Baaghi TV

Author: +9251

  • لگژری سمیت تمام اشیاء کی درآمد پر پابندی ختم کررہے. مفتاح اسماعیل

    لگژری سمیت تمام اشیاء کی درآمد پر پابندی ختم کررہے. مفتاح اسماعیل

    وفاقی حکومت نے لگژری سمیت تمام اشیاء کی درآمد پر پابندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا جبکہ تاجروں پر لگایا گیا فکس سیلز ٹیکس بھی واپس لے لیا۔

    اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اعلان کیا کہ بین الاقوامی تقاضے پورے کرنے کے لیے امپورٹ سے پابندی ہٹانا ضروری ہے اور آئی ایم ایف بھی چاہتا ہے کہ ہم امپورٹ پر جلدی پابندی ہٹا لیں، ہم نے امپورٹ پر پابندی عائد کی تھی لیکن اب امپورٹ بھی ہمارے کنٹرول میں ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کی جتنی کنڈیشنز تھیں ہم نے پوری کر دی ہیں جبکہ چین اور دیگر دوست ممالک نے بہت تعاون کیا۔
    وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگی گاڑیوں کی درآمد پر بھاری ڈیوٹی لگا رہے ہیں اور بڑی گاڑیوں پر ڈیوٹیز لگائیں گے، پہلے آٹے چینی دال کو ترجیح دیں گے جبکہ بہت ساری اشیاء پر ٹیکس موخر کر دیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اگست میں برآمدات میں 8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اگست میں درآمدات میں 19 فیصد تک کمی آئی ہے۔ اگست میں تجارتی خسارے میں 30 فیصد کمی ہوئی جب کہ روپے پردباؤ میں کمی آرہی ہے۔ بینکنگ سسٹم میں بھی 650 ملین ڈالر زیادہ آئے ہیں۔

    آئی ایم ایف سے متعلق مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) کی تمام پیشگی شرائط پوری کردی ہیں اورہماری معاشی پالیسیوں کے ثمرات سامنے آرہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 29 اگست کوطلب کرلیا ہے۔
    وزیرخزانہ نے بتایا کہ 4 ارب ڈالر کا فنڈنگ گیپ تھا اور آئی ایم ایف چاہتا تھا کہ 4 ارب ڈالر آجائیں،3 دوست ممالک سے4 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل ہوئی ہےاور چین بھی 2 ارب ڈالر کے قرضے رول اوور کردے گا۔

    تجارت سے متعلق مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ 2 ماہ سے درآمدات کنٹرول میں ہیں، آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ہم درآمدات پر سے پابندی ہٹادیں۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرچکا ہے اور خوردنی تیل، گھی سمیت دیگر اجناس بھی ہم درآمد کرتے ہیں۔ پاکستان کی اولین ترجیح 23 کروڑ لوگوں کو روٹی دینا ہے۔
    وزیرخزانہ نے بتایا کہ ہماری چوائس ہے کہ ہم گاڑیاں اور موبائل درآمد کریں یا خوراک،اس لئے ہم تمام چیزوں کی درآمد پر پابندی ہٹا رہے ہیں تاہم درآمد پر 3 گنا یا 400 سے 600 فیصد تک ڈیوٹی لگائیں گے۔

    انھوں نے مزید واضح کیا کہ مرسڈیزسمیت بڑی گاڑیوں پرزیادہ ڈیوٹی لگائیں گے اور کسٹمزڈیوٹی،ریگولیٹری ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس عائد کریں گے۔
    انھوں نے کہا کہ مکمل تیار اور درآمدی گاڑیوں،موبائل فونز پر اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی جب کہ پرس، جوتوں سمیت دیگرلگژری اشیاء کی درآمد پر بھی اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔
    بجلی کے نرخ سے متعلق مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بجلی کے نرخوں کے مسائل بھی حل کرلیئے ہیں،153 ارب روپے کے پرائمری بجٹ سرپلس پر قائم ہیں اور بجلی پر نان فنڈیڈ سبسڈی نہیں دی جائے گی۔

