Baaghi TV

Author: +9251

  • ایک طرف امریکی سازش کا نعرہ تو دوسری طرف پی ٹی آئی نے امریکہ میں لابنگ فرم حاصل کرلی

    ایک طرف امریکی سازش کا نعرہ تو دوسری طرف پی ٹی آئی نے امریکہ میں لابنگ فرم حاصل کرلی

    تحریک انصاف کی طرف سے امریکہ مین لابنگ فرم حاصل کرنے کا انکشاف ہوا ہے، پی ٹی آئی نے 6 ماہ کیلئے 25 ہزار ڈالر ماہانہ پر لابنگ فرم فنٹن آرٹ لوک کی خدمات حاصل کرلی ہیں.

    اس معاہدہ کی نقل سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس کے مطابق کمپنی تحریک انصاف کو پبلک ریلیشن سروس فراہم کرے گی، جس میں لابنگ فرم کا کام اخبارات میں مضمون چھپوانے، تحریک انصاف کے حمایتیوں اور رہنماؤں کے ٹیلی ویژن انٹرویوز کے اہتمام میں مدد جبکہ سوشل میڈیا سے متعلق مدد اور رہنمائی بھی کرے گا.

    یہ معاہدہ 6 ماہ کیلئے کیا گیا جو اگست 2022 سے شروع ہو کر جنوری 2023 پر ختم ہوگا، پارٹی کی جانب سے ایڈوانس مد میں 50000 ڈالر فرم کو دے دئیے گئے جبکہ معاہدے میں لکھا گیا اگست اور ستمر کے ایڈوانس اخراجات کی مد میں 5000 ڈالر ابھی واجب الادا ہیں۔

    ایک صارف نے اس معاہدہ بارے کہا کہ: عمران خان نے امریکی سازش کا بیانیہ خود ہی جھوٹا ثابت کردیا ہے. جبکہ اب اپنی جان پر بنی تو امریکا میں ماہانہ 25 ہزار ڈالر پر لابنگ فرم سے معاہدہ کرلیا گیا.

    انہوں نے کہا: اس معاہدہ میں طے ہے کہ تحریک انصاف کے حامی لوگوں کے انٹرویوز کروائے جائیں گے اور امریکا میں تحریک انصاف کی عزت بحالی کروائی جائے گی.

    وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کے رہنماء احسن اقبال نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ: قوم میں امریکہ کیخلاف سازش تھیوری گھڑ کے ہیجان پیدا کیا ہوا ہے جبکہ خود امریکہ سے ترلوں اور معافیوں پہ اترا ہوا ہے۔


    ان کا کہنا تھا کہ: پہلے ایلچی بھیجے، پھر سفیر سے خود منت سماجت کی اور اب لابنگ کیلئے کمپنی رکھ کے معافی تلافی پہ کام ہو رہا ہے، اس کپتان کے کتنے چہرے ہیں کمپیوٹر بھی پریشان ہے اور شرم ان کو مگر نہیں آتی.


    صحافی نوید شیخ نے اس معاہدہ کی نقل شیئر کرتے ہوئے کہا کہ: وہ جماعت جس کے سربراہ کا "ایسولوٹی ناٹ” کا نعرہ ہے اس نے امریکہ سے حقیقی آزادی بھی دلوانی ہے، اس نے جوبائیڈن انتظامیہ سے تعلقات بحال کرنے کے لیے امریکی لابیسٹ فرم کی خدمات حاصل کر لی ہیں تاکہ کہ وہ اقتدار بحالی میں مدد دےسکیں، آسان الفاظ میں کپتان امریکہ سے معافی کا طلب گار ہے۔

    اس حوالے سے سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ تحریک انصاف نے کہا ہے کہ: پی ٹی آئی امریکہ نے اس فرم کی خدمات حاصل کی ہیں اور اس کا مقصد میڈیا میں اپنا مؤقف اجاگر کرنا ہے.


    جبکہ صحافی وسیم عباسی نے کہا: سازش کا بیانیہ ختم امریکہ سے دوستئ شروع، امریکہ اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے بہتر تعلقات کے لیے پی ٹی آئی نے لابنگ فرم ہائر کر لی جس کو ماہانہ تقریبا پچاس لاکھ سے زائد روپے دئیے جائیں گے.
    انہوں یاد دلایا کہ خان صاحب نے کل کہا تھا آپ زیادہ عرصہ تک سب کو بے وقوف نہیں بنا سکتے.

