Baaghi TV

Author: +9251

  • صدرعارف علوی نے شہری سے ناانصافی پر ایف بی آر سے وضاحت طلب کرلی

    صدرعارف علوی نے شہری سے ناانصافی پر ایف بی آر سے وضاحت طلب کرلی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے شہری سے ناانصافی اور بدانتظامی پر ایف بی آر سے وضاحت طلب کرلی،صدر مملکت نے وضاحت وفاقی ٹیکس محتسب کے فیصلے کے خلاف غیر ضروری طور پر اور بغیر کسی مضبوط قانونی جواز کے مالی طور پر معمولی کیس کو طول دینے اور ملک کے اعلیٰ ترین دفتر کا وقت ضائع کرنے پر طلب کی

    غلامی نامنظور اور سازش اپنی جگہ،عطیہ کیسے ٹھکراوں،یہ ہے عمران خان

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ چھوٹے اور مالی طور پر معمولی ٹیکس دہندگان کا معقول اور قانونی وجوہات کے بغیر تعاقب سے ایف بی آر کے تاثر پر منفی اثر پڑتا ہے اور عوامی ناراضگی بھی پیدا ہوتی ہے.

    ایبٹ آباد کے ایک دکان مالک کو ایف بی آر نے "درجہ 1 ریٹیلر” کے طور پر رجسٹر کیا تھا حالانکہ دکان مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتی تھی. شہری نے اس ناانصافی پر وفاقی ٹیکس محتسب سے رجوع کیا جس نے شہری کے حق میں احکامات جاری کیےایف بی آر نے اس فیصلے کی تعمیل کی بجائے فیصلے کے خلاف صدر مملکت کے پاس اپیل دائر کی

    صدر مملکت کی ایف بی آر کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے دکان کی غیر منصفانہ رجسٹریشن ختم کرنے کی ہدایت کی.

     

    شیریں مزاری کاامریکی حکام کےپاکستان کےحساس علاقوں کےدورے پرشکوہ،سوشل میڈیاصارفین کی تنقید

     

    صدر مملکت نے کہا کہ ایف بی آر 45 دن کے اندر تعمیل کی رپورٹ جمع کرائے، بتائے کہ ناجائز طور پر ایک کپڑے کی دکان کو "درجہ-1 ریٹیلر” کے طور پر کیوں رجسٹر کیا گیا.

    صدر عارف علوی نے کہا کہ دکان صرف 594 مربع فٹ پر مشتمل تھی، سیلز ٹیکس رولز کے تحت لازمی رجسٹریشن قانون، قواعد کے خلاف، غیر منصفانہ اور غیر متعلقہ بنیادوں پر مبنی اور بدانتظامی کے مترادف ہے، ٹیکس محتسب کا حکم ٹھوس بنیادوں پر تھا، اصل حکم میں مداخلت کا کوئی معقول جواز نہیں، صدر مملکت نےاپیل مسترد کر دی اور حکم دیا کہ ایف بی آر حکم پر عمل درآمد کے 45 دن کے اندر رپورٹ بھیجے.

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ایف بی آر وجوہات بتائے کہ انصاف میں تاخیر کیوں ہوئی اور ملک کے اعلیٰ ترین فورم کی کوشش اور وقت کیوں ضائع کیا گیا.

  • یوکرین کا روس پر ایک بار پھر جوہری پلانٹ پر گولہ باری کا الزام

    یوکرین کا روس پر ایک بار پھر جوہری پلانٹ پر گولہ باری کا الزام

    کیف:یوکرین نے روس پر یورپ کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ زاپوریزہیا پر دوبارہ گولہ باری کا الزام عائد کرتے ہوئے ماسکو پر’جوہری دہشت گردی’ پر نئی بین الاقوامی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق یوکرین کی سرکاری نیوکلیئر پاور کمپنی کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے ہفتے کی رات دوبارہ گولہ باری کرتے ہوئے تنصیب کے تین ریڈی ایشن سینسروں کو نقصان پہنچایا جس سے ایک اہلکار بھی زخمی ہو گیا۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ روسی جوہری دہشت گردی پر عالمی برادری کی طرف سے ردعمل میں روسی جوہری صنعت اور جوہری ایندھن پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت ہے۔روس کے زیر قبضہ علاقے میں واقع پلانٹ پر بھی جمعہ کو گولہ باری کی گئی تھی جبکہ ماسکو ان حملوں کا ذمہ دار یوکرین کی افواج کو ٹھہراتا ہے۔