    ٹیکس سے متعلق انھوں نے یہ بھی کہا کہ تاجروں پرفکسڈ ٹیکس واپس لے لیا ہے اور 42 ارب روپے کے بجائے اب 27 ارب روپے کا ہدف ہے،آرڈیننس کے زریعے ٹیکس کا بتادیا جائے گا اور اس کی جگہ ٹیکس میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔
    تمباکو پر ٹیکس کے حوالے سے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 15 ارب روپے کا گیپ پورا کرنے کیلئے تمباکو اور سگریٹ پر 36 ارب روپے ٹیکس لگا رہے ہیں، تمباکو پر ٹیکس 10 روپے سے بڑھا کر 380 روپے فی کلو کررہے ہیں۔

    اس کےعلاوہ ٹیئرون کے 1000 سگریٹس پر ٹیکس 5900 روپے سے بڑھا کر6500 روپے کررہےہیں۔
    ٹیئرٹو کے 1000 سگریٹس پر ٹیکس 1850 روپے سے بڑھا کر 2050 روپے کر رہے ہیں۔

  • پشاور بی آر ٹی آڈٹ رپورٹ میں 50 ارب روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف

    پشاور بی آر ٹی آڈٹ رپورٹ میں 50 ارب روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف

    خیبر پختونخوا کے آڈیٹر جنرل کی جانب سے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کی ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کو جمع کروائی گئی رپورٹ میں اس منصوبے میں تقریباً 50 ارب روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

    انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بی آر ٹی کو چلانے والی پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کے مطابق آڈیٹر جنرل کی رپورٹ ابتدائی مشاہدات پر مبنی ہے اور متعلقہ فورم پر ’جمع شدہ جوابات پر بحث‘ کی جائے گی۔
    یہ رپورٹ مالی سال 2020 اور 2021 کے لیے ہے، تاہم اے ڈی بی نے اسے مارچ 2022 میں وصول کیا تھا، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے۔ 71 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بی آرٹی کے مختلف شعبوں میں مالی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    اس رپورٹ میں درج ہے کہ ’ان تمام مالی بے قاعدگیوں پر جواب حاصل کرنے کے لیے آڈیٹر جنرل کی جانب سے متعلقہ ادارے کو نومبر 2021 میں خط لکھ دیا گیا تھا تاہم متعلقہ ادارے کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔‘
    آڈٹ رپورٹ کے مطابق بی آر ٹی منصوبے کے لیے 53 ارب روپے سے زائد قرضے کو خرچ کرنے کا متعلقہ ادارہ پی ڈی اے جبکہ باقی ماندہ 13 ارب روپے سے زائد رقم لگانے کا متعلقہ ادارہ ٹرانس پشاور ہے، جو بی آر ٹی کے آپریشنز چلاتا ہے اور یہ دونوں ادارے اس منصوبے پر عمل درآمد کے ادارے ہیں۔

    آڈٹ رپورٹ کے مطابق اس پورے منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے 47 ارب روپے سے زیادہ کی رقم صوبائی وزارت قانون سے منظوری لیے بغیر لگائی گئی۔
    رپورٹ میں درج ہے کہ خیبر پختونخوا رولز آف بزنس 1985 کی دفعہ پانچ کے مطابق محکمے کی انتظامیہ اس بات کی پابند ہے کہ وہ اس قسم کی ادائیگیوں کی تفصیلات دیکھ کر اس کی منظوری دے تاہم بی آر ٹی منصوبے میں جون 2021 تک ٹھیکے داروں کو 47 ارب روپے سے زائد ادائیگی کی گئی لیکن یہ ادائیگی پی ڈی اے اور ٹھیکے داروں کے مابین دستخط شدہ معاہدے کے خلاف دی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’پی ڈی اے کے ٹھیکے داروں کے ساتھ دستخط شدہ معاہدے کی بھی محکمہ قانون سے منظوری نہیں لی گئی، جس کی وجہ سے یہ ادائیگی بے قاعدگیوں میں شمار ہوتی ہے۔ محکمہ آڈٹ کی جانب سے یہ تجویز ہے کہ جتنی ادائیگیاں ہوئی ہیں، ان کی محکمہ قانون سے منظوری لی جائے۔‘