  • حلقہ بندیوں کا کیس: الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری،29 ستمبر تک جواب طلب

    حلقہ بندیوں کا کیس: الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری،29 ستمبر تک جواب طلب

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے قومی اسمبلی کی دو اور پنجاب اسمبلی کی تین حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستوں پر الیکشن کمیشن اور حلقہ بندی کمیٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 29 ستمبر تک جواب طلب کرلیا۔

    قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، درخواست گزار وفاقی وزیر مرتضیٰ محمود کے وکیل نے دلائل دیئے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 173 اور 174 میں تبدیلیاں کی گئیں۔
    حلقہ بندیاں کرکے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 20 کی خلاف ورزی کی گئی، الیکشن کمیشن کی جانب سے دونوں حلقہ بندیوں سے متعلق 5 اگست 2022 کا نوٹی فکیشن کاالعدم قرار دیا جائے، عدالت نے پنجاب کے حلقہ پی پی 82، 83 اور 84 کی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواست پر بھی نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا۔

    واضح‌ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست گزشتہ پانچ اگست کو شائع کی تھی.
    الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے 266 حلقوں کے لیے حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست شائع کردی گئی جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے 593 حلقوں کے لیے حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست بھی شائع کردی گئی.

    اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ انتخابی حلقہ، ضلع کی حتمی حلقہ بندی کی نقل الیکشن کمیشن سے لی جا سکتی ہے، جبکہ حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان 11اپریل 2022 کو کیا گیا تھا۔
    یکم جون سے 30 جون تک ابتدائی حلقہ بندیوں پر اعتراضات اور تجاویز وصول کی گئیں تھی۔
    الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں پر 910 اعتراضات موصول ہوئے تھے، اعتراضات کو یکم جولائی سے 30 جولائی تک سماعت کے بعد نمٹایا گیا تھا.

    علاوہ ازیں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گزشتہ نو اگست کو قومی ،صوبائی اسمبلیوں کی نئی اور حتمی حلقہ بندیاں جاری کی تھی.
    میڈیا رپورٹس کے مطابق جاری کردہ حلقہ بندیوں میں قومی اسمبلی کی 266 جنرل نشستیں بنائی گئی تھی اورچاروں صوبائی اسمبلیوں کی 593 جنرل نشستیں تھیں.
    ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی کل 859 جنرل نشستوں کے حلقے بنائے گئے، حلقہ بندی فہرست کے مطابق بلوچستان اسمبلی کی 51 ،خیبر پختونخوا اسمبلی کی 115 ،پنجاب اسمبلی کی 297 اورسندھ اسمبلی کی 130سیٹیں ہیں.

    اسی طرح قومی اسمبلی میں پنجاب کی 141 ، سندھ کی 61 ، بلوچستان کی 16 ،پختونخوا کی 45 اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی 3 سیٹیں رکھی گئی، 25 ویں آئینی ترامیم کے بعد قومی اسمبلی کی 6 نشستیں کم کر دی گئیں تھی۔
    کے پی میں انضمام کے بعد سابق فاٹا ایریا کی اب 12 کی بجائے قومی اسمبلی میں 6 نشستیں ہونگی،الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیاں چھٹی مردم شماری کے نتائج کے تحت کی گئی ۔

  • سپریم کورٹ نظر ثانی کرتے ہوئے فیصلہ واپس لے سابق وزیراعلی حمزہ شہباز کی استدعا

    سپریم کورٹ نظر ثانی کرتے ہوئے فیصلہ واپس لے سابق وزیراعلی حمزہ شہباز کی استدعا

    ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیخلاف پرویز الہی کی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلہ پر سابق وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست دائر کر دی ہے اور استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ نظر ثانی کرتے ہوئے یہ فیصلہ واپس لے.

    حمزہ شہباز نے نظر ثانی کی درخواست ایڈووکیٹ منصور اعوان کی وساطت دائر کی گئی، درخواست میں پرویز الہٰی اور سابق ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کو فریق بنایا گیا ہے۔
    درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ پنجاب قرار دینے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور سابق ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ کو آئینی قرار دیا جائے۔

    حمزہ شہباز نے نظر ثانی درخواست پر 12 رکنی فل کورٹ بنانے کی استدعا کی ہے، نظر ثانی درخواست پر آئینی نقطہ کی تشریح اور آرٹیکل 63 اے کی درخواستوں پر سماعت کیلئے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار چوہدری پرویز الہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب قرار دے دیا تھا.