    یوکرین کی جوہری کمپنی اینرگوٹم نے کہا کہ روسی راکٹ حملوں نے پلانٹ ذخیرہ کی خشک کرنے کی سہولت کو نشانہ بنایا ہے جہاں جوہری ایندھن کے 174 کنٹینرز کھلی فضا میں محفوظ کیے گئے تھے۔ّٰ کمپنی نے کہا کہ اس کے نتیجے میں تابکاری کی صورت حال میں خرابی یا جوہری ایندھن کے کنٹینرز سے تابکاری کے رساؤ کی صورت میں بروقت پتا لگانا اور ردعمل ابھی تک ممکن نہیں ہے۔ ً

    ‘انٹرفیکس’ نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں مقبوضہ اینرودر کی روسی نصب شدہ انتظامیہ نے کہا کہ یوکرین نے 220 ملی میٹر یوراگن متعدد راکٹ لانچر سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے حملہ کیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ راکٹ حملوں سے انتظامی عمارتوں اور ذخیرہ کی سہولت کے ملحقہ علاقے کو نقصان پہنچا ہے۔

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ نے کہا کہ جمعہ کی گولہ باری سے جوہری تباہی کے خطرہ کا خدشہ ہے کیونکہ گولے ایک ہائی وولٹیج پاور لائن سے ٹکرائے ہیں جس سے پلانٹ کے آپریٹرز کو تابکار رساو کا پتا نہ چلنے کے باوجود ایک ری ایکٹر کو منقطع کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔زاپوریزہیا پلانٹ پر روسی افواج نے مارچ میں جنگ کے ابتدائی مرحلے میں قبضہ کر لیا تھا لیکن اب بھی اسے یوکرین کے تکنیکی ماہرین چلا رہے ہیں۔

  • خطے میں روسی غلبہ ختم کرنے کیلئےامریکی وزیر خارجہ کا تین مُلکی دورہ

    خطے میں روسی غلبہ ختم کرنے کیلئےامریکی وزیر خارجہ کا تین مُلکی دورہ

    واشنگٹن:امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن افریقہ کے خطے میں بڑھتے ہوئے روسی اثر رسوخ کو ختم کرنے کے پیش نظر 3 ملکوں کا دور کرنے آج جنوبی افریقہ پہنچ گئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا یہ دورہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے گزشتہ ماہ کے آخر میں افریقا کےایک وسیع دورے کے بعد ہوا ہے۔

    ترقی پذیر ملک جنوبی افریقہ یوکرین جنگ کے معاملے پر غیرجانبدار رہا اور روس کی مذمت کرنے کے لیے مغربی اتحادیوں کا ساتھ دینے سے انکار کیا تھا جس نے 1994 میں سفید فام اقلیت کی حکمرانی کے خاتمے سے قبل سخت مخالفت کی تھی۔

    جنوبی افریقہ کے دارالحکومت پریٹوریا سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن پیر (کل) کو اپنے ہم منصب نالیڈی پنڈور سے ملاقات کریں گے اور افریقہ کے حوالے سے امریکا کی نئی سفارتی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ہم منصب موجودہ اور جاری عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہ خارجہ نے گزشتہ ماہ افریقی ممالک کو مستحکم بین الاقوامی نظام کو فروغ دینے سے لے کر، موسمیاتی تبدیلیوں، خوراک کے عدم تحفظ اور عالمی وبائی امراض کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تکنیکی اور اقتصادی مستقبل تشکیل تک جیو اسٹریٹجک کھلاڑی اور اہم ترین مسائل پر اہم شراکت دار قرار دیا تھا۔

