریسکیو1122 اور پی ڈی ایم اے کوآرڈینیشن کے ساتھ تمام ضروری اقدامات کریں۔ راجن پور اور ڈی جی خان میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے
    ۔

    چودھری پرویزالٰہی کا مذید کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے الرٹ رہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے۔ وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے امدادی کیمپس کی تعداد بڑھانے کی بھی ہدایت کی.

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لئے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ متاثرہ علاقوں میں ادویات۔ کھانے اور مویشیوں کے لئے چارے کی فراہمی تسلسل کے ساتھ یقینی بنائی جائے۔ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے۔

  • ایران اور پاکستان کے تجارتی روابط سے خطہ میں خوشحالی آئے گی،سید نوید قمر

    ایران اور پاکستان کے تجارتی روابط سے خطہ میں خوشحالی آئے گی،سید نوید قمر

    وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کے تجارتی روابط سے خطہ میں خوشحالی آئے گی۔ ایرانی وزیر روڈ اربن ڈویلپمنٹ روستم گہسامی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سید نوید قمر نے کہا کہ ایران کے ساتھ روایتی تجارت کی راہ ہموار کرنے پر کام کررہے ہیں ، فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے حوالے سے ٹیرف میں خاطر خواہ کمی کی جائے گی، بارڈر پر گڈ زٹریڈ سے متعلق اکنامک زونز بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد سے بات چیت میں پاک ایران تجارت کو فروغ دینے میں پیش رفت کا جائزہ لیا ہے ، دونوں ممالک کے تجارتی روابط خطے میں خوشحالی لائیں گے ۔

    ایرانی وزیر روستم گہسامی نے کہا کہ پاکستان کی شاندار میزبانی پر مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں جے ای سی میں 6 سال وقفہ ہونے سے تجارتی دوریاں بڑھ گئیں، بارڈر مارکیٹ کے رجحان کو فروغ دینا ہوگا ، بارڈر مارکیٹ سے دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کے رابط بھی بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی اشیاء کی فہرست پر سنجیدگی سے کام کریں اور باہمی آمادگی سے معاملات آگے بڑھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران تجارتی تعلقات صرف نشست تک محدود نہیں ہوں گے ہم عملی اقدام کرنے کو ترجیح دیں گے.

    مذید برآں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ اور تحقیق طارق بشیر چیمہ نےایرانی نائب وزیر زراعت عباس عسکر زادہ کی قیادت میں ایرانی وفد کا اپنے دفتر میں استقبال کیا۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ پاک ایران تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس کی بنیاد باہمی طور پر فائدہ مند زرعی تعلقات ہیں تاکہ دونوں ممالک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان بارٹر ٹریڈ جلد شروع ہو جائے گی۔

    بارٹر ٹریڈ کے تحت پاکستان ایرانی سیب کے بدلے نارنجی برآمد کرے گا۔ ایرانی نائب وزیر زراعت نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان بارٹر ٹریڈ کا مستقبل بہت روشن ہے۔ بارٹر معاہدے کے تحت آنے والے دنوں میں دونوں ممالک ان مصنوعات کی فہرست کا تبادلہ کریں گے جن کی وہ مذکورہ معاہدے کے تحت تجارت کریں گے۔

    وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک زراعت کے شعبے کی بہتری اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مل کر کام کریں گے۔ ایرانی نائب وزیر برائے زراعت نے وزارت قومی غذائی تحفظ اور تحقیق میں ان کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کام کرنے پر بہت خوش ہیں اور پاکستان کے ساتھ زرعی شعبے میں تعاون اور شراکت داری کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کی زرعی ضروریات کو پورا کرے گا اور ایران میں پاکستانی زرعی مصنوعات متعارف کرائے گا۔ ایرانی نائب وزیر زراعت نے کہا کہ پاکستان اور ایران پڑوسی ہیں جو اسلام کے رشتے سے جڑے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے وسیع امکانات موجود ہیں، بدقسمتی سے ماضی میں اس سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کو دورہ ایران کی دعوت دی اور زراعت کے شعبے میں تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے ایرانی وزیر زراعت سے ملاقات کی دعوت دی۔

    وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ تجارت اور زراعت کے تعاون میں وسیع امکانات موجود ہیں جنہیں رکاوٹوں کو دور کرکے عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے۔ دونوں فریقوں نے کھاد اور یوریا کے تجارتی اختیارات پر تبادلہ خیال کیا تاکہ مقامی کھپت کو پورا کیا جا سکے۔ ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے دونوں ممالک میں زرعی مصنوعات کی مقامی ضرورت کو پورا کرنے کے عزم کا اظہار کیا

  • عمران خان خود کو سب سے بالاتر سمجھتا ہے،شہباز شریف کی تنقید

    عمران خان خود کو سب سے بالاتر سمجھتا ہے،شہباز شریف کی تنقید

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ آپ خود کو سب سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