    آڈٹ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ قانوناً اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ کسی بھی منصوبے کے لیے رقم کو اس وجہ سے کسی بھی طریقے سے لگایا جائے کہ وہ لیپس نہ ہو جائے لیکن بی آرٹی منصوبے میں ایسا کیا گیا ہے۔
    رپورٹ کے مطابق پی ڈی اے نے کنٹریکٹرز کو سامان اور مشینری سائٹ پر لانے کے لیے دو قسطوں میں رقم دینی تھی تاہم کنٹریکٹرز کو ایک ہی قسط میں ساری رقم دے دی گئی، باوجود اس کے کہ کنٹریکٹرز کی جانب سے سائٹ پر کوئی بھی چیز نہیں لائی گئی۔

    آڈٹ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ اس رقم کی خلاف قانون ادائیگی کی تفتیش کی جائے اور جس نے خلاف قانون کام کیا ہے، اس کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

  • سینیٹر الیاس بلور کو نوسربازوں نے ٹھگ لیا

    سینیٹر الیاس بلور کو نوسربازوں نے ٹھگ لیا

    نوسر بازوں نے پارلیمنٹرینز کو بھی نہ چھوڑا وار کرتے ہوئے سینیٹر الیاس بلور کو نوسربازوں نے ٹھگ لیا ہے.

    عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینیٹر الیاس بلور نوسربازوں کے ٹریپ میں آگئے۔ الیاس بلور نے بتایا کہ موبائل فون پر مجھے کال آئی اور کالر نے تھانہ کینٹ راولپنڈی کے اے ایس آئی شاہ کے نام سے اپنا تعارف کرایا۔

    سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ اے ایس آئی نے بتایا کہ آپ کا بھانجا لڑکیوں کے ساتھ پکڑا گیا ہے، اے ایس آئی نے بھانجے سے میری بات کرائی جس نے کہا مجھے بچا لیں، مجھ سے مختلف موبائل نمبرز پر دس لاکھ 98 ہزار روپے طلب کیے گئے۔

    سینیٹر الیاس بلور نے بتایا کہ میں نے تصدیق کیے بغیر مختلف نمبروں پر رقم بھجوا دی، بعد میں بھانجے سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا وہ تو اپنی فیکٹری میں موجود ہے اور اس کے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے.
    پولیس نے الیاس بلور کے بیان کی روشنی میں فراڈ و ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔

    واضح‌رہے کہ گزشتہ دنوں آئی نائین کے شہری کوبھی لوٹا گیا تھا شہری فرحان نے بتایا کہ کیو مارکیٹنگ کے مالک ضیاء الحق نے سات ہزار یورو کا چیک ملازم کو کیش کروانے کیلئے دیا تھا جب وہ بنک سے نکلا تو اسے کسی نامعلوم نے کہا آپپ کے پیسے تو نہین گرے وہ یکدم حیران ہوگیا اس کے بعد نو سربازوں کے گروہ نے اس کولوٹ لیا. اس کیس کو پولیس نے درج کرکے تفتیش شروع کردی تھی.تاہم تاحاال کوئی سراغ نہین ملا ہے. دوسری جانب اسلام کے شہری نوسربازوں سے کافی پریشان ہیں اور ایک شہری نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ پولیس اس معاملے میں ممل ناکام ہوچکی ہے اور جب کوئی ایسا واقع پیش آتا تو پولیس صرف رپورٹ درج کرتی ہے.