    انٹونی بلنکن جو کہ گزشتہ برس منصب پر آنے کے بعد دوسری مرتبہ افریقی دورے پر گئے ہیں وہ رواں ہفتے عوامی جمہوریہ کانگو اور روانڈا کا بھی دورہ کریں گے۔

  • مری جانےوالےسیاحوں کی مدد کےلیےوزیراعلیٰ پنجاب بھی متحرک:خودمانیٹرنگ کرنےلگے

    مری جانےوالےسیاحوں کی مدد کےلیےوزیراعلیٰ پنجاب بھی متحرک:خودمانیٹرنگ کرنےلگے

    مری: راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے ہوٹلز میں بغیر بکنگ مری آنے والے سیاحوں کا داخلہ بند کردیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے چھٹیوں کے دوران مری جانے والے سیاحوں کیلئے ہوٹل بکنگ لازمی قرار دے دی ہے، بکنگ کے بغیر آنے والے سیاحوں کو سترہ میل ٹول پلازہ سے واپس بھیج دیا جائے گا۔

    ترجمان ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی بڑی تعداد مری آنے پر ٹریفک کی روانی متاثر ہورہی ہے، پابندی کا فیصلہ ناگہانی حالات سے نمٹنے، ٹریفک روانی کو برقرار رکھنے کیلئے کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب مری کلڈنہ سے نتھیا گلی جانے والی ٹریفک کو باڑہاں کا راستہ کھلا ہونے کے باوجود ہوٹل مالکان نے اسے بند کردیا ہے جس کے باعث سیاحوں کو مشکلات سامنا ہے، جبکہ مقامی پولیس ہوٹل مالکان کے سامنے بے بس دکھائی دے رہی ہے۔

    سی پی او سید شہزاد ندیم نے مری میں سیاحوں کے رش کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کو ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کی ہدایت کردی ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالہٰی نے بھی سیاحوں کی جانب سے بڑی تعداد میں مری کا رخ کرنے پر انتظامیہ کو مری میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کا حکم جاری کیا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہٰی نے کمشنر راولپنڈی اور آرپی او راولپنڈی کو ہدایات کی ہیں کہ مری میں ٹریفک رواں رکھنے کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

    پرویزالہٰی نے سی ٹی او راولپنڈی کو فی الفور مری پہنچنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ، ٹریفک حکام ملکر مؤثر ٹریفک مینجمنٹ پلان پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ تعین کردہ حد سے زائد گاڑیوں کو سیاحتی مقام میں داخلے کی قطعاً اجازت نہ دی جائے، سیاحوں کی آمدورفت کو مؤثر ٹریفک مینجمنٹ سے ریگولیٹ کیا جائے۔

  • کامن ویلتھ گیمز سے سری لنکن دستے کے 10 ارکان غائب

    کامن ویلتھ گیمز سے سری لنکن دستے کے 10 ارکان غائب

    برمنگھم :معاشی بحران کے شکار سری لنکا کے کامن ویلتھ گیمز کے دستے کے 10 ارکان برطانیہ میں قیام کی مبینہ کوشش میں برمنگھم سے غائب ہوگئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق سری لنکا کے شعبہ کھیل کے اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کھیل کی سرگرمیاں مکمل کرنے کے بعد سری لنکا کے 9 ایتھلیٹس اور ایک منیجر غائب ہوگئے ہیں۔

    کامن ویلتھ گیمز،پاکستان کےریسلرعلی اسدنےکانسی کاتمغہ جیت لیا

    ان میں سے تین ایتھلیٹس جوڈوکا چمیلا دلانی، ان کے منیجر اسیلا ڈی سلوا اور پہلوان شانتھ چتھورنگا گزشتہ ہفتے لاپتا ہوگئے تھے، جس پر سری لنکن حکام نے پولیس کو شکایت کردی تھی۔تاہم اس کے بعد مزید 7 کھلاڑی لاپتا ہوگئے ہیں جن کی اعلیٰ افسر نے شناخت نہیں بتائی۔