    عمران خان کی تقریر کے بعد رد عمل دیتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آپ اپنے آپ کو مقدس اور سب سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

    سابق وزیراعظم نے طنز کرتے ہوئے مزید لکھا کہ آپ حقائق کو توڑ مروڑ کر لوگوں کو الجھا رہے ہیں، آپ لوگوں کے ذہنوں کیساتھ کھیلتے ہیں اور دھوکے بازی سے ان کو نیچے دکھاتے ہیں۔شہباز شریف نے مزید لکھا کہ عمران خان کی آج کی تقریر اس کے سوا کچھ نہیں تھی۔

    اس سے قبل وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جھوٹ بولنےسےبازنہیں آرہے،عمران خان قوم کوگمراہ کررہاہے،عمران خان کاکام فتنہ پھیلانااورالزام تراشی کرناہے،عمران خان کہتےہیں مجھےآزادمیڈیاسےخوف نہیں،جب میڈیا کی آزادی کا قتل کیا جا رہا تھا اس وقت عمران خان کہاں تھے؟عمران خان کےدورمیں صحافیوں پرحملےہوئے،پابندیاں لگیں،جب راناثنااللہ پر20کلوہیروئین کاکیس ڈال کرگرفتارکیااس وقت آپ وزیراعظم تھے.

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جب کلثوم نواز انتقال کرگئیں تو عمران خان نےنمازجنازہ میں رکاوٹیں ڈالیں،کلثوم نواز لندن کے اسپتال میں داخل تھیں تو کہا گیا وہ ہوٹل میں ہیں، عمران خان نےطیبہ گل کی ویڈیوز چیئرمین نیب کو دکھا کر انہیں بلیک میل کیا، جب توشہ خانہ لوٹا جا رہا تھا اس وقت وزیراعظم عمران خان تھے،اگرشہبازشریف یاسلیمان شہبازنےچوری کی توآپ اپنےدورمیں ثابت کرتے،جب ہیرےلوٹےجارہےتھےتواس وقت وزیراعظم آپ تھے.

    انہوں نے کہا کہ یہ جوآج پمزاسپتال میں لیٹاہواہے، یہ مکافات عمل ہے،وقت بدلنےمیں دیرنہیں لگتی،جنہوں نےبھارت ،اسرائیل اورامریکاسےپیسہ لیاوہ ملک کوآزادی دلائےگا؟میڈیاسمیت پوراملک آزادہوچکاہےاب آپ کےاندرجانےکاوقت ہے،پنجاب کو4سال تک لوٹاگیا،ایف سی اوررینجرز والےاڈیالہ گئے تو طبیعت صاف ہو گئی.انہوں نے مزید کہا کہ توشہ خان اور فارن فنڈنگ میں ان کا کوئی بندہ پیش نہیں ہورہا ہے، بہتری اسی میں ہے ریکارڈ دے دیں ورنہ ریکارڈ لینا آتا ہے، اگر خان صاحب پیش نہیں ہوئے تو سن لیں، وزیرداخلہ راناثناء اللہ ہیں۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بہت بڑا اکاؤنٹ پکڑا گیا ہے کل پریس کانفرنس میں بتاؤں گی، جو ایف آئی اے میں پیش نہیں ہوتا اس کو گرفتار کرناچاہیے۔

  • آسٹریلیا  اور پاکستان کے  درمیان تعاون کو مزید فروغ  دینا چاہتے ہیں ،وزیراعظم

    آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان میں آسٹریلیا کے نئے ہائی کمشنر نیل ہاکنز نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وزیراعظم نے گزشتہ برسوں کے دوران آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی مستحکم پیش رفت کو سراہا اور تجارت, سرمایہ کاری، زراعت, لائیو سٹاک، تعلیمی اور تکنیکی تعاون سمیت دیگر مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے پاکستان کی مضبوط خواہش اور عزم کا اعادہ کیا۔

    ججز تقرری سے متعلق آئینی ترمیمی بل 2022 اتفاق رائے سے سنیٹ نےمنظورکرلیا

    آسٹریلوی ہائی کمشنر نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا اور افغانستان سے اپنے شہریوں اور دیگر افراد کے محفوظ انخلاء میں پاکستان کے سہولت کار کردار پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

    بھارت نے پاکستانی چینل سمیت 8 یوٹیوب چینلز بلاک کروادیئے

     
    وزیر اعظم نے گزشتہ سال اگست سے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے عالمی برادری کے ساتھ جاری تعاون پر روشنی ڈالی