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ کے خلاف چوہدری پرویز الہیٰ کی درخواست پرعدالت نے اپنے فیصلے میں مسلم لیگ ق کے مسترد ووٹوں کو شمار کرنے کا حکم دیتے ہوئے گورنر پنجاب کو ہدایت کی تھی کہ چوہدری پرویز الہیٰ سے حلف لیں۔
    سپریم کورٹ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر گورنر پنجاب حلف نہیں لے سکتے تو ان کی جگہ صدر پاکستان چوہدری پرویز الہیٰ سے حلف لیں۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا تھا کہ چیف سیکرٹری پنجاب پرویز الہیٰ کا بطور وزیر اعلیٰ نوٹیفیکیشن جاری کریں جبکہ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ تمام صوبائی مشیران اور معاونین خصوصی کو عہدے سے فی الفور ہٹایا جاتا ہے۔

  • پاکستان میں ادویات کا بڑھتا ہوا بحران اور وزیراعظم کا نوٹس

    پاکستان میں ادویات کا بڑھتا ہوا بحران اور وزیراعظم کا نوٹس

    پاکستان میں ضروری اور جان بچانے والی ادویات کی قلت کا بحران مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ ہے ، ملک بھر میں اس وقت 70 سے زائد ضروری اور جان بچانے والی ادویات مارکیٹ سے غائب ہیں۔

    سماء ٹی وی کے مطابق: مقامی ادویہ ساز کمپنیوں نے عالمی منڈی میں خام مال کی قیمتوں میں اضافے اور زیادہ پیداواری لاگت کی وجہ سے اس کی درآمد روک دی ہے جس کی وجہ سے بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔
    ادویہ ساز کمپنیوں نے 200 مالیکیولز کے خام مال کی درآمد روک دی ہے جن کی عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور ان کی پیداواری لاگت کمپنیوں کی استطاعت سے باہر ہے۔

    ادویہ ساز کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر ٹیکسز میں چھوٹ نہ دی گئی اور ادویات میں قیمتوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو ان ادویات کی تیاری ناممکن ہوجائے گی۔
    یہ تیسرا ہفتہ ہے کہ خام مال کے لیے کوئی نیا آرڈر نہیں دیا گیا ہے۔ لہٰذا موجودہ پیداوار کچھ دستیاب اسٹاک کے ساتھ جاری ہے لیکن یہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گی اور جلد ہی یہ رک جائے گی جس سے ادویات کی قلت کا بحران مزید شدت اختیار کرجائے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف ادویات کی قلت کے بحران کا ایک ماہ بعد نوٹس لیا ہے اور ملک میں 60 ضروری ادویات کی عدم دستیابی کا جائزہ لیتے ہوئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کو ادویات کی دستیابی سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
    اس سے پہلے کہ وفاقی حکومت کوئی قدم اٹھاتی، مقامی کمپنیوں نے کئی دوائیوں کی پیداوار روکنے کا فیصلے کیا جس سے موجود بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔

    ملک کے سرکردہ سرکاری اور نجی شعبے کے اسپتالوں اور صحت کے ماہرین کے ساتھ مل کر ان ادویات کی فہرست مرتب کی ہے جو مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔
    مارکیٹ سے غائب ادویات کی فہرست مرتب کرنے والی ٹیم کے ایک رکن اور سینئر فارماسسٹ نے بتایا کہ جولائی میں جو فہرست بنائی گئی تھی اس میں 40 مختلف ادویات کے نام تھے جن میں گولیاں، شربت، انجیکشن اور مرہم یا قطرے شامل تھے۔

    انہوں نے بتایا کہ اب 74 کے قریب دوائیں ایسی ہیں جو دستیاب نہیں ہیں۔ جن میں دماغی و اعصابی بیماریوں کی ادویات بھی شامل ہیں حتیٰ کہ ان میں ایسی دوائیں بھی ہیں جنہیں خودکشی سے بچاؤ کی ادویات کہا جاتا ہے۔
    مثال کے طور پر لیتھیم کاربونیٹ کے تمام برانڈز مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں جو کہ کئی نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے موثر ترین دوا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ان ضروری ادویات میں بچوں میں توجہ کی کمی ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر کے علاج کے لیے میتھائلفینیڈیٹ اور بچوں اور بڑوں میں مرگی کے لیے کلونازپم کے قطرے اور گولیاں شامل ہیں، جو پچھلے کئی ہفتوں سے مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ٹی بی (تپ دق)، مرگی، پارکنسن، امراض قلب اور دیگر بیماریوں کے مریضوں کے لیے ادویات بھی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔

    فارما انڈسٹری کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مقامی فارما کمپنیوں کا اتفاقی فیصلہ نہیں تھا لیکن حالات نے انہیں ایک ایک کرکے پیداوار بند کرنے پر مجبور کیا ہے اور اس کا اثر اب ادویات کی عدم دستیابی کی صورت میں مارکیٹ میں نظر آنے لگا ہے۔
    ایک اور صنعت کار نے بتایا کہ لیتھیم کاربونیٹ 9 مختلف کمپنیاں تیار کرتی ہیں لیکن خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور پیداواری لاگت کے آسمان کو چھونے کے بعد اب ان میں سے کوئی بھی اسے تیار نہیں کر رہا ہے۔

    پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے چیئرمین قاضی منصور دلاور نے اعتراف کیا کہ مقامی صنعت کی جانب سے متعدد ادویات کی پیداوار روکنے کے سے مارکیٹ میں بحران پیدا ہو رہا ہے۔
    کرونا بحران پر قابو پاکر گزشتہ ایک سال سے عالمی منڈی کو کھولا گیا تھا بحران کے بعد ہم عالمی منڈی میں خام مال کی قیمتوں میں بہت زیادہ فرق دیکھ رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم تیزی سے کم ہوتے ہوئے منافع کے مارجن کے باوجود ادویات کی سپلائی کو جاری رکھے ہوئے تھے لیکن مقامی سطح پر بڑھتی ہوئے پیداواری لاگت نے اب چیزوں کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ کمپنیاں مزید نقصان برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اس لیے وہ خام مال درآمد نہیں کر رہی ہیں اور بالآخر اب کئی دوائیں تیار نہیں کر پائیں گی۔ انہوں نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ ادویات کی قیمتوں میں ایک حد تک اضافہ کیا جائے اور حالیہ بحران پر قابو پانے کے لیے ان کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے اگر ایسا نہ کیا تو آنے والے دنوں میں بحران مزید شدت اختیار کرجائے گا۔

    ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ایک ذمہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی پی ایم اے ادویات کی قلت کے معاملے پر بلیک میلنگ کر رہی ہے اور ان کی کوشش ہے کہ تمام ادویات کی قیمتوں پر 40 فیصد اضافہ کرلیا جائے جو کسی صورت ممکن نہیں۔
    دنیا کے کون سے ملک میں ایسا ہوتا ہے کہ تمام ادویات کی قیمتیں ایک ساتھ بڑھا دی جائیں، پاکستانی عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ قیمتیں ایک ساتھ بڑھا دی جائیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ہم سمجھتے ہیں ایسی کوئی دوا نہیں ہے جس کی پیداواری لاگت کا مسئلہ ہو اور پیداواری لاگت کو جواز بناکر دوا کی تیاری بند کردی ہو،ایسی کوئی ایک دوا نہیں ہے۔
    ایسی ادویات ضرور ہیں جن کی باہر سپلائی چین متاثر ہوئی ہے یا جس کا کوئی جینین ایشو ہو جن کی قیمتوں میں اضافہ ہونا چاہیے۔

    ہم نے ورکنگ کرکے جو رپورٹ تیار کی ہے اس کے مطابق 35 کے قریب ادویات ہیں جو ہارڈشپ کیسز میں شامل ہیں جن کی قیمتوں میں اضافہ ہونا چاہیے اور ان ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کابینہ کو بھیجی گئی ہے۔
    لیتھیم کاربونیٹ کی جہاں تک بات ہے وہ بھی ان ہارڈشپ کیسز میں شامل ہے، یہ ہارڈشپ کیسز پینڈنگ میں ہیں اور ان کی قیمتوں کا فیصلہ کابینہ نے کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پی پی ایم اے کو چاہیے کہ وہ تھوڑی قربانی دیں کیوں کہ اس وقت جو ملک کے حالات ہیں وہ ایسے نہیں ہیں کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔ اب ایسا نہیں ہوسکتا کہ 75 ہزار ادویات پر ایک ساتھ اضافہ کرلیاجائے۔

  • شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کی ضمانت منظور کرلی گئی

    شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کی ضمانت منظور کرلی گئی

    رہنما تحریک انصاف ڈاکٹر شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کی ضمانت منظور ہو گئی ہے، جوڈیشل مجسٹریٹ سلمان بدر نے 30 ہزار روپے مچلکوں پر ضمانت منظور کی ہے۔

    یاد رہے گزشتہ روز شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کو اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے لیا تھا، انہیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے سامنے پیش کیا گیا لیکن ان کی ضمانت نہ ہوئی، خاتون اور ان کی دس ماہ کی بچی کو رات جیل میں گزارنی پڑی۔