    افسر نے کہا کہ ہمیں شک ہے کہ ممکنہ طور پر ملازمت کے حصول کے لیے کھلاڑی برطانیہ میں قیام کرنا چاہتے ہیں۔

    160 ارکان پر مشتمل سری لنکا کے دستے کی انتظامیہ کے پاس تمام اراکین کے پاسپورٹ موجود ہیں تاکہ ان کی وطن واپسی کو یقینی بنایا جاسکے، لیکن یہ عمل بھی کچھ ارکان کو روکنے میں ناکام رہا۔

    کامن ویلتھ گیمز، ریسلر انعام بٹ نے چاندی، عنایت اللہ نے کانسی کا تمغہ جیت لیا

    سری لنکا کے عہدیدار نے بتایا کہ برطانوی پولیس نے لاپتا ہونے والے پہلے تینوں ارکان کو ڈھونڈ نکالا تھا مگر چونکہ انہوں نے مقامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی اور ان کے پاس چھ ماہ کا ویزا ہے اس لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

    کامن ویلتھ گیمز:مردوں کی200میٹردوڑکی ہیٹ 2میں پاکستان کےشجرعباس کی پہلی پوزیشن

  • ہیلی کاپٹرحادثہ کےشہداء کےخلاف بالخصوص جاری نفرت انگیزمیڈیامہم قابل مذمت ہے:فضل الرحمن

    ہیلی کاپٹرحادثہ کےشہداء کےخلاف بالخصوص جاری نفرت انگیزمیڈیامہم قابل مذمت ہے:فضل الرحمن

    بنوں:ہیلی کاپٹرحادثہ کےشہداء کےخلاف بالخصوص جاری نفرت انگیزمیڈیامہم قابل مذمت ہے:فضل الرحمن نے بھی اس حوالے سے سخت تنقید کرتے ہوئےکہا ہے کہ ایسے لوگوں کا یہ رویہ قابل مذمت ہے

    ذرائع کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنا ردعمل دیتے ہوئے فضل الرحمن نے کہاکہ افواج پاکستان کے خلاف بالعموم اورھیلی کاپٹر حادثہ کے شہداء کے خلاف بالخصوص جاری نفرت انگیز میڈیا مہم انتہائ قابل مذمت اور ناقابل برداشت ھے۔

     

    فضل الرحمن نے کہا کہ جس انداز میں تحریک انصاف کی قیادت سے لےکر اس سے وابستہ میڈیا،سوشل میڈیاکےلوگوں نےجوانداز اختیار کیاھےیہ پاکستان کےدفاع کوکمزورکرنےکےمترادف ھے

    اس سے پہلے وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ شہداء کی قربانیوں کی توہین اور مذاق اڑانےوالی سوشل میڈیا مہم خوفناک ہے ، خود پسند سیاسی بیانیے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیوں کا تمسخر اڑانے اور توہین کرنے والی سوشل میڈیا مہم شرمناک ہی نہیں خوفناک ہے، خود پسند سیاسی بیانیے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خود پسند سیاسی بیانیہ نفرت انگزیز تقریر کو ہتھیار بنا دیتا ہے اور سیاسی بیانیے نوجوانوں کے ذہنوں کو زہرآلود کرتے ہیں۔

    وزیراعظم نے اپنی ٹویٹ میں سوال اٹھایا ہے کہ یہ ہم کس راہ پر چل پڑے ہیں، آخر ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے، ہمیں شدت سے خود احتسابی کی ضرورت ہے۔

  • شیریں مزاری کاامریکی حکام کےپاکستان کےحساس علاقوں کےدورے پرشکوہ،سوشل میڈیاصارفین کی تنقید

    شیریں مزاری کاامریکی حکام کےپاکستان کےحساس علاقوں کےدورے پرشکوہ،سوشل میڈیاصارفین کی تنقید