    وزیراعظم شہباز شریف کا ہنگامی بنیادوں پر زرعی اصلاحات کے نفاذ کا فیصلہ

     
    وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ برابری، انصاف اور باہمی احترام کے اصولوں پر مبنی پرامن تعلقات کا خواہاں ہے۔ اس تناظر میں جموں و کشمیر کے تنازعہ کا اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق منصفانہ اور پرامن حل ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اس سلسلے میں سہولت کار کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    آسٹریلوی ہائی کمشنر نے آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان موجودہ تعلقات کو مزید بڑھانے اور متنوع بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

  • میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کو فٹ قرار دے دیا

    میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کو فٹ قرار دے دیا

    اسلام آباد کے پمز اسپتال کے میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کو فٹ قرار دے دیا ۔

    باغی ٹی وی کے مطابق فٹ قرار دیے جانے کے بعد بھی اسلام آباد پولیس شہباز گل کو اسپتال سے تھانے منتقل کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکی۔ذرائع کے مطابق میڈیکل بورڈ کے ڈاکٹرز نے پولیس حکام کو اسپتال میں شہبازگل سے سوال وجواب کرنے سے روکا ہے۔ڈاکٹرز کا مؤقف ہے کہ شہباز گل مکمل فٹ ہیں لیکن اسپتال میں ان سے تفتیش نہیں کر سکتے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز گل کو پولیس صبح اسپتال سے کچہری بخشی خانے منتقل کر کے عدالت میں پیش کرنا چاہتی ہے جہاں وہ مزید ریمانڈ کی استدعا کرے گی۔

    اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل سے پمز اسپتال میں ملاقات کی۔ پی ٹی آئی وکلا کی شہباز گل سے ملاقات کے دوران پولیس اہل کار بھی موجود رہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وکلا کو شہباز گل سے ملنے کی اجازت دی تھی۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی وکلاء کی سات رکنی لیگل ٹیم کی شہباز گل سے ملاقات کی وقت لیگل ٹیم کو موبائل فون کی اجازت نہیں دی گئی،علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے رہنما مراد سعید بھی شہباز گل سے ملاقات کیلئے پمز ہسپتال پہنچے مگر انہیں دروازے پر روک لیا گیا.

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے چیف آف سٹاف شہبازگل کا پمز ہسپتال اسلام آباد میں طبی معائنہ کر لیا گیا۔ ان کو فی الحال ہسپتال میں رکھنے کے فیصلے کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی بھی لگا دی گئی ہے، ڈاکٹرز کے مشورے کے بعد ہی انہیں ڈسچارج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا، ڈاکٹر خالد مسعود کا کہنا ہے کہ شہبازگل کو دمے اور فوبیا کا مرض لاحق ہے۔

    اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں داخل شہباز گل کا شوگر اور بلڈ ٹیسٹ ہوچکا ، میڈیکل بورڈ کے ارکان کی تعدا د چار سے بڑھا کر چھ کردی گئی ہے۔ ان کی میڈیکل رپورٹ سیشن عدالت میں جمع کروا دی گئی تھی جس کے مطابق شہباز گل کو سانس لینے میں مسئلہ، جسم میں درد ہے جس کے سبب ایکس رے ، خون اور دل کا ٹیسٹ کرانا ضروری قرار دیا گیا ، انہیں مزید طبی معائنے کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔

    دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شہباز گل پر مبینہ تشدد کے معاملے پر عدالت عالیہ نے آئی جی اسلام آباد کو انکوائری کا حکم دیدیا، پی ٹی آئی رہنما کے وکیل نے وفاقی پولیس کے سربراہ پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔ سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی۔

    اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ڈاکٹر شہباز گل کا مزید جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت آئی جی اسلام آباد نے شہباز گل پر ریمانڈ کے دوران تشدد کی تردید کردی، جبکہ عدالت نے آئی جی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ پمز ہسپتال میں شہباز گل کا میڈیکل ہوا اس میں کیا آیا ہے؟ اس پر آئی جی اسلام آباد نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میڈیکل رپورٹ میں سانس کی تکلیف کا بتایا گیا ہے۔

    ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بیرسٹر جہانگیر جدون نے عدالت کو بتایا کہ شہباز گل نے ابتدائی طور پر میڈیکل چیک اپ کروانے سے انکار کر دیا تھا۔

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ آہ و بکا مچی ہوئی ہے تشدد ہوگیا، کیا یہ میڈیا ہائپ ہے یا واقعی ایسا ہوا ہے؟ ہم نے یہ دیکھنا ہے۔

    وکیل نے عدالت کو بتایا 9 اگست کو گرفتاری ہوئی، 10 اگست کو ریمانڈ ہوا، 11 اگست کو پمز بورڈ نے میڈیکل کیا۔

    جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ کیا 12 اگست کو شہباز گل نے مجسٹریٹ کے سامنے دوبارہ پیش ہونے پرتشدد کا بتایا؟

    جواب میں راجا رضوان عباسی نے عدالت کو بتایا کہ نہیں، شہباز گل نے مجسٹریٹ کو تشدد کا نہیں بتایا۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا ابھی پٹیشنر کہاں ہے؟