    رہنما پی ٹی آئی کنول شوزب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا شکر ہے خاتوں کی بیل ہو چکی ہے، کل ہمیں اس سے ملنے بھی نہیں دیا گیا، گیارہ ماہ کی بچی کی ماں کا کوئی جرم نہیں تھا، یہ پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم کی گئی ہے۔


    انہوں نے مزید کہا کہ ایک نہیں دو پاکستان ہیں، شہباز گل کی بہت دیر تک سماعت ہوئی، چیئر مین عمران خان کو قابو کرنے کیلئے دباو بڑھایا جا رہا ہے، اس ملک کی سالمیت کو داو پر مت لگائیں، پوری قوم کو اس قسم کے معاملات میں الجھا کر مہنگائی سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے، حکومت کی کارکردگی پر ہماری پوری توجہ ہے، پوری دنیا میں پاکستانی پریشان ہیں۔

  • ڈالر مزید سستا ہوکر 216 پر آگیا

    ڈالر مزید سستا ہوکر 216 پر آگیا

    انٹر بینک میں آج بھی ڈالر مزید سستا ہو گیا جبکہ روپیہ مزید مستحکم ہو گیا ہے، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 2 روپے 88 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔

    آج جمعے کو بھی کاروبار کے آغاز پر امریکی ڈالر کے سامنے روپے کی قدر میں بہتری دیکھنے میں آئی اور ڈالر کی قیمت میں تنزلی کا سلسلہ جاری رہا۔

    انٹربینک میں ایک ڈالر 2 روپے 88 پیسے کی کمی کے ساتھ 216 روپے پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

    گزشتہ جمعرات کو دن کے آغاز پر انٹربینک میں ڈالرکی قدرمیں ایک روپے91 پیسےکی کمی دیکھی گئی تھی۔ انٹر بینک میں ڈالر 220 روپے پر آگیا تھا

    جمعرات صبح 11 بجے انٹربینک میں ڈالرکی قدرمیں2روپے 41 پیسے کی کمی دیکھی گئی تھی اور انٹربینک میں ڈالر 219 روپے 50پیسے پر آگیاتھا۔ 10 روز میں انٹر بینک میں ڈالر 20 روپےسستا ہوچکا۔

    واضح رہے کہ بدھ کو دن کے اختتام پر انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 221 روپے 91 پیسے پر بند ہوئی جب کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 3 روپے سستا ہوکر 216 روپے پر آگیا تھا۔

    ایک ہفتے میں ڈالر کی قدر میں 27روپے کی کمی

    مقامی کرنسی مارکیٹوں میں یکم اگست تا5اگست پر مشتمل ہفتے کے دوران ڈالرکی قدر میں غیر معمولی گراوٹ کا رجحان رہا اور انٹر بینک میں ڈالر 239.37روپے کی سطح سے گرتے ہوئے 224.04روپے کی سطح پر آگیا یعنی 1 ہفتے میں انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں کمی15روپے 33پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    اسی طرح اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر247روپے سے گرتے ہوئے220روپے کی سطح پر آگیا جس سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 27روپے کی کمی دیکھی گئی۔کرنسی ڈیلرز کا کہنا تھا کہ آئندہ دنوں بھی ڈالر کی قدر میں کمی آنے کا قومی امکان ہے۔

    فارن ایکس چینج آپریشنز کی نگرانی

    پچھلے ہفتے سے اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیز اور بینکوں کے فارن ایکس چینج آپریشنز کی نگرانی سخت کردی ہےاور مرکزی بینک نے ضوابط کی خلاف ورزی پر2 ایکسچینج کمپنیز کی4 برانچوں کے آپریشن معطل کردیئے گئے جبکہ ڈالرکی قیمت خریداور فروخت میں زیادہ فرق کا بھی نوٹس لیا گیا تھا۔

    فوریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے سماء ٹی وی سے گفتگو میں کہا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے امریکی حکام سے رابطے کے بعد امید ہے کہ آئی ایم ایف کی قسط جلد جاری ہوجائے گی ۔انہوں نے کہا تھا کہ ڈالر کی قدر مصنوعی انداز میں بڑھائی گئی تھی،ڈالر کی اصل ویلیو 180روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

    ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کے مطابق اسٹیٹ بینک اور دیگر حکومتی اداروں کی عدم توجہی کے باعث انٹر بینک میں بڑے پیمانے پر سٹہ بازی کی وجہ سے ڈالر اس قدر بلندی پر پہنچ گیا تھا تاہم حکومتی ادارے اب متحرک ہوگئے ہیں جس کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی شروع ہوگئی۔