  • وزیراعظم شہباز شریف کا ہنگامی بنیادوں پر زرعی اصلاحات کے نفاذ کا فیصلہ

    وزیراعظم شہباز شریف کا ہنگامی بنیادوں پر زرعی اصلاحات کے نفاذ کا فیصلہ

    وزیراعظم شہبازشریف نے ہنگامی بنیادوں پرزرعی اصلاحات کےنفاذ کا فیصلہ کرلیا۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں زرعی شعبے کی اصلاحات پر اعلی سطح کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزراء طارق بشیر چیمہ، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، مفتاح اسماعیل، معاونینِ خصوصی احد چیمہ، محمد جہانزیب خان متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔ جب کہ تمام صوبوں کے سیکٹری زراعت نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔
    اجلاس میں وزیرِ اعظم کو گندم، کپاس، خوردنی تیل، کھاد، زرعی تحقیق، زراعت میں پانی کے استعمال، موسمیاتی تبدیلی اور زرعی مشینری کے حوالے سے قائم سب کمیٹیوں نے تفصیلی بریفنگ دی اور اپنی سفارشات پیش کیں۔

    اجلاس میں آئندہ گندم، کپاس اور خودنی تیل کی پیداوار کیلئے اقدامات، کسانوں کو کم لاگت پر جدید مشینری، یوریا اور ڈی اے پی پر سبسڈی، متوقع پیداوار اور در آمد، معیاری بیج، پانی کے بہتر استعمال اور کسانوں کو بروقت قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں۔
    وزیراعظم کو زرعی اصلاحات کیلئے مختلف شعبوں کی 8 سب کمیٹیوں کی سفارشات پیش کی گئیں۔ جن میں قلیل، وسط اور طویل مدتی جامع منصوبہ بندی شامل ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے ملک میں ہنگامی بنیادوں پرزرعی اصلاحات کے نفاذ کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام متعلقہ وزارتوں کو ان سفارشات میں سے آئندہ فصل کیلئے ہنگامی بنیادوں پر زرعی اصلاحاتی پلان مرتب کرنے کی ہدایت جاری کردی، اور دو دن میں اس پلان کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
    وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت ترجیحی بنیادوں پر کسانوں کو ضروری سہولیات فراہم کرےگی، اور کسانوں کو کم لاگت پر بروقت معیاری بیج، کھاد کی فراہمی یقینی بنائےگی، جب کہ کسانوں کوغیرمعیاری بیج اورپیسٹی سائیڈ بیچنےوالی کمپنیزکا سد باب کیا جائے گا۔

    شہبازشریف کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر معیاری بیج کی پیداوارکیلئے زرعی تحقیقی اداروں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی، کسانوں کو جدید مشینری اور قرضوں میں سہولت کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔
    وزیرِ اعظم نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ یقینی بنایا جائے کہ زرعی اِن پُٹس پر حکومت کی طرف سے سبسڈی کسانوں تک پہنچے، زرعی منصوبہ بندی کےدوران موسمیاتی تبدیلی اثرات کوبھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے، اور کسانوں کو زراعت کےعالمی سطح پررائج جدید طریقہ کارسےروشناس کروانےکیلئےآگاہی مہم چلائی جائے۔

    شہبازشریف نے مزید کہا کہ حکومت گندم و زرعی اجناس کو ذخیرہ کرنے کیلئے سائیلوز (silos) کی تعمیر پر کام کرے گی، گندم کی فصل کی بوائی سے پہلے پیداوار میں فی ایکڑ یقینی اضافے کے اقدامات اٹھائے جائیں۔

  • زارا شیخ کم کم کیوں نظر آتی ہیں؟‌

    زارا شیخ کم کم کیوں نظر آتی ہیں؟‌

    لالی وڈ کی اداکارہ زارا شیخ بڑی اور چھوٹی سکرین پر کم کم نظر آتی ہیں. بڑی سکرین پر تو ایک عرصے سے نظر ہی نہیں آرہیں .ماضی قریب میں وہ عمران اشرف اور سارا خان کے ساتھ ڈرامہ سیریل رقص بسمل میں نظر آئیں ان کے کردار کو کافی سراہا گیا. انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اور کہا ہے کہ میں اپنی مرضی اور مزاج کے مطابق کام کرتی ہوں. میں نے ہمیشہ پاور فل کرداروں کو ترجیح دی ہے اگر کردار پاور فل نہ ہو تو میں کسی صورت پراجیکٹ سائن نہیں کرتی یہی وجہ ہے کہ میں شائقین کو ٹی وی پر کم دکھائی دیتی ہوں. زارا شیخ نے کہا کہ میں نے بہت شہرت سمیٹی اور بہت کام کیا اور