    فیصل چودھری نے کہا کہ شہباز گل پمز ہسپتال میں بے ہوشی کی حالت میں ہیں، سپیشل پراسیکیوٹر جیل انتظامیہ کی طرف سے کوئی بیان نہ دیں، مجھے صبح پمز ہسپتال میں بھی ملنے نہیں دیا گیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ آج یہ ریمانڈ کا کیس اس لیے سن رہے ہیں وہ سیاسی شخصیت ہیں، عام افراد کے تو روزانہ ریمانڈ ہوتے ہیں، اللّٰہ دتہ کا کیس ہائی کورٹ نہیں آتا، سوا 4 بجے شام کو بھی یہ کورٹ روم بھرا ہوا ہے۔

    شعیب شاہین نے کہا کہ تمام میڈیا چینلز نے تشدد کا واقعہ رپورٹ کیا۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ معذرت کے ساتھ میڈیا میں میری کورٹ کی غلط رپورٹ شائع ہوتی ہے، خبر کچھ ہوتی ہے اور سرخی کچھ لگتی ہے۔

    جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ آئی جی اسلام آباد، آپ بتائیں کہ آپ کیا اقدامات کریں گے؟ جواب میں شہباز گل کے وکلا نے عدالت میں بیان دیا کہ ہمیں ان پر اعتماد نہیں ہے۔

    جسٹس عامر فاروق نے شہباز گل کے وکلا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نہیں کریں کورٹ روم کو سرکس نہیں بنائیں۔

    عدالت نے اڈیالہ جیل کے میڈیکل افسر سے شہباز گل کے ابتدائی طبی معائنہ کی رپورٹ طلب کرلی، جس کے جواب میں میڈیکل افسر اڈیالہ جیل نے کہا کہ وہ رپورٹ تو میں ساتھ نہیں لایا۔

    جسٹس عامر فاروق نے میڈیکل افسر اڈیالہ جیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پھر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ آپ کو میں نے علاج کے لیے تو نہیں بلایا۔

    عدالت نے سوال کیا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کدھر ہیں؟ جس کے جواب میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل تبدیل ہو گئے، میرے پاس چارج ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ لوگوں کو شوکاز نوٹس جاری کر رہا ہوں، شام چار بجے روبکار ملی تو رات نو بجے حوالگی کیوں کی؟

    میڈیکل افسر نے عدالت کو بتایا کہ شہباز گل نے سوا چار بجے دل کی تکلیف کی شکایت کی، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیسے ہی ایڈیشنل سیشن جج کے ریمانڈ کا آرڈر ملا تو تکلیف ہو گئی۔

  • عمران خان کے ملک گیر جلسوں کا شیڈول جاری

    عمران خان کے ملک گیر جلسوں کا شیڈول جاری

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سابق وزیراعظم عمران خان کے ملک گیر جلسوں کا شیڈول جاری کردیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق عمران خان ملک کے 17 شہروں میں عظیم الشان جلسوں سے مخاطب ہونگے، 21 اگست بروز اتوار راولپنڈی میں سابق وزیراعظم بڑے جلسہ عام سے مخاطب ہونگے، 24 اگست بروز بدھ ہری پور میں تحریک انصاف کا جلسہ ہو گا، عمران خان خطاب کریں گے، 26 اگست بروز جمعہ کراچی میں پی ٹی آئی چیئرمین جلسہ عام سے خطاب کریں گے، 27 اگست ہفتے کے دن سکھر میں تحریک انصاف کا جلسہ ہو گا، 28 اگست بروز اتوار عمران خان پشاور میں پاور شو سے مخاطب ہونگے، 29 اگست پیر کے روز جہلم میں تحریک انصاف کا جلسہ منعقد ہو گا، 31 اگست بروز بدھ عمران خان اٹک میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

    شیڈول کے مطابق یکم ستمبر بروز جمعرات سرگودھا میں تحریک انصاف کا عظیم الشان جلسہ منعقد ہو گا، عمران خان خطاب کریں گے، 2 ستمبر بروز جمعہ عمران خان گجرات میں جلسے سے مخاطب ہونگے، 3 ستمبر ہفتے کے دن چیئرمین تحریک انصاف بہاولپور میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے، 4 ستمبر بروز اتوار عمران خان فیصل آباد میں جلسے میں عوام سے مخاطب ہونگے، 6 ستمبر بروز منگل تحریک انصاف مردان میں پاور شو کرے گی، عمران خان عوام سے مخاطب ہونگے، 7 ستمبر بروز بدھ عمران خان بہاولنگر میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے، 8 ستمبر جمعرات کے دن عمران خان ملتان میں عوامی اجتماع سے مخاطب ہونگے، 9 ستمبر بروز جمعہ عمران خان شیخوپورہ میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے چیئرمین 10 ستمبر بروز ہفتہ کو گوجرانوالہ میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے، 11 ستمبر بروز اتوار عمران خان کوئٹہ میں عوامی جلسے سے مخاطب ہونگے۔