  • شہباز گل کو جیل بھجوا دیا گیا

    شہباز گل کو جیل بھجوا دیا گیا

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

    عدالت نے شہبازگل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی،شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا اسلام آباد کی مقامی عدالت نے شہبازگل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر محفوظ فیصلہ سنا دیا شہباز گل کو آج اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیاتھا

    تحریک انصاف کے رہنماء اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی شہباز گل کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پراسیکیوٹر نے کہا کہ فوج کے اندر مختلف رینکس کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی گئی ہے اور ملزم چونکہ ہائی پروفائل ہے لہذا ہم نے پولی گرافک ٹیسٹ کرانا ہے.

    شہباز گل کو جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر کی عدالت میں پیش کیا گیا، تفتیشی افسر نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے آڈیو پروگرام کی سی ڈی حاصل کر لی ہے اور وہ میچ بھی کر گئی ہے ، ایک موبائل ان کی گاڑی میں رہ گیا تھا دوسرا ان کے پاس تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے کہا کہ ملزم موبائل اور لیپ ٹاپ تک رسائی نہیں دے رہا ہے، جبکہ سچ اور جھوٹ جاننے کے لیے پولی گرافک ٹیسٹ کرانا ہے جوکہ انتہائی ضروری ہے.انہوں نے مزید کہا کہ: ٹرانسکرپٹ پڑھا گیا، لیکن ملزم یہ نہیں بتا رہا کہ اس کے پیچھے کون ہے؟ لہذا میں استدعا کرتا ہوں کہ پولیس کو مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے،

    ملزم شہباز گل نے کہا کہ وفاقی کابینہ کا رکن رہا ہوں مجھے سونے نہیں دیا جاتا جب کہ اگر میں سونے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے جگا دیا جاتا ہے، ملزم نے الزام عائد کیا کہ: جعلی میڈیکل رپورٹ بنا لی گئی جبکہ مجھے تھانہ کوہسار بھی نہیں رکھا گیا ہے، اور مجھ پر تشدد کیا جاتا ہے حالانکہ میں اپنی فوج کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا جس قسم کا الزام عائد کیا جارہا ہے.دوران حراست مجھ پر تشدد کیا جارہاہے نشانات موجود ہیں فزیکل چیک اپ نہیں کیا گیا وکلا سے ملنے نہیں دیا جا رہا ، ساری ساری رات مجھے جگایا جاتا ہے سوتا ہوں تو جگا دیا جاتا ہے،شہباز گل نے عدالت کو قمیض ہٹا کر پیٹھ دکھا دی

    شہباز گل نے عدالت کے سامنے بیان دیا کہ جب انہیں گرفتار کیا گیا تو چار بجے کا وقت تھا، سگنل نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت کوئی موبائل نہیں چل رہا تھا۔اس سے قبل شہباز گل کی اپنی لیگل ٹیم کے ساتھ کمرہ عدالت میں ملاقات بھی کرائی گئی۔
    شہباز گل کے وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ حکومت کی مداخلت دیکھ لیں ،ایڈووکیٹ جنرل کس حیثیت میں آگئے ہیں اس پر عدالت نے غیر ضروری افراد کو کمرہ عدالت سے باہر نکلنے کی ہدایت کر دی۔

    شہباز گل نے کہا کہ میرا ساتھ جو رہا ہے یہ پولیٹیکل ویکٹیمائزیش ہے ،شہباز گل کے وکیل نیاز اللہ نیازی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کہتا ہے کہ ملک کے لیے مضبوط فوج ضروری ہے ،ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں ،