    مرضی کاکام کیا، میں نے شہرت حاصل کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال نہیں کیا. میں یہ بھی جانتی ہوں کہ خبروں میں رہنے کےلئے جان بوجھ کر جھوٹے سچے سکینڈلز بنوائے جاتے ہیں، میں ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھتی. میں اچھا اور بہتر کام کرنے پر یقین رکھتی ہوں یہی وجہ ہے میں جب اور جتنی ضرورت ہو سامنے آجاتی ہوں. زارا شیخ نے مزید کہا کہ کام کا مزہ تب آتا ہے جب آپ کی مرضی کے مطابق ملے اور میں نے ہمیشہ اپنے کام کو انجوائے کیا.مجھے لگتا ہے کہ اگر آرٹسٹ اپنے کام کو انجوائے کرے تو شائقین بھی انجوائے کرتے ہیں.

  • شہباز گل پر تشدد کیخلاف نئی درخواست دائر

    شہباز گل پر تشدد کیخلاف نئی درخواست دائر

    سابق معاون خصوصی شہباز گل پر تشدد کیخلاف نئی درخواست دائر کردی گئی ہے.

    درخواست اسد عمر اور بابر اعوان نے دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ شہباز گل کو گرفتار کرتے وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور انہیں تھانے کے بجائے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا. شہباز گل پر دوران حراست بدترین تشدد کیا گیا، عدالت کے سامنے پیشی پر شہباز گل نے تشدد کے نشانات بھی دکھائے تھے.

    آئین کے آرٹیکل 14 دو کے تحت کسی پر بھی شواہد حاصل کرنے کے لیے تشدد کرنے کی اجازت نہیں، درخواست

    درخواست میں استدعا کی گئ کہ عدالت آئی جی اسلام آباد، سیکرٹری داخلہ اور ایس ایچ او کوہسار کو شہباز گل کی حفاظت یقینی بنانے کے احکامات جاری کرے، درخواست میں شہباز گل کے طبی معائنہ کے لیے غیر جانبدار ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنانے کی کی بھی استدعا کی گئی.

    درخواست میں‌ مزید استدعا کی گئی کہ پولیس کو شہباز گل پر پریشر ڈال کر اعترافی بیان لینے سے روکا جائے، شہباز گل کی تشدد کے بعد جسمانی اور دماغی حالت بہتر نہیں جو اسکی زندگی کے لیے خطرہ ہے، شہباز گل کو حراست میں رکھنے کا مقصد صرف جسمانی تشدد کرنا مقصود یے، عدالت شہباز گل کے جسمانی تشدد سے روکنے کا حکم جاری کرے.

    واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے منگل کے روز 9 اگست کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گِل کو مبینہ بغاوت پر اُکسانے کے کیس میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

    شہباز گِل نے پیر کی شام 8 اگست کو نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی‘ کے ایک پروگرام میں متنازع گفتگو کی تھی جس کی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ دوسری جانب یہ پروگرام نشر ہونے کے بعد پیمرا نے چینل کی نشریات معطل کر دی تھی اور ٹی وی انتظامیہ کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

    سرکار کی مدعیت میں اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اپنے بیان کے ذریعے شہباز گل نے ملک میں انتشار پھیلانے، فوج کو تقسیم کرنے، فوجی جوانوں کو اپنے افسران کا حکم نہ ماننے کی ترغیب دینے، فوج کے خلاف عوام کو نفرت پر اکسانے اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