  • ایف آئی اے کو عمران خان کو گرفتار کرنا چاہیئے،مریم اورنگزیب

    ایف آئی اے کو عمران خان کو گرفتار کرنا چاہیئے،مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیرا اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان جھوٹ بولنےسےبازنہیں آرہے،عمران خان قوم کوگمراہ کررہاہے،عمران خان کاکام فتنہ پھیلانااورالزام تراشی کرناہے،عمران خان کہتےہیں مجھےآزادمیڈیاسےخوف نہیں،جب میڈیا کی آزادی کا قتل کیا جا رہا تھا اس وقت عمران خان کہاں تھے؟عمران خان کےدورمیں صحافیوں پرحملےہوئے،پابندیاں لگیں،جب راناثنااللہ پر20کلوہیروئین کاکیس ڈال کرگرفتارکیااس وقت آپ وزیراعظم تھے.

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جب کلثوم نواز انتقال کرگئیں تو عمران خان نےنمازجنازہ میں رکاوٹیں ڈالیں،کلثوم نواز لندن کے اسپتال میں داخل تھیں تو کہا گیا وہ ہوٹل میں ہیں، عمران خان نےطیبہ گل کی ویڈیوز چیئرمین نیب کو دکھا کر انہیں بلیک میل کیا، جب توشہ خانہ لوٹا جا رہا تھا اس وقت وزیراعظم عمران خان تھے،اگرشہبازشریف یاسلیمان شہبازنےچوری کی توآپ اپنےدورمیں ثابت کرتے،جب ہیرےلوٹےجارہےتھےتواس وقت وزیراعظم آپ تھے.

    انہوں نے کہا کہ یہ جوآج پمزاسپتال میں لیٹاہواہے، یہ مکافات عمل ہے،وقت بدلنےمیں دیرنہیں لگتی،جنہوں نےبھارت ،اسرائیل اورامریکاسےپیسہ لیاوہ ملک کوآزادی دلائےگا؟میڈیاسمیت پوراملک آزادہوچکاہےاب آپ کےاندرجانےکاوقت ہے،پنجاب کو4سال تک لوٹاگیا،ایف سی اوررینجرز والےاڈیالہ گئے تو طبیعت صاف ہو گئی.

    انہوں نے مزید کہا کہ توشہ خان اور فارن فنڈنگ میں ان کا کوئی بندہ پیش نہیں ہورہا ہے، بہتری اسی میں ہے ریکارڈ دے دیں ورنہ ریکارڈ لینا آتا ہے، اگر خان صاحب پیش نہیں ہوئے تو سن لیں، وزیرداخلہ راناثناء اللہ ہیں۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بہت بڑا اکاؤنٹ پکڑا گیا ہے کل پریس کانفرنس میں بتاؤں گی، جو ایف آئی اے میں پیش نہیں ہوتا اس کو گرفتار کرناچاہیے۔

  • فارن فنڈنگ کیس:  الیکشن کمیشن کو 24 اگست کے لیے نوٹس جاری کردیا گیا

    فارن فنڈنگ کیس: الیکشن کمیشن کو 24 اگست کے لیے نوٹس جاری کردیا گیا

    تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کیس کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو 24 اگست کے لیے نوٹس جاری کردیا گیا گیا ہے.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے کہا ہے کہ یہ 70 کی دہائی نہیں کہ پاگل پن میں کوئی کسی جماعت کو تحلیل کرے گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

    انور منصور نے دلائل دیے کہ رُولز میں غیر قانونی فنڈنگ کا صرف ایک ہی نتیجہ بتایا گیا ہے کہ صرف اور صرف فنڈز ضبط ہو سکتے ہیں، کسی جماعت کی معلومات پی پی او کے مطابق نہ ہو تو درستگی کا موقع بھی دیا جاسکتا ہے اور الیکشن کمیشن دوبارہ معلومات درست کر کے جمع کرانے کا کہے گا۔

    وکیل پی ٹی آئی انور منصور نے بتایا کہ 2018 میں سب جماعتوں کے اکاؤنٹس کی اسکروٹنی شروع ہوئی، لیکن الیکشن کمیشن نے صرف پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی کی اور پی پی او 2002 کا قانون اپلائی کیا، اسکروٹنی کمیٹی نے مگر الگ قانون پر انحصار کر کے رپورٹ دی۔

    جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟۔

    وکیل نے کہا کہ نصر نے رمیتا شیٹھی سے شادی کی دونوں کے جوائنٹ اکاؤنٹ سے 13 ہزار ڈالر آئے ، لیکن الیکشن کمیشن نے خود تصور کر لیا کہ آدھی رقم رمیتا شیٹی اور آدھی ان کے شوہر کی طرف سے تھی، 13 ہزار ایک سے 13 ہزار دوسرے سے آئے، پی ٹی آئی کے اپنے ایجنٹس کو فارن کمپنیاں دکھا دیا گیا ،یہ حقیقت تو ہم نے کبھی چھپائی ہی نہیں تھی کہ پی ٹی آئی کو ووٹن کرکٹ سے رقم 2013 میں آئی ، قانون میں یہ نہیں لکھا انفرادی شخص کے علاوہ کسی سے فنڈ نہیں لینا۔

    عدالت نے کہا کہ قانون میں لیکن یہ ضرور لکھا ہے کہ صرف انفرادی فنڈز لینے ہیں، کیا آپ الیکشن کمیشن کی آبزرویشن حذف کرانا چاہتے ہیں؟ یہ تو صرف ایک رپورٹ ہے یہ کوئی الیکشن کمیشن کا ایکشن تو نہیں، ابھی تک صرف شوکاز نوٹس ایشو کیا گیا ہے۔

    انور منصور نے کہا کہ یہ ایکشن ہی ہے، الیکشن کمیشن نے اسے آرٹیکل 17 کا معاملہ ڈیکلئیر کیا ہے، وفاقی حکومت نے اس رپورٹ کی بنیاد پر ایکشنز شروع کردیے ہیں، ایف آئی اے ایکشن لے رہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے دائرہ اختیار سے باہر جو کیا اس کو معطل کردیا جائے۔

    جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ یہ 70کی دہائی نہیں کہ پاگل پن میں کوئی کسی جماعت کو تحلیل کرے گا، آپ ہمیں صرف اپنے تحفظات بتائیں کیا ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے حقائق تو ہم جا کر ٹھیک نہیں کر سکتے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کیس کی درخواست سماعت کرتے ہوئے عدالت نے الیکشن کمیشن کو 24 اگست کے لیے نوٹس جاری کردیا گیا ہے.

  • شہبازگل  پر بالکل تشدد نہیں ہوا. آئی جی اسلام آباد کا عدالت میں بیان

    شہبازگل پر بالکل تشدد نہیں ہوا. آئی جی اسلام آباد کا عدالت میں بیان

    کیا دوران حراست شہباز گل پر تشدد کیا گیا، آئی جی سے عدالت کا استفساراس پر انہوں نے جواب دیا سابق معاون خصوصی شہبازگل پر بالکل تشدد نہیں ہوا ہے آئی جی اسلام آباد کا عدالت میں بیان

    آئی جی صاحب، شہباز گل کو ٹارچر کیا گیا ہے؟ جسٹس عامر فاروق کا استفسار آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا ہے،

    عدالت نے آئی جی اسلام آباد، ایس ایس پی انوسٹی گیشن اورایس ایچ او تھانہ کوہسار کو بھی طلب کیا تھا ۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی معاونت کے لیے نوٹسز جاری کر دیے تھے.

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے بغاوت کے مقدمے میں شہباز گل کے دوبارہ جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر آج بروز جمعرات 18 اگست کو سماعت کی۔ اس موقع پر شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری اور شعیب شاہین عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بغاوت کے مقدمہ میں شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور میڈیکل افسر کو متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ آج ہی دن تین بجے طلب کر لیا ہے۔

    سماعت کے آغاز پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے فزیکل ریمانڈ آرڈر چیلنج کیا ہے ؟ جس پر وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے قانون کے اندر دی گئی ہدایات کو فالو نہیں کیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو نوٹس جاری کرکے تین بجے تک جواب طلب کر لیا، جب کہ ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی معاونت کیلئے طلب کرلیا گیا ہے۔
    یاد رہے کہ شہباز گل نے سیشن کورٹ کے 48 گھنٹے کا جسمانی ریمانڈ دینے کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے جیل سپرٹنڈنٹ، آئی جی اسلام اور میڈیکل افسر کو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے، شہباز گل کی میڈیکل رپورٹ بھی ابھی تک جمع نہیں کرائی گئی، اس سے لگتا وہ ٹھیک نہیں ہیں لیکن ان کی صحت مند کی رپوٹ بنانے کا دباؤ ہے۔
    انہوں نے کہا کہ شہباز گل پر تشدد ہوا ہے یہ سب کو معلوم ہے، ہمیں ملنے بھی نہیں دیا جا رہا۔