    پولیس نے شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی،پراسیکیوٹر نے کہا کہ پہلا ریمانڈ اس تحقیق کے لیے تھا کہ پروگرام کا ٹرانسکرپٹ اصلی ہے یا نہیں ، ہم نے ابھی دیکھنا ہے پروگرام کے پیچھے پروڈیوسر کون تھا ،میری استدعا ہے ملزم ہائی پروفائل ہے 4،5دن دیں تاکہ پولی گرافک ٹیسٹ کروایا جائے ، ہم نے پیمرا کو بھی لکھا ہے ہو سکتا ہے ملزم کو کراچی لے جانا پڑے ، یہ ہمیں موبائل کیوں نہیں دے رہے ،شہباز گل کے ووکل ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آئی ہے کہ پروگرام میں یہی بات کر رہا ہے ، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ تشدد کے نشانات کپڑوں پر نہیں کمر پرہیں۔ پیڈ صحافی کہہ رہے ہیں دوران تفتیش قومی ترانا پڑھنا شروع ہو گئے، میڈیا کو فیڈ کیا جارہا ہے شہباز گل وعدہ معاف گواہ بن گئے جو رٹی رٹائی تقریر انہوں نے کی اس میں کچھ بھی نہیں ہے ،پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے فزیکل ریمانڈ کی ضرورت ہی نہیں وہ ویسے بھی کرا سکتے ہیں ،ایف آئی اے ان کے ہاتھ میں ہے یہ کسی کا نام بھی ڈال سکتے ہیں،پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہباز گل کا میڈیا ٹرائل نہیں ہو رہا قانونی کاروائی آگے بڑھا رہے ہیں جب ملزم کا موبائل مل جائے گا فرانزک ہو جائے گا تو پتہ چل جائے گا

    عدالت پیشی کے موقع پر شہباز گل کا کہنا تھا کہ میرےخلاف سیاسی انتقامی کارروائی ہورہی ہے،کوئی غیرت مند پاکستانی کبھی اپنی فوج کے خلاف بات نہیں کرے گا،

    واضح رہے کہ شہباز گل کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا ہے، ،اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شہباز گل کو گرفتار کیا گیا ہے ، شہباز گل کے خلاف اداروں کیخلاف بیان بازی اور عوام کو اداروں کیخلاف اکسانے پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے،شہباز گل کو گزشتہ روز عدالت پیش کیا گیا تھا جس کے بعد عدالت نے شہباز گل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ دیا ہے

    واضح رہے کہ شہباز گل نے دوران تحقیقات بتایا تھا کہ اس نے اپنا موبائل اپنے ڈرائیور کو گرفتاری کے وقت دے دیا تھا،رات کو پولیس نے شہباز گل کے‌ ڈرائیور کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مارا تھا ڈرائیور کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم شہباز گل نے دوران تحقیقات بتایا کہ میرا ملکیتی موبائل جس میں اس مقدمہ کے حوالہ سے کافی سارا مواد موجود ہے گرفتاری کے وقت وہ موبائل اسسٹنٹ ،ڈرائیور اظہار کو دے دیا تھا جو کہ ابھی بھی اس کے پاس ہے جو آجکل اپنے سسرال میں مقیم ہے

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

  • بدنام زمانہ اسلامک اسٹیٹ گروپ کےمبینہ رکن آئن ڈیوس لندن میں‌ گرفتار

    بدنام زمانہ اسلامک اسٹیٹ گروپ کےمبینہ رکن آئن ڈیوس لندن میں‌ گرفتار

    لندن : شام میں تشدد کرنے، بھوکے مارنے اور یرغمالیوں کو ہلاک کرنے والے بدنام زمانہ اسلامک اسٹیٹ گروپ کے ایک مبینہ رکن آئن ڈیوس پر ترکی کے حکام کی جانب سے ملک بدری کے بعد انگلینڈ پہنچنے کے بعد دہشت گردی کے جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    .
    برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق 38 سالہ ڈیوس کو برطانوی پولیس نے بدھ کے روز لوٹن ہوائی اڈے سے گرفتار کیا اورلندن کے قریب کسی علاقے میں پہنچا دیا گیا ۔ اس نے 2015 میں گرفتار ہونے اور 2017 میں دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے کے جرم میں سزا پانے کے بعد کئی سال ترکی کی جیل میں گزارے۔ ڈیوس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

    لندن کی میٹروپولیٹن پولیس سروس نے ایک بیان میں کہا کہ ڈیوس پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ وہ جمعرات کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوا ہے

    اس حوالے سے کراؤن پراسیکیوشن سروس نے کہا کہ الزامات کا تعلق 2014 سے دہشت گردی کے مبینہ جرائم اور دہشت گردی سے منسلک مقصد کے لیے آتشیں اسلحہ رکھنے سے ہے۔ڈیوس نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔

    امریکی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس گروپ نے کم از کم 27 یرغمالیوں کے سر قلم کیے جن میں امریکی صحافی جیمز فولی اور سٹیون سوٹلوف بھی شامل ہیں۔ بہیمانہ قتل کی فوٹیج ریکارڈ کر کے آن لائن شیئر کی گئی۔