  • موسیقی کے فن کا معمولی سا طالب علم ہوں راحت فتح علیخان

    موسیقی کے فن کا معمولی سا طالب علم ہوں راحت فتح علیخان

    راحت فتح علی خان ایسے قوال / گلوکار ہیں کہ جن کی پرستار وہ شخصیات ہیں جن کی دنیا دیوانی ہے. بالی وڈ کے تینوں خانز شاہ رخ خان، عامر خان اور سلمان خان راحت فتح علیخان کے فن کے دیوانے ہیں اور سلمان خان کی تو کوشش ہوتی ہےکہ اپنی فلم میں راحت فتح علی خان سے ایک گانا ضرور گوائیں. سلمان خان راحت فتح علی خان کو بے انتہا پسند کرتے ہیں اسی طرح سے راحت نے متعدد مرتبہ بالی وڈ کی فلموں کے لیے گایا اور ہر گانے نے ریکارڈ بنایا. راحت نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ نصرت فتح علیخان نے پوری دنیا میں قوالی کو نئی جہتوں سے متعارف کروایا، ان کا

    قوالی گانے کا جو انداز تھا وہ مجھ جیسا موسیقی کا ادنی سا طلب علم بھی نہیں اپنا سکتا. انہوں نے مزید کہا کہ قوالی ہمارے خاندان کی روایت ہے لہذا نصرت فتح علیخان کے انتقال کے بعد مجھے اس روایت کو آگے لیکر چلنا پڑا اور میں پوری کوشش کررہا ہوں کہ اس روایت کا امین بنا رہوں. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لوگ تعریف کرتے ہیں تو اچھا لگتا ہے ، کچھ لوگ تو مجھے موسیقی کے استاد کا درجہ دیتے ہیں لیکن میں خود کو موسیقی کے فن کا بہت ہی معمولی طالب علم سمجھتا ہوں. یاد رہے کہ راحت فتح علیخان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مجھے گلوکار کی بجائے قوال کہا جائے تو زیادہ اچھا لگتا ہے.

  • کروڑوں دِلوں کی دھڑکن سشمیتا سین کس کی محبت میں ہیں گرفتار؟

    کروڑوں دِلوں کی دھڑکن سشمیتا سین کس کی محبت میں ہیں گرفتار؟

    کائنات کی حسین لڑکی سشمیتا سین جو اپنے تعلقات کی وجہ سے ہمیشہ ہی خبروں میں‌رہتی ہیں. ہر چند ماہ کے بعد وہ کسی ایک نئے رشتے میں بندھ جاتی ہیں جس کے بعد ہر طرف انہی کے چرچے ہوتے ہیں . حال ہی میں سشمیتا سین اس وقت بہت زیادہ خبروں میں آئیں جب انہوں نے اپنے رشتے کا اعلان آئی پی ایل کے سابق چیئرمین للت مودی کے ساتھ کیا. سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد سشمیتا اور للت مودی کو بتایا پڑا کہ ہم صرف اچھے دوست ہیں. سشمیتا سین کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ وہ من موجی ہیں اور جو ان کا دل کرتا ہے وہ کرتی ہیں. وہ کسی بھی نئے رشتے کو بنانے کے لئے پرانے رشتے کو ختم کرنے میں

    گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتیں. سشمیتا سوشل میڈیا پر کافی متحرک ہیں ھال ہی میں انہوں نے اپنی نہایت ہی ایک خوبصورت تصویر شئیر کی اور اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سشمیتا سین اپنی گاڑی کے سائیڈ والے شیشے کو دیکھ رہی ہیں ”یہ کہہ رہی ہیں یہ لڑکی بارش سے پیار کرتی ہے اور یہ لڑکی ممبئی سے بھی پیار کرتی ہے” . سشمیتا سین کی اس تصویر اور اس کے کیپشن کے کمنٹس باکس میں صارفین نے لکھا کہ ہم بھی آپ سے بہت پیار کرتے ہیں کسی نے لکھاکہ آپ بہت خوبصورت ہیں تو کسی نے لکھاکہ اپ جیسا کوئی نہیں.