    دوسری جانب شہباز گل کو مزید ٹیسٹوں کے لیے امراض قلب کے شعبے سے دوسرے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ میڈیکل بورڈ میں بھی دو ڈاکٹرز کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    رہنما پی ٹی آئی شہباز گل کو پمز میں امراض قلب کے شعبے سے ٹیسٹوں کےلیے دوسرے وارڈ منتقل کیا گیا، جہاں ان کے سی ٹی سکین کے بعد انہیں واپس کارڈیولوجی وارڈ شفٹ کر دیا گیا۔۔شہباز گل کے گزشتہ رات ہونے والے ٹیسٹ آج دوبار ہ کیے جا رہے ہیں۔
    شہباز گل کے لیے بنائے گئے میڈیکل بورڈ میں مزید دو ڈاکٹرز کو شامل کر لیا گیا۔میڈیکل بورڈ نیورو آرتھو سرجری ،کارڈیالوجی، پمونالوجی سمیت 6 ڈاکٹر ز پر مشتمل ہے۔

    باغی ٹی وی کو موصول میڈیکل رپورٹ کے مطابق چار سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے شہبازگل کا طبی معائنہ کیاجس میں کہا گیا ہےکہ شہباز گل کو بچپن سے سانس کا مسئلہ ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ برونکڈیلٹر استعمال کرتے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ شہبازگل کو سانس لینے میں مسئلہ ہے اور وہ جسم میں درد محسوس کررہے ہیں، وہ کندھے،گردن اورچھاتی کے بائیں جانب درد محسوس کررہے ہیں، ان کا فوری ای سی جی کیا گیا تھا۔

    میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ شہبازگل کا ایکسرے، یورک، خون اور دل کا ٹیسٹ کرنا ضروری ہے، ان کاکارڈیالوجسٹ اور پلمانولوجسٹ کی جانب سے طبی معائنہ درکارہے جب کہ شہبازگل کے مزید طبی معائنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ رات اڈیالہ جیل کی انتظامیہ نے عدالتی حکم پر پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا تھا جس کے بعد طبیعت ناساز ہونے پر انہیں پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔

    قبل ازیں بغاوت پر اکسانے کے کیس میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے رہنما شہباز گل کو پمز اسپتال کے کارڈیک سینٹر میں داخل کرلیا گیا، جہاں ان کے طبی معائنے کیلئے 3 رکنی میڈیکل بورڈ قائم کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر شجیع صدیقی 3رکنی میڈیکل میڈیکل بورڈ کے سربراہ تھے، جب کہ نیورو سرجن ڈاکٹر لال رحمان اور آرتھوپیڈیک سرجن ڈاکٹر رضوان بھی بورڈ کے اراکین میں شامل تھے۔ بورڈ کی جانب سے شہباز گل کا طبی معائنہ کیا گیا۔

    اسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹر شہباز گل کو دمہ کی بیماری کی بنیاد پر پمز اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں شہباز گل کا سانس کی تکلیف کا ابتدائی علاج شروع کیا گیا، پمز میڈیکل بورڈ کی ہدایت پر آج صبح 18 اگست بروز جمعرات پلمونالوجی کی ٹیم ان کا طبی معائنہ کرے گی، پلمونالوجسٹ ڈاکٹر ضیاء طبی معائنہ اور علاج تجویز کریں گے۔ شہباز گل نے ڈاکٹروں کو کمر اور جسم میں درد کی شکایت کی تھی۔

    پمز میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کے سینے اور کمر کے ایکسریز کروائے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب کہ شہباز گل کے سینے کے ایکسریز رات کو ہوئے، تاہم کمر کے ایکسریز دن کے وقت کرائے جائیں گے۔ پمز کے کارڈلوجسٹ ڈاکٹر شفیق نے بھی طبی معائنہ مکمل کرکے رپورٹ میڈیکل بورڈ کو دیدی ہے۔ ابتدائی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں شہباز گل کو صحت مند قرار دیا گیا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے ملزم شہباز گل کو اچھی جسمانی صحت کے ساتھ جیل حکام کے حوالے کیا تھا، تجس کی گزشتہ روز وزیر داخلہ پنجاب نے بھی تصدیق کی تھی کہ وہ صحت مند ہیں، تاہم بعد ازاں انہیں 1122 کی ایمبولینس میں پمز لایا گیا۔

    شہباز گل کو اسپتال میں رکھا جائے یا پولیس کے حوالے کیا جائے، اس سلسلے میں میڈیکل بورڈ اور پولیس افسران نے میٹنگ بھی کی۔ ذرائع کے مطابق شہباز گل کے تمام ٹیسٹ رپورٹس موصول ہونے کے بعد اگلا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔ جس کے بعد میڈیکل بورڈ پولیس افسران کو آگاہ کرے گا۔ پمز کے ڈاکٹروں نے ڈاکٹر شہباز گل کے ضروری بلڈ ٹیسٹ بھی تجویز کیے تھے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی جج زیبا چوہدری نے شہباز گل کی جسمانی ریمانڈ کی نظرثانی اپیل پر 17 اگست بروز بدھ کو فیصلہ سناتے ہوئے مزید 48 گھنٹے کیلئے انہیں پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