    اس گروپ کے دو ارکان، الیگزینڈا کوٹی اور الشفیع الشیخ امریکہ میں قید ہیں، جب کہ گروپ کا سربراہ، محمد اموازی، جو عالمی سطح پر "جہادی جان” کے نام سے جانا جاتا تھا، شام میں امریکی برطانوی ڈرون حملے میں 2015 میں‌ مارا گیا تھا۔

  • پاکستان:فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہم،84 افراد سےتحقیقات

    پاکستان:فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہم،84 افراد سےتحقیقات

    لاہور:اس وقت پاکستان میں سوشل میڈیا پیجز پر جس طرح قومی اداروں کے بارے میں منفی رائے قائم کی جارہی ہے اس پرماہرین نے بہت زیادہ پریشانی کا اظہار کیا ہے، خاص کر چند دن قبل پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر منفی مہم چلانے والے 700 سے زائد اکاؤنٹس کا پتا لگایا گیا ہے جن میں بیرون ملک سے چلنے والے اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔

    ممنوعہ فنڈنگ کیس: تحریک انصاف کو ایف آئی اے طلبی کیخلاف ہائی کورٹ سے ریلیف

    پاک فوج کے افسران کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر منفی مہم کی تحقیقات کے لیے قائم چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی رپورٹ میں اس مہم میں ملوث اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی ہے۔اس سلسلے میں وزارت داخلہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ’ایف آئی اے، آئی بی، آئی ایس آئی کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی صرف فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جمع کروائے گی جس کے بعد مقدمے درج کیے جائیں گے اور گرفتاریاں بھی ہوں گی۔

    ایف آئی اے کی طلبی کے باوجود قاسم سوری پیش نہ ہوئے

    وزارت داخلہ کے اہلکار کا کہنا تھاکہ 8اگست کو قائم ہونے والی کمیٹی کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور ابھی صرف ابتدائی رپورٹ جمع کروائی گئی ہے۔اس دوران ’754 ایسی ٹویٹس کی گئیں جس سے شہداء یا پاک فوج کے خلاف مہم کا تاثر ملتا ہے۔‘اس سلسلے میں تقریبا 237 ٹوئٹر اکاؤنٹس کا پتا چلایا گیا ہے جن میں سے 204 پاکستان سے چلائے جا رہے تھے جبکہ 17 انڈیا اور 16 دیگر ممالک سے آپریٹ ہو رہے تھے۔

    ایف آئی اے نے ریلوے کے اعلیٰ افسر کو کروڑوں کا فراڈ کرنے پر گرفتار کر لیا

    وزارت داخلہ کے مطابق تقریبا 84 افراد کے حوالے سے تحقیقات ہو رہی ہیں جن میں سے چھ کا تو پتا لگ گیا ہے جبکہ باقی 78 کی شناخت جاننے کے لیے نادرا سے مدد مانگی گئی ہے۔انکوائری کمیٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مہم کے تانے بانے ایک سیاسی جماعت سے بھی ملتے ہیں تاہم اس حوالے سے وزارت داخلہ کے اہلکار نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مکمل انکوائری کے بعد ہی حتمی طور پر رائے دی جا سکتی ہے۔

  • اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پی ایس او کوقرضےکی فراہمی کیلئےلیٹرجاری کرنےکی منظوری دے دی

    اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پی ایس او کوقرضےکی فراہمی کیلئےلیٹرجاری کرنےکی منظوری دے دی

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیرصدارت اجلاس میں وزیر تجارت سید نوید قمر، وفاقی وزیر برائے بجلی جناب خرم دستگیر خان،وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹرعائشہ غوث پاشااور وفاقی سیکرٹریز اور سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔

    اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پی ایس او کو 50 ارب روپےقرضے کی فراہمی کیلئےلیٹرجاری کرنےکی منظوری دیدی۔ کمرشل بینک نے حکومتی گارنٹی کی منظوری تک لیٹر پرقرضہ فراہم کرنے کیلئے آمادگی ظاہر کی ہے۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ فنانس ڈویژن پی ایس او کو 105 ارب روپے تک کی گارنٹی فراہم کرے گی۔ اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین سے متعلق سمری پیش نہ ہوسکی۔

    اجلاس میں روزویلٹ ہوٹل کیلئے 14 کروڑ 20 لاکھ ڈالرکی بینک گارنٹی کی منظوری گئی جس کےلیے حکومت نیشنل بینک آف پاکستان کو گارنٹی فراہم کرے گی۔اعلامیے کے مطابق 50 کلو یوریا بیگ کی ڈیلر ٹرانسفر پرائس 1805 روہے مقرر کرنے کی بھی منظوری دیدی گئی۔