    اسلام آباد: شیریں مزاری کا امریکی حکام کے پاکستان کے حساس سرحدی علاقوں کے دورے پر شکوے کے بعد ایک عجیب گفتگو کا سلسلہ جاری ہے جس میں سوشل میڈیا صارفین کی امریکی امداد لینے پر تنقید بھی کی گئی ہے

    پاکستان تحریک انصاف کی سینیئر رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے اتوار کو پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے گذشتہ ہفتے طورخم بارڈر کے دورے کی تصاویر سوشل میڈیا پر لگا کر تنقید کی تو سوشل میڈیا پر صارفین نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ تنقید اس وقت کیوں نہ ہوئی جب چند ہی دن قبل یہی امریکی سفیر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سمیت تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے عہدے داران سے ملاقات کر رہے تھے۔

    بی بی سی اس ساری صورت حال پر کچھ اس طرح تبصرہ کرتا ہے کہ ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنی پوسٹ میں صرف وہ تصاویر شیئر کیں جن میں فوجی حکام امریکی سفیر کو طورخم بارڈر کے قریب ایک پوسٹ پر بریفنگ دے رہے ہیں جبکہ اس دورے کی وہ تصاویر شیئر نہیں کی گئیں جن میں امریکی سفیر تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزیرِ اعلیٰ محمود خان سمیت دیگر وزرا اور صوبائی حکام سے ملاقات کر رہے ہیں۔

     

     

    یاد رہے کہ تحریک انصاف چیئرمین عمران خان یہ الزام بارہا دہرا چکے ہیں کہ ان کی وفاقی حکومت گرانے کے پیچھے امریکی سازش تھی جس کی امریکی محکمہ خارجہ تردید کر چکا ہے۔

     

    شیریں مزاری نے تین اور چار اگست کو ہونے والے امریکی سفیر کے اس دورے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’امریکی سفیر اور ان کا گینگ طورخم کی راہ میں پاکستان کے حساس علاقوں پر پرواز کرتے ہوئے زمین کا معائنہ کر رہے ہیں جبکہ موصوف کو سرکاری بریفنگ بھی میسر ہے اور قدم رنجہ ہونے کو سرخ قالین بھی!! ان علاقوں میں تو عام پاکستانی بھی قدم نہیں رکھ سکتے! کیا ہم غلام ہیں؟‘

    واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کو ملانے والی طورخم سرحد کے قریب مچنی پوسٹ پر امریکی سفیر کو تین اگست تک اس علاقے سے متلعق فوجی حکام کی طرف سے بریفنگ دی گئی تھی۔ اس بریفنگ کا اہتمام فرنٹیئر کور نے کیا تھا۔

    اس سے اگلے دن یعنی چار اگست کو امریکی سفیر نے صوبائی دارالحکومت پشاور کا دورہ کیا اور پھر نہ صرف وزیر اعلیٰ سے ملے بلکہ مختلف تقریبات میں بھی شرکت کی جہاں انھیں صوبائی وزرا اور حکام کی طرف سے بریفنگ دی گئی۔

    ابھی امریکی سفیر پشاور میں ہی تھے کہ ان کے کچھ سفارتکاروں نے پشاور میں واقع اس پراسیکیوشن سینٹر کا بھی دورہ کیا جو امریکی امداد سے چل رہا ہے اور وہاں تفتیش کاروں کو تفتیش کے نئے گُر سکھائے جا رہے ہیں۔

    اس کے بعد امریکی سفیر نے وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں صوبے کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کو ہسپتالوں کے لیے 36 گاڑیوں کی چابیاں بھی دیں، جو تحریک انصاف کے وزیر نے شکریے کے ساتھ وصول کیں۔ امریکی سفیر نے حیات آباد میں امریکی مدد سے چلنے والے ایک برن سینٹر کا بھی دورہ کیا۔