    جج زیبا چوہدری نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ میں نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد تفصیلی جائزہ لیا ہے، پولیس کی نامکمل تفتیش کی دلیل سے متفق ہوں، جس پر عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما کو مزید 48 گھنٹے کیلئے پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
    دوسری جانب تحریک انصاف نے شہباز گل کو تفتیش سے بچانے کیلئے ہرحربہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ قانون کی پاسداری کرنے والے وزیراعلیٰ پنجاب بھی صورتحال میں بے بس دکھائے دے رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹی وی چینل کو اپنے شو میں رہنما تحریک انصاف شہباز گل کا تبصرہ نشر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا بیان مسلح افواج کی صفوں میں بغاوت کے جذبات اکسانے کے مترادف تھا۔ مذکورہ گفتگو میں ڈاکٹر شہباز گل نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت، فوج کے نچلے اور درمیانے درجے کے لوگوں کو تحریک انصاف کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج میں ان عہدوں پر تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ عمران خان اور ان کی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں جس سے حکومت کا غصہ بڑھتا ہے۔

    انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کا اسٹریٹجک میڈیا سیل پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور مسلح افواج کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لیے غلط معلومات اور جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے چیف آف اسٹاف اور جارحانہ رہنما شہباز گل کو رواں ماہ 9 اگست کو بنی گالہ چوک سے گرفتار کیا گیا تھا ، جب وہ سفید رنگ کی گاڑی میں ڈرائیور کے ہمراہ دفتر سے روانہ ہو رہے تھے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق پی ٹی آئی رہنما کو گرفتار کرکے تھانہ بنی گالہ منتقل کیا گیا ہے۔ شہباز گل پر بغاوت پر اکسانے کے الزام کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے۔

  • روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے

    روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے

    روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔

    جمعرات کو انٹربینک میں ڈالر12پیسےمہنگا ہوکر215روپے کا ہوگیا۔دن کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالرکی قیمت میں 7 پیسے کا اضافہ ہوا اورانٹربینک میں ڈالر 214 روپے 95 پیسے پر بندہوا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 217 روپے کا ہوکر بند ہوا۔

    بدھ کو 13 دن تک مسلسل گرنے کے بعد ڈالر کی قدرمیں اضافہ ہوا تھا۔ انٹربینک میں ڈالر دن کے اختتام پر 214 روپے 88 پیسے پر بند ہوا تھا۔
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 214.50 روپے پر ٹریڈنگ کررہا تھا اوردن کے اختتام پرڈالرکی قیمت 2 روپے بڑھ کر214 روپے ہوگئی تھی۔
    ڈالر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت ملنے کا ڈالر کی قدر بڑھنے سے کیا تعلق ہے؟

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایکسچینج کمپنیوں کو 15 اگست کو ڈالر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت د ی گئی، اس اجازت کے بعد اگلے ہی روز سے ڈالر کی قدر میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا اور صرف 2 روز میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 6 روپے بڑھ گئی۔

    ایک کرنسی ڈیلرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ فیصلہ درست نہیں ہے، اس سے پہلے کرنسی ڈیلرز صرف انٹر بینک میں ڈالر فروخت کرسکتے تھے اب انہیں اگلے ماہ 30 ستمبر تک بیرون ملک ڈالر برآمد کرنے کی اجازت مل گئی ہے، جس کی وجہ سے ان کے پاس آپشنز بڑھ گئے ہیں اور وہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے لگے ہیں۔

    کرنسی ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں بینک، ایکسپورٹرز اور امپورٹرز کی ملی بھگت کے باعث گزشتہ ماہ ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس سے کچھ لوگوں نے چند روز میں بڑی کمائی کی اور اب کرنسی ڈیلرز کو بھی موقع مل گیا ہے کہ وہ ڈالر ایکسپورٹ کرنے اور واپس لانے کے عمل میں دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کمائی کرسکتے ہیں۔

    تاہم ملک بوستان کا کہنا تھا کہ ایکسچینج کمپنیوں نے ڈالرایکسپورٹ شروع کردیا ہے لیکن اس کا ڈالرکی قدر بڑھنے سے کوئی تعلق نہیں ہے، ڈالر کی قدر میں اضافہ مارکیٹ میکنزم کے تحت ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ بلوم برگ کے اعداد و شمار کے مطابق یکم تا 15 اگست عالمی سطح پر پاکستانی روپے کی کارکردگی (قدر بڑھنے کے لحاظ سے) 11.12 فیصد رہی جو دنیا کے کسی بھی ملک کی کرنسی کی بہتر کارکردگی میں سب سے زیادہ ہے، دوسرے نمبر پر مڈغاسکر کی کرنسی ہے جس کی کارکردگی کی شرح 5.42 فیصد اور تیسرے نمبر پر اسرائیلی کرنسی ہے جس کی کارکردگی 3.79 فیصد ہے.