  • ارجن کپور نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا

    ارجن کپور نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا

    بونی کپور کے بیٹے اور بالی وڈ اداکار ارجن کپور نے کر لیا ہے اپنی غلطی کا اعتراف ان کا کہنا ہے کہ جب عامر خان کی فلم لال سنگھ چڈھا کے بائیکاٹ کی مہم چل رہی تھی اس وقت ہمیں بولنا چاہیے تھے مجھے افسوس ہے کہ میں کیوں نہیں بولا. ہمارے نہ بولنے کی وجہ سے فلم ناکامی کا شکار ہو گئی اور ایک بڑے طبقے نے فلم نہیں دیکھی. انہوں نے کہا کہ صرف مجھ سے نہیں ہم سب سے غلطی ہوئی ہے کہ ہم بائیکاٹ کے ٹرینڈ پر بولے نہیں. ہم سب بالی وڈ والوں کو چاہیے کہ متحد ہوجائیں اور بائیکاٹ کے ٹرینڈز کی حوصلہ شکنی کریں. کہا جا رہا ہے کہ اکشے کمار بائیکاٹ کے ٹرینڈ پر بولے تھے اس لئے وہ

    بھی بائیکاٹ کی مہم کا شکار ہو گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ عامر خان کی فلم لال سنگھ چڈھا کے ساتھ ریلیز ہونے والی فلم رکشہ بندھن بھی بری طرح فلاپ گئی لوگ دیکھنے گئے لیکن ایک بڑے طبقے نے فلم نہ دیکھی. کہا جا رہا ہے کہ جو بھی آرٹسٹ بائیکاٹ جیسی مہم کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے اس کی فلم بری طرح ناکامی سے دوچار ہو رہی ہے. ارجن کپور نے جہاں غلطی کا اعتراف کیا وہیں انہوں نے تشویش کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ یہ رجحان بالی وڈ کی فلموں کے لئے زہر قاتل ہو گا ہم سب کو مل کر اس پر بات کرنی چاہیے اور اس ھوالے سے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوجانا چاہیے.

  • عمران خان کس منہ سے میڈیا سیمینار کروا رہا؟ مریم اورنگزیب

    عمران خان کس منہ سے میڈیا سیمینار کروا رہا؟ مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں کی پسلیاں توڑیں، انہیں اغوا کیا، میڈیا کی آزادی کو کچلا، اور پارلیمان کو تالے لگوائے ہیں.

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے میڈیا کا معاشی قتل کیا اور عمران خان نے وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھ کر میڈیا دشمنی کی۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کا دور میڈیا کے لیے سیاہ دور تھا جبکہ عمران خان کرپٹ، غیر ملکی ایجنٹ، میڈیا دشمن اور دہرہ معیار رکھتے ہیں۔ میڈیا فیصلہ کرے کہ ان کے خلاف نیب کو استعمال کرنے والے کے سیمینار میں جانا ہے یا نہیں۔
    مریم اورنگزیب نے کہا کہ میڈیا کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ اُن کی آزادی اور نوکری چھیننے والے کے سیمینار کے تماشے کو ماننا ہے کہ نہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا واچ نے عمران خان کو فاشسٹ قرار دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے صحافیوں کی پسلیاں توڑیں اور انہیں اغوا کیا۔ میڈیا کی آزادی کو کچلا، پارلیمان کو تالے لگوائے۔