  • اکثریتی آبادی الیکشن لڑنے کے حق سے عملی طور پرمحروم ہے،فافن

    اکثریتی آبادی الیکشن لڑنے کے حق سے عملی طور پرمحروم ہے،فافن

    اسلام آباد:اکثریتی آبادی الیکشن لڑنے کے حق سے عملی طور پرمحروم ہے،اطلاعات کے مطابق فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے کہا ہے کہ انتخابات میں پیسے کے عمل دخل کوکم کرنے کیلئے قانون کو موثر بنایا جائے۔

    فافن نے اپنے رپورٹ میں تجویز دی ہے کہ الیکشنز ایکٹ، 2017 میں اخراجات کوکم کرنے کیلئے موجود دفعات ناکافی ہیں، سیاسی جماعتیں انتخابات میں پیسے کے استعمال کے متعلق اصلاحات پراتفاقِ رائے پیداکریں۔

    رپورٹ کے مطابق سیاست میں پیسے کے استعمال سے متعلق سخت قانونی ضوابط متعارف کرائے جائیں کیونکہ پیسے کی وجہ سے اکثریتی آبادی الیکشن لڑنے کے حق سےعملی طور پرمحروم ہے۔

    دوسری طرف الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ الیکشن شیڈول جاری ہونے تک کوئی بھی شہری اپنے ووٹ کی تصدیق اور ووٹ ٹرانسفر کر سکے گا،اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کمشین کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی حتمی فہرست کا اجرا25 اگست کو کیا جائے گا،

    الیکشن کمیشن کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تمام افراد اپنا ووٹ 8300 پر ایس ایم ایس کر کے اپنے ووٹ کی تصدیق کریں، انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیاں ختم کرنے کیلئےعوام سے بھی اپیل کی جائے گی،

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیوں کے باعث فیصلہ کیا گیا ،نادرا اور لوکل گورنمنٹ کے ریکارڈ سے ووٹرز لسٹوں میں بے ضابطگیاں دور کی جائیں گی،الیکشن کمیشن نے نادرا اور لوکل گورنمنٹ سے مل کر دوبارہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا فیصلہ،

  • عمران خان کا مقابلہ نواز شریف ہی کر سکتا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    عمران خان کا مقابلہ نواز شریف ہی کر سکتا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    موجودہ حالات میں فہم و فراست اور سوجھ بوجھ کا مظاہرہ ہی ملک میں جمہوریت کو دوام اور جمہوری اداروں کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ باقی تمام راستے غلط ہیں۔ جمہوریت میں سیاسی رونقیں ہونی چاہئیں بلکہ عروج پر ہونا چاہئے۔ بلاشبہ عمران خان کی تحریک انصاف حقیقت ہے افسانہ نہیں لیکن آصف علی زرداری کی قیادت میں اس جماعت کو دیوار سے لگانے کی جو کوشش کی جا رہی ہے اور جن راستوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے کیا وہ راستہ جمہوری ہے؟ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو بھٹو کو ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے پھانسی لگا دی گئی تھی کیا تادم تحریر آج کی پیپلزپارٹی بھٹو کے نام سے ووٹ حاصل نہیں کر رہی؟ کیا بھٹو کی جماعت کو کوئی طاقت ختم کر سکی؟

    مشکل وقت،جذبے سے کام لینا ہو گا،تجزیہ : شہزاد قریشی

    بلاشبہ عمران خان بھٹو نہیں لیکن ملک میں اس وقت تحریک انصاف کو مقبولیت حاصل ہے بالخصوص نوجوان طبقہ عمران خان کو اپنا ہیرو سمجھتا ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں جن میں شہباز شریف سمیت مولانا فضل الرحمٰن، آصف علی زرداری، عوام میں کتنے مقبول ہیں؟ مسلم لیگ (ن) میں آج بھی نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز مقبول ترین ہیں آج بھی اگر نوازشریف پنجاب میں خود موجود ہوں تو وہ عمران کا سیاسی اور جمہوری طریقے سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ نوازشریف کی مقبولیت کا اندازہ 1990ء سے لے کر 1993ء تک بخوبی لگایا جا سکتا ہے نوازشریف کی کامیاب سیاسی حکمت عملی نے پنجاب میں کسی دوسری جماعت کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔

    عمران خان کے بیانیہ پر ن لیگ کیسے حاوی ہو سکتی؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    پیپلزپارٹی کے سنجیدہ اور بھٹو کے قریبی دوستوں کو یاد ہوگا پیپلزپارٹی کے وجود کو ختم کرنے کے لئے ایم کیو ایم معرض وجود میں آئی کیا صوبہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے وجود کو ختم کیا گیا؟ اس لئے آصف علی زرداری کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہوگا ۔ان دنوں ملکی سیاست میں پردے کے پیچھے بہت کچھ جاری ہے چلئے عمران خان کو مائنس کر دیا گیا، وہ نااہل ہو گیا لیکن کیا نوازشریف کو نااہل اور سزا دے کر ان کی جماعت کو ختم کر دیا گیا نوازشریف آج بھی عوام میں مقبول ہیں۔ کیا مریم نواز کو سزا دی گئی کیا مریم نواز کی مقبولیت ختم ہو گئی۔

    سیاسی انتشار کی وجہ قیادت کا فقدان، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بھٹو کا نام ختم ہو گیا کیا محترمہ بے نظیر بھٹو آج بھی عوام کے دلوں اور دماغ میں زندہ نہیں؟ اسی طرح عمران کا سیاسی مقابلہ کرنے کے بجائے جن راستوں کاانتخاب پی ڈی ایم کر رہی ہے اس سے عمران خان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ جس طرح بھٹو اوران کی بیٹی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا استقبال کیا بہت کم سیاستدان ہیں جو اس طرح کے بہادر ہیں۔ عمران خان بھی معلو م نہیں کتنا بہادر ہے تاہم ان کا سیاسی مقابلہ نوازشریف ہی کر سکتا ہے ۔ وطن عزیز میں سیاستدانوں کا رویہ سیاست کو مقتل گاہ کی طرف لے کر جا رہا ہے ۔

  • پاکستان نے او آئی سی کیخلاف بھارتی وزارت خارجہ کا بیان مستردکردیا

    پاکستان نے او آئی سی کیخلاف بھارتی وزارت خارجہ کا بیان مستردکردیا

    اسلام آباد:پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے متعلق بھارتی وزیرخارجہ کا بیان مسترد کردیا۔ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ اوآئی سی نے 5 اگست 2019 کےبھارتی غیرقانونی اقدامات پرواضح موقف اختیارکیا، پاکستان بھارتی وزارت خارجہ کے مضحکہ خیز اور جھوٹے دعووں کو یکسرمسترد کرتا ہے۔

    عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ اوآئی سی کافورم 1.7 ارب سے زیادہ مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ او آئی سی ہمیشہ کشمیری عوام کے جائز حقوق کی حمایت میں آواز اٹھاتا رہا ہے جو سات دہائیوں سے بھارت کے بے دریغ جبر کا ناقابل بیان نقصان اٹھا چکے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق ہندوتوا کاپر چارکرنے والا دوسروں پر تعصب اور فرقہ وارانہ ایجنڈے کاالزام لگارہا ہے۔ ریاستی دہشتگردی کو فروغ دینے والے کا دوسروں پر انگلیاں اٹھانا انتہائی خطرناک امرہے۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کبھی بھارت کا حصہ تھا اور نہ کبھی ہوگا۔ ریاست جموں کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ “متنازعہ” علاقہ ہے۔

    عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ ریاست جموں کشمیر 1947 سے زبردستی اور غیر قانونی طور پر ہندوستانی قبضے میں ہے۔ ریاست جموں کشمیر کا تنازعہ تقریباً 75 سالوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں سماجی و اقتصادی ترقی کا دعویٰ کرکے عالمی برادری کو گمراہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے تحت اقوام متحدہ کی سرپرستی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے ہونا ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور سلامتی کے مفاد میں کشمیرپر اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل درآمد کرتے ہوئے کشمیریوں اور عالمی برادری کے ساتھ اپنے وعدے کا احترام کرنا چاہیے۔