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ چار پانچ دن سے ایک شو لگا ہوا ہے۔ کیا یہ صرف ایک شخص پر تشدد ہوا وہ ایشو ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے؟ اگر کسی پر تشدد ہوا ہے تو حمایت نہیں کرسکتے، مگر بات کچھ اور ہے۔
    ان کا کہنا ہے کہ عمران خان شہباز گل کی طرف بار بار کیوں دیکھتے ہیں؟ اس طوطے میں نہ صرف عمران خان بلکہ کچھ اور لوگوں کی بھی جان ہے۔ اب جو رونا دھونا ہوا وہ طوطے کےلیے نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ ثابت ہوا کہ بھارت اور اسرائیل کی فنڈنگ ہوئی۔ بات یہاں تک نہیں رہی طوطے نے بہت کچھ بتایا ہے۔ سہولت کار اس کو تحفظ دے رہے تاکہ ڈوریں ہلانے والے کا نام نہ لے لیں۔ اصل وجہ طوطے کی زبان بند رکھنا ہے۔
    ان کا کہنا ہے کہ چار سال وزیر اعظم ہاؤس اور بنی گالہ میں اخلاقیات سے لیکر پیسہ بنانے اور قومی راز اگلنے تک اس طوطے کو سب پتا ہے۔ اس طوطے کی زبان بندی عمران خان کی مجبوری ہے، وعدہ معاف گواہ بنانے کا تو سوال نہیں۔ طوطے سے یہ باتیں اگلوانی چاہییں کہ چار سال میں وزیر اعظم ہاؤس سے بنی گالہ تک عوام کے متعلق کیا منصوبہ بندی ہوئی۔

    انہوں نے کہا ہے کہ رات قومی ادارے انوالومنٹ نہ کرتے تو پنجاب اور وفاق کے ادارے ٹکراتے۔ کس حیثیت میں پنجاب انتظامیہ کو حکم دیتے ہو؟ آپ اخلاقی قدروں سے بالکل نا آشنا ہو، آپ مدینہ کی ریاست کی بات کرتے تھے، آپ نے بھارتی ریاست کے مسلمانوں سے بھی زیادہ برا حشر کیا۔
    ان کا کہنا ہے کہ فواد چودھری نے یہ بات نہیں کہی تھی کی بند کمروں میں فیصلے جج اور جنرل کرتے ہیں۔ اگر ان باتوں کا نوٹس نہ لیا گیا، بات تو پھر بڑی ہے، جو طوطے کو کور دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فوج کے خلاف پی ٹی آئی قیادت کی مرضی کے بغیر سٹیج سے نعرے کیسے لگ گئے؟ اب سابق آفیسر سے مدد مانگنا اور باسٹھ لاکھ ماہانہ ادا کرنا کہاں سے آتا ہے؟ اپنی لابنگ کیلئے پیسہ لگانا چندے سے تو نہیں آتا ہے اس کے پیچھے تو کوئی ہوگا۔

    انہوں نے کہا ہے کہ میرے لواحقین نے ہائی کورٹ میں درخواست دی ہمارا بیٹا کدھر ہے کوئی معلوم نہیں۔ جب میں چھ بائے چار کے کمرے میں بند تھا اس میں ہزار واٹ کے چالیس بلب لگے تھے۔میں تو باہر آکر نہیں رویا۔
    ان کا کہنا ہے کہ اگر میرا چودہ دن کا ریمانڈ ہوسکتا ہے اس کا بارہ دن تو کرلیں،میں تشدد کی حمایت نہیں کرسکتا کیونکہ میں خود متاثرہ ہوں۔ ہمیں چھوڑ دیں، ہم کیسے پکڑے جاتے تھے، کیسے سزائیں ہوتی تھی، کوئی سروکار نہیں طوطے سے پوچھا جائے اس کے پیچھے کون ہے، اسکا نام پبلک ہونا چاہیے، تاکہ یہ سازش رک جائے، پاکستانی قوم مزید تقسیم نہ کی جائے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دور میڈیا کے حوالے سے کافی متنازع رہا تھا۔ کبھی سوشل میڈیا پر نا پسندیدہ صحافیوں کی فہرستیں سامنے آئیں تھی، تو کبھی صحافیوں کے خلاف آن لائن ٹرولنگ کے الزامات لگے تھے آزادی اظہار رائے پر پابندی کی کوششوں سمیت تحریک انصاف دور میں ایسے قوانین متعارف کروانے کی بھی کوشش کی گئی جن پر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر صحافتی تنظیموں نے احتجاج کیا تھا اور اس کے علاوہ عمران خان کے دور میں سینئر صحافیوں کے انٹرویو بھی آف ائیر کیئے گئے تھے.